Explained with ayahs 20–23
اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اسکا رسول روک دے رک جایا کرو، سن کر ان سنی نہ کردیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہہ دیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کردیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کرلیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْفَال 17
یعنی جو حق سنتے ہیں نہ حق بولتے ہیں۔ جن کے کان اور جن کے منہ حق کے لیے بہرے گونگے ہیں۔
Read the full tafseer →تیسری آیت میں ان لوگوں کی شدید مزمت ہے جو حق بات کو غور و تدبر کے ساتھ نہیں سنتے اور اس کو قبول نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کو قرآن کریم نے جانوروں سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔ ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ۔
لفظ دواب دابہ کی جمع ہے اصل لغت کے اعتبار سے ہر زمین پر چلنے والے کو دابہ کہا جاتا ہے مگر عرف و محاورہ میں صرف چوپایہ جانوروں کو دابة کہتے ہیں۔ معنی آیت کے یہ ہوئے کہ سب سے بدترین چوپائے اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو حق کو سننے سے بہرے اور اس کے قبول کرنے سے گونگے ہیں اور بہرے گونگے میں اگر کچھ عقل ہو تو وہ بھی اشاروں سے اپنے دل…
Read the full tafseer →اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ۔ اگرچہ لہجہ کی درشتی اوپر والے ٹکڑے میں جھلک رہی تھی لیکن اس ٹکڑے میں بالکل نمایاں ہوگئی ہے۔
خدا کے نزدیک بدترین جانور : فرمایا کہ خدا کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ مطلب یہ کہ اگر تم سب کچھ سن کر اسی طرح بہرے گونگے بنے اور رسول کی سنی ان سنی کرتے رہے۔ عقل و فہم سے تم نے کام نہ لیا تو تم خدا کے نزدیک بدترین جانور ہو۔ قرآن نے جگہ جگہ یہود اور مشرکین کو بدترین جانور کہا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ انہوں نے سننے سمجھنے سے انکار کردیا۔ ظاہر ہے کہ جو گروہ بھی ان کی روش…
Read the full tafseer →22۔ 1 اس بات کو قرآن کریم میں دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا ہے۔ (لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ) 7۔ الاعراف :179) ان کے دل ہیں، لیکن ان سے سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں، لیکن ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں یہ چوپائے کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ۔ یہ لوگ (اللہ سے) بیخبر ہیں۔
Read the full tafseer →11: پچھلی آیت میں سننے سے مراد سمجھنا ہے، اور مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ کانوں سے تو سننے کا دعوی کرتے ہیں، مگر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، اس لحاظ سے وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ بےزبان جانور اگر کسی کی بات کو نہ سمجھیں تواتنی بری بات نہیں ہے، ان میں یہ صلاحیت پیدا ہی نہیں کی گئی، اور نہ ان سے یہ مطالبہ ہے، لیکن انسانوں میں تو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے، اور ان سے یہ مطالبہ بھی ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر کوئی راستہ اپنائیں، اگر وہ سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
تفسیر آیات 20 تا 23:۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور مسلسل يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا سے انہیں مخاطب کیا جاتا ہے۔ اور یہ خطاب ان مضامین کے بعد آتا ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے ، اور اس خطاب میں ان کو یہ وصیت کی جاتی ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ ان کو اللہ اور رسول سے سرکشی کرنے سے خبردار کیا جتا ہے اور انہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اللہ کی آیات کو سنتے ہیں اور ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں گویا انہوں نے سنا ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ گونگے اور بہرے ہیں اگرچہ وہ آنکھیں اور کان رکھتے ہیں اور زبان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بدترین جانور ہیں۔ اس لیے کہ یہ جانوروں کی طرح سنتے تو ہیں لیکن…
Read the full tafseer →7 جنہیں خدا نے بولنے کو زبان سننے کو کان اور سمجھنے کو دل و دماغ دیئے تھے پھر انہوں نے یہ سب قوتیں معطل کردیں۔ نہ زبان سے حق بولنے اور حق کو دریافت کرنے کی کوشش کی۔ غرض خدا کی بخشی ہوئی قوتوں کو اس اصلی کام میں صرف نہ کیا۔ جس کے لیے فی الحقیقت عطا کی گئی تھیں۔ بلاشبہ ایسے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 22 اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لاَ یَعْقِلُوْنَ
یہاں پر واضح طور پر منافقین کو بد ترین جانور قرار دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →21 بدترین مخلوق کون ہیں ؟ اس آیت کا مضمون سورة اعراف کی آیت نمبر 179 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان اعضاء سے وہ کام لینا چھوڑ دے جس کے لیے وہ بنائے گئے ہیں تو پھر بالآخر وہ اعضاء اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ مثلاً آنکھیں اس لیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کائنات کو دیکھیں، کان اس لیے کہ وہ حق بات کو سنیں اور عقل اس لیے کہ وہ آنکھ اور کان کی بہم پہنچائی ہوئی معلومات میں غور و فکر کرے۔ اب جو شخص ان اعضاء سے کام نہ لیتے ہوئے انہیں بےکار بنا دیتا ہے تو ایسے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو برباد کردیا۔
Read the full tafseer →34 ۔ ( آیت سن کر عمل نہ کرنا بھی مشابہ ان لوگوں کے عمل کے ہے جو بہرے اور گونگے ہیں۔ (آیت) ” شرالدوآب “۔ کفارومنافقین کے ذکر کے بعد یہ لفظ ان کی تحقیر و اہانت کے لیے ہے۔ عنی بہ الاشرار الذین ھم فی الجھل بمنزلۃ الدواب (راغب)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
وَلا تکونوا کالذین قالوا سَمِعْنَا وھم لا یسمَعُوْنَ ، یہاں سننے سے مراد وہ سننا ہے جس کو قبول کرنا اور ماننا کہتے ہیں، اس آیت میں اشارہ ان منافقوں کی طرف ہے جو زبان سے ایمان کا اقرار کرتے تھے مگر احکام کی اطاعت سے منہ موڑ جاتے تھے، سن لینے کے باوجود عمل نہ کرنا کافروں کا شیوہ ہے، تم اس رویہ سے بچو، اگلی آیت میں ایسے ہی لوگوں کو بہرہ اور گونگا بدترین قرار دیا گیا ہے اگر ان میں اللہ تعالیٰ کوئی خیر و خوبی دیکھتا تو ضرور انھیں سنکر سمجھنے کی توفیق عطا کرتا چونکہ ان کے اندر خیر یعنی طلب صادق ہی نہیں اسلئے وہ فہم صحیح سے محروم ہیں، پہلے سماع سے مراد سماع نافع ہے جسے مفسرّ علاّم نے سماع تفہیم کہا…
Read the full tafseer →ان شر الدوآب عند اللہ الصم البکم الذین لا یعقلون درحقیقت اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے ہیں جو (حق کو) سمجھتے نہیں۔ الدَّوَآبِ سے مراد ہیں زمین پر تمام چلنے ‘ رینگنے والے جانور ‘ یا صرف چوپائے مراد ہیں۔ بہرے گونگے سے مراد ہیں وہ لوگ جو حق بات کو گوش قبول سے نہیں سنتے اور کلمۂ حق نہیں بولتے۔ اللہ نے ایسے لوگوں کو بہائم میں شمار کیا اور بدترین چوپایہ قرار دیا کیونکہ چوپایوں سے امتیاز و برتری جس وجہ سے ان کو حاصل تھی ‘ وہ سبب فضیلت انہوں نے تباہ کردیا (گوش حق نیوش اور نطق حق گو اور عقل صداقت فہم سے خالی ہوگئے) حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ آیت میں قبیلہ بنی عبدالدار کے افراد مراد ہیں جو…
Read the full tafseer →(22) کہ بدترین خلقت واخلاق کے اعتبار سے وہ لوگ ہیں جو حق کی بات سننے اور کہنے سے بہرے اور گونگے ہیں اور حکم الہی اور توحید الہی کو بالکل نہیں سمجھتے ،
Read the full tafseer →اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ : ”الدَّوَاۗبِّ“ ”دَابَّۃٌ“ کی جمع ہے، ”دَبَّ یَدِبُّ (ض)“ زمین پر چلنا۔ انسان کو ”الدَّوَاۗبِّ“ میں اس لیے شمار کیا کہ کتب لغہ میں ہر جاندار کو دابہ کہہ لیتے ہیں۔ مصباح میں ہے ”دَابَّۃٌ“ زمین کا ہر جاندار، خواہ سمجھ رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، یعنی کفار و منافقین جو کان سے اچھی بات نہ سنیں، زبان سے اچھی بات نہ نکالیں اور اللہ کی دی ہوئی عقل سے کام نہ لیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام جانوروں سے بدتر ہیں، کیونکہ جانور تو اپنے فطری تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور ان لوگوں کو عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، مگر یہ اس غرض کو بھی پورا نہیں کرتے۔ یہاں پہلے بہرے ہونے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت نمبر : 21۔ 22
قولہ تعالیٰ : آیت : ولاتکونوا کالذین قالوا سمعنا یعنی تم یہود یا منافقین یا مشرکین کی طرح نہ بن جانا۔ اور اس میں مراد کانوں سے سننا ہے۔ آیت : وھم لا یسمعون یعنی وہ اس میں تدبر نہیں کرتے جو وہ سنتے ہیں اور نہ وہ اس میں غور وفکر کرتے ہیں۔
پس وہ اس کی طرح ہیں جس نے کچھ نہیں سنا اور حق سے اعراض کرلیا۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ان کی مثل ہونے سے منع فرمایا ہے۔ پس آیت اس پر دلیل ہے کہ مومن کا قول : سمعت واطعت ( میں نے سنا اور پیروی کی) اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک اتشال فعل کی صورت میں اس پر اس کا اثر ظاہر نہ ہو۔ پس جب اس نے اوامر میں کوتاہی اور سستی برتی تو پھر وہ اس پر عمل…
Read the full tafseer →1۔ ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ان شرالدوآب عند اللہ “ سے کافر مراد ہیں۔
2:۔ فریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والبخاری وابن جریر، وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان شرالدوآب عند اللہ “ سے قریش کے قبیلہ بنو عبدالدارکا ایک گروہ مراد ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الصم البکم الذین لا یعقلون “ سے مراد ہے وہ لوگ ہیں جو حق کے اتباع نہیں کرتے۔
4:۔ عبد بن حمید وابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت عرب کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ بنو عبدالدار کے بارے میں نازل ہوئی۔
5:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح)…
Read the full tafseer →[ اِنَّ : بیشک ] [ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ : زمین پرچلنے والوں کے بد ترین ] [ عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے ہاں ] [ الصُّمُّ : بہرے ہیں ] [ الْبُكْمُ : گونگے ہیں ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ لَا يَعْقِلُوْنَ : عقل نہیں کرتے ]
(آیت ۔ 22) شرالدواب مبتدا ہے۔ الصم اور البکم اس کی معرفہ خبریں ہیں جبکہ الذین لا یعقلون خبروں کا بدل ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبر داری کا حکم
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کا اور حکم کی تعمیل کرنے کا اور حکم بجالانے کا حکم فرمایا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم سے رو گردانی نہ کرو حالانکہ تم سنتے ہو، یعنی جب تم بات سن رہے ہو قرآن کا حکم تمہارے سامنے ہے رسول اللہ ﷺ حکم دے رہے ہیں تو عمل نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں اور کوئی عذر نہیں جو عمل سے روکے، مزید فرمایا (وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ ھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ) (اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے) ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
ترغیب بر اطاعت وامانت وترہیب از معصیت وخیانت و زجر دوستاں
از مشابہت دشمناں
قال اللہ تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ ذوالفضل العظیم
(ربط) گذشتہ آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اب ان آیات میں اہل ایمان کو ہدایت فرماتے ہیں کہ حق جل شانہ کی معیت اور نصرت اور حمایت کا دارومدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے اگر تم اللہ کی معیت اور اس کی نصرت کے طلبگار ہو تو اس کی دو شرطیں ہیں۔ اول تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی دل وجان سے ایسی اطاعت کرو جس میں خیانت کا شائبہ نہ ہو اس لیے کہ خیانت اطاعت کاملہ میں مخل ہے۔ دوم یہ کہ اہل ایمان پر لازم ہے…
Read the full tafseer →23: مذکورہ بالا معاندین کے دلوں، کانوں اور زبانوں پر مہر جباریت تمثیل ہے۔ یعنی زمین پر چلنے والی مخلوق میں اللہ کے نزدیک سب سے بد تر وہ لوگ ہیں جو حق بات نہیں سنتے اور منہ سے حق بات نہیں نکالتے اور دل سے حق سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ایسے لوگ اللہ کی ساری مخلوق سے بد تر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ربط آیات :
اس سے پہلے اہل ایمان سے اس طرح خطاب تھا کہ جب تم جنگ میں کافروں سے ٹکر لو تو پشت نہ پھیرو بلکہ ثابت قدم رہنے کی کوشش کرو۔ اگرچہ دشمن کی تعداد تم سے دگنی ہی کیوں نہ ہو۔ ان حالات میں استقلال اور ثبات سے کام لو ، ہر کام من جانب اللہ ہوتا ہے فتح ونصرت اس کے ہاتھ میں ہے تمہارا کام صرف یہ ہے کہ دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہو۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کا یہ پہلا اصول بیان فرمایا ہے اس کے بعد بھی جہاد کے سلسلے میں بڑے بڑے اصول بیان ہو رہے ہیں جن کی پابندی اہل ایمان پا لازم ہے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اگر ان اصولوں پر کاربند رہو گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت اور مہربانی شامل…
Read the full tafseer →اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللہِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ 22
شر
الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77]
( ش ر ر ) الشر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہو جیسا کہ خیر اسے کہتے ہیں ۔ جو ہر ایک کو مرغوب ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] کہ مکان کس کا برا ہے ۔
دب
الدَّبُّ والدَّبِيبُ : مشي خفیف، ويستعمل ذلک في الحیوان، وفي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ترکیب : وانتم تسمعون جملہ حال ہے ولا تولوا سے شرالدواب اسم ان الصم الیکم موصوف الذین موصول لا یعقلون صلہ جملہ صفت مجموعہ خبر ان اذا ظرف ہے استجیبوا کا للرسول جار اس فعل سے متعلق۔ وانہ معطوف ہے ان اللّٰہ پر مجموعہ معطوف اور معطوف علیہ مفعول واعلموا لاتصیبن جملہ مستانفہ اور جواب ہے قسم محذوف کا ای واللہ لاتصیبن الظالمین خاصۃً بل تعم اور نہی بھی ہوسکتی ہے اور کلام معنی پر محمول ہوگا ای لاتدخلوا فی الفتنۃ فانہا عقوبۃ عامۃ۔
تفسیر : فرمایا تھا ان اللّٰہ مع المؤمنین کہ اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ خدا کا تمہارے ساتھ ہونا کچھ تمہارے نام کے مسلمان کہلانے سے نہیں بلکہ ان شرائط سے…
Read the full tafseer →اِنَّ شَرَّالدَّ وَآبِّ عِنْدَاللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَایَعْقِلُوْنَ ۔ (الانفال : 22)
(بےشک سب جانداروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو سمجھتے نہیں۔ )
بدترین خلائق لایعقل جانور ہیں
” دَوَآبٌّ“ دابّۃٌ کی جمع ہے۔ اہل لغت کے نزدیک ہر زمین پر چلنے والے کو دابّۃ کہا جاتا ہے۔ مگر عرف ومحاورہ میں صرف چوپایہ جانوروں کو دابّۃ کہتے ہیں۔
انسان کو اللہ تعالیٰ نے تمام حیوانات سے افضل پیدا فرمایا ہے۔ اس کی تخلیق احسن تقویم میں ہوئی ہے۔ اسے صلاحیتوں سے مالا مال کیا گیا ہے۔ اسے حواس خمسہ عطا فرمائے گئے ہیں۔ جس سے وہ محسوسات میں راہنمائی لیتا ہے۔ پھر اسے جوہرِ عقل عطا فرمایا گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
فہم القرآن
ربط کلام : غزوۂ بدر پر تبصرہ کے بعد مومنین کو ہدایات۔ مومن کی نشانی یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے جب تک مومن اس مشن پر کاربند رہے گا اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد اس کے شامل حال رہے گی۔
قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ سورة الاحزاب آیت 71 میں فرمایا جو مسلمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ کامیاب ہوگا سورة محمد، آیت : 33 میں حکم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ ان کی نافرمانی کرکے اپنے اعمال ضائع نہ کرنا۔ سورة النور، آیت : 51 میں ارشاد ہوا کہ مومن تو وہ ہیں جب انھیں اللہ اور اس…
Read the full tafseer →کافر بدترین جانور :
آیت 22: اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَاللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَایَعْقِلُوْنَ (بیشک مخلوق میں بدترین وہ لوگ ہیں جو بہرے ہیں گونگے ہیں جو کہ ذرا نہیں سمجھتے) مطلب یہ ہے کہ زمین پر چلنے والوں میں بہائم سب سے بدترین ہیں اور بہائم میں سے بدترین وہ ہیں جو کہ حق سے بہرے بےعقل ہیں۔ اس کو نہیں سمجھتے کفار کو جنس بہائم سے قرار دیا پھر ان کو ان سے بھی زیادہ براقرار دیا کیونکہ انہوں نے مانوس ہونے کے بعد عناد اختیار کیا اور عقل کے ہوتے ہوئے کفر پر ضد اختیار کی۔
Read the full tafseer →22(ان شر الدوآب ) یعنی زمین پر اللہ کی مخلوق میں سب سے بدتر (عند اللہ الصم البکم الذین لایعفلون) حق سے جو نہ حق سنتے ہیں ار نہ حق بولتے ہیں (جو نہیں سمجھتے) اللہ کے حکم کو ان کو (دواب) کہا ہے اس لئے کہ وہ اپنی عقل سے کم نفع اٹھایت ہیں جیسا کہ فرمایا ہے (اولئک کالانعام بل ھم اضل) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ بنو عبدالداربن قصی کے لوگ ہیں وہ کہتے تھے جو دین محمد ﷺ لائے ہیں ہم اس سے گونگے بہرے اندھے ہیں۔ تو یہ سارے لوگ احد میں قتل کئے گئے اور یہ جھنڈوں والے تھے، ان میں سے صرف دو شخص مسلمان ہوئے ، مصعب بن عمیر اور سویبط بن حرملتۃ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
21۔ 23۔ اللہ پاک نے اس سے پہلے کی آیت میں مومنوں کو خطاب کر کے یہ فرمایا تھا کہ تم ہر ایک امر میں خدا اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو اور ہر باب میں ان کے حکم سے پیٹھ نہ پھیرو کیونکہ تم قرآن کی پند و نصیحت کی باتیں اور سمجھتے ہو اور اس کی تصدیق کرتے ہو اس کے بعد اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ ان لوگوں کی خصلت نہ اختیار کرو جو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم سنتے میں اور حقیقت یہ ہے کہ سنتے نہیں ہیں کیونکہ سننے کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ اس سے کچھ نفع بھی حاصل ہو یہ منافقین یا مشرکین خدا کا کلام صرف کانوں سے سنتے ہیں مگر اس سے کوئی نفع نہیں اٹھاتے اس لئے ان کا سننا اور نہ سننا دونوں برابر ہیں پھر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
آیت 22
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ان شر الداوآب عند اللہ) ” سب جان داروں سے بدتر اللہ کے ہاں “ جن کو معجزات اور ڈرانے والے کوئی فائدہ نہیں دیتے، وہ ہیں جو (الصم) حق سننے سے بہرے ہیں۔ (البکم) حق بولنے سے گونگے ہیں (الذین لایعقولن) وہ کسی ایسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے جو ان کو فائدہ دیتی ہے اور نہ اسے اس چیز پر ترجیح دے سکتے ہیں جو انہیں نقصان دیتی ہے۔
یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کان، آنکھ اور عقل سے نوازا تاکہ وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے راستے میں استعمال کریں، مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
ومارمیت اذرمیت کا مفہوم
پھر فرمایا ومارمیت اذرمیت ولکن اللہ رمی اور تم نے نہیں پھینکا جب پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا) یہ بات اس طرح ہوئی کہ حضور ﷺ نے ایک مٹھی مٹی لے کر کافروں کے چہروں کی طرف پھینک دی اور کافروں کے قدم اکھڑ گئے۔ ایک بھی کافر ایسا نہیں بچا جس کی آنکھ میں اس مٹی کا کچھ حصہ نہ پڑا ہو، اس میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مٹی ان کافروں کے چہروں اور ان کی آنکھوں تک پہنچا دی تھی۔ اس لئے کہ کسی مخلوق کی یہ طاقت نہیں تھی کہ حضور ﷺ جس جگہ کھڑے تھے وہاں سے یہ مٹی ان کافروں کی آنکھوں تک پہنچا سکے۔ یہ تمام باتیں آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت کی نشانیاں تھیں۔ نیز ان واقعات کا ہو بہو اسی…
Read the full tafseer →34 منکرین حق بدترین جانور ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنی عقلوں سے صحیح طور پر کام نہ لینے والے منکرین حق اللہ کے نزدیک بدترین جانور ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد میں جوہر عقل سے صحیح طور پر کام لینے اور حق کو اپنانے کی ترغیب وتحریض ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ گونگے بہرے لوگ ہیں جو اپنی عقلوں سے صحیح کام نہیں لیتے۔ اور اس طرح ان لوگوں نے جوہر عقل کی اس عظیم الشان نعمت کو ضائع کردیا جس سے قدرت نے محض اپنی رحمت و عنایت سے ان کو نوازا تھا۔ اور جس کے ذریعے اس نے ان کو باقی تمام مخلوقات پر فوقیت اور فضیلت بخشی تھی اور ان کو اشرف المخلوقات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
اطاعت الٰہی ہی اصل زندگی ہے
تشریح : جیسا کہ بدر کے واقعہ سے بیشمار سبق دیئے گئے ہیں اسی طرح پھر یہاں دہرایا جا رہا ہے کہ مشرکین کی شکست کی وجہ صرف اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی تھی، لہٰذا مسلمانوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ اپنی اس فتح کو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سمجھیں جو انہیں ایمان اور فرمانبرداری کے بدلے میں دی گئی ہے۔ ، اس لیے ایمان پر قائم رہیں۔ دوسرا یہ کہ کبھی اس راستے سے ہٹیں نہیں، پھر تاکیداً کہا جا رہا ہے تمام امت مسلمہ کو کہ سننے کے بھی چار درجات ہیں۔
-1 صرف سن لیا عمل نہ کیا۔
-2 کانوں سے سنا اور سمجھا مگر اعتقاد نہ کیا۔
-3 سنا، سمجھا ایمان بھی لائے مگر عمل نہ کیا۔
-4 سنا، سمجھا، ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
آیات 20 تا 28
اسرار و معارف
معیت باری
بات جب معیت باری کی ہوئی تو یہ مشروط طور پر ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے چناچہ مومنین کو حقیقت ایمان سے آگاہ فرمایا جارہا ہے تاکہ انہیں اللہ کی معیت حاصل رہے ورنہ ایمان میں کمزوری برکات معیت میں کمی کا باعث بن جائے گی جیسا کہ فی زمانہ مشاہدہ ہے کہ مسلمان سے عمل چھوٹا تو اس کے نتیجے میں ایمان کمزور ہوا اور ایمان کی کمزوری نے برکات معیت میں کمی کردی چناچہ جہاں کہیں مسلمان ہیں وہاں طوفانوں کی زد پر ہیں اور کہیں سے خیریت کی خبر نہیں مل رہی اللہ ہمیں معاف فرمائیں تو اسی مرض کا علاج شافی ارشاد ہورہا ہے کہ اے ایمان والو اللہ کی اطاعت اختیار…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی کفار جو کان اچھی بات نہ سنیں زبان سے اچھی بات نہ نکالیں اور اللہ کی دی ہوئی عقل سے کوئی کام نہ لیں وہ جا نوروں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ جا نور تو اپنے فطری تقاضوں کے مطابق زند گی بسر کرتے ہیں اور ان لوگوں کو عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے مگر یہ اس غرض کو بھی پورا نہیں کرتے ( رازی
Read the full tafseer →(8:22) شرالدواب۔ الدواب۔ دابۃ کی جمع ہے۔ جانور ۔ چار پائے۔ پاؤں دھرنے والے۔ رینگنے والے جانور۔ تمام جانوروں میں سے سب سے بدتر۔ شر اصل میں اشر تھا۔ کثرت استعمال سے ہمزہ ساقط ہوگیا۔ اسی طرح خیر بھی اصل میں اخیر تھا۔
الضم الیکم۔ بہرے اور گونگے۔ ان لوگوں کو جو سنتے ہیں مگر کان نہیں دھرتے تصدیق حق نہیں کرتے۔ ان کو زمرۂ حیوانات میں شامل کیا۔ پھر ان کو سب سے بدتر زمرہ میں رکھ دیا کہ حیوان میں بھی اور اس پر مستزاد یہ کہ بہرے اور گونگے ہیں کہ سمجھتے ہی کچھ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
آیات : 19 تا 24
لغات القرآن۔
تستفتحوا۔ تم فیصلہ چاہتے ہو۔ تنتھوا۔ تم رک جائو۔ تعودوا۔ تم پلٹ جائو گے۔ نعد۔ ہم پلٹ جائیں گے۔ لن تغنی۔ ہرگز فائدہ نہ دے گا۔ فئۃ۔ جماعت۔ گروہ۔ کثرت۔ بہت ہے۔ سمعنا۔ ہم نے سن لیا۔ شرا الدواب۔ جان داروں میں بدترین۔ الصم۔ بہرے۔ البکم۔ گونگے۔ اسمع۔ وہ سنوا دیتا۔ استجیبوا۔ تم حکم مانو۔ دعاکم۔ اس نے تمہیں بلایا۔ یحییکم۔ وہ تمہیں زندگی دیتا ہے۔ یحول۔ (حول) ۔ وہ آڑ بن جاتا ہے۔ بیچ میں آجاتا ہے۔ المراء۔ مرد۔
تشریح :
ان آیات میں چند بہت ہی بناندی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
(1) جب مکہ کے کفار مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے اس وقت لشکر کفار کے سرداروں نے خانہ کعبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
وعظ و نصیحت
اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ ان لوگوں کی خصلت نہ اختیار کرو جو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم سنتے ہیں، اور حقیقت میں وہ سنتے نہیں۔ کیونکہ سننے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے کچھ نفع بھی حاصل ہو۔ یہ منافقین یا مشرکین کی عادت ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ یہ لوگ چار پایوں سے بھی بد تر بالکل بہرے گونگے ہیں کچھ سمجھ ہی نہیں رکھتے ان سے تو جانور ہی اچھے ہیں کہ وہ اپنے فرض منصبی کو ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے علم ازلی کے موافق ان کے سننے میں بھلائی اور بہتری دیکھتے تو ان کو اس کے سننے کی توفیق دے دیتے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق یہ نتیجہ قرار پاچکا ہے کہ اگر بالفرض انہیں سننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
[6] روایتوں میں آتا ہے کہ جب مشرکین کا لشکر معرکہ بدر کے لئے مکہ سے روانہ ہو رہا تھا تو قریش کے سردار ابو جہل نے غلاف کعبہ پکڑ کر دعا مانگی تھی کہ اے اللہ کامیابی اس لشکر کو عطا ہو جو حق پر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(ف 1) غرض یہ ہے کہ بدترین مخلوق کی توضیح کی جائے اللہ تعالیٰ نے انسان کو کان اس لئے دیئے ہیں کہ وہ حق وصداقت کی آواز سنے زبان اس لئے عطا کی ہے ، تاکہ سچائی کا اعلان کرے ، مگر جب وہ صداقت کی جانب سے کان بند کرلے اور اس کے لب حق کی حمایت میں نہ ہلیں ، تو پرھ اس میں اور حیوانات میں کیا فرق ہے ، یہ تو ان سے بھی بدتر ٹھہرا ، وہ اپنے وظائف نوعی کو ادا کرتے ہیں مگر یہ عقل وخرد سے کام نہیں لیتا ۔
ان آیات میں خطاب منافقین کے گروہ سے ہے کہ کمبخت بالکل متاثر نہیں ہوتے ، اور برابر کفر وشرک کے مرض میں مبتلا رہتے ہیں ۔
Read the full tafseer →22 بلاشبہ تمام روئے زمین پر چلنے والوں میں یعنی تمام مخلوق میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین وہ بہرے گونگے ہیں جو بالکل نہیں سمجھتے اور اپنی عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔ یعنی حق کے سننے سے بہرے اور حق بات کہنے سے گونگے اور سمجھ سے کام نہ لینے والے یہ لوگ خدا تعالیٰ کے نزدیک بدترین ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جانوروں سے بھی بدتر ہیں وہ آدمی کہ دین حق کو نہ سمجھیں۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ف 3۔ مطلب یہ کہ ثمرہ اعتقاد سے سننے کا عمل ہے جب عمل نہ ہوا تو بعض وجوہ سے مشابہ اسی کے ہوگیا کہ جیسے اعتقاد کے ساتھ سناہی نہیں۔
Read the full tafseer →اللہ کے نزدیک سب سے برے کون لوگ ہیں ؟ وہی جو سمجھتے نہیں
31: لَا یَعْقِلُوْنَ وہ جو عقل سے کام نہیں لیتے وہ کون ہیں ؟ وہ وہی ہیں جو بہرے اور گونگے ہیں اور وہ وہی ہیں جو انسان کہلانے کے باوجود اس دنیا کے سارے کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر ہیں۔ کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے۔ افسوس ہے ان پیشوایان مذہب پر جو ان آیات کریمات کے پڑھنے کے باوجود پھر فتویٰ یہی دیتے ہیں کہ ” مذہب میں عقل کو دخل نہیں “ جب کہ قرآن کریم بار بار ارشاد فرمارہا ہے کہ مذہب ہے ہی صرف ان لوگوں کے لئے جن کے پاس عقل ہے اور وہ عقل سے کام لیتے ہیں اور جو لوگ عقل و فکر سے کام نہیں لیتے وہ تو انسانیت کے دائرہ ہی سے خارج…
Read the full tafseer →The third verse (22) strongly condemns those who do not listen to what is the truth thoughtfully and let it go unaccepted. The Qur'an has declared such people to be worse than animals. The words used are: إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ﴿22﴾ (Surely, the worst of all animals in the sight of Allah are the deaf and the dumb who do not understand).
The word: دوابّ (dawabb) is the plural form of: دَآبَّۃ (dābbah). Literally, everything that walks on the earth is called 'dābbah.' But, in usage, only quadruped animals are called 'dābbah.' So,…
Read the full tafseer →17. These are the ones who neither hear nor speak the truth. So far as truth is concerned, their ears are deaf and their mouths dumb.
Read the full tafseer →