برائیوں سے نہ روکنا عذاب الٰہی کا سبب ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے کہ اس امتحان اور اس محنت اور فتنے کا خوف رکھو جو گنہگاروں بدکاروں پر ہی نہیں رہے گا بلکہ اس بلاء کی وبا عام ہوگی۔ حضرت زبیر سے لوگوں نے کہا کہ اے ابو عبداللہ تمہیں کونسی چیز لائی ہے ؟ تم نے مقتول خلیفہ کو دھوکہ دیا پھر اس کے خون کے بدلے کی جستجو میں تم آئے اس پر حضرت زبیر ؓ نے فرمایا ہم آنحضرت ﷺ اور حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں اس آیت (واتقوا الخ) ، کو پڑھتے تھے لیکن یہ خیال بھی نہ تھا کہ ہم ہی اس کے اہل ہیں یہاں تک کہ یہ واقعات رونما ہوئے اور روایت میں ہے کہ عہد نبوی میں ہی ہم اس آیت سے ڈرا دئے گئے تھے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْفَال 20
س سے مراد وہ اجتماعی فتنے ہیں جو وبائے عام کی طرح ایسی شامت لاتے ہیں جس میں صرف گناہ کرنے والے ہی گرفتار نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں جو گناہ گار سوسائٹی میں رہنا گوارا کرتے رہے ہوں۔ مثال کے طور پر اس کو یوں سمجھیے کہ جب تک کسی شہر میں گندگیاں کہیں کہیں انفرادی طور پر چند مقامات پر رہتی ہیں۔ ان کا اثر محدود رہتا ہے اور ان سے وہ مخصوص افراد ہی متاثر ہوتے ہیں۔ جنہوں نے اپنے جسم اور اپنے گھر کو گندگی سے آلودہ کر رکھا ہو۔ لیکن جب وہاں گندگی عام ہوجاتی ہے اور کوئی گروہ بھی سارے شہر میں ایسا نہیں ہوتا جو اس خرابی کو روکنے اور صفائی کا انتظام کرنے کی سعی کرے تو پھر ہوا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (جس طرح تم پر اپنی اصلاح کے متعلق اطاعت واجب ہے اسی طرح یہ بھی اطاعت واجبہ میں داخل ہے کہ بقدر وسع دوسروں کی اصلاح میں بطریق امر بالمعروف و نہی عن المنکر بالید یا باللسان ترک اختلاط یا نفرت بالقلب جو کہ آخری درجہ ہے کوشش کرو ورنہ درصورت مداہنت ان منکرات کا وبال جیسا مرتکبین منکرات پر واقع ہوگا ایسا ہی کسی درجہ میں ان مداہنت کرنے والوں پر بھی واقع ہوگا جب یہ بات ہے تو) تم ایسے وبال سے بچو کہ جو خاص ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں ان گناہوں میں مرتکب ہوئے ہیں (بلکہ ان گناہوں کو دیکھ کر جنہوں نے مداہنت کی ہے وہ بھی اس میں شریک ہوں گے اور اس سے بچنا یہی ہے کہ مداہنت مت کرو)…
Read the full tafseer →وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّةً ۚوَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔ یہ خطاب پورے معاشرے سے عموما ان لوگوں سے خصوصاً ہے جن پر انفرادی اصلاح کا رجحان غالب تھا اور اس رجحان کے سبب سے انہیں اس امر سے کچھ زیادہ تعلق خاطر نہ تھا کہ دوسرے لوگ کیا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو جھجنھوڑنے کے لیے فرمایا کہ اپنے معاشرے کے اندر ابھرنے والی خرابیوں سے بےتعلق نہ رہو بلکہ اپنے امکان اور اپنی صلاحیت کے حد تک اس کی اصلاح کی کوشش کرو اس لیے کہ معاشرے میں اگر کوئی خرابی جڑ پکڑ لے تو وہ بالتدریج ایک وبائے عا کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور جب وبائے عام کی صورت…
Read the full tafseer →25۔ 1 اس سے مراد یا تو بندوں کا ایک دوسرے پر تسلط ہے جو بلا تخصیص، عام و خاص پر ظلم کرتے ہیں، یا وہ عام عذاب ہیں جو کثرت بارش یا سیلاب وغیرہ اراضی و سماوی آفات کی صورت میں آتے ہیں اور نیک اور بد سب ہی ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ یا بعض احادیث میں امر بالمعروف و نہی ترک کی وجہ سے عذاب کی جو وعید بیان کی گئی ہے، مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
15: اس آیت کریمہ میں ایک اور اہم حکم بیان فرمایا گیا ہے، اور وہ یہ کہ ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی ذات کی حد تک شریعت پر عمل کرلے، اس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اگر معاشرے میں کوئی برائی پھیل رہی ہے تو اپنی طاقت کی حد تک اس کو روکنے کی کوشش کرے، اگر لوگ اپنے فریضے میں کوتاہی کریں اور اس برائی کا کوئی وبال آئے تو وہ وبال صرف ان لوگوں کی حد تک محدود نہیں رہے گا جو اس برائی میں براہ راست ملوث تھے ؛ بلکہ جو لوگ اس برائی کا خود تو ارتکاب نہیں کررہے تھے مگر دوسروں کو اس سے روکتے بھی نہیں تھے وہ بھی اس وبال کا شکار ہوں گے۔
Read the full tafseer →اس کے بعد اہل ایمان کو اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ وہ کہیں جہاد فی سبیل اللہ کے عمل کو چھوڑ نہ دیں اور اس دعوت کو چھوڑ نہ دیں جو آب حیات ہے۔ کیونکہ جہاد کا مطلب دنیا سے منکر کو مٹانا ہے ، جو سب کے لیے مضر ہے۔
فتنہ کیا ہے ؟ ابتلا اور مصیبت فتنہ ہے۔ اور وہ سوسائٹی جو اپنے بعض نادانوں کو کسی بھی صورت میں ظلم کرنے دیتی ہے ، اور ظالموں کی راہ نہیں روکتی ان کا مقابلہ نہیں کرتی ، یہ سوسائٹی اس بات کی مستحق ہے کہ وہ پوری کی پوری فساد کی لپیٹ میں آجائے۔ یاد رہے کہ اسلامی شریعت اور اسلامی نظام کی راہ میں رکاوت ڈالنے سے اور کوئی بڑا فساد نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اسلام ایک نظام ہے جس کے تمام اجزاء ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →4 یعنی فرض کیجئے ایک قوم کے اکثر افراد نے ظلم و عصیان کا وتیرہ اختیار کرلیا، کچھ لوگ جو اس سے علیحدہ رہے انہوں نے مداہنت برتی، نہ نصیحت کی نہ اظہار نفرت کیا تو یہ فتنہ ہے جس کی لپیٹ میں وہ ظالم اور یہ خاموش مداہن سب آجائیں گے۔ جب عذاب آئے گا تو حسب مراتب سب اس میں شامل ہوں گے کوئی نہ بچے گا۔ اس تفسیر کے موافق آیت سے مقصود یہ ہوگا کہ خدا و رسول کی حکم برداری کے لیے خود تیار رہو اور نافرمانوں کو نصیحت و فہمائش کرو نہ مانیں تو بیزاری کا اظہار کرو۔ باقی حضرت شاہ صاحب نے آیت کا مطلب یہ لیا ہے کہ مسلمانوں کو ایسے فساد (گناہ) سے بالخصوص بچنا چاہیے جس کا خراب اثر گناہ کرنے والے کی ذات سے متعدی ہو کر…
Read the full tafseer →آیت 25 وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لاَّ تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً ج
یہ بھی قانون خداوندی ہے اور اس سے پہلے بھی اس قانون کا حوالہ دیا جا چکا ہے۔ یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ کسی جرم کا براہ راست ارتکاب کرنا ہی صرف جرم نہیں ہے ‘ بلکہ کسی فرض کی عدم ادائیگی کا فعل بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ مثلاً ایک مسلمان ذاتی طور پر گناہوں سے بچ کر بھی رہتا ہے اور نیکی کے کاموں میں بھی حتی الوسع حصہ لیتا ہے۔ وہ صدقہ و خیرات بھی دیتا ہے اور نماز ‘ روزہ کا اہتمام بھی کرتا ہے۔ یہ سب کچھ تو وہ کرتا ہے مگر دوسری طرف اللہ اور اس کے دین کی نصرت ‘ اقامت دین کی جدوجہد اور اس جدوجہد میں اپنے مال اور…
Read the full tafseer →25 برائی کو روکنا ہر ایک پر واجب ہے :۔ اس آیت میں اجتماعی زندگی کے فتنہ سے بچاؤ اور نھی عن المنکر کے فریضہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ فرض کیجئے کہ کسی معاشرہ میں اللہ کے رسول کی نافرمانی یا کوئی برائی پیدا ہوتی ہے اور لوگ اس کا بروقت نوٹس نہیں لیتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ برائی معاشرہ میں پھیل جاتی ہے تو اس برائی کی پاداش میں اللہ کی طرف سے جو عذاب آئے گا وہ سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ یہ ممکن نہ رہے گا کہ جو لوگ یہ برائی کا کام نہیں کرتے تھے وہ بچ جائیں۔ کیونکہ ان لوگوں کا جرم یہ ہوتا ہے کہ جب وہ برائی پیدا ہوئی یا بڑھنے لگی تھی تو اس وقت انہوں نے اسے روکنے میں غفلت کیوں کی تھی،…
Read the full tafseer →38 ۔ (بلکہ ان گنہگاروں کے علاوہ ان لوگوں پر بھی اس کا وبال پڑے گا۔ جنہوں نے باوجود کسی حد تک قدرت رکھنے کے ان گناہوں کو روکنے کی کوشش نہ کی، اور خود بھی اس طرح جرم مداہنت کے مرتکب ہوئے یا شریک جرم رہے) اسلام امت کو جس بلند معیار پر دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے افراد کا زمرۂ صالحین میں ہونا کافی نہیں، بلکہ ہر فرد بشر کا بہ قدر اپنی وسعت و بساط کے مصلح ہونا بھی ضروری ہے۔ اس لیے جرم ومجرم سے مداہنت اسلام کے اندر خود ایک جرم ہے۔” جس طرح اپنی اصلاح کے متعلق طاعت واجب ہے، اسی طرح یہ بھی طاعت واجبہ میں داخل ہے کہ بہ قدر وسع دوسروں کی اصلاح میں بہ طریق امر بالمعروف ونہی عن المنکر بالید یا باللسان یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
وَلا تکونوا کالذین قالوا سَمِعْنَا وھم لا یسمَعُوْنَ ، یہاں سننے سے مراد وہ سننا ہے جس کو قبول کرنا اور ماننا کہتے ہیں، اس آیت میں اشارہ ان منافقوں کی طرف ہے جو زبان سے ایمان کا اقرار کرتے تھے مگر احکام کی اطاعت سے منہ موڑ جاتے تھے، سن لینے کے باوجود عمل نہ کرنا کافروں کا شیوہ ہے، تم اس رویہ سے بچو، اگلی آیت میں ایسے ہی لوگوں کو بہرہ اور گونگا بدترین قرار دیا گیا ہے اگر ان میں اللہ تعالیٰ کوئی خیر و خوبی دیکھتا تو ضرور انھیں سنکر سمجھنے کی توفیق عطا کرتا چونکہ ان کے اندر خیر یعنی طلب صادق ہی نہیں اسلئے وہ فہم صحیح سے محروم ہیں، پہلے سماع سے مراد سماع نافع ہے جسے مفسرّ علاّم نے سماع تفہیم کہا…
Read the full tafseer →واتقوا فتنۃً لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃً ج اور اس معصیت سے اجتناب کرو جس کا وبال صرف انہی لوگوں کو نہیں پہنچے گا جنہوں نے ظلم کیا ہوگا بلکہ ظالم اور غیر ظالم سب کو اس کی مصیبت پہنچے گی۔ لاَّتُّصِیْبَنَّ کی ضمیر فتنہ کی طرف راجع ہے اور فتنہ کے پہنچنے سے مراد ہے فتنہ کا نتیجۂ بد کا پہنچا۔ لاتصیبن نہی کا صیغہ ہے اور یہ فتنہ کی صفت ہے (صفت کا موصوف پر حمل ہوتا ہے مگر نہی انشاء ہے اور انشاء کا حمل نہیں ہوتا ‘ اسلئے) لفظ یقالمحذوف ہے ‘ یعنی ایسی معصیت سے بچو جس سے کہا جائے گا کہ تیرا وبال صرف ظالم کو ہی نہ پہنچے بلکہ ظالم اور غیر ظالم سب کو پہنچے۔ یا نفی کا صیغہ ہے اور چونکہ یہ نفی نہی کے معنی…
Read the full tafseer →(25) اور تم لوگ ہر ایک مصیبت سے بچو جو کہ ظالم ومظلوم سب کو شامل ہوگی ،
Read the full tafseer →وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا : ”فِتْنَةً“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ”عظیم فتنہ“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ متعدد احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ جب کسی قوم میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ سرانجام نہ دیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس پر ہمہ گیر عذاب بھیج دیتا ہے۔ (ابن کثیر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے، یا پھر اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے گا، پھر تم اس سے دعا کرو گے مگر وہ تمہاری دعا قبول نہیں کرے گا۔“ [ أحمد : 5؍ 388، 389، ح : 23301، عن حذیفۃ بن یمان ؓ وحسنہ شعیب أرنؤوط…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 25
اس میں دو مسئلے ہیں ؛
مسئلہ نمبر 1 :
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے درمیان منکر اور گناہ کو جڑ نہ پکڑنے دیں کہ ان تمام کو عذاب عام ہوجائے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 515) ۔ ( اور بعض لوگوں کے گناہ کے سبب وہ سارے اس عذاب کی لپیٹ میں آجائیں) اسی طرح حضرت زبیر بن عوام ؓ نے بھی اس کی تاویل کی ہے کیونکہ انہوں نے جمل کے دن کہا اور وہ 36 ھ کا زمانہ تھا : آج مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ اس آیت سے ہم ہی مراد لیے گئے ہیں اور میں اس کو اسی کے بارے گمان کر رہا ہون جسے اس وقت مخاطب بنایا گیا۔ اور اسی طرح حضرت حسن بصری (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ…
Read the full tafseer →1۔ احمد والبزار وابن المنذر وابن مردویہ وابن عساکر نے مطرف (رح) سے روایت کیا کہ ہم نے زبیر ؓ سے عرض کیا اے ابوعبداللہ تم نے خلیفہ کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ ان کو شہید کردیا گیا پھر تم اس کے خون کا مطالبہ کرنے کے لئے آئے ہو زبیر نے فرمایا ہم نے رسول اللہ ﷺ ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ کے زمانہ میں ہم نے پڑھا (آیت) ” واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ “۔ اور ہم نے یہ خیال نہ کیا کہ ہم ہی اس کے اہل ہوں گے یہاں تک کہ یہ ہم ہی میں واقع ہوگا جیسے ہی واقع ہوچکا ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید ونعیم بن حماد نے فتن میں وابن جریر، ابن المنذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ نے زبیر ؓ نے بیان…
Read the full tafseer →[ وَاتَّقُوْا : اور تم لوگ بچو ] [ فِتْنَةً : ایک ایسی آزمائش سے جو ] [ لَّا تُصِيْبَنَّ : ہرگز نہیں پہنچے گی ] [ الَّذِيْنَ : (صرف) ان لوگوں کو (ہی ) جنھوں نے ] [ ظَلَمُوْا : ظلم کیا ] [ مِنْكُمْ : تم میں سے ] [ خَاۗصَّةً : خاص کرنیوالی ہوتے ہوئے ] [ ۚوَاعْلَمُوْٓا : اور جان لو ] [ اَنَّ : کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ شَدِيْدُ الْعِقَابِ : پکڑ کا سخت ہے ]
( آیت ۔ 25) فتنۃ نکرہ مخصوصہ ہے جبکہ لا تصیبن سے آگے پورا جملہ اس کی خصوصیت ہے۔
Read the full tafseer →ایسے فتنہ سے بچو جو خاص کر گناہگاروں پر واقع نہ ہوگا
اس آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ گناہوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے جو فتنہ یعنی عذاب اور و بال آتا ہے وہ صرف انہی لوگوں کو محدود نہیں رہتا جنہوں نے گناہ کیے بلکہ دوسرے لوگ بھی اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
احادیث شریفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دینے کی وجہ سے جب گناہ گاروں پر عذاب آتا ہے تو وہ لوگ بھی اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو ان گناہوں کے مرتکب نہیں جن کی وجہ سے عذاب آیا لیکن چونکہ ان لوگوں نے گناہوں سے روکنے کا فریضہ ادا نہیں کیا اور اپنی نیکیوں میں لگے رہے اور گناہگاروں کو گناہوں سے نہیں روکا اس لیے یہ لوگ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
ترغیب بر اطاعت وامانت وترہیب از معصیت وخیانت و زجر دوستاں
از مشابہت دشمناں
قال اللہ تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ ذوالفضل العظیم
(ربط) گذشتہ آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اب ان آیات میں اہل ایمان کو ہدایت فرماتے ہیں کہ حق جل شانہ کی معیت اور نصرت اور حمایت کا دارومدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے اگر تم اللہ کی معیت اور اس کی نصرت کے طلبگار ہو تو اس کی دو شرطیں ہیں۔ اول تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی دل وجان سے ایسی اطاعت کرو جس میں خیانت کا شائبہ نہ ہو اس لیے کہ خیانت اطاعت کاملہ میں مخل ہے۔ دوم یہ کہ اہل ایمان پر لازم ہے…
Read the full tafseer →27: زجر مع تخویف اور ایسے گناہ اور فتنہ سے بچو جس کے برے ارات نہ صرف اس کے بلا واسطہ مرتکب تک محدود رہیں بلکہ قوم کے دوسرے افراد بھی ان کی لپیٹ میں آجائیں مثلاً جہاد میں سستی اور کمزوری دکھانا اس کا خمیازہ نہ صرف مجاہدین کو بلکہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں مداہنت جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بدعات و منکرات عام ہوجائیں اور پورا معاشرہ تباہ ہو کر رہ جائے گا۔
بےادب تنہا نہ خود را دشت بد بلکہ آتش در ہمہ آفاق زد
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ربطِ آیات :
اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پروگرام اور اسے قائم کرنے کے لیے اس سورة میں بہت سے اصول بیان کیے گئے ہیں جن پر انسانوں کی کامیابی کا دارومدار ہے اللہ نے پہلا اصول جنگ میں ثابت قدمی کو قراردیا اور حکم دیا کہ دشمن سے مقابلے کے وقت میدانِ جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کرنا ، پھر دوسرا اصول اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ انسانی زندگی سے متعلق کوئی بھی معاملہ ہو ، خواہ صلح وجنگ کا مسئلہ ہی کیوں نہ درپیش ہو ، ہر حالت میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت لازمی ہے فرمایا تم ان اہل کتاب اور منافقین کی طرح نہ ہوجانا جو زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم الہٰی سن لیا ، مگر درحقیقت وہ سنتے ہی نہیں…
Read the full tafseer →وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّۃً 0 ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ 25
وقی
الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11]
( و ق ی ) وقی ( ض )
وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔
فتن
أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
ولو علم اللّٰہ فیہم الخ کی بابت بعض مفسرین نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ کفار نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی تھی کہ آپ قصی بن کلاب وغیرہ سینکڑوں برس کے مردوں کو زندہ کردیں۔ اگر وہ آپ کی نبوت کی گواہی دیں گے تو ہم بھی مان لیں گے کیونکہ وہ عرب کے بزرگ ہیں۔ اس کے جواب میں یہ جملہ ہے کہ اگر ان میں قابلیت ہوتی تو خدا ان کو سنوا دیتا مگر ان میں قابلیت نہیں۔ اگر وہ زندہ بھی ہوں اور سن بھی لیں تب بھی نہیں مانیں گے۔ اس کے بعد اسی اطاعت کی تاکید فرماتا ہے۔ اس کا نفع بتلا کر اور عدول حکمی کا نقصان جتلا کر فقال لما یحییکم کہ اللہ اور رسول تم کو کسی عبث اور ضرر رسان بات کی طرف نہیں بلاتے بلکہ اس کی طرف جس میں تمہاری…
Read the full tafseer →وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً ج وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ (الانفال : 25 )
(اور بچو اس فتنہ سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انہی لوگوں تک نہیں پہنچے گی جنھوں نے جرم کا ارتکاب کیا ہوگا اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ )
فتنہ سے بچو
معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں خطاب صرف منافقین اور کمزور مسلمانوں سے ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں سے ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بعض لوگوں کی بےحسی، ناقدری یا اندھی مخالفت سے تنگ آکر صحابہ کرام نے مسلمانوں میں ایسے عناصر کی طرف سے اپنا رخ پھیرلیا ہے اور یہ سمجھنے لگے تھے کہ ان پر اب وقت ضائع…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان سے لاپروائی کریں گے اور آخرت کو بھول جائیں گے تو پھر فتنوں کا شکار ہوں گے۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات کو انسان کے لیے حیات بخش قرار دیا گیا ہے۔ یعنی مسلمان اور امت کی بقا اسی وقت تک ہے۔ جب تک اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے رہیں گے۔ جب مسلمان اس کو چھوڑ دیں گے تو پھر من حیث القوم آزمائش اور فتنوں کا شکار ہوں گے۔ اس سے یہاں ڈرایا گیا ہے کہ اے مسلمانو اس آزمائش سے بچو جس میں صرف برے لوگ ہی نہیں مبتلا ہوں گے بلکہ اس آزمائش اور فتنہ کی لپیٹ میں مخلص مسلمان بھی آجائیں گے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ شدید…
Read the full tafseer →فتنے کا وبال عام ہے :
آیت 25: وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً (اور تم ایسے وبال سے بچو) عذاب، لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآ صَّۃً (جو خاص انہی لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں ان گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں) یہ جواب امر ہے یعنی اگر وہ عذاب تمہیں پہنچے گا تو فقط ظالموں کو ہی نہیں پہنچے گا بلکہ سبکو عام ہوگا۔ جواب امر میں تاکید کا نون داخل کرنا درست ہے۔ کیونکہ اس میں نہی کا معنی ہے۔ جیسا تم کہو انزل عن الدابۃ لا تطرحک اور لا تطرحنَّک بھی درست ہے منکم میں من تبعیض کیلئے ہے۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے) جب وہ سزا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر 25 (واتقوا فتنۃ لاتصبین) قولہ ” لاتصیبن “ یہ محض جزاء نہیں ہے۔ اگر یہ جزاء ہوتی تو اس پر نون داخل نہ ہوتا۔ یہ نفی ہے اور اس میں جزاء کی ایک طرف بھی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” یا یھا النمل ادخلوا مساکنکم لایحطمنکم سلیمان و جنودہ “ ہے اور اس کی اصل عبارت ” واتقوافتنۃ ان لم تتقوھا اصابتکم “ ہے یعنی تم فتنہ سے بچو، اگر نہیں بچو گے تو وہ تمہیں آپہنچے گا۔ یہ کہنے والے کے قول ” انزل عن الدابۃ لاتطرحک ولا تطرحنک “ کی طرح ہے یعنی سواری سے اتر یہ تجھے پھینک نے دے۔ تو یہ امر کا جواب ہے نفی کے الفاظ میں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر تو اتر آئے تو یہ تجھے نہ پھینکے گی۔ (الذین ظلموا منکم خآصۃ) مفسرین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25۔ 26۔ یہ خاص لوگوں کے بدعمل کرنے کے سبب سے عام لوگوں پر بلا آجانے کا ذکر ہے جس کے خوف سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس آیت میں ڈرایا ہے تفسیر اس آیت کی اس حدیث میں ہے جس کو ابن ماجہ اور امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں چند صحابہ سے روایت کیا ہے حاصل ان روایتوں کا یہ ہے کہ جب کچھ لوگ کسی بستی میں بداعمالی کرنے لگیں گے اور اس بستی کے باقی لوگ ان بداعمال لوگوں کو وعظ نصیحت سے اس بداعمالی سے نہ روکیں گے تو اس طرح کی ساری بستی پر بلا آوے گی یہ حدیث سن کر لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت اس بستی میں نیک عمل کرنے والے جو لوگ تھے ان کے نیک عملوں کا کیا نتیجہ ہوا آپ نے فرمایا مرنے کے بعد ان کے عملوں کا بدلا…
Read the full tafseer →آیت 25
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو ان کے ایمان کا تقاضا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو حکم دیا ہے اسکی تعمیل کرنا، اس کی تعمیل کے لئے سبقت کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا اور انہوں نے جس چیز سے روکا ہے اس سے باز رہنا اور اس سے اجتناب کرنا۔ (اذا دعا کم لما یحییکم) ” جس وقت بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمہاری زندگی ہے “ یہ ہر اس امر کا وصف لازم ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ دعوت دیتے ہیں اور نیز یہ اس کے حکم کے فائدے اور حکمت کو بیان کرتا ہے، کیونکہ قلب و روح کی زندگی کا دار و مدار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
فتنہ کا مفہوم
قول باری ہے واتقوافتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ۔ اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف ان ہی لوگوں تک محدود رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو) الفتنۃ کی تفسیر میں کئی اقوال منقول ہیں۔ حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ اس کے معنی وہی ہیں جو اس آیت انما اموالکم والولادکم فتنۃ۔ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں) میں موجود لفظ فتنہ کے ہیں حسن کا قول ہے کہ فتنہ وبال اور آفت کو کہتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد عذاب ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ اس شادمانی کا نام ہے جس کے تحت لوگ مست ہو کر ظلم ڈھانے پر اتر آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →40 اللہ کے عذاب کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یقین جانو کہ اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے۔ اتنا بڑا کہ اس جیسا عذاب دوسرا کوئی دے ہی نہیں سکتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فیومئذ لا یعذب عذابہ احد ولا یوثق وثاقہ احد } ۔ الفجر :25-26) پس تم لوگ ہمیشہ اس سے بچنے کی فکر کرو۔ اور یہ عذاب عام ہے کہ دنیوی ہو یا اخروی۔ افراد کو ہو یا جماعتوں اور گروہوں کو۔ بہرکیف وہ کبھی بھی آسکتا ہے اور کسی بھی شکل میں آسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لیے عقل اور ہوشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اس سے بچنے کی فکر و کوشش کرے قبل اس سے کہ فرصت حیات اسکے ہاتھ سے نکل جائے کہ اس کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
ماضی کی یاد سے مستقبل سنوارنا اور تقو ٰ ی کے فوائد
تشریح : جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ قرآن مجید ہدایت کی آخری کتاب اور انسان کے لیے قانون زندگی ہے ان آیات میں بھی چند ایسے اچھے اصول بتائے گئے ہیں جو کردار کو مضبوط کرتے ہیں اور نجات کا ذریعہ بنتے ہیں اس زندگی میں رحمت، برکت، آسائش و آرام کا ذریعہ بنتے ہیں۔
-1 فتنہ سے بچو اس میں ہر قسم کی برائی شامل ہے۔ خود بچو اگر غلطی ہوجائے تو چپکے سے اللہ سے معافی مانگ لو، گناہ کی تشہیر نہ کرو۔
-2 پھر نیکی کرو، برائی سے منع کرو، کیونکہ برائی جب پھیلنا شروع ہوتی ہے تو پھر اس کے برے اثرات ہر جگہ پھیلتے ہیں پھر جب اس برائی کی وجہ سے اللہ کا عذاب آتا ہے تو سب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
آیات 20 تا 28
اسرار و معارف
معیت باری
بات جب معیت باری کی ہوئی تو یہ مشروط طور پر ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے چناچہ مومنین کو حقیقت ایمان سے آگاہ فرمایا جارہا ہے تاکہ انہیں اللہ کی معیت حاصل رہے ورنہ ایمان میں کمزوری برکات معیت میں کمی کا باعث بن جائے گی جیسا کہ فی زمانہ مشاہدہ ہے کہ مسلمان سے عمل چھوٹا تو اس کے نتیجے میں ایمان کمزور ہوا اور ایمان کی کمزوری نے برکات معیت میں کمی کردی چناچہ جہاں کہیں مسلمان ہیں وہاں طوفانوں کی زد پر ہیں اور کہیں سے خیریت کی خبر نہیں مل رہی اللہ ہمیں معاف فرمائیں تو اسی مرض کا علاج شافی ارشاد ہورہا ہے کہ اے ایمان والو اللہ کی اطاعت اختیار…
Read the full tafseer →ف 5 متعدد احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ جب کسی قوم میں امر بالمعروف و نہی ان المنکر فریضہ سرانجام نہ دیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس ہمہ گیر عذاب بھیجے گا۔ ( ابن کثیر)6 مطلب یہ ہے کہ حکم کی بجا آوری میں کاہلی کرنے سے ایک تو دل ہٹتا ہے دم بدم مشکل میں پڑتا ہے۔ دوسرے نیکوں کی کاہلی سے گنہنگار بالکل چھوڑ بیٹھیں گے تو رسم بد پھلیے گی اس کا وبال سب پر پڑے گا۔
Read the full tafseer →(8:25) خاصۃ۔ خاص کر ۔ چن کر۔ خص سے جس کے معنی مخصوص کرنے کے ہیں۔ یہ یا تو الذین ظلموا منکم کو مخصوص کرنے کے لئے ہے یعنی ڑدو اس فتنہ سے جس کی شامت اعمال مخصوص طور پر ان ہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے ظلم کا ارتکاب کیا ہو۔ (بلکہ دوسرے بھی اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں) مراد اس سے اجتماعی فتنے ہیں مثلاً امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے غافل ہوجانا۔ ترک جہاد۔ میدان جہاد سے فرار وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیات : 25 تا 26
لغات القرآن۔
لا تصیبن۔ تمہی نہیں پہنچے گا۔ یتخطف۔ وہ اچک لے گا۔ اوی۔ اس نے ٹھکانا دیا۔ اید۔ اس نے قوت دی۔ بنصرہ۔ اپنی مدد سے ۔
تشریح : قرآن کریم میں اس بات کو بار بار ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب کسی بستی میں کوئی وبا آتی ہے تو اس کی لپیٹ میں صرف وہی لوگ نہیں آتے جنہوں نے گندگی پھیلا کر وبا کو دعوت دی ہے بلکہ وہ تمام لوگ بھی آجاتے ہیں جو اپنی انفرادی زندگی مین بہت صاف ستھرے رہے ہوں۔ اسی طرح جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو اس کی زد مین نہ صرف قصور اور خطار کار پکڑے جاتے ہیں بلکہ وہ سب لوگ بھی آجاتے ہیں جو شخصی زندگی میں بڑے پاک دامن ہیں۔
اس لئے ہر صاحب ایمان پر فرض ہے کہ وہ ان گناہوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
وبا میں مرنے کے بعد نیک و بد اعمال کا ذکر
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کچھ لوگ بستی میں بد اعمالی کرنے لگیں گے اور اس بستی کے باقی لوگ ان بد اعمال لوگوں کو وعظ و نصیحت سے اس بد اعمالی سے نہ روکیں گے، تو اسی طرح کی ساری بستی پر بلا آوے گی۔ یہ سن کر لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا :” حضرت اس بستی میں نیک عمل کرنے والے جو لوگ تھے ان کے نیک عملوں کا کیا نتیجہ ہوا “۔ آپ نے فرمایا :” مرنے کے بعد ان کے عملوں کا بدلہ ان کو ملے گا مگر دنیا میں تو تمام بستی ہر بلا آجاوے گی “۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس بستی میں خلاف شریعت کام ہوتے ہوں وہاں جن لوگوں کو وعظ ونصیحت کی طاقت ہو وہ ہرگز وعظ و نصیحت سے باز نہ رہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
[8] یعنی صرف وہی لوگ مبتلائے عذاب نہ ہوں گے جنہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا بلکہ وہ لوگ بھی عذاب کی لپیٹ میں آجائیں گے جنہوں نے گناہ کرنے والوں کو گناہ کرنے سے منع نہیں کیا۔ اسلام اپنے پیروؤں کو صرف صالح ہی نہیں بلکہ اپنی وسعت اور بساط کے مطابق مصلح بھی دیکھنا چاہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
حیات آفرین پیغمبر :
(ف 2) مسلمان کو اطاعت مطلقہ کی دعوت ہے مسلمان کے لئے لازم ہے کہ وہ ہر دعوت رسول پر لبیک کہے کیونکہ اس کا پیغام حیات آفرین ہے اس کی ہر ادا زندگی ہے اور زندگی کا مرقع ہے ، جب تک مسلمان اپنے پیغمبر کے اسوہ پر عمل پیرا رہے ، زندہ رہے اور جب سے بدعات ورسوم کی پیروی اختیار کی ہے زندگی کے تمام آثار مفقود ہیں ۔
(آیت) ” ان اللہ یحول بین المر ، وقلبہ “۔ سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے قریب ہیں اور ہر شخص کے قلب میں اس کی قدرتوں کا انعکاس ہے اب جیسا تمہارے قلب کا شیشہ ہے خدا ویسا ہی قلب میں نظر آئے گا ، اگر تم منکر ہو ، تو تمہارے اور ہدایت و پرہیز گاری کے درمیان وہ حائل ہے ،…
Read the full tafseer →25 اور تم اس بلا اور وبال سے ڈرتے رہو جس کا اثر صرف ان ہی لوگوں تک محدود نہیں رہتا جو تم میں سے گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور یہ بات خوب جان لو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔ یعنی جب کوئی وبال آتا ہے تو اس میں سب ہی مبتلا ہوجاتے ہیں مجرم بھی اور مداہن بھی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حکم میں کاہلی کرنے سے ایک تو دل ہٹتا ہے دم بدم اور وہ کام زیادہ مشکل پڑتا ہے دوسرے نیکوں کی کاہلی سے گنہگار بالکل چھوڑ دیں گے تو رسم بد پھیلے گی اور اس کا وبال سب پر پڑے گا جیسے جنگ میں دلیر سستی کریں تو نامرد بھاگ ہی جاویں پھر شکست پڑے تو دلیر بھی نہ تھام سکیں۔ 12
خلاصہ یہ … کہ خود بھی اللہ…
Read the full tafseer →ف 6۔ بلکہ ان گناہوں کو دیکھ کر جنہوں نے مداہنت کی ہے وہ بھی اس میں شریک ہیں۔
Read the full tafseer →ایسے فتنہ سے بچتے رہو جو اگر کھڑا ہوگیا تو خود فتنہ کھڑا کرنے والا بھی اس کی زد سے نہ بچے گا :
36: زیر نظر آیت میں اجتماعی زندگی کے خطرات کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ فرمایا : ان فتنوں سے بچو جنہیں سوسائٹی کا کوئی ایک فرد یا ایک جماعت برپا کردیتی ہے جب ان کی آگ بھڑک اٹھتی ہے تو صرف انہی کو نہیں جلاتی جنہوں نے سلگائی تھی بلکہ اس کی لپیٹ میں سب سے سب آجاتے ہیں اور اس لئے آجاتے ہیں کہ کیوں آگ لگانے والے کا ہاتھ نہیں پکڑا گیا ؟ کیوں بروقت اس کو بھجانے کی کوشش نہیں کی گئی ؟
ابو بکر صدیق ؓ نے ایک خطبہ میں فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جب لوگ کسی ظالم کو دیکھیں اور ظلم سے اس کا ہاتھ…
Read the full tafseer →Commentary
After having described some details of the battle of Badr and Divine blessings conferred on Muslims therein, the Holy Qur'an has offered words of good counsel to Muslims as based on the outcome of the Battle. This presentation begins from: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ (0 those who believe, respond to Allah and His Messenger - 8:24). The verses cited immediately above appear in continuation to the same.
Out of these, the first verse (25) carries an instruction to stay safe from a sin particularly, a sin the severe punishment of which does not…
Read the full tafseer →20. This refers to those widespread social evils whose baneful effects are not confined only to those addicted to them, but which affect even those who, although they might not be addicted to those sins, are a part of that society. For example, if filth is found at just a few places in a locality it will possibly affect only those who have not kept themselves or their houses clean. However, if it becomes widespread and no one is concerned with removing uncleanliness and maintaining sanitary conditions, then everything including water and soil will become contaminated. As a result, if…
Read the full tafseer →