اہل ایمان پر اللہ کے احسانات
مومنوں کو پروردگار عالم اپنے احسانات یاد دلا رہا ہے کہ ان کی گنتی اس نے بڑھا دی، ان کی کمزوری کو زور سے بدل دیا، ان کے خوف کو امن سے بدل دیا، ان کی ناتوانی کو طاقت سے بدل دیا، ان کی فقیری کو امیری سے بدل دیا، انہوں نے جیسے جسیے اللہ کے فرمان کی بجا آوری کی ویسے ویسے یہ تری پا گئے۔ مومن صحابہ مکہ کے قیام کی حالت میں تعداد میں بہت تھوڑے تھے، چھپے پھرتے تھے، بےقرار رہتے تھے، ہر وقت دشمنوں کا خطرہ لگا رہتا تھا، مجوسی ان کے دشمن تھے، یہودی ان کی جان کے پیچھے، بت پرست ان کے خون کے پیاسے، نصرانی ان کی فکر میں۔ دشمنوں کی یہ حالت تھی تو ان کی اپنی یہ حالت کہ تعداد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
سورة الْاَنْفَال 21
یہاں شکر گزاری کا لفظ غور کے قابل ہے۔ اوپر کے سلسلہ تقریر کو نظر میں رکھا جائے تو صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ اس موقع پر شکر گزاری کا مفہوم صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ لوگ اللہ کے اس احسان کو مانیں کہ اس نے اس کمزوری کی حالت سے انہیں نکالا اور مکہ کی پرخطر زندگی سے بچا کر امن کی جگہ لے آیا جہاں طیبات رزق میسر ہو رہے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ یہ بات بھی اسی شکر گزاری کے مفہوم میں داخل ہے کہ مسلمان اس خدا کی اور اس کے رسول کی اطاعت کریں جس نے یہ احسانات ان پر کیے ہیں، اور رسول کے مشن میں اخلاص و جاں نثاری کے ساتھ کام کریں، اور اس کام میں جو خطرات و مہالک اور مصائب پیش آئیں ان کا مردانہ وار…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں بھی احکام الہیہ کی اطاعت کو آسان کرنے اور اس پر ترغیب دینے کے لئے مسلمانوں کو ان کی پچلھی خستہ حالی اور ضعف و کمزوری پھر اس کے بعد اپنے فضل و انعام سے حالات بدل کر ان کو قوت اور اطمینان عطا فرمانے کا ذکر ہے۔ ارشاد فرمایا
(آیت) وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔ یعنی اے مسلمانو اپنے اس حال کو یاد کرو جو قبل ہجرت مکہ معظمہ میں تھا کہ تعداد میں بھی کم تھے اور قوت میں بھی ہر وقت یہ خطرہ لگا ہوا تھا کہ دشمن ان کو…
Read the full tafseer →وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔
ابتدائے اسلام میں مسلمانوں پر اللہ کے انعامات : اطاعت اللہ اور اطاعت رسول کے جس مطالبہ سے یہ کلام چلا ہے اس کو مؤکد کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ اپنے انعامات گنائے ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ اللہ و رسول نے جس راہ کی تمہیں دعوت دی ہے اب تک تم نے دیکھا کہ اس راہ میں ہر قدم پر اس نے تمہیں سہارا دیا ہے۔ تم تھوڑے تھے۔ کمزور اور دبے ہوئے تھے۔ ڈرتے تھے کہ قریش تمہیں اچک نہ لیں تو خدا نے تمہیں مدینہ میں…
Read the full tafseer →26۔ 1 اس میں مکی زندگی کے شدائد و خطرات کا بیان اور اس کے بعد مدنی زندگی میں مسلمان جس آرام و راحت اور آسودگی سے بفضل الٰہی ہمکنار ہوئے، اس کا تذکرہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
15: اس آیت کریمہ میں ایک اور اہم حکم بیان فرمایا گیا ہے، اور وہ یہ کہ ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی ذات کی حد تک شریعت پر عمل کرلے، اس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اگر معاشرے میں کوئی برائی پھیل رہی ہے تو اپنی طاقت کی حد تک اس کو روکنے کی کوشش کرے، اگر لوگ اپنے فریضے میں کوتاہی کریں اور اس برائی کا کوئی وبال آئے تو وہ وبال صرف ان لوگوں کی حد تک محدود نہیں رہے گا جو اس برائی میں براہ راست ملوث تھے ؛ بلکہ جو لوگ اس برائی کا خود تو ارتکاب نہیں کررہے تھے مگر دوسروں کو اس سے روکتے بھی نہیں تھے وہ بھی اس وبال کا شکار ہوں گے۔
Read the full tafseer →ظلم کا مقابلہ کرتے ہوئے چونکہ جانی اور مالی قربانی دینا پڑتی ہے اس لیے قرآن کریم اپنی مخاطب پہلی جماعت مسلمہ کو یہ یاد دلاتا ہے کہ تم یاد کرو کہ تم ضعیف تھے اور سازوسامان کے اعتبار سے قلیل تھے۔ تم مصائب سے دوچار تھے اور ہر وقت تم پر خوف و ہراس کی فضا چھائی رہتی تھی ، لیکن دعوت اسلامی کی پناہ میں تم آئے تو تم معزز مالدار اور رزق طیب کے مالک بن گئے۔ لہذا تم اس دعوت کی طرف سے غافل نہ ہوجاؤ جس میں تمہارے لیے آب حیات ہے ، جو اللہ کا عطیہ ہے اور اللہ ہی اس کا حامی ہے۔
وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ…
Read the full tafseer →5 یعنی اپنی قلت و ضعف کو خیال کر کے خدا کا حکم (جہاد) ماننے میں سستی مت دکھلاؤ۔ دیکھو۔ ہجرت سے پہلے بلکہ اس کے بعد بھی تمہاری تعداد تھوڑی تھی، سامان بھی نہ تھا۔ تمہاری کمزوری کو دیکھ کر لوگوں کو طمع ہوئی تھی کہ تم کو ہضم کر جائیں۔ تمہیں ہر وقت یہ خدشہ رہتا تھا کہ دشمنان اسلام کہیں نوچ کھسوٹ کر نہ لے جائیں۔ مگر خدا نے تم کو مدینہ میں ٹھکانہ دیا، انصار و مہاجرین میں عدیم النظیر رشتہ مواخات قائم کردیا۔ پھر معرکہ بدر میں کیسی کھلی ہوئی غیبی امداد پہنچائی۔ کفار کی جڑ کاٹ دی، تم کو فتح الگ دی، مال غنیمت اور فدیہ اساریٰ الگ دیا، غرض حلال طیب ستھری چیزیں اور انواع و اقسام کی نعمتیں عطا فرمائیں تاکہ…
Read the full tafseer →آیت 26 وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ
یہ آیت خاص طور پر مسلمانان پاکستان پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ برصغیر میں مسلمان اقلیت میں تھے ‘ ہندوؤں کی اکثریت کے مقابلے میں انہیں خوف تھا کہ وہ اپنے حقوق کا تحفظ کرنے میں کمزور ہیں۔ اپنے جان و مال کو درپیش خطرات کے علاوہ انہیں یہ اندیشہ بھی تھا کہ اکثریت کے ہاتھوں ان کا معاشی ‘ سماجی ‘ سیاسی ‘ لسانی ‘ مذہبی وغیرہ ہر اعتبار سے استحاصل ہوگا۔
Read the full tafseer →26 اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر سختیاں :۔ اس آیت کی تشریح کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے جس میں سیدنا ابوذر غفاری ؓ کے ایمان لانے کا ذکر ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان کن مصائب اور حوصلہ شکن حالات سے دو چار تھے۔
سیدنا ابوذر غفاری ؓ کا اسلام لانا :۔ سیدنا ابوذر ؓ خود بیان کرتے ہیں کہ میں غفار قبیلے کا ایک شخص تھا مجھے خبر ملی کہ مکہ میں ایک شخص پیدا ہوا ہے جو اپنے تئیں پیغمبر کہتا ہے۔ میں نے اپنے بھائی (انیس) سے کہا کہ مکہ جا کر اس شخص سے ملو۔ بات چیت کرو اور اس کا حال مجھے آ کر بتلاؤ۔ وہ آپ سے مل کر واپس میرے پاس آیا اور کہا واللہ ! وہ اچھی بات…
Read the full tafseer →39 ۔ (اور اطاعت و اطاعت میں خوب مستعد ہوجاؤ) (آیت) ” اذانتم قلیل “۔ مسلمانوں کو ان کی مکی زندگی قبل ہجرت کی یاد دلائی جارہی ہے۔ (آیت) ” مستضعفون فی الارض “۔ یعنی تعداد میں کم ہونے کے علاوہ مکہ میں بہ لحاظ قوت بھی کمزور ہی شمار کیے جاتے تھے۔ (آیت) ” ان یتخطفکم الناس “۔ الناس سے مراد مخالفین واعداء ہیں۔ (آیت) ” اوکم “۔ یعنی مدینہ میں اطمینان سے جگہ دی۔ (آیت) ” ایدکم بنصرہ “۔ یعنی تمہاری تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ بےسروسامانی بھی نہ رہی۔ (آیت) ” ورزقکم من الطیبت “۔ یعنی تمہیں ہر طرح کی خوش حالی عنایت کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
وَلا تکونوا کالذین قالوا سَمِعْنَا وھم لا یسمَعُوْنَ ، یہاں سننے سے مراد وہ سننا ہے جس کو قبول کرنا اور ماننا کہتے ہیں، اس آیت میں اشارہ ان منافقوں کی طرف ہے جو زبان سے ایمان کا اقرار کرتے تھے مگر احکام کی اطاعت سے منہ موڑ جاتے تھے، سن لینے کے باوجود عمل نہ کرنا کافروں کا شیوہ ہے، تم اس رویہ سے بچو، اگلی آیت میں ایسے ہی لوگوں کو بہرہ اور گونگا بدترین قرار دیا گیا ہے اگر ان میں اللہ تعالیٰ کوئی خیر و خوبی دیکھتا تو ضرور انھیں سنکر سمجھنے کی توفیق عطا کرتا چونکہ ان کے اندر خیر یعنی طلب صادق ہی نہیں اسلئے وہ فہم صحیح سے محروم ہیں، پہلے سماع سے مراد سماع نافع ہے جسے مفسرّ علاّم نے سماع تفہیم کہا…
Read the full tafseer →واذکروا اذ انتم قلیل مستضعفون فی الارض تخفون ان یتخطفکم الناس فاوکم وایدکم بنصرہ ورزقکم من الطیبت لعلکم تشکرون۔ اور اس حالت کو یاد کرو جب تم تھوڑے تھے ‘ اس زمین میں کمزور شمار کئے جاتے تھے۔ تم کو اندیشہ لگا رہتا تھا کہ (مخالف) لوگ تم کو نوچ کھسوٹ (نہ) لیں سو اللہ نے تم کو (مدینہ میں) رہنے کا ٹھکانا دیا اور اپنی نصرت سے تم کو قوت دی اور تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا کیں تاکہ تم شکر کرو۔
واذکروا سے خطاب مہاجروں کو ہے اور قلیلہونے سے مراد ہے تعداد کم ہونا اور الارض سے مراد ہے مکہ اور الناس سے مراد قریش ہیں۔ لیکن ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ حضور اقدس ﷺ سے دریافت کیا گیا : الناس…
Read the full tafseer →(26) اور اگر اے مہاجرین کی جماعت اس وقت کو بھی یاد رکھو جب تم تعداد میں کم تھے اور کمزور سمجھے جاتے تھے۔ سرزمین مکہ میں اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ مکہ والے تمہیں لوٹ نہ لیں یا تمہیں قیدی نہ بنالیں تو ہم نے تم لوگوں کو مدینہ منورہ میں جگہ دی اور بدر کے روز تمہاری مدد کی اور اپنی مدد سے تمہیں قوت دی اور تمہیں مال غنیمت عطا فرمایا تاکہ بدر کے روز جو تمہیں نصرت اور غنیمت حاصل ہوئی اس نعمت خداوندی پر اس کا شکر کرو۔
Read the full tafseer →وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ: اس میں مکی زندگی میں مسلمانوں کی قلت تعداد، سختی اور خوف کا، پھر مدینہ میں ان کو اپنا گھر، امن و سکون اور راحت و آرام ملنے کا ذکر ہے۔ ”اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا“ میں دوسری تمام پاکیزہ نعمتوں کے ساتھ غنیمت کے اموال کا حلال کرنا بھی شامل ہے، کیونکہ یہ پہلی امتوں کے لیے حلال نہیں تھے، بلکہ جلا دیے جاتے تھے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر :26
قولہ تعالیٰ : آیت : واذکروا اذانتم قلیل کلبی نے کہا ہے : یہ آیت مہاجرین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یعنی یہ ہجرت سے پہلے اور ابتدائے اسلام میں ان کی حالت کا بیان ہے۔ مستضعفون یہ صفت ہے فی الارض مراد سر زمین مکہ ہے۔ آیت : تخافون یہ بھی نعت (صفت) ہے۔ آیت : ان یتخطفکم یہ محل نصب میں ہے اور الخطف کا معنی ہے تیزی کے ساتھ کسی چیز کو لے لینا ( اچک لینا) آیت : الناس یہ فاعل ہونے کی بنا پر مرفوع ہے۔ حضرت قتادہ اور عکرمہ رحمۃ اللہ علیہما نے کہا ہے : اس سے مراد مشرکین قریش ہیں۔ وہب بن منبہ نے کہا ہے : یہ اہل فارس اور روم ہیں (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 619) ۔ آیت : فاوکم حضرت ابن عباس ؓ نے…
Read the full tafseer →1۔ ابن منذر وابن جریر وابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” واذکروا اذ انتم قلیل “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ (عرب کا) قبیلہ لوگوں میں سب سے زیادہ ذلیل تھا ذلت کے لحاظ سے اور سب سے زیادہ شقی اور بدبخت تھا زندگی گزرنے کے لحاظ سے اور سب سے انتہائی بھوکا تھا پیٹ کے لحاظ سے اور سب سے زیادہ ننگا تھا بدن کے لحاظ سے۔ اور سب سے زیادہ ظاہر تھا گمراہی کے لحاظ سے۔ پتھروں پر اعتکاف کرنے والے تھے فارس اور روم کے درمیان۔ اللہ کی قسم ان کے شہروں میں ایسے لوگ نہیں تھے جو ان پر حسد کرتے ہوں ان میں سے جس شخص نے زندگی گزاری تو بدبختی والی زندگی گزاری اور جو ان میں سے مرگیا…
Read the full tafseer →[ وَاذْكُرُوْٓا : اور یاد کرو ] [ اِذْ : جب ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ قَلِيْلٌ : اقلیت میں تھے ] [ مُّسْتَضْعَفُوْنَ : کمزور سمجھے جاتے تھے ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ تَخَافُوْنَ : تم لوگ ڈرتے تھے ] [ اَنْ : کہ ] [ يَّتَخَطَّفَكُمُ : اچک لیں گے تم کو ] [ النَّاسُ : لوگ ] [ فَاٰوٰىكُمْ : تو اس نے ٹھکانہ دیا تم کو ] [ وَاَيَّدَكُمْ : اور اس نے تائید کی تمہاری ] [ بِنَصْرِهٖ : اپنی مدد سے ] [ وَرَزَقَكُمْ : اور رزق دیا تم کو ] [ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ : پاکیزہ (چیزوں ) میں سے ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [ تَشْكُرُوْنَ : شکر ادا کرو ]
( آیت ۔ 26) انتم کی خبر اول قلیل ہے اور مستضعفون اس…
Read the full tafseer →مسلمانوں کو ایک بڑے انعام کی یاد دہانی
بدر میں جو اللہ جل شانہٗ نے اہل ایمان کی مدد فرمائی، یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔ واقعہ بدر کی وجہ سے مسلمانوں کو شوکت اور عزت مزید حاصل ہوگئی اور پورے عرب پر دھاک بیٹھ گئی اور قریش مکہ (جو تجارت کے لیے ملک شام آیا جاتا کرتے تھے) کے واسطہ سے قیصر و کسریٰ کو بھی مسلمانوں کی اس فتح یابی کا علم ہوا اور انہیں بھی مسلمانوں کی ابھرتی ہوئی طاقت کا پتہ چل گیا۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو جو کامیابی ہوئی اور مشرکین نے جو بری طرح شکست کھائی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنے اس انعام کا احسان جتایا اور ان کی سابقہ کمزوری کو یاد دلایا اور ارشاد فرمایا کہ تم اپنا وہ وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
ترغیب بر اطاعت وامانت وترہیب از معصیت وخیانت و زجر دوستاں
از مشابہت دشمناں
قال اللہ تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ ذوالفضل العظیم
(ربط) گذشتہ آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اب ان آیات میں اہل ایمان کو ہدایت فرماتے ہیں کہ حق جل شانہ کی معیت اور نصرت اور حمایت کا دارومدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے اگر تم اللہ کی معیت اور اس کی نصرت کے طلبگار ہو تو اس کی دو شرطیں ہیں۔ اول تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی دل وجان سے ایسی اطاعت کرو جس میں خیانت کا شائبہ نہ ہو اس لیے کہ خیانت اطاعت کاملہ میں مخل ہے۔ دوم یہ کہ اہل ایمان پر لازم ہے…
Read the full tafseer →28: یہ تذکیر نعمت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کو خطاب کر کے اپنے انعامات یاد دلائے ہیں۔ پہلے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا اور ان کی نافرمانی سے اجتناب کا حکم دیا گیا۔ اب یہاں انعامات یاد دلا کر اسی حکم کی تاکید کی گئی۔ “ اعلم انه تعالیٰ لما امرھم بطاعة اللہ و طاعة الرسول ثم امرھم باتقاء المعصیة اکدذ ذلک التکلیف بھذه الایة الخ ” (کبیر ج 4 ص 535) وہ وقت یاد کرو جب تم معدودے چند تھے اور ارض مکہ میں کو فروں کے ہاتھوں بےبس، کمزور اور ناتواں تھے تمہیں ہر وقت یہ اندیشہ رہتا تھا کہ کہیں مشرکین تمہاری تکہ بوٹی نہ کر ڈالیں تو ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے مدینہ طیبہ میں تمہیں پناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ربطِ آیات :
اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پروگرام اور اسے قائم کرنے کے لیے اس سورة میں بہت سے اصول بیان کیے گئے ہیں جن پر انسانوں کی کامیابی کا دارومدار ہے اللہ نے پہلا اصول جنگ میں ثابت قدمی کو قراردیا اور حکم دیا کہ دشمن سے مقابلے کے وقت میدانِ جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کرنا ، پھر دوسرا اصول اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ انسانی زندگی سے متعلق کوئی بھی معاملہ ہو ، خواہ صلح وجنگ کا مسئلہ ہی کیوں نہ درپیش ہو ، ہر حالت میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت لازمی ہے فرمایا تم ان اہل کتاب اور منافقین کی طرح نہ ہوجانا جو زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم الہٰی سن لیا ، مگر درحقیقت وہ سنتے ہی نہیں…
Read the full tafseer →وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِہٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 26
قل
القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60]
( ق ل ل ) القلۃ
والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغڑ میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
ولو علم اللّٰہ فیہم الخ کی بابت بعض مفسرین نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ کفار نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی تھی کہ آپ قصی بن کلاب وغیرہ سینکڑوں برس کے مردوں کو زندہ کردیں۔ اگر وہ آپ کی نبوت کی گواہی دیں گے تو ہم بھی مان لیں گے کیونکہ وہ عرب کے بزرگ ہیں۔ اس کے جواب میں یہ جملہ ہے کہ اگر ان میں قابلیت ہوتی تو خدا ان کو سنوا دیتا مگر ان میں قابلیت نہیں۔ اگر وہ زندہ بھی ہوں اور سن بھی لیں تب بھی نہیں مانیں گے۔ اس کے بعد اسی اطاعت کی تاکید فرماتا ہے۔ اس کا نفع بتلا کر اور عدول حکمی کا نقصان جتلا کر فقال لما یحییکم کہ اللہ اور رسول تم کو کسی عبث اور ضرر رسان بات کی طرف نہیں بلاتے بلکہ اس کی طرف جس میں تمہاری…
Read the full tafseer →وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰکُمْ وَ اَیَّدَکُمْ بِنَصْرِہٖ وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ ( الانفال : 26 )
(اور یاد کرو ! جس وقت تم تھوڑے تھے اور ملک میں دبے ہوئے تھے ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک نہ لیں تو اللہ نے تمہیں ٹھکانہ دیا اور اپنی نصرت سے نوازا اور تم کو پاکیزہ نعمتوں کا رزق بخشا تاکہ تم شکر گزار بنو۔ )
اللہ کے خصوصی احسانات کا تذکرہ
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان احسانات کا ذکر فرما رہے ہیں جو مسلمانوں پر بطور خاص کیے گئے ہیں اور جن کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : فتنۂ خاصہ سے بچنے کی تلقین کرنے کے بعد مسلمانوں کو ان کی مکی زندگی کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنا احسان جتلایا ہے اور اس سے نجات کا تذکرہ کیا ہے۔ کیونکہ مکہ میں مسلمان اجتماعی آزمائش میں مبتلا تھے۔
مسلمان مکہ معظمہ میں تھوڑے اور کمزور ہونے کی وجہ سے مشرکین کے مظالم کا اس قدر شکار تھے کہ ہر وقت سہمے اور ڈرے رہتے تھے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے صحابہ ؓ اور رسول کریم ﷺ کی ذات بھی ان مظالم سے محفوظ نہ تھی۔ سر بازار آل یا سر ؓ کو پیٹتے ہوئے حضرت سمیہ ؓ کو دولخت کردیا گیا۔ مزدور صحابہ کی خون پسینے کی کمائی ضبط کرلی گئی، نبی کریم ﷺ اور آپ کے خاندان کو مسلمانوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →سابقہ حالت کو یاد رکھو تاکہ شکریہ کی توفیق ہو :
آیت 26: وَاذکُرُوْٓٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ (اور اس حالت کو یاد کرو جبکہ تم قلیل تھے) اذانتم قلیلمفعول بہٖ ہے ظرف نہیں۔ یعنی اذکروا وقت کو نکم اقلۃ اذلۃً اپنی قلت و کمزوری کے وقت کو یاد کرو۔ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ (زمین میں کمزور شمار کئے جاتے تھے) ہجرت سے قبل سرزمین مکہ میں قریش نے تمہیں کمزور بنا رکھا تھا۔ تَخَافُوْنَ اَنْ یّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ (اور تم اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لیں) کیونکہ وہ لوگ مسلمانوں کے مخالف اور دشمن تھے۔ فَاٰ وٰکُمْ (پھر اس نے رہنے کی جگہ دی) مدینہ میں وَ اَیَّدَکُمْ بِنَصْرِہٖ (اور تم…
Read the full tafseer →تفسیر 26 (واذ کروا اذ انتم قلیل مستصعفون فی الارض) یعنی اے مہاجروں کی جماعت یاد کرو جب تم عدد میں تھوڑے تھے اور ابتداء اسلام میں مکہ کی زمین میں کمزور تھے (تخافون ان یتخطفکم الناس) یعنی کفار عرب تم ک لے جائیں ار عکرمہ فرماتے ہیں کفار مکہ وہب (رح) فرماتے ہیں کہ فارس اور روم مراد ہیں (فاو کم ) م دینہ میں (وایدکم بنصرہ) یعنی بدر کے دن انصار کے ذریعے تمہیں قوت دی اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ بدر کے دن فرشتوں کے ذریعے قوت دی (ورزقکم من الطیبت) یعنی مال غنیمت جو تمہارے لئے حلال کیا گیا اس سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھا (لعلکم تشکرون)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25۔ 26۔ یہ خاص لوگوں کے بدعمل کرنے کے سبب سے عام لوگوں پر بلا آجانے کا ذکر ہے جس کے خوف سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس آیت میں ڈرایا ہے تفسیر اس آیت کی اس حدیث میں ہے جس کو ابن ماجہ اور امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں چند صحابہ سے روایت کیا ہے حاصل ان روایتوں کا یہ ہے کہ جب کچھ لوگ کسی بستی میں بداعمالی کرنے لگیں گے اور اس بستی کے باقی لوگ ان بداعمال لوگوں کو وعظ نصیحت سے اس بداعمالی سے نہ روکیں گے تو اس طرح کی ساری بستی پر بلا آوے گی یہ حدیث سن کر لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت اس بستی میں نیک عمل کرنے والے جو لوگ تھے ان کے نیک عملوں کا کیا نتیجہ ہوا آپ نے فرمایا مرنے کے بعد ان کے عملوں کا بدلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
آیت 26
(1) المسند، 112/3 ۔۔۔ (2) صحیح مسلم، القدر، ح : 265
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسان کا تذکرہ کرتا ہے کہ وہ کمزور اور مغلوب تھے، اس نے ان کو اپنی نصرت سے نوازا، وہ قلیل تھے اس نے ان کو کثرت عطا کی اور وہ تنگ دست تھے، اس نے ان کو فراخی عطا کی۔ چناچہ فرمایا : (واذکروآ اذ انتم قلیل مستضعفون فی الارض) ” اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے، کمزور تھے زمین میں “ یعنی تم غیروں کی حکومت میں محکوم و مجبور تھے (تخافون ان یتخطفکم الناس) ” تم ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لیں “ (فآولکم و ایدکم بنصرہ ورزقکم من الطیبت) ” تو اس نے تمہیں جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت دی اور پاکیزہ چیزیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
فتنہ کا مفہوم
قول باری ہے واتقوافتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ۔ اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف ان ہی لوگوں تک محدود رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو) الفتنۃ کی تفسیر میں کئی اقوال منقول ہیں۔ حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ اس کے معنی وہی ہیں جو اس آیت انما اموالکم والولادکم فتنۃ۔ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں) میں موجود لفظ فتنہ کے ہیں حسن کا قول ہے کہ فتنہ وبال اور آفت کو کہتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد عذاب ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ اس شادمانی کا نام ہے جس کے تحت لوگ مست ہو کر ظلم ڈھانے پر اتر آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →41 اللہ کے انعام کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے یہ ہدایت فرمائی گئی کہ تم لوگ اللہ پاک کے اس عظیم الشان انعام و احسان کو یاد کرو اور ہمیشہ یاد رکھو تاکہ اس طرح تم لوگوں کو قدرت کے ان عظیم الشان انعامات اور احسانات کا احساس ہو سکے جن سے اس نے تم لوگوں کو نوازا اور سرفراز فرمایا ہے۔ تاکہ تم لوگ دل و جان سے ان کی قدر کرسکو اور ان پر اس کا شکر ادا کرسکو۔ سو اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کرنا اور ان پر اس کا شکر ادا کرنا دینی تعلیمات کا ایک اہم تقاضا ہے کہ اس میں انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے کہ شکر نعمت سے نعمت میں خیر و برکت نصیب ہوتی ہے اور اس کی حفاظت ہوتی ہے۔ اور شکر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
ماضی کی یاد سے مستقبل سنوارنا اور تقو ٰ ی کے فوائد
تشریح : جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ قرآن مجید ہدایت کی آخری کتاب اور انسان کے لیے قانون زندگی ہے ان آیات میں بھی چند ایسے اچھے اصول بتائے گئے ہیں جو کردار کو مضبوط کرتے ہیں اور نجات کا ذریعہ بنتے ہیں اس زندگی میں رحمت، برکت، آسائش و آرام کا ذریعہ بنتے ہیں۔
-1 فتنہ سے بچو اس میں ہر قسم کی برائی شامل ہے۔ خود بچو اگر غلطی ہوجائے تو چپکے سے اللہ سے معافی مانگ لو، گناہ کی تشہیر نہ کرو۔
-2 پھر نیکی کرو، برائی سے منع کرو، کیونکہ برائی جب پھیلنا شروع ہوتی ہے تو پھر اس کے برے اثرات ہر جگہ پھیلتے ہیں پھر جب اس برائی کی وجہ سے اللہ کا عذاب آتا ہے تو سب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
آیات 20 تا 28
اسرار و معارف
معیت باری
بات جب معیت باری کی ہوئی تو یہ مشروط طور پر ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے چناچہ مومنین کو حقیقت ایمان سے آگاہ فرمایا جارہا ہے تاکہ انہیں اللہ کی معیت حاصل رہے ورنہ ایمان میں کمزوری برکات معیت میں کمی کا باعث بن جائے گی جیسا کہ فی زمانہ مشاہدہ ہے کہ مسلمان سے عمل چھوٹا تو اس کے نتیجے میں ایمان کمزور ہوا اور ایمان کی کمزوری نے برکات معیت میں کمی کردی چناچہ جہاں کہیں مسلمان ہیں وہاں طوفانوں کی زد پر ہیں اور کہیں سے خیریت کی خبر نہیں مل رہی اللہ ہمیں معاف فرمائیں تو اسی مرض کا علاج شافی ارشاد ہورہا ہے کہ اے ایمان والو اللہ کی اطاعت اختیار…
Read the full tafseer →ف 7 جیسے مال غنیمت جو تم سے کسی امت کے لیے حلال نہ تھا۔ ( کبیر )
Read the full tafseer →(8:26) مستضعفون۔ اسم مفعول۔ جمع مذکر۔ (باب استفعال) استضعاف سے ناتواں اور کمزور سمجھے گئے۔ عاجز پائے جانے والے لوگ ۔ یعنی تمہیں حقیر اور ناتواں خیال کیا جاتا تھا۔
یتخطفکم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول ۔ جمع مذکر حاضر۔ تخطف (تفعل) مصدر۔ کہ تم کو اچک لیں۔ تم کو جھپٹ لیں۔ خطف یخطب (ضرب) و اختطف یختطف اختطاف (افتعال) کسی چیز کو سرعت سے اچک لینا۔ یکاد البرق یخطف ابصارھم (2:20) قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں کی بصارت کو اچک لے۔
ویتخطف الناس من حولہم (29:67) اور لوگ ان کے گرد و نواح سے اچک لئے جاتے ہیں۔
اولکم۔ اس نے تم کو ٹھکانہ دیا۔ اس نے جگہ دی۔ ایواء سے ماضی واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیات : 25 تا 26
لغات القرآن۔
لا تصیبن۔ تمہی نہیں پہنچے گا۔ یتخطف۔ وہ اچک لے گا۔ اوی۔ اس نے ٹھکانا دیا۔ اید۔ اس نے قوت دی۔ بنصرہ۔ اپنی مدد سے ۔
تشریح : قرآن کریم میں اس بات کو بار بار ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب کسی بستی میں کوئی وبا آتی ہے تو اس کی لپیٹ میں صرف وہی لوگ نہیں آتے جنہوں نے گندگی پھیلا کر وبا کو دعوت دی ہے بلکہ وہ تمام لوگ بھی آجاتے ہیں جو اپنی انفرادی زندگی مین بہت صاف ستھرے رہے ہوں۔ اسی طرح جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو اس کی زد مین نہ صرف قصور اور خطار کار پکڑے جاتے ہیں بلکہ وہ سب لوگ بھی آجاتے ہیں جو شخصی زندگی میں بڑے پاک دامن ہیں۔
اس لئے ہر صاحب ایمان پر فرض ہے کہ وہ ان گناہوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
وبا میں مرنے کے بعد نیک و بد اعمال کا ذکر
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کچھ لوگ بستی میں بد اعمالی کرنے لگیں گے اور اس بستی کے باقی لوگ ان بد اعمال لوگوں کو وعظ و نصیحت سے اس بد اعمالی سے نہ روکیں گے، تو اسی طرح کی ساری بستی پر بلا آوے گی۔ یہ سن کر لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا :” حضرت اس بستی میں نیک عمل کرنے والے جو لوگ تھے ان کے نیک عملوں کا کیا نتیجہ ہوا “۔ آپ نے فرمایا :” مرنے کے بعد ان کے عملوں کا بدلہ ان کو ملے گا مگر دنیا میں تو تمام بستی ہر بلا آجاوے گی “۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس بستی میں خلاف شریعت کام ہوتے ہوں وہاں جن لوگوں کو وعظ ونصیحت کی طاقت ہو وہ ہرگز وعظ و نصیحت سے باز نہ رہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
[8] یعنی صرف وہی لوگ مبتلائے عذاب نہ ہوں گے جنہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا بلکہ وہ لوگ بھی عذاب کی لپیٹ میں آجائیں گے جنہوں نے گناہ کرنے والوں کو گناہ کرنے سے منع نہیں کیا۔ اسلام اپنے پیروؤں کو صرف صالح ہی نہیں بلکہ اپنی وسعت اور بساط کے مطابق مصلح بھی دیکھنا چاہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
(ف 1) یعنی اللہ کا شکریۃ ادا کرتے رہو ، تم قلیل وکمزور تھے تمہیں طاقت وقوت بخشی تم اطمینان و فراغت سے محروم تھے ، اللہ نے جگہ دی ، اور اطمینان بخشا ۔
حل لغات :
استجیبوا : قبول کرو ، اور مان لو ،
یحول : حائل ہوجاتا ہے ،
فتنۃ : عذاب ودیوانگی یعنی اولاد کی محبت میں بسا اوقات انسان ایثار وقربانی سے محروم رہتا ہے ۔
Read the full tafseer →26 اور اس حالت کو اور اس وقت کو یاد کرو جب تم تعداد میں بہت تھوڑے تھے اور سرزمین مکہ میں کمزور سمجھے جاتے تھے تم اس بات سے ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں تم کو کفار اچک نہ لے جائیں اور تم پر حملہ اور قتل و غارتگری نہ کردیں پھر اللہ تعالیٰ نے تم کو ٹھکانا دیا اور اپنی مدد سے تم کو قوت دی اور عمدہ عمدہ چیزیں تم کو کھانے کو دیں تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار رہو۔ یعنی مکہ کی ابتدائی زندگی بہت ہی خطرناک تھی مسلمانوں کی تعداد کم تھی کوئی سیاسی اقتدار نہ تھا دشمنوں کا غلبہ تھا دشمن آسمانی تہذیب سے ناواقف تھا جاہل تھا اس لئے اس کی جہالت سے ہر وقت اندیشہ تھا کہ نہ معلوم کس وقت حملہ کردے اور مٹھی بھر مسلمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
ف 1۔ یعنی قبل ہجرت۔
2۔ یعنی مکہ۔
Read the full tafseer →اس بات کو کبھی نہ بھولو کہ تم کمزور تھے اور اللہ نے تم کو طاقتور بنادیا :
37: جیسا کہ پیچھے آپ پڑھ چکے میدان بدر میں آنے والے سارے مسلمان نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کی کافی تعداد ابھی مدینہ منورہ میں موجود تھی کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عام اعلام جنگ نہیں کیا تھا بلکہ واضح طور پر ارشاد فرمایا تھا کہ جو ہمارے ساتھ نکلنا چاہیں وہ نکل چلیں یہی وجہ ہے کہ اس لشکت کی گنتی بھی مدینہ سے باہر کافی دور تک نکلنے کے بعد کی گئی تھی۔ تاہم میدان جنگ میں آنے والوں کی تعداد تھوڑی تھی۔ فرمایا تو اس وقت بلاشبہ مخالفین کے مقابلہ میں تھوڑے تھے لیکن وہ وقت بھی یاد کرو جب مکہ میں تمہاری تعداد بالکل نہ ہونے کے برابر تھی لیکن…
Read the full tafseer →The second verse (26) also mentions several things which could make Divine injunctions easy on them. To pursuade them towards the option of obedience to Allah, Muslims have been reminded of their past weakness and of how Allah has blessed them with power and confidence by changing surrounding conditions through His grace and mercy. The text says:
وَاذْكُرُوا إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌ مُّسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿26﴾
And remember when you were few in number,…
Read the full tafseer →21. The reference to gratefulness in the verse is worthy of reflection. Bearing in mind the subject under discussion, it appears that gratefulness does not simply mean that Muslims should acknowledge God's favour to them insofar as He rescued them from their state of abject weakness. God had not only salvaged them from an insecure life in Makka and provided them with a haven of security in Madina where they enjoyed an abundance of livelihood. Gratefulness does not simply require all that. Apart from acknowledging God's favour, gratefulness also demands that Muslims should faithfully obey God…
Read the full tafseer →