Al-Anfaal 8:18

Al-Anfaal · from ayah 18

8:18

ذٰلِكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ ۟ذٰ لِكُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوۡهِنُ كَيۡدِ الۡـكٰفِرِيۡنَ‏

(بات) یہ (ہے) کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کر دینے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

That [is so], and [also] that Allah will weaken the plot of the disbelievers.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:18

یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(بات) یہ (ہے) کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کر دینے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(ایک بات تو) یہ ہوئی اور (دوسری بات یہ ہے) اللہ تعالیٰ کو کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ سب کچھ تو اپنی جگہ، اس کے علاوہ یہ بات بھی تھی کہ اللہ کو کافروں کی ہر سازش کو کمزور کرنا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ تو لو اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ اللہ کافروں کا داؤ سست کرنے والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ (تو ایک لطف و احسان) ہے اور (دوسرا) یہ کہ اللہ کافروں کے مکر و فریب کو کمزور کرنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بات یہ ہے ! اور یہ کہ یقینا اللہ کافروں کی خفیہ تدبیر کو کمزور کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہوا اور اللہ تعالیٰ یقینا کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ جو کچھ ہوا سامنے ہے اور اللہ کافروں کے سارے داؤں کو بےکار کر کے رہے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ معاملہ تو ہوا تمہارے ساتھ، اور یقیناً اللہ کمزور کرنے والا ہے کافروں کی چالوں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

یہ تو ہوچکا۔ اور بیشک اللہ کمزور کرکے رہے گا کافروں کی تدبیر کو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ تو ہوچکا اور (آئندہ کے لیے بھی سمجھ لو کہ) اللہ کفار کی تمام چالوں کو ناکام بنا دینے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بات یہ ہے کچھ شک نہیں کہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

This is His manner of dealing with you. As for the unbelievers, Allah will surely undermine their designs.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Apart from that, Allah is the One who frustrates the device of the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani

Apart from that, Allah is the One who frustrates the device of the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

This (is the fact) and surely Allah weakens the deceitful plots of the disbelievers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That (is the case); and (know) that Allah (it is) Who maketh weak the plan of disbelievers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That [is so], and [also] that Allah will weaken the plot of the disbelievers.

— Saheeh International

This is how God causes the (evil) plans of the unbelievers to fail.

— Muhammad Sarwar

This, and that Allah is the weakener of the struggle of the unbelievers.

— Muhammad Habib Shakir

Thus! And know that Allah weakenoth the contrivance of infidels.

— Abdul Majid Daryabadi

That, and also because Allah is He Who makes feeble the plans and stratagem of the Unbelievers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–18

اللہ کی مدد ہی وجہ کامرانی ہے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ بندوں کے کل کاموں کا خالق وہی ہے ان سے جو بھی اچھائیاں سرزد ہوں اس پر قابل تعریف وہی ہے اس لئے کہ توفیق اسی کی طرف سے ہے اور اعانت و مدد بھی اسی کی جانب سے ہے اسی لئے فرماتا ہے کہ اے مسلمانوں تم نے آپ اپنی طاقت و قوت سے اپنے دشمنوں کو قتل نہیں کیا تم تو مٹی بھر تھے اور دشمن بہت زیادہ تھے تم بےکس اور کمزور تھے دشمن کس بل والے قوت طاقت والے تھے۔ یہ اللہ ہی کی مدد تھی کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کردیا، جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ01203) 3۔ آل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–18

سورة الْاَنْفَال 14 معرکہ بدر میں جب مسلمانوں اور کفار کے لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے اور عام زد و خورد کا موقع آگیا تو حضور ﷺ نے مٹھی بھر ریت ہاتھ میں لے کر شاھت الوُجُوہ کہتے ہوئے کفار کی طرف پھینکی اور اس کے ساتھ ہی آپ کے اشارے سے مسلمان یکبارگی کفار پر حملہ آور ہوئے۔ اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چوتھی آیت میں اس کے بالمقابل اس فتح کا ایک اور فائدہ بھی یہ بتلایا گیا کہ (آیت) ذٰلِكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكٰفِرِيْنَ۔ یعنی یہ فتح و نصرت اس لئے بھی مسلمانوں کو دی گئی کہ اس کے ذریعہ کافروں کی تدبیروں کو ناکام اور ناکارہ بنادیا جائے۔ جس سے وہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمارے ساتھ نہیں۔ اور کوئی تدبیرب غیر اللہ تعالیٰ کی مدد کے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ پانچویں آیت میں شکست خوردہ قریشی کفار کو خطاب اور ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو قریشی لشکر کے مسلمانوں کے مقابلہ پر مکہ سے نکلنے کے وقت پیش آیا تھا۔ وہ یہ کہ جب قریشی کفار کا لشکر مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے تیار ہوگیا تو مکہ سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ذٰلِكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكٰفِرِيْنَ۔ ذالکم جب اس طرح آتا ہے تو یہ پورے جملے کا قائم مقام ہوتا ہے اور اس کے بعد جو حرف ربط آتا ہے اس کا تعلق اس مخفی مضمون سے ہوتا ہے جو اس کے اندر مضمر ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ خدا کی تائید و نصرت کی یہ شانیں جو ظاہر ہوئیں یہ تمہارے لیے نقد ہیں اور مزید براں یہ ہے کہ خدا کفار کی ساری چالیں جو وہ تمہارے خلاف چلیں گے بودی ثابت کرتا رہے گا۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ جملہ ٹھیک ٹھیک اوپر کے جملے ذالکم فذوقوہ وان للکفرین عذاب النار کا مد مقابل جملہ ہے یعنی کفار کے لیے یہ چپت نقد ہے جو ان کو بدر میں لگی اور تمہارے لیے یہ فتح عظیم نقد ہے تو تہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18۔ 1 دوسرا مقصد اس کا کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنا اور ان کی قوت و شوکت کو توڑنا تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–21

10: یہ درحقیقت ایک سوال کا جواب ہے، سوال یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنی قدرت سے دشمن کو براہ راست ہلاک کرسکتا تھا، پھر اس نے مسلمانوں کو کیوں استعمال کیا، اور کنکریاں آنحضرت صلی اللہ سلیہ وسلم کے دست مبارک سے کیوں پھنکوائیں ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اول تو اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ وہ تکوینی امور بھی کسی ظاہری سبب کے ذریعے انجام دلواتا ہے اور یہاں مسلمانوں کو اس لئے ذریعہ بنایا گیا کہ ان کو اجر وثواب حاصل ہو، اور دوسرے وہ کافروں کو بھی یہ دکھانا چاہتا تھا کہ جن سازشوں اور وسائل پر انہیں ناز ہے وہ سب ان لوگوں کے ہاتھوں خاک میں مل سکتے ہیں جنہیں تم کمزور سمجھتے رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ سب معاملہ تو یہ تھا کہ تمہیں اس نے اپنی قدرت کے لیے ایک راہ بنایا۔ لیکن یہ اس وقت بنایا جب تم نے خلوص کا اظہار کردیا۔ اسی لیے اس نے تمہیں نصرت بھی دی اور تم اجر کے مستحق بھی ٹھہرے۔ ہمیشہ اللہ ایسا ہی کرتا ہے جیسا کہ اس نے بدر میں کیا۔ ذٰلِكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكٰفِرِيْنَ ۔ یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے۔ یہ اللہ کی جانب سے دوسری امادا ہے ، اللہ کی تدبیر اس بات پر ختم نہیں ہوجاتی کہ وہ تمہارے دشمنوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کرتا ہے۔ اور تمہارے تیروں کو ٹھیک نشانے پر بٹھاتا ہے ، اور تمہارے لی آزمائش کا اچھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اس وقت بھی خدا نے کفار مکہ کے سب منصوبے خاک میں ملا دئیے اور آئندہ بھی ان کی تدبیروں کو سست کردیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18 ذٰلِکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ مُوْہِنُ کَیْدِ الْکٰفِرِیْنَ ۔ یہ گویا اہل ایمان اور کفار دونوں کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد صرف کفار سے خطاب ہے۔ ابو جہل کو بحیثیت سپہ سالار اپنے لشکر کی تعداد ‘ اسلحہ اور سازو سامان کی فراوانی کے حوالے سے پورا یقین تھا کہ ہم مسلمانوں کو کچل کر رکھ دیں گے۔ چناچہ انہوں نے پہلے ہی پراپیگنڈا شروع کردیا تھا کہ معرکہ کا دن یوم الفرقان ثابت ہوگا اور اس دن یہ واضح ہوجائے گا کہ اللہ کس کے ساتھ ہے۔ اللہ کو تو کفار بھی مانتے تھے۔ چناچہ تاریخ کی کتابوں میں ابو جہل کی اس دعا کے الفاظ بھی منقول ہیں جو بدر کی رات اس نے خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ سے مانگی تھی۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

17 یعنی مدد کی ان سب صورتوں کا فائدہ تو مسلمانوں کو پہنچتا رہا اور ساتھ ہی ساتھ کافروں کو اتنا ہی نقصان بھی پہنچتا رہا اور جو تدبیر وہ مسلمانوں کے استیصال کے لیے کر رہے تھے۔ اللہ نے اسے توڑ کے رکھ دیا۔ اور ان کے سب منصوبے خاک میں ملا دیئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

28 ۔ یعنی یہ ایک مصلحت تو پوری ہوچکی۔ 29 ۔ (اور وہ بھی کمزور اور بےسروسامان مسلمانوں کے ہاتھوں جس سے اس کی قدرت و حکمت اور زیادہ واضح ہو کر رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–18

میدان سے راہ فرار : وَمَنْ یولِّھِمْ یومَئذٍ دُبَرَہ ' اِلاِّ متحر فا لقتالِ (الآیة) دشمن کے شدید دباؤ پر پسپائی ناجائز نہیں ہے جبکہ اس کا مقصد اپنے عَقْبِیْ مرکز کی طرف پلٹنا یا اپنی ہی فوج کے کسی دوسرے حصے سے جاملنا ہو، البتہ جو چیز حرام ہے وہ فرار ہے جو کسی جنگی مقصد سے نہیں بلکہ جان بچانے کی غرض سے ہو، اس فرار کو بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے چناچہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا '' تین گناہ ایسے ہیں جن کے ساتھ کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی '' ایک شرک دوسرے والدین کے حقوق کی حق تلفی تیسرے میدان جہاد فی سبیل اللہ سے فرار، اسی طرح ایک اور حدیث میں سات بڑے گناہ شمار کرائے ہیں ان میں ایک قتال فی سبیل اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذلکم یہ ‘ یعنی خوب صورت آزمائش ‘ یا دشمنوں کو قتل کرنا ‘ یا ان پر کنکریاں پھینکنا۔ ذٰلکم خبر ہے ‘ اس کا مبتداء محذوف ہے ‘ یعنی مقصود یہ تھا۔ وان اللہ موھن کید الکافرین۔ یعنی کافروں کے داؤ کو کمزور کردینا بھی مقصود تھا۔ اس جملہ کا عطف ذٰلکم پر ہے (گویا المقصود مبتداء محذوف ہے اور ذٰلکم سے الکافرینتک اس کی خبر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کی آزمائش اور کافروں کی بیخ کنی اس جہاد کی غرض تھی) ۔ محمد بن اسحاق اور امام احمد نے حضرت عبد اللہ بن ثعلبہ بن صعیر عذری کی روایت سے اور ابن جریر و ابن المنذر نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ (بدر کے دن) جب باہم مقابلہ پر صف آرائی ہوئی اور ایک فریق…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ذٰلِكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكٰفِرِيْنَ : یعنی یہ بات تو ہے ہی جس کا ذکر گزرا، یعنی فرشتوں کے ساتھ مدد، بارش برسانا، اونگھ ڈالنا، مشرکین کی آنکھوں میں خاک ڈالنا، ان کے ستر آدمیوں کا قتل اور ستر کا قید ہونا اور مسلمانوں کو فتح عظیم عطا ہونا وغیرہ، اس کے ساتھ مزید سنو کہ اللہ آئندہ بھی کفار کی سازشوں کو کمزور کر دے گا اور یہ اپنی کسی سازش میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ (ابن کثیر) یا یہ کہ انھوں نے جو یہ منصوبہ بنایا تھا کہ اپنے تجارتی قافلے کو بچا لے جائیں گے اور مسلمانوں کا زور بھی توڑ دیں گے، ان کا منصوبہ خاک میں ملا دیا، وہ خود مارے گئے اور تمہارے ہاتھوں قیدی بن گئے اور بھاری…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–18

آیت نمبر : 17۔ 18 قولہ تعالیٰ : آیت : فلم تقتلوھم ولکن اللہ قتلھم یعنی بدر کے دن تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل کیا ہے۔ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب جب غزوہ بدر سے واپس لوٹے تو ان میں سے ہر ایک نے اپنا کارنامہ ذکر کیا : میں نے اس طرح قتل کیا، میں نے اس طرح کیا۔ تو اس وجہ سے ان میں تفاخر اور اس جیسی دیگر چیزیں آنے لگیں۔ تو اس حقیقت پر آگہ کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 511) کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہی مارنے والا ہے اور وہی تمام چیزوں کی قدرت عطا کرنے والا ہے اور یہ کہ بندہ تو صرف اپنے کسب اور اپنے قصد کے ساتھ اس میں شریک ہوتا ہے۔ اور یہ آیت ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–18

1۔ ابن ابی شیبہ، عبدبن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلم تقتلوہم “ محمد ﷺ کے اصحاب کے لئے فرمایا جب انہوں نے کہا کہ اس کو میں نے قتل کیا اور اس کو میں نے قتل کیا (فرمایا) (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی “ محمد ﷺ نے کافروں کو کنکریاں پھینکیں تھیں۔ 2:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت “ یعنی بدر کے دن ان پر کنکریاں پھینکیں۔ 3:۔ عبدالرزاق عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے عکرمۃ (رح) سے روایت کیا کہ وہ ریت کے ذرات ہر آدمی کی آنکھ پر پڑے گا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ذٰلِكُمْ : یہ ہے ] [ وَاَنَّ : اور یہ کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے داؤں کا کمزور کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–18

اللہ تعالیٰ ہی کی مدد سے مشرکین مقتول ہوئے غزوہ بدر میں بظاہر مسلمانوں نے جنگ کی ان کے ساتھ فرشتوں نے بھی شرکت کی۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ ہی موثر حقیقی ہے اور سب کچھ اسی کی مشیت اور ارادہ سے ہوتا ہے اسی لیے یہ فرمایا کہ (فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ ) کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا (وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ ) لیکن اللہ نے انہیں قتل کیا۔ غزوۂ بدر کے موقعہ پر ایک یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ حضرت جبرائیل نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ مٹی کی ایک مٹھی بھر کر دشمنوں کی طرف پھینک دیجیے، آپ نے ایسا ہی کیا اور وہ مٹی مشرکین میں سے ہر شخص کی آنکھوں میں اور ناک کے نتھنوں اور منہ میں پہنچ گئی جس کی وجہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–18

بیان علت بودن قدرت حق و سبب وواسطہ بودن قدرت خلق قال اللہ تعالیٰ فلم تقتلوھم ولکن اللہ قتلھم۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ موھن کید الکفرین (ربط): گزشتہ آیات میں بھی حق تعالیٰ کی ایک غیبی امداد کا ذکر تھا اب ان آیات میں بھی اس کی ایک غیبی امداد کا ذکر ہے جس سے یہ بتلانا ہے کہ جنگ بدر میں جو فتح ہوئی وہ در اصل قدرت خداوندی کا کرشمہ ہے جو خدا تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں سے ظاہر فرمایا ہے اصل علت قدرت حق ہے اور قدرت خلق محض سبب اور واسطہ کے درجہ میں ہے بعض لوگوں کی زبان سے یہ نکلا تھا کہ میں نے اس لڑائی میں فلاں کو مارا اور میں نے فلاں کو مارا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں یہ بتلایا گیا کہ یہ سب اللہ کا فضل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

20:“ ذٰلِکُمْ ” سے پہلے “ قُلْنَا ” اور اس کے بعد “ فَذُوْقُوْه ” مقدر ہے اور “ اَنَّ ” سے پہلے “ اعلموا بقرینة ذٰلِکُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْکٰفِرِیْنَ الخ ” یعنی ہم نے کہا اب یہ عذاب چکھو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے مکر و فریب کو بیکار کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–19

ربط آیات : گزشتہ آیات میں میدانِ بدر میں مسلمانوں کی بےسروسامانی کی حالت میں کامیابی کا ذکر تھا۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس قسم کے اسباب پیدا کیے اور اپنی طرف سے جو خاص مہربانی فرمائی ، اس کا بیان ہوا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرنے سے متعلق بعض قوانینِ صلح وجنگ بیان فرمائے ہیں دنیا میں فتنہ و فساد کی بیخ کنی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے بعض اوقات جہاد بالسیف ضروری ہوجاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جنگ میں پیش آنے والے بعض مسائل کے متعلق احکام نازل فرمائے ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات جنگ کو ترک کر کے مصالحت کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكُمْ وَاَنَّ اللہَ مُوْہِنُ كَيْدِ الْكٰفِرِيْنَ۝ 18 وهن الوَهْنُ : ضعف من حيث الخلق، أو الخلق . قال تعالی: قالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي [ مریم/ 4] ، فَما وَهَنُوا لِما أَصابَهُمْ [ آل عمران/ 146] ، وَهْناً عَلى وَهْنٍ [ لقمان/ 14] أي : كلّما عظم في بطنها : زادها ضعفا علی ضعف : وَلا تَهِنُوا فِي ابْتِغاءِ الْقَوْمِ [ النساء/ 104] ، ( و ھ ن ) الوھن کے معنی کسی معاملہ میں جسمانی طور پر کمزور ہونے یا اخلاقی کمزور یظاہر کرنے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ قالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي[ مریم/ 4] اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں / فَما وَهَنُوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–18

ترکیب : اذا لقیتم شرط فلا تولوا جواب جملہ ندا ہے۔ زحفا مصدر موضع حال میں قبل ہو مصدر علی حال المحذوفۃ ای پزحفون زحفا الادبار جمع دبر مفعول ثانی ہے تولوا کا۔ ومن یولہم شرط یومئذ ظرف دبرہ مفعول ثانی فقد باء جواب الا متحرفا استثناء فی ہذہ الاحوال ای لایجوز التولی فی ایّ حال الافی التحرف ای التعطف لقتال بان تریھم الفرۃ کیدا ویزید الوقوع علیھم کرۃ او متحیزاً ای منضما الی فئۃٍ ای جماعت المسلمین ذلکم ای الامر ذلکم۔ تفسیر : چونکہ اس جنگ بدر میں کامیابی بظاہر اسباب استقلال اور ثابت قدمی سے واقع ہوئی اس لئے ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کو ہر ایک جنگ میں صبر و استقلال کا حکم دیتا ہے۔ بقولہ یا ایہا الذین امنوا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–18

فَلَمَ تَقْتُلُوْھُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ ص وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰیج وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْہُ بَلَآئً حَسَنًاطاِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ ذٰلِکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ مُوْھِنُ کَیْدِ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (الانفال : 17، 18) (پس تم لوگوں نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا ہے اور آپ نے نہیں پھینکی (مٹھی خاک کی) جس وقت آپ نے پھینکی لیکن اللہ نے پھینکی تاکہ کرے ایمان والوں پر اپنی طرف سے خوب احسان ` بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ یہ جو کچھ ہوا سامنے ہے اور جان رکھو کہ اللہ سست کردے گا تدبیر کافروں کی۔ ) آنحضرت ﷺ کی آستین سے دست غیب کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–18

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ غزوۂ بدر کی کامیابی کا اصل سبب۔ بدر کے لیے نبی اکرم ﷺ کا اپنے گھر سے نکلنا، بدر کی رات بارش کا ہونا، رات کو مسلمانوں کا پرسکون ہو کر سونا، پے درپے ملائکہ کی کمک کا پہنچنا، کفار پر مسلمانوں کا رعب طاری ہونا، نبی اکرم ﷺ کا مٹھی بھر کنکریوں کو کفار کے لشکر کی طرف پھینکنا، اللہ تعالیٰ کا کفار کی آنکھوں میں کنکریوں کا پہنچانا۔ سب کے سب اقدام صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد کا نتیجہ تھے۔ اس لیے بدر کی کامیابی کے بارے میں ارشاد فرمایا اے مسلمانو ! اس کا میابی پر اترانے کے بجائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کو یاد رکھو کیونکہ تم تو ہر اعتبار سے کفار کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کافروں کی تدبیر کمزور کردی : آیت 18: ذٰلِکُمْ (ایک بات تو یہ ہوگی) یہ بلائے حسن کی طرف اشارہ ہے۔ نحو : یہ محل رفع میں ہے اور ذٰلکم پر اس کا عطف ہے مراد ابلائے مومنین اور توہین مکائد کافرین ہے۔ وَاَنَّ اللّٰہَ مُوْھِنُ کَیْدِ الْکٰفِرِیْنَ (اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کافروں کی تدبیر کا کمزور کرنا تھا) قراءت : مُوْھَنُ کَیْدَ شامی و کوفی نے پڑھا ہے۔ جبکہ حفص نے موہِنُ کیدِ پڑھا اور دیگر قراء نے مُوَھِّنُ کَیْدَ پڑھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (18) (ذلکم) جو میں نے قتل اور رمی اور اچھی آزمائش کو ذکر کیا۔ (وان اللہ ) بعض نے کہا ہے یہاں لفظ محذوف ہے یعنی ” واعلموا ان اللہ “ (موھن) کمزور کرنے والا ہے۔” کید الکافرین “ ابن کثیر، نافع ار اہل بصرہ رحمہما اللہ نے (موھن) شد اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ (کید ) کے زبر کے ساتھ اور دیگر حضرات نے تخفیف اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے مگر حفص (رح) اس کو مضاف بناتے ہیں اور تنوین نہیں پڑھتے اور کید پر زیر پڑھتے ہیں۔ (موھن کید الکفرین)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

18۔ اس سے اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے یہ بیان فرمایا کہ مشرکین جو لڑائی میں قتل و غارت ہوئے اور جو خاک کی مٹھی پھینکی گئی جو کفار کی آنکھ ناک منہ میں جا کر پڑی اور وہ بھاگ نکلے جنگ کے میدان سے ان کے پاؤں اکھڑ گئے اس کو مومن یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے ان کو قتل کیا اور ہم نے مٹھی کنکریوں کی پھینکی تھی جو کار آمد ہوئی بلکہ یہ سب اللہ کی قدرت تھی اللہ کا حکم تھا ورنہ کیا مجال تھی کہ کوئی کسی کو قتل کرسکتا یا بھگا دیتا یہ سب نعمتیں اللہ کی تھیں جو ایمان والوں پر کی گئیں اس کے بعد اس آیت میں یہ بشارت دی کہ یہ سب تدبیر میں جو تمہارے مفید مطلب اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوئیں وہ اس واسطے ہوئیں کہ اللہ پاک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–19

آیت 17 جب غزوہ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا، تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (فلم تقتلوھم) ” تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔ “ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا (ولکن اللہ قتلھم) ” لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا “ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ (وما رمیت اذا رمیت ولکن اللہ رمی) ” اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی، لیکن اللہ نے پھینکی۔ “ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہ ﷺ ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لئے دعائیں کرنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–24

ومارمیت اذرمیت کا مفہوم پھر فرمایا ومارمیت اذرمیت ولکن اللہ رمی اور تم نے نہیں پھینکا جب پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا) یہ بات اس طرح ہوئی کہ حضور ﷺ نے ایک مٹھی مٹی لے کر کافروں کے چہروں کی طرف پھینک دی اور کافروں کے قدم اکھڑ گئے۔ ایک بھی کافر ایسا نہیں بچا جس کی آنکھ میں اس مٹی کا کچھ حصہ نہ پڑا ہو، اس میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مٹی ان کافروں کے چہروں اور ان کی آنکھوں تک پہنچا دی تھی۔ اس لئے کہ کسی مخلوق کی یہ طاقت نہیں تھی کہ حضور ﷺ جس جگہ کھڑے تھے وہاں سے یہ مٹی ان کافروں کی آنکھوں تک پہنچا سکے۔ یہ تمام باتیں آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت کی نشانیاں تھیں۔ نیز ان واقعات کا ہو بہو اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

23 عنایت خداوندی کے ایک نتیجے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس درحقیقت ان دشمنان حق کو تم لوگوں نے نہیں قتل کیا تھا (اے ایمان والو) بلکہ ان کو اصل میں اللہ ہی نے قتل کیا تھا۔ یعنی دشمنوں کی شکست اور ان کے قتل و خونریزی کا یہ کام تمہارے بس کی چیز نہیں تھا بلکہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے تھا۔ سو ان دشمنوں کو تم نے نہیں اللہ ہی نے قتل کیا تھا۔ اور اس کا یہ قتل تمہارے ذریعے ظاہر ہوا جو درحقیقت تمہارے لئے اس وحدہ لاشریک قادرمطلق کی طرف سے ایک بڑا اعزاز ہے، جس پر تمہیں دل و جان سے اس کا شکر گزار ہونا چاہیئے، نہ کہ مال غنیمت وغیرہ کا دعویدار بننا۔ سو فتح و شکست کا اصل دارومدار اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 18–19

کافروں کے لیے غزوہ بدر سے عبرت تشریح : جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ اس جنگ کے بہت سے مقاصد تھے اور سب سے بڑا مقصد اللہ وحدہ ‘ لاشریک کی عظمت، طاقت، حکمت اور رحمت کا ثبوت دینا تھا۔ مسلمانوں کی مدد خود اللہ نے انعام کے طور پر کی اور پھر سمجھا دیا کہ یہ سب کچھ فرمانبرداری کے صلہ میں ہوا اور سب سے بڑا سبق بھی یہی دیا گیا کہ اسباب پیدا کرنے والا اور حق کو اپنانے والے مسلمانوں کی حمایت کرنے والا اور مسلمانوں کو فتح و کامیابی دینے والا رب العالمین ہی ہے کوئی بندہ اس غرور میں مبتلا نہ ہوجائے کہ یہ سب خود اس کا اپنا کمال ہے۔ صحابہ کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے رشتہ داروں، گھر بارحتی کہ ساری دنیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–19

آیات 11 تا 19 اسرار و معارف مزید انعامات یہ کہ مقام بدر میں مشرکین نے ایسی جگہ قبضہ کرلیا جو اونچائی پر تھی اور نسبتا مضبوط زمین تھی اور مسلمانوں کو ایسی جگہ ٹھہرناپڑاجونشیبی تھی حضرت حباب بن منذر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول ﷺ اللہ اگر یہ جگہ پر قبضہ کرلیا جائے چناچہ آپ ﷺ کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور پھر حضرت سعدبن معا ؓ ذ کے مشورہ سے ایک طرف ذرابلند ی پر آپ ﷺ کے لیے ایک چھونپڑی سی بنادی گئی جس میں صرف صدیق اکبر ؓ کو شرف حضوری حاصل تھا اور حضرت معاذ ؓ دروازہ پر بہرہ دے رہے تھے۔ یہ بدر کی پہلی شب تھی دونوں لشکروں کا دن اس طرح بسرہوارات کفاراونچی اور مضبوط زمین پر تھے اور مسلمان نشیبی زمین پر جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یہ ایک دوسری بشارت ہے کہ آئندہ بھی اللہ تعالیٰ ہر تد بیر کر کمزور کر دے گا اور یہ اپنی کسی اسی اسکیم میں کا میاب نہ ہو سکیں گے، ( ابن کثیر) یا یہ کہ انہوں نے جو یہ اسکیم بنائی تھی کہ اپنے تجارتی قافلے کو بچا لے جائیں گے اور مسلمانوں کا زور بھی توڑدیں گے ان کا یہ منصوبہ خاک میں ملادیا، وہ خود مارے گئے اور تمہاری قیدی بن گئے اور بھاری مالی نقصان اٹھاکر پسپا ہوئے، ( ک کذاعن ابن عباس )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:18) ذلک۔ یہی ۔ کم ضمیر جمع مخاطب۔ یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ (اشارہ ہے بلاحسن کی طرف) معطوف علیہ۔ و۔ عطف کے لئے ہے ۔ اور (جہاں تک کافروں کا تعلق ہے ان کے ساتھ معاملہ یہ ہے) ۔ ان اللہ موھن کید الکافرین معطوف ہے ذلک پر۔ موھن۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ مضاف ۔ وھن مادہ۔ کمزور کرنے والا۔ کید الکافرین۔ مضاف مضاف الیہ۔ دونوں مل کر موھن کے مضاف الیہ۔ کافروں کی چال۔ کافروں کا مکرو فریب۔ اس کی جمع کیا د ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–18

آیات : 15 تا 18 لغات القرآن۔ لقیتم۔ تم نے ملاقات کی۔ تم ملے۔ زحف۔ لڑائی۔ لاتولوا۔ تم نہ پھیرو۔ یومئذ۔ اس دن۔ متحرف۔ پینترا بدلنے والے (جنگی چال) ۔ متحیز۔ ملنے والے۔ رمیت۔ تو نے پھینکا۔ رمی۔ اس نے پھینکا۔ بلاء حسن۔ اچھی طرح آزمانا۔ موھن۔ سست اور ضعیف کرنے والا تشریح : دراصل جنگ ہو یا امن۔ زندگی کا میدان ہو یا پریشانی کے حالات جو لوگ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں وہی دنیا اور آخرت کی کامیابی کے حقدر ہوتے ہیں لیکن وہ لوگ جو میدان چھوڑ کر اور پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہیں کبھی کسی طرح کی کامیابی حاصل نہیں کیا کرتے۔ ان آیت میں اس بات کو فرمایا جا رہا ہے کہ اے مومنو ! جب بھی کسی جنگ میں تمہارا مقابلہ کفار…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

جنگ بدر کے حالات اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب معمتیں جن کا اوپر ذکر ہوا اللہ تعالیٰ کی تھیں جو ایمان والوں پر کی گئیں، اس کے بعد اس آیت میں بشارت دی گئی کہ یہ سب تدبیریں جو تمہارے مفید مطلب اللہ کی قدرت سے ہوئیں، وہ اس واسطے ہوئیں کہ اللہ تعالیٰ کفار کے مکر و حیلہ کو سست کردیتا ہے اور ان کی کوئی تدبیر پیش نہیں چلنے دیتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–18

[4] یہ آیت اس مضمون کو صاف کر رہی ہے کہ فاعل حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کفار کے قتل کو اپنے زور وقوت کی طرف نسبت نہ کرو کہ یہ درحقیقت اللہ کی مدد سے ہے۔ [5] جنگ بدر میں جب مسلمانوں اور کفار کے لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو رسول اکرم ﷺ نے مٹھی بھر خاک کفار کی طرف پھینکی۔ اللہ کی قدرت سے ہر کافر کی آنکھ میں یہ خاک پہنچی۔ اس کے بعد مسلمان حملہ آور ہوئے اور کفار کو شکست ہوئی یہاں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–18

وما رمیت : (ف 2) مقصد یہ ہے کہ تم لوگوں نے میدان جہاد میں محض اپنے فرض کو ادا کیا ہے ، ورنہ کامیابی اور نصرت تو تمہاری کوششوں کی رہین منت نہیں ، تم نے بلاشبہ ان سے جنگ کی اور بہادری کا اظہار کیا ، اور اگر اللہ کفر کو ہزیمت نہ دینا چاہتا ، تو تم فتح پر قادر نہ ہو سکتے ۔ اسی طرح حضور ﷺ کے متعلق فرمایا ، آپ نے جو مٹی کی مٹھی شاھت الوجوہ کہہ کر پھینکی اور مخالفین کی آنکھیں چندھیا گئیں ، یہ بھی محض اللہ کا فضل تھا ، غرض یہ ہے کہ بڑی سے بڑی کامیابی بھی اللہ کے فضل سے بےنیاز نہیں ۔ حل لغات : متحرفا : حرف کے معنی پہلو یا کنارے کے ہیں ، تحرف سے مراد ایک طرف ہوجانا ہے ۔ بیواؤ کے لئے متحیزا : ” حبز کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

18 یہ بات تو ہوچکی اور یہ بات تم نے دیکھ لی یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنے والا ہے۔ یعنی یہ تو ہوا جو کچھ ہوا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کافروں کے مکرو کید کو کمزور کرنا مقصود تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–20

ف 2۔ اس میں بھی ایک قصہ کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ آپ نے بدر کے روز ایک مٹھی کنکریوں کی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی جس کے ریزے سب کی آنکھوں میں جاگرے اور انکو شکست ہوئی مٹھی خاک پھینکنے کا قصہ کئی بار ہوا بدر میں احد میں حنین میں لیکن یہاں سیاق وسباق کلام سے بدر کا مراد لینا راجح ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کی خفیہ تدبیروں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا : 26: یہ سب کچھ تو ہوچکا جس کا ذکر آپ نے پڑھا اور پڑھ رہے ہیں اس سے یہ سبق بھی تم سیکھ لو کہ یہ فتح و نصرت اس لئے بھی مسلمانوں کو دی گئی کہ اس کے ذریعہ کافروں کی تدبیریں کو ناکام اور ناکارہ بنا دیا جائے جو وہ اپنے مخالفین مسلمانوں سے خفیہ رکھ کر کر رہے تھے اور ان کی ان مکاریوں کا سارا وبال انہیں پر ڈال دیا جائے شاید اس طرح وہ سمجھ جائیں کہ اللہ کی مدد ہمارے ساتھ نہیں کیونکہ وہ مکہ سے نکلتے وقت اللہ ہی سے درخواست کر رہے تھے اور ان کے ہاتھ میں بیت اللہ کا غلاف تتھا کہ اے اللہ ! اے بیت اللہ کے مالک ! ہم میں سے جو جھوٹا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In contrast to this, yet another benefit which came out of this victory has been described in the fourth verse as: ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ اللَّـهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِ‌ينَ ﴿18﴾ (Apart from that, Allah is the One who frustrates the device of the disbelievers - 18). In other words, it can be said that Muslims were blessed with this victory for yet another reason, that is, the plans of the disbelievers should be rendered ineffective through it, something which would make them understand that Divine support is not with them - and no plan can succeed without it. The fifth verse (19) carries an…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

14. This refers to the occasion wnen the armies of the Muslims and the unbelievers stood face to face in the Battle of Badr and were on the verge of actual fighting. At that moment, the Prophet (peace be on him) threw a handful of dust at the enemy saying: 'May, their faces be scorched.' So saying the Prophet (peace be on him) made a gesture and the Muslims started their charge. (See Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 1, p. 368; Ibn Hisham, vol. 1, p. 668; Ibn Kathir, comments on the verse - Ed.)

Read the full tafseer →