Al-Anfaal 8:29

Al-Anfaal · from ayah 29

8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّیُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَیَغْفِرْ لَكُمْ ؕ— وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۟يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجۡعَلْ لَّـكُمۡ فُرۡقَانًا وَّيُكَفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ‌ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ

مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے امر فارق پیدا کردے گا (یعنی تم کو ممتاز کردے گا) تو وہ تمہارے گناہ مٹادے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑا فضل والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, if you fear Allah, He will grant you a criterion and will remove from you your misdeeds and forgive you. And Allah is the possessor of great bounty.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 4 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:29

اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچا دے گا اور تمہاری بُرائیوں کو تم سے دُور کر دے گا، اور تمہارے قصور معاف کر دے گا اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے امر فارق پیدا کردے گا (یعنی تم کو ممتاز کردے گا) تو وہ تمہارے گناہ مٹادے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑا فضل والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناه دور کر دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کے ساتھ تقوی کی روش اختیار کرو گے تو وہ تمہیں (حق و باطل کی) تمیز عطا کردے گا اور تمہاری برائیوں کا کفارہ کردے گا، اور تمہیں مغفرت سے نوازے گا، اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو! اگر اللہ سے ڈرو گے تو تمہیں وہ دیگا جس سے حق کو باطل سے جدا کرلو اور تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! اگر تم اللہ کا تقوٰی اختیار کرو گے (تو) وہ تمہارے لئے حق و باطل میں فرق کرنے والی حجت (و ہدایت) مقرر فرما دے گا اور تمہارے (دامن) سے تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور تمہاری مغفرت فرما دے گا، اور اللہ بڑے فضل والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر تم اللہ سے ڈروگے تو وہ تمہارے لیے (حق و باطل میں) فرق کرنے کی بڑی قوت بنادے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو اللہ تمہیں قوت تمیز عطا کرے گا، تم سے تمہاری برائیاں دور کردے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑا ہی فضل کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان لانے والو، اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو وہ تمہارے لیے فرقان نمایاں کردے گا اور تم سے تمہارے گناہ جھاڑ دے گا اور تمہاری مغفرت فرمائے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے ایمان والو ! اگر تم ڈرتے رہے اللہ سے تو وہ سرفراز فرما دے گا تم کو ایک فیصلہ کن چیز سے، اور وہ مٹا دے گا تم سے تمہاری برائیوں کو اور نواز دے گا تم کو اپنی بخشش سے، اور اللہ بڑا ہی فضل والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو وہ تمہیں ایک فیصلہ کی چیز دے دے گا اور تم سے دور کردے گا تمہارے گناہ اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ ہے ہی بڑے فضل والا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ایمان ! اگر تم اللہ کے تقویٰ پر برقرار رہو گے تو وہ تمہارے لیے فرقان پیدا کر دے گا اور دور کر دے گا تم سے تمہاری برائیاں (کمزوریاں) اور تمہیں بخش دے گا۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ (حق و باطل میں فرق کرنیوالی) قوت امتیازعطا کر دے گا۔ اور تمہاری برائیوں کو تم سے دور کر دے گا اور تمہارے قصور معاف کر دے گا۔ اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers! If you fear Allah He will grant you a criterion and will cleanse you of your sins and forgive you. Allah is Lord of abounding bounty.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, if you fear Allah, He will provide you with a criterion (to distinguish between right and wrong) and will write off your evil deeds and will forgive you. Allah is the Lord of great bounty.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, if you fear Allah, He will provide you with a criterion (to distinguish between right and wrong) and will write off your evil deeds and will forgive you. Allah is the Lord of great bounty.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! If you obey and fear Allah, He will grant you Furqan, and will expiate for you your sins, and forgive you; and Allah is the Owner of the great bounty.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! If ye keep your duty to Allah, He will give you discrimination (between right and wrong) and will rid you of your evil thoughts and deeds, and will forgive you. Allah is of Infinite Bounty.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, if you fear Allah, He will grant you a criterion and will remove from you your misdeeds and forgive you. And Allah is the possessor of great bounty.

— Saheeh International

Believers, if you fear God, He will give you guidance, will expiate your bad deeds and forgive you. God's favors are the greatest.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! If you are careful of (your duty to) Allah, He will grant you a distinction and do away with your evils and forgive you; and Allah is the Lord of mighty grace.

— Muhammad Habib Shakir

O Ye who believe! if ye fear Allah He will make for you a distinction and will expiate for you your misdeeds, and forgive you; and Allah is Owner of Mighty Grace.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! if ye fear Allah, He will grant you a criterion (to judge between right and wrong), remove from you (all) evil (that may afflict) you, and forgive you: for Allah is the Lord of grace unbounded.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

دنیا و آخرت کی سعادت مندی فرقان سے مراد نجات ہے دنیوی بھی اور اخروی بھی اور فتح و نصرت غلبہ و امتیاز بھی مراد ہے جس سے حق و باطل میں تمیز ہوجائے۔ بات یہی ہے کہ جو اللہ کی فرمانبرداری کرے، نافرمانی سے بچے اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔ جو حق و باطل میں تمیز کرلیتا ہے، دنیاو آخرت کی سعادت مندی حاصل کرلیتا ہے اس کے گناہ مٹ جاتے ہیں لوگوں سے پوشیدہ کروئے جات یہیں اور اللہ کی طرف سے اجر وثواب کا وہ کامل مستحق ٹھہر جاتا ہے۔ جیسے فرمان عالی شان ہے یایھا الزین امنو اتقواللہ وامنو ابر سولہ یوتکم کفلین من رحمتہ ویجعل لکم نورا تمشون بہ و یغفر لکم واللہ غفور الرحیم یعنی اے مسلمانو ! اللہ کا ڈر دلوں میں رکھو۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْفَال 24 کسوٹی اس چیز کو کہتے ہیں جو کھرے اور کھوٹے کے امتیاز کو نمایاں کرتی ہے۔ یہی مفہوم ”فرقان“ کا بھی ہے اسی لیے ہم نے اس کا ترجمہ اس لفظ سے کیا ہے۔ ارشاد الہٰی کا منشا یہ ہے کہ اگر تم دنیا میں اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو تو تمہاری دلی خواہش یہ ہو کہ تم سے کوئی ایسی حرکت سر زد نہ ہونے پائے جو رضائے الہٰی کے خلاف ہو، تو اللہ تعالیٰ تمہارے اندر وہ قوت تمیز پیدا کردے گا جس سے قدم قدم پر تمہیں خود یہ معلوم ہوتا رہے گا کہ کونسا رویہ صحیح ہے اور کونسا غلط، کس رویہ میں خدا کی رضا ہے اور کس میں اس کی ناراضی۔ زندگی کے ہر موڑ، ہر دورا ہے، ہر نشیب اور ہر فراز پر تمہاری اندرونی بصیرت تمہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (اور) اے ایمان والو (اطاعت کی اور برکات سنو وہ یہ کہ) اگر تم اللہ سے ڈر (کر اطاعت کرتے) رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا (اس میں ہدایت اور نور قلب جس سے حق و باطل میں علمی فیصلہ ہوتا ہے اور غلبہ علی الاعداء اور نجات آخرت جس سے حق و باطل میں عملی فیصلہ ہوتا ہے سب آگیا) اور تم سے تمہارے گناہ دور کردے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے (خدا جانے اپنے فضل سے اور کیا کیا دے دے جو قیاس و گمان میں بھی نہ آتا ہو) اور (اے محمد ﷺ مسلمانوں کے سامنے تذکیر نعمت کے لئے) اس واقعہ کا بھی ذکر کیجئے جب کہ کافر لوگ آپ کی نسبت (بری بری) تدبیریں سوچ رہے تھے کہ (آیا) آپ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیات 29 تا 40 کا مضمون : آگے پہلے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی فرمائی کہ اگر تم اللہ کے عہد و پیمان پر مضبوطی سے قائم رہے۔ مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر تم نے کمزوری نہ دکھائی تو جلد وہ وقت آجائے گا کہ وہ تمہارے لیے فرقان نمایاں کرے گا اور وہ سارے حجابات چاک ہوجائیں گے جو آج حق کے پوری طرح نمایاں ہونے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد اپنی اس بہترین تدبیر کی طرف اشارہ فرمایا جو اس نے اپنے رسول کو کفار کی متفقہ سازش سے بچانے اور اس کے لیے ہجرت کی راہ کھولنے کے لیے اختیار فرمائی۔ یہ ہجرت غلبہ اسلام کا دیباچہ اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کی تمہید ہوئی۔ اب تک کفار قرآن کے انذار کا مذاق اڑا رہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

29۔ 1 تقویٰ کا مطلب ہے، اوامر الٰہی کی مخالفت اور اس کی مناہی کے ارتکاب سے بچنا اور فرقان کے کئی معنی بیان کئے گئے ہیں مثلاً ایسی چیز جس سے حق و باطل کے درمیان فرق کیا جاسکے۔ مطلب یہ ہے کہ تقویٰ کی بدولت دل مضبوط، بصیرت تیزتر اور ہدایت کا راستہ واضح تر ہوجاتا ہے، جس سے انسان کو ہر ایسے موقعے پر، جب عام انسان شک و شبہ کی وادیوں میں بھٹک رہے ہوں، صراط مستقیم کی توفیق مل جاتی ہے۔ علاوہ ازیں فتح اور نصرت اور نجات و مخرج بھی اس کے معنی کئے گئے ہیں۔ اور سارے ہی مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ تقویٰ سے یقینا یہ سارے ہی فوائد حاصل ہوتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ کفر، مغفرت گناہ اور فضل عظیم بھی حاصل ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

17: تقوی کی یہ خاصیت ہے کہ وہ انسان کو ایسی سمجھ عطا کردیتا ہے جو حق اور ناحق میں تمیز کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور گناہ کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کی عقل خراب کردیتا ہے جس سے وہ اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگتا ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب اہل ایمان کے نام یہ آخری پکار ہے اور اس سبق کے آخیر میں ہے۔ یہ پکار اس خاطر ہے کہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔ اس لیے کہ اس عظیم ذمہ داری کا حق صرف وہ لوگ ادا کرسکتے ہیں جن کے اندر نور تقویٰ ہو اور اس کے ذریعے وہ شیطانی شبہات اور وسوسوں کا مقابلہ کرسکیں اور اس راہ پر ان کے قدم مضبوط ہوں اور ان کو یہ فکر یکسوئی تب ہی نصیب ہوسکتی ہے جب وہ تقوی کے ذریعے حاصل کردہ ربانی نورانیت اور روشنی کو کام میں لائیں۔ یہ ہے زاد راہ اور حقیقی سامان سفر۔ زاد تقوی جو دلوں کو زندہ کرتا ہے ان کو بیدار کرتا ہے اور ان کے اندر ولولہ پیدا کرتا ہے۔ نیز اس کی وجہ سے دلوں کے اندر احتیاط اور بیداری پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اگر خدا سے ڈر کر راہ تقویٰ اختیار کرو گے تو خدا تم میں اور تمہارے مخالفوں میں فیصلہ کر دے گا۔ دنیا میں بھی، کہ تم کو عزت دے گا اور ان کو ذلیل یا ہلاک کرے گا جیسے بدر میں کیا اور آخرت میں بھی، کہ تم نعیم دائم میں رہو گے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا۔ (وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ ) 36 ۔ یس :59) (هٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَالْاَوَّلِيْنَ ) 77 ۔ المرسلات :38) دوسری بات یہ ہے کہ تقویٰ کی برکت سے حق تعالیٰ تمہارے دل میں ایک نور ڈال دے گا جس سے تم ذوقاً و وجداناً حق و باطل اور نیک و بد کا فیصلہ کرسکو گے۔ اس کے علاوہ ایک بات حضرت شاہ صاحب نے لکھی ہے کہ " شاید فتح…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 29 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا اگر تم تقویٰ کی روش اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یکے بعد دیگرے تمہارے لیے فرقان آتا رہے گا۔ جیسے پہلا فرقان غزوۂ بدر میں تمہاری فتح کی صورت میں آگیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

30 تقویٰ کے ثمرات :۔ یعنی اگر تم اس بات سے ڈرتے رہے کہ تم سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جو اللہ کی رضا کے خلاف ہو تو اللہ تمہارے اندر ایسا نور بصیرت یا قوت تمیز پیدا کر دے گا جو زندگی کے ہر موڑ پر تمہاری رہنمائی کرے گا کہ فلاں کام اللہ کی رضا کے مطابق ہے اور فلاں اس کی مرضی کے خلاف ہے یعنی جو لوگ ایمان لانے کے بعد تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں تین قسم کے انعامات سے نوازتا ہے۔ ایک تو ان میں حق و باطل میں تمیز کرنے کی بصیرت پیدا ہوجاتی ہے۔ دوسرے ان کی برائیوں کو مٹا دیا جاتا ہے اور تیسرے ان کے اکثر و بیشتر گناہ معاف ہی کردیئے جاتے ہیں اور تقویٰ کے یہ ثمرات محض تقویٰ کی بنا پر نہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

42 ۔ (اور اس بڑے داتا کی ساری بخششیں اور نعمتیں تمہارے وہم و گمان میں بھی کب آسکتی ہیں) (آیت) ” ان تتقوا اللہ “۔ اور اس تقوی و خشیت الہی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ طاعت و اطاعت میں لگے رہو گے۔ (آیت) ” فرقانا “۔ فرقان کی تشریح اہل تفسیر نے اپنے اپنے مذاق کے مطابق کی ہے۔ لیکن بہتر ہوگا کہ لفظ ان سب مفہوموں کا جامع سمجھا جائے اور ہدایت اور نور قلب جس سے حق و باطل میں فیصلہ ہوجائے اور غلبہ علی الاعداء اور نجات آخرت جس سے حق و باطل میں عملی فیصلہ ہوجائے سب کو شامل رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 29 تا 37 اور حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر کی توبہ کی قبولیت کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ترجمہ : اے ایمان والو ! اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو تمہارے اور اس چیز کے درمیان جس سے تم خوف رکھتے ہو ایک فیصلے کی چیز عطا کرے گا تو تم نجات پاؤ گے، اور تم سے تمہارے گناہ دور کردے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اللہ بڑے فضل والا ہے اور اے محمد وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کافر تمہارے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے اور آپ کے بارے میں مشورہ کے لئے دارالندوہ میں جمع ہوئے تھے، تاکہ تمہیں قید کریں، یعنی آپ کو باندھ لیں اور محبوس کرلیں، یا سب مل کر آپ کو قتل کردیں یعنی متحد ہو کر ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا الذین امنوا ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا اے ایمان والو ! اگر تم ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تم کو ایک فیصلہ کی چیز عنایت کر دے گا۔ یعنی ایک بصیرت قلبی عطا فرمائے گا جس سے تم حق و باطل میں تمیز کرلو گے۔ فراست مؤمن کا لفظ جو حدیث میں آیا ہے ‘ اس سے یہی قلبی بصیرت مراد ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا : مؤمن کی فراست سے ڈرو ‘ وہ اللہ کے نور یعنی خداداد نور بصیرت سے دیکھتا ہے۔ رواہ البخاری فی التاریخ والترمذی عن ابی سعید الخدری والطبرانی وابن عدی عن ابی امامۃ وابن جریر عن ابن عمر۔ دوسری حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : خواہ مفتی تجھے فتویٰ دے چکے ہوں (مگر تو پھر بھی) اپنے دل سے فتویٰ طلب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(29) اگر تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تقاضے پورے کرتے رہو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور نجات عطا فرمائے گا اور تمہارے تمام صغیرہ گناہوں کو معاف فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مغفرت اور جنت کے ذریعے بڑا فضل فرمانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا : مال اور اولاد کی آزمائش سے خبردار کرنے کے بعد اب تقویٰ کی تعلیم دی ہے اور اس کے فوائد بیان کیے ہیں، تقویٰ کا مادہ ”و ق ی“ ہے اور یہ اسم مصدر ہے۔ ”تَتَّقُوا“ باب افتعال سے ہے، اس کا معنی بچنا ہے، آدمی اسی چیز سے بچتا ہے جس سے ڈرتا ہو، اس لیے اس کا معنی ڈرنا بھی کرلیا جاتا ہے۔ ”فَرْقٌ“ اور ”فُرْقَانٌ“ مصدر ہیں، دونوں کا ایک ہی معنی ہے، مگر ”فُرْقَانًا“ کے حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی اگر تم ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی نافرمانی سے بچتے رہو گے، خواہ کوئی دوسرا تمہارے پاس ہو یا نہ ہو تو تمہیں چار نعمتیں عطا ہوں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 29 تقوی کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے بارے جانتا ہے کہ وہ تقوی اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔ اسے لفظ شرط کے ستھ ذکر کیا ہے، کیونکہ اس نے بندوں کو ایسے انداز میں خطاب کیا ہے جیسے وہ آپس میں ایک دوسرے کو خطاب کرتے ہیں۔ اور جب بندہ اپنے رب سے ڈرنے لگے اور یہ اس کے اوامر کو بجا لانے اور اس کی نواہی سے اجتناب کرنے سے، محرمات میں واقع ہونے کے خوف سے شبہات کو ترک کرنے، اور اپنے دل کو خاص نیت کے ساتھ بھرنے سے، اور اپنے جوارح کو اعمال صالحہ میں مشغول رکھنے اور اعمال میں غیر اللہ کی رعایت کے سبب شرک خفی اور ظاہر کی آمیزش سے محفوظ رہنے، اور مال سے باز رہنے کے سبب دنیا کی طرف میلان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یجعل لکم فرقانا “ سے مراد ہے نجات۔ 2:۔ ابن جریر نے عکرمۃ (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یجعل لکم فرقانا “ سے مراد مدد اور نصرت ہے۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ عبد بن حمید، ابن منذر وابوالشیخ نے مجاہد سے روایت کیا کہ (آیت) ” یجعل لکم فرقانا “ سے مراد ہے دنیا اور آخرت میں نکلنے کا راستہ۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [ اِنْ : اگر ] [ تَتَّقُوا : تم لوگ تقوی کروگے ] [ اللّٰهَ : اللہ کا ] [ يَجْعَلْ : تو وہ بنا دے گا ] [ لَّكُمْ : تمہارے لیے ] [ فُرْقَانًا : ایک واضح فرق کرنے والا ] [ وَّيُكَفِّرْ : اور وہ دور کردے گا ] [ عَنْكُمْ : تم سے ] [ سَيِّاٰتِكُمْ : تمہاری برائیوں کو ] [ وَيَغْفِرْ : اور وہ معاف کردے گا ] [ لَكُمْ ۭ : تم کو ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ : عظیم فضل والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

تقویٰ پر انعام : دوسری آیت میں فرمایا کہ اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں فیصلہ والی چیز عطا فرما دے گا اور گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور تمہاری بخشش فرما دے گا۔ ” فیصلہ والی چیز “ سے کیا مراد ہے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے متعدد اقوال لکھے ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے ہدایت اور دلوں کا وہ نور مراد ہے جس کے ذریعہ حق اور باطل کے درمیان فرق کرسکیں گے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ شانہٗ کی مدد مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنین کی ایسی مدد فرمائے گا جس کی وجہ سے مومنین کو عزت دے گا اور کافروں کو ذلیل کرے گا اور بعض حضرات نے یوں فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–29

ترغیب بر اطاعت وامانت وترہیب از معصیت وخیانت و زجر دوستاں از مشابہت دشمناں قال اللہ تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ ذوالفضل العظیم (ربط) گذشتہ آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اب ان آیات میں اہل ایمان کو ہدایت فرماتے ہیں کہ حق جل شانہ کی معیت اور نصرت اور حمایت کا دارومدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے اگر تم اللہ کی معیت اور اس کی نصرت کے طلبگار ہو تو اس کی دو شرطیں ہیں۔ اول تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی دل وجان سے ایسی اطاعت کرو جس میں خیانت کا شائبہ نہ ہو اس لیے کہ خیانت اطاعت کاملہ میں مخل ہے۔ دوم یہ کہ اہل ایمان پر لازم ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

31: پانچواں قانون جہاد :“ فُرْقَانًا ” سے فتح و نصرت مراد ہے۔ یعنی اگر تم اللہ سے ڈرو گے اور اس کے احکام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں فتح و نصرت عطا کرے گا تمہیں عزت دے کر اور مشرکین کو ذلیل و رسوا کر کے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کردے گے۔ اور تمہارے تمام گناہ معاف کر کے تمہیں اپنی بخشش و رحمت اور فضل سے نوازے گا۔ “ نصرًا بین المحق و المبطل باعزاز المٓومنین و اذلال الکٰفرین کما قال الفراء ” (روح ج 9 ص 196) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–29

ربط آیات : یہ سورة اور اگلی سورة توبہ دونوں جہاد کے سلسلے سے تعلق رکھتی ہیں ان سورتوں میں اللہ نے دشمن کے مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے کے اصول بیان فرمائے ہیں سب سے پہلا اصول ثابت قدمی تھا کہ جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوجائے تو پھر میدانِ جنگ سے بھاگنے کی کوشش نہ کرو بلکہ ثابت قدم رہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قانون مقرر کردیا کہ دشمن اگر تعداد میں دگنے بھی ہوں تو ان کے خوف سے بھاگنے کی اجازت نہیں ہے جو شخص پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گا وہ اکبرالکبائر کا مرتکب ہو کر جہنم کا مستحق ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جنگ کا دوسرا اصول یہ بیان فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو لازم پکڑو اور اس سے روگردانی نہ کرو اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللہَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَـيِّاٰتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ۝ 0 ۭ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۝ 29 تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ فرقان سے اس جگہ مراد یوم بدر ہے چونکہ یوم بدر کو یوم فرقان بھی کہتے ہیں۔ 12 حقانی

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 29–30

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوْا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا وَیُکَفِّرْعَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ط وَاللّٰہُ ذُوْالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ ( الانفال : 29 ) (اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو تو وہ تمہیں کسوٹی عطا کرے گا اور تم سے تمہاری برائیاں جھاڑ دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ ) گزشتہ رکوع کی آخری دو آیات میں دونصیحتیں فرمائی گئی ہیں اور پھر تمام برائیوں اور بیماریوں کا حقیقی سبب بتایا گیا ہے جس کی وجہ سے اکثر اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں جو بالآخر عقیدے کی خرابی پر منتج ہوتے ہیں۔ جو دو نصیحتیں فرمائی گئی ہیں ان میں سے پہلی یہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مسلمانوں کو ہدایات کا سلسلہ جاری ہے۔ مال اور اولاد کے فتنہ سے بچنے کا موثر طریقہ یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے۔ تقویٰ کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی گناہوں سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرے اور شریعت کے ضابطوں پر عمل پیرا رہے۔ یہی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا مقصد ہے۔ جو مسلمان جلوت اور خلوت میں اللہ تعالیٰ سے تقویٰ اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ کو اس کے لیے فرقان بنا دے گا۔ فرقان قرآن مجید کا اسم مبارک ہے اور معجزہ کو بھی فرقان کہا گیا ہے اس کا معنیٰ ہے حق اور باطل، سچ اور جھوٹ، غلط اور صحیح کے درمیان امتیاز کردینے والا۔ جب کوئی مسلمان صرف اپنے رب کی رضا کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تقویٰ سے حق و باطل کی پہچان رہے گی : آیت 29: یٰٓاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا (اے ایمان والو اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دیگا) مدد۔ نمبر 1۔ کیونکہ وہ حق و باطل میں فرق کرنے والی ہے۔ باطل پرستوں کو ذلیل کر کے اور اہل اسلام کو عزت دیکر۔ نمبر 2۔ وضاحت اور ظہور ہے جس سے تمہارا معاملہ مشہور ہوجائے گا۔ اور تمہاری شہرت اور آثار زمین کے اطراف میں پھیل جائیں گے۔ جیسا کہا جاتا ہے۔ سطع الفرقان جبکہ فجر طلوع ہو نمبر 3۔ شبہات سے نکلنے کی راہ اور شرح صدر نمبر 3۔ تمہارے اور غیر مسلموں کے درمیان جدائی اور دنیا و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(29) (یایھا الذین امنوا ان تتقوا اللہ) اس کی اطاعت کر کے اور نافرمانی چھوڑ کے (یجمل لکم فرقانا) دنیا اور آخرت میں نکلنے کا ذریعہ اور مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں کہ دین میں شبہات سے نکلنے کا ذریعہ ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کہ اس کے ذریعے تمہارے حق کو غالب کر دے گا اور تمہارے مخالف کے باطل کو بجھا دے گا۔ فرقان رجحان اور نقصان کی طرح مصدر ہے (ویکفرعنکم سیاتکم ویغفرلکم ط واللہ ذوالفضل العظیم)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

29۔ اس سے پہلے اللہ پاک نے مومنوں کو مال اور اولاد میں مشغول ہو کر فتنہ میں پڑجانے سے منع فرما کر اس آیت میں تقویٰ کا حکم دیا تقوی کے معنے مفسروں نے یہ بیان کئے ہیں کہ جو حکم خدا اور اس کے رسول کا پہنچ گیا ہے اس کو بسرو چشم مان کر اس کے مطابق عمل کرنا اور جن باتوں سے منع گیا گیا ہے ان سے بچنا اس لئے فرمایا کہ اگر تم تقوی اختیار کرو گے تو تمہارے دلوں میں ہدایت ڈال دی جائے گی جس سے تم حق و ناحق میں تمیز کرلو گے اور تمہارے چھوٹے گناہ مٹادئے جائیں گے اور ہر بڑے گناہ تمہارے بخش دئے جائیں گے اور بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے۔ یکفر عکم سیئاتکم سے وہ گناہ مراد ہیں جو کئے جا چکے ہی ان کو مٹا دیں گے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 29 بندے کا اپنے رب سے تقویٰ اختیار کرنا سعادت کا عنوان اور فلاح کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کی بہت سی بھلائیوں کا دار وم دار تقویٰ پر رکھا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمایا ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرتا ہے اسے چار چیزیں عطا ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر چیز دنیا ومافیہا سے کہیں بہتر ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ صاحب تقویٰ مومن کو ’ دفرقان ‘ عطا کرتا ہے۔ فرقان سے مراد علم و ہدیات ہے جس کے ذریعے سے وہ ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل، حلال اور حرام، خوش بخت اور بدبخت لوگوں کے درمیان امتیاز کرتا ہے۔ (2، 3) برائیوں کو مٹانا اور گناہوں کو بخش دینا۔ اطلاق اور اجتماع کے وقت یہ دونوں امور ایک دوسرے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–32

فتنہ کا مفہوم قول باری ہے واتقوافتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ۔ اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف ان ہی لوگوں تک محدود رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو) الفتنۃ کی تفسیر میں کئی اقوال منقول ہیں۔ حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ اس کے معنی وہی ہیں جو اس آیت انما اموالکم والولادکم فتنۃ۔ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں) میں موجود لفظ فتنہ کے ہیں حسن کا قول ہے کہ فتنہ وبال اور آفت کو کہتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد عذاب ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ اس شادمانی کا نام ہے جس کے تحت لوگ مست ہو کر ظلم ڈھانے پر اتر آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

49 تقویٰ و پرہیزگاری وسیلہ سعادت و سرفرازی : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ ڈرتے رہے اللہ سے اور بچتے رہے اس کی ناراضی اور پکڑ سے تو وہ تمہیں ایک عظیم الشان قوت فرق وتمیز سے نوازے گا۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو تقویٰ تم کو اللہ تعالیٰ فرقان سے نوازے گا۔ یعنی ہدایت اور باطن کے اس نور سے جس کے ذریعے حق و باطل کو پہچاننا اور صحیح و غلط کے درمیان فرق وتمیز کرنا تم کو آسان ہوجائے گا۔ (معارف، صفوۃ وغیرہ) ۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ پس تم لوگ ہمیشہ اسی کی فکر و کوشش میں رہا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–29

ماضی کی یاد سے مستقبل سنوارنا اور تقو ٰ ی کے فوائد تشریح : جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ قرآن مجید ہدایت کی آخری کتاب اور انسان کے لیے قانون زندگی ہے ان آیات میں بھی چند ایسے اچھے اصول بتائے گئے ہیں جو کردار کو مضبوط کرتے ہیں اور نجات کا ذریعہ بنتے ہیں اس زندگی میں رحمت، برکت، آسائش و آرام کا ذریعہ بنتے ہیں۔ -1 فتنہ سے بچو اس میں ہر قسم کی برائی شامل ہے۔ خود بچو اگر غلطی ہوجائے تو چپکے سے اللہ سے معافی مانگ لو، گناہ کی تشہیر نہ کرو۔ -2 پھر نیکی کرو، برائی سے منع کرو، کیونکہ برائی جب پھیلنا شروع ہوتی ہے تو پھر اس کے برے اثرات ہر جگہ پھیلتے ہیں پھر جب اس برائی کی وجہ سے اللہ کا عذاب آتا ہے تو سب اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–37

آیات 29 تا 37 اسرار و معارف تقوی کے ثمرات اطاعت نبوی سے ایک دلی نسبت اور قلبی کیفیت نصیب ہوتی ہے جو تقوی کہلاتی ہے اور یہ کیفیت گناہ اور نافرمانی سے مانع بن جاتی ہے لہٰذا اگر تم اطاعت اور تقوی ہی کو شعاربنالوتو اس کی مزید برکات بھی سن لو کہ تمہیں فرقان یعنی ایسی طاقت جو حق و باطل میں حق کو غالب کرکے فیصلہ کردے سب پر عیاں ہوجائے نصیب ہوگی ظاہر ہے یہ نصرت الہیہ ہی ہوسکتی ہے اس کا اظہاریوم بدرہواتو اسے یوم الفرقان کہا جاتا ہے نیز اگر خلوص دل سے اطاعت الٰہی کو شعاربنالیاجائے تو ایسے لوگوں کی مجلس بھی نصیب ہوتی ہے جن کی محفل میں انعکاسی طور پر قلبی نور اور بصیرت نصیب ہوکر گناہ سے مانع اور حق پر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 مال واولاد کے فتنہ ڈارنے کے بعد اب تقوی کی تعلیم دی، یہاں فرقانا سے مراد تو یہ ہے کہ تمہارے اہل و عیال اور اموال جو مکہ کافروں کے قبض میں ہیں ان کے بچاؤ کی صورت نکال دے گا ی اتمہارے اند نور بصریت پیدا کردے گا۔ جس سے تم زندگی کے ہر موڑ اور ہر نشیب و فراز پر معلوم کرسکو گے کہ کونسی چیز حق ہے اور کونسی باطل ؟ فر قان کے راہ نجات اور نور بصیرت دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ ( ابن کثیر، کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:29) یجعل لکم۔ یجعل مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ پیدا کرے گا تمہارے لئے۔ مہیا کریگا تمہیں۔ فرقانا۔ فرقان کے لفظی معنی فرق کرنے والی چیز کے ہیں۔ مفسرین نے اس جگہ متعدد معانی لئے ہیں :۔ (1) نورو توفیق۔ جو حق و باطل کو الگ الگ کرتا ہے۔ (2) فتح۔ جو حق کو باطل سے اور کفر کو اسلام سے۔ یقین کو شبہات سے نتیجۃ الگ الگ کردیتی ہے۔ (3) وہ چیز جو تمہارے تمام ڈر دور کر دے گی۔ ما یفرق بینکم وبین ما تخافون جو تمہارے اور جس سے تم ڈرتے ہو اس کے درمیان فرق کردے۔ (4) ایسے معجزات کہ جن سے تمہیں دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل ہوگا۔ اور تمہاری شہرت ہوگی۔ یکفر۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ دور کردیگا۔ زائل کر دیگا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 27–29

آیات : 27 تا 29 لغات القرآن۔ لا تخونوا۔ خیانت نہ کرو۔ فتنۃ ۔ آزمائش۔ فرقان۔ حق و باطل کے درمیان فرق کرنیو الا۔ تشریح : اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے ایمان والو ! یہ جسم و جاں مال و اسباب یہ بال بچے۔ یہ علم و عقل یہ صحت و فراغت یہ اقتدار اختیار اپنے اور پرائے غرضیکہ جو کچھ بھی اور جتنا بھی تمہارے پاس ہے سب اللہ کی امانت ہے۔ تم صرف ایک امانت دار ہوں ان چیزوں کو اسی طرح استعمال کرو جس طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے تمہیں استعمال کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کو استعمال کرنے کا وقت بارہ مہینے اور گھنٹوں میں چوبیس گھنٹے ہیں ہوش پانے سے ہوش کھونے تک ہے۔ جو خیانت کرنے والے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اللہ اور اس کے رسول کا حکم اس آیت میں مسلمانوں سے ارشاد ہوتا ہے کہ جو حکم خدا اور اس کے رسول کا پہنچ گیا ہے اس کو بسروچشم مان کر اس کے مطابق عمل کروگے اور جن باتوں سے منع کیا گیا ہے اس سے بچو گے تو تمہارے دلوں میں ہدایت ڈال دی جائے گی۔ جس سے تم حق وناحق میں تمیز کرلوگے اور تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دئے جائیں گے۔ پھر فرمایا کہ گناہوں کے بخشنے کا جو وعدہ تم سے ہوا ہے یہ محض خدا کا فضل ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–40

[10] مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے۔ اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ پورے کرتا ہے تو اس آزمائش میں کامیاب ہے ' بصورت دیگر ناکام۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

مومن کا امتیاز : (ف 1) مومن کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے وعدہ ہے کہ اگر اس کے دل میں اللہ کا ڈر ہو اور وہ سچے دل سے اسلام کے احکام کا احترام کرتا ہو ، تو دنیا میں اس کی زندگی خاص امتیاز سے بسر ہوگی وہ فرقان ، یعنی سلوک خاص کا مستحق ہوگا ، اس میں اور کفر و سلوک خاص کا مستحق ہوگا ، اس میں اور کفر وطاغوت میں تبائن ہوگا ، اس کے خلود و برتری کا مقابلہ نہ ہو سکے گا ، اور وہ شان سے جلال آلہی کا اظہار کرے گا ،

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

29 اے ایمان لانے والو ! اگر تم تقویٰ اختیار کروگے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہوگے تو وہ تم کو تمہارے مخالفوں کے مقابلہ میں ایک خاص امتیاز عطا فرمائے گا اور تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تمہارے گناہ تم سے زائل کردے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔ امتیاز جس سے حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے گا دنیا میں غلبہ اور آخرت میں دائمی نعمتیں ! تمہارے دشمنوں کو ذلیل اور ہلاک کردے گا تم غالب ہوگے اور تمہارا دشمن مقہور ہوگا یہ تو دنیا میں ہوگا اور آخرت تو ظاہر ہی ہے کہ اہل تقویٰ نعمتوں میں ہوں گے اور ان کے دشمن عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ وامتازط الیو ایھا المجرمون۔ حضرت شاہ صاحب (رح)…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تم اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ ایک قوت پیدا کردے گا جو ہق و باطل کا فرق سمجھا دے : 40: تقویٰ کیا ہے ؟ اور تقویٰ کا نتیجہ کیا ؟ تقویٰ سارے اسلامی احکام کی غایت ہے اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی تمام تعلیمات کا خلاصہ ہم صرف ایک لفظ میں بیان کرنا چاہیں تو ہم اس لفظ تقویٰ سے ادا کرسکتے ہیں۔ اس لام کی ہر تعلیم کا مقصد اپنے ہر عمل کے قالب میں اس تقویٰ کی روح کو پیدا کرنا ہے۔ قرآن کریم نے اپنی دوسری ہی سورت یعنی سورة البقرہ کی دوسری ہی آیت میں اعلان کیا ہے کہ اس کی تعلیم سے وہی فائدہ حاصل کرسکتے ہیں جو تقویٰ والے ہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو عوۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ 2 کی آیت 2۔ اس جگہ تقویٰ کا صلہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The previous verse mentioned property and children as being a trial for mortal man because these are things the concern and love for which make one so overtaken that one would usually turn heedless towards Allah, the Creator and 'Akhirah, the life-to-come - though, the rational demand of this great blessing was that one should have shown a far pronounced tilt towards Him because of this favour. The first verse out of those quoted above completes this very subject. Here, it is said that the person who keeps his emotion subservient to his reason, remains steadfast in this trial and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

24. 'Criterion' signifies that which enables one to distinguish between true and false; between real and fake. This is the shade of meaning conveyed by the Qur'anic term 'furqan'. If a man is God-fearing and tries his best to refrain from acts which displease God, God will create in him the ability to discern for himself at every step which actions are proper and which are not; which attitude conduces to God's good pleasure and which is likely to incur His wrath. This inner light will serve as a pointer at every turn and crossing, at every up and down in life, guiding him as to when he should…

Read the full tafseer →