Explained with ayahs 27–28
اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو
کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر ؓ کے بارے میں اتری ہے۔ انہیں آنحضرت ﷺ نے بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس بھیجا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کی شرط کے ماننے پر قلعہ خالی کردیں ان یہودیوں نے آپ ہی سے مشورہ دریافت کیا تو آپ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر انہیں بتادیا کہ حضور کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہوگا۔ اب حضرت ابو لبابہ ؓ بہت ہی نادم ہوئے کہ افسوس میں نے بہت برا کیا اللہ کی اور اس کے رسول کی خیانت کی۔ اسی ندامت کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہو میں کھانے کا ایک لقمہ بھی نہ اٹھاؤں گا چاہے مر ہی جاؤں۔ مسجد نبوی میں آ کر ایک…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْفَال 22
”اپنی امانتوں“ سے مراد وہ تمام ذمہ داریاں ہیں جو کسی پر اعتبار (Trust) کر کے اس کے سپرد کی جائیں، خواہ وہ عہد وفا کی ذمہ داریاں ہوں، یا اجتماعی معاہدات کی، یا جماعت کے رازوں کی، یا شخصی و جماعتی اموال کی، یا کسی ایسے عہدہ و منصب کی جو کسی شخص پر بھروسہ کرتے ہوئے جماعت اس کے حوالے کرے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ 88)۔
سورة الْاَنْفَال 23
انسان کے اخلاص ایمانی میں جو چیز بالعموم خلل ڈالتی ہے اور جس کی وجہ سے انسان اکثر منافقت، غداری اور خیانت میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے مالی مفاد اور اپنی اولاد کے مفاد سے اس کی حد سے بڑھی ہوئی دلچسپی ہوتی ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →(آیت) وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۔ یعنی یہ بات سمجھ رکھو کہ تمہارے مال و اولاد تمہارے لئے فتنہ ہیں۔
فتنہ کے معنی امتحان کے بھی آتے ہیں اور عذاب کے بھی اور ایسی چیزوں کو بھی فتنہ کہا جاتا ہے جو عذاب کا سبب بنیں۔ قرآن کریم کی مختلف آیتوں میں ان تینوں معنی کے لئے لفظ فتنہ استعمال ہوا ہے۔ یہاں تنیوں معنی کی گنجائش ہے بعض اوقات مال و اولاد خود بھی انسان کے لئے دنیا ہی میں وبال جان بن جاتے ہیں اور ان کے سبب غفلت و معصیت میں مبتلا ہو کر سبب عذاب بن جانا تو بالکل ظاہر ہے۔ اول یہ کہ مال و اولاد کے ذریعہ تمہارا امتحان لینا…
Read the full tafseer →وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ۔ یہ اصل بیماری کا پتہ دیا ہے کہ جو لوگ خد اور رسول کی محبت و اطاعت میں کمزور ہیں وہ درحقیقت مال و اولاد کی محبت میں گرفتار ہیں۔ مال و اولاد کی محبت جب اس درجہ غالب آجائے کہ آدمی ان کے پیچھے خود اس کے حقوق و فرائض سے جی چرانے لگے جس کے فضل سے مال و اولاد ملے ہیں تو پھر مال و اولاد فتنہ بن جاتے ہیں۔ خدا اور رسول سے بےوفائی ہو یا دوسروں کے حقوق میں خیانت، اگر اس کے اسباب کا سراغ لگایا جائے تو اس کی تہ میں انہی دو چیزوں کی حد سے بڑھی ہوئی محبت نکلے گی۔ اس اعتبار سے یہ نفاق کا سب سے بڑا دروازہ ہیں اور اسی پہلو سے ان کو فتنہ سے تعبیر…
Read the full tafseer →28۔ 1 مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے، یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں ؟ اگر پورے کرتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ اس آزمائش میں کامیاب ہے۔ بصورت دیگر ناکام۔ اس صورت میں یہی مال اور اولاد اس کے لئے عذاب الٰہی کا باعث بن جائیں گے۔
Read the full tafseer →16: مال اور اولاد کی محبت تو انسان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے اور معقول حد تک ہو تو بری بھی نہیں ہے، لیکن آزمائش یہ ہے کہ یہ محبت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پرتو آمادہ نہیں کررہی ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کے ساتھ یہ محبت ہوگی تو نہ صرف جائز بلکہ باعث ثواب ہے ؛ لیکن اگر وہ نافرمانی تک لے جائے تو ایک وبال ہے اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کی اس سے حفاظت فرمائیں، آمین۔
Read the full tafseer →قرآن کریم انسانی حقیقت سے مخاطب ہے۔ کیونکہ خالق کائنات انسان کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اسے اس کی ظاہری اور باطنی صلاحیتوں اور کمزوریوں کا علم ہے۔ وہ اس راہ کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہے۔
وہ اس مخلوق کے کمزور پہلوؤں سے بھی واقف ہے اور وہ جانتا ہے کہ مال کے لالچ اور اولاد کے مفادات اس کی ذات میں رچے بسے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ انسان کو خبردار کرتا ہے کہ مال و اولاد کی حقیقت کیا ہے۔ اللہ نے انسان کو یہ دو محبوب عطیات اس کی آزمائش کے لیے دیے ہیں۔ یہ دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور آزمائش ہیں۔ اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ بندہ مال اور اولاد میں کس طرح تصرف کرتا ہے۔ آیا شکر ادا کرکے حق نعمت پورا کرتا ہے یا…
Read the full tafseer →7 آدمی اکثر مال و اولاد کی خاطر خدا کی اور بندوں کی چوری کرتا ہے۔ اس لیے متنبہ فرمایا کہ امانتداری کی جو قیمت خدا کے یہاں ہے، وہ یہاں کے مال و اولاد وغیرہ سب چیزوں سے بڑھ کر ہے۔
Read the full tafseer →آیت 28 وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌلا
فتنہ کے معنی آزمائش اور اس کسوٹی کے ہیں جس پر کسی کو پرکھا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے مال اور اولاد انسان کے لیے بہت بڑی آزمائشیں ہیں۔ یقیناً مال اور اولاد ہی انسان کے پاؤں کی سب سے بڑی بیڑیاں ہیں جو اسے نصرت دین کی جدوجہد سے روک کر اس کی عاقبت خراب کرتی ہیں۔ چناچہ وہ اپنی شعوری اور فعال زندگی کے شب و روز مال کمانے ‘ اسے سینت سینت کر رکھنے اور اولاد کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں اس انداز سے کھپا دیتا ہے کہ اس میں اور کو لہو کے بیل میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ اس کے بعد اس کے جسم میں زندگی کی کوئی رمق باقی بچتی ہی نہیں جسے وہ دین کی…
Read the full tafseer →29 مال اور اولاد سے آزمائش :۔ مال اور اولاد ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کا فطری لگاؤ اور محبت ہوتی ہے اور انہیں کے ذریعہ مسلمان کے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے اور یہ آزمائش ایسی پرخطر ہوتی ہے کہ انسان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ آزمائش میں پڑا ہوا ہے۔ سابقہ آیت کی طرح یہ آیت بھی اپنے اندر بڑا وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ پھر ان میں سے مال کا فتنہ اولاد کے فتنہ سے شدید ہوتا ہے۔ جیسا درج ذیل احادیث میں واضح ہے۔
1۔ عمر و بن عوف ؓ سے روایت ہے (جو بنی عامر کے حلیف تھے) کہ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہارے محتاج ہونے سے نہیں ڈرتا۔ بلکہ میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر کشادہ کردی جائے گی جیسے تم سے…
Read the full tafseer →41 ۔ (جس کے آگے ساری دنیوی لذتیں فانی، مصلحتیں ہیچ ہیں) (آیت) ” فتنۃ “۔ یعنی یہ مال واولاد کی محبت ہی ایسی چیز ہے جس سے امتحان ہوتا رہتا ہے۔ کہ کون ان کی محبت میں حد سے گزر کر اللہ اور رسول کے احکام کو بھلا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →وَاعلمو انما اموالکم واولا دکم فتنة، انسان کے اخلاص میں جو چیز عام طور پر خلل ڈالتی ہے اور جس کی وجہ سے انسان اکثر منافقت غداری اور خیانت میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے مالی مفاد اور اپنی اولاد کے مفاد سے اس کی حد سے بڑھی ہوئی دلچسپی ہوتی ہے اسی لئے فرمایا کہ یہ مال اور اولاد جس کی محبت میں گرفتار ہو کر تم عموماً راستی سے ہٹ جاتے ہو دواصل یہ دنیا کی امتحان گاہ میں تمہارے لئے سامان آزمائش ہے جسے تم بیٹا یا بیٹی کہتے ہو حقیقت کی زبان میں امتحان کا ایک پر چہ ہے اور جسے تم جائداد یا کاروبار کہتے ہو وہ بھی درحقیقت ایک دوسرا پر چہ ہے، یہ چیزیں تمہارے حوالہ کی ہی اس لئے گئی ہیں کہ ان کے ذریعہ سے تمہیں…
Read the full tafseer →واعلموا انما اموالکم واولادکم فتنہلا اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہارے امتحان کی چیزیں ہیں۔
فتنکا لغوی معنی ہے سونے کو آگ میں تپا کر کندن بنانا۔ امتحان اور جانچ کو اسی مناسبت سے فتنہ کہا جاتا ہے (کہ امتحان سے کھرا کھوٹا ظاہر ہوجاتا ہے) اللہ نے فرمایا ہے : نَبْلُوْکُمْ بالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً ۔ فتنہ کا لفظ عذاب کیلئے بھی مستعمل ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَکبھی کفر ‘ گناہ ‘ فساد اور تمام اسباب عذاب پر بھی اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : واتقوا فتنۃً - اَلاَنِیْ الْفِتْنَۃِ سَقَطُوا الفتنۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۔ مال و اولاد ‘ گناہ…
Read the full tafseer →(28) اور لبابہ یہ بات بھی یاد رکھو کہ بنی قریظہ میں جو تمہارے اموال واولاد ہیں وہ تمہارے لیے ایک آزمایش ہیں، اور جہاد پر جنت میں بہت بڑا ثواب ہے۔
Read the full tafseer →وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ: مال اور اولاد کی محبت انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش ہے، کیونکہ عام طور پر انھی کے لیے آدمی خیانت اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کا ارتکاب کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَۃٌ مَجْبَنَۃٌ مَجْھَلَۃٌ مَحْزَنَۃٌ)”بیشک بچہ بخل، بزدلی، جہالت اور غم کا باعث ہوتا ہے۔“ [ صحیح الجامع الصغیر : 1990۔ مستدرک حاکم : 3؍296، ح : 5284، عن الأسود بن خلف ] درحقیقت اللہ تعالیٰ آزمانا چاہتا ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو ترجیح دیتا ہے، یا مال اور اولاد کی ایسی محبت کو جس سے خیانت اور احکام الٰہی کی نافرمانی لازم آتی ہو۔…
Read the full tafseer →آیت : 28
قولہ تعالیٰ : آیت : واعلموا انما اموالکم واولادکم فتنہ حضرت ابو لبابہ ؓ کے اموال واولاد بنی قریظہ میں تھے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 260) اور یہی وہ شے تھی جس نے آپ کو ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کرنے پر ابھارا تھا۔ اور یہ اشارہ اسی طرف ہے۔ فتنۃ کا معنی ہے آزمائش، امتحان ( اللہ تعالیٰ نے) انہیں اس کے ساتھ امتحان میں ڈال کیا۔ آیت : وان اللہ عندہ اجر عظیم پس تم اللہ تعالیٰ کے حق کو اپنے حق پر ترجیح دو ( کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس اجر عظیم ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
1۔ ابن جریر، ابن المنذر وابوالشیخ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے بیان فرمایا کہ ابوسفیان مکہ سے نکلا جبرائیل تشریف لائے نبی کریم ﷺ کے پاس اور فرمایا کہ ابوسفیان فلاں فلاں جگہ میں ہے۔ آپ لوگ اس کی طرف نکلیں اور (اپنے نکلنے کو) مخفی رکھو۔ منافقین میں سے ایک آدمی نے ابوسفیان کی طرف لکھا کہ محمد ﷺ تمہارا ارادہ رکھتے ہیں اپنا بچاؤ کرلو۔ تو اللہ تعالیٰ نے اتارا (آیت) ” لا تخونوا اللہ والرسول “ (الایہ)
راز فاش کرنے کی ممانعت :
2:۔ سعید بن منصور اور ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے عبد اللہ بن قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” لا تخونوا اللہ والرسول “ ابولبابہ بن…
Read the full tafseer →[ وَاعْلَمُوْٓا : اور تم لوگ جان لو ] [ اَنَّمَآ : کہ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ اَمْوَالُكُمْ : تمہارے مال ] [ وَاَوْلَادُكُمْ : اور تمہاری اولاد ] [ فِتْنَةٌ ۙ : ایک آزمائش ہیں ] [ وَّاَنَّ : اور یہ کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ عِنْدَهٗٓ : اس کے پاس ہی ] [ اَجْرٌ عَظِيْمٌ : اجر عظیم ہے ]
Read the full tafseer →اموال اور اولاد فتنہ ہیں
یہ دو آیتیں ہیں۔ پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں۔ فتنہ امتحان کی چیز کو کہا جاتا ہے۔ مال اور اولاد کا فتنہ ہونا کئی وجوہ سے ہے۔ مال و اولاد کی مشغولیت اور محبوبیت صحیح طریقہ پر کام نہیں کرنے دیتی، جہاد کی شرکت سے باز رکھتی ہے۔ نماز بھی صحیح طریقہ سے پڑھنے نہیں دیتی، پوری زکوٰۃ ادا کرنے سے بھی نفس انکار کرتا ہے حج فرض ہوجاتا ہے تو برسوں تاخیر کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ بعض لوگ حج فرض ہوتے ہوئے حج کیے بغیر مرجاتے ہیں اور دیگر فرائض و واجبات میں بھی دنیاوی مشاغل رکاوٹیں ڈالتے ہیں اللہ جل شانہٗ نے تنبیہ فرمائی کہ تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں یہ آزمائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
ترغیب بر اطاعت وامانت وترہیب از معصیت وخیانت و زجر دوستاں
از مشابہت دشمناں
قال اللہ تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ ذوالفضل العظیم
(ربط) گذشتہ آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اب ان آیات میں اہل ایمان کو ہدایت فرماتے ہیں کہ حق جل شانہ کی معیت اور نصرت اور حمایت کا دارومدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے اگر تم اللہ کی معیت اور اس کی نصرت کے طلبگار ہو تو اس کی دو شرطیں ہیں۔ اول تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی دل وجان سے ایسی اطاعت کرو جس میں خیانت کا شائبہ نہ ہو اس لیے کہ خیانت اطاعت کاملہ میں مخل ہے۔ دوم یہ کہ اہل ایمان پر لازم ہے…
Read the full tafseer →30: یعنی یہ انفال و غنائم جن میں تم نزاع واختلاف کر رہے ہو وہ تمہارے لیے فتنہ اور آزمائش ہیں۔ “ وَ اَنَّ اللّٰهَ الخ ” یہ “ اَنَّمَا اَمْوَالُکُمْ ” پر معطوف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ربط آیات :
یہ سورة اور اگلی سورة توبہ دونوں جہاد کے سلسلے سے تعلق رکھتی ہیں ان سورتوں میں اللہ نے دشمن کے مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے کے اصول بیان فرمائے ہیں سب سے پہلا اصول ثابت قدمی تھا کہ جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوجائے تو پھر میدانِ جنگ سے بھاگنے کی کوشش نہ کرو بلکہ ثابت قدم رہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قانون مقرر کردیا کہ دشمن اگر تعداد میں دگنے بھی ہوں تو ان کے خوف سے بھاگنے کی اجازت نہیں ہے جو شخص پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گا وہ اکبرالکبائر کا مرتکب ہو کر جہنم کا مستحق ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جنگ کا دوسرا اصول یہ بیان فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو لازم پکڑو اور اس سے روگردانی نہ کرو اللہ…
Read the full tafseer →وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَۃٌ 0 ۙ وَّاَنَّ اللہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ 28 ۧ
ميل
المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا،
( م ی ل ) المیل
اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔
ولد
الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11]
( و ل د ) الولد
۔ جو جنا گیا ہو یہ لفظ واحد جمع مذکر مونث چھوٹے بڑے سب پر بولاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ترکیب : وتخونوا یجوزان یکون مجزوما عطفا علی الفعل الاول اے لاتخونوا امانتکم وان یکون نصباً علی الجواب بالواو وانتم تعلمون جملہ حال ہے فاعل لاتخونوا سے وان اللّٰہ معطوف ہے انما اموالکم پر ‘ معطوف اور معطوف علیہ اعلموا کے مفعول ہیں ان تتقوا شرط یجعل لکم جواب۔
تفسیر : ان آیات میں اپنی نعمت اور مسلمانوں کی پہلی حالت جتلا کر جو اطاعت و توکل پر محرک ہے اللہ اور اس کے رسول کی اور آپس کی خیانت سے منع فرماتا ہے جو باہمی اتفاق اور محبت میں خلل انداز اور اسلام کی جماعت میں خلل پیدا کرنے والی چیز ہے اور خیانت کا باعث بیشتر اولاد اور مال کی محبت ہوتی ہے۔ سو اس کو فتنہ قرار دیتا ہے اور دار آخرت میں اجر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
یٰٓاَیُّھَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَخُوْنُْوْٓا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ لا وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۔ ع (الانفال : 27 تا 28)
(اے ایمان والو ! خیانت نہ کرو اللہ سے اور رسول سے اور خیانت نہ کروآپس کی امانتوں میں، اس حال میں کہ تم جانتے ہو۔ اور جان لو کہ بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں اور بیشک اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ )
شانِ نزول
مفسرین نے ان آیات کا ایک شان نزول بھی لکھا ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہود کے قبیلوں میں سے بنو قریظہ کا قبیلہ ابھی تک مدینہ میں آباد تھا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : خیانت سے بچنے کا حکم دینے کے ساتھ مال اور اولاد کو آزمائش قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ عموماً انسان ان کی وجہ سے خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔
واعلموا کا معنی ہے اچھی طرح جان لو، اس میں ایک قسم کا انتباہ پایا جاتا ہے کہ اے لوگو تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش کا باعث ہیں عمومی طور پر انسان اس وقت ہی خیانت کا مرتکب ہوتا اور شریعت کے احکام میں سستی اور غفلت کرتا ہے جب اس کے دل میں مال اور اولاد کی محبت غلو کر جائے۔ اس لیے مناسب سمجھا گیا کہ خیانت سے بچنے کا حکم دینے کے بعد لوگوں کو بتلایا جائے کہ مال اور اولاد خیانت کا سبب بنتے ہیں لہٰذا تمہیں ان کے بارے میں محتاط رہنا…
Read the full tafseer →مال و اولاد باعث آزمائش :
آیت 28: وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُ کُمْ فِتْنَۃٌ (اور تم جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہے) یعنی فتنہ میں پڑنے کے اسباب میں سے ہیں۔ فتنہ گناہ اور عذاب دونوں کو کہتے ہیں۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم کس طرح اس کی حدود کی نگہبانی کرتے ہو۔ وَّاَنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (اور اس بات کو بھی جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا بھاری اجر ہے) پس تمہارا فرض بنتا ہے کہ اس کی طلب میں حرص کرو اور دنیا میں زہد اختیار کرو۔ اور حب اولاد اور جمع اموال کی حرص میں نہ پڑو۔
Read the full tafseer →تفسیر 28 (واعلموا انمآ اموالکم واولادکم فتنۃ) بعض نے کہا کہ یہ آیت بھی ابولبابہ ؓ کے بارے میں اتری ہے کہ ان کا مال اور اولاد بنو قریظہ میں تھا تو ان کے خوف سے یہ اشارہ کیا تھا اور بعض نے کہا کہ یہ سب لوگوں کے لئے ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک بچہ لایا گیا۔ آپ (علیہ السلام) نے اس کو بوسہ دیا اور فرمایا، بہرحال یہ بچے بخل اور بزدلی کا سبب ہیں اور بیشک یہ اللہ تعالیٰ کے پھولوں میں سے ہیں (وان اللہ عند ہ اجر عظیم) اس کے لئے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خیر خواہی کرے اور اپنی امانت کو ادا کرے۔
Read the full tafseer →28۔ اللہ پاک نے اوپر کی آیت میں یہ فرمایا کہ خدا اور خدا کے رسول کی خیانت نہ کرو جو بھید کی باتیں ظاہر کرنے کے لائق نہیں ہیں ان کو دشمنوں پر ظاہر نہ کرو عبادت میں کسی قسم کا خلل نہ ڈالو اور لوگوں کی امانت میں بھی خیانت نہ کرو کوئی امانت رکھنے کو دے تو اسے ہضم نہ کرلو اس کے بعد یہ بیان فرمایا کہ دنیا کے مال اور اولاد اگرچہ دنیادی زندگی میں تمہارے لئے زینت ہیں مگر ساتھ ہی اس کے اکثر یہی مال واولا دفتنہ میں ڈالنے والے ہیں اگر یہی مال واولاد گناہ کے سبب بن جاتے ہیں اور آخرت کے کاموں سے روک دیتے ہیں اس لئے ان میں مشغول ہو کر خدا کی اطاعت سے باز نہ ہو مال واولاد اس لئے تمہیں دئے گئے ہیں کہ تم انکا…
Read the full tafseer →آیت 28
اللہ تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے اوامرونواہی کی جو امانت ان کے سپرد کی ہے، وہ اسے ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو وہ ڈر گئے اور انہوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا اور انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لای، کیونکہ وہ نہایت ظالم اور نادان ہے۔
پس جو کوئی امانت ادا کرتا ہے وہ بےپایاں ثواب کا مستحق بن جاتا ہے اور جو کوئی یہ امانت ادا نہیں کرتا تو سخت عذاب اس کے حصے میں آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول ﷺ اور اپنی امانت میں خیانت کا مرتکب قرار پاتا ہے، وہ اپنے آپ کو خیانت جیسی خسیس ترین صفات اور بدترین علامات سے متصف کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
فتنہ کا مفہوم
قول باری ہے واتقوافتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ۔ اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف ان ہی لوگوں تک محدود رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو) الفتنۃ کی تفسیر میں کئی اقوال منقول ہیں۔ حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ اس کے معنی وہی ہیں جو اس آیت انما اموالکم والولادکم فتنۃ۔ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں) میں موجود لفظ فتنہ کے ہیں حسن کا قول ہے کہ فتنہ وبال اور آفت کو کہتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد عذاب ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ اس شادمانی کا نام ہے جس کے تحت لوگ مست ہو کر ظلم ڈھانے پر اتر آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →47 اَموال و اَولاد باعث فتنہ و آزمائش : سو ارشاد فرمایا گیا اور تم لوگ یقین جانو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں آزمائش کا باعث ہیں کہ کون ان کی محبت میں مبتلا ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی امانت اور ان کی محبت کو پس پشت ڈال کر ناکامی و نامرادی کے گڑھے میں گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور کون مال و اولاد کی محبت کے مقابلے میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور اس کے تقاضوں کو ترجیح دے کر دائمی کامیابی اور حقیقی فوز و فلاح کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوتا ہے ۔ اَللّٰہُمَّ وَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی ۔ سو تم لوگ ابتلاء و آزمائش اور فتنہ و فساد کے ان سامانوں کے بارے میں ہمیشہ ہوشیار ہونا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
ماضی کی یاد سے مستقبل سنوارنا اور تقو ٰ ی کے فوائد
تشریح : جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ قرآن مجید ہدایت کی آخری کتاب اور انسان کے لیے قانون زندگی ہے ان آیات میں بھی چند ایسے اچھے اصول بتائے گئے ہیں جو کردار کو مضبوط کرتے ہیں اور نجات کا ذریعہ بنتے ہیں اس زندگی میں رحمت، برکت، آسائش و آرام کا ذریعہ بنتے ہیں۔
-1 فتنہ سے بچو اس میں ہر قسم کی برائی شامل ہے۔ خود بچو اگر غلطی ہوجائے تو چپکے سے اللہ سے معافی مانگ لو، گناہ کی تشہیر نہ کرو۔
-2 پھر نیکی کرو، برائی سے منع کرو، کیونکہ برائی جب پھیلنا شروع ہوتی ہے تو پھر اس کے برے اثرات ہر جگہ پھیلتے ہیں پھر جب اس برائی کی وجہ سے اللہ کا عذاب آتا ہے تو سب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
آیات 20 تا 28
اسرار و معارف
معیت باری
بات جب معیت باری کی ہوئی تو یہ مشروط طور پر ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے چناچہ مومنین کو حقیقت ایمان سے آگاہ فرمایا جارہا ہے تاکہ انہیں اللہ کی معیت حاصل رہے ورنہ ایمان میں کمزوری برکات معیت میں کمی کا باعث بن جائے گی جیسا کہ فی زمانہ مشاہدہ ہے کہ مسلمان سے عمل چھوٹا تو اس کے نتیجے میں ایمان کمزور ہوا اور ایمان کی کمزوری نے برکات معیت میں کمی کردی چناچہ جہاں کہیں مسلمان ہیں وہاں طوفانوں کی زد پر ہیں اور کہیں سے خیریت کی خبر نہیں مل رہی اللہ ہمیں معاف فرمائیں تو اسی مرض کا علاج شافی ارشاد ہورہا ہے کہ اے ایمان والو اللہ کی اطاعت اختیار…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی بہت بڑی آزمائش میں کہ تم شکر اور اطاعت بجا لاتے ہو یا ان میں مشغول ہو کر نافرمانی کرتے ہو۔ ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →(8:28) فتنۃ۔ آزمائش۔ قرآن حکیم میں یہ لفظ اور اس کے مشتقات مختلف معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
آیات : 27 تا 29
لغات القرآن۔
لا تخونوا۔ خیانت نہ کرو۔ فتنۃ ۔ آزمائش۔ فرقان۔ حق و باطل کے درمیان فرق کرنیو الا۔
تشریح : اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے ایمان والو ! یہ جسم و جاں مال و اسباب یہ بال بچے۔ یہ علم و عقل یہ صحت و فراغت یہ اقتدار اختیار اپنے اور پرائے غرضیکہ جو کچھ بھی اور جتنا بھی تمہارے پاس ہے سب اللہ کی امانت ہے۔ تم صرف ایک امانت دار ہوں ان چیزوں کو اسی طرح استعمال کرو جس طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے تمہیں استعمال کرنے کا حکم دیا ہے۔
ان کو استعمال کرنے کا وقت بارہ مہینے اور گھنٹوں میں چوبیس گھنٹے ہیں ہوش پانے سے ہوش کھونے تک ہے۔ جو خیانت کرنے والے…
Read the full tafseer →مال و اولاد کا ذکر
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے مال واولاد اگرچہ دنیاوی زندگی میں تمہارے لئے زینت ہیں مگر ساتھ ہی اس کے اکثر یہی مال واولاد فتنہ میں ڈالنے والے ہیں۔ وہ اللہ ہی ہے جس کی عبادت و فرمانبرداری میں مشغول رہنے سے ہمیشہ بہبودی کی صورت نظر آتی ہے کیونکہ دنیا وآخرت کا مالک وہی ہے اور اس کے اختیار میں طرح طرح کے اجر عظیم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
[10] مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے۔ اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ پورے کرتا ہے تو اس آزمائش میں کامیاب ہے ' بصورت دیگر ناکام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
(ف 1) یعنی اللہ کا شکریۃ ادا کرتے رہو ، تم قلیل وکمزور تھے تمہیں طاقت وقوت بخشی تم اطمینان و فراغت سے محروم تھے ، اللہ نے جگہ دی ، اور اطمینان بخشا ۔
حل لغات :
استجیبوا : قبول کرو ، اور مان لو ،
یحول : حائل ہوجاتا ہے ،
فتنۃ : عذاب ودیوانگی یعنی اولاد کی محبت میں بسا اوقات انسان ایثار وقربانی سے محروم رہتا ہے ۔
Read the full tafseer →28 اور تم یہ بات خوب جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک امتحان اور آزمائش کی چیز ہے اور یہ بھی یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑ اجر وثواب ہے۔ یعنی جو لوگ اس امتحان میں پورے اتریں گے اور کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے تو وہ اجر عظیم کے مستحق ہوں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چوری اللہ رسول کی یہ بھی ہے کہ چھپ کر کافروں سے ملیں اپنے مال اور اولاد کے بچائو کو جیسے مہاجرین میں اکثروں کے گھر مکہ میں تھے اور یہ بھی ہے کہ مال غنیمت چھپا رکھیں سردار پاس ظاہرنہ کریں۔ 12
مطلب یہ ہے کہ بعض مہاجرین کے بیوی بچے مکہ میں تھے بعض کے گھر اور املاک بھی مکہ میں تھے اس قسم کے مہاجرین اپنی اولاد اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
ف 1۔ یعنی قبل ہجرت۔
2۔ یعنی مکہ۔
Read the full tafseer →جان لو کہ تمہارے مال اور اولاد بھی ایک آزمائش ہیں :
39: فتنہ کیا ہے ؟ فتنہ کے معنوں میں بہت وسعت ہے۔ اس لفظ کے معنی امتحان یا آزمائش کے بھی ہیں اور عذاب الٰہی کے بھی اور ایسی چیزوں کو بھی فتنہ کہا جاتا ہے جو عذاب کا سبب بنیں۔ قرآن کریم میں ان تینوں معنوں میں فتنہ کا لفظ بولا گیا ہے اور اس جگہ ان تینوں معنی کی گنجائش موجود ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ بعض اوقات نہیں بلکہ اکثر اوقات مال اور اولاد خود بھی انسان کے لئے دنیا ہی میں وبان جان بن جاتے ہیں اور ان کے سبب انسان معصیت اور غفلت میں مبتلا ہو کر سبب عذاب بن جاتا ہے۔ یہ بھی ہے کہ مال اور اولاد کے ذریعہ ہمارا امتحان لیا جاتا ہے کہ یہ چیزیں…
Read the full tafseer →وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ اللَّـهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ ﴿28﴾(And be aware that your wealth and your children are but a trial and that with Allah there is a great reward).
The word: فِتنَہ (fitnah) used here carries the sense of 'trial' as well as that of 'punishment.' Then, such things as become the cause of punishment are also referred to as fitnah.' In different verses of the Qur'an, 'fitnah' has been used to carry these three meanings. At this place, there is room for all three. There are occasions when one's own property and children become a…
Read the full tafseer →23. Excessive love of money and one's children often impair the sincerity of a person's faith and often lead man to hypocrisy, treachery and dishonesty. The Qur'an, therefore, clearly points out ihat since 1ove of wealth or children drives people off the right path, it constitutes a considerable test for them. One's property, one's business and one's offspring constitute a test for man since they have been in his custody so as to judge to what extent he observes the limits of propriety laid down by God and adequately performs his responsibilities. What is tested is how far man is able to…
Read the full tafseer →