Al-Anfaal 8:23

Al-Anfaal · from ayah 23

8:23

وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ؕ— وَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ۟وَلَوۡ عَلِمَ اللّٰهُ فِيۡهِمۡ خَيۡرًا لَّاَسۡمَعَهُمۡ‌ؕ وَلَوۡ اَسۡمَعَهُمۡ لَـتَوَلَّوْا وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ‏

اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Had Allah known any good in them, He would have made them hear. And if He had made them hear, they would [still] have turned away, while they were refusing.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:23

اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سُننے کی توفیق دیتا (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سُنواتا تو وہ بے رُخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق دے دیتا اور اگر ان کو اب سنا دے تو ضرور روگردانی کریں گے بے رخی کرتے ہوئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر اللہ کے علم میں ان کے اندر کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ان کو سننے کی توفیق دے دیتا، لیکن اب (جبکہ ان میں بھلائی نہیں ہے) اگر ان کو سننے کی توفیق دے بھی دے تو وہ منہ موڑ کر بھاگ جائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی جانتا تو انہیں سنادیتا اور اگر سنا دیتا جب بھی انجام کا ر منہ پھیر کر پلٹ جاتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر اللہ ان میں کچھ بھی خیر (کی طرف رغبت) جانتا تو انہیں (ضرور) سنا دیتا، اور (ان کی حالت یہ ہے کہ) اگر وہ انہیں (حق) سنا دے تو وہ (پھر بھی) روگردانی کر لیں اور وہ (حق سے) گریز ہی کرنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی جانتا تو انھیں ضرور سنوا دیتا اور اگر وہ انھیں سنوا دیتا تو بھی وہ منہ پھیر جاتے، اس حال میں کہ وہ بےرخی کرنے والے ہوتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر اللہ ایسے لوگوں میں کچھ بھی بھلائی دیکھتا تو انہیں سننے کی توفیق بخش دیتا۔ اور اگر وہ انہیں یہ توفیق دے بھی دیتا تو بھی بےرخی کے ساتھ پیٹھ پھیر جاتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر اللہ ان میں کوئی صلاحیت دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق دیتا اور صلاحیت بدون ان کو سنواتا تو وہ اعراض کرتے ہوئے منہ پھیرتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی دیکھتا تو وہ انہیں ضرور سننے کی توفیق دے دیتا اور اگر انہیں اسی حالت میں سنا دیتا تو یقیناً یہ پھرجاتے منہ موڑ کر،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر ان میں کسی خوبی کا علم اللہ کو ہوتا تو وہ انہیں سنوا دیتا اور اگر (اب) وہ انہیں سنوا دے تو یہ ضرور روگردانی کریں گے بےرخی کرتے ہوئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر اللہ کے علم میں ہوتا کہ ان میں کوئی خیر ہے تو وہ انہیں سنوا دیتا اور اگر وہ انہیں (بھلائی کے بغیر) سنوا بھی دیتا تو وہ اعراض کرتے ہوئے پیٹھ پھیر جاتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر اللہ ان میں نیکی کا مادہ دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق دیتا اور (اگر بغیر صلاحیت کے) ان کو سنا دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And had Allah known in them any good He would surely, have made them hear; but (being as they, are) even if He made them hear, they would have surely turned away in aversion.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Had Allah seen in them some good, He would have made them listen (as due). But if He makes them listen (now), they will turn away paying no heed.

— Muhammad Taqi Usmani

Had Allah seen in them some good, He would have made them listen (as due). But if He makes them listen (now), they will turn away paying no heed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Had Allah known of any good in them, He would indeed have made them listen; and even if He had made them listen, they would but have turned away with aversion.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Had Allah known of any good in them He would have made them hear, but had He made them hear they would have turned away, averse.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Had Allah known any good in them, He would have made them hear. And if He had made them hear, they would [still] have turned away, while they were refusing.

— Saheeh International

Had they possessed any virtue, God would certainly have made them hear. Even if God were to make them hear, they would still turn away from (the words of God).

— Muhammad Sarwar

And if Allah had known any good in them He would have made them hear, and if He makes them hear they would turn back while they withdraw.

— Muhammad Habib Shakir

And had Allah known in them any good He would surely have made them hearken; and even if He made them hear, they would surely turn away as backsliders.

— Abdul Majid Daryabadi

If Allah had found in them any good. He would indeed have made them listen: (As it is), if He had made them listen, they would but have turned back and declined (Faith).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–23

اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اسکا رسول روک دے رک جایا کرو، سن کر ان سنی نہ کردیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہہ دیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کردیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کرلیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْفَال 18 یعنی جب ان لوگوں کے اندر خود حق پرستی اور حق کے لیے کام کرنے کا جذبہ نہیں ہے تو انہیں اگر تعمیل حکم میں جنگ کے لیے نکل آنے کی توفیق دے بھی دی جاتی تو یہ خطرے کا موقع دیکھتے ہی بےتکلف بھاگ نکلتے اور ان کی معیت تمہارے لیے مفید ثابت ہونے کے بجائے الٹی مضر ثابت ہوتی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چوتھی آیت میں ارشاد ہے (آیت) وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ، یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی بھلائی دیکھتے تو ان کو اعتقاد کے ساتھ سننے کی توفیق بخش دیتے اور اگر ان کو بحالت موجودہ کہ ان میں طلب حق نہیں ہے حق بات سنا دیں تو وہ ضرور روگردانی کریں گے بےرخی کرتے ہوئے۔ بھلائی سے مراد اس جگہ طلب حق ہے کہ طلب ہی کے ذریعہ تدبر اور فہم کے دروازے کھلتے ہیں اور اسی سے اعتقاد و عمل کی توفیق ہوتی ہے۔ اور جس میں طلب حق نہیں گویا اس میں کوئی بھلائی نہیں، معنی یہ ہیں کہ اگر ان میں کوئی بھلائی موجود ہوتی تو ظاہر ہے کہ وہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ۔ ایک شبہ کا ازالہ : یہ ایک دفع دخل مقدر یعنی ایک پیدا ہونے والے شب ہے کا برسر موقع جواب ہے۔ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سننے سمجھنے ہی پر انسان کی انسانیت کا انحصار ہے اور اس سے محرومی خدا کو اس درجہ ناپسند ہے کہ اس سے محروم ہو کر انسان اس کے نزدیک بد ترین جانور بن جاتا ہے تو وہ اپنی قدرت سے ان کے کان کھول کیوں نہیں دیتا اور ان کی عقل پر پڑے ہوئے پردے ہٹا کیوں نہیں دیتا ؟ اس سوال کے جواب میں فرمایا کہ اللہ اگر ایسے لوگوں کے اندر کوئی صلاحیت پاتا تو ان کو سننے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

23۔ 1 یعنی ان کے سماع کو نافع بناکر ان کو فہم صحیح عطا فرما دیتا، جس سے وہ حق کو قبول کرلیتے اور اسے اپنالیتے۔ لیکن چونکہ ان کے اندر خیر یعنی حق کی طلب ہی نہیں ہے، اس لئے وہ فہم صحیح سے محروم ہیں۔ 23۔ 2 پہلے سماع سے مراد سماع نافع ہے۔ اس دوسرے سماع سے مراد مطلق سماع ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ انہیں حق بات سنوا بھی دے تو چونکہ ان کے اندر حق کی طلب ہی نہیں ہے، اس لئے وہ بدستور اس سے اعراض کریں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

12: بھلائی سے یہاں مراد حق کی طلب اور جستجو ہے، اور جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، سننے سے مراد سمجھنا ہے، اس طرح اس آیت میں یہ اہم نکتہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق اس کو دیتا ہے جس کے دل میں حق کی طلب ہو، اگر کسی میں حق کی طلب ہی نہ ہو اور وہ غفلت کی حالت میں اس طرح زندگی گزاررہا ہو کہ بس جو کچھ میں کررہا ہوں ٹھیک کررہا ہوں اور مجھے کسی سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے تو اول تو وہ حق بات کو سمجھنے سے ہی محروم رہتا ہے، اور اگر سمجھ بھی جائے تو اس کا نوٹس ہی نہیں لیتا اور حق سے بدستور منہ موڑے رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–23

تفسیر آیات 20 تا 23:۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور مسلسل يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا سے انہیں مخاطب کیا جاتا ہے۔ اور یہ خطاب ان مضامین کے بعد آتا ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے ، اور اس خطاب میں ان کو یہ وصیت کی جاتی ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ ان کو اللہ اور رسول سے سرکشی کرنے سے خبردار کیا جتا ہے اور انہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اللہ کی آیات کو سنتے ہیں اور ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں گویا انہوں نے سنا ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ گونگے اور بہرے ہیں اگرچہ وہ آنکھیں اور کان رکھتے ہیں اور زبان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بدترین جانور ہیں۔ اس لیے کہ یہ جانوروں کی طرح سنتے تو ہیں لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اصل یہ ہے کہ ان لوگوں میں بھلائی کی جڑہی نہیں کیونکہ حقیقی بھلائی انسان کو اس وقت ملتی ہے جب اس کے دل میں طلب حق کی سچی تڑپ اور نور ہدایت قبول کرنے کی لیاقت ہو۔ جو قوم طلب حق کی روح سے یکسر خالی ہوچکی اور اس طرح خدا کی بخشی ہوئی قوتوں کو اپنے ہاتھوں برباد کرچکی ہو، رفتہ رفتہ اس میں قبول حق کی لیاقت و استعداد بھی نہیں رہتی۔ اسی کو فرمایا ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں میں قبول خیر و ہدایت کی لیاقت نہیں دیکھی۔ اگر ان میں کچھ بھی لیاقت دیکھتا تو اپنی عادت کے موافق ضرور ان کو اپنی آیتیں سنا کر سمجھا دیتا۔ باقی بحالت موجودہ اگر انہیں آیات سنا اور سمجھا دی جائیں تو یہ ضدی اور معاند لوگ سمجھ کر بھی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 23 وَلَوْ عَلِمَ اللّٰہُ فِیْہِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَہُمْ ط وَلَوْ اَسْمَعَہُمْ لَتَوَلَّوْا وَّہُمْ مُّعْرِضُوْنَ اگر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اندر کوئی صلاحیت پاتا تو ان کو سننے اور سمجھنے کی توفیق دے دیتا ‘ لیکن اگر انہیں بغیر صلاحیت کے تعمیل حکم میں جنگ کے لیے نکل آنے کی توفیق دے بھی دی جاتی تو یہ خطرے کا موقع دیکھتے ہی پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے۔ یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے تنبیہہ ہے جو کفار کے لشکر کا سامنا کرنے میں پس و پیش کر رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

22 بالآخر ایسے لوگوں میں بھلائی کا جوہر موجود ہی نہیں رہتا اور اگر لوگ اپنے آپ میں کچھ ایسا جوہر موجود رہنے دیتے تو اللہ تعالیٰ انہیں سنا بھی دیتا۔ مگر ان کی موجودہ حالت یہ ہے کہ اگر انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات سنا اور سمجھا بھی دی جائیں تو یہ ضدی اور معاند لوگ سمجھ کر بھی انہیں تسلیم و قبول کرنے پر تیار نہ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

35 ۔ یعنی اگر کافروں اور منافقوں میں کوئی خوبی طلب حق کے سلسلہ میں موجود ہوتی تو اللہ انہیں اعتقاد کے ساتھ سننے کی توفیق بھی دے دیتا۔ (آیت) ” ولو اسمعھم “۔ یعنی انہیں اس بےپروائی کی حالت میں سنوادے، جیسا کہ ظاہری کانوں سے وہ اب بھی سن ہی رہے ہیں۔ (آیت) ” ولوعلم اللہ فیھم خیرا “۔ اللہ کا علم تو ہمیشہ مطابق واقع ہی ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ کے علم میں کسی شے کے نہ آنے کے معنی ہی اس شے کی نفی کے ہیں۔ (آیت) ” وھم معرضون “۔ یہ ٹکڑا ان کی بےتوجہی کو اور نمایاں کرنے کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–27

وَلا تکونوا کالذین قالوا سَمِعْنَا وھم لا یسمَعُوْنَ ، یہاں سننے سے مراد وہ سننا ہے جس کو قبول کرنا اور ماننا کہتے ہیں، اس آیت میں اشارہ ان منافقوں کی طرف ہے جو زبان سے ایمان کا اقرار کرتے تھے مگر احکام کی اطاعت سے منہ موڑ جاتے تھے، سن لینے کے باوجود عمل نہ کرنا کافروں کا شیوہ ہے، تم اس رویہ سے بچو، اگلی آیت میں ایسے ہی لوگوں کو بہرہ اور گونگا بدترین قرار دیا گیا ہے اگر ان میں اللہ تعالیٰ کوئی خیر و خوبی دیکھتا تو ضرور انھیں سنکر سمجھنے کی توفیق عطا کرتا چونکہ ان کے اندر خیر یعنی طلب صادق ہی نہیں اسلئے وہ فہم صحیح سے محروم ہیں، پہلے سماع سے مراد سماع نافع ہے جسے مفسرّ علاّم نے سماع تفہیم کہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولو علم اللہ فیھم خیرًا اور اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی ‘ یعنی قبول حق کی صلاحیت جانتا اور وہ اہل سعادت میں سے ہوتے اور اللہ کے اسم ہادی کا ان پر اثر پڑ سکتا۔ لا سمعھم تو ان کو سناتا ‘ یعنی اس طرح سناتا کہ وہ سمجھتے اور قبول کرلیتے۔ ولو اسمعھم لتولوا وھم معرضون اور اگر ان کو سنا بھی دیتا (اور وہ فائدہ اندوز بھی ہوجاتے اور سمجھ بھی جاتے تب بھی ایمان و تصدیق و نفع اندوزی کے بعد مرتد ہوجاتے اور) منہ پھیر کر پشت موڑ جاتے (کیونکہ اللہ کو معلوم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں) اسلئے ظہور حق کے بعد بھی محض عناد کی وجہ سے حسب تقدیر فطری روگرداں ہوجاتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے بعض لوگ اہل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(23) اور اگر اللہ تعالیٰ بنی عبد دار وغیرہ میں کوئی خوبی دیکھتے تو انھیں ایمان کی دولت سے ضرور بہرہ ور فرماتے، اور اگر اس حالت میں ان کو ایمان کی توفیق دے دیں تو وہ ضرور اس سے روگردانی کرجائیں اور جھٹلانا شروع کردیں، اللہ تعالیٰ ان کی اس حالت کو بخوبی جانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ : یعنی اگر ان کے دل میں خیر یعنی حق کی طلب ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے سننے کو نافع بنا کر ایمان و عمل کی توفیق دے دیتا۔ پہلے ”لَّاَسْمَعَهُمْ“ (انھیں ضرور سنوا دیتا) سے مراد وہ سنانا ہے جو دل سے ہو اور فائدہ مند ہو اور ”لَّواَسْمَعَهُمْ“ (اور اگر وہ انھیں سنوا دیتا) سے مراد محض کانوں سے سنوانا ہے، یعنی اگر انھیں اسی حال میں کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں ہے، سنواتا تو یقیناً وہ منہ پھیر کر چل دیتے، یعنی ان لوگوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کر کے اپنے اندر سے وہ استعداد ہی ختم کردی ہے جو ایمان اور راہ ہدایت کی پیروی کے لیے بیج کی حیثیت رکھتی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 23 قولہ تعالیٰ : آیت : ولو علم اللہ فیھم خیرا لا سمعھم کہا گیا ہے : اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی جانتا تو انہیں ضرور دلائل براہیں اس طرح سنا دیتا کہ وہ انہیں سمجھ سکتے، لیکن ان کی شقاوت اور بدبختی پہلے سے اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ آیت : ولو اسمعھم اگر وہ انہیں سمجھا دیتا تو وہ ایمان نہ لاتے کیونکہ ان کا کفر اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں پہلے سے موجود ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے : تو وہ یقینا انہیں ان مردوں کا کلام سنوا دیتا جنہیں زندہ کرنے کا انہوں نے مطالبہ کیا تھا، کیونکہ انہوں نے قصی بن کلاب وغیرہ کو زندہ کرنے کا، مطالبہ کیا تھا تاکہ وہ حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن اسحاق، ابن ابی حاتم نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو علم اللہ فیہم خیرا لاسمعہم “۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے لئے ان کے لئے وہ باتیں تیار کردیتا ہے جو وہ اپنی زبانوں سے کہتے لیکن ان کے دل ان کے خلاف ہوتے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو اسمعہم “۔ یعنی اس بات کے سامنے کے بعد کہ ان میں کوئی چیز نہیں جو ان کو نفع دے اس کے علم کے نافذ ہونے کے بعد اس لئے کہ وہ اس سے کوئی نفع حاصل نہ کرتے۔ 3:۔ ابوالشیخ نے عکرمۃ (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے کہا کہ ہم برے ہیں اس چیز سے کہ جن کی طرف محمد ﷺ ہم کو بلاتے ہیں ہم اس کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلَوْ : اور اگر ] [ عَلِمَ : جانتا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ فِيْهِمْ : ان میں ] [ خَيْرًا : کوئی بھلائی ] [ لَّاَسْمَعَهُمْ ۭ : تو وہ ضرور سناتا ان کو ] [ وَلَوْ : اور اگر ] [ اَسْمَعَهُمْ : وہ سناتا ان کو ] [ لَتَوَلَّوْا : تو وہ ضرور روگردانی کرتے ] [ وَّهُمْ : اور وہ ہیں (ہی ) ] [ مُّعْرِضُوْنَ : اعراض کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–24

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبر داری کا حکم ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کا اور حکم کی تعمیل کرنے کا اور حکم بجالانے کا حکم فرمایا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم سے رو گردانی نہ کرو حالانکہ تم سنتے ہو، یعنی جب تم بات سن رہے ہو قرآن کا حکم تمہارے سامنے ہے رسول اللہ ﷺ حکم دے رہے ہیں تو عمل نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں اور کوئی عذر نہیں جو عمل سے روکے، مزید فرمایا (وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ ھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ) (اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے) ان سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–29

ترغیب بر اطاعت وامانت وترہیب از معصیت وخیانت و زجر دوستاں از مشابہت دشمناں قال اللہ تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ ذوالفضل العظیم (ربط) گذشتہ آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اب ان آیات میں اہل ایمان کو ہدایت فرماتے ہیں کہ حق جل شانہ کی معیت اور نصرت اور حمایت کا دارومدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے اگر تم اللہ کی معیت اور اس کی نصرت کے طلبگار ہو تو اس کی دو شرطیں ہیں۔ اول تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی دل وجان سے ایسی اطاعت کرو جس میں خیانت کا شائبہ نہ ہو اس لیے کہ خیانت اطاعت کاملہ میں مخل ہے۔ دوم یہ کہ اہل ایمان پر لازم ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

24: کچھ بھلائی اور اللہ کی طرف قدرے انابت “ لَاَسْمَعھُمْ ” ان کو حق بات سنا دیتا اور انہیں قبول کرنے کی توفیق دے دیتا۔ یعنی اگر ان کے دلوں میں انابت اور طلب حق کا جذبہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کو قبول حق کی وفیق دے دیتا۔ لیکن وہ انابت اور قبول حق کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اس لیے اگر وہ حق بات سن کر اس کو مجھ بھی لیں تب بھی وہ اس سے اعراض کرکے چلتے بنیں گے۔ کیونکہ ان کی قوائے مدرکہ پر مہر جباریت ثبت ہوچکی ہے۔ “ لعنادھم و جحودھم الحق بعد ظھورھ ” (معالم و خازن ج 3 ص 17، ص 18) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–23

ربط آیات : اس سے پہلے اہل ایمان سے اس طرح خطاب تھا کہ جب تم جنگ میں کافروں سے ٹکر لو تو پشت نہ پھیرو بلکہ ثابت قدم رہنے کی کوشش کرو۔ اگرچہ دشمن کی تعداد تم سے دگنی ہی کیوں نہ ہو۔ ان حالات میں استقلال اور ثبات سے کام لو ، ہر کام من جانب اللہ ہوتا ہے فتح ونصرت اس کے ہاتھ میں ہے تمہارا کام صرف یہ ہے کہ دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہو۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کا یہ پہلا اصول بیان فرمایا ہے اس کے بعد بھی جہاد کے سلسلے میں بڑے بڑے اصول بیان ہو رہے ہیں جن کی پابندی اہل ایمان پا لازم ہے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اگر ان اصولوں پر کاربند رہو گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت اور مہربانی شامل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْ عَلِمَ اللہُ فِيْہِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَہُمْ۝ 0 ۭ وَلَوْ اَسْمَعَہُمْ لَتَوَلَّوْا وَّہُمْ مُّعْرِضُوْنَ۝ 23 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 23–26

ولو علم اللّٰہ فیہم الخ کی بابت بعض مفسرین نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ کفار نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی تھی کہ آپ قصی بن کلاب وغیرہ سینکڑوں برس کے مردوں کو زندہ کردیں۔ اگر وہ آپ کی نبوت کی گواہی دیں گے تو ہم بھی مان لیں گے کیونکہ وہ عرب کے بزرگ ہیں۔ اس کے جواب میں یہ جملہ ہے کہ اگر ان میں قابلیت ہوتی تو خدا ان کو سنوا دیتا مگر ان میں قابلیت نہیں۔ اگر وہ زندہ بھی ہوں اور سن بھی لیں تب بھی نہیں مانیں گے۔ اس کے بعد اسی اطاعت کی تاکید فرماتا ہے۔ اس کا نفع بتلا کر اور عدول حکمی کا نقصان جتلا کر فقال لما یحییکم کہ اللہ اور رسول تم کو کسی عبث اور ضرر رسان بات کی طرف نہیں بلاتے بلکہ اس کی طرف جس میں تمہاری…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَوعَلِمَ اللّٰہُ فِیْھِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَھُمْ ط وَلَوْ اَسْمَعَھُمْ لَتَوَلَّوْا وَّھُمْ مُعْرِضُوْنَ ۔ (الانفال : 23) (اگرا للہ تعالیٰ ان میں کچھ بھلائی جانتا تو ان کو ضرور سنا دیتا اور اگر بدوں بھلائی انھیں سناتا تو وہ ضرور بھاگ جاتے اس لیے کہ وہ ہیں ہی اعراض کرنے والے ) سنت اللہ اس آیت کریمہ میں ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے جو ذہنوں میں پیدا ہوسکتا ہے۔ وہ اعتراض یہ ہے کہ یہاں منافقین کی جس عادت بد کا ذکر فرمایا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر طرح کے خیر سے محروم ہوگئے ہیں وہ ان کانہ سننا ہے یا سن کر اثر قبول نہ کرنا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے کام لے کر انھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–24

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافق نہیں سننا چاہتے تو نہ سنیں۔ اے مومنوں تمہیں ضرور اللہ اور اس کے رسول کی بات سننا اور ماننا چاہیے۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا ارشاد سننے کے باوجود ایسا طرز حیات اختیار کرتے ہیں جیسا کہ انھوں نے اسے سنا ہی نہیں۔ ان کو جانوروں کے ساتھ تشبیہ دے کر فرمایا یہ عقل و فکر سے عاری ہیں۔ سورة الاعراف آیت 179 میں ان لوگوں کو جانوروں سے بدتر شمار کرتے ہوئے انھیں غافل قرار دیا گیا ہے۔ یہاں فرمایا ہے اگر اللہ تعالیٰ ان میں خیر کا جذبہ دیکھتا تو ان کو بات سننے، سمجھنے کی توفیق دیتا۔ کیونکہ یہ جانوروں کی طرح محض اپنے مالک کی آواز سنتے ہیں سمجھتے نہیں۔ یہی مثال ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وہ خوبی سے خالی ہیں : آیت 23: وَ لَوْعَلِمَ اللّٰہُ فِیْھِمْ (اگرا للہ تعالیٰ ان میں دیکھتے) ان گونگے بہرے لوگوں میں خَیْرًا (کوئی خوبی) سچائی اور رغبت لَّاَ سْمَعَھُمْ (تو ان کو سننے کی توفیق دے دیتے) تو ان کو سننے والے بنا دیتا یہاں تک کہ وہ بھی تصدیق کرنے والوں کی طرح سنتے۔ وَلَوْاَسْمَعَھُمْ لَتَوَلَّوْا (اور اگر ان کو اب سنا دیں تو ضرور روگردانی کریں گے) اس سے منہ موڑتے یعنی اگر ان کو سنا دیتا اور وہ تصدیق کردیتے تو اس کے بعد بھی ارتداد اختیار کرلیتے اور استقامت پر نہ رہتے۔ وَّھُمْ مُّعْرِضُوْنَ (بےرخی کرتے ہوئے) ایمان سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23 (لو علم اللہ فیھم خیراً لاسمعھم) سمجھ اور قبولیت کا سنانا (ولو اسمعھم لتولوا وھم معرضون) ان کے ضد اور عناد کی وجہ سے اور حق ظاہر ہونے کے بعد اس کا انکار کرنے کی وجہ سے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کو کہتے تھے کہ ہمارے لئے قصی کو زندہ کردیں وہ بڑے بابرکت بزرگ تھے وہ آپ کی نبوت کی گواہی دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ولو اسمعھم ) قصی کی کلام (لتولوا وھم معرضون)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–23

21۔ 23۔ اللہ پاک نے اس سے پہلے کی آیت میں مومنوں کو خطاب کر کے یہ فرمایا تھا کہ تم ہر ایک امر میں خدا اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو اور ہر باب میں ان کے حکم سے پیٹھ نہ پھیرو کیونکہ تم قرآن کی پند و نصیحت کی باتیں اور سمجھتے ہو اور اس کی تصدیق کرتے ہو اس کے بعد اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ ان لوگوں کی خصلت نہ اختیار کرو جو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم سنتے میں اور حقیقت یہ ہے کہ سنتے نہیں ہیں کیونکہ سننے کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ اس سے کچھ نفع بھی حاصل ہو یہ منافقین یا مشرکین خدا کا کلام صرف کانوں سے سنتے ہیں مگر اس سے کوئی نفع نہیں اٹھاتے اس لئے ان کا سننا اور نہ سننا دونوں برابر ہیں پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 22–24

آیت 22 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ان شر الداوآب عند اللہ) ” سب جان داروں سے بدتر اللہ کے ہاں “ جن کو معجزات اور ڈرانے والے کوئی فائدہ نہیں دیتے، وہ ہیں جو (الصم) حق سننے سے بہرے ہیں۔ (البکم) حق بولنے سے گونگے ہیں (الذین لایعقولن) وہ کسی ایسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے جو ان کو فائدہ دیتی ہے اور نہ اسے اس چیز پر ترجیح دے سکتے ہیں جو انہیں نقصان دیتی ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کان، آنکھ اور عقل سے نوازا تاکہ وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے راستے میں استعمال کریں، مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–24

ومارمیت اذرمیت کا مفہوم پھر فرمایا ومارمیت اذرمیت ولکن اللہ رمی اور تم نے نہیں پھینکا جب پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا) یہ بات اس طرح ہوئی کہ حضور ﷺ نے ایک مٹھی مٹی لے کر کافروں کے چہروں کی طرف پھینک دی اور کافروں کے قدم اکھڑ گئے۔ ایک بھی کافر ایسا نہیں بچا جس کی آنکھ میں اس مٹی کا کچھ حصہ نہ پڑا ہو، اس میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مٹی ان کافروں کے چہروں اور ان کی آنکھوں تک پہنچا دی تھی۔ اس لئے کہ کسی مخلوق کی یہ طاقت نہیں تھی کہ حضور ﷺ جس جگہ کھڑے تھے وہاں سے یہ مٹی ان کافروں کی آنکھوں تک پہنچا سکے۔ یہ تمام باتیں آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت کی نشانیاں تھیں۔ نیز ان واقعات کا ہو بہو اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

35 طلب صادق ذریعہ سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ طلب صادق اولین اساس ہے عنایات خداوندی سے سرفرازی کی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ ان لوگوں میں کوئی بھلائی دیکھتا حق کی طلب اور اس کی قبولیت کے ضمن میں تو وہ ان کو ضرور سنا دیتا۔ یعنی اگر ان کے اندر اس طرح کی کوئی بھلائی موجود ہوتی تو اللہ پاک ان کو اپنی عنایات سے ضرور نوازتا۔ کیونکہ یہاں پر علم کنایہ ہے وجود سے۔ یعنی اگر ان لوگوں کے اندر ایسی کوئی چیز ہوتی تو وہ اللہ کے علم میں ضرور ہوتی۔ کیونکہ موجودات میں سے کوئی بھی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہوسکتی۔ مگر ان کے اندر اس طرح کی کوئی چیز ہے اس لیے یہ محروم کے محروم ہیں ۔ والعیاذ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–24

اطاعت الٰہی ہی اصل زندگی ہے تشریح : جیسا کہ بدر کے واقعہ سے بیشمار سبق دیئے گئے ہیں اسی طرح پھر یہاں دہرایا جا رہا ہے کہ مشرکین کی شکست کی وجہ صرف اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی تھی، لہٰذا مسلمانوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ اپنی اس فتح کو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سمجھیں جو انہیں ایمان اور فرمانبرداری کے بدلے میں دی گئی ہے۔ ، اس لیے ایمان پر قائم رہیں۔ دوسرا یہ کہ کبھی اس راستے سے ہٹیں نہیں، پھر تاکیداً کہا جا رہا ہے تمام امت مسلمہ کو کہ سننے کے بھی چار درجات ہیں۔ -1 صرف سن لیا عمل نہ کیا۔ -2 کانوں سے سنا اور سمجھا مگر اعتقاد نہ کیا۔ -3 سنا، سمجھا ایمان بھی لائے مگر عمل نہ کیا۔ -4 سنا، سمجھا، ایمان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–28

آیات 20 تا 28 اسرار و معارف معیت باری بات جب معیت باری کی ہوئی تو یہ مشروط طور پر ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے چناچہ مومنین کو حقیقت ایمان سے آگاہ فرمایا جارہا ہے تاکہ انہیں اللہ کی معیت حاصل رہے ورنہ ایمان میں کمزوری برکات معیت میں کمی کا باعث بن جائے گی جیسا کہ فی زمانہ مشاہدہ ہے کہ مسلمان سے عمل چھوٹا تو اس کے نتیجے میں ایمان کمزور ہوا اور ایمان کی کمزوری نے برکات معیت میں کمی کردی چناچہ جہاں کہیں مسلمان ہیں وہاں طوفانوں کی زد پر ہیں اور کہیں سے خیریت کی خبر نہیں مل رہی اللہ ہمیں معاف فرمائیں تو اسی مرض کا علاج شافی ارشاد ہورہا ہے کہ اے ایمان والو اللہ کی اطاعت اختیار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 اگر انہیں اسی حال ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں ہے سناتا تو وہ منہ پھر کر چل دیے ہیں یعنی ان لوگوں نے گنا ہو کا ارتکاب کر کر ک کے اپنے اندر سے وہ استعداد ہی ختم کرلی ہے جو ایمان اور راہ ہدایت کی پیروی کے لیے بیج کی حثیت رکھتی ہے پھر جب یہ بیج نہ ہو تو پھل کی امید نہیں ہوسکتی چناچہ دوسری آیت میں فرمایا کلا بل ران علی قلو بھم ماکونوا یکسبون حقیقت یہ ہے کہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔ ( تطفیف۔ 14)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:23) لاسمعہم۔ وہ ان کو ضرور سنا دیتا۔ اسماع (افعال) سے بمعنی سنا دینا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب لام برائے تاکید۔ وہم تعرضون۔ واؤ حالیہ۔ اور ہم معرضون حال ہے۔ درآنحالیکہ وہ روگردانی کرنے والے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–24

آیات : 19 تا 24 لغات القرآن۔ تستفتحوا۔ تم فیصلہ چاہتے ہو۔ تنتھوا۔ تم رک جائو۔ تعودوا۔ تم پلٹ جائو گے۔ نعد۔ ہم پلٹ جائیں گے۔ لن تغنی۔ ہرگز فائدہ نہ دے گا۔ فئۃ۔ جماعت۔ گروہ۔ کثرت۔ بہت ہے۔ سمعنا۔ ہم نے سن لیا۔ شرا الدواب۔ جان داروں میں بدترین۔ الصم۔ بہرے۔ البکم۔ گونگے۔ اسمع۔ وہ سنوا دیتا۔ استجیبوا۔ تم حکم مانو۔ دعاکم۔ اس نے تمہیں بلایا۔ یحییکم۔ وہ تمہیں زندگی دیتا ہے۔ یحول۔ (حول) ۔ وہ آڑ بن جاتا ہے۔ بیچ میں آجاتا ہے۔ المراء۔ مرد۔ تشریح : ان آیات میں چند بہت ہی بناندی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) جب مکہ کے کفار مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے اس وقت لشکر کفار کے سرداروں نے خانہ کعبہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–23

وعظ و نصیحت اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ ان لوگوں کی خصلت نہ اختیار کرو جو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم سنتے ہیں، اور حقیقت میں وہ سنتے نہیں۔ کیونکہ سننے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے کچھ نفع بھی حاصل ہو۔ یہ منافقین یا مشرکین کی عادت ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ یہ لوگ چار پایوں سے بھی بد تر بالکل بہرے گونگے ہیں کچھ سمجھ ہی نہیں رکھتے ان سے تو جانور ہی اچھے ہیں کہ وہ اپنے فرض منصبی کو ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے علم ازلی کے موافق ان کے سننے میں بھلائی اور بہتری دیکھتے تو ان کو اس کے سننے کی توفیق دے دیتے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق یہ نتیجہ قرار پاچکا ہے کہ اگر بالفرض انہیں سننے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–23

[6] روایتوں میں آتا ہے کہ جب مشرکین کا لشکر معرکہ بدر کے لئے مکہ سے روانہ ہو رہا تھا تو قریش کے سردار ابو جہل نے غلاف کعبہ پکڑ کر دعا مانگی تھی کہ اے اللہ کامیابی اس لشکر کو عطا ہو جو حق پر ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–23

(ف 1) غرض یہ ہے کہ بدترین مخلوق کی توضیح کی جائے اللہ تعالیٰ نے انسان کو کان اس لئے دیئے ہیں کہ وہ حق وصداقت کی آواز سنے زبان اس لئے عطا کی ہے ، تاکہ سچائی کا اعلان کرے ، مگر جب وہ صداقت کی جانب سے کان بند کرلے اور اس کے لب حق کی حمایت میں نہ ہلیں ، تو پرھ اس میں اور حیوانات میں کیا فرق ہے ، یہ تو ان سے بھی بدتر ٹھہرا ، وہ اپنے وظائف نوعی کو ادا کرتے ہیں مگر یہ عقل وخرد سے کام نہیں لیتا ۔ ان آیات میں خطاب منافقین کے گروہ سے ہے کہ کمبخت بالکل متاثر نہیں ہوتے ، اور برابر کفر وشرک کے مرض میں مبتلا رہتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

23 اور اگر اللہ تعالیٰ ان معاندین میں کوئی خوبی اور بھلائی جانتا یعنی کم از کم ان میں حق کی طلب ہی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو ملنے کی توفیق عطا فرماتا اور وہ اگر ان کو موجودہ حالت میں سنا دے تو وہ ضرور بےرخی کے ساتھ پیٹھ پھیر کر الٹے پھرجائیں۔ یعنی جب ان میں ہدایت کی طلب نہیں اور ان میں صلاحیت نہیں ہر بھلائی کے عاری تو ان کی دست گیری کس بنا پر کی جائے اگر موجودہ حالت میں ان کو سنایا جائے تو یہ اعراض کریں گے اور منہ پھیر کر بےرخی کے ساتھ بھاگیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ نے ان کے دل میں ہدایت کی لیاقت نہیں رکھی جن میں لیاقت رکھی ہے انہی کو ہدایت دیتا ہے اور بغیر لیاقت جو سنتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–23

ف 3۔ مطلب یہ کہ ثمرہ اعتقاد سے سننے کا عمل ہے جب عمل نہ ہوا تو بعض وجوہ سے مشابہ اسی کے ہوگیا کہ جیسے اعتقاد کے ساتھ سناہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان میں کچھ بھی بھلائی موجود ہوتی تو اللہ ان کو ضرور سنوادیتا : 32: اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں ساری صلاحیتیں ودیعت فرمائی ہیں اگرچہ ان میں کمئ بیشی تسلیم ہے تاہن وہی صلاحیت کام کرتی ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے اور جیسی کچھ اس کی کوشش ہوتی ہے ویسی ہی صلاحیت ترقی کرتی ہے مثلاً دنیا میں جتنا پیشے ایجاد ہوئے ہیں ان سب کی صلاحیت ہر انسان میں موجود ہے لیکن جو شخص جس کے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اس میں وہ کامیاب ہوتا ہے اور باقی صلاحیتیں اس طرح سوئی رہتی ہیں اور وہ کبھی نہیں جاگتیں۔ یہی بات عقل و فکر کی ہے جو شخص اس سے کام لیتا ہے اس کو وہ یقیناً کام دیتی ہے اور جو اس کو چھونا بھی پسند نہیں کرتا اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the fourth verse (23), it was said: وَلَوْ عَلِمَ اللَّـهُ فِيهِمْ خَيْرً‌ا لَّأَسْمَعَهُمْ ۖ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِ‌ضُونَ ﴿23﴾ (And had Allah seen in them some good, He would have made them listen. And had He made them listen, they would have turned away paying no heed). In other words, the sense of the verse is: Had Allah seen in them some pliability towards receiving good counsel, He would have blessed them with the ability to listen with faith - and if, in their present state of being with no desire to receive truth, He were to make them listen to what is true,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

18. Such people have neither any love for the truth nor any desire to strive for it. Hence even if they were enabled by God to go forth to the battlefield. they would have turned on their heels at the very first sight of danger. That such people should be a part of the Muslim army might have led to greater harm than good.

Read the full tafseer →