ایمان والوں کا متعین و مددگار اللہ عز اسمہ
اللہ تعالیٰ کافروں سے فرما رہا ہے کہ تم یہ دعائیں کرتے تھے کہ ہم میں اور مسلمانوں میں اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے جو حق پر ہوا سے غالب کر دے اور اس کی مد فرمائے تو اب تمہاری یہ خواہش بھی پوری ہوگئی مسلمان بحکم الٰہی اپنے دشمنوں پر غالب آگئے۔ ابو جہل نے بدر والے دن کہا تھا کہ اے اللہ ہم میں سے جو رشتوں ناتوں کا توڑنے والا ہو اور غیر معروف چیز لے کر آیا ہو اسے توکل کی لڑائی میں شکست دے پس اللہ تعالیٰ نے یہی کیا اور یہ اور اس کا لشکر ہار گئے، مکہ سے نکلنے سے پہلے ان مشرکوں نے خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر دعا کی تھی کہ الٰہی دونوں لشکروں میں سے تیرے نزدیک جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة الْاَنْفَال 15
مکہ سے روانہ ہوتے وقت مشرکین نے کعبہ کے پردے پکڑ کر دعا مانگی تھی کہ خدایا دونوں گروہوں میں سے جو بہتر ہے اس کو فتح عطا کر۔ اور ابوجہل نے خاص طور پر کہا تھا کہ خدایا ہم میں سے جو برسر حق ہو اسے فتح دے اور جو برسر ظلم ہو اسے رسوا کردے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی منہ مانگی دعائیں حرف بحرف پوری کردیں اور فیصلہ کر کے بتادیا کہ دونوں میں سے کون اچھا اور برسر حق ہے۔
Read the full tafseer →یہ بیوقوف تو یوں سمجھ رہے تھے کہ بمقابلہ مسلمانوں کے ہم ہی اعلی و افضل اور زیادہ ہدایت پر ہیں اس لئے یہ دعا ہمارے حق میں ہے اور اس دعا کے ذریعہ وہ یہ چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے۔ اور جب ہم فتح پائیں تو یہ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے حق پر ہونے کا فیصلہ ہوگا۔
مگر ان کو یہ خبر نہ تھی کہ اس دعا میں درحقیقت وہ اپنے لئے بددعا اور مسلمانوں کے لئے دعا کر رہے ہیں انجام جنگ سامنے آنے کے بعد قرآن کریم نے ان کو بتلایا (آیت) اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ ، یعنی اگر تم خدائی فیصلہ چاہتے ہو تو وہ سامنے آچکا کہ حق کو فتح اور باطل کو شکست ہوگئی۔ (آیت)…
Read the full tafseer →اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ ۚ وَاِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَاِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ ۚ وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَـيْــــًٔـا وَّلَوْ كَثُرَتْ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ۔
اس آیت میں براہ راست قریش کو مخاطب کرلیا گیا ہے کہ بولو، اب کیا کہتے ہو ؟ تم یہی تو کہتے تھے کہ اس جنگ میں جو جیتا وہ حق پر سمجھا جائے گا تو فتح تو تمہارے سامنے آگئی۔ یہ بات بھی یہاں ملحوظ رہے کہ قریش کے لیڈروں نے اپنی کثرت تعداد کے نشہ میں اس موقع پر خوب بڑھ بڑھ کے تقریریں کیں۔ چونکہ ان کو اپنی فتح کا سو فی صدی یقین تھا اس وجہ سے انہوں نے اس جنگ کو فیصلہ کی میزان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19۔ 1 ابو جہل وغیرہ روسائے قریش نے مکہ سے نکلتے وقت دعا کی تھی کہ ' اللہ ہم میں سے جو تیرا زیادہ نافرمان اور قاطع رحم ہے، کل کو تو اسے ہلاک کردے ' اپنے طور پر وہ مسلمانوں کو قاطع رحم اور نافرمان سمجھتے تھے، اس لئے اس قسم کی دعا کی۔ اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمادی تو اللہ تعالیٰ ان کافروں سے کہہ رہا ہے کہ فتح یعنی حق اور باطل کے درمیان فیصلہ طلب کر رہے تھے تو وہ فیصلہ تو سامنے آچکا ہے، اس لئے اب تم کفر سے باز آجاؤ، تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر پھر تم دوبارہ مسلمانوں کے مقابلے میں آؤ گے تو ہم بھی دوبارہ ان کی مدد کریں گے اور تمہاری جماعت کثرت کے باوجود تمہارے کچھ کام نہ آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
10: یہ درحقیقت ایک سوال کا جواب ہے، سوال یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنی قدرت سے دشمن کو براہ راست ہلاک کرسکتا تھا، پھر اس نے مسلمانوں کو کیوں استعمال کیا، اور کنکریاں آنحضرت صلی اللہ سلیہ وسلم کے دست مبارک سے کیوں پھنکوائیں ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اول تو اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ وہ تکوینی امور بھی کسی ظاہری سبب کے ذریعے انجام دلواتا ہے اور یہاں مسلمانوں کو اس لئے ذریعہ بنایا گیا کہ ان کو اجر وثواب حاصل ہو، اور دوسرے وہ کافروں کو بھی یہ دکھانا چاہتا تھا کہ جن سازشوں اور وسائل پر انہیں ناز ہے وہ سب ان لوگوں کے ہاتھوں خاک میں مل سکتے ہیں جنہیں تم کمزور سمجھتے رہے ہو۔
Read the full tafseer →جب بات یہاں تک پہنچی کہ ” اللہ کافروں کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے “ یہاں سے روئے سخن کفار کی طرف موڑ دیا جاتا ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اس معرکے سے پہلے ہی فیصلہ چاہتے تھے اور اللہ کے سامنے دست بدعا تھے کہ اے اللہ دو مقابل فریقین میں سے جو گمراہ ہے ، یہ جنگ اس کے خلاف کردے۔ جو ایسی باتیں کرتا ہے جو معروف نہیں ہیں ، اسے تباہ کردے اور جو صلہ رحمی کے خلاف ہے ، اسے ہلاک کردے۔ یہ دعاء ابوجہل نے کی تھی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے جنگ کا فیصلہ ان کے خلاف کردیا اور اب ان کو خطاب کرکے ان پر طنز کیا جاتا ہے کہ تم ہی تو تھے جو بد دعاء کرتے تھے۔ مقصد یہ ہے کہ بدر میں جو کچھ ہوا ، وہ اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق…
Read the full tafseer →4 یہ خطاب کفار مکہ کو ہے، وہ ہجرت سے پہلے حضور ﷺ سے کہا کرتے تھے مَتٰی ہٰذَا الْفَتْحُ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ یعنی ہمارے تمہارے درمیان یہ فیصلہ کب ہوگا ؟ سو پورا فیصلہ تو قیامت کے دن ہوگا مگر ایک طرح کا فیصلہ آج میدان بدر میں بھی تم نے دیکھ لیا کہ کیسے خارق عادت طریق سے تم کو کمزور مسلمانوں کے ہاتھوں سے سزا ملی۔ اب اگر نبی (علیہ السلام) کی مخالفت اور کفر و شرک سے باز آجاؤ تو تمہارے لیے دنیا و آخرت کی بہتری ہے۔ ورنہ اگر پھر اسی طرح لڑائی کرو گے تو ہم بھی پھر اسی طرح مسلمانوں کی مدد کریں گے اور انجام کار تم ذلیل و خوار ہو گے۔ جب خدا کی تائید مسلمانوں کے ساتھ ہے تو تمہارے جتھے اور جماعتیں…
Read the full tafseer →آیت 19 اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَ کُمُ الْفَتْحُ ج۔
اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کن فتح کے ذریعے بتادیا کہ اس کی تائید و نصرت کس گروہ کے ساتھ ہے۔ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا پوری طرح واضح ہوگیا۔
Read the full tafseer →18 کافروں کو اپنی سرگرمیوں سے رک جانے کی نصیحت :۔ کفار مکہ مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اگر تم دعویٰ میں سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا ؟ (32 : 28) یعنی ہمارے اور تمہارے درمیان کب فیصلہ ہوگا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا خطاب انہیں ہزیمت خوردہ کافروں سے ہے کہ اب وہ فیصلہ آچکا ہے۔ جسے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ کس طرح حالات کی ناسازی کے باوجود مسلمانوں کو معجزانہ طور پر فتح نصیب ہوئی ہے۔ لہذا اب بھی اگر راہ راست پر آجاؤ تو یہی بات تمہارے حق میں بہتر ہوگی اور اگر پھر تم نے پہلی سی نافرمانی، مخالفت اور سرکشی والی روش اختیار کی تو ہم پھر تمہیں اسی طرح سزا دیں گے اور جس طرح آج تمہارا لاؤ لشکر کسی…
Read the full tafseer →30 ۔ (اور جو فریق حق پر تھا اسے غلبہ حاصل ہوگیا) خطاب مشرکین مکہ سے ہے روایتوں میں آتا ہے کہ جب مشرکین کا لشکر معرکہ بدر کے لیے مکہ سے روانہ ہورہا تھا تو قریش ابوجہل نے غلاف کعبہ پکڑ کر دعا کی تھی کہ اے اللہ کامیابی اس لشکر کر عطا کر جو حق پر ہو۔ کان المشرکون حین خرجوا من مکۃ الی بدر اخذوا باستار الکعبۃ فاستنصروا اللہ وقالوا اللھم انصرا علی الجندین واکرم الفئتین وخیر القبیلتین (ابن کثیر عن السدی) وقیل قالہ ابوجھل وقت القتال (قرطبی)
31 ۔ اس لیے فتح و غلبہ اصلا حق انہی کا ہے گو کسی عارض کی وجہ سے کسی وقت اس کا ظہور نہ ہو) (آیت) ” وان تنتھوا “۔ یعنی اتنے نمایاں وضوح حق کے بعد اگر اب بھی اسلام و…
Read the full tafseer →ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح مکہ سے روانہ ہوتے وقت مشرکین مکہ نے کعبہ کے پردے پکڑ کر دعاء کی تھی کہ خدایا دونوں فریقوں میں سے جو بہتر ہے اس کو فتح عطا فرما، اور ابوجہل نے خاص طور پر یہ کہا تھا، خدایا ہم میں سے جو برسرحق ہوا سے تو فتحمندی عطا فرما، اور جو برسر ظلم اور صلہ رحمی کا قطع کرنے والا ہو اسے رسوا کردے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی منہ مانگی مراد حرف بحرف پوری فرمادی، اور فیصلہ کرکے بتادیا کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق ہے۔
Read the full tafseer →ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتحج اور اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو وہ فیصلہ تو تمہارے سامنے آپہنچا۔ یعنی اگر تم اللہ سے اس بات کے طالب تھے کہ جو اللہ کی نظر میں محبوب اور پسندیدہ ہو ‘ اس کو فتح نصیب ہو تو تمہاری درخواست کے بموجب فتح آگئی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف کا بیان ہے : میں بدر کے دن لائن میں کھڑا ہوا تھا ‘ میں نے دیکھا کہ میرے دائیں بائیں دو لڑکے ہیں اور میں دو نوجوان لڑکوں کے درمیان ہوں ‘ مجھے خیال پیدا ہوا کہ اگر میرے دونوں طرف طاقتور آدمی ہوتے تو بہتر ہوتا (کہ وقت پر کچھ میری مدد کرتے اور کچھ کام کرتے) اتنے میں ایک لڑکے نے چپکے سے مجھے دبایا اور پوچھا : چچا ! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں ؟ میں…
Read the full tafseer →(19) اگر تم مدد طلب کرتے تو مدد تو تمہارے مقابلہ میں رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے لیے آچکی ہے کیوں کہ ابوجہل نے لڑائی شروع ہونے اور شکست کھانے سے پہلے دعا کی تھی کہ الہ العالمین دونوں ادیان میں جو تجھے سب سے زیادہ محبوب ہو اور جو سب سے افضل ہو اس کی مدد فرما، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کیا کہ رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی مدد فرمائی۔
اور اگر تم قتال اور کفر سے باز آجاؤ تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔
اور اگر تم رسول اکرم ﷺ سے لڑائی کی تیاری کرو گے تو پھر بدر کی طرح ہم دوبارہ تمہارا خاتمہ کردیں گے اور تمہاری جماعت خواہ کتنی بھی زیادہ ہو، عذاب الہی کے مقابلہ میں تمہارے کچھ کام نہ آئے گی اور…
Read the full tafseer →اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ : فتح کا معنی یہاں فیصلہ ہے، جیسا کہ کفار کہتے تھے : (مَتٰى ھٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ) [ السجدۃ : 28 ] ”یہ فیصلہ کب ہوگا، اگر تم سچے ہو ؟“ عبداللہ بن ثعلبہ ؓ بیان فرماتے ہیں : ”جب (بدر کے دن) لوگ ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو ابوجہل نے کہا، اے اللہ ! ہم میں سے جو شخص زیادہ رشتوں کو توڑنے والا اور ہمارے سامنے غیر معروف بات پیش کرنے والا ہے، اسے آج صبح ہلاک کر دے، تو یہ فیصلہ طلب کرنے والا ابوجہل تھا۔“ [ مستدرک حاکم 2؍328، ح : 3264۔ أحمد : 5؍431، ح : 23661، و صححہ شعیب أرنؤوط۔ السنن الکبریٰ للنسائی : 6؍350، ح : 11201 ] ”اگر تم فیصلہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 19
قولہ تعالیٰ : آیت : ان تستفتحوا فقد جآء کم الفتح یہ شرط اور اس کا جواب ہے۔ اور اس میں تین اقوال ہیں : (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 611) یہ خطاب کفار کے لیے ہوگا، کیونکہ انہوں نے فیصلہ طلب کیا اور کہا : اے اللہ ! جو ہم میں سے زیادہ قطع رحمی کرنے والا ہے اور اپنے ساتھی پر زیادہ ظلم کرنے والا ہے تو اس کے خلاف دوسرے کی مدد فرما، یہ حسن اور مجاہد رحمۃ اللہ علیہما وغیرہما نے کہا ہے۔ انہوں نے یہ قول قافلے کی مدد کے لیے نکلتے وقت کہا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ابو جہل نے جنگ کے وقت کہا تھا۔ اور نضر بن حارث نے کہا تھا : اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
1۔ ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید والنسائی وابن جریر، ابن المنذر ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ ابن مندہ والحاکم نے اس کو صحیح کہا بیہقی نے دلائل میں عبید اللہ بن ثعلبہ بن صفر (رح) سے روایت کیا کہ جب وقت دونوں لشکروں نے لڑنا شروع کیا تو ابو جہل نے کہا اے اللہ ہمارے رشتوں کو کاٹ دے اور ہم کو اس طرح بنا دے کہ ہم کسی کو نہ پہنچانتے ہوں اور کل تک ٹیڑھا یعنی ہلاک کردے تو اس طرح گویا وہ اللہ تعالیٰ سے فیصلہ طلب کررہا تھا۔ تو اس وقت (یہ آیت) ” ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح “۔ نازل ہوئی۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریروابن المنذر، ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ( آیت) ” ان تستفتحو “ یعنی…
Read the full tafseer →[ اِنْ : اگر ] [ تَسـْتَفْتِحُوْا : تم لوگ فیصلہ مانگتے ہو ] [ فَقَدْ جَاۗءَكُمُ : تو آچکا تمہارے پاس ] [ الْفَتْحُ ۚ : فیصلہ ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَنْتَهُوْا : تم لوگ باز آجاؤ] [ فَهُوَ : تو یہ ] [ خَيْرٌ: بہتر ہے ] [ لَّكُمْ ۚ : تمہارے لیے ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَعُوْدُوْا : تم لوگ دوبارہ کروگے ] [ نَعُدْ ۚ : تو ہم (بھی) دوبارہ کریں گے ] [ وَلَنْ تُغْنِيَ : اور ہرگز بےنیاز نہیں کرے گی ] [ عَنْكُمْ : تم کو ] [ فِئَتُكُمْ : تمہاری جماعت ] [ شَـيْــــًٔـا : کچھ بھی ] [ وَّلَوْ : اور اگر ] [ كَثُرَتْ ۙ : وہ زیادہ (بھی) ہو ] [ وَاَنَّ : اور یہ کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ مَعَ…
Read the full tafseer →مشرکین سے اللہ تعالیٰ کا خطاب
مفسرین نے لکھا ہے کہ ابو جہل نے بدر کے دن لڑائی ہونے سے پہلے یوں دعا کی تھی کہ اے اللہ ! یہ جو دو جماعتیں ہیں (ایک مومنین دوسرے مشرکین) ان میں سے جو بھی قطع رحمی میں بڑھ کر ہو اور جو ایسی چیز لے کر آیا ہو جسے ہم نہیں جانتے آج کی صبح اسے شکست دے دینا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب مشرکین بدر کے لیے روانہ ہونے لگے تو کعبہ شریف کے پردے پکڑ کر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی اور یوں کہا کہ اے اللہ دونوں لشکروں میں سے جو لشکر آپ کے نزدیک اعلیٰ ، اکرم اور بہتر ہو اس کی مدد فرمائیے۔ (ص 296 ج 2)
ایک روایت میں یوں ہے کہ جب بدر کے دن دونوں جماعتیں مقابل ہوئیں تو ابو جہل نے کہا…
Read the full tafseer →تحسیر وتعییر کفار وبیان سبب غلبہ ابرار
قال اللہ تعالیٰ ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ مع ال مومن ین
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان کو بطور تذکیر نعم خطبات تھے اب ان آیات میں کفار کو بطور تذکیر نقم خطاب ہے یعنی بطور تعییر وتحسیر خطاب ہے جسکا قصہ یہ ہے کہ جب ابو جہل اور کفار قریش مکہ سے آپ کے مقابلہ کے لیے روانہ ہونے لگے تو حرم کا پردہ پکڑ کر یہ دعا کی کہ اے اللہ ہمارے اور محمد کے لشکر میں تیرے نزدیک جو باعتبار دین کے بہتر اور برتر ہو اسی کو فتح دے چناچہ حق تعالیٰ نے ان کی دعا کے مطابق مسلمانوں کو فتح دی اور یہ آیت نازل فرمائی۔ (تفسیر قرطبی ص 387 ج 7)
سو اس آیت میں کفار کو عار…
Read the full tafseer →21: خطاب مشرکین سے ہے اور استفتاح کے معنی طلب فیصلہ کے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا “ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ ” (اعراف رکوع 11) ۔ مشرکین مکہ ہجرت سے پہلےحضور ﷺ سے کہا کرتے تھے۔ “ مَتیٰ ھٰذَا الْفَتْحُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْن ” (سجدہ رکوع 3) ۔ یعنی ہمارے اور تمہارے درمیان صادق و کاذب اور محق و مبطل کا فیصلہ کب ہوگا۔ فرمایا لو ہم نے فیصلہ کردیا جسے تم نے آنکھوں سے دیکھ لیا کہ ہم نے بےسرو سامان اور مٹھی بھر مسلمانوں کے ہاتھوں تمہارے سامان جنگ سے لیس عظیم لشکر کو کس طرح پٹوا دیا، ان کے ہاتھوں تمہیں ذلت آمیز شکست دی اور عرب سے تمہاری طاقت و قوت کا خاتمہ کردیا۔ اب اگر تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں میدانِ بدر میں مسلمانوں کی بےسروسامانی کی حالت میں کامیابی کا ذکر تھا۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس قسم کے اسباب پیدا کیے اور اپنی طرف سے جو خاص مہربانی فرمائی ، اس کا بیان ہوا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرنے سے متعلق بعض قوانینِ صلح وجنگ بیان فرمائے ہیں دنیا میں فتنہ و فساد کی بیخ کنی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے بعض اوقات جہاد بالسیف ضروری ہوجاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جنگ میں پیش آنے والے بعض مسائل کے متعلق احکام نازل فرمائے ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات جنگ کو ترک کر کے مصالحت کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →اِنْ تَسْـتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ 0 ۚ وَاِنْ تَنْتَہُوْا فَہُوَخَيْرٌ لَّكُمْ 0 ۚ وَاِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ 0 ۚ وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَـيْــــًٔـا وَّلَوْ كَثُرَتْ 0 ۙ وَاَنَّ اللہَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ 19 ۧ
اسْتِفْتَاحُ :
طلب الفتح أو الفتاح . قال : إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جاءَكُمُ الْفَتْحُ [ الأنفال/ 19] ، أي : إن طلبتم الظّفر أو طلبتم الفتاح۔ أي : الحکم أو طلبتم مبدأ الخیرات۔ فقد جاء کم ذلک بمجیء النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم . وقوله : وَكانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا [ البقرة/ 89]
الاستفتاح
کے معنی غلبہ یا فیصلہ طلب کرنے…
Read the full tafseer →1 ؎ کفار نے مکہ سے نکلتے ہی دعا کی تھی کہ الٰہی دونوں فریق میں سے جو حق پر ہو …اس کو فتح دے۔ اب ان سے بطور طنز فرماتا ہے لو فتح مل گئی۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآئَ کُمُ الْفَتْحُ ج وَاِنْ تَنْتَھُوْا فَھُوَ خَیْرٌلَّکُمْ ج وَاِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ ج وَلَنْ تُغْنِیَ عَنْکُمْ فِئَتُکُمْ شَیْئًا وَّلَوْ کَثُرَتْ لا وَاَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ ع
(الانفال : 19)
(اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو آگیا تمہارے پاس فیصلہ اور اگر تم باز آجاؤ تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر یہی کرو گے تو ہم بھی یہی کریں گے اور کچھ کام نہ آئے گی تمہارے تمہاری جماعت خواہ وہ کتنی زیادہ ہو اور جان لو کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔ )
آیت کا پس منظر
اس آیت کریمہ کا پس منظر یہ ہے کہ قریش مکہ جب مسلمانوں کے استیصال کے لیے مکہ سے نکل رہے تھے تو لشکر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بدر کی ذلت کے بعد کفار کو انتباہ۔
قریش خاندانی سردار اور بیت اللہ کے متولی ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں معزز اور محترم سمجھے جاتے تھے۔ اس پر انھیں بڑا ناز اور فخر تھا۔ لیکن حق کی پے درپے مخالفت اور بدر میں ذلت ناک شکست کی وجہ سے اس قدر ذلیل ہوئے کہ ان کا نام اور مقام خاک میں مل گیا۔ یہاں مفسرین نے ایک عجب واقعہ نقل کیا ہے کہ بدر کی طرف نکلنے سے پہلے۔ سرداران قریش اور ابو جہل نے بیت اللہ کا غلاف پکڑ کر یہ دعا کی کہ اے کعبہ کے رب ! تیری نگاہ میں مسلمانوں اور ہم میں جو حق پر ہے اسے کامیابی عنایت فرما۔ (جامع البیان )
ہو سکتا ہے یہاں اسی بات کی طرف اشارہ ہو…
Read the full tafseer →آیت 19: اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآئَ کُمُ الْفَتْحُ (اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو وہ فیصلہ تو تمہارے سامنے آموجود ہوا) اگر تم مددطلب کرتے تھے تو مدد آگئی مگر تمہارے خلاف۔ یہ اہل مکہ کو خطاب فرمایا کیونکہ روانہ ہوتے وقت انہوں نے استار کعبہ سے چمٹ کر کہا اللّٰھم ان کان محمد علی الحق فانصرہ و ان کنا علی الحق فانصرنا۔
دوسرا قول ان تستفتحوا یہ مومنوں کو خطاب ہے۔ کہ اگر تم فیصلہ کے طالب تھے تو وہ آگیا۔ وَاِنْ تَنْتَھُوْا (اگر تم باز آجائو) یہ کفار کو خطاب ہے۔ ان تنتہوا کا مطلب عداوت رسول سے باز آنا ہے۔ فَھُوَ (تو یہ) یہ باز آنا۔ خَیْرٌ لَّکُمْ (نہایت خوب ہے) بہت بہتر اور سلامتی والا ہے۔ وَ اِنْ…
Read the full tafseer →(19) (ان تستفتحوا فقد جآء کم الفتح) کا پس منظر یہ ہے کہ ابو جہل ملعون بدر کے دن کہنے لگا جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں کہ ہم میں سے کوئی زیادہ فخر والا ہے ؟ میں یا محمد جو رشتہ داری کو توڑنے والا ہے اور ہمارے پاس ایسا دین لایا جس کو ہم نہیں پہچانتے تو کل اس کو شکست دے تو وہ اپنے لئے فتح طلب کر رہا تھا۔ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ فرماتے ہیں کہ میں بدر کے دن صف میں تھا، میں نے دائیں بائیں توجہ کو تو دو لڑکے تھے کم عمر تو میں ان کے ہونے کی وجہ سے مطمئن نہ ہوا، اچانک ایک نے مجھے آہستہ سے کہا کہ اے چچا مجھے ابوجہل دکھا میں نے کہا اے بھتیجے ! تو اس کا کیا کرے گا ؟ اس نے کہا میں نے اللہ سے وعدہ کیا ہے…
Read the full tafseer →19۔ اللہ تعالیٰ کفار کی طرف خطاب کر کے فرماتا ہے کہ تم جو ہر وقت اللہ سے مدد چاہتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم لوگ اپنے مخالف مومنین پر کب فتح یاب ہونگے تو دیکھ لو تمہارا سوال پورا ہوگیا فتح بھی ہوگئی اور تمہارے مومنوں کے درمیان فیصلہ بھی ہوگیا امام احمدو نسائی نے عبداللہ بن ثعلبہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ابوجہل نے بدر کے دن یہ کہا تھا کہ یا اللہ ہم کو وہ باتیں دکھا جو ہماری سمجھ سے باہر ہوں یہ اس نے بطور طلب مدد کے کہا تھا اسی روز صبح کو وہ ذلیل ہوا اور یہ آیت اتری اسی کے موافق ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حاکم نے عبداللہ بن ثعلبہ ؓ کی اس حدیث کو صحیح کہا ہے سدی کا قول یہ ہے کہ مشرکین مکہ سے بدر کی طرف جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
آیت 17
جب غزوہ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا، تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (فلم تقتلوھم) ” تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔ “ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا (ولکن اللہ قتلھم) ” لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا “ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ (وما رمیت اذا رمیت ولکن اللہ رمی) ” اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی، لیکن اللہ نے پھینکی۔ “ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہ ﷺ ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لئے دعائیں کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
ومارمیت اذرمیت کا مفہوم
پھر فرمایا ومارمیت اذرمیت ولکن اللہ رمی اور تم نے نہیں پھینکا جب پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا) یہ بات اس طرح ہوئی کہ حضور ﷺ نے ایک مٹھی مٹی لے کر کافروں کے چہروں کی طرف پھینک دی اور کافروں کے قدم اکھڑ گئے۔ ایک بھی کافر ایسا نہیں بچا جس کی آنکھ میں اس مٹی کا کچھ حصہ نہ پڑا ہو، اس میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مٹی ان کافروں کے چہروں اور ان کی آنکھوں تک پہنچا دی تھی۔ اس لئے کہ کسی مخلوق کی یہ طاقت نہیں تھی کہ حضور ﷺ جس جگہ کھڑے تھے وہاں سے یہ مٹی ان کافروں کی آنکھوں تک پہنچا سکے۔ یہ تمام باتیں آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت کی نشانیاں تھیں۔ نیز ان واقعات کا ہو بہو اسی…
Read the full tafseer →26 حق وباطل کے درمیان فیصلے کا ظہور : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ فیصلہ چاہتے تھے اے منکرو تو بیشک وہ آچکا۔ جیسا کہ تم نے بیت اللہ کا غلاف پکڑ پکڑ کر دعا کی تھی کہ ہم میں سے جو باطل پر ہے وہ تباہ و برباد ہوجائے۔ تو وہ فیصلہ اب تمہارے سامنے آچکا۔ لہذا اب تم لوگ حق کو قبول کرلو۔ سو اس ارشاد میں کفار قریش کو براہ راست مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ بولو اب تمہارا کیا خیال ہے ؟ اور اب تم کیا کہتے ہو ؟ تم اپنی عددی کثرت اور اپنے سامان حرب و ضرب کی بناء پر پھولے نہیں سما رہے تھے اور اپنی فتح و کامرانی کے گھمنڈ میں تم بڑی بڑی ڈینگیں مار رہے تھے۔ اور اس جنگ کو تم نے اپنے طور پر حق و باطل کا معیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
کافروں کے لیے غزوہ بدر سے عبرت
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ اس جنگ کے بہت سے مقاصد تھے اور سب سے بڑا مقصد اللہ وحدہ ‘ لاشریک کی عظمت، طاقت، حکمت اور رحمت کا ثبوت دینا تھا۔ مسلمانوں کی مدد خود اللہ نے انعام کے طور پر کی اور پھر سمجھا دیا کہ یہ سب کچھ فرمانبرداری کے صلہ میں ہوا اور سب سے بڑا سبق بھی یہی دیا گیا کہ اسباب پیدا کرنے والا اور حق کو اپنانے والے مسلمانوں کی حمایت کرنے والا اور مسلمانوں کو فتح و کامیابی دینے والا رب العالمین ہی ہے کوئی بندہ اس غرور میں مبتلا نہ ہوجائے کہ یہ سب خود اس کا اپنا کمال ہے۔ صحابہ کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے رشتہ داروں، گھر بارحتی کہ ساری دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
آیات 11 تا 19
اسرار و معارف
مزید انعامات یہ کہ مقام بدر میں مشرکین نے ایسی جگہ قبضہ کرلیا جو اونچائی پر تھی اور نسبتا مضبوط زمین تھی اور مسلمانوں کو ایسی جگہ ٹھہرناپڑاجونشیبی تھی حضرت حباب بن منذر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول ﷺ اللہ اگر یہ جگہ پر قبضہ کرلیا جائے چناچہ آپ ﷺ کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور پھر حضرت سعدبن معا ؓ ذ کے مشورہ سے ایک طرف ذرابلند ی پر آپ ﷺ کے لیے ایک چھونپڑی سی بنادی گئی جس میں صرف صدیق اکبر ؓ کو شرف حضوری حاصل تھا اور حضرت معاذ ؓ دروازہ پر بہرہ دے رہے تھے۔
یہ بدر کی پہلی شب تھی دونوں لشکروں کا دن اس طرح بسرہوارات کفاراونچی اور مضبوط زمین پر تھے اور مسلمان نشیبی زمین پر جس…
Read the full tafseer →ف 8 یہ خطاب کفار سے ہے کی ن کہ مکہ سے روانہ ہوتے وقت انہوں نے کعبہ کے پردے پکڑ پکڑ کر یہ دعا مانگی تھی کہ اے اللہ ! دونوں گر وہوں ( یعنی ہم اور مسلمانوں) میں سے جو اعلیٰ اور ہدایت یافتہ ہو اسے فتح نصیب کر اور ابو جہل نے معرکہ بدر سے پہلی یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ ! ہم میں سے جو برسرحق ہے اسے غالب اور جو سرباطل ہے اسے رسو اکر۔ ( ابن جریروغیرہ) اس صورت میں الفتح صاحب لکھتے ہیں ہیں۔ مکی سورتوں میں ہر جگہ کافروں کا یہ کلام نقل فرمایا کہ ہر گھڑ ی کہتے ہیں متی حذا الفتح یعنی کب ہوگا یہ فیصلہ سو اب فرمایا کہ یہ ٖفیصلہ آپہنچا۔ ( مو ضح)9 یعنی پھر مسلمانوں کی مخالفت اور اس نے جنگ کرو گے،10 اور اللہ…
Read the full tafseer →(8:19) فستفتحوا۔ تم فتح چاہتے ہو۔ تم فیصلہ چاہتے ہو۔ (باب استفعال) استفتاح سے جمع مذکر حاضر۔ ان شرطیہ کے آنے سے نون اعرابی حذف ہوگیا ہے۔ اصل میں تستفتحون تھا۔ فتح الحاکم بین الناس۔ حاکم نے لوگوں کے درمیان فیصلہ دیا۔ الفتاح صیغہ مبالغہ۔ قاضی۔ فیصلہ کرنے والا۔ یہاں خطاب کافروں سے ہے انہوں نے انصاف مانگا تھا کہ جب کفار مکہ سے روازنہ ہوئے تھے تو غلاف کعبہ کو پکڑ کر انہوں نے دعا مانگی تھی اللہم ان کان محمد علی الحق نانصرہ وان کنا عمل الحق فانصرنا (اے اللہ اگر محمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) حق پر ہیں تو ان کو فتح دے اور اگر ہم حق پر ہیں تو ہمیں فتح دے۔ سو ارشاد ہو رہا ہے کہ اگر تم فیصلہ کے طلب گار تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
آیات : 19 تا 24
لغات القرآن۔
تستفتحوا۔ تم فیصلہ چاہتے ہو۔ تنتھوا۔ تم رک جائو۔ تعودوا۔ تم پلٹ جائو گے۔ نعد۔ ہم پلٹ جائیں گے۔ لن تغنی۔ ہرگز فائدہ نہ دے گا۔ فئۃ۔ جماعت۔ گروہ۔ کثرت۔ بہت ہے۔ سمعنا۔ ہم نے سن لیا۔ شرا الدواب۔ جان داروں میں بدترین۔ الصم۔ بہرے۔ البکم۔ گونگے۔ اسمع۔ وہ سنوا دیتا۔ استجیبوا۔ تم حکم مانو۔ دعاکم۔ اس نے تمہیں بلایا۔ یحییکم۔ وہ تمہیں زندگی دیتا ہے۔ یحول۔ (حول) ۔ وہ آڑ بن جاتا ہے۔ بیچ میں آجاتا ہے۔ المراء۔ مرد۔
تشریح :
ان آیات میں چند بہت ہی بناندی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
(1) جب مکہ کے کفار مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے اس وقت لشکر کفار کے سرداروں نے خانہ کعبہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کفار کی طرف خطاب کرکے فرماتا ہے کہ تم اللہ سے فتح چاہتے تھے اور کہتے تھے کہ لوگ اپنے مخالف مومنین پر کب فتح یاب ہوں گے، تو دیکھ لو تمہارا سوال پورا ہوگیا کہ کس کی فتح ہوئی اور مومنوں کے درمیان فیصلہ بھی ہوگیا۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں سے فرمایا کہ اگر اب بھی تم اپنے کفر اور گمراہی سے باز رہوگے تو تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور اگر تم پھر اسی شرک کی حالت پر رہے تو ہم پھر بھی تمہیں ایسا ہی ذلیل و خوار کریں گے۔ کیونکہ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے ہمیشہ انہیں فتح دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
[6] روایتوں میں آتا ہے کہ جب مشرکین کا لشکر معرکہ بدر کے لئے مکہ سے روانہ ہو رہا تھا تو قریش کے سردار ابو جہل نے غلاف کعبہ پکڑ کر دعا مانگی تھی کہ اے اللہ کامیابی اس لشکر کو عطا ہو جو حق پر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(ف 1) مکہ والے جب گھروں سے جنگ کے لئے نکلے تو یہ کہتے ہوئے نکلے اللہ ہم میں سے جو ہدایت پر ہے اس کی نصرت فرمائیو ، اب بدر کی فتح نے یقین دلا دیا کہ مسلمان حق پر تھے ، کیونکہ باوجود قلت تعداد کے اور بےسروسامانی کے یہ حرت انگیز کامیابی بجز صداقت وتائید ربانی کے کیوں کر مسکن ہے ۔
فرمایا شرارتوں سے اب بھی رک جاؤ تمہیں کثرت تعداد پر مغرور نہ ہونا چاہئے اللہ کی نصرتیں حق وصداقت کے ساتھ ہیں ، کثرت کے ساتھ نہیں ۔
Read the full tafseer →19 اے اہل مکہ اگر تم کو فیصلے کی خواہش تھی تو فیصلہ تمہارے پاس آگیا اور اب اگر تم باز آجائو تو تمہارے لئے بہتر ہوگا اور اگر تم باز نہ آئوگے اور پھر وہی کروگے تو ہم بھی پھر یہی کریں گے اور تمہاری جمعیت خواہ کتنی ہی زیادہ ہو تمہارے کچھ کام نہ آئے گی اور یقین مانو ! اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ یعنی فیصلہ مانگا کرتے تھے سو فیصلہ آپہنچا۔ اب تم کو چاہئے کہ تم اسلام کی مخالفت اور مسلمانوں کی ایذا رسانی سے باز آجائو تو یہ تمہارے حق میں اچھا ہے اور اگر تم پھر وہی ناشائستہ حرکات کروگے اور مسلمانوں کو ستائوگے تو ہم پھر تم کو عذاب دیں گے اور تم کو مغلوب کردیں گے اور تمہاری جماعت اور تمہارا گروہ خواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ف 2۔ اس میں بھی ایک قصہ کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ آپ نے بدر کے روز ایک مٹھی کنکریوں کی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی جس کے ریزے سب کی آنکھوں میں جاگرے اور انکو شکست ہوئی مٹھی خاک پھینکنے کا قصہ کئی بار ہوا بدر میں احد میں حنین میں لیکن یہاں سیاق وسباق کلام سے بدر کا مراد لینا راجح ہے۔
Read the full tafseer →جو فیصلہ تم چاہتے تھے تو وہ فیصلہ ہوگیا اب بھی وقت ہے کہ باز آجاؤ :
27: زیر نظر آیت کا خطاب کفار مکہ سے ہے اور ان کو اس فتح کی طرف دعوت دی جارہی ہے کہ تم نے حق کی فتح طلب کی تھی اور تم نے دیکھ لیا کہ اللہ نے حق کو فتح عطا فرمائی اور یہی فتح تمہارے لئے گویا فیصلہ کا حکم رکھتی ہے اس لئے کہ یہ فیصلہ تمہارا اپنا ہی طلب کردہ ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ اب بھی تم باز آجاؤ اور سمجھ جاؤ کہ ہم غلطی پر تھے اور ہمارا مقابلہ ایک سچے اور کبھی جھوٹ نہ بولنے والے کے ساتھ ہوگیا۔ اس لئے جو کچھ وہ تم سے کہتا ہے وہی حقیقت اور سچ ہے۔ آخر وہ تم سے کچھ طلب کر رہا ہے ؟ اگر نہیں تو اس کی مخالفت پر کیوں تل گئے ہو تم کو…
Read the full tafseer →It is interesting that these dimwitted people were under the impression that they were the ones higher and superior and better-guided as compared to Muslims, therefore, they surmised that the prayer they were making was in their own favour. They actually wanted that Allah would, through their prayer, give His verdict as to who was true and who was false. Thus, when they win, their victory would become the Divine verdict on their being on the side of truth.
But, they did not know that the prayer they were making was really a curse for their own selves, and that it was a supplication for the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
15. Before marching out from Makka the unbelievers held the covering of the Ka'bah and prayed: 'O God! Grant victory to the better of the two parties.' Abu Jahl, in particular invoked God's judgement: 'O God! Grant victory to the one who is in the right and cause humiliation to the wrong-doer.' God answered these prayers fully and the outcome of the battle clearly pointed to the party which was in the right.
Read the full tafseer →