Explained with ayahs 27–28
اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو
کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر ؓ کے بارے میں اتری ہے۔ انہیں آنحضرت ﷺ نے بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس بھیجا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کی شرط کے ماننے پر قلعہ خالی کردیں ان یہودیوں نے آپ ہی سے مشورہ دریافت کیا تو آپ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر انہیں بتادیا کہ حضور کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہوگا۔ اب حضرت ابو لبابہ ؓ بہت ہی نادم ہوئے کہ افسوس میں نے بہت برا کیا اللہ کی اور اس کے رسول کی خیانت کی۔ اسی ندامت کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہو میں کھانے کا ایک لقمہ بھی نہ اٹھاؤں گا چاہے مر ہی جاؤں۔ مسجد نبوی میں آ کر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
سورة الْاَنْفَال 21
یہاں شکر گزاری کا لفظ غور کے قابل ہے۔ اوپر کے سلسلہ تقریر کو نظر میں رکھا جائے تو صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ اس موقع پر شکر گزاری کا مفہوم صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ لوگ اللہ کے اس احسان کو مانیں کہ اس نے اس کمزوری کی حالت سے انہیں نکالا اور مکہ کی پرخطر زندگی سے بچا کر امن کی جگہ لے آیا جہاں طیبات رزق میسر ہو رہے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ یہ بات بھی اسی شکر گزاری کے مفہوم میں داخل ہے کہ مسلمان اس خدا کی اور اس کے رسول کی اطاعت کریں جس نے یہ احسانات ان پر کیے ہیں، اور رسول کے مشن میں اخلاص و جاں نثاری کے ساتھ کام کریں، اور اس کام میں جو خطرات و مہالک اور مصائب پیش آئیں ان کا مردانہ وار…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق میں یا آپس میں بندوں کے حقوق میں خیانت نہ کریں کہ حق ادا ہی نہ کریں یا اس میں کوئی اور کوتاہی کرکے ادا کریں۔ آخر آیت میں (آیت) وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ فرما کر یہ بتلا دیا کہ تم تو خیانت کی برائی اور اس کے وبال کو جانتے ہی ہو پھر اس پر اقدام کرنا قرین دانشمندی نہیں اور چونکہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی سے غفلت و کوتاہی کا سبب عموما انسان کے اموال و اولاد ہوا کرتے ہیں اس لئے اس پر تنبیہ کرنے کے لئے فرمایا
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِكُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔
یہ آیت ٹھیک ٹھیک آیت 24 کے مقابل میں ہے۔ اس میں جس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے اس کے ضد سے اس میں روکا گیا ہے اور لعلکم تشکرون میں جس شکر گزاری کا حق یاد دلایا گیا ہے۔ اس کے منافی رویہ سے اس میں باز رہنے کی تاکید ہے۔ ہم دوسرے مقام میں یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ شکر کی اصلی حقیقت خدا کا حق پہچاننا، اس کا اعتراف کرنا اور خلوص کے ساتھ اس کو ادا کرنا ہے۔ اس کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ آدمی اللہ ور سول سے سمعنا واطعنا کا اقرار کر کے بےوفائی اور غداری نہ کرے بلکہ ہر حال میں اس عہد کو ورا…
Read the full tafseer →27۔ 1 اللہ اور رسول کے حقوق میں خیانت یہ ہے کہ جلوت میں اللہ اور رسول ﷺ کا تابع دار بن کر رہے اور خلوت میں اس کے برعکس معصیت کار۔ اسی طرح یہ بھی خیانت ہے کہ فرائض میں سے کسی فرض کا ترک اور نواہی میں سے کسی بات کا ارتکاب کیا جائے اور ایک شخص دوسرے کے پاس جو امانت رکھواتا ہے اس میں خیانت نہ کرے۔ نبی ﷺ نے بھی امانت کی حفاظت کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ اپنے اکثر خطبوں میں یہ ضرور ارشاد فرماتے تھے ' اس کا ایمان نہیں، جس کے اندر امانت کی پاسداری نہیں اور اس کا دین نہیں، جس کے اندر دین کی پابندی کا احساس نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
15: اس آیت کریمہ میں ایک اور اہم حکم بیان فرمایا گیا ہے، اور وہ یہ کہ ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی ذات کی حد تک شریعت پر عمل کرلے، اس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اگر معاشرے میں کوئی برائی پھیل رہی ہے تو اپنی طاقت کی حد تک اس کو روکنے کی کوشش کرے، اگر لوگ اپنے فریضے میں کوتاہی کریں اور اس برائی کا کوئی وبال آئے تو وہ وبال صرف ان لوگوں کی حد تک محدود نہیں رہے گا جو اس برائی میں براہ راست ملوث تھے ؛ بلکہ جو لوگ اس برائی کا خود تو ارتکاب نہیں کررہے تھے مگر دوسروں کو اس سے روکتے بھی نہیں تھے وہ بھی اس وبال کا شکار ہوں گے۔
Read the full tafseer →اب پھر اہل ایمان کو دوبارہ پکارا جاتا ہے۔ انسان کے مالی حالات معاملات اور اس کی اولاد کے مفادات بعض اوقات انسان کو خوف اور بخل کی وجہ سے جدوجہد کرنے سے روک دیتے ہیں۔ جس زندگی کی طرف رسول اللہ دعوت دے رہے ہیں وہ ایک باعز زندگی ہے اور اس زندگی کے حصول کی راہ میں مشکلات لازماً پیش آتی ہیں اور اس کے لیے قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ لہذا قرآن کریم ان کمزوریوں کی اصلاح اس طرح کرتا ہے کہ وہ تحریک اسلامی کو فتنہ مال اور فتنہ اولاد کے بارے میں خبردار کرتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں اس طرح فتنہ ہیں کہ ان سے انسان کا امتحان مقصود ہوتا ہے۔ اس امتحان اور آزمائش سے گزرنا مشکل کام ہے۔ ان کی وجہ سے دعوت جہاد سے انسان…
Read the full tafseer →6 خدا و رسول کی خیانت یہ ہے کہ ان کے احکام کی خلاف ورزی کی جائے۔ زبان سے اپنے کو مسلمان کہیں اور کام کفار کے کریں یا جس کام پر خدا و رسول نے مامور کیا ہو اس میں دغل فصَل کیا جائے۔ یا مال غنیمت میں چوری کی جائے۔ ونحو ذالک۔ بہرحال ان تمام امانتوں میں جو خدا اور رسول یا بندوں کی طرف سے تمہارے سپرد کی جائیں، خیانت سے بچو۔ اس میں ہر قسم کے حقوق العباد آگئے۔ روایات میں ہے کہ یہود " بنی قریظہ " نے جب حضور ﷺ سے صلح کی درخواست کی اور یہ کہ ان کے ساتھ وہ ہی معاملہ کیا جائے جو بنی النضیر کے ساتھ ہوا ہے۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ " نہیں، میں تم کو اتنا حق دیتا ہوں کہ سعد بن معاذ کو حکم بنا لو، جو فیصلہ وہ…
Read the full tafseer →آیت 27 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَخُوْنُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ
اللہ کی امانت میں خیانت یقیناً بہت بڑی خیانت ہے۔ ہمارے پاس اللہ کی سب سے بڑی امانت اس کی وہ روح ہے جو اس نے ہمارے جسموں میں پھونک رکھی ہے۔ اسی کے بارے میں سورة الاحزاب میں فرمایا گیا : اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلً۔ ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں ‘ زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور وہ اس سے ڈر گئے ‘ مگر انسان نے اسے اٹھا لیا ‘…
Read the full tafseer →28 امانتوں میں خیانت کی مختلف صورتیں :۔ امانتوں میں خیانت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ امانتوں سے مراد وہ تمام عہد معاہدے اور وہ ذمہ داریاں ہیں جو کسی انسان پر عائد کی گئی ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ سے انسان کا عہد، عہد میثاق بھی ہے جس کو پورا کرنے پر انسان اللہ کا نافرمان رہ ہی نہیں سکتا اور وہ عہد بھی جو انسان ذاتی طور پر اللہ سے باندھتا ہے جیسے نذریں اور منتیں وغیرہ اللہ کے رسول ﷺ سے خیانت یہ ہے کہ جن باتوں پر کسی مسلمان نے آپ سے بیعت کی ہے۔ ان میں فرار کی راہیں سوچنے لگے اور لوگوں سے معاہدے دین کے بھی ہوسکتے ہیں۔ صلح و جنگ کے سمجھوتے بھی، نکاح کے بھی، پھر انسان پر اس کے منصب کے لحاظ سے طرح طرح کی…
Read the full tafseer →40 ۔ (کہ اعمال میں کوتاہیوں کے نتائج بد اور مضرتیں کیا کیا ہیں) (آیت) ” لا تخونوا اللہ والرسول “۔ اللہ اور رسول کے جو حقوق عاید ہوتے ہیں انہی کو پوری طرح ادا نہ کرنا بھی ان میں خیانت کرنا ہے۔ (آیت) ” وتخونوا امنتکم “۔ اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے اعمال سے جو منافع مرتب ہوتے ہیں انہی کو یہاں امانتوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
وَلا تکونوا کالذین قالوا سَمِعْنَا وھم لا یسمَعُوْنَ ، یہاں سننے سے مراد وہ سننا ہے جس کو قبول کرنا اور ماننا کہتے ہیں، اس آیت میں اشارہ ان منافقوں کی طرف ہے جو زبان سے ایمان کا اقرار کرتے تھے مگر احکام کی اطاعت سے منہ موڑ جاتے تھے، سن لینے کے باوجود عمل نہ کرنا کافروں کا شیوہ ہے، تم اس رویہ سے بچو، اگلی آیت میں ایسے ہی لوگوں کو بہرہ اور گونگا بدترین قرار دیا گیا ہے اگر ان میں اللہ تعالیٰ کوئی خیر و خوبی دیکھتا تو ضرور انھیں سنکر سمجھنے کی توفیق عطا کرتا چونکہ ان کے اندر خیر یعنی طلب صادق ہی نہیں اسلئے وہ فہم صحیح سے محروم ہیں، پہلے سماع سے مراد سماع نافع ہے جسے مفسرّ علاّم نے سماع تفہیم کہا…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو۔
خونٌ (مصدر) کا اصل لغوی معنی ہے کم کرنا ‘ جیسے وفاء کا لغوی معنی ہے پورا کرنا۔ چونکہ امانت کے خلاف مفہوم (یعنی خیانت) میں کمی کا مفہوم ہی ہوتا ہے ‘ اسلئے امانت کے خلاف خیانت کا لفظ استعمال کیا جانے لگا۔
وتخونوا امانتکم وانتم تعلمون۔ اور نہ آپس میں امانتوں میں خیانت کرو اور تم جانتے ہو۔ تخونوا کا عطف گذشتہ تخونوا پر ہے ‘ دونوں نہی کے ذیل میں ہیں (ترجمہ اسی طور پر کیا گیا ہے) یا اس جگہ تخونوا سے پہلے ان محذوف ہے اور واؤ عطف اور جمعیت کیلئے ہے (اس وقت مطلب یہ ہوگا کہ لوگوں کی خیانت سے ملا کر اللہ اور…
Read the full tafseer →(27) نیز مروان اور ابولبابہ بن عبد المنذر تم لوگ بنی قریظہ کو اس بات کا اشارہ کرکے کہ سعد بن معاذ کے حکم پر مت اترو دین خداوندی میں خلل مت ڈالو اور تم احکام الہی میں جن کی حفاظت تم پر امانت کے طور پر واجب ہے خلل نہ ڈالو اور تم لوگ تو اس خلل کو جانتے ہی ہو۔
شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوا لا“۔ (الخ)
حضرت سعید بن منصور ؒ نے عبداللہ بن ابی قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ابولبابہ بن عبد المنذر کے متعلق نازل ہوئی، قریضہ والے دن ان سے بنو قریظہ نے پوچھا تھا کہ یہ کیا فیصلہ ہوگا، تو انہوں نے حلق کے اشارے سے بتادیا تھا، کہ گردنیں اڑا دی جائیں گی، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ابولبابہ ؓ فرماتے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ : امانتوں میں خیانت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس سے وہ تمام ذمہ داریاں اور عہد معاہدے مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ یا بندوں سے کیے گئے ہوں۔ صلح، جنگ اور نکاح وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں، ایک دوسرے کے ذاتی راز اور فوجی راز بھی امانت ہیں۔ حاطب بن ابی بلتعہ ؓ نے فتح مکہ سے پہلے ایک عورت کو خط دے کر مکہ بھیجا تھا، جس میں اہل مکہ کو رسول اللہ ﷺ کے حملے کے ارادے سے آگاہ کیا تھا اور اس پر اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوئی تھی۔ [ بخاری، 3983۔ مسلم : 2494 ] سورة ممتحنہ کے شروع میں اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کم…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 27
روایت ہے کہ یہ آیت حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جس وقت انہوں نے بنی قریظہ کی طرف ذبح کا اشارہ کیا۔ حضرت ابو لبابہ ؓ نے بیان کیا ہے : قسم بخدا ! میرے قدم نہیں پھسلے یہاں تک کہ مجھے علم ہوگیا کہ میں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم ﷺ کے ساتھ خیانت کی ہے، پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ اور کہا : قسم بخدا ! نہ میں کھانا کھاؤں گا اور نہ پانی پیئوں گا یہاں تک کہ میں مر جاؤں یا پھر اللہ تعالیٰ میرے توبہ قبول فرما لے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 619) ۔ یہ خبر مشہور ہے۔
حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
1۔ ابن جریر، ابن المنذر وابوالشیخ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے بیان فرمایا کہ ابوسفیان مکہ سے نکلا جبرائیل تشریف لائے نبی کریم ﷺ کے پاس اور فرمایا کہ ابوسفیان فلاں فلاں جگہ میں ہے۔ آپ لوگ اس کی طرف نکلیں اور (اپنے نکلنے کو) مخفی رکھو۔ منافقین میں سے ایک آدمی نے ابوسفیان کی طرف لکھا کہ محمد ﷺ تمہارا ارادہ رکھتے ہیں اپنا بچاؤ کرلو۔ تو اللہ تعالیٰ نے اتارا (آیت) ” لا تخونوا اللہ والرسول “ (الایہ)
راز فاش کرنے کی ممانعت :
2:۔ سعید بن منصور اور ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے عبد اللہ بن قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” لا تخونوا اللہ والرسول “ ابولبابہ بن…
Read the full tafseer →[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لَا تَخُوْنُوا : تم لوگ خیانت مت کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ سے ] [ وَالرَّسُوْلَ : اور ان رسول سے ] [ وَتَخُوْنُوْٓا : اور خیانت مت کرو ] [ اَمٰنٰتِكُمْ : اپنی (آپس کی ) امانتوں میں ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہو ]
(آیت ۔ 27) لا تخونوا کی لائے نہی پر عطف ہونے کی وجہ سے آگے وتخونوا مجزوم ہوا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو اور آپس میں بھی خیانت کرنے سے باز رہو
درمنثور (ص 178 ج 3) میں حضرت جابر بن عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ جب ابو سفیان کی مکہ سے روانگی ہوئی تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ کو بتادیا کہ ابو سفیان فلاں فلاں جگہ پر ہے لہٰذا اس کی طرف نکل کھڑے ہوں اور اس بات کو پوشیدہ رکھیں لیکن بعض منافقین نے ابو سفیان کو بذریعہ خط اطلاع دے دی کہ حضرت محمد ﷺ تمہارے قافلے پر حملہ آور ہونے کے لیے ارادہ کر رہے ہیں لہٰذا تم اپنی حفاظت کی فکر کرو۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی اور ایک روایت یوں ہے جو حضرت ابن شہاب زہری سے مروی ہے کہ بنو قریظہ (جو یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا) انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
ترغیب بر اطاعت وامانت وترہیب از معصیت وخیانت و زجر دوستاں
از مشابہت دشمناں
قال اللہ تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ ذوالفضل العظیم
(ربط) گذشتہ آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اب ان آیات میں اہل ایمان کو ہدایت فرماتے ہیں کہ حق جل شانہ کی معیت اور نصرت اور حمایت کا دارومدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے اگر تم اللہ کی معیت اور اس کی نصرت کے طلبگار ہو تو اس کی دو شرطیں ہیں۔ اول تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی دل وجان سے ایسی اطاعت کرو جس میں خیانت کا شائبہ نہ ہو اس لیے کہ خیانت اطاعت کاملہ میں مخل ہے۔ دوم یہ کہ اہل ایمان پر لازم ہے…
Read the full tafseer →29: چوتھا قانون جنگ۔ “ تَخُوْنُوْا اَمَانَاتِکُمْ ”، “ تَخُوْنُوْا اللّٰهَ ” پر معطوف ہے “ اَيْ وَلَا تَخُوْنُوْا اَمَانٰتِکُمُ ” اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ اللہ کی خیانت یہ ہے کہ اس کے فرائض و احکام کو معطل کردیا جائے اور ان کی تعمیل نہ کی جائے اور رسول کی خیانت یہ ہے کہ آپ کی سنت اور آپ کے طرق کا اتباع نہ کیا جائے۔ “ (لَا تَخُوْنُوْا اللّٰهَ ) بان تعطلوا فرائضه (والرسول) بان لا تستنوا به (وَ تَخُوْنُوْا اَمَا نٰتِکُمْ ) فیما بینکم بان لا تحفظوھا ” (مدارک ج 2 ص 77) ۔ “ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ” اور تم خوب جانتے ہو کہ خیانت بہت بڑا گناہ ہے اور حفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ربط آیات :
یہ سورة اور اگلی سورة توبہ دونوں جہاد کے سلسلے سے تعلق رکھتی ہیں ان سورتوں میں اللہ نے دشمن کے مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے کے اصول بیان فرمائے ہیں سب سے پہلا اصول ثابت قدمی تھا کہ جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوجائے تو پھر میدانِ جنگ سے بھاگنے کی کوشش نہ کرو بلکہ ثابت قدم رہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قانون مقرر کردیا کہ دشمن اگر تعداد میں دگنے بھی ہوں تو ان کے خوف سے بھاگنے کی اجازت نہیں ہے جو شخص پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گا وہ اکبرالکبائر کا مرتکب ہو کر جہنم کا مستحق ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جنگ کا دوسرا اصول یہ بیان فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو لازم پکڑو اور اس سے روگردانی نہ کرو اللہ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِكُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 27
خون
الخِيَانَة والنّفاق واحد، إلا أنّ الخیانة تقال اعتبارا بالعهد والأمانة، والنّفاق يقال اعتبارا بالدّين، ثم يتداخلان، فالخیانة : مخالفة الحقّ بنقض العهد في السّرّ. ونقیض الخیانة :
الأمانة وعلی ذلک قوله : لا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ
[ الأنفال/ 27] ،
( خ و ن ) الخیانۃ
خیانت اور نفاق دونوں ہم معنی ہیں مگر خیانت کا لفظ عہد اور امانت کا پاس نہ کرنے پر بولا جاتا ہے اور نفاق دین کے متعلق بولا جاتا ہے پھر ان میں تداخل ہوجاتا ہے پس خیانت کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ترکیب : وتخونوا یجوزان یکون مجزوما عطفا علی الفعل الاول اے لاتخونوا امانتکم وان یکون نصباً علی الجواب بالواو وانتم تعلمون جملہ حال ہے فاعل لاتخونوا سے وان اللّٰہ معطوف ہے انما اموالکم پر ‘ معطوف اور معطوف علیہ اعلموا کے مفعول ہیں ان تتقوا شرط یجعل لکم جواب۔
تفسیر : ان آیات میں اپنی نعمت اور مسلمانوں کی پہلی حالت جتلا کر جو اطاعت و توکل پر محرک ہے اللہ اور اس کے رسول کی اور آپس کی خیانت سے منع فرماتا ہے جو باہمی اتفاق اور محبت میں خلل انداز اور اسلام کی جماعت میں خلل پیدا کرنے والی چیز ہے اور خیانت کا باعث بیشتر اولاد اور مال کی محبت ہوتی ہے۔ سو اس کو فتنہ قرار دیتا ہے اور دار آخرت میں اجر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
یٰٓاَیُّھَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَخُوْنُْوْٓا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ لا وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۔ ع (الانفال : 27 تا 28)
(اے ایمان والو ! خیانت نہ کرو اللہ سے اور رسول سے اور خیانت نہ کروآپس کی امانتوں میں، اس حال میں کہ تم جانتے ہو۔ اور جان لو کہ بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں اور بیشک اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ )
شانِ نزول
مفسرین نے ان آیات کا ایک شان نزول بھی لکھا ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہود کے قبیلوں میں سے بنو قریظہ کا قبیلہ ابھی تک مدینہ میں آباد تھا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مزید ہدایات کے ساتھ نیا خطاب شروع ہوتا ہے :
اس ارشاد میں مسلمانوں کو امانتوں میں خیانت نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خیانت صرف یہ نہیں ہے کہ آدمی دوسرے کی چیز میں خرد برد کرلے۔ اسلام میں امانت اور خیانت کا تصور بڑا وسیع ہے کیونکہ اس آیت میں امانت کے لیے جمع کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ ہر مسلمان کے ذمہ پہلی امانت اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ پورے اخلاص کے ساتھ محبت کرنا اور دل و جان کے ساتھ ان کے احکام ماننا ہے۔ دوسری امانت لوگوں کے آپس کے حقوق و فرائض ہیں۔ اگر کوئی شخص معاشرے کی تفویض کردہ ذمہ داری اور منصب کے فرائض تن دہی سے ادا نہیں کرتا تو وہ بھی خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →اللہ کے حقوق میں خلل مت ڈالو :
آیت 27: یٰٓاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَاتَخُوْنُوا اللّٰہ َ ۔ (اے ایمان والو تم اللہ کے حقوق میں خلل مت ڈالو) اس کے فرائض کو معطل کر کے۔ وَالرَّسُوْلَ (رسول کے) اور رسول کے طریقہ کو نہ اپنا کر۔ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ (اور اپنی قابل حفاظت چیزوں میں مت خلل ڈالو)
نحو : اس پر جزم لا تخونوا پر عطف کی وجہ سے ہے ای لا تخونوا۔ اپنے مابین اس طرح کہ ان کی حفاظت نہ کرو۔ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (اور تم تو جانتے ہو) نمبر 1۔ اس کا انجام اور وبال نمبر 2۔ حالانکہ تم جانتے ہو کہ تم خیانت کررہے ہو۔ مطلب یہ ہے خیانت تم سے جان بوجھ کر پائی جائے بھول کر نہیں۔ نمبر 3۔ تم…
Read the full tafseer →27 (یایھا الذین امنوا لاتخونوا اللہ و الرسول) سدی (رح) فرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات سنتے پھر اس کو آگے بیان کردیتے تو مشرکین تک پہنچ جاتی۔ زہری ار کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ آیت ابولبابہ ہارون بن عبدالمنذر انصاری ؓ جو بنی عوف میں سے تھے کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریظہ کے یہود کا محاصرہ کیا، اکیس راتیں تو انہوں نے کہا کہ آپ ہم سے درگزر کریں اور ہم سے ویسی صلح کرلیں جو ہمارے بھائیوں بنو نضیر سے کی ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کی طرف شام کے علاقے اذرعات اور ریحاء کی طرف چلے جائیں تو رسول اللہ ﷺ نے یہ بات ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ سعد بن معاذ ؓ کے…
Read the full tafseer →27۔ مسند سعید بن منصور تفسیر عبدالرزاق ‘ تفسیر زہری ‘ اور تفسیر کلبی میں عبداللہ بن ابی قتادہ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب آنحضرت نے یہود بنی قریظہ کا اکیس روز تک محاصرہ کیا اور بنی قریظہ نے آنحضرت سے صلح کرنے کی درخواست کی تو آنحضرت نے صلح سے انکار کیا اور یہ فرمایا کہ تم سعد بن معاذ ؓ کو اپنا بیچ قرار دے کر اپنی گڑھی سے نیچے اتر آؤ بعد گڑھی کے نیچے اتر آنے کے سعد بن معاذ ؓ جو مشورہ اور رائے تمہارے باب میں دیویں گے اس کے موافق فیصلہ کیا جاوے گا بنی قریظہ نے کہا پہلے ابو لبابہ ؓ بن عبدالمنذر کو ہمارے پاس مشورہ کے لئے بھیجدیا جاوے آنحضرت ابولبابہ ؓ کو بھیجدیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
آیت 26
(1) المسند، 112/3 ۔۔۔ (2) صحیح مسلم، القدر، ح : 265
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسان کا تذکرہ کرتا ہے کہ وہ کمزور اور مغلوب تھے، اس نے ان کو اپنی نصرت سے نوازا، وہ قلیل تھے اس نے ان کو کثرت عطا کی اور وہ تنگ دست تھے، اس نے ان کو فراخی عطا کی۔ چناچہ فرمایا : (واذکروآ اذ انتم قلیل مستضعفون فی الارض) ” اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے، کمزور تھے زمین میں “ یعنی تم غیروں کی حکومت میں محکوم و مجبور تھے (تخافون ان یتخطفکم الناس) ” تم ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لیں “ (فآولکم و ایدکم بنصرہ ورزقکم من الطیبت) ” تو اس نے تمہیں جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت دی اور پاکیزہ چیزیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
فتنہ کا مفہوم
قول باری ہے واتقوافتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ۔ اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف ان ہی لوگوں تک محدود رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو) الفتنۃ کی تفسیر میں کئی اقوال منقول ہیں۔ حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ اس کے معنی وہی ہیں جو اس آیت انما اموالکم والولادکم فتنۃ۔ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں) میں موجود لفظ فتنہ کے ہیں حسن کا قول ہے کہ فتنہ وبال اور آفت کو کہتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد عذاب ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ اس شادمانی کا نام ہے جس کے تحت لوگ مست ہو کر ظلم ڈھانے پر اتر آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →45 اللہ اور اس کے رسول کی خیانت سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا اور خبردار کبھی خیانت نہیں کرنا اللہ اور اس کے رسول سے۔ ان کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے احکام و اطاعت میں تقصیر اور کوتاہی کرکے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ خیانت کے لغوی معنی کمی کرنے کے ہی آتے ہیں۔ اور اللہ کا دین اس کی امانت ہے جو کہ اس کے رسول کے ذریعے اس کے بندوں تک پہنچتا ہے۔ لہذا تم لوگ اے ایمان والو ! اس میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں کرنا بلکہ اس کے اوامرو ارشادات اور اس کے فرائض و واجبات کو پوری طرح بجا لانا اور اس کی مقرر فرمودہ حدود کو پوری طرح قائم رکھنا۔ (معارف للکاندھلوی وغیرہ) ۔ اور امانت کے لفظ کا مفہوم بہت وسیع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
ماضی کی یاد سے مستقبل سنوارنا اور تقو ٰ ی کے فوائد
تشریح : جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ قرآن مجید ہدایت کی آخری کتاب اور انسان کے لیے قانون زندگی ہے ان آیات میں بھی چند ایسے اچھے اصول بتائے گئے ہیں جو کردار کو مضبوط کرتے ہیں اور نجات کا ذریعہ بنتے ہیں اس زندگی میں رحمت، برکت، آسائش و آرام کا ذریعہ بنتے ہیں۔
-1 فتنہ سے بچو اس میں ہر قسم کی برائی شامل ہے۔ خود بچو اگر غلطی ہوجائے تو چپکے سے اللہ سے معافی مانگ لو، گناہ کی تشہیر نہ کرو۔
-2 پھر نیکی کرو، برائی سے منع کرو، کیونکہ برائی جب پھیلنا شروع ہوتی ہے تو پھر اس کے برے اثرات ہر جگہ پھیلتے ہیں پھر جب اس برائی کی وجہ سے اللہ کا عذاب آتا ہے تو سب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
آیات 20 تا 28
اسرار و معارف
معیت باری
بات جب معیت باری کی ہوئی تو یہ مشروط طور پر ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے چناچہ مومنین کو حقیقت ایمان سے آگاہ فرمایا جارہا ہے تاکہ انہیں اللہ کی معیت حاصل رہے ورنہ ایمان میں کمزوری برکات معیت میں کمی کا باعث بن جائے گی جیسا کہ فی زمانہ مشاہدہ ہے کہ مسلمان سے عمل چھوٹا تو اس کے نتیجے میں ایمان کمزور ہوا اور ایمان کی کمزوری نے برکات معیت میں کمی کردی چناچہ جہاں کہیں مسلمان ہیں وہاں طوفانوں کی زد پر ہیں اور کہیں سے خیریت کی خبر نہیں مل رہی اللہ ہمیں معاف فرمائیں تو اسی مرض کا علاج شافی ارشاد ہورہا ہے کہ اے ایمان والو اللہ کی اطاعت اختیار…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی مال غنیمت میں خیا نت نہ کرو یا آنحضرت سے بےوفائی اور غداری نہ کرو بلکہ ان سے ایمان و اطاعت کا جو عہد باند ھا ہے اسے پورے اخلاص سے بھاؤ، امام زہری (رح) وغیرہ کا بیان ہے کہ جب بنو قریظہ کے یہودی گھر گئے اور انہیں اپنے قلعہ سے اترنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے حضرت ابو لبابہ ؓ سے دریافت کیا کہ ہم سعد بن معاذ ؓ کے حکم پر اتر اٗیں ؟ ابو لبابہ ؓ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا کہ نہیں یعنی ایسا کرنے سے گلا کٹ جائے گا اور قتل کردیئے جاؤ گے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی، حضرت ابو لبانہ ؓ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور انہوں نے تو بہ کے ارادہ سے اپنے آپ کو مسجد نبوی ؓ نے ستو ن سے س باندھ تو نو روزٍ تک…
Read the full tafseer →(8:27) لاتخونوا۔ تم جنابت نہ کرو۔ خیانۃ سے (باب نصر)
تخونوا امنتکم۔ تخونوا۔ مضارع مجزوم ہے اور لاتخونوا پر عطف ہے تقدیر کلام یوں ہے ولا تخونوا امنتکم۔ اور یہ آپس کی امانتوں میں خیانت کرو۔ وانتم تعلمون۔ اور تم اس خیانت کے قبیح اور مذموم ہونے کو جانتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
آیات : 27 تا 29
لغات القرآن۔
لا تخونوا۔ خیانت نہ کرو۔ فتنۃ ۔ آزمائش۔ فرقان۔ حق و باطل کے درمیان فرق کرنیو الا۔
تشریح : اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے ایمان والو ! یہ جسم و جاں مال و اسباب یہ بال بچے۔ یہ علم و عقل یہ صحت و فراغت یہ اقتدار اختیار اپنے اور پرائے غرضیکہ جو کچھ بھی اور جتنا بھی تمہارے پاس ہے سب اللہ کی امانت ہے۔ تم صرف ایک امانت دار ہوں ان چیزوں کو اسی طرح استعمال کرو جس طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے تمہیں استعمال کرنے کا حکم دیا ہے۔
ان کو استعمال کرنے کا وقت بارہ مہینے اور گھنٹوں میں چوبیس گھنٹے ہیں ہوش پانے سے ہوش کھونے تک ہے۔ جو خیانت کرنے والے…
Read the full tafseer →خیانت اور حضرت ابولبابہ ؓ کا واقعہ
شان نزول جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے یہود بنی قریظہ کا محاصرہ اکیس روز تک کیا اور بنی قریظہ نے آنحضرت ﷺ سے صلح کرنے کی درخواست کی تو آنحضرت ﷺ نے انکار کیا اور یہ فرمایا کہ تم سعد بن معاذ کو اپنا پنچ (منصف) قرار دے کر اپنی گڑھی سے نیچے اتر آؤ۔ بعد اترنے کے سعد بن معاذ جو مشورہ اور رائے تمہارے بارے میں دیں گے، اس کے موافق فیصلہ کیا جاوے گا۔ بنی قریظہ نے کہا :” پہلے ابو لبابہ بن عبد المنذر کو ہمارے پاس مشورہ کے لئے بھیج دو “۔ آنحضرت ﷺ نے ابولبابہ کو بھیج دیا۔ ابولبابہ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارہ سے بنی قریظہ کو یہ سمجھایا کہ گڑھی سے اتروگے تو…
Read the full tafseer →[9] یہاں خیانت سے مقصود وہ تمام خیانتیں ہیں جو اسلام کے احکام کی تعلیم و تبلیغ اور امت کے مصالح و مقاصد میں کی جائیں لیکن خصوصیت کے ساتھ جس بات کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ بعض مہاجرین نے اپنے اہل و عیال کو جو مکہ میں تھے خطوط لکھے تھے جن میں کچھ اشارہ جنگ کی نسبت بھی آگیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
(ف 1) یعنی اللہ کا شکریۃ ادا کرتے رہو ، تم قلیل وکمزور تھے تمہیں طاقت وقوت بخشی تم اطمینان و فراغت سے محروم تھے ، اللہ نے جگہ دی ، اور اطمینان بخشا ۔
حل لغات :
استجیبوا : قبول کرو ، اور مان لو ،
یحول : حائل ہوجاتا ہے ،
فتنۃ : عذاب ودیوانگی یعنی اولاد کی محبت میں بسا اوقات انسان ایثار وقربانی سے محروم رہتا ہے ۔
Read the full tafseer →27 اے ایمان والو ! تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حقوق میں خیانت اور کمی نہ کرو اور نہ تم اپنی امانتوں میں خیانت کرو حالانکہ تم اس کے ضرر اور نقصان کو جانتے ہو۔ اللہ اور اس کے رسول کے حقوق میں خیانت یہ کہ ان کے احکام کی خلاف ورزی کی جائے یا سستی اور کاہلی سے کام لیا جائے جس کام پر اللہ کے رسول نے مامور کیا ہو اس کے انجام دینے میں بددیانتی کی جائے یا مال غنیمت میں بددیانتی کی جائے۔ غرض خیانت خواہ حقوق اللہ میں ہو یا حقوق العباد میں ہو۔ بہرحال بری اور ممنوع ہے اس کا ضرر رساں ہونا کم و بیش ہر مسلمان جانتا ہے۔
مفسرین نے آیت کے نزول کا تعلق ابو لبابہ سے ظاہر کیا ہے مگر الفاظ بہت وسیع ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
ف 1۔ یعنی قبل ہجرت۔
2۔ یعنی مکہ۔
Read the full tafseer →مسلمانو ! خیانت سے بچو وہ اللہ اور اس کے رسول کی ہو یا تمہارے درمیان ایک دوسرے کی :
38: خیانت کا لفظ عام ہے جو عربی اور اور اردو زبانوں میں ایک جیسا استعمال ہوتا ہے وہ وہی چیز ہے جس کو ” بددیانتی “ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ ایک کا جو حق دوسرے کے ذمہ واجب ہو اس کے ادا کرنے میں ایمان داری سے کام نہ لینا خیانت ہے اور یہی چیز بددیانیے بھی ہے۔ اگر ایک کی کوئی چیز دوسرے کے پاس امانت ہو اور وہ اس میں بیچا تصرف کرے یا مانگنے پر واپس نہ کرے تو یہ کھلی ہوئی خیانت ہے۔ اس طرح کسی کی کوئی چھپی ہوئی بات کسی دوسرے کو معلوم ہو یا ایک نے بھروسہ کر کے دوسرے کو بتادی ہو تو اس بات کو کسی تیسرے پر ظاہر…
Read the full tafseer →In the third verse (27), Muslims have been instructed not to commit any breach of trust خِیَانہ (khiyanah) in the dual rights due against them, that is, in the rights of Allah (Huququllah) or in the mutual rights of the servants of Allah as enjoined on each other (Huququl-` Ibad) - either by failing to fulfill them totally, or by fulfilling them in a defective manner leaving one or the other shortcoming behind. Then, by saying: وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (while you know) at the end of the verse, it was stressed that they already knew that breach of trust was an evil conduct lined with many a…
Read the full tafseer →22. 'Trusts' embrace all the responsibilities which are imparted to someone because he is trusted. These might consist of obligations arising out of an agreement or collective covenant. It might also consist of the secrets of a group. It might also consist of personal or collective property, or any office or position which might be bestowed upon a person by the group. (For further explanation see Towards Undersranding the Qur' an, vol. 11. al-Nisa' 4, n. 88, pp. 49 f - Ed.)
Read the full tafseer →