دنیا و آخرت کی سعادت مندی
فرقان سے مراد نجات ہے دنیوی بھی اور اخروی بھی اور فتح و نصرت غلبہ و امتیاز بھی مراد ہے جس سے حق و باطل میں تمیز ہوجائے۔ بات یہی ہے کہ جو اللہ کی فرمانبرداری کرے، نافرمانی سے بچے اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔ جو حق و باطل میں تمیز کرلیتا ہے، دنیاو آخرت کی سعادت مندی حاصل کرلیتا ہے اس کے گناہ مٹ جاتے ہیں لوگوں سے پوشیدہ کروئے جات یہیں اور اللہ کی طرف سے اجر وثواب کا وہ کامل مستحق ٹھہر جاتا ہے۔ جیسے فرمان عالی شان ہے یایھا الزین امنو اتقواللہ وامنو ابر سولہ یوتکم کفلین من رحمتہ ویجعل لکم نورا تمشون بہ و یغفر لکم واللہ غفور الرحیم یعنی اے مسلمانو ! اللہ کا ڈر دلوں میں رکھو۔ اس…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْفَال 24
کسوٹی اس چیز کو کہتے ہیں جو کھرے اور کھوٹے کے امتیاز کو نمایاں کرتی ہے۔ یہی مفہوم ”فرقان“ کا بھی ہے اسی لیے ہم نے اس کا ترجمہ اس لفظ سے کیا ہے۔ ارشاد الہٰی کا منشا یہ ہے کہ اگر تم دنیا میں اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو تو تمہاری دلی خواہش یہ ہو کہ تم سے کوئی ایسی حرکت سر زد نہ ہونے پائے جو رضائے الہٰی کے خلاف ہو، تو اللہ تعالیٰ تمہارے اندر وہ قوت تمیز پیدا کردے گا جس سے قدم قدم پر تمہیں خود یہ معلوم ہوتا رہے گا کہ کونسا رویہ صحیح ہے اور کونسا غلط، کس رویہ میں خدا کی رضا ہے اور کس میں اس کی ناراضی۔ زندگی کے ہر موڑ، ہر دورا ہے، ہر نشیب اور ہر فراز پر تمہاری اندرونی بصیرت تمہیں…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اور) اے ایمان والو (اطاعت کی اور برکات سنو وہ یہ کہ) اگر تم اللہ سے ڈر (کر اطاعت کرتے) رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا (اس میں ہدایت اور نور قلب جس سے حق و باطل میں علمی فیصلہ ہوتا ہے اور غلبہ علی الاعداء اور نجات آخرت جس سے حق و باطل میں عملی فیصلہ ہوتا ہے سب آگیا) اور تم سے تمہارے گناہ دور کردے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے (خدا جانے اپنے فضل سے اور کیا کیا دے دے جو قیاس و گمان میں بھی نہ آتا ہو) اور (اے محمد ﷺ مسلمانوں کے سامنے تذکیر نعمت کے لئے) اس واقعہ کا بھی ذکر کیجئے جب کہ کافر لوگ آپ کی نسبت (بری بری) تدبیریں سوچ رہے تھے کہ (آیا) آپ…
Read the full tafseer →آیات 29 تا 40 کا مضمون : آگے پہلے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی فرمائی کہ اگر تم اللہ کے عہد و پیمان پر مضبوطی سے قائم رہے۔ مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر تم نے کمزوری نہ دکھائی تو جلد وہ وقت آجائے گا کہ وہ تمہارے لیے فرقان نمایاں کرے گا اور وہ سارے حجابات چاک ہوجائیں گے جو آج حق کے پوری طرح نمایاں ہونے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد اپنی اس بہترین تدبیر کی طرف اشارہ فرمایا جو اس نے اپنے رسول کو کفار کی متفقہ سازش سے بچانے اور اس کے لیے ہجرت کی راہ کھولنے کے لیے اختیار فرمائی۔ یہ ہجرت غلبہ اسلام کا دیباچہ اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کی تمہید ہوئی۔ اب تک کفار قرآن کے انذار کا مذاق اڑا رہے…
Read the full tafseer →29۔ 1 تقویٰ کا مطلب ہے، اوامر الٰہی کی مخالفت اور اس کی مناہی کے ارتکاب سے بچنا اور فرقان کے کئی معنی بیان کئے گئے ہیں مثلاً ایسی چیز جس سے حق و باطل کے درمیان فرق کیا جاسکے۔ مطلب یہ ہے کہ تقویٰ کی بدولت دل مضبوط، بصیرت تیزتر اور ہدایت کا راستہ واضح تر ہوجاتا ہے، جس سے انسان کو ہر ایسے موقعے پر، جب عام انسان شک و شبہ کی وادیوں میں بھٹک رہے ہوں، صراط مستقیم کی توفیق مل جاتی ہے۔ علاوہ ازیں فتح اور نصرت اور نجات و مخرج بھی اس کے معنی کئے گئے ہیں۔ اور سارے ہی مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ تقویٰ سے یقینا یہ سارے ہی فوائد حاصل ہوتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ کفر، مغفرت گناہ اور فضل عظیم بھی حاصل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →17: تقوی کی یہ خاصیت ہے کہ وہ انسان کو ایسی سمجھ عطا کردیتا ہے جو حق اور ناحق میں تمیز کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور گناہ کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کی عقل خراب کردیتا ہے جس سے وہ اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگتا ہے
Read the full tafseer →اب اہل ایمان کے نام یہ آخری پکار ہے اور اس سبق کے آخیر میں ہے۔ یہ پکار اس خاطر ہے کہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔ اس لیے کہ اس عظیم ذمہ داری کا حق صرف وہ لوگ ادا کرسکتے ہیں جن کے اندر نور تقویٰ ہو اور اس کے ذریعے وہ شیطانی شبہات اور وسوسوں کا مقابلہ کرسکیں اور اس راہ پر ان کے قدم مضبوط ہوں اور ان کو یہ فکر یکسوئی تب ہی نصیب ہوسکتی ہے جب وہ تقوی کے ذریعے حاصل کردہ ربانی نورانیت اور روشنی کو کام میں لائیں۔
یہ ہے زاد راہ اور حقیقی سامان سفر۔ زاد تقوی جو دلوں کو زندہ کرتا ہے ان کو بیدار کرتا ہے اور ان کے اندر ولولہ پیدا کرتا ہے۔ نیز اس کی وجہ سے دلوں کے اندر احتیاط اور بیداری پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ…
Read the full tafseer →1 یعنی اگر خدا سے ڈر کر راہ تقویٰ اختیار کرو گے تو خدا تم میں اور تمہارے مخالفوں میں فیصلہ کر دے گا۔ دنیا میں بھی، کہ تم کو عزت دے گا اور ان کو ذلیل یا ہلاک کرے گا جیسے بدر میں کیا اور آخرت میں بھی، کہ تم نعیم دائم میں رہو گے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا۔ (وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ ) 36 ۔ یس :59) (هٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَالْاَوَّلِيْنَ ) 77 ۔ المرسلات :38) دوسری بات یہ ہے کہ تقویٰ کی برکت سے حق تعالیٰ تمہارے دل میں ایک نور ڈال دے گا جس سے تم ذوقاً و وجداناً حق و باطل اور نیک و بد کا فیصلہ کرسکو گے۔ اس کے علاوہ ایک بات حضرت شاہ صاحب نے لکھی ہے کہ " شاید فتح…
Read the full tafseer →آیت 29 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا
اگر تم تقویٰ کی روش اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یکے بعد دیگرے تمہارے لیے فرقان آتا رہے گا۔ جیسے پہلا فرقان غزوۂ بدر میں تمہاری فتح کی صورت میں آگیا۔
Read the full tafseer →30 تقویٰ کے ثمرات :۔ یعنی اگر تم اس بات سے ڈرتے رہے کہ تم سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جو اللہ کی رضا کے خلاف ہو تو اللہ تمہارے اندر ایسا نور بصیرت یا قوت تمیز پیدا کر دے گا جو زندگی کے ہر موڑ پر تمہاری رہنمائی کرے گا کہ فلاں کام اللہ کی رضا کے مطابق ہے اور فلاں اس کی مرضی کے خلاف ہے یعنی جو لوگ ایمان لانے کے بعد تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں تین قسم کے انعامات سے نوازتا ہے۔ ایک تو ان میں حق و باطل میں تمیز کرنے کی بصیرت پیدا ہوجاتی ہے۔ دوسرے ان کی برائیوں کو مٹا دیا جاتا ہے اور تیسرے ان کے اکثر و بیشتر گناہ معاف ہی کردیئے جاتے ہیں اور تقویٰ کے یہ ثمرات محض تقویٰ کی بنا پر نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →42 ۔ (اور اس بڑے داتا کی ساری بخششیں اور نعمتیں تمہارے وہم و گمان میں بھی کب آسکتی ہیں) (آیت) ” ان تتقوا اللہ “۔ اور اس تقوی و خشیت الہی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ طاعت و اطاعت میں لگے رہو گے۔ (آیت) ” فرقانا “۔ فرقان کی تشریح اہل تفسیر نے اپنے اپنے مذاق کے مطابق کی ہے۔ لیکن بہتر ہوگا کہ لفظ ان سب مفہوموں کا جامع سمجھا جائے اور ہدایت اور نور قلب جس سے حق و باطل میں فیصلہ ہوجائے اور غلبہ علی الاعداء اور نجات آخرت جس سے حق و باطل میں عملی فیصلہ ہوجائے سب کو شامل رہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 29 تا 37
اور حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر کی توبہ کی قبولیت کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی
ترجمہ : اے ایمان والو ! اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو تمہارے اور اس چیز کے درمیان جس سے تم خوف رکھتے ہو ایک فیصلے کی چیز عطا کرے گا تو تم نجات پاؤ گے، اور تم سے تمہارے گناہ دور کردے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اللہ بڑے فضل والا ہے اور اے محمد وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کافر تمہارے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے اور آپ کے بارے میں مشورہ کے لئے دارالندوہ میں جمع ہوئے تھے، تاکہ تمہیں قید کریں، یعنی آپ کو باندھ لیں اور محبوس کرلیں، یا سب مل کر آپ کو قتل کردیں یعنی متحد ہو کر ایک…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا اے ایمان والو ! اگر تم ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تم کو ایک فیصلہ کی چیز عنایت کر دے گا۔ یعنی ایک بصیرت قلبی عطا فرمائے گا جس سے تم حق و باطل میں تمیز کرلو گے۔
فراست مؤمن کا لفظ جو حدیث میں آیا ہے ‘ اس سے یہی قلبی بصیرت مراد ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا : مؤمن کی فراست سے ڈرو ‘ وہ اللہ کے نور یعنی خداداد نور بصیرت سے دیکھتا ہے۔ رواہ البخاری فی التاریخ والترمذی عن ابی سعید الخدری والطبرانی وابن عدی عن ابی امامۃ وابن جریر عن ابن عمر۔ دوسری حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : خواہ مفتی تجھے فتویٰ دے چکے ہوں (مگر تو پھر بھی) اپنے دل سے فتویٰ طلب…
Read the full tafseer →(29) اگر تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تقاضے پورے کرتے رہو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور نجات عطا فرمائے گا اور تمہارے تمام صغیرہ گناہوں کو معاف فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مغفرت اور جنت کے ذریعے بڑا فضل فرمانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا : مال اور اولاد کی آزمائش سے خبردار کرنے کے بعد اب تقویٰ کی تعلیم دی ہے اور اس کے فوائد بیان کیے ہیں، تقویٰ کا مادہ ”و ق ی“ ہے اور یہ اسم مصدر ہے۔ ”تَتَّقُوا“ باب افتعال سے ہے، اس کا معنی بچنا ہے، آدمی اسی چیز سے بچتا ہے جس سے ڈرتا ہو، اس لیے اس کا معنی ڈرنا بھی کرلیا جاتا ہے۔ ”فَرْقٌ“ اور ”فُرْقَانٌ“ مصدر ہیں، دونوں کا ایک ہی معنی ہے، مگر ”فُرْقَانًا“ کے حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی اگر تم ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی نافرمانی سے بچتے رہو گے، خواہ کوئی دوسرا تمہارے پاس ہو یا نہ ہو تو تمہیں چار نعمتیں عطا ہوں…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 29
تقوی کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے بارے جانتا ہے کہ وہ تقوی اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔ اسے لفظ شرط کے ستھ ذکر کیا ہے، کیونکہ اس نے بندوں کو ایسے انداز میں خطاب کیا ہے جیسے وہ آپس میں ایک دوسرے کو خطاب کرتے ہیں۔ اور جب بندہ اپنے رب سے ڈرنے لگے اور یہ اس کے اوامر کو بجا لانے اور اس کی نواہی سے اجتناب کرنے سے، محرمات میں واقع ہونے کے خوف سے شبہات کو ترک کرنے، اور اپنے دل کو خاص نیت کے ساتھ بھرنے سے، اور اپنے جوارح کو اعمال صالحہ میں مشغول رکھنے اور اعمال میں غیر اللہ کی رعایت کے سبب شرک خفی اور ظاہر کی آمیزش سے محفوظ رہنے، اور مال سے باز رہنے کے سبب دنیا کی طرف میلان…
Read the full tafseer →1۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یجعل لکم فرقانا “ سے مراد ہے نجات۔
2:۔ ابن جریر نے عکرمۃ (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا۔
3:۔ ابن ابی حاتم ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یجعل لکم فرقانا “ سے مراد مدد اور نصرت ہے۔
4:۔ ابن ابی شیبہ عبد بن حمید، ابن منذر وابوالشیخ نے مجاہد سے روایت کیا کہ (آیت) ” یجعل لکم فرقانا “ سے مراد ہے دنیا اور آخرت میں نکلنے کا راستہ۔
Read the full tafseer →[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [ اِنْ : اگر ] [ تَتَّقُوا : تم لوگ تقوی کروگے ] [ اللّٰهَ : اللہ کا ] [ يَجْعَلْ : تو وہ بنا دے گا ] [ لَّكُمْ : تمہارے لیے ] [ فُرْقَانًا : ایک واضح فرق کرنے والا ] [ وَّيُكَفِّرْ : اور وہ دور کردے گا ] [ عَنْكُمْ : تم سے ] [ سَيِّاٰتِكُمْ : تمہاری برائیوں کو ] [ وَيَغْفِرْ : اور وہ معاف کردے گا ] [ لَكُمْ ۭ : تم کو ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ : عظیم فضل والا ہے ]
Read the full tafseer →تقویٰ پر انعام :
دوسری آیت میں فرمایا کہ اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں فیصلہ والی چیز عطا فرما دے گا اور گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور تمہاری بخشش فرما دے گا۔ ” فیصلہ والی چیز “ سے کیا مراد ہے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے متعدد اقوال لکھے ہیں۔ بعض حضرات
نے فرمایا ہے کہ اس سے ہدایت اور دلوں کا وہ نور مراد ہے جس کے ذریعہ حق اور باطل کے درمیان فرق کرسکیں گے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ شانہٗ کی مدد مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنین کی ایسی مدد فرمائے گا جس کی وجہ سے مومنین کو عزت دے گا اور کافروں کو ذلیل کرے گا اور بعض حضرات نے یوں فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
ترغیب بر اطاعت وامانت وترہیب از معصیت وخیانت و زجر دوستاں
از مشابہت دشمناں
قال اللہ تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ ذوالفضل العظیم
(ربط) گذشتہ آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اب ان آیات میں اہل ایمان کو ہدایت فرماتے ہیں کہ حق جل شانہ کی معیت اور نصرت اور حمایت کا دارومدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے اگر تم اللہ کی معیت اور اس کی نصرت کے طلبگار ہو تو اس کی دو شرطیں ہیں۔ اول تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی دل وجان سے ایسی اطاعت کرو جس میں خیانت کا شائبہ نہ ہو اس لیے کہ خیانت اطاعت کاملہ میں مخل ہے۔ دوم یہ کہ اہل ایمان پر لازم ہے…
Read the full tafseer →31: پانچواں قانون جہاد :“ فُرْقَانًا ” سے فتح و نصرت مراد ہے۔ یعنی اگر تم اللہ سے ڈرو گے اور اس کے احکام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں فتح و نصرت عطا کرے گا تمہیں عزت دے کر اور مشرکین کو ذلیل و رسوا کر کے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کردے گے۔ اور تمہارے تمام گناہ معاف کر کے تمہیں اپنی بخشش و رحمت اور فضل سے نوازے گا۔ “ نصرًا بین المحق و المبطل باعزاز المٓومنین و اذلال الکٰفرین کما قال الفراء ” (روح ج 9 ص 196) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ربط آیات :
یہ سورة اور اگلی سورة توبہ دونوں جہاد کے سلسلے سے تعلق رکھتی ہیں ان سورتوں میں اللہ نے دشمن کے مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے کے اصول بیان فرمائے ہیں سب سے پہلا اصول ثابت قدمی تھا کہ جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوجائے تو پھر میدانِ جنگ سے بھاگنے کی کوشش نہ کرو بلکہ ثابت قدم رہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قانون مقرر کردیا کہ دشمن اگر تعداد میں دگنے بھی ہوں تو ان کے خوف سے بھاگنے کی اجازت نہیں ہے جو شخص پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گا وہ اکبرالکبائر کا مرتکب ہو کر جہنم کا مستحق ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جنگ کا دوسرا اصول یہ بیان فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو لازم پکڑو اور اس سے روگردانی نہ کرو اللہ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللہَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَـيِّاٰتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ 0 ۭ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 29
تقوي
والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35]
التقویٰ
اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ […
Read the full tafseer →1 ؎ فرقان سے اس جگہ مراد یوم بدر ہے چونکہ یوم بدر کو یوم فرقان بھی کہتے ہیں۔ 12 حقانی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوْا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا وَیُکَفِّرْعَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ط وَاللّٰہُ ذُوْالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ ( الانفال : 29 )
(اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو تو وہ تمہیں کسوٹی عطا کرے گا اور تم سے تمہاری برائیاں جھاڑ دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ )
گزشتہ رکوع کی آخری دو آیات میں دونصیحتیں فرمائی گئی ہیں اور پھر تمام برائیوں اور بیماریوں کا حقیقی سبب بتایا گیا ہے جس کی وجہ سے اکثر اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں جو بالآخر عقیدے کی خرابی پر منتج ہوتے ہیں۔ جو دو نصیحتیں فرمائی گئی ہیں ان میں سے پہلی یہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کو ہدایات کا سلسلہ جاری ہے۔ مال اور اولاد کے فتنہ سے بچنے کا موثر طریقہ یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے۔
تقویٰ کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی گناہوں سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرے اور شریعت کے ضابطوں پر عمل پیرا رہے۔ یہی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا مقصد ہے۔ جو مسلمان جلوت اور خلوت میں اللہ تعالیٰ سے تقویٰ اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ کو اس کے لیے فرقان بنا دے گا۔ فرقان قرآن مجید کا اسم مبارک ہے اور معجزہ کو بھی فرقان کہا گیا ہے اس کا معنیٰ ہے حق اور باطل، سچ اور جھوٹ، غلط اور صحیح کے درمیان امتیاز کردینے والا۔ جب کوئی مسلمان صرف اپنے رب کی رضا کی…
Read the full tafseer →تقویٰ سے حق و باطل کی پہچان رہے گی :
آیت 29: یٰٓاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا (اے ایمان والو اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دیگا) مدد۔ نمبر 1۔ کیونکہ وہ حق و باطل میں فرق کرنے والی ہے۔ باطل پرستوں کو ذلیل کر کے اور اہل اسلام کو عزت دیکر۔ نمبر 2۔ وضاحت اور ظہور ہے جس سے تمہارا معاملہ مشہور ہوجائے گا۔ اور تمہاری شہرت اور آثار زمین کے اطراف میں پھیل جائیں گے۔ جیسا کہا جاتا ہے۔ سطع الفرقان جبکہ فجر طلوع ہو نمبر 3۔ شبہات سے نکلنے کی راہ اور شرح صدر نمبر 3۔ تمہارے اور غیر مسلموں کے درمیان جدائی اور دنیا و…
Read the full tafseer →(29) (یایھا الذین امنوا ان تتقوا اللہ) اس کی اطاعت کر کے اور نافرمانی چھوڑ کے (یجمل لکم فرقانا) دنیا اور آخرت میں نکلنے کا ذریعہ اور مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں کہ دین میں شبہات سے نکلنے کا ذریعہ ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کہ اس کے ذریعے تمہارے حق کو غالب کر دے گا اور تمہارے مخالف کے باطل کو بجھا دے گا۔ فرقان رجحان اور نقصان کی طرح مصدر ہے (ویکفرعنکم سیاتکم ویغفرلکم ط واللہ ذوالفضل العظیم)
Read the full tafseer →29۔ اس سے پہلے اللہ پاک نے مومنوں کو مال اور اولاد میں مشغول ہو کر فتنہ میں پڑجانے سے منع فرما کر اس آیت میں تقویٰ کا حکم دیا تقوی کے معنے مفسروں نے یہ بیان کئے ہیں کہ جو حکم خدا اور اس کے رسول کا پہنچ گیا ہے اس کو بسرو چشم مان کر اس کے مطابق عمل کرنا اور جن باتوں سے منع گیا گیا ہے ان سے بچنا اس لئے فرمایا کہ اگر تم تقوی اختیار کرو گے تو تمہارے دلوں میں ہدایت ڈال دی جائے گی جس سے تم حق و ناحق میں تمیز کرلو گے اور تمہارے چھوٹے گناہ مٹادئے جائیں گے اور ہر بڑے گناہ تمہارے بخش دئے جائیں گے اور بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے۔ یکفر عکم سیئاتکم سے وہ گناہ مراد ہیں جو کئے جا چکے ہی ان کو مٹا دیں گے اور…
Read the full tafseer →آیت 29
بندے کا اپنے رب سے تقویٰ اختیار کرنا سعادت کا عنوان اور فلاح کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کی بہت سی بھلائیوں کا دار وم دار تقویٰ پر رکھا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمایا ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرتا ہے اسے چار چیزیں عطا ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر چیز دنیا ومافیہا سے کہیں بہتر ہے۔
(1) اللہ تعالیٰ صاحب تقویٰ مومن کو ’ دفرقان ‘ عطا کرتا ہے۔ فرقان سے مراد علم و ہدیات ہے جس کے ذریعے سے وہ ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل، حلال اور حرام، خوش بخت اور بدبخت لوگوں کے درمیان امتیاز کرتا ہے۔
(2، 3) برائیوں کو مٹانا اور گناہوں کو بخش دینا۔ اطلاق اور اجتماع کے وقت یہ دونوں امور ایک دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
فتنہ کا مفہوم
قول باری ہے واتقوافتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ۔ اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف ان ہی لوگوں تک محدود رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو) الفتنۃ کی تفسیر میں کئی اقوال منقول ہیں۔ حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ اس کے معنی وہی ہیں جو اس آیت انما اموالکم والولادکم فتنۃ۔ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں) میں موجود لفظ فتنہ کے ہیں حسن کا قول ہے کہ فتنہ وبال اور آفت کو کہتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد عذاب ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ اس شادمانی کا نام ہے جس کے تحت لوگ مست ہو کر ظلم ڈھانے پر اتر آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →49 تقویٰ و پرہیزگاری وسیلہ سعادت و سرفرازی : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ ڈرتے رہے اللہ سے اور بچتے رہے اس کی ناراضی اور پکڑ سے تو وہ تمہیں ایک عظیم الشان قوت فرق وتمیز سے نوازے گا۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو تقویٰ تم کو اللہ تعالیٰ فرقان سے نوازے گا۔ یعنی ہدایت اور باطن کے اس نور سے جس کے ذریعے حق و باطل کو پہچاننا اور صحیح و غلط کے درمیان فرق وتمیز کرنا تم کو آسان ہوجائے گا۔ (معارف، صفوۃ وغیرہ) ۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ پس تم لوگ ہمیشہ اسی کی فکر و کوشش میں رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
ماضی کی یاد سے مستقبل سنوارنا اور تقو ٰ ی کے فوائد
تشریح : جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ قرآن مجید ہدایت کی آخری کتاب اور انسان کے لیے قانون زندگی ہے ان آیات میں بھی چند ایسے اچھے اصول بتائے گئے ہیں جو کردار کو مضبوط کرتے ہیں اور نجات کا ذریعہ بنتے ہیں اس زندگی میں رحمت، برکت، آسائش و آرام کا ذریعہ بنتے ہیں۔
-1 فتنہ سے بچو اس میں ہر قسم کی برائی شامل ہے۔ خود بچو اگر غلطی ہوجائے تو چپکے سے اللہ سے معافی مانگ لو، گناہ کی تشہیر نہ کرو۔
-2 پھر نیکی کرو، برائی سے منع کرو، کیونکہ برائی جب پھیلنا شروع ہوتی ہے تو پھر اس کے برے اثرات ہر جگہ پھیلتے ہیں پھر جب اس برائی کی وجہ سے اللہ کا عذاب آتا ہے تو سب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–37
آیات 29 تا 37
اسرار و معارف
تقوی کے ثمرات
اطاعت نبوی سے ایک دلی نسبت اور قلبی کیفیت نصیب ہوتی ہے جو تقوی کہلاتی ہے اور یہ کیفیت گناہ اور نافرمانی سے مانع بن جاتی ہے لہٰذا اگر تم اطاعت اور تقوی ہی کو شعاربنالوتو اس کی مزید برکات بھی سن لو کہ تمہیں فرقان یعنی ایسی طاقت جو حق و باطل میں حق کو غالب کرکے فیصلہ کردے سب پر عیاں ہوجائے نصیب ہوگی ظاہر ہے یہ نصرت الہیہ ہی ہوسکتی ہے اس کا اظہاریوم بدرہواتو اسے یوم الفرقان کہا جاتا ہے نیز اگر خلوص دل سے اطاعت الٰہی کو شعاربنالیاجائے تو ایسے لوگوں کی مجلس بھی نصیب ہوتی ہے جن کی محفل میں انعکاسی طور پر قلبی نور اور بصیرت نصیب ہوکر گناہ سے مانع اور حق پر…
Read the full tafseer →ف 1 مال واولاد کے فتنہ ڈارنے کے بعد اب تقوی کی تعلیم دی، یہاں فرقانا سے مراد تو یہ ہے کہ تمہارے اہل و عیال اور اموال جو مکہ کافروں کے قبض میں ہیں ان کے بچاؤ کی صورت نکال دے گا ی اتمہارے اند نور بصریت پیدا کردے گا۔ جس سے تم زندگی کے ہر موڑ اور ہر نشیب و فراز پر معلوم کرسکو گے کہ کونسی چیز حق ہے اور کونسی باطل ؟ فر قان کے راہ نجات اور نور بصیرت دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ ( ابن کثیر، کبیر )
Read the full tafseer →(8:29) یجعل لکم۔ یجعل مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ پیدا کرے گا تمہارے لئے۔ مہیا کریگا تمہیں۔
فرقانا۔ فرقان کے لفظی معنی فرق کرنے والی چیز کے ہیں۔ مفسرین نے اس جگہ متعدد معانی لئے ہیں :۔
(1) نورو توفیق۔ جو حق و باطل کو الگ الگ کرتا ہے۔
(2) فتح۔ جو حق کو باطل سے اور کفر کو اسلام سے۔ یقین کو شبہات سے نتیجۃ الگ الگ کردیتی ہے۔
(3) وہ چیز جو تمہارے تمام ڈر دور کر دے گی۔ ما یفرق بینکم وبین ما تخافون جو تمہارے اور جس سے تم ڈرتے ہو اس کے درمیان فرق کردے۔
(4) ایسے معجزات کہ جن سے تمہیں دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل ہوگا۔ اور تمہاری شہرت ہوگی۔
یکفر۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ دور کردیگا۔ زائل کر دیگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
آیات : 27 تا 29
لغات القرآن۔
لا تخونوا۔ خیانت نہ کرو۔ فتنۃ ۔ آزمائش۔ فرقان۔ حق و باطل کے درمیان فرق کرنیو الا۔
تشریح : اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے ایمان والو ! یہ جسم و جاں مال و اسباب یہ بال بچے۔ یہ علم و عقل یہ صحت و فراغت یہ اقتدار اختیار اپنے اور پرائے غرضیکہ جو کچھ بھی اور جتنا بھی تمہارے پاس ہے سب اللہ کی امانت ہے۔ تم صرف ایک امانت دار ہوں ان چیزوں کو اسی طرح استعمال کرو جس طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے تمہیں استعمال کرنے کا حکم دیا ہے۔
ان کو استعمال کرنے کا وقت بارہ مہینے اور گھنٹوں میں چوبیس گھنٹے ہیں ہوش پانے سے ہوش کھونے تک ہے۔ جو خیانت کرنے والے…
Read the full tafseer →اللہ اور اس کے رسول کا حکم
اس آیت میں مسلمانوں سے ارشاد ہوتا ہے کہ جو حکم خدا اور اس کے رسول کا پہنچ گیا ہے اس کو بسروچشم مان کر اس کے مطابق عمل کروگے اور جن باتوں سے منع کیا گیا ہے اس سے بچو گے تو تمہارے دلوں میں ہدایت ڈال دی جائے گی۔ جس سے تم حق وناحق میں تمیز کرلوگے اور تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دئے جائیں گے۔ پھر فرمایا کہ گناہوں کے بخشنے کا جو وعدہ تم سے ہوا ہے یہ محض خدا کا فضل ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
[10] مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے۔ اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ پورے کرتا ہے تو اس آزمائش میں کامیاب ہے ' بصورت دیگر ناکام۔
Read the full tafseer →مومن کا امتیاز :
(ف 1) مومن کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے وعدہ ہے کہ اگر اس کے دل میں اللہ کا ڈر ہو اور وہ سچے دل سے اسلام کے احکام کا احترام کرتا ہو ، تو دنیا میں اس کی زندگی خاص امتیاز سے بسر ہوگی وہ فرقان ، یعنی سلوک خاص کا مستحق ہوگا ، اس میں اور کفر و سلوک خاص کا مستحق ہوگا ، اس میں اور کفر وطاغوت میں تبائن ہوگا ، اس کے خلود و برتری کا مقابلہ نہ ہو سکے گا ، اور وہ شان سے جلال آلہی کا اظہار کرے گا ،
Read the full tafseer →29 اے ایمان لانے والو ! اگر تم تقویٰ اختیار کروگے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہوگے تو وہ تم کو تمہارے مخالفوں کے مقابلہ میں ایک خاص امتیاز عطا فرمائے گا اور تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تمہارے گناہ تم سے زائل کردے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔
امتیاز جس سے حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے گا دنیا میں غلبہ اور آخرت میں دائمی نعمتیں ! تمہارے دشمنوں کو ذلیل اور ہلاک کردے گا تم غالب ہوگے اور تمہارا دشمن مقہور ہوگا یہ تو دنیا میں ہوگا اور آخرت تو ظاہر ہی ہے کہ اہل تقویٰ نعمتوں میں ہوں گے اور ان کے دشمن عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ وامتازط الیو ایھا المجرمون۔
حضرت شاہ صاحب (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
ف 1۔ یعنی قبل ہجرت۔
2۔ یعنی مکہ۔
Read the full tafseer →تم اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ ایک قوت پیدا کردے گا جو ہق و باطل کا فرق سمجھا دے :
40: تقویٰ کیا ہے ؟ اور تقویٰ کا نتیجہ کیا ؟ تقویٰ سارے اسلامی احکام کی غایت ہے اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی تمام تعلیمات کا خلاصہ ہم صرف ایک لفظ میں بیان کرنا چاہیں تو ہم اس لفظ تقویٰ سے ادا کرسکتے ہیں۔ اس لام کی ہر تعلیم کا مقصد اپنے ہر عمل کے قالب میں اس تقویٰ کی روح کو پیدا کرنا ہے۔ قرآن کریم نے اپنی دوسری ہی سورت یعنی سورة البقرہ کی دوسری ہی آیت میں اعلان کیا ہے کہ اس کی تعلیم سے وہی فائدہ حاصل کرسکتے ہیں جو تقویٰ والے ہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو عوۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ 2 کی آیت 2۔ اس جگہ تقویٰ کا صلہ…
Read the full tafseer →Commentary
The previous verse mentioned property and children as being a trial for mortal man because these are things the concern and love for which make one so overtaken that one would usually turn heedless towards Allah, the Creator and 'Akhirah, the life-to-come - though, the rational demand of this great blessing was that one should have shown a far pronounced tilt towards Him because of this favour.
The first verse out of those quoted above completes this very subject. Here, it is said that the person who keeps his emotion subservient to his reason, remains steadfast in this trial and…
Read the full tafseer →24. 'Criterion' signifies that which enables one to distinguish between true and false; between real and fake. This is the shade of meaning conveyed by the Qur'anic term 'furqan'. If a man is God-fearing and tries his best to refrain from acts which displease God, God will create in him the ability to discern for himself at every step which actions are proper and which are not; which attitude conduces to God's good pleasure and which is likely to incur His wrath. This inner light will serve as a pointer at every turn and crossing, at every up and down in life, guiding him as to when he should…
Read the full tafseer →