Al-Anfaal 8:17

Al-Anfaal · from ayah 17

8:17

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ ۪— وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰی ۚ— وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا ؕ— اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۟فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡهُمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمۡۖ وَمَا رَمَيۡتَ اِذۡ رَمَيۡتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى‌ ۚ وَلِيُبۡلِىَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡهُ بَلَاۤءً حَسَنًا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمدﷺ) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And you did not kill them, but it was Allah who killed them. And you threw not, [O Muhammad], when you threw, but it was Allah who threw that He might test the believers with a good test. Indeed, Allah is Hearing and Knowing.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:17

پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور تو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا (اور مومنوں کے ہاتھ جو اِس کام میں استعمال کیے گئے) تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے، یقیناً اللہ سُننے والا اور جاننے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمدﷺ) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

سو تم نے انہیں قتل نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کیا۔ اور آپ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے وه پھینکی اور تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے ان کی محنت کا خوب عوض دے بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ (مسلمانو ! حقیقت میں) تم نے ان (کافروں کو) قتل نہیں کیا تھا، بلکہ انہیں اللہ نے قتل کیا تھا، اور (اے پیغمبر) جب تم نے ان پر (مٹی) پھینکی تھی تو وہ تم نے نہیں، بلکہ اللہ نے پھینکی تھی اور (تمہارے ہاتھوں یہ کام اس لیے کرایا تھا) تاکہ اس کے ذریعے اللہ مومنوں کو بہترین اجر عطا کرے۔ بیشک اللہ ہر بات کو سننے والا، ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا، اور اے محبوب! وہ خاک جو تم نے پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھا انعام عطا فرمائے، بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے سپاہیانِ لشکرِ اسلام!) ان کافروں کو تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کر دیا، اور (اے حبیبِ محتشم!) جب آپ نے (ان پر سنگ ریزے) مارے تھے (وہ) آپ نے نہیں مارے تھے بلکہ (وہ تو) اللہ نے مارے تھے، اور یہ (اس لئے) کہ وہ اہلِ ایمان کو اپنی طرف سے اچھے انعامات سے نوازے، بیشک اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس تم نے انھیں قتل نہیں کیا اور لیکن اللہ نے انھیں قتل کیا اور تو نے نہیں پھینکا جب تو نے پھینکا اور لیکن اللہ نے پھینکا اور تاکہ وہ مومنوں کو انعام عطا کرے، اپنی طرف سے اچھا انعام، بیشک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(میدان بدر میں) کافروں کو تم نے قتل نہیں کیا تھا بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مارا تھا۔ اور جب آپ نے (کافروں کی طرف ریت کی) مٹھی پھینکی تھی تو وہ آپ نے نہیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھی اور یہ اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے مومنوں کو ایک اچھی آزمائش سے گزار دے۔ اللہ تعالیٰ یقینا سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس تم لوگوں نے ان کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور جب تو نے ان پر خاک پھینکی تو تم نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی کہ اللہ اپنی شانیں دکھائے اور اپنی طرف سے اہل ایمان کے جوہر نمایاں کرے۔ بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

، پس درحقیقت ان کو تم نے قتل نہیں کیا تھا، بلکہ ان کو اللہ ہی نے قتل کیا تھا اور جو آپ نے پھینکی تھی وہ درحقیقت آپ نے نہیں پھینکی تھی بلکہ وہ اصل میں اللہ ہی نے پھینکی تھی اور تاکہ وہ تم کو نواز دے ایمان والوں کو اپنی طرف سے ایک بڑے ہی عمدہ اجر سے، بیشک اللہ بڑا ہی سننے والا، (سب کچھ) جانتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

سو ان (کافروں) کو تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور آپ نے (ان پر) خاک کی مٹھی نہیں پھینکی جب کہ آپ نے وہ پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی۔ تاکہ آزمائش کرے ایمان والوں کی اپنی طرف سے اچھی آزمائش بیشک اللہ خوب سننے والا ہے خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس (اے مسلمانو !) تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور جب آپ ﷺ نے (ان پر کنکریاں) پھینکی تھیں تو وہ آپ ﷺ نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں تاکہ اللہ اس سے اہل ایمان کے جوہر نکھارے خوب اچھی طرح سے یقیناً اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا ہے۔ اور (اے نبی ﷺ !) جس وقت آپ نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ آپ نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اچھی طرح آزما لے، بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So the fact is that it was not you, but it was Allah Who killed them; and it was not you when you threw [sand at them], but it was Allah Who threw it, (and the believers were employed for the task) that He might cause the believers to successfully pass through this test. Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, it is not you who killed them, but in fact Allah killed them. And you did not throw when you threw but Allah did throw, so that He might bless the believers with a good favour. Surely, Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

So, it is not you who killed them, but in fact Allah killed them. And you did not throw when you threw but Allah did throw, so that He might bless the believers with a good favour. Surely, Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

You killed them not, but Allah killed them. And you threw not when you did throw, but Allah threw, that He might test the believers by a fair trial from Him. Verily, Allah is All-Hearer, All-Knower.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Ye (Muslims) slew them not, but Allah slew them. And thou (Muhammad) threwest not when thou didst throw, but Allah threw, that He might test the believers by a fair test from Him. Lo! Allah is Hearer, Knower.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And you did not kill them, but it was Allah who killed them. And you threw not, [O Muhammad], when you threw, but it was Allah who threw that He might test the believers with a good test. Indeed, Allah is Hearing and Knowing.

— Saheeh International

It was not you (believers) but God who slew the pagans. It was not you (Muhammad) but God who threw dust at them. He did this as a favorable test for the believers. God is All-hearing and All-knowing.

— Muhammad Sarwar

So you did not slay them, but it was Allah Who slew them, and you did not smite when you smote (the enemy), but it was Allah Who smote, and that He might confer upon the believers a good gift from Himself; surely Allah is Hearing, Knowing.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore ye slew them not, but Allah slew them, and thou thrtwest not, When thou threWest, but Allah threw, in order that he might prove the believers with a goodly proving from Him. Verily Allah is Hearing, Knowing.

— Abdul Majid Daryabadi

It is not ye who slew them; it was Allah: when thou threwest (a handful of dust), it was not thy act, but Allah's: in order that He might test the Believers by a gracious trial from Himself: for Allah is He Who heareth and knoweth (all things).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–18

اللہ کی مدد ہی وجہ کامرانی ہے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ بندوں کے کل کاموں کا خالق وہی ہے ان سے جو بھی اچھائیاں سرزد ہوں اس پر قابل تعریف وہی ہے اس لئے کہ توفیق اسی کی طرف سے ہے اور اعانت و مدد بھی اسی کی جانب سے ہے اسی لئے فرماتا ہے کہ اے مسلمانوں تم نے آپ اپنی طاقت و قوت سے اپنے دشمنوں کو قتل نہیں کیا تم تو مٹی بھر تھے اور دشمن بہت زیادہ تھے تم بےکس اور کمزور تھے دشمن کس بل والے قوت طاقت والے تھے۔ یہ اللہ ہی کی مدد تھی کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کردیا، جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ01203) 3۔ آل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–18

سورة الْاَنْفَال 14 معرکہ بدر میں جب مسلمانوں اور کفار کے لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے اور عام زد و خورد کا موقع آگیا تو حضور ﷺ نے مٹھی بھر ریت ہاتھ میں لے کر شاھت الوُجُوہ کہتے ہوئے کفار کی طرف پھینکی اور اس کے ساتھ ہی آپ کے اشارے سے مسلمان یکبارگی کفار پر حملہ آور ہوئے۔ اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

بالکل مایوسی اور ناامیدی کے عالم میں یہ فتح عظیم مسلمانوں کو حاصل ہوئی میدان جنگ سے واپس آکر آپس میں گفتگوئیں شروع ہوئیں صحابہ کرام اپنے اپنے کارنامے ایک دوسرے سے بیان کرنے لگے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ ، جس میں ان کو یہ ہدایت دی گئی کہ اپنی سعی و عمل پر ناز نہ کرو یہ جو کچھ ہوا وہ صرف تمہاری محنت و کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ خالص حق تعالیٰ کی نصرت و امداد کا ثمرہ تھا۔ جو دشمن تمہارے ہاتھوں قتل ہوئے ان کو درحقیقت تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے قتل کیا ہے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد ہوا۔ (آیت) وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ ۠ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ۚ وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِيْنَ مِنْهُ بَلَاۗءً حَسَـنًا ۭاِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ میں خطاب عام مسلمانوں سے ہے اور وَمَا رَمَيْتَ میں آنحضرت ﷺ سے اس وجہ سے دونوں میں جمع اور واحد کا فرق ہے۔ رمی، تیر مارنے، کنکر پتھر پھینکنے، خاک اور راکھ جھونکنے، سبھی کے لیے آتا ہے۔ روایات میں ہے کہ جب کفار کی فوجیں سامنے ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے مٹھی بھر خاک زمین سے اٹھائی اور شاھت الوجوہ کہہ کر کفار کی طرف پھینکی، شاہت الوجوہ عربی میں لعنت کا فقرہ ہے اور کسی کے اوپر خاک جھونکنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17۔ 1 یعنی جنگ بدر کی ساری صورت حال تمہارے سامنے رکھ دی گئی ہے اور جس جس طرح اللہ نے تمہاری وہاں مدد فرمائی، اس کی وضاحت کے بعد تم یہ نہ سمجھ لینا کہ کافروں کا قتل، یہ تمہارا کارنامہ ہے۔ نہیں، بلکہ یہ اللہ کی اس مدد کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے تمہیں یہ فتح حاصل ہوئی اس لئے دراصل انہیں قتل کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ 17۔ 2 جنگ بدر میں نبی ﷺ نے کنکریوں کی ایک مٹھی بھر کر کافروں کی طرف پھینکی تھی، جسے ایک تو اللہ تعالیٰ نے کافروں کے مونہوں اور آنکھوں تک پہنچادیا اور دوسرے، اس میں یہ تاثیر پیدا فرمادی کہ اس سے ان کی آنکھیں چندھیا گئیں اور انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا، یہ معجزہ بھی، جو اس وقت اللہ کی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

9: جنگ بدر کے موقع پر جب دشمن پوری طاقت سے حملہ کرنے کے لئے چڑھا چلا آرہا تھا، اس وقت آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک مٹھی میں مٹی اور کنکر اٹھا کر دشمن کی طرف پھینکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے وہ کنکریاں دشمن کے ہر فرد تک پہنچادیں، جو ان کی آنکھوں وغیرہ میں جاکر لگیں اور ان سے لشکر میں افراتفری مچ گئی، یہ اس واقعے کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

روایات میں آتا ہے کہ اس مارنے سے وہ مارنا مراد ہے کہ حضور نے کنکریاں اور ریت ہاتھ میں لیں اور انہیں کفار کے لشکر کی طرف پھینکا اور حضور نے اس وقت یہ الفاظ کہے شاھت الوجوہ۔ شاھت الوجوہ۔ ان کے چہرے بد شکل ہوجائیں ، قبیح ہوجائیں۔ اور یہ آیت اور کنکریاں ان چہروں پر جا کر لگیں جن کا اس جنگ میں قتل ہونا مقدر تھا۔ لیکن اس آیت کا مفہوم عام ہے۔ مقصد یہ ہے کہ بظاہر نبی ﷺ اور لشکر اسلام جو کچھ کر رہا تھا ، اس کے پیچے دست قدرت کام کر رہا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد آیت میں یہ فقرہ ہے : وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِيْنَ مِنْهُ بَلَاۗءً حَسَـنًا۔ تاکہ مومنین کو اس آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 جب جنگ کی شدت ہوئی تو حضور ﷺ نے ایک مٹھی کنکریاں لشکر کفار کی طرف پھینکیں اور تین مرتبہ شاہت الوجوہ فرمایا۔ خدا کی قدرت سے کنکریوں کے ریزے ہر کافر کی آنکھ میں پہنچے، وہ سب آنکھیں ملنے لگے ادھر سے مسلمانوں نے فوراً دھاوا بول دیا۔ آخر بہت سے کفار کھیت رہے، اسی کو فرماتے ہیں کہ گو بظاہر کنکریاں تم نے اپنے ہاتھ سے۔ پھینکی تھیں لیکن کسی بشر کا یہ فعل عادۃً ایسا نہیں ہوسکتا کہ مٹھی بھر کنکریاں ہر سپاہی کی آنکھ میں پڑ کر ایک مسلح لشکر کی ہزیمت کا سبب بن جائیں، یہ صرف خدائی ہاتھ تھا جس نے مٹھی بھر سنگریزوں سے فوجوں کے منہ پھیر دئیے، تم بےسروسامان قلیل التعداد مسلمانوں میں اتنی قدرت کہاں تھی کہ محض…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 فَلَمْ تَقْتُلُوْہُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَہُمْ ویسے تو ہر کام میں فاعل حقیقی اللہ ہی ہے ‘ ہم جو کام بھی کرتے ہیں وہ اللہ ہی کی مشیت سے ممکن ہوتا ہے ‘ اور جس شے کے اندر جو بھی تاثیر ہے وہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ عام حالات کے لیے بھی اگرچہ یہی قاعدہ ہے : لَا فَاعِلَ فِی الْحَقِیْقَۃِ وَلَا مُؤَثِّرَ الاَّ اللّٰہ لیکن یہ تو مخصوص حالات تھے جن میں اللہ کی خصوصی مدد آئی تھی۔ وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ج میدان جنگ میں جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے کچھ کنکریاں اپنی مٹھی میں لیں اور شاھَتِ الْوجُوْہ چہرے بگڑ جائیں فرماتے ہوئے کفار کی طرف…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 ریت کی مٹھی کا کرشمہ :۔ میدان بدر میں اللہ کی مدد کی چوتھی صورت یہ تھی کہ جب جنگ پورے زوروں پر تھی اس وقت آپ نے ریت اور کنکریوں کی ایک مٹھی لی اور اسے کافروں کے لشکر کی طرف پھینک دیا اور فرمایا شاھت الوجوہ اس ریت کے ذرات کافروں کی آنکھوں میں جا لگے جس سے وہ آنکھیں ملتے رہ گئے اور انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو موقع دیا۔ کہ وہ کافروں کو بےدریغ قتل کرسکیں۔ بعض عقل پرست حضرات کہتے ہیں کہ مٹھی پھینکنے کے وقت ہوا کا رخ چونکہ کافروں کی طرف تھا، اس لیے کافروں کو یہ حادثہ پیش آیا تھا۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ مٹھی بھر ریت کے ذرات آخر سب کافروں تک کیسے پہنچ گئے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

26 ۔ (تاثیر حقیقی کے مرتبہ میں۔ کہ مؤثر حقیقی صرف اس کی قدرت ہے) سپہ داراعظم رسول اللہ ﷺ نے حالت جہاد میں ایک مٹھی بھر کنکریاں یا مٹھی اٹھا کر مشرکوں کے لشکر کی طرف پھینکیں، ریزے ان کی آنکھوں میں جاکر گھس گئے اور انہیں شکست ہوئی، حدیث میں روایت غزوۂ بدر وغزوۂ حنین دونوں کے سلسلہ میں آئی ہے۔ سیاق قرآن صاف غزوۂ بدر کے سلسلہ میں ہے۔ (آیت) ” فلم تقتلوھم “۔سے غرض یہ ہے کہ جب تم تائید غیبی کے ایسے ایسے عجائب وخوارق وخود مشاہدہ کرچکے ہو تو اب یہ بھی سمجھ لو۔ آیت اس مضمون کو صاف کررہی ہے کہ فاعل حقیقی ومؤثر اصلی صرف حق تعالیٰ ہے گوعالم اسباب میں وہ کام آلات ووسائط ہی سے لیتا رہتا ہے۔ فنزلت الایۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–18

میدان سے راہ فرار : وَمَنْ یولِّھِمْ یومَئذٍ دُبَرَہ ' اِلاِّ متحر فا لقتالِ (الآیة) دشمن کے شدید دباؤ پر پسپائی ناجائز نہیں ہے جبکہ اس کا مقصد اپنے عَقْبِیْ مرکز کی طرف پلٹنا یا اپنی ہی فوج کے کسی دوسرے حصے سے جاملنا ہو، البتہ جو چیز حرام ہے وہ فرار ہے جو کسی جنگی مقصد سے نہیں بلکہ جان بچانے کی غرض سے ہو، اس فرار کو بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے چناچہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا '' تین گناہ ایسے ہیں جن کے ساتھ کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی '' ایک شرک دوسرے والدین کے حقوق کی حق تلفی تیسرے میدان جہاد فی سبیل اللہ سے فرار، اسی طرح ایک اور حدیث میں سات بڑے گناہ شمار کرائے ہیں ان میں ایک قتال فی سبیل اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلم تقتلوھم ولکن اللہ قتلھم پھر تم نے ان کو (اپنی قوت کی بدولت) قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا۔ یعنی اللہ نے تمہاری مدد کی ‘ تم کو ان پر دسترس عنایت کی ‘ ان کے دلوں میں تمہارا رعب ڈالا اور فرشتوں سے تمہاری امداد کرائی۔ اصل کلام اس طرح تھا : اگر دشمن پر فتحیاب ہونے پر تم فخر کرتے ہو تو غلطی کرتے ہو ‘ تم نے اپنے بل بوتے پر دشمنوں کو قتل نہیں کیا ‘ تمہاری محنت کشی فتح کی علت نہیں بلکہ اللہ نے غیر معمولی مدد دے کر دشمنوں کو قتل کیا۔ وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی اور جب تم نے (اے نبی ! دشمنوں پر مٹھی بھر خاک) پھینک ماری تو تم نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی۔ یعنی گو بظاہر تم نے پھینکی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(17) اور بدر کے روز جبریل امین ؑ اور دوسرے فرشتوں نے کافروں کو قتل کیا اور مشرکین تک آپ نے مٹی نہیں پھینکی لیکن واقعی وہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی۔ تاکہ اس مٹی پھینکنے کی وجہ سے مدد اور غنیمت کے ذریعے مسلمانوں کو بہترین بدلہ دے، اللہ تعالیٰ تمہاری دعاؤں کو سننے والا اور تمہاری مدد سے باخبر ہے۔ شان نزول : (آیت) ”وما رمیت اذ رمیت“۔ (الخ) امام حاکم ؒ نے سعید بن المسیب ؓ کے ذریعے مسیب سے روایت کیا ہے کہ ابی بن خلف احد کے روز رسول اکرم ﷺ کی طرف آیا، اس کا راستہ چھوڑ دیا اس کے سامنے سے حضرت مصعب بن عمیر ؓ آئے۔ اور رسول اکرم ﷺ نے ابی بن خلف کی ہنسلی اس کے خود اور زرہ کے درمیان سے دیکھی، آپ نے اس میں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ : صاحب کشاف نے فرمایا، یہاں حرف ”فاء“ یعنی ”پس“ ایک شرط کا جواب ہے کہ اگر تم فخر کرو کہ ہم نے یہ کیا وہ کیا تو درست نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انھیں قتل کیا، کیونکہ نہ تمہاری تعداد زیادہ تھی اور نہ تمہارے پاس اتنا سروسامان تھا کہ تم کافروں کے ہر طرح سے مسلح اور عظیم لشکر کو شکست دے سکتے۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”یہ اس لیے فرمایا کہ مسلمان یہ سمجھیں کہ فتح ہماری قوت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہے، لہٰذا ان کو چاہیے کہ کسی بات میں اپنا دخل نہ دیا کریں۔ (موضح) وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ : یعنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–18

آیت نمبر : 17۔ 18 قولہ تعالیٰ : آیت : فلم تقتلوھم ولکن اللہ قتلھم یعنی بدر کے دن تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل کیا ہے۔ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب جب غزوہ بدر سے واپس لوٹے تو ان میں سے ہر ایک نے اپنا کارنامہ ذکر کیا : میں نے اس طرح قتل کیا، میں نے اس طرح کیا۔ تو اس وجہ سے ان میں تفاخر اور اس جیسی دیگر چیزیں آنے لگیں۔ تو اس حقیقت پر آگہ کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 511) کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہی مارنے والا ہے اور وہی تمام چیزوں کی قدرت عطا کرنے والا ہے اور یہ کہ بندہ تو صرف اپنے کسب اور اپنے قصد کے ساتھ اس میں شریک ہوتا ہے۔ اور یہ آیت ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–18

1۔ ابن ابی شیبہ، عبدبن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلم تقتلوہم “ محمد ﷺ کے اصحاب کے لئے فرمایا جب انہوں نے کہا کہ اس کو میں نے قتل کیا اور اس کو میں نے قتل کیا (فرمایا) (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی “ محمد ﷺ نے کافروں کو کنکریاں پھینکیں تھیں۔ 2:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت “ یعنی بدر کے دن ان پر کنکریاں پھینکیں۔ 3:۔ عبدالرزاق عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے عکرمۃ (رح) سے روایت کیا کہ وہ ریت کے ذرات ہر آدمی کی آنکھ پر پڑے گا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ : تو تم لوگوں نے قتل نہیں کیا ان کو ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [ اللّٰهَ : اللہ نے ] [ قَتَلَهُمْ : قتل کیا ان کو ] [ ۠ وَمَا رَمَيْتَ : اور آپ نے نہیں پھینکا ] [ اِذْ : جب ] [ رَمَيْتَ : آپ نے پھینکا ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [ اللّٰهَ : اللہ نے ] [ رَمٰى ۚ : پھینکا ] [ وَلِيُبْلِيَ : اور تاکہ وہ آزمائے ] [ الْمُؤْمِنِيْنَ : مومنوں کو ] [ مِنْهُ : اس سے ] [ بَلَاۗءً حَسَـنًا ۭ : جیسا کہ خوبصورت آزمانے کا حق ہے ] [ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ سَمِيْعٌ: سننے والا ہے ] [ عَلِيْمٌ: جاننے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–18

اللہ تعالیٰ ہی کی مدد سے مشرکین مقتول ہوئے غزوہ بدر میں بظاہر مسلمانوں نے جنگ کی ان کے ساتھ فرشتوں نے بھی شرکت کی۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ ہی موثر حقیقی ہے اور سب کچھ اسی کی مشیت اور ارادہ سے ہوتا ہے اسی لیے یہ فرمایا کہ (فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ ) کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا (وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ ) لیکن اللہ نے انہیں قتل کیا۔ غزوۂ بدر کے موقعہ پر ایک یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ حضرت جبرائیل نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ مٹی کی ایک مٹھی بھر کر دشمنوں کی طرف پھینک دیجیے، آپ نے ایسا ہی کیا اور وہ مٹی مشرکین میں سے ہر شخص کی آنکھوں میں اور ناک کے نتھنوں اور منہ میں پہنچ گئی جس کی وجہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–18

بیان علت بودن قدرت حق و سبب وواسطہ بودن قدرت خلق قال اللہ تعالیٰ فلم تقتلوھم ولکن اللہ قتلھم۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ موھن کید الکفرین (ربط): گزشتہ آیات میں بھی حق تعالیٰ کی ایک غیبی امداد کا ذکر تھا اب ان آیات میں بھی اس کی ایک غیبی امداد کا ذکر ہے جس سے یہ بتلانا ہے کہ جنگ بدر میں جو فتح ہوئی وہ در اصل قدرت خداوندی کا کرشمہ ہے جو خدا تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں سے ظاہر فرمایا ہے اصل علت قدرت حق ہے اور قدرت خلق محض سبب اور واسطہ کے درجہ میں ہے بعض لوگوں کی زبان سے یہ نکلا تھا کہ میں نے اس لڑائی میں فلاں کو مارا اور میں نے فلاں کو مارا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں یہ بتلایا گیا کہ یہ سب اللہ کا فضل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

17: یہ ثمرہ ہے جو گذشتہ پانچ علتوں پر متفرع ہے۔ یعنی دعویٰ کی مذکورہ پانچ علتوں سے معلوم ہوا کہ جنگ بدر میں مشرکین کے قتل اور ان کی ذلت آمیز شکست کا سامان اللہ تعالیٰ ہی نے غیب سے فرما دیا تھا۔ اس لیے کہ تم لوگ یہ نہ سمجھ بیٹھو کہ یہ تمہارا کما ہے اور تم نے ان کو مارا ہے نہیں ! نہیں ! ! بلکہ اللہ نے ان کو مارا اور برباد کیا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ مشرکین کا قتل اگرچہ بظاہر مسلمانوں کے ہاتھوں واقع ہوا لیکن اس کے اسباب اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمائے اس نے مسلمانوں کو ان پر مسلط کی اور ان کے دلوں کو مسلمانوں کی ہیبت و شجاعت سے مرعوب کردیا۔ امام مجاہد فرماتے ہیں بدر کے دن فتح کے بعد مجاہدین میں سے کسی نے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–19

ربط آیات : گزشتہ آیات میں میدانِ بدر میں مسلمانوں کی بےسروسامانی کی حالت میں کامیابی کا ذکر تھا۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس قسم کے اسباب پیدا کیے اور اپنی طرف سے جو خاص مہربانی فرمائی ، اس کا بیان ہوا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرنے سے متعلق بعض قوانینِ صلح وجنگ بیان فرمائے ہیں دنیا میں فتنہ و فساد کی بیخ کنی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے بعض اوقات جہاد بالسیف ضروری ہوجاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جنگ میں پیش آنے والے بعض مسائل کے متعلق احکام نازل فرمائے ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات جنگ کو ترک کر کے مصالحت کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمْ تَقْتُلُوْہُمْ وَلٰكِنَّ اللہَ قَتَلَہُمْ۝ 0 ۠ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللہَ رَمٰى۝ 0 ۚ وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِيْنَ مِنْہُ بَلَاۗءً حَسَـنًا۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝ 17 قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–18

ترکیب : اذا لقیتم شرط فلا تولوا جواب جملہ ندا ہے۔ زحفا مصدر موضع حال میں قبل ہو مصدر علی حال المحذوفۃ ای پزحفون زحفا الادبار جمع دبر مفعول ثانی ہے تولوا کا۔ ومن یولہم شرط یومئذ ظرف دبرہ مفعول ثانی فقد باء جواب الا متحرفا استثناء فی ہذہ الاحوال ای لایجوز التولی فی ایّ حال الافی التحرف ای التعطف لقتال بان تریھم الفرۃ کیدا ویزید الوقوع علیھم کرۃ او متحیزاً ای منضما الی فئۃٍ ای جماعت المسلمین ذلکم ای الامر ذلکم۔ تفسیر : چونکہ اس جنگ بدر میں کامیابی بظاہر اسباب استقلال اور ثابت قدمی سے واقع ہوئی اس لئے ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کو ہر ایک جنگ میں صبر و استقلال کا حکم دیتا ہے۔ بقولہ یا ایہا الذین امنوا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–18

فَلَمَ تَقْتُلُوْھُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ ص وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰیج وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْہُ بَلَآئً حَسَنًاطاِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ ذٰلِکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ مُوْھِنُ کَیْدِ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (الانفال : 17، 18) (پس تم لوگوں نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا ہے اور آپ نے نہیں پھینکی (مٹھی خاک کی) جس وقت آپ نے پھینکی لیکن اللہ نے پھینکی تاکہ کرے ایمان والوں پر اپنی طرف سے خوب احسان ` بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ یہ جو کچھ ہوا سامنے ہے اور جان رکھو کہ اللہ سست کردے گا تدبیر کافروں کی۔ ) آنحضرت ﷺ کی آستین سے دست غیب کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–18

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ غزوۂ بدر کی کامیابی کا اصل سبب۔ بدر کے لیے نبی اکرم ﷺ کا اپنے گھر سے نکلنا، بدر کی رات بارش کا ہونا، رات کو مسلمانوں کا پرسکون ہو کر سونا، پے درپے ملائکہ کی کمک کا پہنچنا، کفار پر مسلمانوں کا رعب طاری ہونا، نبی اکرم ﷺ کا مٹھی بھر کنکریوں کو کفار کے لشکر کی طرف پھینکنا، اللہ تعالیٰ کا کفار کی آنکھوں میں کنکریوں کا پہنچانا۔ سب کے سب اقدام صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد کا نتیجہ تھے۔ اس لیے بدر کی کامیابی کے بارے میں ارشاد فرمایا اے مسلمانو ! اس کا میابی پر اترانے کے بجائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کو یاد رکھو کیونکہ تم تو ہر اعتبار سے کفار کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ایک مشت خاک کا اعجاز : آیت 17: جب اہل مکہ کی قوت ٹوٹ گئی اور قتل و قید ہوگئے۔ تو قاتل تفاخر کے طور پر قتلت اور أسرتُ کہنے لگے تو ان کو کہا گیا۔ فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ (پس تم نے ان کو قتل نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کیا) فَا محذوف شرط کے جواب میں ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ ان افتخرتم بقتلھم فانتم لم تقتلوھم اگر تم ان کے قتل پر فخر کرتے ہو تو تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔ جب جبرئیل ( علیہ السلام) نے نبی اکرم ﷺ سے کہا ایک مٹھی مٹی لے کر ان کی طرف پھینکو۔ آپ نے پھینکا اور بددعا فرمائی شاہت الوجوہ کوئی مشرک ایسا نہ رہا مگر وہ اپنی آنکھیں ملنے میں مشغول ہوگیا پس کفار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 17 (فلم تقتلوھم ولکن اللہ قتلھم ) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ جنگ بدر کے بعد کوئی شخص کہتا میں نے فلاں کو مارا ہے، دو سرا کہتا میں نے فلاں کو مارا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری مدد کر کے قتل کیا ہے اور بعض نے کہا کہ اللہ نے ان کو فرشتوں کی مدد بھیج کر قتل کیا ہے (وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی) اہل تفسیر رحمہما اور اہل مغازی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو لڑائی کی طرف متوجہ کیا تو وہ چلے اور بدر میں پڑائو ڈالا تو ان پر قریش کے چرواہے گزرے، ان میں اسلم بنو حجاج کا سیاہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

17۔ جنگ بدر اور جنگ حنین میں آنحضرت نے ایک مٹھی خاک کی لے کر دشمنوں کے لشکر کی طرف پھینک دی اور فرمایا کہ شاھت وجوہ جس کا مطلب یہ ہے کہ دشمنوں کے منہ پھرگئے اور چہرے بگڑ گئے اللہ کے حکم سے کوئی کافروں کے لشکر بھر میں ایسا باقی نہ رہا جس کے منہ اور آنکھوں میں خاک نہ بھر گئی ہو بدر کی لڑائی کے وقت یہ خاک کی مٹھی پھینکنے کا قصہ طبرانی تفسیر ابن جریر تفسیر ابوالشیخ ابن حبان او تفسیر ابن ابی حاتم میں حکیم بن حزام ؓ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور جابر ؓ کی روایتوں سے آیات اور حنین کی لڑائی کے وقت کا یہ قصہ صحیح مسلم میں سلمۃ بن الاکوع ؓ اور مسند امام احمد اور مستدرک حاکم میں عبداللہ بن مسعود ؓ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–19

آیت 17 جب غزوہ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا، تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (فلم تقتلوھم) ” تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔ “ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا (ولکن اللہ قتلھم) ” لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا “ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ (وما رمیت اذا رمیت ولکن اللہ رمی) ” اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی، لیکن اللہ نے پھینکی۔ “ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہ ﷺ ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لئے دعائیں کرنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–24

ومارمیت اذرمیت کا مفہوم پھر فرمایا ومارمیت اذرمیت ولکن اللہ رمی اور تم نے نہیں پھینکا جب پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا) یہ بات اس طرح ہوئی کہ حضور ﷺ نے ایک مٹھی مٹی لے کر کافروں کے چہروں کی طرف پھینک دی اور کافروں کے قدم اکھڑ گئے۔ ایک بھی کافر ایسا نہیں بچا جس کی آنکھ میں اس مٹی کا کچھ حصہ نہ پڑا ہو، اس میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مٹی ان کافروں کے چہروں اور ان کی آنکھوں تک پہنچا دی تھی۔ اس لئے کہ کسی مخلوق کی یہ طاقت نہیں تھی کہ حضور ﷺ جس جگہ کھڑے تھے وہاں سے یہ مٹی ان کافروں کی آنکھوں تک پہنچا سکے۔ یہ تمام باتیں آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت کی نشانیاں تھیں۔ نیز ان واقعات کا ہو بہو اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

23 عنایت خداوندی کے ایک نتیجے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس درحقیقت ان دشمنان حق کو تم لوگوں نے نہیں قتل کیا تھا (اے ایمان والو) بلکہ ان کو اصل میں اللہ ہی نے قتل کیا تھا۔ یعنی دشمنوں کی شکست اور ان کے قتل و خونریزی کا یہ کام تمہارے بس کی چیز نہیں تھا بلکہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے تھا۔ سو ان دشمنوں کو تم نے نہیں اللہ ہی نے قتل کیا تھا۔ اور اس کا یہ قتل تمہارے ذریعے ظاہر ہوا جو درحقیقت تمہارے لئے اس وحدہ لاشریک قادرمطلق کی طرف سے ایک بڑا اعزاز ہے، جس پر تمہیں دل و جان سے اس کا شکر گزار ہونا چاہیئے، نہ کہ مال غنیمت وغیرہ کا دعویدار بننا۔ سو فتح و شکست کا اصل دارومدار اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–17

اللہ کی حکمتیں، کفار کی سزا اور مسلمانوں کی مدد تشریح : غزوئہ بدر مسلمانوں اور کفار کے درمیان میدان جنگ میں لڑنے کا پہلا معرکہ تھا۔ گو کہ مسلمان کم اور کفار زیادہ تھے۔ اسی لیے صحابہ کرام کا خیال تھا کہ اگر ابوسفیان کے قافلے سے مقابلہ ہوجائے تو زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک تو وہ جنگی تیاری سے نہیں نکلے اور دوسرے مال و دولت خوب ہاتھ لگے گا۔ مگر اللہ کا فیصلہ اس کے برعکس تھا۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ زورآور اور حکمت والا ہے وہ اسلام کی طاقت اور کفر کی بےبسی کا فیصلہ دشمنوں کو صاف طور پر دکھانا چاہتا تھا کہ دیکھو مسلمانوں کی روحانی طاقت اور توکل علی اللہ کس قدر مضبوط ہے کہ ایک چھوٹی سی اور بےسروسامان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–19

آیات 11 تا 19 اسرار و معارف مزید انعامات یہ کہ مقام بدر میں مشرکین نے ایسی جگہ قبضہ کرلیا جو اونچائی پر تھی اور نسبتا مضبوط زمین تھی اور مسلمانوں کو ایسی جگہ ٹھہرناپڑاجونشیبی تھی حضرت حباب بن منذر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول ﷺ اللہ اگر یہ جگہ پر قبضہ کرلیا جائے چناچہ آپ ﷺ کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور پھر حضرت سعدبن معا ؓ ذ کے مشورہ سے ایک طرف ذرابلند ی پر آپ ﷺ کے لیے ایک چھونپڑی سی بنادی گئی جس میں صرف صدیق اکبر ؓ کو شرف حضوری حاصل تھا اور حضرت معاذ ؓ دروازہ پر بہرہ دے رہے تھے۔ یہ بدر کی پہلی شب تھی دونوں لشکروں کا دن اس طرح بسرہوارات کفاراونچی اور مضبوط زمین پر تھے اور مسلمان نشیبی زمین پر جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 ورنہ خود مسلمانوں کی نہ تعداد زیادہ تھی، اور نہ ان کے پاس اتنا سامان تھا کہ ہو کافروں کے ہر طرح کی مسلح اور عظیم لشکر کو شکست دے سکتے شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ اس لیے فرمایا کہ مسلمان یہ سمجھیں کہ فتح ہماری قوت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہے الہذا ان کا چاہیے کہ کسی بات میں پنا دخل نہ کر کریں ( از موضح)5 یہ اشارہ ہے اس وقعہ کو طرف بدر کے روز جب معرکہ قتال گرم تھا تو نبی ﷺ نے مٹھی بھر سکنگ ریزے ہاتھ میں کر شاھت الوجو جہ کہتے ہوئے کفار کی طرف پھنکنے جو ان میں ہر ایک لگے اور اس کی ا آنکھوں اور نتھوں میں داخل ہوگئے، اکثر مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں ر میٰ سے مراد یہی نبی ﷺ کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:17) رمیت۔ تو نے پھینکا۔ رمی یرمی (ضرب) سے ماضی واحد مذکر حاضر۔ ناقص یائی۔ لیبلی۔ لام تعلیل۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ابلی یبلی (باب افعال) ابلاء مصدر ۔ بلو وبلی مادہ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا پرانا اور بوسیدہ ہونے کے ہیں۔ اسی سے بلاہ السفر۔ ای ابلاہ کا محاورہ ہے۔ یعنی سفر نے اسے لاغر کردیا۔ اور بلوتہ کے معنی ہیں میں نے اسے آزمایا۔ گویا کثرت آزمائش سے میں نے اسے کہنہ کردیا۔ اور اسی آزمائش کے معنی میں اس کا اکثر استعمال ہوتا ہے۔ ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع (2:155) اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک سے تمہاری آزمائش کریں گے۔ یا ان ھذا لھو البلؤ المبین (37:106) بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔ تکلیف کو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–18

آیات : 15 تا 18 لغات القرآن۔ لقیتم۔ تم نے ملاقات کی۔ تم ملے۔ زحف۔ لڑائی۔ لاتولوا۔ تم نہ پھیرو۔ یومئذ۔ اس دن۔ متحرف۔ پینترا بدلنے والے (جنگی چال) ۔ متحیز۔ ملنے والے۔ رمیت۔ تو نے پھینکا۔ رمی۔ اس نے پھینکا۔ بلاء حسن۔ اچھی طرح آزمانا۔ موھن۔ سست اور ضعیف کرنے والا تشریح : دراصل جنگ ہو یا امن۔ زندگی کا میدان ہو یا پریشانی کے حالات جو لوگ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں وہی دنیا اور آخرت کی کامیابی کے حقدر ہوتے ہیں لیکن وہ لوگ جو میدان چھوڑ کر اور پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہیں کبھی کسی طرح کی کامیابی حاصل نہیں کیا کرتے۔ ان آیت میں اس بات کو فرمایا جا رہا ہے کہ اے مومنو ! جب بھی کسی جنگ میں تمہارا مقابلہ کفار…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

شان نزول : اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی فتح کے بعد کچھ مسلمان آپس میں فخر کی باتیں کیا کرتے تھے۔ ایک اپنی بہادری کو فتح کا سبب قرار دیتا اور دوسرا اپنی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ آیت شریف نازل فرمائی اور فرمایا مسلمانوں کا دشمنوں پر غالب ہونا اللہ کے رسول ﷺ کی ایک مٹھی خاک سے او دشمنوں کا پست ہوجانا یہ سب کچھ اللہ کی مدد سے ہوا۔ اس لئے بجائے ان فخر کی باتوں کے مسلمانوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کے احسان کی شکرگزاری کا تذکرہ آپس میں کیا کریں تاکہ اس شکرگزاری کے بدلے میں اس کے احسانات کی اور زیادتی ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی شکرگزاری کی نیت کو خوب جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–18

[4] یہ آیت اس مضمون کو صاف کر رہی ہے کہ فاعل حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کفار کے قتل کو اپنے زور وقوت کی طرف نسبت نہ کرو کہ یہ درحقیقت اللہ کی مدد سے ہے۔ [5] جنگ بدر میں جب مسلمانوں اور کفار کے لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو رسول اکرم ﷺ نے مٹھی بھر خاک کفار کی طرف پھینکی۔ اللہ کی قدرت سے ہر کافر کی آنکھ میں یہ خاک پہنچی۔ اس کے بعد مسلمان حملہ آور ہوئے اور کفار کو شکست ہوئی یہاں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–18

وما رمیت : (ف 2) مقصد یہ ہے کہ تم لوگوں نے میدان جہاد میں محض اپنے فرض کو ادا کیا ہے ، ورنہ کامیابی اور نصرت تو تمہاری کوششوں کی رہین منت نہیں ، تم نے بلاشبہ ان سے جنگ کی اور بہادری کا اظہار کیا ، اور اگر اللہ کفر کو ہزیمت نہ دینا چاہتا ، تو تم فتح پر قادر نہ ہو سکتے ۔ اسی طرح حضور ﷺ کے متعلق فرمایا ، آپ نے جو مٹی کی مٹھی شاھت الوجوہ کہہ کر پھینکی اور مخالفین کی آنکھیں چندھیا گئیں ، یہ بھی محض اللہ کا فضل تھا ، غرض یہ ہے کہ بڑی سے بڑی کامیابی بھی اللہ کے فضل سے بےنیاز نہیں ۔ حل لغات : متحرفا : حرف کے معنی پہلو یا کنارے کے ہیں ، تحرف سے مراد ایک طرف ہوجانا ہے ۔ بیواؤ کے لئے متحیزا : ” حبز کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

17 پس اے مسلمانو ! تم نے ان کافروں کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کیا اور اے پیغمبر ! جب آپ نے دشمنوں کی جانب خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی تھی اور یہ خلاف توقع اور خلاف عادت کام اس لئے ہوئے تاکہ دشمنانِ اسلام کو شکست ہو۔ اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنی طرف سے بہترین اور اچھا اجر دے۔ بیشک اللہ تعالیٰ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔ یعنی اس قدر بےسروسامان اور قلیل جماعت نے جو اتنی بڑی مسلح جماعت کو شکست دی تو یہ سب اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہوا اور اسی نے کیا۔ اسی طرح ہجوم اعداء کے وقت نبی کریم ﷺ نے ایک خاک کی مٹھی بھر کر اعدا کی جانب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–17

ف 1۔ جہاد سے بھاگنا حرام ہے ہاں اگر کافر دونے سے زیادہ ہوں تو جائز ہے اور جب دونے سے زیادہ نہ ہوں تب بھی دو صورتیں جواز کی ہیں جن کو آیت میں مستثنی فرمایا ہے ایک یہ کہ دھوکادینے کو سامنے سے بھاگا ہو تاکہ حریف غافل ہوجائے پھر دفعتا لوٹ کر اس پر حملہ کرنے دوسرے یہ کہ مقصود اصلی بھاگنا نہ ہو بلکہ بوجہ بےسروسامانی وغیرہ عوارض کے اپنی جماعت میں اس غرض سے آملا کہ ان سے قوت اور معونت حاصل کرکے پھر جاکر مقابل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میدان بدر میں کفات کا قتال جو مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا وہ دراصل اللہ کا قتال تھا : 24: میدان بدر کی طرف نکلنے کے حالات تم نے پڑھے۔ آپ کو اچھی طرح معلوم ہوگیا کہ وہ ہالات کرنے نازل تھے اور قرآن کریم نے یہ وضاحت فرمائی کہ بعض مسلمان اس بات کو بہت ہر بھاری سمجھ رہے تھے اور باوجود مسلمان ہونے کے اس وقت ان کی حالت ایسی تھی گویا وہ موت کی طرف چلائے جا رہے ہیں اور بعض وہ بھی تھے جو صرف اس جماعت کی طرف جانا چاہتے تھے جو تجارتی قافلہ کی جماعت تھی پھر نبی اعظم و آخر ﷺ اللہ کے حکم سے ان کو میدان بدر میں کفار کے مقابلہ کے لیئے لے آئے اور وہاں پہنچ کر ان کو خوشخبری پر خوشخبری سنائی اور یہ سارے واقعات اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

This great victory was achieved by Muslims in the background which was initially full of dismay and hopelessness. So, when they returned from the battlefield, they started talking about it. The Companions ؓ got busy relating their deeds on the battlefield. Revealed thereupon was this verse: فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ قَتَلَهُمْ (So, you did not kill them, but Allah killed them -17) through which they were instructed not to wax proud over their effort and deed, for that which happened there was not simply the outcome of their personal effort and deed. In fact, it was purely and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

14. This refers to the occasion wnen the armies of the Muslims and the unbelievers stood face to face in the Battle of Badr and were on the verge of actual fighting. At that moment, the Prophet (peace be on him) threw a handful of dust at the enemy saying: 'May, their faces be scorched.' So saying the Prophet (peace be on him) made a gesture and the Muslims started their charge. (See Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 1, p. 368; Ibn Hisham, vol. 1, p. 668; Ibn Kathir, comments on the verse - Ed.)

Read the full tafseer →