Al-Anfaal 8:20

Al-Anfaal · from ayah 20

8:20

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ۟ۚۖيٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَا تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَاَنۡـتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَ‌

اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے روگردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, obey Allah and His Messenger and do not turn from him while you hear [his order].

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 2 of surah · Ruku 17 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:20

اے ایمان لانے والو، اللہ اور اُس کے رسُول کی اطاعت کرو اور حکم سُننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے روگردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا مانو اور اس (کا کہنا ماننے) سے روگردانی مت کرو سنتے جانتے ہوئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی تابع داری کرو، اور اس (تابع داری) سے منہ نہ موڑو، جبکہ تم (اللہ اور رسول کے احکام) سن رہے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن سنا کہ اسے نہ پھرو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! تم اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی مت کرو حالانکہ تم سن رہے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کا اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اس سے منہ نہ پھیرو، جب کہ تم سن رہے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور حکم سن لینے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی نہ کرو جب کہ تم سن رہے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو حکم مانو تم اللہ کا اور اس کے رسول کا اور تم روگردانی مت کرو اس سے، درآنحالیکہ تم خود سنتے ہو (اس کے اوامر وارشادات کو)

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو اطاعت کرتے رہو اللہ اور اس کے رسول کی اور اس سے روگردانی نہ کرو درآنحالیکہ تم سن رہے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ایمان ! اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اس سے منہ نہ موڑو جبکہ تم سن رہے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے مت پھرو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers! Obey Allah and His Messenger and do not turn away from him after you hear his command.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, obey Allah and His Messenger, and do not turn away from Him when you listen (to him).

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, obey Allah and His Messenger, and do not turn away from Him when you listen (to him).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! Obey Allah and His Messenger, and turn not away from him while you are hearing.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! Obey Allah and His messenger, and turn not away from him when ye hear (him speak).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, obey Allah and His Messenger and do not turn from him while you hear [his order].

— Saheeh International

Believers, obey God and His Messengers and do not turn away from Him when you hear (His commands).

— Muhammad Sarwar

O you who believe! obey Allah and His Apostle and do not turn back from Him while you hear.

— Muhammad Habib Shakir

O Ye who believe! obey Allah and His apostle and turn not away therefrom while ye hearken.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! Obey Allah and His Messenger, and turn not away from him when ye hear (him speak).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–23

اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اسکا رسول روک دے رک جایا کرو، سن کر ان سنی نہ کردیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہہ دیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کردیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کرلیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–20

سورة الْاَنْفَال 15 مکہ سے روانہ ہوتے وقت مشرکین نے کعبہ کے پردے پکڑ کر دعا مانگی تھی کہ خدایا دونوں گروہوں میں سے جو بہتر ہے اس کو فتح عطا کر۔ اور ابوجہل نے خاص طور پر کہا تھا کہ خدایا ہم میں سے جو برسر حق ہو اسے فتح دے اور جو برسر ظلم ہو اسے رسوا کردے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی منہ مانگی دعائیں حرف بحرف پوری کردیں اور فیصلہ کر کے بتادیا کہ دونوں میں سے کون اچھا اور برسر حق ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو اللہ کا کہنا مانو اور اس کے رسول کا اور اس کہنا ماننے سے روگردانی مت کرو اور تم (اعتقاد سے) سن تو لیتے ہی ہو (یعنی جیسا اعتقاد سے سن لیتے ہو ایسا ہی عمل بھی کیا کرو) اور تم ترک اطاعت میں) ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو دعوٰی تو کرتے ہیں کہ ہم نے سن لیا (جیسا کفار کہ مطلق سماع کے اور منافقین سماع مع الاعتقاد کے مدعی تھے) حالانکہ وہ سنتے سناتے کچھ نہیں (کیونکہ تفہم اور اعتقاد دونوں میں مفقود ہے مطلب یہ کہ ثمرہ اعتقاد سننے کا عمل ہے جب عمل نہ ہوا تو بعض وجوہ سے مشابہ اسی کے ہوگیا کہ جیسے اعتقاد کے ساتھ سنا ہی نہیں جس کو تم بھی سخت مزموم جانتے ہو) بیشک یہ بات ضرور ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیات 20 تا 28 کا مضمون : مسلمانوں کی تربیت و اصلاح اور تطہیر و تنظیم کا وہی مضمون جو اوپر سے چلا آ رہا ہے اپنے تدریجی انکشافات کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور جن لوگوں کی کمزوریاں اس تقریر کی محرک ہوئی ہیں ان کو کچھ کھلی ہوئی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں اور مجموعی طور پر مسلم معاشرہ کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ اپنے پیش و عقب سے آگاہ رہو، معاشرے کی برائیاں اور بھلائیاں دونوں مشترک ہوتی ہیں۔ اگر کچھ لوگوں نے کوئی فتنہ برپا کرنے کی کوشش کی اور دوسروں نے ان کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش نہ کی تو بالآخر وہ فتنہ نیک و بد سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اللہ و رسول کی اطاعت پر جم جاؤ، ان یہود کی روش سے بچو جو اپنے رسول…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–20

19۔ 1 ابو جہل وغیرہ روسائے قریش نے مکہ سے نکلتے وقت دعا کی تھی کہ ' اللہ ہم میں سے جو تیرا زیادہ نافرمان اور قاطع رحم ہے، کل کو تو اسے ہلاک کردے ' اپنے طور پر وہ مسلمانوں کو قاطع رحم اور نافرمان سمجھتے تھے، اس لئے اس قسم کی دعا کی۔ اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمادی تو اللہ تعالیٰ ان کافروں سے کہہ رہا ہے کہ فتح یعنی حق اور باطل کے درمیان فیصلہ طلب کر رہے تھے تو وہ فیصلہ تو سامنے آچکا ہے، اس لئے اب تم کفر سے باز آجاؤ، تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر پھر تم دوبارہ مسلمانوں کے مقابلے میں آؤ گے تو ہم بھی دوبارہ ان کی مدد کریں گے اور تمہاری جماعت کثرت کے باوجود تمہارے کچھ کام نہ آئے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–21

10: یہ درحقیقت ایک سوال کا جواب ہے، سوال یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنی قدرت سے دشمن کو براہ راست ہلاک کرسکتا تھا، پھر اس نے مسلمانوں کو کیوں استعمال کیا، اور کنکریاں آنحضرت صلی اللہ سلیہ وسلم کے دست مبارک سے کیوں پھنکوائیں ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اول تو اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ وہ تکوینی امور بھی کسی ظاہری سبب کے ذریعے انجام دلواتا ہے اور یہاں مسلمانوں کو اس لئے ذریعہ بنایا گیا کہ ان کو اجر وثواب حاصل ہو، اور دوسرے وہ کافروں کو بھی یہ دکھانا چاہتا تھا کہ جن سازشوں اور وسائل پر انہیں ناز ہے وہ سب ان لوگوں کے ہاتھوں خاک میں مل سکتے ہیں جنہیں تم کمزور سمجھتے رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–23

تفسیر آیات 20 تا 23:۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور مسلسل يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا سے انہیں مخاطب کیا جاتا ہے۔ اور یہ خطاب ان مضامین کے بعد آتا ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے ، اور اس خطاب میں ان کو یہ وصیت کی جاتی ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ ان کو اللہ اور رسول سے سرکشی کرنے سے خبردار کیا جتا ہے اور انہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اللہ کی آیات کو سنتے ہیں اور ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں گویا انہوں نے سنا ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ گونگے اور بہرے ہیں اگرچہ وہ آنکھیں اور کان رکھتے ہیں اور زبان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بدترین جانور ہیں۔ اس لیے کہ یہ جانوروں کی طرح سنتے تو ہیں لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 پہلے فرمایا تھا کہ " اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے " اب ایمان والوں کو ہدایت فرماتے ہیں کہہ ان کا معاملہ خدا اور رسول کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے ؟ جس سے وہ خدا کی نصرت و حمایت کے مستحق ہوں۔ سو بتلا دیا کہ ایک مومن صادق کا کام یہ ہے کہ وہ ہمہ تن خدا اور رسول کا فرمانبردار ہو۔ احوال و حوادث خواہ کتنا ہی اس کا منہ پھیرنا چاہیں مگر خدا کی باتوں کو جب وہ سن کر سمجھ چکا اور تسلیم کرچکا، تو قولاً و فعلاً کسی حال ان سے منہ نہ پھیرے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 20 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلاَ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ یعنی جب اللہ کے رسول ﷺ نے بدر کی طرف چلنے کا ارادہ کرلیا تو پھر تمہاری طرف سے ردّو قدح اور بحث و استدلال کیوں ہو رہا تھا ؟ تم سب کو تو چاہیے تھا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مرضی پر فوراً سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاکہتے اور آپ ﷺ کے حکم پر سر تسلیم خم کردیتے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں خاص طور پر ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے اس موقع پر کمزوری دکھائی تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 پہلی آیت میں فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کے ساتھ ہے۔ یہاں ایسے مومنوں کی ہی تعریف کو دہرایا گیا ہے۔ یعنی ایسے مومن جو کسی حال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم سے سرتابی نہ کریں۔ خواہ اس میں اپنا فائدہ نظر آ رہا ہو یا نقصان۔ جیسا کہ مسلمانوں میں سے ہی ایک گروہ غزوہ بدر سے جی چرا رہا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

32 ۔ (اعتقاد کے ساتھ) مسلمانوں کا کلام الہی کا سننا ہمیشہ اعتقاد ہی کے ساتھ ہوگا اور یہاں خطاب مسلمانوں ہی سے ہے، آیت کا مطلب یہ ہوا کہ جیسے عقیدت سے سن رہے ہو، ویسے ہی عمل بھی کرو، (آیت) ” واطیعوا اللہ ورسولہ “۔ ساری دنیوی کامرانیوں اور اخروی کامیابیوں کی بنیاد یہی اطاعت ہے۔ (آیت) ” ولا تولوا عنہ “۔ ” اس سے “ یعنی اس اطاعت سے۔ ضمیر حکم کی جانب ہے۔ الضمیر للجھاد او للامر الذی دل علیہ الطاعۃ (بیضاوی) (آیت) ” وھم لایسمعون “۔ سے فقہاء ومفسرین نے یہ استنباط کیا ہے کہ مومن کی عملی زندگی پر ایمان کا اثر ہونا چاہیے اور اگر کوئی اثر نہیں ملتا تو محض قول بیکار ہی ہے۔ دلت الایۃ علی ان قول المومن سمعت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 20 تا 28 ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اس کے حکم کی مخالفت کرکے اس سے سرتابی نہ کرو حالانکہ تم قرآن اور نصیحت سنتے ہو، اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا ہم نے سنا حالانکہ وہ غور وفکر اور نصیحت حاصل کرنے کے طور پر نہیں سنتے اور منافق اور مشرک ہیں یقینا اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ لوگ ہیں جو سننے سے بہرے اور حق کہنے سے گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے اگر اللہ ان میں حق بات سننے کی صلاحیت جانتا تو ضرور انھیں حق سننے کی توفیق دیتا، اور اگر (صلاحیت کے بغیر) بالفرض ان کو سنووتا اور اس کے علم میں یہ بات ہے کہ ان میں کوئی خیر نہیں ہے تو وہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ ولا تولوا عنہ وانتم تسمعون اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر چلو اور اس کا کہنا ماننے سے روگردانی مت کرو اور تم (اعتقاد سے) سن تو لیتے ہو۔ عنہ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے کیونکہ اصل مقصود رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا حکم اور ان کی مخالفت کی ممانعت ہی ہے ‘ اطاعت خدا کا ذکر تو بطور تمہید ہے اور اس بات پر تنبیہ کرنے کیلئے ہے کہ اللہ کی اطاعت حقیقت میں رسول ہی کی اطاعت ہے۔ بعض علماء کے نزدیک جہاد کی طرف ضمیر راجع ہے ‘ یعنی جہاد سے روگرداں نہ ہو۔ بعض کے نزدیک اطاعت کی طرف راجع ہے جو اطیعوا کے اندر ضمناً مذکور ہے۔ سننے سے مراد ہے قرآن مجید اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(20) یعنی صلح کے معاملات میں حکم الہی اور فرمان رسول اکرم ﷺ کی خلاف ورزی مت کرو، اور تم نصائح قرآنی اور امورصلح کو سن تو لیتے ہی ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : کفار کو تنبیہ کے بعد اب مسلمانوں کو تلقین ہو رہی ہے کہ جب تمہیں کسی معاملے میں رسول اللہ ﷺ کا حکم معلوم ہوجائے تو اس کے خلاف کسی کی مت سنو ! بلکہ اس کی اطاعت کرو۔ پہلے اللہ کی اطاعت بطور تمہید ہے، کیونکہ رسول کی اطاعت بھی اللہ ہی کی اطاعت ہے۔ سورت کے ابتدا میں اموال غنیمت کے متعلق اختلاف کو ختم کرنے کے لیے (ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ) کا اعلان فرمایا تھا اور اطاعت رسول کو ایمان کی شرط قرار دیا تھا، پھر درمیان میں اپنے انعامات ذکر فرمائے اور اب پہلے کلام کو پھر اطاعت کی تلقین پر ختم فرمایا۔ وَاَنْتُمْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ّآیت نمبر : 20 قولہ تعالیٰ : آیت : یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ یہ خطاب تصدیق کرنے والے مومنین کو ہے۔ ان کی عظمت اور بزرگی کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں منفرد خطاب فرمایا اور منافقین کو اس میں شامل نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں از سر نو اپنی اور رسول معظم ﷺ کی اطاعت کا حکم ارشاد فرمایا اور انہیں اس سے روگردانی کرنے سے منع فرمایا : یہ جمہور کا قول ہے۔ اور ایک جماعت نے کہا ہے : اس آیت سے خطاب صرف منافقین کو ہے۔ اور معنی یہ ہے : اے وہ لوگو ! جو صرف اپنی زبانوں کے ساتھ ایمان لائے ہو۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : اگرچہ اس میں یہ احتمال ہو سکتا ہے لیکن یہ بہت ضعیف اور کمزور ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–20

1۔ ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید والنسائی وابن جریر، ابن المنذر ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ ابن مندہ والحاکم نے اس کو صحیح کہا بیہقی نے دلائل میں عبید اللہ بن ثعلبہ بن صفر (رح) سے روایت کیا کہ جب وقت دونوں لشکروں نے لڑنا شروع کیا تو ابو جہل نے کہا اے اللہ ہمارے رشتوں کو کاٹ دے اور ہم کو اس طرح بنا دے کہ ہم کسی کو نہ پہنچانتے ہوں اور کل تک ٹیڑھا یعنی ہلاک کردے تو اس طرح گویا وہ اللہ تعالیٰ سے فیصلہ طلب کررہا تھا۔ تو اس وقت (یہ آیت) ” ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح “۔ نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریروابن المنذر، ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ( آیت) ” ان تستفتحو “ یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [ اَطِيْعُوا : تم لوگ اطاعت کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ وَرَسُوْلَهٗ : اور اس کے رسول کی ] [ وَلَا تَوَلَّوْا : اور روگردانی مت کرو ] [ عَنْهُ : ان سے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ تَسْمَعُوْنَ؛سنتے ہو ] ترکیب : (آیت ۔ 20) ولو تولوا دراصل ولا تتولوا ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–24

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبر داری کا حکم ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کا اور حکم کی تعمیل کرنے کا اور حکم بجالانے کا حکم فرمایا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم سے رو گردانی نہ کرو حالانکہ تم سنتے ہو، یعنی جب تم بات سن رہے ہو قرآن کا حکم تمہارے سامنے ہے رسول اللہ ﷺ حکم دے رہے ہیں تو عمل نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں اور کوئی عذر نہیں جو عمل سے روکے، مزید فرمایا (وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ ھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ) (اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے) ان سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–29

ترغیب بر اطاعت وامانت وترہیب از معصیت وخیانت و زجر دوستاں از مشابہت دشمناں قال اللہ تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ ذوالفضل العظیم (ربط) گذشتہ آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اب ان آیات میں اہل ایمان کو ہدایت فرماتے ہیں کہ حق جل شانہ کی معیت اور نصرت اور حمایت کا دارومدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے اگر تم اللہ کی معیت اور اس کی نصرت کے طلبگار ہو تو اس کی دو شرطیں ہیں۔ اول تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی دل وجان سے ایسی اطاعت کرو جس میں خیانت کا شائبہ نہ ہو اس لیے کہ خیانت اطاعت کاملہ میں مخل ہے۔ دوم یہ کہ اہل ایمان پر لازم ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–21

22: دوسرا قانون جنگ برائے مومنین۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان کے حکم سے سرتابی نہ کرو “ وَ لَاتَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ الخ ” یہ زجر ہے۔ یعنی ان کفار اور منافقین کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا ہم نے سن لیا مگر سے پر عمل نہ کیا اور اس طرح اللہ کے قہر و غضب کے مستحق ہوگئے۔ تم ان کا وطیرہ اختیار کر کے میرے قہر و غضب کے مستحق نہ بنو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–23

ربط آیات : اس سے پہلے اہل ایمان سے اس طرح خطاب تھا کہ جب تم جنگ میں کافروں سے ٹکر لو تو پشت نہ پھیرو بلکہ ثابت قدم رہنے کی کوشش کرو۔ اگرچہ دشمن کی تعداد تم سے دگنی ہی کیوں نہ ہو۔ ان حالات میں استقلال اور ثبات سے کام لو ، ہر کام من جانب اللہ ہوتا ہے فتح ونصرت اس کے ہاتھ میں ہے تمہارا کام صرف یہ ہے کہ دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہو۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کا یہ پہلا اصول بیان فرمایا ہے اس کے بعد بھی جہاد کے سلسلے میں بڑے بڑے اصول بیان ہو رہے ہیں جن کی پابندی اہل ایمان پا لازم ہے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اگر ان اصولوں پر کاربند رہو گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت اور مہربانی شامل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْہُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ۝ 20 ۚۖ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–22

ترکیب : وانتم تسمعون جملہ حال ہے ولا تولوا سے شرالدواب اسم ان الصم الیکم موصوف الذین موصول لا یعقلون صلہ جملہ صفت مجموعہ خبر ان اذا ظرف ہے استجیبوا کا للرسول جار اس فعل سے متعلق۔ وانہ معطوف ہے ان اللّٰہ پر مجموعہ معطوف اور معطوف علیہ مفعول واعلموا لاتصیبن جملہ مستانفہ اور جواب ہے قسم محذوف کا ای واللہ لاتصیبن الظالمین خاصۃً بل تعم اور نہی بھی ہوسکتی ہے اور کلام معنی پر محمول ہوگا ای لاتدخلوا فی الفتنۃ فانہا عقوبۃ عامۃ۔ تفسیر : فرمایا تھا ان اللّٰہ مع المؤمنین کہ اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ خدا کا تمہارے ساتھ ہونا کچھ تمہارے نام کے مسلمان کہلانے سے نہیں بلکہ ان شرائط سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓااَطِیْعُوْا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْہُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ۔ ج (الانفال : 20) (اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی نہ کرو اس حال میں کہ تم سنتے ہو۔ ) منافقین کو خطاب گزشتہ دو رکوعوں میں ہم نے دیکھا کہ خطاب نبی کریم ﷺ سے رہا یا مسلمانوں سے روئے سخن تمام تر مسلمانوں سے متعلق رہا۔ مسلمانوں میں بیخبر ی یا انسانی کمزوری کے باعث اگر کوئی کمزوری پیدا ہوئی تو اس پر تنبیہ فرمائی۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ان کے اخلاص اور استقامت کا ثمر یہ دیا کہ مسلسل ان پر عنایات فرمائیں اور پھر ایک ایک عنایت کا تذکرہ بھی فرمایا اور مزید…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–22

فہم القرآن ربط کلام : غزوۂ بدر پر تبصرہ کے بعد مومنین کو ہدایات۔ مومن کی نشانی یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے جب تک مومن اس مشن پر کاربند رہے گا اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد اس کے شامل حال رہے گی۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ سورة الاحزاب آیت 71 میں فرمایا جو مسلمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ کامیاب ہوگا سورة محمد، آیت : 33 میں حکم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ ان کی نافرمانی کرکے اپنے اعمال ضائع نہ کرنا۔ سورة النور، آیت : 51 میں ارشاد ہوا کہ مومن تو وہ ہیں جب انھیں اللہ اور اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اطاعت رسول (ﷺ) کا دامن تھامے رکھو : آیت 20: یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْہُ (اے ایمان والو اللہ کا کہنا مانو اور اس کے رسول کا اور اس کہنا ماننے سے روگردانی مت کرو) رسول اللہ ﷺ سے کیونکہ اطیعوا الرسول کا معنی اس ارشاد کی طرح ہے : وَاللّٰہُ وَرَسُوْلُہ ٗ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ (التوبہ : 62) اور اس لئے بھی کہ اطاعت اللہ اور اطاعت رسول ایک چیز ہے جیسا اس ارشاد میں ہے : مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَج ( النساء : 80) ایک کی طرف ضمیر کا لوٹنا دونوں کی طرف ضمیر لوٹنے کی طرح ہے جیسا کہ کہتے ہیں۔ الاحسان والاجمال لاینفع فی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 20 (یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ و رسولہ ولا تولوا عنہ وانتم تسمعون) قرآن اور اس کی نصیحتیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

20۔ اوپر یہ فرما کر کہ اللہ ایمانداروں کے ساتھ ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی فرمابرداری اور اطاعت کا حکم ایمانداروں کو فرمایا ہے اور اس میں کوتاہی کرنی اور پھرجانے سے منع فرمایا ہے ہم کو اللہ کا کلام بلاواسطہ رسول کے نہیں آتا اس واسطے رسول کی فرمانبرداری کا خاص طور پر آیت میں ذکر کیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ رسول کی فرمابرداری میں کسی طرح کی کوتاہی عین اللہ کی فرما نبرداری کی کوتاہی ہے اب اللہ کے حکم کی فرمابراری کا نہ کرنا ایک تو اس شیوہ پر ہے جو کافروں کا شیوہ تھا کہ ظاہر باطن میں کسی طرح وہ اللہ کے احکام کو نہیں مانتے تھے اور ایک شیوہ منافقوں کا تھا کہ ظاہر میں تو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 20–21

آیت 20 چونکہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں جن سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔ چناچہ فرمایا : (یا یھا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ) ” اے ایمان والو ! اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی “ یعنی ان کے اوامر کی پیروی اور ان کے نوازہی سے اجتناب کر کے (ولا تولوا عنہ) ” اور اس سے روگردانی نہ کرو۔ “ یعنی اس معاملے سے منہ نہ موڑو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ (وانتم تسمعون) ” اور تم سنتے ہو۔ “ حالانکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے اوامر، اس کی وصیتوں اور اس کی نصیحتوں کی جو تلاوت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–24

ومارمیت اذرمیت کا مفہوم پھر فرمایا ومارمیت اذرمیت ولکن اللہ رمی اور تم نے نہیں پھینکا جب پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا) یہ بات اس طرح ہوئی کہ حضور ﷺ نے ایک مٹھی مٹی لے کر کافروں کے چہروں کی طرف پھینک دی اور کافروں کے قدم اکھڑ گئے۔ ایک بھی کافر ایسا نہیں بچا جس کی آنکھ میں اس مٹی کا کچھ حصہ نہ پڑا ہو، اس میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مٹی ان کافروں کے چہروں اور ان کی آنکھوں تک پہنچا دی تھی۔ اس لئے کہ کسی مخلوق کی یہ طاقت نہیں تھی کہ حضور ﷺ جس جگہ کھڑے تھے وہاں سے یہ مٹی ان کافروں کی آنکھوں تک پہنچا سکے۔ یہ تمام باتیں آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت کی نشانیاں تھیں۔ نیز ان واقعات کا ہو بہو اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

31 اطاعت خدا و رسول کا حکم وارشاد : سو اس میں ایمان والوں کو خطاب کر کے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم اطاعت اور فرمانبرداری کرو اللہ اور اس کے رسول کی کہ یہ تمہارے عقیدئہ و ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اور اسی میں تمہارا بھلا ہے دنیا و آخرت میں تاکہ صدق دل سے اطاعت و فرمانبرداری کرکے تم لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے بہرہ ور ہو سکو کہ اطاعت خدا و رسول سے تمہیں اس دنیا میں حیات طیبہ " پاکیزہ زندگی " سے سرفرازی نصیب ہوگی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی و بہرہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–24

اطاعت الٰہی ہی اصل زندگی ہے تشریح : جیسا کہ بدر کے واقعہ سے بیشمار سبق دیئے گئے ہیں اسی طرح پھر یہاں دہرایا جا رہا ہے کہ مشرکین کی شکست کی وجہ صرف اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی تھی، لہٰذا مسلمانوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ اپنی اس فتح کو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سمجھیں جو انہیں ایمان اور فرمانبرداری کے بدلے میں دی گئی ہے۔ ، اس لیے ایمان پر قائم رہیں۔ دوسرا یہ کہ کبھی اس راستے سے ہٹیں نہیں، پھر تاکیداً کہا جا رہا ہے تمام امت مسلمہ کو کہ سننے کے بھی چار درجات ہیں۔ -1 صرف سن لیا عمل نہ کیا۔ -2 کانوں سے سنا اور سمجھا مگر اعتقاد نہ کیا۔ -3 سنا، سمجھا ایمان بھی لائے مگر عمل نہ کیا۔ -4 سنا، سمجھا، ایمان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–28

آیات 20 تا 28 اسرار و معارف معیت باری بات جب معیت باری کی ہوئی تو یہ مشروط طور پر ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے چناچہ مومنین کو حقیقت ایمان سے آگاہ فرمایا جارہا ہے تاکہ انہیں اللہ کی معیت حاصل رہے ورنہ ایمان میں کمزوری برکات معیت میں کمی کا باعث بن جائے گی جیسا کہ فی زمانہ مشاہدہ ہے کہ مسلمان سے عمل چھوٹا تو اس کے نتیجے میں ایمان کمزور ہوا اور ایمان کی کمزوری نے برکات معیت میں کمی کردی چناچہ جہاں کہیں مسلمان ہیں وہاں طوفانوں کی زد پر ہیں اور کہیں سے خیریت کی خبر نہیں مل رہی اللہ ہمیں معاف فرمائیں تو اسی مرض کا علاج شافی ارشاد ہورہا ہے کہ اے ایمان والو اللہ کی اطاعت اختیار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 کفار کو تہدید کے بعد اب مسلمانوں کو تا دیب کی ہے کی جب تمہیں کسی معاملے میں رسو ﷺ کا حکم ہوجائے تو اس کے خلاف کسی کی نہ ن سے۔ ابتدا سورة میں اموال غنیمت کے متعلق اختلاف کو ختم کرنے کے لیے قل الانفال اللہ اولر سول کا اعلان فرمایا تھا اور اطاعت رسول ﷺ کو ایمان کی شرط قراردیا تھا پھر درمیان میں اپنے انعامات کا ذکر فرمائے اور اب پہلے کلام کو بھر اطاعت کی تلقین پر ختم فرمایا۔ ( کبیر۔ (

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 20–21

(8:20) لاتولوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ مت پھرو۔ تولی سے بمعنی منہ پھیرنا۔ اصل میں تتولوا تھا۔ ایک تاء حذف ہوگئی۔ عنہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر حاضر۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ بموجب ارشاد باری تعالیٰ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ (4:80) جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی پس اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ گویا رسول کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ یا یہ ضمیر اللہ اور اس کے رسول دونوں کی طرف راجع ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ (9:62) حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ مستحق ہے کہ وہ اسے راضی کریں۔ یا یہ ضمیر امر بالطاعتہ کی طرف راجع ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو۔ اور اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–24

آیات : 19 تا 24 لغات القرآن۔ تستفتحوا۔ تم فیصلہ چاہتے ہو۔ تنتھوا۔ تم رک جائو۔ تعودوا۔ تم پلٹ جائو گے۔ نعد۔ ہم پلٹ جائیں گے۔ لن تغنی۔ ہرگز فائدہ نہ دے گا۔ فئۃ۔ جماعت۔ گروہ۔ کثرت۔ بہت ہے۔ سمعنا۔ ہم نے سن لیا۔ شرا الدواب۔ جان داروں میں بدترین۔ الصم۔ بہرے۔ البکم۔ گونگے۔ اسمع۔ وہ سنوا دیتا۔ استجیبوا۔ تم حکم مانو۔ دعاکم۔ اس نے تمہیں بلایا۔ یحییکم۔ وہ تمہیں زندگی دیتا ہے۔ یحول۔ (حول) ۔ وہ آڑ بن جاتا ہے۔ بیچ میں آجاتا ہے۔ المراء۔ مرد۔ تشریح : ان آیات میں چند بہت ہی بناندی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) جب مکہ کے کفار مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے اس وقت لشکر کفار کے سرداروں نے خانہ کعبہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

خدا اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اوپر یہ فرما کر کہ اللہ ایمانداروں کے ساتھ ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری اور اطاعت کا حکم ایمانداروں کو فرمایا، اور اس میں کوتاہی کرنے اور پھرجانے سے منع فرمایا ہے۔ ہم کو اللہ کا کلام بلا واسطہ رسول کے نہیں آتا۔ اس واسطے رسول کی فرمانبرداری کا خاص طور پر آیت میں ذکر کیا تاکہ معلوم ہوجاوے کہ رسول کی فرمانبرداری کی کوتاہی عین اللہ کی فرمانبرداری کی کوتاہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–23

[6] روایتوں میں آتا ہے کہ جب مشرکین کا لشکر معرکہ بدر کے لئے مکہ سے روانہ ہو رہا تھا تو قریش کے سردار ابو جہل نے غلاف کعبہ پکڑ کر دعا مانگی تھی کہ اے اللہ کامیابی اس لشکر کو عطا ہو جو حق پر ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 19–21

(ف 1) مکہ والے جب گھروں سے جنگ کے لئے نکلے تو یہ کہتے ہوئے نکلے اللہ ہم میں سے جو ہدایت پر ہے اس کی نصرت فرمائیو ، اب بدر کی فتح نے یقین دلا دیا کہ مسلمان حق پر تھے ، کیونکہ باوجود قلت تعداد کے اور بےسروسامانی کے یہ حرت انگیز کامیابی بجز صداقت وتائید ربانی کے کیوں کر مسکن ہے ۔ فرمایا شرارتوں سے اب بھی رک جاؤ تمہیں کثرت تعداد پر مغرور نہ ہونا چاہئے اللہ کی نصرتیں حق وصداقت کے ساتھ ہیں ، کثرت کے ساتھ نہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

20 اے ایمان لانے والو ! اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا مانو اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور اس اطاعت سے روگردانی نہ کرو حالانکہ تم سنتے ہو۔ یعنی قرآن کو اعتقاد کے ساتھ سنتے ہو جس اعتقاد کے ساتھ سنتے ہو اسی طرح عمل بھی کرو کیونکہ یہی ایمان کی شان ہے آگے منافقوں اور کافروں کے طرز عمل سے بچنے کو فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–20

ف 2۔ اس میں بھی ایک قصہ کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ آپ نے بدر کے روز ایک مٹھی کنکریوں کی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی جس کے ریزے سب کی آنکھوں میں جاگرے اور انکو شکست ہوئی مٹھی خاک پھینکنے کا قصہ کئی بار ہوا بدر میں احد میں حنین میں لیکن یہاں سیاق وسباق کلام سے بدر کا مراد لینا راجح ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مسلمانوں سے خطاب کہ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو : 29: غزوہ بدر کا واقعہ جس کی تفصیلات اس جگہ ذکر کی جارہی ہیں اہل اسلام اور کفار دونوں کے لئے عبرت و موغطت کے بہت سے اسباق اپنے اندر رکھتا ہے جیسا کہ پیچھے بیان فرمایا کہ کفار و مشرکین کے پاس ساز و سامان اور افرادی قوت کی بہتات تھی لیکن اس کے باوجود جو انہوں نے شکست کھائی تو ان کی شکست کا اصل سبب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت تھی۔ ظاہر ہے کہ اس بیان میں ان لوگوں کے لئے ایک تازیانہ عبرت ہے جو زمین و آسمان کے خالق ومالک کی قدرت کاملہ اور غیبی قوت سے قطع نظر کر کے صرف مادی قوتوں پر بھروسہ کرتے ہیں یا اللہ تعالیٰ نافرمانیوں کے باوجود اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The event of the battle of Badr which has been described in a somewhat detailed manner in the previous verses contains many lessons in hard advice and wisdom both for those who adhere to Islam and those who stick to disbelief. These appear intermittently during the course of relevant narrations and serve as warning signals. For example, in the previous verses, after having recounted the defeat and disgrace of the disbelievers of Makkah, it was said: ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّـهَ وَرَ‌سُولَہ (That is because they were hostile to Allah and His Messenger - 13). It means that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–20

15. Before marching out from Makka the unbelievers held the covering of the Ka'bah and prayed: 'O God! Grant victory to the better of the two parties.' Abu Jahl, in particular invoked God's judgement: 'O God! Grant victory to the one who is in the right and cause humiliation to the wrong-doer.' God answered these prayers fully and the outcome of the battle clearly pointed to the party which was in the right.

Read the full tafseer →