Explained with ayahs 15–16
شہیدان وفا کے قصے
جہاد کے میدان میں جو مسلمان بھی بھاگ کھڑا ہوا اس کی سزا اللہ کے ہاں جہنم کی آگ ہے۔ جب لشکر کفار سے مڈبھیڑ ہوجائے اس وقت پیٹھ پھیڑ ہوجائے اس وقت پیٹھ پھیرنا حرام ہے ہاں اس شخص کے لئے جو فن جنگ کے طور پر پینترا بدلے یا دشمن کو اپنے پیچھے لگا کر موقعہ پر وار کرنے کے لئے بھاگے یا اس طرح لشکر پیچھے ہٹے اور دشمن کو گھات میں لے کر پھر ان پر اچانک چھاپہ مار دے تو بیشک اس کیلئے پیٹھ پھیرنا جائز ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں جانا ہو جہاں چھوٹے سے لشکر سے بڑے لشکر کا ٹکراؤ ہو یا امام اعظم سے ملنا ہو تو وہ بھی اس میں داخل ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن عمر…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْفَال 13
دشمن کے شدید دباؤ پر مرتب پسیائی (Orderly retreat) ناجائز نہیں ہے جبکہ اس کا مقصود اپنے عقبی مرکز کی طرف پلٹنا یا اپنی ہی فوج کے کسی دوسرے حصہ سے جا ملنا ہو۔ البتہ جو چیز حرام کی گئی ہے وہ بھگدڑ (Rout) ہے جو کسی جنگی مقصد کے لیے نہیں بلکہ محض بزدلی و شکست خوردگی کی وجہ سے ہوتی ہے اور اس لیے ہوا کرتی ہے کہ بھگوڑے آدمی کو اپنے مقصد کی بہ نسبت جان زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اس فرار کو بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ چناچہ نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ تین گناہ ایسے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی۔ ایک شرک، دوسرے والدین کی حق تلفی، تیسرے میدان قتال فی سبیل اللہ سے فرار۔ اسی طرح…
Read the full tafseer →استثناء دو حالتوں کا ہے (آیت) اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ یعنی جنگ کے وقت پشت پھیرنا صرف دو حالتوں میں جائز ہے۔ ایک تو یہ کہ میدان سے پشت پھیرنا محض ایک جنگی چال کے طور پر دشمن کو دکھلانے کے لئے ہو حقیقتہ میدان سے ہٹنا مقصد نہ ہو بلکہ مخالف کو ایک غفلت میں ڈال کر یکبارگی حملہ پیش نظر ہو یہ معنی ہیں اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ کے کیونکہ تحرف کے معنی کسی ایک جانب مائل ہونے کے آتے ہیں۔ (روح المعانی)
دوسری استشنائی حالت جس میں میدان سے پشت پھیرنے کی اجازت ہے یہ ہے کہ اپنے موجودہ لشکر کی کمزوری کا احساس کرکے اس لئے پیچھے ہٹیں کہ مجاہدین کی مزید کمک حاصل کرکے…
Read the full tafseer →جنگ میں پیٹھ دکھانے کے جرم کی شدت : وَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ، ایسی صورت میں جو لوگ دشمن کو پیٹھ دکھائیں گے فرمایا کہ وہ خدا کا غضب لے کر لوٹیں گے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہی جرم کفر و ارتداد کے برابر ہے۔ اس جرم کی یہ شدت ظاہر ہے کہ اسی بنیاد پر ہے کہ جو شخص میدانِ جنگ سے بھاگتا ہے وہ اپنی اس بزدلی سے بسا اوقات پوری فوج بلکہ پوری ملت کے لیے ایک شدید خطرہ پیدا کردیتا ہے۔
اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ ، یعنی اس سے مستثنی وہ شکلیں ہیں جو کوئی سپاہی کسی جنگی تدبیر کے لیے اختیار کرتا ہے یا کوئی ایسی صورت اس کے سامنے آگئی ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →16۔ 1 گزشتہ آیت میں پیٹھ پھیرنے سے جو منع کیا گیا ہے، دو صورتیں اس سے مستشنٰی ہیں۔ ایک تحرف کی دوسری تحیز کی تَحَرُّفْ کے معنی ہیں ایک طرف پھرجانا، یعنی لڑائی میں جنگی چال کے طور پر یا دشمن کو دھوکے میں ڈالنے کی غرض سے لڑتا لڑتا ایک طرف پھر جائے، دشمن یہ سمجھے کہ شاید یہ شکت خوردہ ہو کر بھاگ رہا ہے لیکن وہ پھر ایک دم پینترا بدل کر اچانک دشمن پر حملہ کردے۔ یہ پیٹھ پھیرنا نہیں ہے بلکہ یہ جنگی چال ہے جو بعض دفعہ ضروری ہوتی ہے۔ تَحَیُّزُ کے معنی ملنے اور پناہ لینے کے ہیں، کوئی مجاہد لڑتا لڑتا تنہا رہ جائے تو یہ لطائف الحیل میدان جنگ سے ایک طرف ہوجائے، تاکہ وہ اپنی جماعت کی طرف پناہ حاصل کرسکے اور…
Read the full tafseer →8: یہاں دشمن کے مقابلے سے پیٹھ پھیرنے کو ہر حالت میں ناجائز قرار دیا گیا ہے، چاہے دشمن کی تعداد کتنی زیادہ ہو، اور جنگ بدر کے وقت صورت حال یہی تھی، البتہ بعد میں اس حکم کی تفصیل اسی سورت کی آیت : 65 اور 66 میں بیان فرمائی گئی ہے جس کی رو سے اب حکم یہ ہے کہ دشمن کی تعداد اگر دگنی یا اس سے کم ہو، تب تو میدان چھوڑنا حرام ہے ؛ لیکن اگر ان کی تعداد اس سے زیادہ ہو تو میدان چھوڑنے کی اجازت ہے، پھر جس وقت دشمن کو پیٹھ دکھانا ناجائز ہوتا ہے اس میں بھی اس آیت نے دو صورتوں کو مستثنی رکھا ہے، ایک یہ کہ بعض اوقات جنگ ہی کی کسی حکمت عملی کے طور پر پیچھے ہٹنا پڑتا ہے مقصد میدان سے بھاگنا نہیں ہوتا ایسے میں…
Read the full tafseer →مومن کا دل و دماغ نہایت ہی پختہ ہونا چاہیے ۔ اس طرح کہ وہ زمین کی کسی بھی قوت کے سامنے متزلزل نہ ہو اور اس کا رابطہ ایسی قوت کے ساتھ ہونا چاہیے جسے اپنے امور پر مکمل کنٹرول حاصل ہو اور وہ بندوں کے اوپر مکمل غلبہ رکھتی ہو اور جب کسی مومن کا دل و دماغ خطرات کو دیکھ کر متزلزل ہوگیا تو یہ تزلزل فرار پر منتج نہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ موت اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے کسی مومن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ موت کے ڈر سے پیٹھ پھیرے۔ یہ حکم ایسا نہیں ہے کہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ حکم دیا جا رہا ہے ، کیونکہ مومن بھی انسان ہے اور اس کا دشمن بھی انسان ہے۔ اس لحاظ سے وہ گویا ایک ہی سطح پر کھڑے ہیں۔ پھر مومن…
Read the full tafseer →1 یعنی اگر پسپائی کسی جنگی مصلحت سے ہو، مثلاً پیچھے ہٹ کر حملہ کرنا زیادہ موثر ہے یا ایک جماعت سپاہیوں کی مرکزی فوج سے جدا ہوگئی وہ اپنے بچاؤ کے لیے پسپا ہو کر مرکز سے ملنا چاہتی ہے، تو ایسی پسپائی جرم نہیں۔ گناہ اس وقت ہے جبکہ پسپائی محض لڑائی سے جان بچا کر بھاگنے کی نیت سے ہو۔
Read the full tafseer →آیت 16 وَمَنْ یُّوَلِّہِمْ یَوْمَءِذٍ دُبُرَہٗٓ
یعنی اگر کوئی مسلمان میدان جنگ سے جان بچانے کے لیے بھاگے گا۔
اِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ
جیسے دو آدمی دوبدو مقابلہ کر رہے ہوں اور لڑتے لڑتے کوئی دائیں ‘ بائیں یا پیچھے کو ہٹے ‘ بہتر داؤ کے لیے پینترا بدلے تو یہ بھاگنا نہیں ہے ‘ بلکہ یہ تو ایک تدبیراتی حرکت tactical move شمار ہوگی۔ اسی طرح جنگی حکمت عملی کے تحت کمانڈر کے حکم سے کوئی دستہ کسی جگہ سے پیچھے ہٹ جائے اور کوئی دوسرا دستہ اس کی جگہ لے لے تو یہ بھی پسپائی کے زمرے میں نہیں آئے گا۔
اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِءَۃٍ
یعنی لڑائی کے دوران اپنے لشکر کے کسی دوسرے حصے سے ملنے کے لیے منظم طریقے سے…
Read the full tafseer →15 جنگ سے منہ موڑنا کبیرہ گناہ ہے :۔ جنگ سے پسپائی کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً پوری فوج کی جنگی پالیسی ہی یہ ہو کہ اس مقام سے ہٹ کر فلاں مقام سے حملہ کرنا زیادہ سودمند ہوگا یا کوئی فوجی دستہ وہاں سے ہٹ کر اپنے مرکز سے جا ملنا چاہتا ہو، یا کوئی فرد پینترا بدلنے کی غرض سے پیچھے ہٹ آیا تو ایسی سب صورتیں جنگی تدبیریں کہلاتی ہیں۔ انہیں جنگ سے فرار یا پسپائی نہیں کہا جاتا بلکہ فرار سے مقصد ایسی پسپائی ہے جس سے محض اپنی جان بچانا مقصود ہو اور یہ گناہ کبیرہ ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس فعل کو ان سات بڑے بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے جو انسان کو ہلاک کردینے والے ہیں۔ (بخاری، کتاب المحاربین، باب رمی المحصنات)
اس…
Read the full tafseer →25 ۔ سپا ہوں کو اپنی جگہ چھوڑنے اور میدان جنگ سے ہٹنے کی اگر ذرا گنجائش رکھ دی جائے تو نظام عسکری تو فورا ہی تشریف لے جائے، اس لیے دنیا کے کسی بھی حربی قانون میں اس کی ذرا بھی اجازت نہیں بلکہ بزدلی ایک ناقابل عفو جرم ہے۔ اور پھر لشکر اسلام کا تو ہر سپاہی خدا کا سپاہی ہوتا ہے۔ وہ اپنی جان بیچ کر اور اس کے عوض میں وعدۂ جنت لیکر تو قدم ہی میدان میں رکھتا ہے۔ اسکے لیے تو بزدلی کی اتنی بھی گنجائش نہیں نکل سکتی جتنی کسی دنیوی لشکر میں ممکن ہے۔ الفرار کبیرۃ موبقۃ بظاہر القران واجماع الاکثر من الائمۃ (قرطبی) قال ابن القاسم لاتجوز شھادۃ من فر الزحف ولا یجوز لھم الفرار وان فراما مھم (قرطبی) (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
میدان سے راہ فرار : وَمَنْ یولِّھِمْ یومَئذٍ دُبَرَہ ' اِلاِّ متحر فا لقتالِ (الآیة) دشمن کے شدید دباؤ پر پسپائی ناجائز نہیں ہے جبکہ اس کا مقصد اپنے عَقْبِیْ مرکز کی طرف پلٹنا یا اپنی ہی فوج کے کسی دوسرے حصے سے جاملنا ہو، البتہ جو چیز حرام ہے وہ فرار ہے جو کسی جنگی مقصد سے نہیں بلکہ جان بچانے کی غرض سے ہو، اس فرار کو بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے چناچہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا '' تین گناہ ایسے ہیں جن کے ساتھ کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی '' ایک شرک دوسرے والدین کے حقوق کی حق تلفی تیسرے میدان جہاد فی سبیل اللہ سے فرار، اسی طرح ایک اور حدیث میں سات بڑے گناہ شمار کرائے ہیں ان میں ایک قتال فی سبیل اللہ…
Read the full tafseer →ومن یولھم یومئذ دبرء الا متحرفًا لقتال او متحیزًا الی فءۃ فقد بآء بغضب من اللہ وماء واہم جھنم وبئس المصیر جو شخص اس موقع پر ان کو پشت دے گا بشرطیکہ لڑائی کیلئے پینترا نہ بدلتا ہو یا اپنی جماعت کی طرف پناہ لینے نہ آتا ہو تو وہ اللہ کے غضب میں آجائے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔
مَنْ یُوَلِّھِمْ یعنی جو کافروں کو قتال کے دن پیٹھ دے گا۔ اِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ یعنی دشمن کو فریب دینے کیلئے اپنی شکست دکھائے اور مقصد یہ ہو کہ دشمن کو غافل بنا کر لوٹ کر حملہ کرے گا۔ اَوْ مُتَحَیِّزًا اَلٰی فِءَۃٍ یا اگر لڑتے لڑتے تھک جائے تو اپنی جماعت سے آ ملے اور مقصد یہ ہو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(15، 16) بدر کے دن کافروں سے سامنا ہوجانے کے بعد ان سے پیٹھ مت پھیرو اور جو شخص بدر کے دن شکست کھا کر ان سے پیٹھ پھیرے گا مگر ہاں جو لڑائی کے لیے پینترا بدلتا ہو یا اپنی جماعت کی طرف پناہ لینے اور مدد حاصل کرنے کی وجہ سے ہو اور اس سے مستثنی ہے باقی جو ایسا کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور ناراضگی کے ساتھ واپس لوٹے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔
Read the full tafseer →اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ : ”مُتَحَيِّزًا“ ”تَحَرَّفَ“ سے اسم فاعل ہے، جس کا معنی ایک طرف ہونا ہے، یعنی ایک طرف سے دوسری طرف دشمن کو دھوکا دینے کے لیے پلٹنا، پینترا بدلنا۔ ”مُتَحَيِّزًا“ ”تَحَیَّزَ“ سے ہے، کسی جگہ اکٹھا ہونا، یعنی دشمن کو گھیرنے کے لیے یا ان کو دھوکا دینے کے لیے ایک طرف سے دوسری طرف پلٹنا یا پیچھے ہٹنا یا مسلمانوں کی بڑی جماعت کی طرف پناہ کے لیے اور دوبارہ حملے کے لیے لوٹ آنا گناہ نہیں، یعنی اللہ کا غضب اور جہنم کا ٹھکانا ہونا تو جنگ سے بھاگنے والے پر ہے، اگر فنون حرب کے تحت میدان چھوڑ کر پیچھے ہٹ جائے تو گناہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
آیت نمبر : 15۔ 16
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
قولہ تعالیٰ : آیت : زحفا، الزحف، الدنو قلیلا قلیلا یعنی اس کا معنی آہستہ آہستہ قریب ہونا، آگے بڑھنا، اور اس کا اصل معنی ہے الاندفاع علی الالیۃ ( سرین کے بل گھسٹ کر آگے بڑھنا) پھر جنگ میں آخر تک ہر چلنے والے کو زاحف کا نام دیا گیا ہے۔ اور التزاحف کا معنی ہے : باہم ایک دوسرے کے قریب ہونا۔ کہا جاتا ہے : زحف الی العدو زحفا ( وہ دشمن کی طرف انتہائی قریب ہوگیا) اور ازدحف القوم کا معنی ہے ان میں سے بعض بعض کی طرف چلے۔ اور اسی سے زحاف الشعر بھی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ دو حرفوں کے درمیان سے ایک حرف ساقط ہوجائے اور اس طرح ان میں سے ایک دوسرے کے قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
1:۔ بخاری نے اپنی تاریخ میں نسائی، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ نے نافع (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عمر ؓ سے سوال کیا کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں کہ لڑائی کے وقت اپنے دشمنوں سے ثابت قدم نہیں رہتے اور ہم نہیں جانتے کہ ہمارے سامنے ایک جماعت ہے یا ہمارا لشکر ہے۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا جماعت تو رسول اللہ ﷺ کی ہے۔ میں نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” اذ لقیتم الذین کفروا زحفا فلا تولوہم الادبار (15) فرمایا یہ آیت بدر والوں کے بارے میں نازل ہوئی نہ اس سے پہلے والوں کے لئے اور نہ اس کے بعد والوں کے لئے۔
2:۔ عبد بن حمید، ابو داود، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، نحاس نے اپنی ناسخ میں، ابو…
Read the full tafseer →[ وَمَنْ : اور جو ] [ يُّوَلِّهِمْ : پھیرے گا ان سے ] [ يَوْمَىِٕذٍ : اس دن ] [ دُبُرَهٗٓ: اپنی پیٹھ کو ] [ اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [ مُتَحَرِّفًا : جھکائی دینے والا ہوتے ہوئے ] [ لِّقِتَالٍ : قتال کے لیے ] [ اَوْ : یا ] [ مُتَحَيِّزًا : ملنے والا ہوتے ہوئے ] [ اِلٰي فِئَةٍ : کسی جماعت کی طرف ] [ فَقَدْ بَاۗءَ : تو وہ لوٹا ہے ] [ بِغَضَبٍ : ایک غضب کے ساتھ ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ (کی طرف) سے ] [ وَمَاْوٰىهُ : اور اس کا ٹھکانہ ] [ جَهَنَّمُ ۭ : جہنم ہے ] [ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : اور کتنی بری ہے لوٹنے کی جگہ ]
ح و ز ۔ (ن) : حوزا ۔ اکٹھا کرنا ۔ جمع کرنا ۔ (تفعل ) تحوزا ، سانپ کا کنڈلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
جب کافروں سے مقابلہ ہو تو جم کر قتال کرو
اس آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب کافروں سے مقابلہ ہوجائے تو جم کر لڑیں پشت پھیر کر نہ بھاگیں۔ کیونکہ یہ گناہ کبیرہ ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو، عرض کیا گیا یا رسول اللہ وہ کیا ہے ؟ فرمایا (1) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا (2) جادو کرنا (3) کسی جان کو قتل کرنا جس کا قتل اللہ نے حرام قرار دیا الایہ کہ حق کے ساتھ ہو (4) سود کھانا (5) یتیم کا مال کھانا (6) جنگ کے موقعہ پر پشت پھیر کر چلا جانا (7) مومن پاک دامن عورتوں کو تہمت لگانا جن کو برائی کا دھیان تک نہیں ہے۔ (مشکوٰۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
بیان حرمت فرار از مقابلہ کفار
قال اللہ تعالیٰ یا ایھا الذین امنوا اذا لقیتم الذین کفرو۔۔۔ الی۔۔۔ ابئس المصیر
(ربط) گزشتہ آیت میں ملائکہ تثبیت مومنین کا حکم تھا اب ان آیات میں مومنین کو ثبات وقرار کا حکم ہے یعنی مسلمانوں پر میدان جہاد میں ثابت قدم رہنا واجب ہے اور مقابلہ کفار سے فرار حرام ہے بجز دو صورتوں کے ایک تو یہ کہ پسپائی سے کافروں کو دھوکہ دینا مقصود ہوتا کہ دشمن غافل ہوجائے پھر پلٹ کر دفعۃ اس پر حملہ کرے ظاہر میں بھاگنا ہو مگر در حقیقت مقصود حیلہ اور داؤ ہو، دوسری صورت یہ ہے کہ مقصود اصلی بھاگنا نہ ہو بلکہ بےسروسامانی کی وجہ سے اپنی مرکزی جامعت میں پناہ لینا ہو تاکہ ان کے ساتھ مل کر…
Read the full tafseer →16: یہ میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنے والوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔ جو شخص سخت جنگ کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگا اس نے اللہ کا غضب مول لیا اور اس کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا پسپائی کی کئی صورتیں مستثنی فرما دیں یعنی اگر میدان جنگ سے پسپائی کسی جنگی مصلحت کی بنا پر ہو تو یہ جرم نہیں مثلاً پیچھے ہٹ کر کسی دوسری جانب سے دشمن پر حملہ کرنا زیادہ مفید ہو یا پیچھے ہٹ کر مجاہدین کی ایک دوسری جماعت سے مل کر دشمن پر ہلہ بولنے کا ارادہ ہو تو یہ اور اسی قسم کی دوسری صورتیں جن میں پسپائی جنگ سے جان بچا کر بھاگنے کی نیت سے نہیں بلکہ کسی جنگی تدبیر کے تحت ہو تو وہ اس وعید سے خارج ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں میدانِ بدر میں مسلمانوں کی بےسروسامانی کی حالت میں کامیابی کا ذکر تھا۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس قسم کے اسباب پیدا کیے اور اپنی طرف سے جو خاص مہربانی فرمائی ، اس کا بیان ہوا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرنے سے متعلق بعض قوانینِ صلح وجنگ بیان فرمائے ہیں دنیا میں فتنہ و فساد کی بیخ کنی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے بعض اوقات جہاد بالسیف ضروری ہوجاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جنگ میں پیش آنے والے بعض مسائل کے متعلق احکام نازل فرمائے ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات جنگ کو ترک کر کے مصالحت کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →وَمَنْ يُّوَلِّہِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَہٗٓ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَۃٍ فَقَدْ بَاۗءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللہِ وَمَاْوٰىہُ جَہَنَّمُ 0 ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ 16
يَوْمَئِذٍ
ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ .
اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
ترکیب : اذا لقیتم شرط فلا تولوا جواب جملہ ندا ہے۔ زحفا مصدر موضع حال میں قبل ہو مصدر علی حال المحذوفۃ ای پزحفون زحفا الادبار جمع دبر مفعول ثانی ہے تولوا کا۔ ومن یولہم شرط یومئذ ظرف دبرہ مفعول ثانی فقد باء جواب الا متحرفا استثناء فی ہذہ الاحوال ای لایجوز التولی فی ایّ حال الافی التحرف ای التعطف لقتال بان تریھم الفرۃ کیدا ویزید الوقوع علیھم کرۃ او متحیزاً ای منضما الی فئۃٍ ای جماعت المسلمین ذلکم ای الامر ذلکم۔
تفسیر : چونکہ اس جنگ بدر میں کامیابی بظاہر اسباب استقلال اور ثابت قدمی سے واقع ہوئی اس لئے ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کو ہر ایک جنگ میں صبر و استقلال کا حکم دیتا ہے۔ بقولہ یا ایہا الذین امنوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا فَلاَ تُوَلُّوْھُمُ الْاَدْبَارَ ۔ ج وَمَنْ یُّوَلِّھِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہٗٓ اِلَّا مُتَخَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْمُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ فَقَدْ بَآئَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَمَاْوٰہُ جَھَنَّمُ ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (الانفال : 15، 16)
(اے ایمان والو ! جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہو فوج کشی کی صورت میں تو پھر ان سے پیٹھ مت پھیروجو کوئی ان سے پیٹھ پھیرے اس دن مگر یہ کہ جنگ کے لیے پینترا بدلنا چاہتاہویا کسی جماعت کی طرف سمٹ رہا ہو تو وہ لوٹا اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
فہم القرآن
ربط کلام : غزوۂ بدر کے واقعات کا بیان جاری ہے۔
زمانۂ قدیم اور آج بھی بنیادی طور پر جنگ دو طرح لڑی جاتی ہے۔ گوریلا وار، اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے برسرپیکار ہونا۔ بدر کا معرکہ فریقین کے آمنے سامنے کی لڑائی تھی۔ جس کے لیے ” زَحْفاً “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ زحفا بچے کے گھسٹ گھسٹ کر چلنے کو کہا جاتا ہے۔ لشکر بڑا ہو تو وہ بھی اپنے ساز و سامان کے ساتھ سست رفتاری سے چلتا ہے۔ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ میں کفار کی تعداد ایک ہزار تھی اور ان کے ساتھ گھوڑے، خچر اور اونٹ بھی تھے۔ جس کی نقشہ کشی لفظ ” زَحْفاً “ کے ذریعے کی گئی ہے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب دشمن سامنے ہو یا مسلمانوں پر…
Read the full tafseer →بھاگنے والے کے جرم کی شدت :
آیت 16: وَمَنْ یُّوَلِّھِمْ یَوْمَپذٍ دُبُرَہٗٓ اِلَّا مُتَحَرِّفًا (اور جو شخص ان سے اس موقعہ پر پشت پھیرے گا۔ مگر ہاں جو پینترا بدلتا ہو) مائل ہونے والا۔ لِّقِتَالٍ (لڑائی کیلئے) وہ مڑ کر حملہ کرنے کیلے پسپا ہونا ہے دشمن کو خیال ہو کہ بھاگ گیا پھر اس پر مڑ کر حملہ آور ہو۔ یہ ایک جنگی طرز ہے۔ اَوْ مُتَحَیِّزًا (یا ملنے والا ہو) اِلٰی فِئَۃٍ (اپنی جماعت کی طرف) پناہ لینے آتا ہو وہ مستثنیٰ ہے ملنے والا ہو مسلمانوں کی جماعت جو اس کی پشت میں ہو۔
نحو : یہ دونوں یولھم کی ضمیر فاعلی سے حال ہیں۔ فَقَدْ بَآ ئَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَمَاْوٰہُ جَھَنَّمُ وَبِئْسَ…
Read the full tafseer →61(ومن یولھم یومئذ دبرہ الا متحرفاً لقتال او متحیزاً الی) آیت کا معنی یہ ہے کہ کفار سے شکست کھا کر بھاگنا ممنع ہے ہاں اگر جنگ کی کوئی چال اختیار کرنے کے لئے یا مسلمانوں کی جماعت میں ملنے کے لئے پیٹھ پھیرے کہ ان کے ساتھ مل کر دوبارہ حملہ کروں گا تو جائز ہے اور جس کی یہ نیت نہ ہوا ور پیٹھ پھیر کر بھاگے تو اس کو یہ وعید لاحق ہوگی (فتۃ فقد بآء بغضب من اللہ وماوہ جھنم وبئس المصیر) علماء رحمہم اللہ کا اس آیت میں اختلاف ہے۔ ابو سعید خدری ؓ فمایت ہیں کہ یہ آیت اہل بدر کے ساتھ خصا ہے ان کے لئے شکست کھا کر بھاگنا جائز نہ تھا کیونکہ نبی کریم ﷺ ان کے ساتھ تھے اور آپ (علیہ السلام) کے علاوہ کوئی اور جماعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
15۔ 16۔ اس آیت میں اللہ پاک لڑائی سے بھاگنے والوں کو فرماتا ہے کہ دشمنوں سے بھاگو نہیں اور جو بھاگے گا وہ خدا کا غضب لے کر گھر کی طرف پھریگا اور اس کا ٹھکانا جہنم میں بہت ہی بری جگہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ دین کی لڑائی سے بھاگنا گناہ کبیرہ ہے مگر اس صورت میں کہ اگر کوئی اس لئے لڑائی سے پیٹھ پھیرے کہ دشمن کو دھوکہ دے کر ایک طرف سے بھاگ کر اور پھر دوسری طرف سے دشمن کو قتل کریگا یا اپنے سردار کے پاس لوگ بھاگ کر جائیں تو ان دو صورتوں میں اللہ پاک نے بھاگنے کی اجازت دی ہے اسی کو فرمایا الامتحرفا لقتال اومتحیزا الی فئۃ کہ اس ارادہ سے کوئی لڑائی سے بھاگ نکلا کہ پھر آئے گا یا اپنی دوسری فوج میں شامل ہو…
Read the full tafseer →آیت 16
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو شجاعت ایمانی، اللہ کے معاملے میں قوت اور دلوں اور جسموں کو مضبوط کرنے والے اسباب فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور جب دونوں فوجوں کے درمیان معرکہ ہو تو میدان جنگ سے فرار ہونے سے منع کیا ہے۔ (آیت) ” اے ایمان والو ! جب بھڑوتم کافروں سے میدان جنگ میں “ یعنی جب لڑائی کے لئے صف بندی ہوچکی ہو، فوجیں ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہی ہوں اور جنگجو ایک دوسرے کے قریب آچکے ہوں، (فلا تولوھم الادبار) ” تو پھر کفار کے سامنے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو “ بلکہ ان سے لڑنے کے لئے ثابت قدمی سے ڈٹ جاؤ اور ان کی قوت اور حملے کا صبر سے مقابلہ کرو، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے دین کی…
Read the full tafseer →دشمن کی طرف جانے والے لشکر سے فرار کا بیان
قول باری ہے ومن یولھم یومئذدبرہ الامتحرفاً لقتال اومتحیزاً الی فئۃ فقد باء بغضب من اللہ وماولہ جھنم۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری۔ الایہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لئے۔ تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا) ابونضرہ نے حضرت ابوسعید ؓ سے روایت کی ہے کہ یہ بات معرکہ بدر کے لئے کہی گئی تھی ابونضرہ کہتے ہیں کہ اگر اس دن مسلمان کسی دوسری فوج سے جا ملتے تو وہ مشرکین کی فوج کے سوا اور کوئی فوج نہ ہوتی اس لئے کہ ان مسلمانوں کے سوا اس دن مسلمانوں کا کوئی اور جتھا نہیں تھا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →22 میدان کارزار سے پیٹھ دینے کی دو جائز صورتوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ میدان جنگ میں پیٹھ دینا جائز نہیں بجز اس کے کہ کوئی جنگ ہی کے لیے پینترا بدلتا ہو یا وہ اپنی فوج کے کسی دستے سے ملنا چاہتا ہو۔ ایسوں پر کوئی الزام اور مواخذہ نہیں کہ یہ دراصل بھاگنا نہیں بلکہ جنگ ہی کا ایک تقاضا اور اس کا ایک حصہ ہے کہ پینترے بدلنا جنگ کے ان اہم تقاضوں میں سے ہے جس کے مطابق مجاہد میدان جہاد میں کام لیتا ہے اور اپنی جنگی حکمت عملی کی بناء پر اپنا مورچہ بدلتا اور اپنے وار کا رخ تبدیل کرتا ہے۔ بہرکیف اگر کوئی سپاہی کسی جنگی تدبیر کی بناء پر اپنے مورچے سے ہٹ کر کسی اور مورچے کا رخ کرتا ہے یا وہ جنگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
اللہ کی حکمتیں، کفار کی سزا اور مسلمانوں کی مدد
تشریح : غزوئہ بدر مسلمانوں اور کفار کے درمیان میدان جنگ میں لڑنے کا پہلا معرکہ تھا۔ گو کہ مسلمان کم اور کفار زیادہ تھے۔ اسی لیے صحابہ کرام کا خیال تھا کہ اگر ابوسفیان کے قافلے سے مقابلہ ہوجائے تو زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک تو وہ جنگی تیاری سے نہیں نکلے اور دوسرے مال و دولت خوب ہاتھ لگے گا۔ مگر اللہ کا فیصلہ اس کے برعکس تھا۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ زورآور اور حکمت والا ہے وہ اسلام کی طاقت اور کفر کی بےبسی کا فیصلہ دشمنوں کو صاف طور پر دکھانا چاہتا تھا کہ دیکھو مسلمانوں کی روحانی طاقت اور توکل علی اللہ کس قدر مضبوط ہے کہ ایک چھوٹی سی اور بےسروسامان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
آیات 11 تا 19
اسرار و معارف
مزید انعامات یہ کہ مقام بدر میں مشرکین نے ایسی جگہ قبضہ کرلیا جو اونچائی پر تھی اور نسبتا مضبوط زمین تھی اور مسلمانوں کو ایسی جگہ ٹھہرناپڑاجونشیبی تھی حضرت حباب بن منذر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول ﷺ اللہ اگر یہ جگہ پر قبضہ کرلیا جائے چناچہ آپ ﷺ کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور پھر حضرت سعدبن معا ؓ ذ کے مشورہ سے ایک طرف ذرابلند ی پر آپ ﷺ کے لیے ایک چھونپڑی سی بنادی گئی جس میں صرف صدیق اکبر ؓ کو شرف حضوری حاصل تھا اور حضرت معاذ ؓ دروازہ پر بہرہ دے رہے تھے۔
یہ بدر کی پہلی شب تھی دونوں لشکروں کا دن اس طرح بسرہوارات کفاراونچی اور مضبوط زمین پر تھے اور مسلمان نشیبی زمین پر جس…
Read the full tafseer →ف 2 مثلا دشمن کو گھیر نے کے لیے یا اس کو دھوکا دینے کے لیے پیچھے ہٹ۔3 جو تعداد میں زیادہ ہو یا کوئی مغلوب ہو رہا ہو اسکی مدد کے لیے لو ٹے تو کوئی گناہ نہیں یعنی اللہ کا غظب تو جنگ سے بھا گنے والے پر ہے اگر نفون حرب کے تحت نقل و حکت کرتے ہوئے میدان جھوڑ کر پیچھے ہٹ جائے تو گناہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(8:16) متحرفا۔ اسم فاعل منصوب ۔ مفرد۔ تحرف مصدر۔ (باب تفعل) مڑنے والا۔ پھرنے والا۔ دشمن کو فریب دینے کے لئے پیٹھ پھیرنے والا۔ تاکہ پلٹ کر حملہ کرے یا لوٹ کر مسلمانوں کی صف میں آکر مل جاوے تاکہ مدد حاصل کرسکے۔ پینترا بدلنے والا۔ اصل مادہ حرف ہے۔ متحیزا۔ اسم فاعل منصوب مفرد مذکر۔ تحیز مصدر باب تفعیل۔ مڑ کر سمٹ کر اپنی جماعت کی طرف آنے والا تاکہ ساتھیوں کی مدد لے کر دوبارہ حملہ کرسکے۔
اصل مادہ حوزا جوف داری ہے۔ متحیز۔ پیچیدہ۔ چوڑیدار سانپ کو بھی کہتے ہیں کیونکہ ہو سمٹا ہوا مڑا ہوا ہوتا ہے۔ احوز ثوبہ (افعال) اس نے اپنے کپڑوں کو سمیٹ لیا۔ جمع کرلیا۔
بائ۔ اس نے کمایا۔ وہ پھرا ۔ وہ لوٹا۔ (باب نصر)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
آیات : 15 تا 18
لغات القرآن۔
لقیتم۔ تم نے ملاقات کی۔ تم ملے۔ زحف۔ لڑائی۔ لاتولوا۔ تم نہ پھیرو۔ یومئذ۔ اس دن۔ متحرف۔ پینترا بدلنے والے (جنگی چال) ۔ متحیز۔ ملنے والے۔ رمیت۔ تو نے پھینکا۔ رمی۔ اس نے پھینکا۔ بلاء حسن۔ اچھی طرح آزمانا۔ موھن۔ سست اور ضعیف کرنے والا
تشریح : دراصل جنگ ہو یا امن۔ زندگی کا میدان ہو یا پریشانی کے حالات جو لوگ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں وہی دنیا اور آخرت کی کامیابی کے حقدر ہوتے ہیں لیکن وہ لوگ جو میدان چھوڑ کر اور پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہیں کبھی کسی طرح کی کامیابی حاصل نہیں کیا کرتے۔ ان آیت میں اس بات کو فرمایا جا رہا ہے کہ اے مومنو ! جب بھی کسی جنگ میں تمہارا مقابلہ کفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
میدان جنگ سے بھاگنے اور فخر کی ممانعت
اس آیت میں اللہ تعالیٰ لڑائی سے بھاگنے والوں کو فرماتا ہے کہ دشمنوں سے بھاگو نہیں اور جو بھاگے گا وہ خدا کا غضب لے کر گھر کو پھرے گا، اور اس کا ٹھکانہ جہنم میں بہت ہی بری جگہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
[3] آیت 9 سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے وہ احسانات یاد دلائے ہیں جو اس نے جنگ بدر میں ان پر کئے تھے۔ مقصد اس بات کو واضح کرنا ہے کہ تم خود ہی حساب لگا کر دیکھ لو کہ اس فتح میں تمہاری اپنی کاوشوں کا کتنا حصہ
تھا اور اللہ کی عنایات کا کتنا حصہ۔ اس لئے یہ فیصلہ کرنا کہ مال غنیمت کس طرح تقسیم ہو تمہارا نہیں اللہ کا کام ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) اسلام صلح وآشتی کا مذہب ہے ، مگر جب کفر وطاغوت کا مقابلہ آپڑے ، اس وقت کسی رواداری اور بزدلی کو جائز قرار نہیں دیتا ،
میدان جہاد سے فرار بدترین گناہ ہے اسلام بہادروں کا مذہب ہے ، البتہ پینترا بدلنا اور طرح دنیا اس سے مستثنے ہے ۔
مقصد یہ ہے کہ میدان جہاد میں صرف بہادری اور شہامت کا خطاب نہیں ہونا چاہئے بلکہ عقلمندی اور دانائی کا اداء بھی ضروری ہے ۔
Read the full tafseer →16 اور جو شخص ان منکروں کو پیٹھ دکھا کر لوٹے گا بجز اس بات کے کہ یا تو وہ کوئی جنگی پیترا کرنے والا ہو یا وہ اپنی جماعت میں شامل ہونا چاہتا ہو۔ ان دونوں صورتوں کے علاوہ وہ شخص لوٹے گا تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کا غضب لے کر لوٹے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ جہنم لوٹنے کی بہت بری جگہ ہے۔ یعنی دشمن کے مقابلے سے ہٹنے کی صرف دو صورتوں میں اجازت ہے ایک تو یہ کہ کوئی لڑائی کا دائو ہو۔ مثلاً پیچھے ہٹ کر دشمن کو آگے آنے کا موقعہ دینا یا اس کو مطمئن کرنے کی غرض سے پیچھے ہٹنا اور پھر ایک دم حملہ کرنا وغیرہ۔
دوسری صورت یہ کہ مثلاً کوئی شخص لڑتے لڑتے آگے بڑھ گیا اور اس کی جماعت پیچھے رہ گئی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ف 1۔ جہاد سے بھاگنا حرام ہے ہاں اگر کافر دونے سے زیادہ ہوں تو جائز ہے اور جب دونے سے زیادہ نہ ہوں تب بھی دو صورتیں جواز کی ہیں جن کو آیت میں مستثنی فرمایا ہے ایک یہ کہ دھوکادینے کو سامنے سے بھاگا ہو تاکہ حریف غافل ہوجائے پھر دفعتا لوٹ کر اس پر حملہ کرنے دوسرے یہ کہ مقصود اصلی بھاگنا نہ ہو بلکہ بوجہ بےسروسامانی وغیرہ عوارض کے اپنی جماعت میں اس غرض سے آملا کہ ان سے قوت اور معونت حاصل کرکے پھر جاکر مقابل ہوگا۔
Read the full tafseer →ہاں ! جنگی ضروریات کے تحت اپنی جگہ سے ہٹا جاسکتا ہے اور یہ جنگ سے بھاگنا نہیں ہے :
23: فرمایا کہ جنگی ضروریات کے تحت جگہ بدل جانا یا اپنی جماعت کے ساتھ ملنے کے لئے جماعت کی طرف بھاگ کر شامل ہونا جہاد سے بھاگنا نہیں ہے اس وضاحت کی ضرورت اس لئے تھی کہ فی نفسہ میدان سے جگہ بدلنے کے لئے یا جنگی حالات کے پیش نظر ایک طرف سے دوسری طرف جانے پے اس کا اطلاق نہ کیا جائے کیونکہ اس طرح سے میدان سے بھاگنا اور اور نکلنا جنگ سے بھاگنا نہیں ہو سکتا جیسا کہ احد کے دن مسلمانوں کے ساتھ ہوا تھا اور میدان جنگ سے گویا بوکھلا گئے اور ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا تھا وہ فی نفسہ جہاد سے نہیں بھاگے تھے بلکہ جہاد کے لئے…
Read the full tafseer →The exception covers two states: (1) لَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍ (unless maneuvering for battle,) (2) أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍ (or turning to join a company) that is, when a war is on, turning one's back is permissible only under two conditions. Firstly, this turning back from the battlefield should simply be strategic, just to hoodwink the enemy and certainly not to bolt away from the battlefield in reality. In short, the purpose in sight should be to launch a blitzkrieg or a lightning attack on the enemy by making them complacent about what may look…
Read the full tafseer →13. The Qur'an does not forbid orderly retreat under strong pressure from the enemy provided it is resorted to as a stratagem of war, for example seeking reinforcements or joining another party in the rear. What the Qur'an does forbid is disorderly flight produced by sheer cowardice and defeatism. Such a retreat takes place because the deserter holds his life dearer than his cause. Such cowardice has been characterized as one of those three major sins which, if committed, can be atoned for by no other good deed whatsoever. These three sins are: ascription of divinity to anyone or anything…
Read the full tafseer →