دل رب کی انگلیوں میں ہیں
صحیح بخاری شریف میں ہے استجیبوا معنی میں اجیبوا کے ہے لما بحییکم معنی بما بصلحکم کے ہے یعنی اللہ اور اس کا رسول تمہیں جب آواز دے تم جواب دو اور مان لو کیونکہ اس کے فرمان کے ماننے میں ہی تمہاری مصلحت ہے۔ حضرت ابو سعید بن معلی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نماز میں تھا آنحضرت ﷺ میرے پاس سے گذرے۔ مجھے آواز دی، میں آپ کے پاس نہ آیا۔ جب نماز پڑھ چکا تو حاضر خدمت ہوا۔ آپ نے فرمایا تجھے کس نے روکا تھا کہ تو میرے پاس چلا آئے ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ اے ایمان والو اللہ اور اللہ کا رسول تمہیں جب آواز دیں تم قبول کرلیا کرو کیونکہ اسی میں تمہاری زندگی ہے۔ سنیں اس مسجد سے نکلنے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْفَال 19
نفاق کی روش سے انسان کو بچانے کے لیے اگر کوئی سب سے زیادہ موثر تدبیر ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ وہ عقیدے انسان کے ذہن نشین ہوجائیں۔ ایک یہ کہ معاملہ اس خدا کے ساتھ ہے جو دلوں کے حال تک جانتا ہے اور ایسا رازدان ہے کہ آدمی اپنے دل میں جو نیتیں، جو خواہشیں، جو اغراض و مقاصد اور جو خیالات چھپا کر رکھتا ہے وہ بھی اس پر عیاں ہیں۔ دوسرے یہ کہ جانا بہرحال خدا کے سامنے ہے۔ اس سے بچ کر کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ یہ وہ عقیدے ہیں کہ جتنے زیادہ پختہ ہوں گے اتنا ہی انسان نفاق سے دور رہے گا۔ اسی لیے منافقت کے خلاف وعظ و نصیحت کے سلسلہ میں قرآن ان دو عقیدوں کا ذکر بار بار کرتا ہے۔
Read the full tafseer →پانچویں آیت میں پھر اہل ایمان کو خطاب کرکے اللہ اور رسول کے احکام کی تعمیل و اطاعت کا حکم ایک خاص انداز سے دیا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ تمہیں جس چیز کی دعوت دیتے ہیں اس میں اللہ اور رسول کا اپنا کوئی فائدہ مضمر نہیں بلکہ سب احکام تمہارے ہی فائدہ کیلئے دیئے گئے ہیں ارشاد فرمایا (آیت) اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ ، یعنی بات مانو اللہ کی اور رسول کی جب کہ رسول تم کو ایسی چیز کی طرف بلائے جو تمہارے لئے زندگی بخش ہے۔
وہ حیات جس کا ذکر اس آیت میں ہے کیا ہے اس میں کئی احتمال ہیں اس لئے علماء تفسیر نے مختلف قول اختیار کئے ہیں۔ سدی نے کہا کہ وہ حیات بخش…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ۔
رسول کی دعوت حقیقی زندگی کی دعوت ہے : اوپر گزر چکا ہے کہ انسان کی انسانیت کا انحصار اس کی عقل و بصیرت پر ہے اور اس کی زندگی عبارت ہے اس کی روح اور اس کے دل کی زندگی سے۔ اگر وہ صحیح بات سوچنے سمجھنے عاری اور کلمہ حق سننے اور ماننے سے محروم ہوجائے تو درحقیقت وہ اپنے منشائے تخلیق کے اعتبار سے مردہ ہے۔ چناچہ قرآن نے کفار کو جگہ جگہ مردہ کہا ہے۔ اللہ و رسول کی دعوت حقیقی زندگی کی دعوت ہوتی ہے…
Read the full tafseer →24۔ 1 لِمَا یُحْیِیْکُمْ ایسی چیزوں کی طرف جس سے تمہیں زندگی ملے۔ بعض نے اس سے جہاد مراد لیا ہے کہ اس میں تمہاری زندگی کا سروسامان ہے۔ بعض نے قرآن کے اوامرو نواہی اور احکام شرعیہ مراد لئے ہیں، جن میں جہاد بھی آجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ صرف اللہ اور رسول ﷺ کی بات مانو، اور اس پر عمل کرو، اسی میں تمہاری زندگی ہے۔
24۔ 2 یعنی موت وارد کرکے، جس کا مزہ ہر نفس کو چکھنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قبل اس کے کہ تمہیں موت آجائے، اللہ اور رسول کی بات مان لو اور اس پر عمل کرو۔ بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ انسان کے دل کے جس طرح قریب ہے اس میں اسے بطور تمثیل بیان کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ دلوں کے بھیدوں کو جانتا ہے۔…
Read the full tafseer →13: اس مختصر جملے میں بڑی عظیم حقیقت بیان فرمائی گئی ہے، اول تو اسلام کی دعوت اور اس کے احکام ایسے ہیں کہ اگر ان پر تمام انسان پوری طرح عمل کرنے لگیں تو اسی دنیا میں وہ پر سکون زندگی کی ضمانت دیتے ہیں، عبادات کے علاوہ جو روحانی سکون کا بہترین ذریعہ ہیں، اسلام کے تمام معاشرتی معاشی اور سیاسی احکام دنیا کو نہایت خوشگوار زندگی فراہم کرسکتے ہیں، دوسری طرف زندگی تو اصل میں آخرت کی ابدی زندگی ہے، اور اس کی خوشگواری تمام تر اسلامی احکام کی پیروی پر موقوف ہے، لہذا اگر کسی کو اسلام کا کوئی حکم مشکل بھی محسوس ہو تو اسے یہ سوچنا چاہیے کہ میری خوشگوار زندگی کا دارومدار اس پر ہے، جس طرح انسان زندگی کے…
Read the full tafseer →اب دو بارہ اہل ایمان کو مخاطب کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہیں۔ کیونکہ رسول کی پکار پر لبیک کہنا تمہارے لیے مفید ہے اور اگر تم نے انکار کیا تو یہ تمہارے برا ہوگا۔
اس دعوت میں ان عقائد و تصورات کو پیش کیا گیا ہے جن سے دل و دماغ زندگی سے بھر جاتے ہیں اور تمام خرافات اور جہالتوں سے پاک و صاف ہوجاتے ہیں۔ اوہام اور افسانوں سے نجات پاتے ہیں اور ظاہری اسباب اور طبیعی قوانین کی جکڑ بندیوں سے بھی نجات پاتے ہیں اور غیر اللہ کی بندگی اور اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے انسان کو نجات دلاتے ہیں۔
یہ دعوت تمہارے سامنے ایک ایسا قانونی نظام پیش کرتی ہے جو اللہ کی طرف سے ہے ۔ اس قانونی نظام…
Read the full tafseer →2 یعنی خدا اور رسول تم کو جس کام کی طرف دعوت دیتے ہیں (مثلاً جہاد وغیرہ) اس میں از سرتاپا تمہاری بھلائی ہے۔ ان کا دعوتی پیغام تمہارے لیے دنیا میں عزت و اطمینان کی زندگی اور آخرت میں حیات ابدی کا پیغام ہے۔ پس مومنین کی شان یہ ہے کہ خدا اور رسول کی پکار پر فوراً لبیک کہیں۔ جس وقت اور جدھر وہ بلائیں سب اشغال چھوڑ کر ادھر ہی پہنچیں۔
3 یعنی حکم بجا لانے میں دیر نہ کرو، شاید تھوڑی دیر بعد دل ایسا نہ رہے اپنے دل پر آدمی کا قبضہ نہیں بلکہ دل خدا کے ہاتھ میں ہے۔ جدھر چاہے پھیر دے۔ بیشک وہ اپنی رحمت سے کسی کا دل ابتداء نہیں روکتا نہ اس پر مہر کرتا ہے۔ ہاں جب بندہ امتثال احکام میں سستی اور کاہلی کرتا…
Read the full tafseer →آیت 24 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ج۔
تم جنگ کے لیے جاتے ہوئے سمجھ رہے ہو کہ یہ موت کا گھاٹ ہے ‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ تو اصل اور ابدی زندگی کا دروازہ ہے۔ جیسا کہ سورة البقرۃ میں شہداء کے بارے میں فرمایا گیا : وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌط بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَشْعُرُوْنَ ۔ چناچہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ جس چیز کی طرف تمہیں بلا رہے ہیں ‘ حقیقی زندگی وہی ہے۔ اس کے مقابلے میں اس دعوت سے اعراض کر کے زندگی بسر کرنا گویا حیوانوں کی سی زندگی ہے ‘ جس کے بارے میں…
Read the full tafseer →23 اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ کی زندگی بخش دعوت :۔ یعنی اللہ کے رسول ﷺ کا دعوتی پیغام ایسا ہے جس سے تمہیں دنیا میں بھی عزت و اطمینان کی زندگی نصیب ہوگی اور آخرت میں بھی نعمتوں سے بھرپور ابدی زندگی حاصل ہوگی، اس کے مفہوم کو پوری طرح سمجھنے کے لیے یہ ذہن میں رکھئے کہ یہ سورت غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ جب کہ مسلمانوں کی ایک ریاست قائم ہوچکی تھی اور وہ آزادانہ زندگی گزار رہے تھے اور غزوہ بدر میں فتح نے انہیں ایک مساوی قوم کا درجہ دے دیا تھا اور وہ آپس میں نہایت پیار، محبت اور بھائی بھائی بن کر رہ رہے تھے۔ اب اس کے مقابلہ میں دور جاہلیت کے معاشرہ کو سامنے لائیے جب کہ لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے…
Read the full tafseer →36 ۔ یعنی احکام شریعت کی طرف، یہاں صاف صاف بتاد یا کہ حیات ابدی اور زندگی جاودانی بخشنے والی چیز یہی نظام دین ہے، خصوصیت کے ساتھ مراد جہاد ہے۔ (آیت) ” للرسول “ یہ بات لحاظ رکھنے والی ہے کہ قرآن مجید میں ایسے تمام موقعوں پر رسول اللہ ﷺ کا ذکر بجائے اسم ذات کے ہمیشہ رسول یا الرسول ہی سے آتا ہے۔ یہ آپ کی حیثیت رسالت کو نمایاں کرنے کے لیے ہے کہ آپ کا بلانا بھی فرستادہ الہی کی حیثیت سے اللہ ہی کا بلانا ہوتا ہے۔ (آیت) ” استجیبوا ‘ یہاں اجیبوا کے معنی میں ہے۔
37 ۔ (اور سب کا سابقہ بالآخر اسی سے پڑتا ہے) (آیت) ” یحول بین المرء و قبلہ “۔ اللہ کا انسان اور اس کے قلب کے درمیان آڑ بن جانا دو طرح سے ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
وَلا تکونوا کالذین قالوا سَمِعْنَا وھم لا یسمَعُوْنَ ، یہاں سننے سے مراد وہ سننا ہے جس کو قبول کرنا اور ماننا کہتے ہیں، اس آیت میں اشارہ ان منافقوں کی طرف ہے جو زبان سے ایمان کا اقرار کرتے تھے مگر احکام کی اطاعت سے منہ موڑ جاتے تھے، سن لینے کے باوجود عمل نہ کرنا کافروں کا شیوہ ہے، تم اس رویہ سے بچو، اگلی آیت میں ایسے ہی لوگوں کو بہرہ اور گونگا بدترین قرار دیا گیا ہے اگر ان میں اللہ تعالیٰ کوئی خیر و خوبی دیکھتا تو ضرور انھیں سنکر سمجھنے کی توفیق عطا کرتا چونکہ ان کے اندر خیر یعنی طلب صادق ہی نہیں اسلئے وہ فہم صحیح سے محروم ہیں، پہلے سماع سے مراد سماع نافع ہے جسے مفسرّ علاّم نے سماع تفہیم کہا…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا استجیبوا اللہ وللرسول اذا دعا کم لما یحییکمج اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس کے رسول کے کہنے کو بجا لایا کرو جبکہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہیں۔ سدی نے کہا : زندہ کرنے والی چیز سے مراد ہے ایمان ‘ کیونکہ کافر مرد ہے۔ قتادہ نے کہا : قرآن مراد ہے۔ اسی سے زندگی ‘ نجات اور دونوں جہان میں عذاب سے بچاؤ حاصل ہوتا ہے۔ مجاہد نے کہا : حق مراد ہے۔ ابن اسحاق کے نزدیک جہاد مراد ہے ‘ جہاد کے ذریعہ سے ہی اللہ نے ذلت کے بعد عزت عطا فرمائی۔ قتیبی کے نزدیک شہید ہونا مراد ہے۔ شہداء کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ فَرِحِیْنَ الخ۔
میں…
Read the full tafseer →(24) اے جماعت رسول اکرم ﷺ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے کہنے کو بجا لایا کرو، جب کہ وہ تمہاری عزت و شرافت اور قتال سے زندگی بخش چیز کی طرف تمہیں بلایا کریں۔
اے مسلمانوں کی جماعت اللہ تعالیٰ مومن اور اس کے قلب کے درمیان محافظ بن جاتا ہے، اس طرح کہ قلب مومن کو ایمان کے اوپر محفوظ رکھتا ہے کہ اس سے کفر سرزد نہیں ہوتا، اور کافر کے دل کو کفر ہی پر قائم رکھتا ہے کہ اسے ایمان کی دولت نصیب ہی نہیں ہوتی اور بیشک روز قیامت تم سب کو اللہ ہی کے پاس جمع ہونا ہے وہ تمہارے اعمال کا تمہیں بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ :”اَجَابَ یُجِیْبُ“ کا معنی قبول کرنا ہے اور ”اسْتَجِيْبُوْا“ باب استفعال ”اِسْتَجَابَ یَسْتَجِیْبُ“ سے ہے، جس میں عموماً طلب ہوتی ہے، یہاں طلب کا معنی نہیں ہوسکتا، لہٰذا سین اور تاء کے اضافے سے معنی میں زیادتی مراد ہوگی، اس لیے ”خوشی سے قبول کرو“ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر خوشی سے لبیک کہنا تم پر لازم ہے۔
اِذَا دَعَاكُمْ : ”جب وہ تمہیں دعوت دے“ کا مطلب یہ ہے کہ فوراً قبول کرو، دیر نہ کرو۔ ابی بن کعب ؓ نماز پڑھ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں بلایا، وہ نماز پوری کرکے آئے تو آپ نے یہ آیت پڑھ کر…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 24
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
قولہ تعالیٰ : آیت : یایھا الذین امنوا استجیبوا للہ وللرسول بلا اختلاف یہ خطاب تصدیق کرنے والے مومنین کو ہے۔ اور استجابۃ کا معنی الاجابۃ ( جواب دینا) ہے۔ اور یحییکم اصل میں یحییکم تھا، پھر یا پر ضمہ ثقیل ہونے کی وجہ سے اسے یا سے حذف کردیا گیا اور ادغام جائز نہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے : استجیبوا کا معنی اجیبوا ( تم جواب دو ) ہے لیکن عرف کلام یہ ہے کہ استجاب لام کے واسطہ کے ساتھ متعدی ہوتا ہے اور اجاب بغیر لام کے متعدی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : یقومنا اجیبوا داعی اللہ (الاحقاف : 31) ( اے ہماری قوم ! قبول کرلو اللہ کی طرف بلانے…
Read the full tafseer →1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر وابن حاتم وابو الشیخ نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اذا دعا کم لما یحییکم “۔ کے بارے میں فرمایا اس سے مراد یہ قرآن ہے جس میں زندگی بھی ہے تقوی بھی ہے۔ نجات بھی ہے اور دنیا میں اور آخرت میں حفاظت کا سامان بھی۔
2:۔ ابن اسحاق وابن ابی حاتم نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اذا دعا کم لما یحییکم “۔ کے بارے میں فرمایا یعنی (دشمن سے) لڑنے کے لئے (جب تم کو بلایا جائے) کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تم کو عزت دیتے ہیں ذلت کے بعد اور تم کو قوت عطا فرماتے ہیں کمزوری کے بعد اور اس کے ذریعہ تمہارے دشمن کے قہر وغضب سے…
Read the full tafseer →[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوا : ایمان لائے ] [ اسْتَجِيْبُوْا : تم لوگ حکم مانو ] [ لِلّٰهِ : اللہ کا ] [ وَلِلرَّسُوْلِ : اور ان رسول کا ] [ اِذَا : جب بھی ] [ دَعَاكُمْ : وہ بلائیں تم کو ] [ لِمَا : اس کے لیے جو ] [ يُحْيِيْكُمْ ۚ: زندگی دیتی ہے تم کو ] [ وَاعْلَمُوْٓا : اور جان لو ] [ اَنَّ : کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ يَحُوْلُ : حائل کردیتا ہے ] [ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ : آدمی اور اس کے دل کے درمیان ] [ وَاَنَّهٗٓ: اور حقیقت تو یہ ہے کہ ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف ہی ] [ تُحْشَرُوْنَ : تم لوگ جمع کیے جاؤگے ]
(آیت ۔ 24) وانہ میں ضمیر الشان ہے۔
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 24…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبر داری کا حکم
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کا اور حکم کی تعمیل کرنے کا اور حکم بجالانے کا حکم فرمایا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم سے رو گردانی نہ کرو حالانکہ تم سنتے ہو، یعنی جب تم بات سن رہے ہو قرآن کا حکم تمہارے سامنے ہے رسول اللہ ﷺ حکم دے رہے ہیں تو عمل نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں اور کوئی عذر نہیں جو عمل سے روکے، مزید فرمایا (وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ ھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ) (اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے) ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
ترغیب بر اطاعت وامانت وترہیب از معصیت وخیانت و زجر دوستاں
از مشابہت دشمناں
قال اللہ تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ ذوالفضل العظیم
(ربط) گذشتہ آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اب ان آیات میں اہل ایمان کو ہدایت فرماتے ہیں کہ حق جل شانہ کی معیت اور نصرت اور حمایت کا دارومدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے اگر تم اللہ کی معیت اور اس کی نصرت کے طلبگار ہو تو اس کی دو شرطیں ہیں۔ اول تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی دل وجان سے ایسی اطاعت کرو جس میں خیانت کا شائبہ نہ ہو اس لیے کہ خیانت اطاعت کاملہ میں مخل ہے۔ دوم یہ کہ اہل ایمان پر لازم ہے…
Read the full tafseer →25: تیسرا قانون جنگ “ لِمَا ” میں لام بمعنی “ اِلیٰ ” ہے اور یہ “ دعا کم ” کے متعلق ہے۔ “ مَا یُحْیِیْکُمْ ” سے جہاد مراد ہے کیونکہ جہاد دنیا اور آخرت کی پاکیزہ اور پرسکون زندگی کا باعث ہے دنیا میں ترک جہاد سے مسلمان کافروں سے غلوب ہو کر مقتول ہوجائیں گے۔ لیکن جہاد کی صورت میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو غلبہ عطا کرے گا اور دنیا میں اپنی تہذیب و ثقافت اور شان و شوکت کے ساتھ زندہ رہیں گے۔ “ لانهم رفضوھا (مجاھدة الکفار) لغلبوھم و قتلوھم کما فی قوله تعالیٰ وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوة ” (ابو السعود ج 4 ص 532) ۔ یا لام اپنے اصل پر ہے اور “ اِسْتَجِیبُوْا ” کے متعلق ہے اور “ مَا يُحْيِیْکُمْ ” سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ربطِ آیات :
اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پروگرام اور اسے قائم کرنے کے لیے اس سورة میں بہت سے اصول بیان کیے گئے ہیں جن پر انسانوں کی کامیابی کا دارومدار ہے اللہ نے پہلا اصول جنگ میں ثابت قدمی کو قراردیا اور حکم دیا کہ دشمن سے مقابلے کے وقت میدانِ جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کرنا ، پھر دوسرا اصول اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ انسانی زندگی سے متعلق کوئی بھی معاملہ ہو ، خواہ صلح وجنگ کا مسئلہ ہی کیوں نہ درپیش ہو ، ہر حالت میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت لازمی ہے فرمایا تم ان اہل کتاب اور منافقین کی طرح نہ ہوجانا جو زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم الہٰی سن لیا ، مگر درحقیقت وہ سنتے ہی نہیں…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ 0 ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہٖ وَاَنَّہٗٓ اِلَيْہِ تُحْشَــرُوْنَ 24
استجاب
والاستجابة قيل : هي الإجابة، وحقیقتها هي التحري للجواب والتهيؤ له، لکن عبّر به عن الإجابة لقلة انفکاکها منها، قال تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24]
( ج و ب ) الجوب
الاستاأبتہ بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی اجابتہ ( افعال ) کے ہے اصل میں اس کے معنی جواب کے لئے تحری کرنے اور اس کے لئے تیار ہونے کے ہیں لیکن اسے اجابتہ سے تعبیر کرلیتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
ولو علم اللّٰہ فیہم الخ کی بابت بعض مفسرین نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ کفار نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی تھی کہ آپ قصی بن کلاب وغیرہ سینکڑوں برس کے مردوں کو زندہ کردیں۔ اگر وہ آپ کی نبوت کی گواہی دیں گے تو ہم بھی مان لیں گے کیونکہ وہ عرب کے بزرگ ہیں۔ اس کے جواب میں یہ جملہ ہے کہ اگر ان میں قابلیت ہوتی تو خدا ان کو سنوا دیتا مگر ان میں قابلیت نہیں۔ اگر وہ زندہ بھی ہوں اور سن بھی لیں تب بھی نہیں مانیں گے۔ اس کے بعد اسی اطاعت کی تاکید فرماتا ہے۔ اس کا نفع بتلا کر اور عدول حکمی کا نقصان جتلا کر فقال لما یحییکم کہ اللہ اور رسول تم کو کسی عبث اور ضرر رسان بات کی طرف نہیں بلاتے بلکہ اس کی طرف جس میں تمہاری…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَادَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ج وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَقَلْبِہٖ وَاَنَّہٗٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (الانفال : 24 )
(اے ایمان والو ! اللہ اور رسول کی دعوت پر لبیک کہو جبکہ وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے اور خوب جان لو کہ اللہ حائل ہوجاتا ہے آدمی اور اس کے دل کے درمیان اور یاد رکھو کہ اسی کی طرف تم جمع کیے جاؤ گے)
تین حقائق کا انکشاف
اس آیت کریمہ میں تین باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے بلکہ تین حقائق کی نقاب کشائی کی گئی ہے۔ سب سے پہلی بات جو ایک بہت بڑی حقیقت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافق نہیں سننا چاہتے تو نہ سنیں۔ اے مومنوں تمہیں ضرور اللہ اور اس کے رسول کی بات سننا اور ماننا چاہیے۔
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا ارشاد سننے کے باوجود ایسا طرز حیات اختیار کرتے ہیں جیسا کہ انھوں نے اسے سنا ہی نہیں۔ ان کو جانوروں کے ساتھ تشبیہ دے کر فرمایا یہ عقل و فکر سے عاری ہیں۔ سورة الاعراف آیت 179 میں ان لوگوں کو جانوروں سے بدتر شمار کرتے ہوئے انھیں غافل قرار دیا گیا ہے۔ یہاں فرمایا ہے اگر اللہ تعالیٰ ان میں خیر کا جذبہ دیکھتا تو ان کو بات سننے، سمجھنے کی توفیق دیتا۔ کیونکہ یہ جانوروں کی طرح محض اپنے مالک کی آواز سنتے ہیں سمجھتے نہیں۔ یہی مثال ان…
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کے حکم کی فوراً تعمیل کرو :
آیت 24: یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ (اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس کے رسول کے کہنے کو بجالایا کرو جب کہ وہ تم کو بلاتے ہیں) اس میں بھی خبر واحد لائی گئی کیونکہ استجابت رسول استجابت باری تعالیٰ کی طرح ہے اور استجابت کا معنی اطاعت، امتثال ہے۔ امتثال بالدعوۃ۔ مقر ر کرنا اور آمادہ کرنا ہے۔ لِمَا یُحْیِیْکُمْ (جو تمہیں زندہ کرتی ہے) دیانات اور شرائع کے علوم مراد ہیں۔ کیونکہ علم زندگی ہے۔ جیسا کہ جہالت موت ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا لاتعجبن الجھول حلّتُہ۔ فذاک میت و ثوبہ کفن (جاہل کو اپنے جہالت کے لباس…
Read the full tafseer →24 (یایھا الذین امنوا استجیوا للہ وللرسول اذا دعا کم لما یحبیکم ) سدی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ کام ایمان ہے کیونکہ کافر مردہ ہے ایمان سے زندہ ہوتا ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ کام قرآن ہے اس میں زندگی ہے اور اسی کے ساتھ نجات اور دونوں جہانوں میں حفاظت ہے۔ ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ وہ کام جہاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ تمہیں عزت دی۔ قتیبی (رح) فرماتے ہیں کہ شہادت ہے کیونکہ شہداء کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کہا ہے ۔ ہم تک روایت پہنچی کہ نبی کریم ﷺ کا گزرا بی بن کعب ؓ پر ہوا تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ (علیہ السلام) نے ان کو پکارا تو ابی ؓ نے جلدی نماز ختم کی۔ پھر آئے تو آپ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →24۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اہل ایمان کو خطاب کر کے فرمایا کہ خدا اور اس کے رسول کی بات مانو جب تمہیں رسول ایسی بات کے واسطے بلائے جس میں تمہاری زندگی ہے تو تمہیں سننا چاہئے اور ہر حال میں رسول کی اطاعت کرنی چاہئے کیونکہ رسول کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ کی مرضی و نامرضی کی ہر ایک بات تم لوگوں کو انہیں رسول کے ذریعہ سے پہنچتی ہے شروع آیت میں تو اللہ تعالیٰ نے اپنا اور اپنے رسول دونوں کا نام لے کریوں فرمایا اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور رسول کا “ اور پھر فرمایا جس وقت بلاوے تم کو ایک کام پر رسول یہاں اپنے نام کو اس لئے شریک نہیں فرمایا کہ امت کو اللہ تعالیٰ کا ہر ایک حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
آیت 22
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ان شر الداوآب عند اللہ) ” سب جان داروں سے بدتر اللہ کے ہاں “ جن کو معجزات اور ڈرانے والے کوئی فائدہ نہیں دیتے، وہ ہیں جو (الصم) حق سننے سے بہرے ہیں۔ (البکم) حق بولنے سے گونگے ہیں (الذین لایعقولن) وہ کسی ایسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے جو ان کو فائدہ دیتی ہے اور نہ اسے اس چیز پر ترجیح دے سکتے ہیں جو انہیں نقصان دیتی ہے۔
یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کان، آنکھ اور عقل سے نوازا تاکہ وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے راستے میں استعمال کریں، مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
ومارمیت اذرمیت کا مفہوم
پھر فرمایا ومارمیت اذرمیت ولکن اللہ رمی اور تم نے نہیں پھینکا جب پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا) یہ بات اس طرح ہوئی کہ حضور ﷺ نے ایک مٹھی مٹی لے کر کافروں کے چہروں کی طرف پھینک دی اور کافروں کے قدم اکھڑ گئے۔ ایک بھی کافر ایسا نہیں بچا جس کی آنکھ میں اس مٹی کا کچھ حصہ نہ پڑا ہو، اس میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مٹی ان کافروں کے چہروں اور ان کی آنکھوں تک پہنچا دی تھی۔ اس لئے کہ کسی مخلوق کی یہ طاقت نہیں تھی کہ حضور ﷺ جس جگہ کھڑے تھے وہاں سے یہ مٹی ان کافروں کی آنکھوں تک پہنچا سکے۔ یہ تمام باتیں آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت کی نشانیاں تھیں۔ نیز ان واقعات کا ہو بہو اسی…
Read the full tafseer →37{ مَایُحْیِِیْکُمْ }[ حیات آفریں چیز ] سے مراد ؟ : یعنی قرآن ِ حکیم کی طرف جو کہ امین وضامن ہے حیات حقیقی اور زندگی جاودانی کا۔ نیز جبکہ وہ بلائے تمہیں جہاد فی سبیل اللہ کی طرف کہ وہ بھی حیات حقیقی کا ضامن و پاسدار ہے کہ اس سے قوائے شرو فساد کا قلع قمع ہوتا ہے اور اہل ایمان کو اس سے اس دنیا میں بھی حیات طیبہ یعنی " پاکیزہ زندگی " نصیب ہوتی ہے اور آخرت کے اس ابدی جہان میں بھی سدا بہار کامیابی حاصل ہوتی ہے جو کہ اصل اور حقیقی اور سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اور بعض حضرات اہل علم کے نزدیک { مَا یُحْیِیْکُمْ } سے جملہ احکام دین مراد ہیں کہ ان کی پیروی میں بھی انسان کے لئے حقیقی کامیابی اور پاکیزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
اطاعت الٰہی ہی اصل زندگی ہے
تشریح : جیسا کہ بدر کے واقعہ سے بیشمار سبق دیئے گئے ہیں اسی طرح پھر یہاں دہرایا جا رہا ہے کہ مشرکین کی شکست کی وجہ صرف اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی تھی، لہٰذا مسلمانوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ اپنی اس فتح کو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سمجھیں جو انہیں ایمان اور فرمانبرداری کے بدلے میں دی گئی ہے۔ ، اس لیے ایمان پر قائم رہیں۔ دوسرا یہ کہ کبھی اس راستے سے ہٹیں نہیں، پھر تاکیداً کہا جا رہا ہے تمام امت مسلمہ کو کہ سننے کے بھی چار درجات ہیں۔
-1 صرف سن لیا عمل نہ کیا۔
-2 کانوں سے سنا اور سمجھا مگر اعتقاد نہ کیا۔
-3 سنا، سمجھا ایمان بھی لائے مگر عمل نہ کیا۔
-4 سنا، سمجھا، ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
آیات 20 تا 28
اسرار و معارف
معیت باری
بات جب معیت باری کی ہوئی تو یہ مشروط طور پر ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے چناچہ مومنین کو حقیقت ایمان سے آگاہ فرمایا جارہا ہے تاکہ انہیں اللہ کی معیت حاصل رہے ورنہ ایمان میں کمزوری برکات معیت میں کمی کا باعث بن جائے گی جیسا کہ فی زمانہ مشاہدہ ہے کہ مسلمان سے عمل چھوٹا تو اس کے نتیجے میں ایمان کمزور ہوا اور ایمان کی کمزوری نے برکات معیت میں کمی کردی چناچہ جہاں کہیں مسلمان ہیں وہاں طوفانوں کی زد پر ہیں اور کہیں سے خیریت کی خبر نہیں مل رہی اللہ ہمیں معاف فرمائیں تو اسی مرض کا علاج شافی ارشاد ہورہا ہے کہ اے ایمان والو اللہ کی اطاعت اختیار…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی خدا اور اس کے رسول ﷺ کی دعوت پر لبیک کہنا تم پر لازم ہے لما یحییکم وہ کام جو تمہیں زندگی بخشتا ہے۔ ) میں علمائے سلف سے مختلف اقوال منقول ہیں۔ بعض نے ایمان واسلام اور بعض نے قرآن لیکن اکثر نے اس سے جہاد مرد لیا ہے کیونکہ جہاد دنیا و آخرت میں زندگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور پھر سیاق کلام کے مناسب بھی یہی ہے لیکن اگر اس سے مراد حق وصواب لیا جائے تو قرآن ایمان جہاد اور برو طاعت کے جملہ امور کر یہ لفظ شامل ہوجاتا ہے مو لانا علامہ لکھتے ہیں اس آیت سے تقلید ناجائز کی جڑ کٹ گئی جب اللہ کا حکم یہ ہے کہ رسول ﷺ کا کہا مانو تو کیونکہ یہ درست ہوسکتا ہے کہ رسول ﷺ کے حکم کی موجودگی میں دوسرے مجتہد…
Read the full tafseer →(8:24) استجیبوا۔ تم حکم مانو۔ تم قبول کرو۔ استجابۃ (استفعال) سے امر جمع مذکر حاضر ۔
دعاکم۔ دعا ماضی واحد مذکر غائب یہاں بھی ضمیر واحد آئی ہے جس طرح 8:20 میں عنہ میں آئی ہے۔
لما یحییکم۔ ای الی شیء الذی یحیکم۔ ایسے امر کی طرف جو تمہارے مردہ دلوں کو اور روحوں کو حیات نو بخشتی ہے۔
یحول۔ حول سے باب نصر مضارع واحد مذکر غائب۔ اللہ آڑ بن جاتا ہے۔ اللہ حائل ہوجاتا ہے۔
قلبہ۔ ای اھوانہ۔ اس کے ارادے۔ اس کی خواہشات۔ یعنی اس کے دلی ارادوں اور خواہشات کی تکمیل اس کے اپنے بس کی بات نہیں بلکہ یہ خداوند تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
آیات : 19 تا 24
لغات القرآن۔
تستفتحوا۔ تم فیصلہ چاہتے ہو۔ تنتھوا۔ تم رک جائو۔ تعودوا۔ تم پلٹ جائو گے۔ نعد۔ ہم پلٹ جائیں گے۔ لن تغنی۔ ہرگز فائدہ نہ دے گا۔ فئۃ۔ جماعت۔ گروہ۔ کثرت۔ بہت ہے۔ سمعنا۔ ہم نے سن لیا۔ شرا الدواب۔ جان داروں میں بدترین۔ الصم۔ بہرے۔ البکم۔ گونگے۔ اسمع۔ وہ سنوا دیتا۔ استجیبوا۔ تم حکم مانو۔ دعاکم۔ اس نے تمہیں بلایا۔ یحییکم۔ وہ تمہیں زندگی دیتا ہے۔ یحول۔ (حول) ۔ وہ آڑ بن جاتا ہے۔ بیچ میں آجاتا ہے۔ المراء۔ مرد۔
تشریح :
ان آیات میں چند بہت ہی بناندی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
(1) جب مکہ کے کفار مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے اس وقت لشکر کفار کے سرداروں نے خانہ کعبہ…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب کرکے فرمایا کہ خدا اور اس کے رسول کی بات مانو۔ جب رسول تمہیں ایسی بات کی طرف بلائے جس میں تمہاری زندگی ہے تو تمہیں سنن چاہئے، اور ہر حال میں رسول کی اطاعت کرنی چاہیئے، کیونکہ رسول کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ کی مرضی و مامرضی کی ہر ایک بات تم لوگوں کو انہیں رسول کے ذریعہ سے پہنچتہی ہے۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو، انسان کے دل کو پیدا کیا ہے اسی دل کے ارادہ پر انسان کی آنکھ ہاتھ پیر سب چلتے ہیں۔ وہ دل کا ارادہ بھی اللہ ہی کے قبضہ وقدرت میں ہے وہ جیسے انسان کی نیت دیکھتا ہے فورا ادھر انسان کے دل کو پھیر دیتا ہے، اور…
Read the full tafseer →[7] اللہ کا آدمی اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہونا دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک یوں کہ مومن کے قلب میں اطاعت کی برکت سے کفر و معصیت کو نہیں آنے دیتا۔ دوسرے یوں کہ کافر کے قلب میں مخالفت کی نحوست سے ایمان و اطاعت کو نہیں آنے دیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
حیات آفرین پیغمبر :
(ف 2) مسلمان کو اطاعت مطلقہ کی دعوت ہے مسلمان کے لئے لازم ہے کہ وہ ہر دعوت رسول پر لبیک کہے کیونکہ اس کا پیغام حیات آفرین ہے اس کی ہر ادا زندگی ہے اور زندگی کا مرقع ہے ، جب تک مسلمان اپنے پیغمبر کے اسوہ پر عمل پیرا رہے ، زندہ رہے اور جب سے بدعات ورسوم کی پیروی اختیار کی ہے زندگی کے تمام آثار مفقود ہیں ۔
(آیت) ” ان اللہ یحول بین المر ، وقلبہ “۔ سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے قریب ہیں اور ہر شخص کے قلب میں اس کی قدرتوں کا انعکاس ہے اب جیسا تمہارے قلب کا شیشہ ہے خدا ویسا ہی قلب میں نظر آئے گا ، اگر تم منکر ہو ، تو تمہارے اور ہدایت و پرہیز گاری کے درمیان وہ حائل ہے ،…
Read the full tafseer →24 اے ایمان لانے والو ! تم اللہ اور رسول کا حکم بجالایا کرو جب تم کو رسول ﷺ ایسے کام کی دعوت دیا کریں اور پکارا کریں جو کام تم کو زندگی بخشنے والا اور تم کو زندہ رکھنے والا ہو اور یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ آدمی کے اور اس کے دل کے مابین حائل ہوجایا کرتا ہے اور آڑ بن جایا کرتا ہے اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ تم سب کو خدا کے حضور میں جمع ہونا ہے۔ یعنی اللہ اور رسول کا حکم بجالائو جب رسول تمہیں زندگی بخشنے والے کام کی طرف بلایا کرے اور پکارا کرے جیسے جہاد وغیرہ کی طرف تو امتثال امر میں جلدی کیا کرو آدمی اور اس کے دل کے مابین آڑ بن جانے کا مطلب یہ ہے کہ مومن کے قلب میں طاعت کی برکت سے کفر نہیں…
Read the full tafseer →ف 4۔ حدیث ترمذی سے کہ حضور ﷺ نے ابھی بن کعب کو پکارا اور وہ نماز میں تھے تو ان کے عذر پر آپ نے ان کو یہ آیت یاد دلائی معلوم ہوتا ہے کہ استجیبوا اپنے عموم سے اس سورت کو بھی شامل ہے کہ جب رسول اللہ کسی کو پکاریں تو جواب دینا واجب ہے اور اپنے اطلاق سے اس صورت کو بھی شامل ہے کہ یہ شخص نماز میں مشغول ہو تو نماز ہی میں جواب دینا واجب ہے۔
5۔ دو طریق سے ایک طریق یہ کہ مومن کے قلب میں سب طاعت کی برکت سے کفر و معصیت کو نہیں آنے دیتا دوسرا طریق یہ کہ کافر کے قلب میں مخالفت کی نحوست سے ایمان اطاعت کو نہیں آنے دینا اس سے معلوم ہوا کہ اطاعت کی مداومت بڑی نافع چیز ہے اور مخالفت کی مواظبت بڑی مضر چیز ہے۔
Read the full tafseer →اللہ اور اس کے رسول کے احکام ہی میں زندگی ہے اس زندگی کو حاصل کرلو :
34: فرمایا پیغمبر اسلام کی دعوت اس لئے ہے کہ تمہیں زندہ کردے یعنی وہ انسانیت اعلیٰ کے انبعاث و قیام کی دعوت ہے غور کرو کہ اس نے کس طرح وقت کی تمام مردہ جماعتوں کو قبروں سے اٹھا کر زندگی کے میدانوں میں متحرک کردیا تھا ؟ اس سے بڑھ کر مردوں کو جلانا اور کیا ہوگا کہ عرب کے ساربانوں میں ابوبکر ؓ ، عمر ؓ ، عثمان ؓ ، علی ؓ ، عائشہ ؓ ، خالد بن ولید ؓ ، ابن وقاص ؓ اور ابن العاص ؓ جیسے لوگ پیدا کردیئے اور پچاس برس کے اندر اندر کرہ ارض کی سب سے بڑی مہذب و اشرف قوم وہی عرب کے وحشی تھے۔
آج بھی اس پیغام میں اس طرح کی زندگی موجود ہے لیکن…
Read the full tafseer →In the fifth verse (24), believers have been addressed once again. Commanded to obey Allah and His Messenger in a particular manner, they have been told that the thing to which Allah and His Messenger invite you is something which brings no benefit to Allah and His Messenger per se. Instead of that, all Divine injunctions have been prescribed for nothing but their own benefit. So, said in the manner pointed to above, was: اسْتَجِيبُوا لِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (respond to Allah and the Messenger when He calls you to what gives you life).
What is the 'life'…
Read the full tafseer →19. The most effective means of preventing man from failing prey to hypocrisy is to implant two ideas in his mind. First, that he will have to face the reckoning and judgement of God Who knows what is in the deep recesses of his heart. Even man's intentions and desires, the purposes which he seeks to achieve, the ideas that he seeks to keep hidden in his heart, are all well known to God. Second, that ultimately every man will be mustered to God; that He is so powerful that none can escape His judgement. The deeper the roots of these convictions. the further is man removed from hypocrisy.…
Read the full tafseer →