Al-Anfaal 8:21

Al-Anfaal · from ayah 21

8:21

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ۟وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ‌

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم (خدا) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And do not be like those who say, "We have heard," while they do not hear.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:21

اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سُنا حالانکہ وہ نہیں سُنتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم (خدا) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حاﻻنکہ وه سنتے (سناتے کچھ) نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے تو ہیں کہ ہم نے سن لیا، مگر وہ (حقیقت میں) سنتے نہیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے کہا ہم نے سنا او ر وہ نہیں سنتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان لوگوں کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے (دھوکہ دہی کے طور پر) کہا: ہم نے سن لیا، حالانکہ وہ نہیں سنتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنھوں نے کہا ہم نے سنا، حالانکہ وہ نہیں سنتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے تو ہیں کہ ہم نے سن لیا مگر وہ سنتے نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان لوگوں کی روش نہ اختیار کرو جو دعوی تو کرتے کہ ہم نے سنا لیکن سنتے سناتے کچھ نہیں تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا مگر وہ سنتے نہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ (کچھ بھی) سنتے (سناتے) نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان لوگوں کی مانند مت ہوجاؤ جو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور حقیقت میں وہ سنتے نہیں ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے (اللہ کا حکم) سن لیا مگر حقیقت میں سنتے نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And do not be like those who say: 'We hear', though they do not hearken.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And do not be like those who say, :We have listened while they do not listen.

— Muhammad Taqi Usmani

And do not be like those who say, :We have listened while they do not listen.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And be not like those who say: "We have heard," but they hear not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Be not as those who say, we hear, and they hear not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And do not be like those who say, "We have heard," while they do not hear.

— Saheeh International

Do not be like those who said that they have heard (the Messenger's commands) but do not pay any attention to them.

— Muhammad Sarwar

And be not like those who said, We hear, and they did not obey.

— Muhammad Habib Shakir

And be not like unto those who say: we hear, whereas they hearken not.

— Abdul Majid Daryabadi

Nor be like those who say, "We hear," but listen not:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–23

اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اسکا رسول روک دے رک جایا کرو، سن کر ان سنی نہ کردیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہہ دیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کردیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کرلیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْفَال 16 یہاں سننے سے مراد وہ سننا ہے جو ماننے اور قبول کرنے کے معنی میں ہوتا ہے۔ اشارہ ان منافقین کی طرف ہے جو ایمان کا اقرار تو کرتے تھے مگر احکام کی اطاعت سے منہ موڑ جاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں اسی مضمون کی مزید تاکید کے لئے ارشاد فرمایا (آیت) وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ ، یعنی تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم نے سن لیا مگر درحقیقت سنا سنایا کچھ نہیں۔ ان لوگوں سے مراد عام کفار بھی ہیں جو سننے کا دعوی کرتے ہیں اعتقاد کا نہیں کرتے۔ اور منافقین بھی ہیں جو سننے کے ساتھ سمجھنے اور اعتقاد رکھنے کے بھی مدعی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ غور و فکر اور صحیح سمجھ سے یہ دونوں محروم ہیں اس لئے ان کا سننا نہ سننے کے حکم میں ہے مسلمانوں کو ان لوگوں کے مشابہ ہونے سے منع فرمایا گیا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ایک اشارہ یہود کی طرف : وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ۔ یعنی ان لوگوں کے مانند نہ بنو جو دعوی تو سمعنا واطعنا کا کرتے لیکن عمل ان کا سمعنا وعصینا پر ہوتا۔ بات اگرچہ اشاروں میں کہی گئی ہے لیکن قرآن کا ہر ذوق رکھنے والا سمجھ سکتا ہے کہ یہ اشارہ یہود کی طرف ہے۔ قرآن نے بڑی وضاحت کے ساتھ بتایا ہے سورة بقرہ میں کہ یہود کہتے تو سمعنا واطعنا ہیں لیکن عمل ان کا سمعنا وعصینا پر ہوتا ہے اور بات کی بھی قرآن نے تصریح کی ہے کہ ان کا یہ رویہ اس کے رسول کی عین موجودگی میں رہا ہے۔ گویا در پردہ ان منافق قسم کے مسلمانوں کو یہ بتا دیا گیا کہ تمہارا یہ طرز عل اتباع رسول…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

21۔ 1 یعنی سن لینے کے باوجود، عمل نہ کرنا، یہ کافروں کا طریقہ ہے، تم اس رویے سے بچو۔ اگلی آیت میں ایسے ہی لوگوں کو بہرہ، گونگا، غیر عاقل اور بدترین خلائق قرار دیا گیا ہے۔ دَوَبّ ، دَا بَّۃ، کی جمع ہے، جو بھی زمین پر چلنے پھرنے والی چیز ہے وہ دابہ ہے۔ مراد مخلوقات ہے۔ یعنی یہ سب سے بدتر ہیں جو حق کے معاملے میں بہرے گونگے اور غیر عاقل ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–21

10: یہ درحقیقت ایک سوال کا جواب ہے، سوال یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنی قدرت سے دشمن کو براہ راست ہلاک کرسکتا تھا، پھر اس نے مسلمانوں کو کیوں استعمال کیا، اور کنکریاں آنحضرت صلی اللہ سلیہ وسلم کے دست مبارک سے کیوں پھنکوائیں ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اول تو اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ وہ تکوینی امور بھی کسی ظاہری سبب کے ذریعے انجام دلواتا ہے اور یہاں مسلمانوں کو اس لئے ذریعہ بنایا گیا کہ ان کو اجر وثواب حاصل ہو، اور دوسرے وہ کافروں کو بھی یہ دکھانا چاہتا تھا کہ جن سازشوں اور وسائل پر انہیں ناز ہے وہ سب ان لوگوں کے ہاتھوں خاک میں مل سکتے ہیں جنہیں تم کمزور سمجھتے رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–23

تفسیر آیات 20 تا 23:۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور مسلسل يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا سے انہیں مخاطب کیا جاتا ہے۔ اور یہ خطاب ان مضامین کے بعد آتا ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے ، اور اس خطاب میں ان کو یہ وصیت کی جاتی ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ ان کو اللہ اور رسول سے سرکشی کرنے سے خبردار کیا جتا ہے اور انہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اللہ کی آیات کو سنتے ہیں اور ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں گویا انہوں نے سنا ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ گونگے اور بہرے ہیں اگرچہ وہ آنکھیں اور کان رکھتے ہیں اور زبان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بدترین جانور ہیں۔ اس لیے کہ یہ جانوروں کی طرح سنتے تو ہیں لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی زبان سے کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ سننا ہی کیا جو آدمی سیدھی سی بات کو سن کر سمجھے نہیں یا سمجھ کر قبول نہ کرے۔ پہلے یہودیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا " سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا " (ہم نے سن لیا مگر مانا نہیں) مشرکین مکہ کا قول آگے آتا ہے۔ ( قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ ۙ ) 8 ۔ الانفال :31) یعنی جو قرآن آپ سناتے ہیں بس ہم نے سن لیا۔ اگر ہم چاہیں تو اسی جیسا کلام بنا کرلے آئیں۔ مدینہ کے منافقین کا تو شیوہ یہ تھا کہ پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کے سامنے زبانی اقرار کر گئے اور دل سے اسی طرح منکر رہے۔ بہرحال مومن صادق کی شان اور یہود اور مشرکین و منافقین کی طرح…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 وَلاَ تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَہُمْ لاَ یَسْمَعُوْنَ ۔ یعنی صرف زبان سے سَمِعْنَا کہہ دیتے ہیں مگر ان کے دل اپنے خیالات اور مفادات پر ہی ڈیرے جمائے رہتے ہیں۔ اطاعت پر ان کی طبیعت میں یکسوئی پیدا ہی نہیں ہوتی۔ چناچہ اس طرح کے سننے کی سرے سے کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 یہاں سننے سے مراد اس کو قبول کرنا ہے اور اس آیت میں روئے سخن بالخصوص منافقوں کی طرف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

33 ۔ (مراد کفار ومنافقین ہیں) مسلمانوں کو ہدایت ہورہی ہے کہ ترک اطاعت میں تم کافروں اور منافقوں کی طرح نہ ہوجانا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–27

وَلا تکونوا کالذین قالوا سَمِعْنَا وھم لا یسمَعُوْنَ ، یہاں سننے سے مراد وہ سننا ہے جس کو قبول کرنا اور ماننا کہتے ہیں، اس آیت میں اشارہ ان منافقوں کی طرف ہے جو زبان سے ایمان کا اقرار کرتے تھے مگر احکام کی اطاعت سے منہ موڑ جاتے تھے، سن لینے کے باوجود عمل نہ کرنا کافروں کا شیوہ ہے، تم اس رویہ سے بچو، اگلی آیت میں ایسے ہی لوگوں کو بہرہ اور گونگا بدترین قرار دیا گیا ہے اگر ان میں اللہ تعالیٰ کوئی خیر و خوبی دیکھتا تو ضرور انھیں سنکر سمجھنے کی توفیق عطا کرتا چونکہ ان کے اندر خیر یعنی طلب صادق ہی نہیں اسلئے وہ فہم صحیح سے محروم ہیں، پہلے سماع سے مراد سماع نافع ہے جسے مفسرّ علاّم نے سماع تفہیم کہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا تکونوا کالذین قالوا سمعنا وھم لا یسمعون اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو (زبان سے تو) کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ سنتے نہیں۔ یعنی منافقوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو سننے اور تصدیق کرنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر موعظت پذیری اور قبول کے کانوں سے نہیں سنتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(21) اور اطاعت میں یا نافرمانی کرنے میں عبد دار اور نضر بن حارث وغیرہ کی طرح مت بنو، جو زبان سے دعوی اطاعت کا کرتے ہیں مگر حقیقت میں وہ اطاعت نہیں کرتے اور ان ہی لوگوں کے بارے میں اگلی آیت نازل ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا : ان سے مراد مشرکین، منافقین اور اہل کتاب ہیں جو کانوں سے تو اللہ اور اس کے رسول کا کلام سنتے ہیں، مگر اس طرح کہ وہ نہیں سنتے، کیونکہ نہ وہ دل سے سنتے ہیں نہ قبول کرتے ہیں، ان کا سننا نہ سننے کے برابر ہے۔ دیکھیے سورة نساء (46)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–22

آیت نمبر : 21۔ 22 قولہ تعالیٰ : آیت : ولاتکونوا کالذین قالوا سمعنا یعنی تم یہود یا منافقین یا مشرکین کی طرح نہ بن جانا۔ اور اس میں مراد کانوں سے سننا ہے۔ آیت : وھم لا یسمعون یعنی وہ اس میں تدبر نہیں کرتے جو وہ سنتے ہیں اور نہ وہ اس میں غور وفکر کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی طرح ہیں جس نے کچھ نہیں سنا اور حق سے اعراض کرلیا۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ان کی مثل ہونے سے منع فرمایا ہے۔ پس آیت اس پر دلیل ہے کہ مومن کا قول : سمعت واطعت ( میں نے سنا اور پیروی کی) اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک اتشال فعل کی صورت میں اس پر اس کا اثر ظاہر نہ ہو۔ پس جب اس نے اوامر میں کوتاہی اور سستی برتی تو پھر وہ اس پر عمل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن ابی شیبہ وعبدبن حمید وابن جریر، وابن المنذر ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) وھم لا یسمعون “ سے مراد ہے کہ حالانکہ وہ نافرنی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلَا تَكُوْنُوْا : اور تم لوگ مت ہو ] [ كَالَّذِيْنَ : ان کی مانند جنھوں نے ] [ قَالُوْا : کہا ] [ سَمِعْنَا : ہم نے سنا ] [ وَ : حالانکہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ لَا يَسْمَعُوْنَ : نہیں سنتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–24

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبر داری کا حکم ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کا اور حکم کی تعمیل کرنے کا اور حکم بجالانے کا حکم فرمایا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم سے رو گردانی نہ کرو حالانکہ تم سنتے ہو، یعنی جب تم بات سن رہے ہو قرآن کا حکم تمہارے سامنے ہے رسول اللہ ﷺ حکم دے رہے ہیں تو عمل نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں اور کوئی عذر نہیں جو عمل سے روکے، مزید فرمایا (وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ ھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ) (اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے) ان سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–29

ترغیب بر اطاعت وامانت وترہیب از معصیت وخیانت و زجر دوستاں از مشابہت دشمناں قال اللہ تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ ذوالفضل العظیم (ربط) گذشتہ آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اب ان آیات میں اہل ایمان کو ہدایت فرماتے ہیں کہ حق جل شانہ کی معیت اور نصرت اور حمایت کا دارومدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے اگر تم اللہ کی معیت اور اس کی نصرت کے طلبگار ہو تو اس کی دو شرطیں ہیں۔ اول تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی دل وجان سے ایسی اطاعت کرو جس میں خیانت کا شائبہ نہ ہو اس لیے کہ خیانت اطاعت کاملہ میں مخل ہے۔ دوم یہ کہ اہل ایمان پر لازم ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–21

22: دوسرا قانون جنگ برائے مومنین۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان کے حکم سے سرتابی نہ کرو “ وَ لَاتَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ الخ ” یہ زجر ہے۔ یعنی ان کفار اور منافقین کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا ہم نے سن لیا مگر سے پر عمل نہ کیا اور اس طرح اللہ کے قہر و غضب کے مستحق ہوگئے۔ تم ان کا وطیرہ اختیار کر کے میرے قہر و غضب کے مستحق نہ بنو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–23

ربط آیات : اس سے پہلے اہل ایمان سے اس طرح خطاب تھا کہ جب تم جنگ میں کافروں سے ٹکر لو تو پشت نہ پھیرو بلکہ ثابت قدم رہنے کی کوشش کرو۔ اگرچہ دشمن کی تعداد تم سے دگنی ہی کیوں نہ ہو۔ ان حالات میں استقلال اور ثبات سے کام لو ، ہر کام من جانب اللہ ہوتا ہے فتح ونصرت اس کے ہاتھ میں ہے تمہارا کام صرف یہ ہے کہ دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہو۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کا یہ پہلا اصول بیان فرمایا ہے اس کے بعد بھی جہاد کے سلسلے میں بڑے بڑے اصول بیان ہو رہے ہیں جن کی پابندی اہل ایمان پا لازم ہے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اگر ان اصولوں پر کاربند رہو گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت اور مہربانی شامل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَہُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ۝ 21 كان كَانَ «3» : عبارة عمّا مضی من الزمان، وفي كثير من وصف اللہ تعالیٰ تنبئ عن معنی الأزليّة، قال : وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً [ الأحزاب/ 40] ، وَكانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيراً [ الأحزاب/ 27] وما استعمل منه في جنس الشیء متعلّقا بوصف له هو موجود فيه فتنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له، قلیل الانفکاک منه . نحو قوله في الإنسان : وَكانَ الْإِنْسانُ كَفُوراً [ الإسراء/ 67] وَكانَ الْإِنْسانُ قَتُوراً [ الإسراء/ 100] ، وَكانَ الْإِنْسانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا [ الكهف/ 54] فذلک تنبيه علی أن ذلک الوصف لازم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–22

ترکیب : وانتم تسمعون جملہ حال ہے ولا تولوا سے شرالدواب اسم ان الصم الیکم موصوف الذین موصول لا یعقلون صلہ جملہ صفت مجموعہ خبر ان اذا ظرف ہے استجیبوا کا للرسول جار اس فعل سے متعلق۔ وانہ معطوف ہے ان اللّٰہ پر مجموعہ معطوف اور معطوف علیہ مفعول واعلموا لاتصیبن جملہ مستانفہ اور جواب ہے قسم محذوف کا ای واللہ لاتصیبن الظالمین خاصۃً بل تعم اور نہی بھی ہوسکتی ہے اور کلام معنی پر محمول ہوگا ای لاتدخلوا فی الفتنۃ فانہا عقوبۃ عامۃ۔ تفسیر : فرمایا تھا ان اللّٰہ مع المؤمنین کہ اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ خدا کا تمہارے ساتھ ہونا کچھ تمہارے نام کے مسلمان کہلانے سے نہیں بلکہ ان شرائط سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْاسَمِعْنَا وَھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ۔ (الانفال : 21) (ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنھوں نے کہا ہم نے سن لیاحالان کہ وہ سنتے نہیں۔ ) یہود کی طرف اشارہ ہے اس آیت کریمہ میں جن لوگوں کی مشابہت سے روکا گیا ہے اور ان کی بطور خاص ایک صفت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ وہ صفت خود بول رہی ہے کہ اشارہ یہود کی طرف ہے کیونکہ قرآن کریم نے متعدد مواقع پر یہود کی اس عادت بد کا ذکر فرمایا کہ جب بھی ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ” سنو اور اطاعت کرو “ تو وہ جواب میں کہتے ” سمعنا وعصینا “ سمعنا کو بلند آواز سے کہتے اور عصینا دبی آواز سے کہتے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ ” ہم نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–22

فہم القرآن ربط کلام : غزوۂ بدر پر تبصرہ کے بعد مومنین کو ہدایات۔ مومن کی نشانی یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے جب تک مومن اس مشن پر کاربند رہے گا اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد اس کے شامل حال رہے گی۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ سورة الاحزاب آیت 71 میں فرمایا جو مسلمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ کامیاب ہوگا سورة محمد، آیت : 33 میں حکم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ ان کی نافرمانی کرکے اپنے اعمال ضائع نہ کرنا۔ سورة النور، آیت : 51 میں ارشاد ہوا کہ مومن تو وہ ہیں جب انھیں اللہ اور اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

منافقین اور اہل کتاب کا طرز مت اپنائو : آیت 21: وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا (اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم نے سن لیا) یعنی سننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور وہ منافقین اور اہل کتاب ہیں۔ وَھُمْ لَایَسْمَعُوْنَ (حالانکہ وہ سنتے کچھ نہیں) کیونکہ وہ اس کی تصدیق کرنے والے نہیں گویا کہ وہ سنتے ہی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم قرآن و نبوت کی تصدیق کرتے ہو۔ جب بعض امور میں اطاعت رسول سے منہ موڑو گے جیسے تقسیم غنا ئم وغیرہ تو تمہارا سننا ان کے مشابہ ہوجائے گا۔ جو ایمان نہیں رکھتے پھر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21 (ولا تکونوا کالذین قالوا سمعنا وھم لایسمعن) یعنی وہ زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم نے کانوں سے سن لیا لیکن اس سننے سے نہ نصیحت حاصل کرتے ہیں اور نہ سننا ان کو نفع دیتا ہے تو گویا کہ انہوں نے سنا ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–23

21۔ 23۔ اللہ پاک نے اس سے پہلے کی آیت میں مومنوں کو خطاب کر کے یہ فرمایا تھا کہ تم ہر ایک امر میں خدا اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو اور ہر باب میں ان کے حکم سے پیٹھ نہ پھیرو کیونکہ تم قرآن کی پند و نصیحت کی باتیں اور سمجھتے ہو اور اس کی تصدیق کرتے ہو اس کے بعد اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ ان لوگوں کی خصلت نہ اختیار کرو جو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم سنتے میں اور حقیقت یہ ہے کہ سنتے نہیں ہیں کیونکہ سننے کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ اس سے کچھ نفع بھی حاصل ہو یہ منافقین یا مشرکین خدا کا کلام صرف کانوں سے سنتے ہیں مگر اس سے کوئی نفع نہیں اٹھاتے اس لئے ان کا سننا اور نہ سننا دونوں برابر ہیں پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 20–21

آیت 20 چونکہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں جن سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔ چناچہ فرمایا : (یا یھا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ) ” اے ایمان والو ! اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی “ یعنی ان کے اوامر کی پیروی اور ان کے نوازہی سے اجتناب کر کے (ولا تولوا عنہ) ” اور اس سے روگردانی نہ کرو۔ “ یعنی اس معاملے سے منہ نہ موڑو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ (وانتم تسمعون) ” اور تم سنتے ہو۔ “ حالانکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے اوامر، اس کی وصیتوں اور اس کی نصیحتوں کی جو تلاوت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–24

ومارمیت اذرمیت کا مفہوم پھر فرمایا ومارمیت اذرمیت ولکن اللہ رمی اور تم نے نہیں پھینکا جب پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا) یہ بات اس طرح ہوئی کہ حضور ﷺ نے ایک مٹھی مٹی لے کر کافروں کے چہروں کی طرف پھینک دی اور کافروں کے قدم اکھڑ گئے۔ ایک بھی کافر ایسا نہیں بچا جس کی آنکھ میں اس مٹی کا کچھ حصہ نہ پڑا ہو، اس میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مٹی ان کافروں کے چہروں اور ان کی آنکھوں تک پہنچا دی تھی۔ اس لئے کہ کسی مخلوق کی یہ طاقت نہیں تھی کہ حضور ﷺ جس جگہ کھڑے تھے وہاں سے یہ مٹی ان کافروں کی آنکھوں تک پہنچا سکے۔ یہ تمام باتیں آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت کی نشانیاں تھیں۔ نیز ان واقعات کا ہو بہو اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

33 اہل ایمان کو ایک خاص اور اہم تنبیہ : سو ان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجاتا جو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا مگر وہ سنتے نہیں۔ سو تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جو محض ظاہری کانوں سے سنتے ہیں مگر ان کا عمل اس کے برعکس ہوتا ہے۔ سو محض سر کے کانوں سے سننے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک کہ دل کے کانوں سے نہ سنا جائے۔ سو یہ حال ہے ان منافقوں کا جو اوپر اوپر سے تو مانتے ہیں مگر دل سے نہیں مانتے۔ حالانکہ اصل مطلوب وہی ہے۔ یعنی دل و جان سے ماننا۔ ان محض زبانی کلامی دعو وں کا کوئی اعتبار نہیں۔ پس تم اے سچے ایماندار و، ایسے منافق اور محروم لوگوں کی طرح نہ ہوجانا کہ یہ راہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–24

اطاعت الٰہی ہی اصل زندگی ہے تشریح : جیسا کہ بدر کے واقعہ سے بیشمار سبق دیئے گئے ہیں اسی طرح پھر یہاں دہرایا جا رہا ہے کہ مشرکین کی شکست کی وجہ صرف اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی تھی، لہٰذا مسلمانوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ اپنی اس فتح کو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سمجھیں جو انہیں ایمان اور فرمانبرداری کے بدلے میں دی گئی ہے۔ ، اس لیے ایمان پر قائم رہیں۔ دوسرا یہ کہ کبھی اس راستے سے ہٹیں نہیں، پھر تاکیداً کہا جا رہا ہے تمام امت مسلمہ کو کہ سننے کے بھی چار درجات ہیں۔ -1 صرف سن لیا عمل نہ کیا۔ -2 کانوں سے سنا اور سمجھا مگر اعتقاد نہ کیا۔ -3 سنا، سمجھا ایمان بھی لائے مگر عمل نہ کیا۔ -4 سنا، سمجھا، ایمان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–28

آیات 20 تا 28 اسرار و معارف معیت باری بات جب معیت باری کی ہوئی تو یہ مشروط طور پر ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے چناچہ مومنین کو حقیقت ایمان سے آگاہ فرمایا جارہا ہے تاکہ انہیں اللہ کی معیت حاصل رہے ورنہ ایمان میں کمزوری برکات معیت میں کمی کا باعث بن جائے گی جیسا کہ فی زمانہ مشاہدہ ہے کہ مسلمان سے عمل چھوٹا تو اس کے نتیجے میں ایمان کمزور ہوا اور ایمان کی کمزوری نے برکات معیت میں کمی کردی چناچہ جہاں کہیں مسلمان ہیں وہاں طوفانوں کی زد پر ہیں اور کہیں سے خیریت کی خبر نہیں مل رہی اللہ ہمیں معاف فرمائیں تو اسی مرض کا علاج شافی ارشاد ہورہا ہے کہ اے ایمان والو اللہ کی اطاعت اختیار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 مراد منا فق ہیں یا مشرکین اور یہود کا جو کان سے تو اللہ تعالیٰ و رسول ﷺ کا کلام سنتے ہیں مگر ان کے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا یہ سننا اور نہ سننا برابر ہے۔ ( ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 20–21

(8:20) لاتولوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ مت پھرو۔ تولی سے بمعنی منہ پھیرنا۔ اصل میں تتولوا تھا۔ ایک تاء حذف ہوگئی۔ عنہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر حاضر۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ بموجب ارشاد باری تعالیٰ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ (4:80) جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی پس اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ گویا رسول کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ یا یہ ضمیر اللہ اور اس کے رسول دونوں کی طرف راجع ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ (9:62) حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ مستحق ہے کہ وہ اسے راضی کریں۔ یا یہ ضمیر امر بالطاعتہ کی طرف راجع ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو۔ اور اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–24

آیات : 19 تا 24 لغات القرآن۔ تستفتحوا۔ تم فیصلہ چاہتے ہو۔ تنتھوا۔ تم رک جائو۔ تعودوا۔ تم پلٹ جائو گے۔ نعد۔ ہم پلٹ جائیں گے۔ لن تغنی۔ ہرگز فائدہ نہ دے گا۔ فئۃ۔ جماعت۔ گروہ۔ کثرت۔ بہت ہے۔ سمعنا۔ ہم نے سن لیا۔ شرا الدواب۔ جان داروں میں بدترین۔ الصم۔ بہرے۔ البکم۔ گونگے۔ اسمع۔ وہ سنوا دیتا۔ استجیبوا۔ تم حکم مانو۔ دعاکم۔ اس نے تمہیں بلایا۔ یحییکم۔ وہ تمہیں زندگی دیتا ہے۔ یحول۔ (حول) ۔ وہ آڑ بن جاتا ہے۔ بیچ میں آجاتا ہے۔ المراء۔ مرد۔ تشریح : ان آیات میں چند بہت ہی بناندی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) جب مکہ کے کفار مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے اس وقت لشکر کفار کے سرداروں نے خانہ کعبہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–23

وعظ و نصیحت اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ ان لوگوں کی خصلت نہ اختیار کرو جو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم سنتے ہیں، اور حقیقت میں وہ سنتے نہیں۔ کیونکہ سننے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے کچھ نفع بھی حاصل ہو۔ یہ منافقین یا مشرکین کی عادت ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ یہ لوگ چار پایوں سے بھی بد تر بالکل بہرے گونگے ہیں کچھ سمجھ ہی نہیں رکھتے ان سے تو جانور ہی اچھے ہیں کہ وہ اپنے فرض منصبی کو ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے علم ازلی کے موافق ان کے سننے میں بھلائی اور بہتری دیکھتے تو ان کو اس کے سننے کی توفیق دے دیتے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق یہ نتیجہ قرار پاچکا ہے کہ اگر بالفرض انہیں سننے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–23

[6] روایتوں میں آتا ہے کہ جب مشرکین کا لشکر معرکہ بدر کے لئے مکہ سے روانہ ہو رہا تھا تو قریش کے سردار ابو جہل نے غلاف کعبہ پکڑ کر دعا مانگی تھی کہ اے اللہ کامیابی اس لشکر کو عطا ہو جو حق پر ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 19–21

(ف 1) مکہ والے جب گھروں سے جنگ کے لئے نکلے تو یہ کہتے ہوئے نکلے اللہ ہم میں سے جو ہدایت پر ہے اس کی نصرت فرمائیو ، اب بدر کی فتح نے یقین دلا دیا کہ مسلمان حق پر تھے ، کیونکہ باوجود قلت تعداد کے اور بےسروسامانی کے یہ حرت انگیز کامیابی بجز صداقت وتائید ربانی کے کیوں کر مسکن ہے ۔ فرمایا شرارتوں سے اب بھی رک جاؤ تمہیں کثرت تعداد پر مغرور نہ ہونا چاہئے اللہ کی نصرتیں حق وصداقت کے ساتھ ہیں ، کثرت کے ساتھ نہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

21 اور اے ایمان والو ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ کچھ نہیں سنتے۔ یعنی کافر تو اعتقاد ہی نہیں رکھتے اور منافق اعتقاد کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن عمل وہ بھی نہیں کرتے اس لئے ان کا سننا نہ سننے کے برابر ہے۔ مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے۔ جو کچھ سنیں اس پر اعتقاد کے ساتھ عمل بھی کریں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جیسے یہود نے حکم توریت زور آوری سے قبول کیا اور دل سے ناقبول رکھا جیسے منافق زبان سے حکمبردار ہیں اور دل سے نہیں۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–23

ف 3۔ مطلب یہ کہ ثمرہ اعتقاد سے سننے کا عمل ہے جب عمل نہ ہوا تو بعض وجوہ سے مشابہ اسی کے ہوگیا کہ جیسے اعتقاد کے ساتھ سناہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے سنی بات کو ان سنی کردیا : 30: سننے کا دوسرا درجہ جس کا ذکر اوپر گزر چکا کہ سن بھی لیا اور پھر اس کو سمجھ بھی لیا لیکن اعتقاد میں وہ بات نہ آئی تو جب اعتقاد و اعتماد ہی میں ایک بات نہ آئے تو ظاہر ہے کہ یہ سننا مسلمانوں کا سننا تو کسی حال میں نہیں ہو سکتا ہاں ! اس کو منافقوں کا سننا کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم کو سنتے بھی ہیں ، سمجھتے بھی ہیں لیکن ان کا اعتقاد و عمل کا دعویٰ سچا دعویٰ نہیں ہوتا اس طرح گویا وہ سنی کو ان سنی کردیتے ہیں۔ اس لئے زیر نظر آیت میں گویا مسلمانوں کو تلقین کی جارہی ہے کہ تم جب حق بات کو سنو تو اس کو ان سنی نہ کردو بلکہ اس پر کامل یقین رکھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

For added emphasis on the same subject, it was said in the second verse (21): وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ ﴿21﴾ (and do not be like those who say, "we have heard" while they do not listen). Meant here are common disbelievers who claim to be listening but make no such claim about believing. Also meant here are the hypocrites who go beyond the elementary listening which they already do. In fact, they also claim to understand what that they listen to and to believe in it as well. But, the truth of the matter is that they both remain deprived of genuine…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16. In the present context, 'hearing' means taking heed with a view to obey'. The verse alludes to those hypocrites who professed to believe and yet were not willing to carry out the commands of God.

Read the full tafseer →