رسول اللہ ﷺ کے قتل کی ناپاک سازش
کافروں نے یہی تین ارادے کئے تھے جب ابو طالب نے آپ سے پوچھا کہ آپ کو کفار کے راز اور ان کے پوشیدہ چالیں معلوم بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ تین شور یکر رہے ہیں۔ اس نے تعجب ہو کر پوچھا کہ آپ کو اس کی خبر کس نے دی ؟ آپ نے فرمایا میرے پروردگر نے، اس نے کہا آپ کا پروردگار بہترین پروردگار ہے، تم اس کی خیر خواہی میں ہی رہنا۔ آپ نے فرمایا میں اس کی خیر خواہی کیا کرتا وہ خو دمیری حفاظت اور بھلائی کرتا ہے۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے لیکن اس واقعہ میں ابو طالب کا ذکر بہت غریب بلکہ منکر ہے اس لئے کہ آیت تو مدینے میں اتری ہے اور کافروں کا یہ مشورہ ہجرت کی رات تھا اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
سورة الْاَنْفَال 25
یہ اس موقع کا ذکر ہے جبکہ قریش کا یہ اندیشہ یقین کی حد کو پہنچ چکا تھا کہ اب محمد ﷺ بھی مدینہ چلے جائیں گے۔ اس وقت وہ آپس میں کہنے لگے کہ اگر یہ شخص مکہ سے نکل گیا تو پھر خطرہ ہمارے قابو سے باہر ہوجائے گا۔ چناچہ انہوں نے آپ کے معاملہ میں ایک آخری فیصلہ کرنے کے لیے دارالنَّدوہ میں تمام رؤسائے قوم کا ایک اجتماع کیا اور اس امر پر باہم مشاورت کی کہ اس خطرے کا سدّ باب کس طرح کیا جائے۔ ایک فریق کی رائے یہ تھی کہ اس شخص کو بیڑیاں پہنا کر ایک جگہ قید کردیا جائے اور جیتے جی رہا نہ کیا جائے۔ لیکن اس رائے کو قبول نہ کیا گیا کیونکہ کہنے والوں نے کہا کہ اگر ہم نے اسے قید کردیا تو اس کے…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کے ایک خاص انعام و احسان کا ذکر ہے جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام پر بلکہ پوری دنیا پر ہوا ہے۔ کہ قبل از ہجرت جب آنحضرت ﷺ کفار کے نرغہ میں تھے اور وہ آپ کے قید یا قتل کرنے کے مشورے کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا اور آنحضرت ﷺ کو سلامت و عافیت مدینہ طیبہ پہنچا دیا۔ جس کا واقعہ تفسیر ابن کثیر اور مظہری میں بروایت محمد بن اسحاق و امام احمد و ابن جریر وغیرہ یہ نقل کیا گیا ہے کہ جب مدینہ طیبہ سے آنے والے انصار کا مسلمان ہوجانا مکہ میں مشہور ہوا تو قریش مکہ کو یہ فکر دامنگیر ہوگئی کہ اب تک تو ان کا معاملہ صرف مکہ میں دائر تھا جہاں ہر طرح کی…
Read the full tafseer →وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ ۭوَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ ۭوَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ۔
اثبات کا اصل لغوی مفہوم پابند کردینا، روک دینا ہے، جس میں قید کردینا بھی شامل ہے۔
قریش کی سازشوں کی طرف اشارہ : یہ دار الندوہ کی اس سازش کی طرف اشارہ ہے جو قریش کے لیڈروں نے آپ کی دعوت حق کو یک قلم ختم کردینے کے لیے کی۔ اس کے لیے مختلف لیڈروں کی طرف سے مختلف تجویزیں پیش ہوئی۔ تاریخ و سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ غور و بحث کے بعد قتل کی تجویز پر اتفاق ہوا اور قتل کی یہ تدبیر سوچی گئی کہ قریش کے تمام بڑے خاندان اس میں شریک ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
30۔ 1 یہ اس سازش کا تذکرہ جو روسائے مکہ نے ایک رات دار الندہ میں تیار کی تھی اور بالاخر یہ طے پایا تھا کہ مختلف قبیلوں کے نوجوانوں کو آپ کے قتل پر مامور کیا جائے تاکہ کسی ایک کو قتل کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے بلکہ دیت دیکر جان چھوٹ جائے۔
30۔ 2 چناچہ اس سازش کے تحت ایک رات یہ نوجوان آپ کے گھر کے باہر اس انتظار میں کھڑے رہے کہ آپ ﷺ باہر نکلیں تو آپ کا کام تمام کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سازش سے آگاہ فرمادیا اور آپ ﷺ کے نکلنے کا پتہ ہی نہیں لگا، حتیٰ کہ آپ غار ثور میں پہنچ گئے۔ یہ کافروں کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر تھی۔ جس سے بہتر کوئی تدبیر نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
18: یہ آیت آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے واقعے کی طرف اشارہ کررہی ہے، کفار مکہ نے جب یہ دیکھا کہ اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے اور مدینہ منورہ میں بڑی تعداد مسلمان ہوچکی ہے، تو انہوں نے ایک مجلس مشاورت منعقد کی اس میں مختلف تجویزیں پیش کی گئیں، یہ آیت ان تمام تجویزوں کا ذکر کررہی ہے، یعنی گرفتاری، قتل، اور جلا وطنی، آخر میں فیصلہ یہ ہوا تھا کہ مختلف قبیلوں سے ایک ایک نوجوان لے کر سب یکبارگی آپ ﷺ پر حملہ آور ہوں، اللہ تعالیٰ نے یہ ساری باتیں آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعے بتادیں اور ہجرت کا حکم دے دیا، آپ کے گھر کا محاصرہ ہوچکا تھا، مگر آپ وہاں سے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اس طرح نکل آئے کہ وہ آپ کو نہ دیکھ سکے،…
Read the full tafseer →درس نمبر 84 ایک نظر میں
اس سورة میں سلسلہ کلام آگے بڑھتا ہے۔ حالات حاضرہ پر تبصرہ واقعات ماضی کی روشنی میں جاری ہے۔ امت مسلمہ کے سامنے اس عظیم فتح کی تصویر کشی کرکے بتایا جاتا ہے کہ ذرا سوچو کہ تمہارا حال تمہارے ماضی کے مقابلے میں کس قدر بدل چکا ہے۔ کس قدر عظیم انقلاب چشم زدن میں برپا کردیا گیا ہے لیکن یہ کیونکر ہوا۔۔۔ ؟ محض فضل ربی اور تدبیر الہی کے ذریعے۔ اس عظیم انقلاب کو دیکھو ! اس کے مقابلے میں اموال و غنائم کس قدر حقیر ہیں۔ نیز تم نے جو قربانیاں دیں اور جو مشقتیں اٹھائیں وہ تمہیں تو بہت بڑی نظر آتی ہوں گی مگر اب نتائج کے مقابلے میں کس قدر حقیر ہیں۔
درس سابق میں یہ بیان کردیا گیا تھا کہ…
Read the full tafseer →2 ہجرت سے پیشتر کفار مکہ نے دارالندوہ میں جمع ہو کر مشورہ کیا، کہ محمد ﷺ کے متعلق کیا کیا جائے۔ انہوں نے ساری قوم کو پریشان کر رکھا ہے اور باہر کے کچھ لوگ ان کے دام میں پھنستے جاتے ہیں کہیں رفتہ رفتہ بڑی طاقت اکٹھی نہ کرلیں جس کا مقابلہ دشوار ہو۔ اس وقت رائیں مختلف تھیں، کوئی کہتا تھا، قید کیا جائے اور خوب زخمی کیے جائیں، کسی کی رائے تھی کہ انہیں وطن سے نکال دیا جائے تاکہ ہمیں ہر وقت کے خرخشہ سے نجات ملے۔ اخیر میں ابو جہل کی رائے پر فیصلہ ہوا کہ تمام قبائل عرب میں سے ایک ایک جوان منتخب ہو اور وہ سب مل کر آن واحد میں ان پر تلوار کا ہاتھ چھوڑیں، تاکہ بنی ہاشم سارے عرب سے لڑائی نہ کرسکیں اور دیت…
Read the full tafseer →آیت 30 وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا
لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ ط کہ آپ ﷺ کو قید کردیں یا قتل کردیں یا مکہ سے نکال دیں۔
یہ ان سازشوں کا ذکر ہے جو قریش مکہ ہجرت سے پہلے کے زمانے میں رسول اللہ ﷺ کے خلاف کر رہے تھے۔ آپ ﷺ کی مخالفت میں ان کے باقی تمام حربے ناکام ہوگئے تو وہ نعوذ باللہ آپ ﷺ کے قتل کے درپے ہوگئے اور اس بارے میں سنجیدگی سے صلاح مشورے کرنے لگے۔
Read the full tafseer →1 3 آپ کو قید جلاوطن یا قتل کرنے کا مشورہ :۔ جب کچھ مسلمان ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے تو کفار مکہ کو خطرہ لاحق ہوا کہ اگر محمد ﷺ یہاں مکہ سے ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا تو پھر یہ خطرہ ہمارے قابو سے نکل جائے گا۔ لہذا جیسے بھی ممکن ہو اس کا علاج فوری طور پر سوچنا چاہیے۔ اس غرض کے لیے انہوں نے دارالندوہ میں میٹنگ کی اور شرکائے مجلس سے تجاویز و آراء طلب کی گئیں۔ کسی نے کہا کہ اسے پابہ زنجیر کر کے قید کردیا جائے۔ شیطان جو خود اس میٹنگ میں انسانی صورت میں حاضر ہوا تھا کہنے لگا : یہ تجویز درست نہیں۔ کیونکہ اس کے پیروکار اس کے اس قدر جانثار ہیں کہ وہ اپنی جانیں خطرہ میں ڈال کر بھی اس کو کسی نہ کسی وقت چھڑا…
Read the full tafseer →43 ۔ (جس کی تدبیر کے آگے ساری دنیا کے منصوبے اور تدبیریں ہیچ محض ہیں) (آیت) ” اذ یمکربک “۔ مکہ کے رئیسوں سرداروں نے باہم جمع ہو کر آپ ﷺ کو قید، جلاوطنی، قتل، سب تدبیروں پر غور کیا، اور اخیر رائے قتل ہی کی قرار پائی۔ آپ ﷺ کو وحی سے معلوم ہوگیا، آپ ﷺ خاموشی سے نقل مکان کر، غارثور میں پوشیدہ ہوگئے اور بہ فراغ خاطر مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ آیت میں انہی واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ مکر پر حاشیے سورة آل عمران آیت ” مکروا ومکر اللہ، واللہ خیر المکرین “۔ پر گزر چکے۔ (آیت) ” لیثبتوک “۔ اثبات یہاں قید یا حبس کے معنی میں لیا گیا ہے۔ الاثبات ھو الحبس (ابن جریرعن السدی) اے لیسجنوک (ابن جریر، عن عطاء، وعبداللہ بن…
Read the full tafseer →وَاِذیمکربک الَّذِیْنِ کفروا (الآیة) یہ اس موقع کا ذکر ہے کہ قریش کا یہ اندیشہ یقین کی حد کو پہنچ چکا تھا کہ محمد ﷺ بھی مدینہ چلے جائیں گے، اس سے پہلے ایک ایک دو دو کرکے بہت سے صحابہ مدینہ پہنچ چکے تھے، اس وقت وہ آپس میں کہنے لگے کہ اگر یہ شخص مکہ سے نکل گیا تو پھر خطرہ ہمارے قابو سے باہر ہوجا ئیگا چناچہ انہوں نے اس معاملہ میں آخری فیصلہ کرنے کے لئے دارالندوہ میں تمام رؤسائے قوم کا ایک اجتماع کیا اور اس امر پر باہم مشورہ کیا کہ اس خطرہ کا سدّ باب کس طرح کیا جائے ایک فریق کی رائے یہ تھی کہ اس شخص کو بیڑیاں پہنا کر قید کردیا جائے اور زندگی بھر رہا نہ کیا جائے، لیکن اس رائے کو قبول نہ کیا گیا،…
Read the full tafseer →واذ یمکربک الذین کفروا اور (یاد کرو) جب کہ کافر تمہارے متعلق خفیہ سازش کر رہے تھے۔ اس آیت کا عطف اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌپر ہے ‘ یعنی وہ وقت بھی یاد کرو جب تمہاری تعداد کم تھی اور اس وقت کو بھی یاد کرو جب کفار تمہارے متعلق خفیہ اسکیمیں بنا رہے تھے۔ یہ پوشیدہ اسکیمیں مکہ میں بنائی گئی تھیں (یعنی ہجرت سے پہلے) اور یہ سورت مدنی ہے۔
ابن اسحاق ‘ عبدالرزاق ‘ امام احمد ‘ ابن جریر ‘ ابونعیم ‘ ابن المنذر اور طبرانی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور عبدالرزاق و عبد بن حمید نے قتادہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب انصار مسلمان ہوگئے تو قریش کو خیال ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے پیرو اور ساتھی دوسرے شہر کے کچھ لوگ…
Read the full tafseer →(30) اور جب دارالندوہ میں ابوجہل اور اس کی جماعت کے لوگ آپ کے بارے میں بڑی بڑی تدبیریں سوچ رہے تھے تو عمرو بن ہشام کہنے لگا کہ آپ کو قید کرلیں اور ابوجہل بن ہشام کا مشورہ یہ تھا کہ سب مل کر آپ کو قتل کرڈالیں اور ابو البختری بن ہشام کی رائے تھی کہ آپ کو جلاوطن کردیں۔
اے محمد ﷺ یہ لوگ آپ کو قتل کرنے اور ایذا پہنچانے کے بارے میں اپنی منصوبہ بندی کررہے تھے اور اللہ تعالیٰ بدر کے روز ان لوگوں کے قتل اور نیست ونابود ہوجانے کی سکیم فرما رہے تھے اور سب سے زیادہ اچھی سکیم اور تدبیر کرنے والے اللہ تعالیٰ ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”واذ یمکربک الذین“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے…
Read the full tafseer →وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جب تقریباً تمام صحابہ ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر، علی ؓ اور اکّا دکّا مسلمان مکہ میں رہ گئے تو کفار کو فکر لاحق ہوئی کہ اگر محمد ﷺ بھی ہمارے ہاتھ سے نکل گئے تو وہ ہمارے لیے ایسا خطرہ ثابت ہوں گے جو ہمارے قابو سے باہر ہوگا۔ چناچہ ان کی دار الندوہ میں مجلس ہوئی، جس میں تجاویز و آراء طلب کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا خلاصہ بیان فرمایا ہے، ایک رائے یہ تھی کہ آپ کو قید کردیں اور موت تک وہاں سے نہ نکلنے دیں، اس پر یہ امکان سامنے آیا کہ ان کے ساتھی کار روائی کرکے انھیں چھڑا لیں گے۔ ایک تجویز یہ آئی کہ انھیں قتل کردیا جائے، اس پر آپ کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر :30
یہ اس خفیہ تدبیر اور مکر کے بارے خبر دی جا رہی ہے جس پر مشرکین حضور نبی مکرم ﷺ کے بارے میں دارالندوہ میں جمع ہوئے تھے۔ پس انہوں نے مشاورت میں آپ ﷺ کو شہید کرنے پر اجماع کیا نتیجۃ انہوں نے آپ کی دربانی کی اور طویل رات آپ ﷺ کے گھر کے دروازے پر آپ کی تاک میں بیٹھے رہے کہ جونہی آپ باہر نکلیں تو وہ آپ کو شہید کردیں۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو اپنے بستر پر سونے کا حکم ارشاد فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی کہ وہ ان پر اپنا اثر ڈال دے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کو ڈھانک دیا اور آپ ﷺ باہر تشریف لائے اس حال میں کہ ان پر نیند چھائی ہوئی تھی، پس آپ ﷺ نے…
Read the full tafseer →1۔ عبدالرزاق واحمد بن حمید وابن المنذر والطبرانی وابو الشیخ وابن مردویہ وابو نعیم نے دلائل میں والخطیب نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول ”(آیت) ” واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک “۔ کے بارے میں فرمایا کہ قریش نے مکہ میں ایک رات آپس میں مشورہ کیا، ان میں سے بعض نے کہا جب صبح ہوجائے تو اس کو بیڑیوں کے ساتھ قید کرلو اور وہ لوگ نبی کریم ﷺ (کے بارے میں) ارادہ کررہے تھے اور اس کے بعض نے کہا نہیں بلکہ اس کو قتل کردو اور ان کے بعض نے کہا نہیں بلکہ اس کو (مکہ سے) نکال دو ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو اس پروگرام میں اطلاع دی تو حضرت علی ؓ نے نبی کریم ﷺ کے بستر پر رات…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ : اور جب ] [ يَمْكُرُ : سازش کی ] [ بِكَ : آپ کے لیے ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں نے جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ لِيُثْبِتُوْكَ : کہ وہ قید کریں آپ کو ] [ اَوْ : یا ] [ يَقْتُلُوْكَ : قتل کریں آپ کو ] [ اَوْ : یا ] [ يُخْرِجُوْكَ ۭ: نکال دیں آپ کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ يَمْكُرُوْنَ : وہ لوگ چال چلتے تھے ] [ وَيَمْكُرُ : اور تدبیر کرتا تھا ] [ اللّٰهُ ۭ: اللہ ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ : تدبیر کرنے والوں کا بہترین ہے ]
Read the full tafseer →آپ ﷺ کے سفر ہجرت سے پہلے مشرکین مکہ کے مشورے
اس آیت میں سفر ہجرت کا سبب اور ابتدائی واقعہ مذکور ہے معالم التنزیل (ص 243 ج 2) میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب مدینہ منورہ میں حضرات انصار نے اسلام قبول کرلیا تو قریش مکہ خائف ہوئے اور مشورے کے لیے دارالند وہ (پنچائیت گھر) میں جمع ہوئے تاکہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں غور کریں کہ اب آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ اس موقعہ پر ابلیس ملعون بھی ایک بڑے میاں کی صورت میں ظاہر ہوگیا۔ ان لوگوں نے پوچھا کہ تو کون ہے کہنے لگا کہ میں شیخ نجدی ہوں۔ مجھے آپ لوگوں کے جمع ہونے کا پتہ چلا تو میں نے چاہا کہ تمہارے پاس حاضر ہوجاؤں اور اپنی خیر خواہانہ رائے سے…
Read the full tafseer →ذکر انعام خاص
قال اللہ تعالیٰ واذ یمکر بک الذین کفروا۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ خیر المکرین،
(ربط) گزشتہ آیات میں عام مومنین پر انعام کا ذکر تھا اب اس آیت میں آنحضرت ﷺ پر اپنے خاص انعام کا ذکر فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں ہجرت کے وقت دشمنوں کے نرغہ سے کس طرح آپ کو صحیح سالم نکالا چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اے نبی ! اس وقت کو کہ جب کافر آپ کے ساتھ مکر و فریب کر رہے تھے اور آپ پر اپنا داؤ چلا رہے تھے تاکہ تجھ کو مضبوط باندھ کر قید کرلیں اور ایک گھر میں مقید کر کے اس کا دروازہ بند کردیں اور صرف ایک روشندان کھلا رہنے دیں اس میں آپ کے کھانے کے لیے ڈال دیا کریں یہاں تک کہ آپ کی موت آجائے یہ رائے ابو البختری…
Read the full tafseer →32 یہ “ اَلْاَنْفَالُ لِلّٰهِ الخ ” کی چھٹی علت ہے۔ مشرکین مکہ کے منتخب سرداروں نے ایک دفعہحضور ﷺ کے بارے میں مل کر میٹنگ کی جس کا مقصد یہ تھا کہ آپ کے اثر اور آپ کے دین کو کس طرح ختم کیا جائے۔ چناچہ اس مجلس میں کئی رائیں پیش ہوئیں کسی نے کہا آپ کو قید کردیا جائے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ آپ کو جلا وطن کردیا جائے آخر میں ابوجہل نے آپ کو شہید کردینے کا مشورہ دیا۔ ابلیس جو عرب کے ایک تجربہ کار اور دانا شیخ نجدی کے روپ میں اس مجلس میں موجود تھا اس نے اس رائے کی بہت تعریف کی اور آخر کار بحث و تمحیص اور سوچ بچار کے بعد سب نے ابوجہل کے مشورے کی توثیق کردی۔ اس آیت میں اسی وقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
ربط ِ آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فلاں کے پانچ اصول بیان فرمائے ہیں ، پانچواں اصول خوفِ خدا یعنی تقوی کا راستہ اختیار کرنا اور اسی کی ذات پر بھروسہ رکھنا ہے ، اگر اہل ایمان اس اصول پر کاربند رہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے ہر چیز کو فیصلہ کن بنا دیگا اور یہ چیز ان کے باطن کے لحاظ سے نور بصیرت ہوگی ، ان کے دلوں میں احسان کی حالت راسخ ہوجائے گی ، حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا ہوگا اور خارجی دنیا میں ہر قسم کے شکوک و شبہات دفع ہوجائیں گے یہی تقوے کا نتیجہ ہے اور یہی مدار فلاح ہے ان کے لیے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہوگی جس کی بین مثال غزوہ بد ہے ، اس جنگ میں کامیابی کے لیے اللہ…
Read the full tafseer →وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ 0 ۭ وَيَمْكُـرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللہُ 0 ۭ وَاللہُ خَيْرُ الْمٰكِـرِيْنَ 30
مكر
المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43]
( م ک ر ) المکر ک
ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں
یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
ترکیب : واذیمکر اور اذ قالوا کا عامل عامہ مفسرین کے نزدیک اذکر ہے والا رجح ماذکرنا فی مقدمۃ تفسیر نا۔ واذ شرط قالوا جواب شرط۔ ان شرطیہ ھذا کان کا اسم الحق خبر ہے دونوں میں فاصل من عندک الحق کی صفت فامطر الی عذاب الیم جواب شرط مجموعہ مقولہ ہے قالوا کا۔ اللہم نداء ای یا اللہ۔ ان لایعذبہم ای فی ان لا یعذبھم فھو فی موضع نصب اوجر۔ صلاتہم جمہور صلوۃ کو بالرفع اور مکاء کو بالنصب پڑھتے ہیں اور اعمش بالعکس پڑھتے ہیں۔ مکاء کی ہمزہ و سے بدل ہے من مکایمکو 1 ؎۔
تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے قیام مکہ کی چند باتیں یاد دلاتا ہے جو مسلمانوں اور آنحضرت ﷺ کو تکلیف دیتی تھیں کہ ہم نے تم کو ان حوادث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوْا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا وَیُکَفِّرْعَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ط وَاللّٰہُ ذُوْالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ ( الانفال : 29 )
(اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو تو وہ تمہیں کسوٹی عطا کرے گا اور تم سے تمہاری برائیاں جھاڑ دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ )
گزشتہ رکوع کی آخری دو آیات میں دونصیحتیں فرمائی گئی ہیں اور پھر تمام برائیوں اور بیماریوں کا حقیقی سبب بتایا گیا ہے جس کی وجہ سے اکثر اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں جو بالآخر عقیدے کی خرابی پر منتج ہوتے ہیں۔ جو دو نصیحتیں فرمائی گئی ہیں ان میں سے پہلی یہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ حالات پر تبصرہ جاری ہے۔ اس سے پہلے مسلمانوں کو مکی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے احساس دلایا گیا کہ اپنا ماضی یاد کرو جب تم کمزور اور قلیل تھے تمہیں ہر وقت خطرہ لاحق رہتا تھا کہ تمہارا دشمن تمہیں نیست و نابود نہ کردے۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہاری نصرت و حمایت کی اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے آپ کے سامنے آپ کی ہجرت کا پس منظر رکھا گیا ہے۔ اے نبی ! وہ وقت یاد کیجیے جب کفار نے یہ طے کیا تھا کہ آپ کو ہمیشہ کے لیے قید و بند کردیا جائے یا آپ کو قتل کردیا جائے یا پھر جلا وطن کردیا جائے۔
جب وہ آپ کے خلاف مکر و فریب اور سازشیں کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ایک…
Read the full tafseer →کفارِ قریش کی تدابیر :
آیت 30: وَاِذْ یَمْکُرُبِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور اس واقعہ کو یاد کرو جبکہ کافر لوگ آپ کی نسبت تدبیریں سوچ رہے تھے) جب اللہ تعالیٰ نے مکہ کو فتح کروایا تو قریش کی حیلہ بازیوں کا ذکر کیا جو مکہ میں انہوں نے کیں تاکہ انکی فریب کاریوں سے نجات پانے پر آپ شکریہ ادا کریں اور ان پر جو غلبہ عنایت فرمایا اس پر شکر بجا لائیں۔ مطلب یہ ہے اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے خلاف وہ خفیہ تدابیر کر رہے تھے۔ معاملہ کچھ اس طرح ہے کہ جب انصار نے اسلام قبول کرلیا۔ تو قریش کو خطرہ ہوا کہ آپ کا معاملہ مضبوط ہوجائیگا۔
دارالندوہ کا اجلاس :
چناچہ انہوں نے دارالندوہ میں آپ کے متعلق مشورہ کیلئے…
Read the full tafseer →30 (واذ یمکربک الذین کفروا) اس آیت کا عطف ” واذکروا اذا انتم قلیل “ پر ہے (واذکر اذیمکر بک الذین کفروا واذا قالوا اللھم) کیونکہ یہ سورت مدنی ہے اور یہ مکر اور قول اگرچہ مکہ میں ہوا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر مدینہ میں کیا ہے جیسے دوسری آیت ” الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ “ ہے۔ اس مکر کی تفصیل ابن عباس ؓ اور دیگر مفسرین رحمہم اللہ نے یہ ذکر کی ہے کہ جب انصار اسلام لے آئے تو قریش کو ڈر ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں مشورہ کریں۔ ان کے بڑے اس وقت ربیعہ کے بیٹے عتبہ اور شیبہ اور ابوجہل بن ہشام، ابوسفیان، طعیمہ بن عدی، نضر بن حارث، ابو البختری بن ہشام، زمعہ بن اسود، حکیم بن حزام ، حجاج کے بیٹے…
Read the full tafseer →30۔ مسند امام احمد بن حنبل تفسیر کلبی ‘ مغازی محمد بن اسحاق اور تفسیر ابن بی حاتم میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کہ مکہ میں دارالندوہ ایک مشورہ کی جگہ قریش نے قرار دے رکھی تھی وہاں ایک جماعت قریش نے ایک بڈھے سے پوچھا تو کون شخص ہے بڈھے نے کہا خدا کی طرف کا رہنے والا میں ایک شخص ہوں میں نے سنا تھا کہ تم لوگ ایک مشورہ کی غرض سے آج جمع ہوئے ہو اس لئے میں نے چاہا کہ میں بھی اس مشورہ میں شریک ہو کر تمہارا مشورہ سنوں اور جو کچھ میری رائے ہو وہ میں بھی تمہارے سامنے ظاہر کروں اس جماعت کے لوگوں نے کہا کہ اچھا کیا مضائقہ ہے آؤ تم بھی مشورہ میں شریک ہوجاؤ حقیقت میں وہ شیطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
آیت 30
یعنی اے رسول ﷺ ! اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کیجیے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے، (واذیمکر بک الذین کفروا) ” جب سازش کرتے تھے کافر آپ کے بارے میں “ جب مشرکین مکہ نے ” دارلندوہ “ میں مشورہ کیا کہ رسول ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟
(1) آپ کو بیڑیاں پہنا کر محبوس کردیا جائے۔
(2) آپ کو قتل کردیا جائے تاکہ۔۔۔ بزعم خود۔۔۔ ہمیشہ کے لئے آپ سے نجات حاصل کرلیں۔
(3) آپ کو مکہ سے نکال باہر کر کے ملک بدر کردیا جائے۔
ہر شخص نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ آخر کار تمام لوگوں نے اس مجلس میں شریک شریر ترین آدمی، ابوجہل (لعنہ اللہ) کی رائے سے اتفاق کیا کہ قریش کے تمام قبائل سے ایک ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
فتنہ کا مفہوم
قول باری ہے واتقوافتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ۔ اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف ان ہی لوگوں تک محدود رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو) الفتنۃ کی تفسیر میں کئی اقوال منقول ہیں۔ حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ اس کے معنی وہی ہیں جو اس آیت انما اموالکم والولادکم فتنۃ۔ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں) میں موجود لفظ فتنہ کے ہیں حسن کا قول ہے کہ فتنہ وبال اور آفت کو کہتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد عذاب ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ اس شادمانی کا نام ہے جس کے تحت لوگ مست ہو کر ظلم ڈھانے پر اتر آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →51 کافروں کی سازش حضرت امام الانبیا ﷺ کے خلاف : سو اس میں کافروں کی اس سازش کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے جو وہ لوگ حضرت امام الانبیائ ﷺ کیخلاف کررہے تھے اپنے پارلیمنٹ ہاؤس (دارالندوہ) میں۔ تاکہ اس طرح یہ لوگ حق و ہدایت کے اس نور مبین کو بجھا سکیں جو کہ خود انکے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہوں کو روشن کرنے کے لئے ان کے خالق ومالک کی عنایت بےنہایت سے ان کے لئے اتارا گیا تھا۔ سو اس سے مستنیر و مستفید ہونے کی بجائے انہوں نے الٹا اس کو گل کرنے کی ٹھانی۔ مگر کہاں ؟ البتہ اس طرح انہوں نے اپنی محرومی اور بدبختی کی مہر کو اور پکا کردیا اور وہ ۔ { خِسَرِ الدُّنیا والآخِرَۃ } ۔ کے مصداق بن…
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کے خلاف تمام منصوبے ناکام
تشریح : اللہ رب العزت کے مدبر ہونے کی ایک عظیم مثال یہاں دی گئی ہے کہ جب مدینہ کے لوگ اسلام قبول کرنا شروع ہوگئے تو اہل مکہ کو بڑی فکر ہوئی کہ اگر مکہ سے باہر محمد ﷺ کے عقیدے کی شہرت ہونے لگی تو یہ بڑا مسئلہ ہوجائے گا تو تمام سرداروں نے دارالندوہ میں ملکر مشورہ کیا کہ آپ کو قید کردیں، جان سے مار دیں یا وطن سے نکال دیں۔ آخر یہ طے پایا کہ تمام قبیلوں کا ایک ایک نوجوان ایک جماعت کی صورت میں ان کے گھر کا محاصرہ کریں اور جب وہ باہر آئیں تو ان پر حملہ کردیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کو سیدنا جبرئیل (علیہ السلام) نے اللہ کا پیغام دیا کہ یہاں سے ہجرت کر جائیں سو آپ ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–37
آیات 29 تا 37
اسرار و معارف
تقوی کے ثمرات
اطاعت نبوی سے ایک دلی نسبت اور قلبی کیفیت نصیب ہوتی ہے جو تقوی کہلاتی ہے اور یہ کیفیت گناہ اور نافرمانی سے مانع بن جاتی ہے لہٰذا اگر تم اطاعت اور تقوی ہی کو شعاربنالوتو اس کی مزید برکات بھی سن لو کہ تمہیں فرقان یعنی ایسی طاقت جو حق و باطل میں حق کو غالب کرکے فیصلہ کردے سب پر عیاں ہوجائے نصیب ہوگی ظاہر ہے یہ نصرت الہیہ ہی ہوسکتی ہے اس کا اظہاریوم بدرہواتو اسے یوم الفرقان کہا جاتا ہے نیز اگر خلوص دل سے اطاعت الٰہی کو شعاربنالیاجائے تو ایسے لوگوں کی مجلس بھی نصیب ہوتی ہے جن کی محفل میں انعکاسی طور پر قلبی نور اور بصیرت نصیب ہوکر گناہ سے مانع اور حق پر…
Read the full tafseer →ف 2 آیت واذکر و اذانتم قلیل الخ میں مو منوں پر انعام ذکر فرمایا تھا اب اس آیت میں آنحضرت پر اپے انعام کا ذکر کیا ہے جو یحبل لکم فر قانا کی ایک مثال ہی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ بھی مکہ میں تھے لیکن قریش کو یقین ہوگیا تھا کہ آپ ﷺ بھی عنقریب مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے ہیں اسی وقت انہوں نے اپنے دارالند وہ میں رؤسا مکہ کا ایک نمائندہ اجتماعی بلایا کہ تاکہ آپ ﷺ کے بارے میں کسی قطعی فیصلہ پر پہنچا جاسکے اس اجتماع میں شیطان بھی ایک بوڑھے نجدی کی شکل میں شریک ہوگیا۔ کسی نے تجویز پیش کی کہ اس شخص ( محمد ﷺ کو بیڑیا پہناکر کسی جگہ قید کردیا جائے اور مرتے دم تک رہ انہ کیا جائے لیکن اس…
Read the full tafseer →(8:30) لیثبتوک۔ لام تعلیل کے لئے۔ یثبتوا۔ اثبات (افعال) سے مضارع جمع مذکر غائب تاکہ تم قید کرلیں ۔ گرفتار کرلیں۔ باندھ لیں۔ یمکر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ وہ خفیہ تدبیریں کر رہے تھے۔ یا کر رہا تھا (ملاحظہ ہو 7:99)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
آیات : 30 تا 33
لغات القرآن۔
یمکر۔ وہ تدبیر کرتا ہے۔ لیثبوک۔ تاکہ وہ تجھے قید کرلیں۔ خیر الماکرین۔ بہترین تدبیر کرنے والا۔ اساطیر۔ (اسطورۃ) ۔ پرانی کہانیاں۔ لکھی ہوئی چیز۔ اللھم۔ میرے اللہ۔ امطر۔ برسادے۔ حجارۃ۔ (حجر) ۔ پتھر۔ انت فیھم۔ تو ان میں ہے ) (آپ ﷺ ان میں ہیں) ۔ یستغفرون۔ وہ معافی مانگتے ہیں۔
تشریح : وہ آخری دن جب آپ ﷺ ہجرتے سے پہلے شہر مکہ میں تھے۔ اور بہت سے صحابہ کرام ؓ رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے حبشہ اور دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے تھے کفار مکہ آثار و قرائن سے یقین کرچکے تھے کہ اب حضرت محمد ﷺ بھی ہجرت کر جانے والے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ہجرت کی صورت میں ان کے سامنے کیا کیا…
Read the full tafseer →ترقی اسلام پر کفار کا مشورہ حضور کی ہجرت، ثور پہاڑ کے غار کا قصہ
جب اسلام ترقی کرتا چلا گیا تو آخر کار سب کافر دار الندوہ یعنی مشورہ کی جگہ میں جمع ہوئے، اور ہر ایک نے اپنی اپنی تجویز پیش کی۔ شیطان بھی ایک بوڑھے شیخ کی صورت بن کر آموجود ہوا اور بولا کہ : میں نجد کا رہنے والا ہوں۔ مکہ میں آکر تمہاری کمیٹی کی خبر سنی تھی اس لئے اپنی بھی رائے پیش کرنے حاضر ہوگیا۔ ابوالبختری بولا :” میری رائے تو یہ ہے کہ محمد ﷺ کو ایک بند مکان میں قید کردو اور وہ اسی طرح مرجائیں گے “ شیطان بولا :” یہ ٹھیک نہیں کیونکہ اس کے ہمراہی تم سے لڑ کر ان کو چھڑا لے جائیں گے “۔ پھر ہشام بن عمر نے کہا : کہ میری رائے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
[10] مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے۔ اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ پورے کرتا ہے تو اس آزمائش میں کامیاب ہے ' بصورت دیگر ناکام۔
Read the full tafseer →(ف 2) احسانات الہی کا ذکر ہے یعنی ایک وقت وہ تھا کہ حضور ﷺ کے متعلق مشورے کر رہے تھے کچھ کہتے تھے ، اس کو قید کرلو ، کچھ چاہتے تھے زندگی ہی سے محروم ہوجائے اور ایک طبقہ وہ تھا جو مکہ سے نکال دینے پر مصر تھا ان کی تمام تدبیریں ناکام رہیں اور اللہ نے حضور ﷺ کو مدینہ پہنچا دیا ، جہاں سینکڑوں جان نثار پیدا ہوگئے ، اور بالآخر یہ تجویزیں سوچنے والے بدر میں ذلیل ہوئے ۔
حل لغات :
لیثبتوک : اثبات کے معنی روک لینے کے ہیں یعنی قید کر رکھنا ۔
Read the full tafseer →30 اور اے پیغمبر ! آپ اس وقت کو یاد کیجئے کہ جب کافر آپ کے متعلق مختلف تدبیریں سوچ رہے تھے اور باہل مل کر تدبیریں کررہے تھے کہ آپ کو قید کرلیں یا آپ کو قتل کردیں یا آپ کو نکال دیں اور جلا وطن کردیں اور حالت یہ تھی کہ ایک طرف وہ سازشیں کرکے اپنی چال چل رہے تھے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ ان کے توڑ کے لئے ایک اور چال چل رہا تھا اور سب دائوں کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ بہترین دائوں کرنے والا ہے۔ یعنی اس کی تدبیر مستحکم اور مضبوط ہوتی ہے اس کی چال اور اس کے دائو کا کوئی توڑ نہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ فرمایا کہ جیسے اللہ نے پیغمبر کو بچالیا ہے تو تمہارے گھر بار کو بھی بچا رکھے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
ف 1۔ یعنی قبل ہجرت۔
2۔ یعنی مکہ۔
Read the full tafseer →نبی اعظم و آخر ﷺ کے خلاف کفار مکہ کی سازشوں کا ذکر :
41; : اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے ایک خاص فضل و احسان اور انعام و اکرام کا ذکر فرمایا جو نبی اعظم و آخر ﷺ اور پوری انسانیت پر کیا گیا بشمول ان لوگوں کے جو اس وقت ظلم کر رہے تھے اور وہ ظلم نبی رحمت ﷺ کے قید کرنے ، مکہ سے نکلال باہر کرنے یا قتل کرنے کا مشورہ تھا جو مشورہ طے پایا وہ یہ تھا کہ اب اس کے سوا چارہ نہیں کہ محمد (رسول اللہ ﷺ کو قتل کردیا جائے۔ کیوں ؟ اس لئے اب مکہ سے باہر خصوصاً مدینہ طیبہ کے لوگ مسلمان ہونا شروع ہوگئے اور قریش مکہ کے سرداروں کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ اب تک تو اس کا معاملہ صرف مکہ تک محدود تھا جہاں ہر طرح کی قوت و…
Read the full tafseer →The second verse (30) points out to a particular reward and favour of Allah Ta` ala which has been conferred on the Holy Prophet ؓ ، the noble Companions ؓ and, in fact, on the whole world. This came to be before the Hijrah when the Holy Prophet ؓ was encircled by the disbelievers and they were planning to detain or kill him. Then, Allah Ta` ala made their unholy intentions lick dust and made it possible for the Holy Prophet ؓ to reach the city of Madinah in perfect safety.
The related incident has been reported in Tafsir Ibn Kathir and Tafsir Mazhari on the authority of narrations from…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
25. Apprehending the Prophet's migration to Madina, the Quraysh convened a high-level council attended by all the tribal chiefs at Dar al-Nadwah (Council House) to decide on a decisive course of action against the Prophet (peace be on him). They realized that once the Prophet (peace be on him) left Makka, he would be beyond their reach, rendering them helpless in face of a formidable threat. A group of them was of the view that the Prophet (peace be on him) should be imprisoned for life and kept in chains. This proposal was, however, turned down on the ground that the Prophet's detention…
Read the full tafseer →