Al-Anfaal 8:15

Al-Anfaal · from ayah 15

8:15

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ ۟ۚيٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا زَحۡفًا فَلَا تُوَلُّوۡهُمُ الۡاَدۡبَارَ‌ۚ‏

اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سے تمہار مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, when you meet those who disbelieve advancing [for battle], do not turn to them your backs [in flight].

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:15

اے ایمان لانے والو، جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سے تمہار مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! جب تم کافروں سے دو بدو مقابل ہو جاؤ تو ان سے پشت مت پھیرنا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! جب کافروں سے تمہارا آمنا سامنا ہوجائے، جبکہ وہ چڑھائی کر کے آرہے ہوں، تو ان کو پیٹھ مت دکھاؤ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو! جب کافروں کے لام (لشکر) سے تمہارا مقابلہ ہو تو انہیں پیٹھ نہ دو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! جب تم (میدانِ جنگ میں) کافروں سے مقابلہ کرو (خواہ وہ) لشکرِ گراں ہو پھر بھی انہیں پیٹھ مت دکھانا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، ایک لشکر کی صورت میں ملو تو ان سے پیٹھیں نہ پھیرو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! جب میدان جنگ میں تمہاری کافروں سے مڈ بھیڑ ہو تو کبھی پیٹھ نہ پھیرنا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو، جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہو فوج کشی کی صورت میں تو ان کو پیٹھ نہ دکھائیو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو جب تمہارے مڈھ بھیڑ (اور مقابلہ) ہوجائے کافروں کے کسی لشکر سے تو خبردار تم ان کو پیٹھ نہیں دکھانا

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو جب تمہارے سامنا ہوجائے گا کافروں کے لشکر کا تو ان سے پشت مت پھیرنا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ایمان جب تمہارا مقابلہ ہوجائے کافروں سے میدان جنگ میں تو تم ان سے پیٹھ مت پھیرنا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ایمان والو ! جب میدان جنگ میں کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers, whenever you encounter a hostile force of unbelievers, do not turn your backs to them in flight.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, when you face the disbelievers in a battle, do not turn your backs to them.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, when you face the disbelievers in a battle, do not turn your backs to them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! When you meet those who disbelieve, in a battlefield, never turn your backs to them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! When ye meet those who disbelieve in battle, turn not your backs to them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, when you meet those who disbelieve advancing [for battle], do not turn to them your backs [in flight].

— Saheeh International

Believers, do not retreat when facing the marching army of the unbelievers, for no believer will turn back at that time except for strategic reasons or to join another band.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! when you meet those who disbelieve marching for war, then turn not your backs to them.

— Muhammad Habib Shakir

O Ye who believe! whenever ye those who disbelieve matching meet slowly turn to them not your backs.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! when ye meet the Unbelievers in hostile array, never turn your backs to them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–16

شہیدان وفا کے قصے جہاد کے میدان میں جو مسلمان بھی بھاگ کھڑا ہوا اس کی سزا اللہ کے ہاں جہنم کی آگ ہے۔ جب لشکر کفار سے مڈبھیڑ ہوجائے اس وقت پیٹھ پھیڑ ہوجائے اس وقت پیٹھ پھیرنا حرام ہے ہاں اس شخص کے لئے جو فن جنگ کے طور پر پینترا بدلے یا دشمن کو اپنے پیچھے لگا کر موقعہ پر وار کرنے کے لئے بھاگے یا اس طرح لشکر پیچھے ہٹے اور دشمن کو گھات میں لے کر پھر ان پر اچانک چھاپہ مار دے تو بیشک اس کیلئے پیٹھ پھیرنا جائز ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں جانا ہو جہاں چھوٹے سے لشکر سے بڑے لشکر کا ٹکراؤ ہو یا امام اعظم سے ملنا ہو تو وہ بھی اس میں داخل ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن عمر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–15

سورة الْاَنْفَال 12 خطاب کا رخ یکایک کفار کی طرف پھر گیا ہے جن کے مستحق سزا ہونے کا ذکر اوپر کے فقرے میں ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اے ایمان والوں جب تم کافروں سے (جہاد میں) دو بدو مقابل ہوجاؤ تو ان سے پشت مت پھیرنا (یعنی جہاد سے مت بھاگنا) اور جو شخص ان سے اس موقع پر (یعنی مقابلہ کے وقت) پشت پھیرے گا مگر ہاں جو لڑائی کے لئے پینترا بدلتا ہو یا جو اپنی جماعت کی طرف پناہ لینے آتا ہو وہ مستثنی ہے باقی اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کے غضب میں آجائے گا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے (فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ الایة کے اندر بھی ایک قصہ کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ آپ نے بدر کے روز ایک مٹھی کنکریوں کی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی جس کے ریزے سب کی آنکھوں میں جاگرے اور ان کو شکست ہوئی اور فرشتوں کا امداد کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ۔ زحف کا مفہوم : زحف کے اصل معنی گھسل گھسل کر یا گھٹنوں پر چلنے کے ہیں۔ یہیں سے یہ کسی بھاری بھرکم۔ ساز و سامان سے لدے پھندے لشکر کے جنگ کے لیے نکلنے کے معنی میں استعمال ہوا اس لیے کہ وہ بھی آہستہ آہستہ ہی مارچ کرتا ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ لفظ کا یہ استعمال اس مشینی دور کا نہیں بلکہ اس دور کا ہے جب فوج کی نقل و حرکت گھوڑوں، گدھوں اور اونٹ وغیرہ کے ذریعہ سے ہوتی تھی۔ عرب میں جنگ کے دو معروف طریقے۔ عرب میں جنگ کے دو طریقے معروف تھے۔ ایک منظم فوج کشی کا، دوسرا وہ جس کو اس زمانے میں گوریلا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15۔ 1 زَ حْفًا کے معنی ہیں ایک دوسرے کے مقابل اور دوبدو ہونا۔ یعنی مسلمان اور کافر جب ایک دوسرے کے بالمقابل صف آرا ہوں تو پیٹھ پھیر کا بھاگنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایک حدیث میں ہے اَ جْتَنِبُوْا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ ' سات ہلاک کردینے والی چیزوں سے بچو ان سات میں ایک واتّوَلَیِ یَوم الزَّحْفِ (مقابلے والے دن پیٹھ پھیر جانا ہے)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–15

5: اتنے بڑے لشکر کے ساتھ تقریباً نہتے آدمیوں کا معرکہ پیش آنے والا ہو تو گھبراہٹ ایک طبعی امر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس گھبراہٹ کا علاج یہ فرمایا کہ صحابہ پر نیند طاری کردی، جس کی ایک تاثیر یہ ہوتی ہے کہ اس سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے، چنانچہ وہ جنگ سے پہلی رات جی بھر کر سوئے جس سے تازہ دم ہوگئے، نیز جنگ کے دوران بھی ان پر وقفے وقفے سے اونگھ طاری ہوتی رہی، جس سے انہیں سکون ملتا رہا۔ 6: مسلمانوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کفار نے بدر کے میدان میں پہلے پہنچ کر بہترین جگہ پر قبضہ کرلیا تھا جہاں پانی کافی تھا، اور زمین بھی سخت تھی، مسلمانوں کو جو جگہ ملی وہ ریتیلی جگہ تھی جس پر پاؤں جمتے نہیں تھے،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب جبکہ سابقہ واقعات بیان ہوگئے تو اس حقیقت کو ان کے ذہن نشین کرنے کے لیے دوبارہ بیان کیا جاتا ہے تاکہ یہ ان کی نظروں کے سامنے رہے کہ فیصلہ کن جنگ صرف سازوسامان اور زاد و عتاد پر موقوف نہیں ، بلکہ اس میں نصرت الٰہی اور اللہ کی تدبیر اور مشیت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ اس راہ میں اصل سازوسامان توکل علی اللہ ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف التجا اور اللہ کے ہاں فریاد وزاری اور اللہ کی تدبیر اور تقدیر اس میں فیصلہ کن ہوتی ہے۔ یہ منظر ابھی تک ان لوگوں کے ذہنوں میں اچھی طرح بیٹھا ہوا ہے۔ ایسے حالات اور ایسا ماحول اس بات کے لیے نہایت ہی مناسب ہوتا ہے اور اس میں بات مانی جاتی ہے۔ چناچہ ایسے ماحول میں مسلمانوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 " فرار من الزحف " (جہاد میں سے نکل کر بھاگنا اور لڑائی میں کفار کو پیٹھ دکھانا) بہت سخت گناہ اکبر الکبائر میں سے ہے اگر کافر تعداد میں مسلمانوں سے دگنے ہوں اس وقت تک فقہاء نے پیٹھ پھیرنے کی اجازت نہیں دی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا زحف میں باقاعدہ دو لشکروں کے ایک دوسرے کے مد مقابل آکر لڑنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ غزوۂ بدر سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے علاقے میں آٹھ مہمات expeditions بھیجی گئی تھیں ‘ مگر ان میں سے کوئی مہم بھی باقاعدہ جنگ کی شکل میں نہیں تھی۔ زیادہ سے زیادہ انہیں چھاپہ مار مہمات کہا جاسکتا ہے ‘ لیکن بدر میں مسلمانوں کی کفار کے ساتھ پہلی مرتبہ دو بدو جنگ ہوئی ہے۔ چناچہ ایسی صورت حال کے لیے ہدایات دی جارہی ہیں کہ جب میدان میں باقاعدہ جنگ کے لیے تم لوگ کفار کے مقابل آجاؤ : فَلاَ تُوَلُّوْہُمُ الْاَدْبَارَ مطلب یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 13–15

14 کفار مکہ کا آپ کو تکلیفیں پہنچانا اور آپ کی بددعا :۔ رسول اللہ ﷺ کو جس طرح کی ایذائیں پہنچائی جاتی تھیں ان کا ایک نمونہ درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے : سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ آپ ایک دفعہ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اور اس کے ساتھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے وہ آپس میں کہنے لگے کہ تم میں سے کون جاتا ہے اور فلاں لوگوں نے جو اونٹنی کاٹی ہے اس کا بچہ دان لا کر محمد ﷺ جب سجدہ کرے تو اس کی پیٹھ پر رکھ دیتا ہے ؟ یہ سن کر ان کا بدبخت ترین (عقبہ بن ابی معیط) اٹھا اور بچہ دان اٹھا لایا اور دیکھتا رہا، جب آپ ﷺ سجدہ میں گئے تو بچہ دان آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان میں پیٹھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

24 ۔ جہاد سے بھاگنا حرام ہے، عام حکم یہی ہے، بہ طور استثناء اجازت خاص خاص صورتوں میں ہے انکی تفصل کچھ تو یہیں قرآن مجید میں آرہی ہے اور کچھ فقہ کی کتابوں میں ملے گی، (آیت) ” اذا لقیتم الذین کفروا زحفا “۔ یعنی کافروں سے مڈبھیڑ ہو حالت جہاد میں۔ زحفا زحف کے لفظی معنی چھوٹے بچے کا گھسل گھسل کر چلنا ہے مجازا اس کا اطلاق لشکر پر بھی ہونے لگا کہ اسے بھی ہجوم کے باعث رک رک ہی کر چلنا ہوتا ہے۔ کالعسکر اذا کثر فیعثر انبعاثہ (راغب) الزحف الدنوقلیلا قلیلا ثم سمی کل ماش فی الحرب الی اخر زاحفا (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–15

آیت نمبر 11 تا 19 ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے اس خوف سے جو تم کو درپیش تھا غنودگی کی شکل میں تم پر سکون اور بےخوفی طاری کررہا تھا اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا ریا تھا کہ تم اصغر اور حدث اکبر سے پاک کرے اور تم سے اس شیطانی وسوسہ کو دور کرے کہ اگر تم حق پر ہوتے تو تم (اس طرح) پیاسے اور بےطہارت نہ ہوتے اور مشرک پانی ہر قابض نہ ہوتے اور تاکہ تمہارے قلوب کو یقین و صبر کے ساتھ مضبوط کرے اور تاکہ بارش کے ذریعہ تمہارے قدموں کو جما دے کہ ریت میں نہ دھنسیں، (اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارا رب ان فرشتوں سے کہہ رہا تھا جن کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد فرمائی مدد اور نصرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا الذین امنوا اذا لقیتم الذین کفروا زحفا فلا تو لوھم الادبار۔ اے ایمان والو ! جب تم کافروں سے (جہاد میں) دوبدو مقابل ہوجاؤ تو ان کو پشت نہ دینا۔ زَخْفًا ‘ لَقِیْتُمْکے فاعل و مفعول سے حال ہے۔ تزاحف کا معنی ہے : لڑائی کے وقت ایک کا دوسرے سے قریب ہوجانا (ایک جماعت کا اپنے مقابل کی جماعت میں مخلوط ہوجانا) یعنی جب تم میں سے بعض بعض کے قریب ہوجائیں ‘ مسلمان اور کافر باہم گڈمڈ ہوجائیں۔ کذا قال البغوی۔ میں کہتا ہوں : تزاحف کے معنی باہم قرب کے اسلئے ہیں کہ یہ لفظ زَحَفَ الصَّبِیُّ کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ بچہ سرینوں کے بل جب سرکنے لگتا ہے تو زَحَفَ الصَّبِیُّ کہا جاتا ہے۔ یا زَحَفَ الْبَعیرُ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 15–16

(15، 16) بدر کے دن کافروں سے سامنا ہوجانے کے بعد ان سے پیٹھ مت پھیرو اور جو شخص بدر کے دن شکست کھا کر ان سے پیٹھ پھیرے گا مگر ہاں جو لڑائی کے لیے پینترا بدلتا ہو یا اپنی جماعت کی طرف پناہ لینے اور مدد حاصل کرنے کی وجہ سے ہو اور اس سے مستثنی ہے باقی جو ایسا کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور ناراضگی کے ساتھ واپس لوٹے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا :”زَحَفَ الصَّبِیُّ“ جب بچہ زمین پر گھسٹتا ہوا چلے۔”زَحَفَ الْجَیْشُ“ بڑا لشکر بھی چونکہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے، اس لیے لشکر کے بڑھنے کو بھی ”زَحَفَ“ کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ دشمن جب مقابلے کے لیے میدان میں سامنے آکھڑا ہوا، تو بھاگو نہیں۔ یہ حکم صرف بدر ہی میں نہیں تھا بلکہ یہ حکم سب مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے ہے۔ متعدد احادیث میں کفار سے بھاگنے کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔“ ان میں سے ایک دشمن سے مڈ بھیڑ کے وقت پیٹھ پھیرنا ہے۔ [ بخاری، الوصایا، باب قول…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–16

آیت نمبر : 15۔ 16 اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : 1 قولہ تعالیٰ : آیت : زحفا، الزحف، الدنو قلیلا قلیلا یعنی اس کا معنی آہستہ آہستہ قریب ہونا، آگے بڑھنا، اور اس کا اصل معنی ہے الاندفاع علی الالیۃ ( سرین کے بل گھسٹ کر آگے بڑھنا) پھر جنگ میں آخر تک ہر چلنے والے کو زاحف کا نام دیا گیا ہے۔ اور التزاحف کا معنی ہے : باہم ایک دوسرے کے قریب ہونا۔ کہا جاتا ہے : زحف الی العدو زحفا ( وہ دشمن کی طرف انتہائی قریب ہوگیا) اور ازدحف القوم کا معنی ہے ان میں سے بعض بعض کی طرف چلے۔ اور اسی سے زحاف الشعر بھی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ دو حرفوں کے درمیان سے ایک حرف ساقط ہوجائے اور اس طرح ان میں سے ایک دوسرے کے قریب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–16

1:۔ بخاری نے اپنی تاریخ میں نسائی، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ نے نافع (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عمر ؓ سے سوال کیا کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں کہ لڑائی کے وقت اپنے دشمنوں سے ثابت قدم نہیں رہتے اور ہم نہیں جانتے کہ ہمارے سامنے ایک جماعت ہے یا ہمارا لشکر ہے۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا جماعت تو رسول اللہ ﷺ کی ہے۔ میں نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” اذ لقیتم الذین کفروا زحفا فلا تولوہم الادبار (15) فرمایا یہ آیت بدر والوں کے بارے میں نازل ہوئی نہ اس سے پہلے والوں کے لئے اور نہ اس کے بعد والوں کے لئے۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابو داود، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، نحاس نے اپنی ناسخ میں، ابو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [ اِذَا : جب کبھی ] [ لَقِيْتُمُ : تم لوگ ملو ] [ الَّذِيْنَ : ان سے جنہوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ زَحْفًا : لشکر کے چلتے ہوئے ] [ فَلَا تُوَلُّوْهُمُ : تو تم لوگ مت پھیرو ان سے ] [ الْاَدْبَارَ : پیٹھوں کو ] زح۔ (ف) : زحفا ۔ آہستہ آہستہ گھسٹنا ۔ کثرت کی وجہ سے لشکر کا آہستہ آہستہ چلنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 15 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–16

جب کافروں سے مقابلہ ہو تو جم کر قتال کرو اس آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب کافروں سے مقابلہ ہوجائے تو جم کر لڑیں پشت پھیر کر نہ بھاگیں۔ کیونکہ یہ گناہ کبیرہ ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو، عرض کیا گیا یا رسول اللہ وہ کیا ہے ؟ فرمایا (1) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا (2) جادو کرنا (3) کسی جان کو قتل کرنا جس کا قتل اللہ نے حرام قرار دیا الایہ کہ حق کے ساتھ ہو (4) سود کھانا (5) یتیم کا مال کھانا (6) جنگ کے موقعہ پر پشت پھیر کر چلا جانا (7) مومن پاک دامن عورتوں کو تہمت لگانا جن کو برائی کا دھیان تک نہیں ہے۔ (مشکوٰۃ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–16

بیان حرمت فرار از مقابلہ کفار قال اللہ تعالیٰ یا ایھا الذین امنوا اذا لقیتم الذین کفرو۔۔۔ الی۔۔۔ ابئس المصیر (ربط) گزشتہ آیت میں ملائکہ تثبیت مومنین کا حکم تھا اب ان آیات میں مومنین کو ثبات وقرار کا حکم ہے یعنی مسلمانوں پر میدان جہاد میں ثابت قدم رہنا واجب ہے اور مقابلہ کفار سے فرار حرام ہے بجز دو صورتوں کے ایک تو یہ کہ پسپائی سے کافروں کو دھوکہ دینا مقصود ہوتا کہ دشمن غافل ہوجائے پھر پلٹ کر دفعۃ اس پر حملہ کرے ظاہر میں بھاگنا ہو مگر در حقیقت مقصود حیلہ اور داؤ ہو، دوسری صورت یہ ہے کہ مقصود اصلی بھاگنا نہ ہو بلکہ بےسروسامانی کی وجہ سے اپنی مرکزی جامعت میں پناہ لینا ہو تاکہ ان کے ساتھ مل کر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15: مضمون ثانی (قوانین جہاد): یہاں سے قوانین جہاد کا بیان شروع ہوا، یہ پہلا قانون جہاد ہے۔ “ زَحْفًا ” بمعنی اسم فاعل “ کَفَرُوْا ” کی ضمیر سے حال واقع ہے۔ یعنی جب میدان جنگ میں کافروں کے لشکر سے مڈ بھیڑ ہوجائے اور وہ متحد ہو کر انبوہ در انبوہ مقابلہ میں آیا ہو تو پیٹھ پھیر کر مت بھاگو بلکہ جوانمردی اور ثابت قدمی سے اس کا مقابلہ کرو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–19

ربط آیات : گزشتہ آیات میں میدانِ بدر میں مسلمانوں کی بےسروسامانی کی حالت میں کامیابی کا ذکر تھا۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس قسم کے اسباب پیدا کیے اور اپنی طرف سے جو خاص مہربانی فرمائی ، اس کا بیان ہوا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرنے سے متعلق بعض قوانینِ صلح وجنگ بیان فرمائے ہیں دنیا میں فتنہ و فساد کی بیخ کنی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے بعض اوقات جہاد بالسیف ضروری ہوجاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جنگ میں پیش آنے والے بعض مسائل کے متعلق احکام نازل فرمائے ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات جنگ کو ترک کر کے مصالحت کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْہُمُ الْاَدْبَارَ۝ 15 ۚ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–18

ترکیب : اذا لقیتم شرط فلا تولوا جواب جملہ ندا ہے۔ زحفا مصدر موضع حال میں قبل ہو مصدر علی حال المحذوفۃ ای پزحفون زحفا الادبار جمع دبر مفعول ثانی ہے تولوا کا۔ ومن یولہم شرط یومئذ ظرف دبرہ مفعول ثانی فقد باء جواب الا متحرفا استثناء فی ہذہ الاحوال ای لایجوز التولی فی ایّ حال الافی التحرف ای التعطف لقتال بان تریھم الفرۃ کیدا ویزید الوقوع علیھم کرۃ او متحیزاً ای منضما الی فئۃٍ ای جماعت المسلمین ذلکم ای الامر ذلکم۔ تفسیر : چونکہ اس جنگ بدر میں کامیابی بظاہر اسباب استقلال اور ثابت قدمی سے واقع ہوئی اس لئے ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کو ہر ایک جنگ میں صبر و استقلال کا حکم دیتا ہے۔ بقولہ یا ایہا الذین امنوا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–16

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا فَلاَ تُوَلُّوْھُمُ الْاَدْبَارَ ۔ ج وَمَنْ یُّوَلِّھِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہٗٓ اِلَّا مُتَخَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْمُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ فَقَدْ بَآئَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَمَاْوٰہُ جَھَنَّمُ ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (الانفال : 15، 16) (اے ایمان والو ! جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہو فوج کشی کی صورت میں تو پھر ان سے پیٹھ مت پھیروجو کوئی ان سے پیٹھ پھیرے اس دن مگر یہ کہ جنگ کے لیے پینترا بدلنا چاہتاہویا کسی جماعت کی طرف سمٹ رہا ہو تو وہ لوٹا اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–16

فہم القرآن ربط کلام : غزوۂ بدر کے واقعات کا بیان جاری ہے۔ زمانۂ قدیم اور آج بھی بنیادی طور پر جنگ دو طرح لڑی جاتی ہے۔ گوریلا وار، اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے برسرپیکار ہونا۔ بدر کا معرکہ فریقین کے آمنے سامنے کی لڑائی تھی۔ جس کے لیے ” زَحْفاً “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ زحفا بچے کے گھسٹ گھسٹ کر چلنے کو کہا جاتا ہے۔ لشکر بڑا ہو تو وہ بھی اپنے ساز و سامان کے ساتھ سست رفتاری سے چلتا ہے۔ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ میں کفار کی تعداد ایک ہزار تھی اور ان کے ساتھ گھوڑے، خچر اور اونٹ بھی تھے۔ جس کی نقشہ کشی لفظ ” زَحْفاً “ کے ذریعے کی گئی ہے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب دشمن سامنے ہو یا مسلمانوں پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دوبدو جنگ کے احکامات : آیت 15: یٰٓاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓ ا اِذَا لَقِیتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا (اے ایمان والو ! جب تم کافروں سے دوبدو مقابل ہوجائو) یہ الذین کفروا سے حال ہے۔ الزحف وہ لشکر جو کثرت کی وجہ سے اس طرح نظر آئے گو یا وہ رینگ رہا ہے۔ یہ زحف الصبی سے بنا ہے۔ جبکہ وہ اپنے سرینوں پر آہستہ آہستہ سرکنے لگے۔ مصدر سے بطور نام کے استعمال ہوتا ہے۔ فَلاَ تُوَلُّوْھُمُ الْاَدْبَارَ (تو ان سے پشت مت پھیرنا) ان سے شکست کھا کر مت پھرو۔ یعنی جب ان سے لڑائی میں سامنا کرو، ان کی تعداد زیادہ اور تمہاری کم ہو تو پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو۔ چہ جائیکہ تم تعداد میں ان سے قریب یا برابر ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(51) (یا یھا الذین امنوا اذا لقیتم الذین کفروا زحفاً ) یعنی اکٹھے ایک دوسرے میں گھستے ہوئے اور التزاحف قتال میں ایک دوسرے کے قریب ہونا اور الزحف مصدر میں اس لئے جمع نہیں لائی گئی ان کے قول قول عدل و رضا کی طرح لیث (رح) فرماتے ہیں از حف جماعۃ یزحفون الی عدولھم بمرۃ فرماتے ہیں ان سے اپنی پیٹھ نہ پھیرو۔ یعنی شکست کھا کر نہ بھاگو کیونکہ شکست کھا کر بھاگنے والا پیٹھ پھیر لیتا ہے۔ (فلا تونوھم الادبار) اس کا مطلب یہ ہے کہ از حف اس جماعت کو کہتے ہیں جو دشمن کو ایک ہی بار ملے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–16

15۔ 16۔ اس آیت میں اللہ پاک لڑائی سے بھاگنے والوں کو فرماتا ہے کہ دشمنوں سے بھاگو نہیں اور جو بھاگے گا وہ خدا کا غضب لے کر گھر کی طرف پھریگا اور اس کا ٹھکانا جہنم میں بہت ہی بری جگہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ دین کی لڑائی سے بھاگنا گناہ کبیرہ ہے مگر اس صورت میں کہ اگر کوئی اس لئے لڑائی سے پیٹھ پھیرے کہ دشمن کو دھوکہ دے کر ایک طرف سے بھاگ کر اور پھر دوسری طرف سے دشمن کو قتل کریگا یا اپنے سردار کے پاس لوگ بھاگ کر جائیں تو ان دو صورتوں میں اللہ پاک نے بھاگنے کی اجازت دی ہے اسی کو فرمایا الامتحرفا لقتال اومتحیزا الی فئۃ کہ اس ارادہ سے کوئی لڑائی سے بھاگ نکلا کہ پھر آئے گا یا اپنی دوسری فوج میں شامل ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–15

آیت 9 یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمہاری مڈ بھیڑ کو یقینی اور قریب کردیا، تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لئے پکار اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ (فاستجاب لکم) ” پس اس نے تمہاری پکار کا جواب دیا “ اور متعدد امور کے ساتھ تمہاری مدد فرمائی، مثلاً اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجا (بالف من المئکۃ مردفین) ” ہزار فرشتے لگاتار آنے والے “ یعنی وہ پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔ (وما جعلہ اللہ) ” اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے “ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو (الا بشری) ” مگر خوش خبری “ تاکہ اس سے تمہارے دل خوشی حاصل کریں۔ (ولتطمئن بہ قلوبکم) ”…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 11–15

دوران جنگ نیند قول باری ہے اذیغشیکم العناس امنۃ منہ۔ اور وہ وقت جبکہ اللہ نے اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان اور بےخوفی کی کیفیت طاری کردی تھی جب کیل کانٹے سے مسلح دشمن کو اپنے بالمقابل صف آرا دیکھ کر عام حالات میں نیند اڑجاتی ہے خاص طور پر جبکہ دشمن ا ن سے کئی گناہ تھا۔ بارش کے ذریعہ مدد پھر فرمایا وینزل علیکم من السماء ماء لیطھرکم بہ۔ اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے) یعنی جنابت سے پاک کرے اس لئے کہ اسلامی لشکر میں کچھ افراد ایسے تھے جنہیں غسل جنابت کی ضرورت تھی۔ جنابت شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست ہے اس لئے کہ اس کے وسوسے کی بنا پر یہ صورت پیش آتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

21 معرکے میں پیٹھ دکھانا جرم عظیم ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جب تمہاری کافروں کے کسی لشکر سے مڈبھیڑ ہوجائے تو تم ان کو پیٹھ نہیں دکھانا اور میدان چھوڑ کر بھاگنا نہیں کہ یہ ایک سنگین جرم اور بڑا سخت گناہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ اس سے بعض اوقات جیتی ہوئی بازی ہر جاتی ہے۔ اور فتح شکست میں بدل جاتی ہے۔ اسی لیے " فرار من الزحف " یعنی میدان کارزار سے بھاگنے کو سبع موبقات یعنی ان سات بڑے گناہوں میں سے قرار دیا گیا ہے جو ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں ڈالنے والے ہیں، جیسا کہ بخاری و مسلم وغیرہ کی صحیح حدیث میں حضرت نبی معصوم ﷺ سے مروی ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–17

اللہ کی حکمتیں، کفار کی سزا اور مسلمانوں کی مدد تشریح : غزوئہ بدر مسلمانوں اور کفار کے درمیان میدان جنگ میں لڑنے کا پہلا معرکہ تھا۔ گو کہ مسلمان کم اور کفار زیادہ تھے۔ اسی لیے صحابہ کرام کا خیال تھا کہ اگر ابوسفیان کے قافلے سے مقابلہ ہوجائے تو زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک تو وہ جنگی تیاری سے نہیں نکلے اور دوسرے مال و دولت خوب ہاتھ لگے گا۔ مگر اللہ کا فیصلہ اس کے برعکس تھا۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ زورآور اور حکمت والا ہے وہ اسلام کی طاقت اور کفر کی بےبسی کا فیصلہ دشمنوں کو صاف طور پر دکھانا چاہتا تھا کہ دیکھو مسلمانوں کی روحانی طاقت اور توکل علی اللہ کس قدر مضبوط ہے کہ ایک چھوٹی سی اور بےسروسامان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–19

آیات 11 تا 19 اسرار و معارف مزید انعامات یہ کہ مقام بدر میں مشرکین نے ایسی جگہ قبضہ کرلیا جو اونچائی پر تھی اور نسبتا مضبوط زمین تھی اور مسلمانوں کو ایسی جگہ ٹھہرناپڑاجونشیبی تھی حضرت حباب بن منذر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول ﷺ اللہ اگر یہ جگہ پر قبضہ کرلیا جائے چناچہ آپ ﷺ کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور پھر حضرت سعدبن معا ؓ ذ کے مشورہ سے ایک طرف ذرابلند ی پر آپ ﷺ کے لیے ایک چھونپڑی سی بنادی گئی جس میں صرف صدیق اکبر ؓ کو شرف حضوری حاصل تھا اور حضرت معاذ ؓ دروازہ پر بہرہ دے رہے تھے۔ یہ بدر کی پہلی شب تھی دونوں لشکروں کا دن اس طرح بسرہوارات کفاراونچی اور مضبوط زمین پر تھے اور مسلمان نشیبی زمین پر جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–15

ف 1 یعنی ان کے مقابلہ س بھاگو نہیں، بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ حکم صحابہ ؓ کو بدر کے لیے تھا مگر یہ رائے صحیح نہیں بلکہ یہ حکم سب مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے ہے متعدد احادیث میں کفار کے مقابلہ سے بھاگنے کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو، پھر آپ ﷺ نے ان سات چیزوں کو ذکر فرمایا جن میں سے ایک کافروں کے مقابلہ سے بھاگنا ہے۔ ( شوکانی، ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:15) زحفا۔ زحف یرحف (فتح) کا مصدر ہے زحفا حال ہے من الذین کفروا کا۔ یعنی درآں حالیکہ کفار کثیر التعداد ہوں۔ زمخشری لکھتے ہیں ۔ زحف وہ انبوہ درانبوہ لشکر ہے جو اپنی کثرت کی بناء پر ایسا معلوم ہونے لگے کہ گویا گھسٹ رہا ہے یہ زحف الصبی سے ہے جس کا استعمال بچہ کے سرین کے بل ذرا ذرا گھسٹنے کیلئے آتا ہے مصدری اسم ہوکر مستعمل ہے۔ اس کی جمع زحوف ہے۔ فلاتولوہم الادبار۔ تو ان کی طرف اپنی پیٹھیں مت پھیرو۔ ازبار جمع دبر کی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–18

آیات : 15 تا 18 لغات القرآن۔ لقیتم۔ تم نے ملاقات کی۔ تم ملے۔ زحف۔ لڑائی۔ لاتولوا۔ تم نہ پھیرو۔ یومئذ۔ اس دن۔ متحرف۔ پینترا بدلنے والے (جنگی چال) ۔ متحیز۔ ملنے والے۔ رمیت۔ تو نے پھینکا۔ رمی۔ اس نے پھینکا۔ بلاء حسن۔ اچھی طرح آزمانا۔ موھن۔ سست اور ضعیف کرنے والا تشریح : دراصل جنگ ہو یا امن۔ زندگی کا میدان ہو یا پریشانی کے حالات جو لوگ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں وہی دنیا اور آخرت کی کامیابی کے حقدر ہوتے ہیں لیکن وہ لوگ جو میدان چھوڑ کر اور پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہیں کبھی کسی طرح کی کامیابی حاصل نہیں کیا کرتے۔ ان آیت میں اس بات کو فرمایا جا رہا ہے کہ اے مومنو ! جب بھی کسی جنگ میں تمہارا مقابلہ کفار…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–16

میدان جنگ سے بھاگنے اور فخر کی ممانعت اس آیت میں اللہ تعالیٰ لڑائی سے بھاگنے والوں کو فرماتا ہے کہ دشمنوں سے بھاگو نہیں اور جو بھاگے گا وہ خدا کا غضب لے کر گھر کو پھرے گا، اور اس کا ٹھکانہ جہنم میں بہت ہی بری جگہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–16

[3] آیت 9 سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے وہ احسانات یاد دلائے ہیں جو اس نے جنگ بدر میں ان پر کئے تھے۔ مقصد اس بات کو واضح کرنا ہے کہ تم خود ہی حساب لگا کر دیکھ لو کہ اس فتح میں تمہاری اپنی کاوشوں کا کتنا حصہ تھا اور اللہ کی عنایات کا کتنا حصہ۔ اس لئے یہ فیصلہ کرنا کہ مال غنیمت کس طرح تقسیم ہو تمہارا نہیں اللہ کا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–15

(ف 1) فرشتے اللہ کا حکم پاکر کفر کو مرعوب کرتے رہے ، اور اس کا اثر آج تک مسلمان محسوس کرتا ہے ، وہ ہزار کمزور ہے کفر کے خلاف پوری طرح جانباز ہے گو وہ تمام قوموں سے پیچھے ہے ، گر رعب اب تک قائم ہے ، کفر وطاغوت کی تمام فوجیں مسلمان سے خائف ہیں ، کیونکہ یہی تنہا استعمار کے لئے خطرہ ہے ، حل لغات : مردفین : مردف کی جمع ہے ، یعنی فرشتے ، ردیف دار آتے ہیں گے ، لیربط علی قلوبکم ، ربط علی قلبہ محاورہ ہے مراد حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

15 اے ایمان والو ! جب تمہارا ایسے لوگوں سے مقابلہ ہوجائے جنہوں نے راہ کفر و انکار اختیار کررکھی ہے اور تم ان سے بھڑجائو کہ میدانِ نجگ میں آمنے سامنے آجائو تو پھر ان منکروں کو پشت نہ دکھائو اور پیٹھ دکھا کر ان کو لوٹو نہیں۔ یعنی بھاگو نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–15

ف 2۔ اس میں اشارہ ہے ایک قصہ کی طرف بیان اس اجمال کا یہ ہے کہ بدر میں مشرکین پہلے جاپہنچے تھے اور پانی پر قبضہ کرلیا تھا مسلمان بعد میں پہنچے اور ایک خشک ریگستان میں اترے جہاں پانی نہ ہونے سے پیاس کی بھی شدت اور نماز کے وقت وضو اور غسل سے بھی عاجز اور تیمم کا حکم اس وقت نازل نہ ہوا تھا ادھر ریگستان میں چلنا پھرنا مصیبت کہ اس میں پاوں دھنسے جاتے تھے ان اسباب سے قلب سخت پریشان ہوا اوپر سے شیطان نے وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم اگر اللہ کے نزدیک مقبول ومنصور ہوتے تو اس پریشانی میں کیوں پھنستے حالانکہ یہ وسوسہ محض بےبنیاد تھا مگر پریشانی بڑھانے کے لیے کافی تھا اللہ نے اول باران رحمت نازل فرمایا جس…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ میدان جنت سے کسی حال میں بھی نہ بھاگیں : 22: زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنگی قانون کی ایک شق واضح فرمادی کہ مسلمان کی شان نہیں کہ وہ میدان زحف سے بھاگ نکلے او پیٹھ پر زخم کھائے اور ابدی عذاب کا بھی مستحق ہو بلکہ وہ لڑ کر جان دیتا ہے اور اس طرح وہ ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی اختیار کرلیتا ہے اور اس زندگی سے نکل کر وہ ابدی زندگی میں داخل ہوجاتا ہے اور یہ اس کی کامیابی کا گویا سرٹیفکیٹ ہے جو اس کو حاصل ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Out of the verses appearing above, the first two (15-16) tell us about a military law of Islam. The word: زحف (zahf) translated here literally as 'marching to battle' denotes the confrontation and intermingling between the two armies. The sense is that once a war is on, turning back and deserting the battlefield is not permissible for Muslims. The second verse (16) refers to an exception to this rule, and to a severe punishment for illegal deserters.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–15

12. Here the discourse is suddenly directed to the unbelievers who we mentioned (in verse 13) as deserving of God's punishment.

Read the full tafseer →