Al-Anfaal 8:12

Al-Anfaal · from ayah 12

8:12

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَی الْمَلٰٓىِٕكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ؕ— سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ ۟ؕاِذۡ يُوۡحِىۡ رَبُّكَ اِلَى الۡمَلٰۤئِكَةِ اَنِّىۡ مَعَكُمۡ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا‌ ؕ سَاُلۡقِىۡ فِىۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍؕ

جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب وہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور ان کا پور پور مار (کر توڑ) دو

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Remember] when your Lord inspired to the angels, "I am with you, so strengthen those who have believed. I will cast terror into the hearts of those who disbelieved, so strike [them] upon the necks and strike from them every fingertip."

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:12

اور وہ وقت جبکہ تمہارا رب فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ“میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہلِ ایمان کو ثابت قدم رکھو، میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رُعب ڈالے دیتا ہوں، پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب وہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور ان کا پور پور مار (کر توڑ) دو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس وقت کو یاد کرو جب کہ آپ کا رب فرشتوں کو حکم دیتا تھا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں سو تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ میں ابھی کفار کے قلوب میں رعب ڈالے دیتا ہوں، سو تم گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور کو مارو

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ وقت جب تمہارا رب فرشتوں کو وحی کے ذریعے حکم دے رہا تھا کہ : میں تمہارے ساتھ ہوں، اب تم مومنوں کے قدم جماؤ میں کافروں کے دلوں میں رعب طاری کردوں گا، پھر تم گردنوں کے اوپر وار کرو، اور ان کی انگلیوں کے ہر ہر جوڑ پر ضرب لگاؤ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب اے محبوب! تمہارا رب فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت رکھو عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈالوں گا تو کافروں کی گردنوں سے اوپر مارو اور ان کی ایک ایک پور (جوڑ) پر ضرب لگا ؤ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیبِ مکرم! اپنے اعزاز کا وہ منظر بھی یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے فرشتوں کو پیغام بھیجا کہ (اَصحابِ رسول کی مدد کے لئے) میں (بھی) تمہارے ساتھ ہوں، سو تم (بشارت و نصرت کے ذریعے) ایمان والوں کو ثابت قدم رکھو، میں ابھی کافروں کے دلوں میں (لشکرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا) رعب و ہیبت ڈالے دیتا ہوں سو تم (کافروں کی) گردنوں کے اوپر سے ضرب لگانا اور ان کے ایک ایک جوڑ کو توڑ دینا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب تیرا رب فرشتوں کی طرف وحی کر رہا تھا کہ بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں، پس تم ان لوگوں کو جمائے رکھو جو ایمان لائے ہیں، عنقریب میں ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے کفر کیا، رعب ڈال دوں گا۔ پس ان کی گردنوں کے اوپر ضرب لگاؤ اور ان کے ہر ہر پور پر ضرب لگاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب آپ کا پروردگار فرشتوں کو حکم دے رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں لہذا مسلمانوں کے قدم جمائے رکھو۔ میں ابھی کافروں کے دل میں رعب ڈال دوں گا پس تم ان کی گردنوں اور ہر جوڑ پر ضربیں لگاؤ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یاد کرو جب تمہارا رب فرشتوں کو وحی کرتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تو تم ایمان والوں کو جمائے رکھو۔ میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا تو مارو ان کی گردنوں پر اور مارو ان کے پور پور پر۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب کہ اشارہ فرما رہا تھا تمہارا رب فرشتوں کو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، پس تم ثابت قدم رکھو ایمان والوں کو، میں ابھی رعب ڈالے دیتا ہوں کافروں کے دلوں میں، پس تم (کس کس کر) ضربیں لگاؤ ان کی گردنوں پر، اور کاٹ ڈالو ان کے پور پور (اور جوڑ جوڑ) کو،

— مولانا اسحاق مدنی

(اور اس وقت کو یاد کرو) جب آپ کا پروردگار وحی کررہا تھا فرشتوں کی جانب کہ میں تمہارے ساتھ ہوں سو ایمان والوں کو جمائے رکھو۔ میں بھی کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں سو تم (کافروں کی) گردنوں کے اوپر مارو اور ان کے پور پور پر ضرب لگاؤ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یاد کریں جب آپ ﷺ کا رب وحی کر رہا تھا فرشتوں کو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تو تم (جاؤ اور) اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں پس مارو ان کی گردنوں کے اوپر اور مارو ان کی ایک ایک پور پر۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب تمہارا رب فرشتوں کو حکم دے رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں، میں ابھی کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔ تم ان کی گردنیں اڑا دو اور ان کی پورپور کاٹ دو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And recall when your Lord inspired the angels: 'I am certainly with you. So make firm the feet of those who believe. I will cast terror into the hearts of those who disbelieve. So strike at their necks and strike at every pore and tip.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When your Lord revealed to the angels: :I am with you. So, make firm the feet of those who believe. I shall cast awe into the hearts of those who disbelieve. So, strike at the necks, and strike at every finger-joint of theirs.

— Muhammad Taqi Usmani

When your Lord revealed to the angels: :I am with you. So, make firm the feet of those who believe. I shall cast awe into the hearts of those who disbelieve. So, strike at the necks, and strike at every finger-joint of theirs.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Remember) when your Lord revealed to the angels, "Verily, I am with you, so keep firm those who have believed. I will cast terror into the hearts of those who have disbelieved, so strike them over the necks, and smite over all their fingers and toes."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When thy Lord inspired the angels, (saying): I am with you. So make those who believe stand firm. I will throw fear into the hearts of those who disbelieve. Then smite the necks and smite of them each finger.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Remember] when your Lord inspired to the angels, "I am with you, so strengthen those who have believed. I will cast terror into the hearts of those who disbelieved, so strike [them] upon the necks and strike from them every fingertip."

— Saheeh International

Your Lord inspired the angels saying, "I am with you. Encourage the believers. I shall cast terror into the hearts of the unbelievers and you will strike their heads and limbs;

— Muhammad Sarwar

When your Lord revealed to the angels: I am with you, therefore make firm those who believe. I will cast terror into the hearts of those who disbelieve. Therefore strike off their heads and strike off every fingertip of them.

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time thy Lord inspired the angels: verily I am with you, so keep firm those who have believed; will cast horror into the hearts of those who have disbelieved, so smite them above the neck and smite of them every fingertip.

— Abdul Majid Daryabadi

Remember thy Lord inspired the angels (with the message): "I am with you: give firmness to the Believers: I will instil terror into the hearts of the Unbelievers: smite ye above their necks and smite all their finger-tips off them."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–14

تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پرشوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت (ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ يَظُنُّوْنَ باللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۭ يَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قُلْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْفَال 10 جو اصولی باتیں ہم کو قرآن کے ذریعہ سے معلوم ہیں ان کی بنا پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرشتوں سے قتال میں یہ کام نہیں لیا گیا ہوگا یہ وہ خود حرب و ضرب کا کام کریں، بلکہ شاید اس کی صورت یہ ہوگی کہ کفار پر جو ضرب مسلمان لگائیں وہ فرشتوں کی مدد سے ٹھیک بیٹھے اور کاری لگے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–14

معارف و مسائل شروع سورة انفال سے اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کا بیان ہو رہا ہے جو اس کے فرمانبردار بندوں پر مبزول ہوئے۔ غزوہ بدر کے واقعات بھی اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ غزوہ بدر میں جو انعامات حق تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئے ان میں سے پہلا انعام تو خود اس جہاد کے لئے مسلمانوں کو نکالنا ہے جس کا بیان (آیت) كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ میں ہوا ہے، دوسرا انعام فرشتوں کی مدد کا وعدہ ہے جس کا ذکر (آیت) اِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ میں آیا ہے۔ تیسرا انعام دعا کی قبولیت اور مدد کا وعدہ پوا کرنا ہے جس کا ذکر (آیت) اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ ، میں ہوا ہے۔ مذکور الصدر آیات میں سے پہلی آیت میں چوتھے انعام کا تذکرہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اِذْ يُوْحِيْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰۗىِٕكَةِ۔ یہاں ملائکہ سے مراد ملائکہ کی وہی فوج ہے جس کی اوپر بشارت دی گئی۔ یہ فوج براہ راست راب الافواج کی کمان میں تھی اس وجہ سے اس کو احکام بھی براہ راست اسی کی طرف سے ملتے تھے اور ان احکام کا ذریعہ وحی الٰہی تھی اس لیے کہ فرشتے بھی بایں علو مرتبت خدا تک براہ راست رسائی نہیں رکھتے۔ اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔ یہ پہلا حکم ہے جو اس فوج کو ملا۔ ارشاد ہوا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تو تم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھو۔ اس سے ایک بات تو یہ نکلی کہ خدا کی معیت کے بغیر فرشتے بھی کچھ نہیں کرسکتے۔ دوسری یہ کہ فرشتوں کا کام بھی بہرحال یہ نہیں تھا کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 12–14

12۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے سے اور خاص اپنی طرف سے جس جس طریقے سے مسلمانوں کی بدر میں مدد فرمائی اس کا بیان ہے۔ 12۔ 1 بَنَانِ۔ ہاتھوں اور پیروں کے پور۔ یعنی ان کی انگلیوں کے اطراف (کنارے) یہ اطراف کاٹ دیئے جائیں تو ظاہر ہے کہ وہ معزور ہوجائیں گے۔ اسطرح وہ ہاتھوں سے تلوار چلانے کے اور پیروں سے بھاگنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–15

5: اتنے بڑے لشکر کے ساتھ تقریباً نہتے آدمیوں کا معرکہ پیش آنے والا ہو تو گھبراہٹ ایک طبعی امر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس گھبراہٹ کا علاج یہ فرمایا کہ صحابہ پر نیند طاری کردی، جس کی ایک تاثیر یہ ہوتی ہے کہ اس سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے، چنانچہ وہ جنگ سے پہلی رات جی بھر کر سوئے جس سے تازہ دم ہوگئے، نیز جنگ کے دوران بھی ان پر وقفے وقفے سے اونگھ طاری ہوتی رہی، جس سے انہیں سکون ملتا رہا۔ 6: مسلمانوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کفار نے بدر کے میدان میں پہلے پہنچ کر بہترین جگہ پر قبضہ کرلیا تھا جہاں پانی کافی تھا، اور زمین بھی سخت تھی، مسلمانوں کو جو جگہ ملی وہ ریتیلی جگہ تھی جس پر پاؤں جمتے نہیں تھے،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ ایک عظیم معاملہ ہے ، اس معرکے میں فوج ملائکہ کے ساتھ خود اللہ بھی موجود ہیں اور ملائکہ اہل ایمان کی مدد کے لیے آ رہے ہیں۔ یہ اس قدر عظیم معاملہ ہے جو کسی صورت میں بھی نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں ہے۔ سوچئے ! ملائکہ کس طرح شریک ہوئے ؟ انہوں نے کتنے افراد کو مارا ؟ کس طرح مارا ؟ یہ ایک عظیم معاملہ ہے اور بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ جو جماعت اقامت دین کا کام کرتی ہے اس میں اس کے ساتھ ملائکہ شریک ہوتے ہیں اور ملائکہ اس میں حصہ لیتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ مخلوقات رب العالمین میں ایک مخلوق ایسی ہے جسے ملائکہ کہا جاتا ہے کہ ان کی طبیعت اور ماہیت کیا ہے ؟ اس کے بارے میں ہمیں صرف اس قدر علم دیا گیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 12–14

3 جنگ بدر کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ اس معرکہ میں خود ابلیس لعین کنانہ کے سردار اعظم سراقہ بن مالک مدلجی کی صورت میں ممثل ہو کر ابو جہل کے پاس آیا اور مشرکین کے خوب دل بڑھائے کہ آج تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا، میں اور میرا سارا قبیلہ تمہارے ساتھ ہے۔ ابلیس کے جھنڈے تلے بڑا بھاری لشکر شیاطین کا تھا۔ یہ واقعہ آگے آئے گا۔ اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کی کمک پر شاہی فوج کے دستے جبرائیل و میکائیل کی کمانڈ میں یہ کہہ کر بھیجے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر شیاطین آدمیوں کی صورت میں (ہم شکّل) ہو کر کفار کے حوصلے بڑھا رہے ہیں اور ان کی طرف سے لڑنے کو تیار ہیں اور مسلمانوں کے قلوب کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12 اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلآءِکَۃِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط۔ وہی ایک ہزار فرشتے جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے ‘ انہیں میدان جنگ میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ رہنے کی ہدایت کا تذکرہ ہے۔ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْہُمْ کُلَّ بَنَانٍ اللہ تعالیٰ نے کفار کو بھر پور مقابلے کے دوران دہشت زدہ کردیا تھا اور جب کوئی شخص اپنے حریف کے مقابلے میں دہشت زدہ ہوجائے تو اس کے اندر قوت مدافعت نہیں رہتی۔ پھر وہ گویا حملہ آور کے رحم وکرم پر ہوتا ہے ‘ وہ جدھر سے چاہے اسے چوٹ لگائے ‘ جدھر سے چاہے اسے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 مسلمانوں کی قدرتی وسائل سے امداد :۔ اب یہاں سے ان قدرتی اسباب کا ذکر شروع ہوتا ہے جو بالآخر مسلمانوں کی فتح کا سبب بنے تھے اور یہ اسباب چار تھے۔ بالفاظ دیگر اس جنگ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی چار طرح سے مدد فرمائی تھی اور اس ذکر سے اس طرف بھی اشارہ کرنا مقصود ہے کہ جب اس جنگ میں فتح کے قدرتی اسباب کا بہت زیادہ عمل دخل ہے تو پھر تم مال غنیمت پر تنازعہ اور قبضہ کیسے کرسکتے ہو۔ یہ تو محض اللہ کی مدد سے تمہیں میسر آیا ہے۔ لہذا یہ مال اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ہی ہونا چاہیے۔ اللہ کا رسول ﷺ جیسے چاہے اسے تقسیم کرے گا۔ ہوا یہ تھا کہ میدان بدر میں مسلمانوں کے پہنچنے سے پہلے کافر پہنچ کر ایک پکی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

20 ۔ یعنی اپنے تصرفات ملکی سے ان کی ہمت بڑھائے رکھو۔ (آیت) ” الی الملئکۃ “۔ یعنی انہی فرشتوں کی جانب جو امداد مومنین کے لئے نازل ہوئے تھے (آیت) ” انی معکم “۔ یعنی تم حسب ارشاد اپنا کام کیے جاؤ اثر پیدا کرنا ہمارا کام ہے اور اصل شے یہی معیت الہی ہے۔ 21 ۔ یہ سب بیان اور تفصیل ہے (آیت) ” ثبتوا “۔ کی (آیت) ” سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب “۔ یہ بیان ہے (آیت) ” انی معکم “ کا۔ فوق الاعناق “۔ میں فوق، علی، کے معنی میں لیا گیا ہے۔ فوق بمعنی علی (معالم) بنان کہتے ہیں انگلیوں اور ان کے پوروں کو۔ البنان الاصابع (راغب) البنان الاصابع یرید الاطراف (کشاف) (آیت) ” واضربوامنھم کل بنان “۔ جنگ ظاہر ہے کہ دست…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–15

آیت نمبر 11 تا 19 ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے اس خوف سے جو تم کو درپیش تھا غنودگی کی شکل میں تم پر سکون اور بےخوفی طاری کررہا تھا اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا ریا تھا کہ تم اصغر اور حدث اکبر سے پاک کرے اور تم سے اس شیطانی وسوسہ کو دور کرے کہ اگر تم حق پر ہوتے تو تم (اس طرح) پیاسے اور بےطہارت نہ ہوتے اور مشرک پانی ہر قابض نہ ہوتے اور تاکہ تمہارے قلوب کو یقین و صبر کے ساتھ مضبوط کرے اور تاکہ بارش کے ذریعہ تمہارے قدموں کو جما دے کہ ریت میں نہ دھنسیں، (اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارا رب ان فرشتوں سے کہہ رہا تھا جن کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد فرمائی مدد اور نصرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذ یوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم فثبتوا الذین امنوا سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب فاضربوا فوق الاعناق و اضربوا منھم کل بنان۔ اس وقت کو یاد کرو جبکہ تمہارا رب فرشتوں کو حکم دے رہا تھا کہ میں تمہارا ساتھی (یعنی مددگار) ہوں ‘ سو تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ ‘ میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔ پس تم ان کی گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور پر مارو۔ الملائکۃ سے مراد وہ ملائکہ ہیں جن کو مسلمانوں کی کمک کیلئے بھیجا گیا تھا۔ اَنِّیْ مَعَکُمْیعنی مسلمانوں کی مدد کرنے میں میں تمہارے ساتھ ہوں (حضرت مفسر کی مراد یہ ہے کہ معیت سے جسمانی معیت مراد نہیں ہے بلکہ اللہ کے ساتھ ہونے سے مراد ہے اللہ کی مدد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(12) اور جب آپ کے پروردگار نے ان امداد کے فرشتوں کو وحی کی، یا حکم دیا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں کہ لڑائی میں مومنوں کی مدد کرو فتح کی بشارت دے کر ان کی ہمت بڑھاؤں، میں ان کفار کے دلوں میں رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کا رعب ڈالے دیتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِذْ يُوْحِيْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰۗىِٕكَةِ اَنِّىْ مَعَكُمْ : اس سے معلوم ہوا کہ فرشتے بھی اپنے طور پر کچھ نہیں کرسکتے۔ سَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ : یہ چوتھا انعام ہے جو میدان بدر ہی میں نہیں بلکہ تمام جنگوں میں رسول اللہ ﷺ اور امت مسلمہ کو عطا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔“ ان میں سے ایک یہ بیان فرمائی : ”مجھے ایک مہینے کی مسافت پر رعب کے ذریعے سے مدد دی گئی۔“ [ بخاری، التیمم، بابٌ : 335 ] اس کا باعث اللہ تعالیٰ نے دوسری آیات میں کفار کا مشرک ہونا بیان فرمایا۔ دیکھیے سورة آل عمران (151)۔ فَاضْرِبُوْا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 12 قولہ تعالیٰ : آیت : اذ یوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم، اذ میں عامل یثبت ہے یعنی یثبت بہ الاقدام ذالک لوقت ( وہ اس وقت اس کے ساتھ قدموں کو جما دے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عامل لیریط ہے ای ولیربط اذ یوحی ( اور تاکہ مضبوط کر دے (دلوں کو) جب اس نے وحی فرمائی) اور تقدیر عبارت ہوگئی : اذکر (یاد کرو) اور آیت : اذ یوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم محل نصب میں ہے اور معنی ہے بانی معکم یعنی مدد ونصرت کے ساتھ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ معکم عین کے فتحہ کے ساتھ ظرف ہے اور جنہوں نے اسے ساکن پڑھا ہے ان کے نزدیک یہ حرف ہے۔ آیت : فثبتوا الذین امنوا یعنی تم انہیں بشارت دو مدد ونصرت کی یا ان کے ساتھ مل کر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–14

1۔ ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ ابو بدر عباد بن ابولید المغبری (رح) نے ہم کو اپنے خطبہ میں خبر دی کہ اس نے کہا میں نے ابو سعید احمد بن داود الحداد کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو یہ نہیں فرمایا کہ اس کے ساتھ ہے مگر بدر کے دن فرشتوں کے لئے فرمایا بلاشبہ میں تمہارے ساتھ ہوں مدد کے لئے۔ 2۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) نے فرمایا کہ فرشتے نہیں لڑے مگر بدر کے دن۔ 3۔ ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ نے ابوامامہ بن سہل بن حنیف (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میرے والد نے بتایا اے میرے بیٹے ہم نے بدر کے دن دیکھا اور ہم میں سے ایک کوئی اپنی تلوار سے اشارہ کرتا تھا مشرک کے سر کی طرف…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِذْ : جب ] [ يُوْحِيْ : وحی کیا ] [ رَبُّكَ : آپ کے رب نے ] [ اِلَى الْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں کی طرف ] [ اَنِّىْ : کہ میں ] [ مَعَكُمْ : تمہارے ساتھ ہوں ] [ فَثَبِّتُوا : پس تم لوگ جمادو ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو جو ] [ اٰمَنُوْا ۭ: ایمان لائے ] [ سَاُلْقِيْ : میں ڈالوں گا ] [ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ : ان کے دلوں میں جنہوں نے ] [ كَفَرُوا : کفر کیا ] [ الرُّعْبَ : رعب ] [ فَاضْرِبُوْا : پس تم لوگ مارو ] [ فَوْقَ الْاَعْنَاقِ : گردنوں کے اوپر ] [ وَاضْرِبُوْا : اور مارو ] [ مِنْهُمْ : ان میں سے ] [ كُلَّ بَنَانٍ : سب پوروں کو ] ع ن ق ۔ (س) : عنقا ۔ لمبی گردن والا ہونا۔ عنق ۔ ج : اعناق ۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

فرشتوں کا قتال میں حصہ لینا اور اہل ایمان کے قلوب کو جمانا اس آیت میں اللہ جل شانہٗ نے اپنے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہے کہ اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم مومنین کے قلوب کو جماؤ اور ان کو معرکہ میں ثابت رکھو میں تمہارے ساتھ ہوں یعنی تمہارا مددگار ہوں۔ نیز یہ وعدہ فرمایا کہ میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کو پورا فرمایا۔ مسلمان جم کر لڑے اور کافر مقتول ہوئے اور مغلوب ہوئے اور قیدی بنے۔ (فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ ) (اور مارو گردنوں پر) اس کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ فرشتوں کو حکم ہے کہ وہ مشرکین کو ماریں۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

انعام پنجم قال اللہ تعالیٰ اذ یوحی ربک الی الملئکۃ۔۔۔ الی۔۔۔ واضربوا منھم کل بنان (ربط) یہ بھی اسی جنگ بدر کا ایک واقعہ ہے جو حق جل شانہ کے ایک خاص الخاص انعام پر مشتمل ہے حق تعالیٰ نے جنگ بدر میں فرشتوں کو حکم دیا کہ مسلمانوں کے ہمراہ رہو اور الہام کے ذریعہ ان کے دلوں کو مضبوط اور قوی کرو جس طرح شیاطین کو دلوں میں وسوسہ ڈالنے کی قدرت اور اختیار ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو وسوسہ دفع کرنے کی اور قلب میں خیر کے الہام اور القاء کی قدرت عنایت فرمائی ہے جیسا کہ روح المعانی میں زجاج سے منقول ہے اور فرشتہ جو نیک خیال دل میں القاء کرتا ہے اس کو لمہ اور الہام کہتے ہیں۔ قال الزجاج کان باشیاء…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12: یہ پانچویں علت ہے۔ “ اِنِّیْ ” سے پہلے “ قُوْلُوْا ” محذوف ہے “ مَعَکُمْ ” میں “ کُمْ ” ضمیر سے مؤمنین مراد ہیں نہ کہ فرشتے تاکہ یہ اعتراض لازم نہ آئے کہ کیا فرشتے بھی ڈرتے تھے، ابلیس انسانی شکل میں نمودار ہو کر مشرکین کی حوصلہ افزائی اور مسلمانوں کی جو صلہ شکنی کر رہا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو انسانی شکلوں میں مسلمانوں کی تائید و حمایت کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ جاؤ مسلمانوں کی تائید کرو اور ان سے کہو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اور تمہارا حامی و ناصر ہوں میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں۔ اور وہ خوف و رعب سے ہراساں ہو کر راہ فرار اختیار کریں گے یا “ مَعَکُمْ ” کی ضمیر سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–14

ربط آیات : اس سورة کی ابتدائی آیت میں جماعتی نظم وضبط کے قانون کا ذکر کیا گیا تھا پھر کامل الایمان لوگوں کی پانچ صفات بیان ہوئیں فرمایا مال غنیمت کے ضمن میں لوگوں کا جھگڑنا اور حق جتلانا مناسب نہیں کیونکہ یہ مال تو اللہ تعالیٰ کا ہے ، اسی نے اپنی رحمت ومہربانی سے مسلمانوں کو فتح دلائی ، لہٰذا اللہ تعالیٰ جو حکم دیگا اللہ کا رسول اس کے مطابق مال غنیمت میں تصرف کرے گا اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے فرمایا یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا اللہ نے آپ کو گھر سے نکالا حالانکہ اہل ایمان کا ایک گروہ لڑائی کو ناپسند کرتا تھا مگر اللہ کی مصلحت میں اس موقع پر کفار کی شکست وریخت اور مسلمانوں کو غالب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْ يُوْحِيْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰۗىِٕكَۃِ اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۝ 0 ۭ سَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْہُمْ كُلَّ بَنَانٍ۝ 12 ۭ وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–14

(2) اذ یغشیکم الخ یہ بھی اسی روز کا دوسرا واقعہ ہے جب خدا نے مسلمانوں کو مضبوط کرنا چاہا تو خلاف عادت ان پر نیند مسلط کردی۔ اس نعاس یعنی نیند میں علماء کے دو قول ہیں۔ اول یہ کہ جنگ سے اول اس رات کہ صبح کو جنگ ہوگی حق سبحانہ نے مسلمانوں کو راحت سے سلا یا جس سے ماندگی سفر کی دور ہوگئی اور دل بھی صبح کو قوی تھے۔ ایسے قلق و اضطراب میں کہ موت سامنے دکھلائی دے رہی ہو نیند آنا انعامِ الٰہی ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ بہ وقت جنگ ایک ایسی حالت طاری ہوگئی جس سے اطمینان اور دل سنبھل گئے۔ یہ صاف معجزہ ہے عین صف جنگ میں سب کا اونگھنا خلاف عادت ہے۔ روایات سے اخیر قول کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–14

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّی مَعَکُمْ فَثَبِّتُوْاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاط سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْ مِنْھُمْ کُلَّ بَنَانٍ ۔ ط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ شَآقُّوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ ج وَمَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ ذٰلِکُمْ فَذُوْقُوْہُ وَاَنَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ ۔ (الانفال : 12 تا 14) (اس وقت کو یاد کرو ! جب تیرے رب نے فرشتوں کو حکم بھیجا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم ایمان والوں کو جمائے رکھو میں عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔ سو مارو گردنوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–12

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کا مدینہ طیبہ سے نکلنا، اللہ تعالیٰ کی مشیت کے عین مطابق تھا۔ آپ نے بدر کے ریتلے علاقہ میں پڑاؤ ڈالا جس کا نقشہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ نبی اکرم ﷺ رات بھر اپنے رب کی بار گاہ میں آہ وزاری کے ساتھ دعا کرتے رہے۔ جس میں آپ اس حد تک اپنے رب کے حضور فریاد کناں ہوئے کہ اے بار الہا ! اگر یہ مٹھی بھر مسلمان ختم ہوگئے تو قیامت تک تیرا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ ان الفاظ کے پیچھے دو قسم کے محرکات تھے۔ ایک تو اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں انتہا درجہ کی عاجزی اور بےکسی کا اظہار۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اگر مکہ کے لوگ آج غالب آگئے تو وہ اگلے دن مدینہ میں کسی ایک مسلمان کو زندہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فرشتوں کو ہمت بڑھانے کے حکم والا : آیت 12: اِذْ یُوْحِیْ (اس وقت کو یاد کرو جب حکم دیتا تھا) : اذیعدکم سے بدل سوم ہے۔ نمبر 2۔ یثبت سے منصوب ہے۔ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰٓپکَۃِ اَنِّیْ مَعَکُمْ (آپ کا رب فرشتوں کو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں) مدد کے ساتھ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (تم سب ایمان والوں کی ہمت بڑھائو) بشارت کے ساتھ۔ فرشتہ انسانی صورت میں صف کے آگے چلتا اور کہتا ابشروا فان اللّٰہ ناصرکم۔ خوشخبری ہو اللہ تعالیٰ تمہارا ناصر ہے۔ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ (میں ابھی کفار کے قلوب میں رعب ڈالے دیتا ہوں) خوف سے ان کے دل کو بھرنا۔ قراءت : شامی، علی نے الرعب پڑھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(21) (اذ یوحی ربک الی الملٓئکۃ) ان فرشوتں کی طرف جن کے ذریعے مئومنین کی مدد کی (انی معکم فئبثوا الذین امنوا) یعنی ان کے دلوں کو مضبوط کرو۔ بعض نے کہا یہ ثابت قدمی ان کے لڑائی میں حاضر ہونے اور مدد کرنے کے ذریعے ہوئی اور مقاتل (رح) نے فرمایا کہ ان کو مدد کی خوشخبری دو ، فرشتے صف کے آگے انسانی شکل میں چلتے تھے اور کہتے تھے خوش ہو جائو بیشک اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ (سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب) عطاء فرماتے ہیں کہ اللہ کے الویاء کا خوف مراد ہے (فاضربوا فوق الاعتاق) بعض نے کہا یہ خطاب مئومنوں کو ہے اور بعض نے کہا یہ خطاب فرشتوں کو ہے اور یہ ” فتبتوا الذین امنوا “ کے ساتھ متصل ہے (واضربوا منھم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–14

12۔ 14۔ اللہ پاک نے فرشتے جو لشکر اسلام کی مدد کو بدر کی لڑائی میں بھیجے تھے ان کا حال یہ بیان فرمایا کہ مسلمان اس کا شکریہ ادا کریں اور یہ بھی فرمایا فرشتوں کو یہ حکم تھا کہ اے فرشتوں تم مومنوں کے دل کو جاکر مضبوط اور قوی کرو ہم کفار کے دلوں میں خوف ورعب ڈال دیں گے فرشتے آئے تو انہوں نے مسلمانوں کے دل کو مضبوط کیا اور لڑائی میں مسلمانوں کا ہاتھ بھی بٹایا فرشتے انسان کی صورت میں ایک ایک صحابی کے پاس آکر کہتے تھے کہ ہم نے مشرکوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر مسلمان ہم پر حملہ کریں گے تو ہم بھاگ جائیں گے پھر اس بات کا چرچا مسلمانوں میں ہونے لگتا تھا اور ان کے دلوں کو قوت اور طاقت ہوتی تھی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–15

آیت 9 یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمہاری مڈ بھیڑ کو یقینی اور قریب کردیا، تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لئے پکار اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ (فاستجاب لکم) ” پس اس نے تمہاری پکار کا جواب دیا “ اور متعدد امور کے ساتھ تمہاری مدد فرمائی، مثلاً اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجا (بالف من المئکۃ مردفین) ” ہزار فرشتے لگاتار آنے والے “ یعنی وہ پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔ (وما جعلہ اللہ) ” اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے “ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو (الا بشری) ” مگر خوش خبری “ تاکہ اس سے تمہارے دل خوشی حاصل کریں۔ (ولتطمئن بہ قلوبکم) ”…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 11–15

دوران جنگ نیند قول باری ہے اذیغشیکم العناس امنۃ منہ۔ اور وہ وقت جبکہ اللہ نے اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان اور بےخوفی کی کیفیت طاری کردی تھی جب کیل کانٹے سے مسلح دشمن کو اپنے بالمقابل صف آرا دیکھ کر عام حالات میں نیند اڑجاتی ہے خاص طور پر جبکہ دشمن ا ن سے کئی گناہ تھا۔ بارش کے ذریعہ مدد پھر فرمایا وینزل علیکم من السماء ماء لیطھرکم بہ۔ اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے) یعنی جنابت سے پاک کرے اس لئے کہ اسلامی لشکر میں کچھ افراد ایسے تھے جنہیں غسل جنابت کی ضرورت تھی۔ جنابت شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست ہے اس لئے کہ اس کے وسوسے کی بنا پر یہ صورت پیش آتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–13

16 معیت رب کی خوشخبری سے سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب تمہارا رب فرشتوں کی طرف وحی فرما رہا تھا کہ بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں۔ یعنی اپنی نصرت و امداد کے لحاظ سے اور اپنی تایید و عنایت کے اعتبار سے۔ اور جب میں تمہارے ساتھ ہوں تو پھر تمہیں کسی کی کیا پروا ہوسکتی ہے ؟ ۔ اللّٰھُمْ فکُنْ لَنَا ومَعَنَا بفَضْلِکَ وَ بِرَحْمَتِکَ فِیْ کُلِّ مَوْطِنٍ مّنَ الْمَوَاطِنِ وَ بکُلِّ حَالٍ مِّنَ الْاَحوال ۔ یَا ذَا الجُوْدِ وَالْکَرِمِ وَ یا ذَا الْجلَالِ وَاْلاِکرام ۔ بہرکیف یہ پہلا حکم تھا جو حضرت حق ۔ جَلَّ مَجْدَہٗ ۔ کی طرف سے فرشتوں کی اس فوج کو دیا گیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ پس تم ثابت قدم رکھو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–17

اللہ کی حکمتیں، کفار کی سزا اور مسلمانوں کی مدد تشریح : غزوئہ بدر مسلمانوں اور کفار کے درمیان میدان جنگ میں لڑنے کا پہلا معرکہ تھا۔ گو کہ مسلمان کم اور کفار زیادہ تھے۔ اسی لیے صحابہ کرام کا خیال تھا کہ اگر ابوسفیان کے قافلے سے مقابلہ ہوجائے تو زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک تو وہ جنگی تیاری سے نہیں نکلے اور دوسرے مال و دولت خوب ہاتھ لگے گا۔ مگر اللہ کا فیصلہ اس کے برعکس تھا۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ زورآور اور حکمت والا ہے وہ اسلام کی طاقت اور کفر کی بےبسی کا فیصلہ دشمنوں کو صاف طور پر دکھانا چاہتا تھا کہ دیکھو مسلمانوں کی روحانی طاقت اور توکل علی اللہ کس قدر مضبوط ہے کہ ایک چھوٹی سی اور بےسروسامان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–19

آیات 11 تا 19 اسرار و معارف مزید انعامات یہ کہ مقام بدر میں مشرکین نے ایسی جگہ قبضہ کرلیا جو اونچائی پر تھی اور نسبتا مضبوط زمین تھی اور مسلمانوں کو ایسی جگہ ٹھہرناپڑاجونشیبی تھی حضرت حباب بن منذر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول ﷺ اللہ اگر یہ جگہ پر قبضہ کرلیا جائے چناچہ آپ ﷺ کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور پھر حضرت سعدبن معا ؓ ذ کے مشورہ سے ایک طرف ذرابلند ی پر آپ ﷺ کے لیے ایک چھونپڑی سی بنادی گئی جس میں صرف صدیق اکبر ؓ کو شرف حضوری حاصل تھا اور حضرت معاذ ؓ دروازہ پر بہرہ دے رہے تھے۔ یہ بدر کی پہلی شب تھی دونوں لشکروں کا دن اس طرح بسرہوارات کفاراونچی اور مضبوط زمین پر تھے اور مسلمان نشیبی زمین پر جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی ہاتھپاؤں کی انگلیوں کے جو ڑوں پر مارو کیونکہ لڑنے والا نہی جو ڑو نے سے زیادہ کام لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:12) انی معکم۔ یوحی کا مفعول ہے۔ اور کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ ملائکہ کیلئے ہے۔ بعض کے نزدیک یہ ضمیر المؤمنین کیلئے ہے۔ فثبتوا۔ تم ثابت قدم رکھو۔ تم استوار کرو۔ تم قائم رکھو۔ امر جمع مذکر حاضر۔ (خطاب ملائکہ سے ہے) سالقی۔ القاء سے۔ مضارع واحد متکلم۔ میں ڈال دوں گا۔ فوق الاعناق۔ گردنوں پر۔ گردنوں کے اوپر کے حصوں پر۔ بنان۔ بنانۃ کی جمع ہے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کے پوردے اور بدن کے جوڑوں کو بھی بنان کہتے ہیں۔ قرطبی لکھتے ہیں کہ : قیل المراد ببنان ھھنا اطواف الاصابع من الیدین و الرجلین۔ وقال الحضاک البنان کل مفصل یعنی بنان سے یہاں مراد ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے پور دے ہیں اور حضرت ضحاک…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–14

لغات القرآن۔ تستغیثون۔ تم فریاد کرتے ہو۔ استجاب۔ جواب دیا۔ قبول کیا۔ ممد۔ مدد کرنے والا۔ الف۔ ہزار۔ مردفین۔ ایک کے بعد دوسرے کا آنا۔ لگاتار آنا۔ بشری۔ خوش خبری۔ لتطمئن۔ تاکہ مطمئن ہوجائیں۔ عزیز۔ زبردست۔ اللہ کی صفت ہے۔ یغشی۔ وہ چھا جاتا ہے۔ النعاس۔ اونگھ (نیند اور جاگنے کی درمیانی حالت) ۔ لیطھرکم۔ تاکہ وہ تمہیں پاک کردے۔ یذھب۔ وہ لے جاتا ہے۔ وہ جاتا ہے۔ رجز الشیطن۔ شیطان کی گندگی۔ لیربط۔ تاکہ وہ باندھ دے۔ یثبت۔ جما دیتا ہے۔ الاقدام۔ (قدم) قدم۔ ثبتوا۔ تم جما دو ۔ القی۔ میں ڈال دوں گا۔ الرعب۔ ہیبت۔ ڈر۔ اضربوا۔ مارو۔ سزا دو ۔ فوق۔ اوپر۔ الاعناق۔ (عنق) ۔ گردنیں۔ بنان۔ انگلیوں کے پورے۔ جوڑ جوڑ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–14

جنگ بدر میں مسلمانوں کی غیبی امداد اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ اے فرشتو ! تم مومنوں کے دل کو جاکر مظبوط اور قوی کرو ہم کفار کے دلوں میں خوف و رعب ڈال دیں گے۔ فرشتے آئے تو انہوں نے مسلمانوں کے دلوں کو مظبوط کیا اور لڑائی میں مسلمانوں کا ہاتھ بٹایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کافروں کے سر پر مارو اور ہاتھ پر اور مونڈھے وغیرہ ہر ایک جوڑ پر ضرب لگاؤ۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ یہ خدا اور رسول کی مخالفت کی سزا ہے۔ ان مشرکوں نے خدا اور رسول کی مخالفت کی تھی۔ یہ نہیں جانتے تھے کہ خدا بڑا سخت عذاب کرنے والا ہے۔ پھر کافروں کو مخاطب ٹھرا کر فرمایا کہ اب تو دنیا میں یہ عذاب چکھ لو، قتل و گرفتار ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–16

[3] آیت 9 سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے وہ احسانات یاد دلائے ہیں جو اس نے جنگ بدر میں ان پر کئے تھے۔ مقصد اس بات کو واضح کرنا ہے کہ تم خود ہی حساب لگا کر دیکھ لو کہ اس فتح میں تمہاری اپنی کاوشوں کا کتنا حصہ تھا اور اللہ کی عنایات کا کتنا حصہ۔ اس لئے یہ فیصلہ کرنا کہ مال غنیمت کس طرح تقسیم ہو تمہارا نہیں اللہ کا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–15

(ف 1) فرشتے اللہ کا حکم پاکر کفر کو مرعوب کرتے رہے ، اور اس کا اثر آج تک مسلمان محسوس کرتا ہے ، وہ ہزار کمزور ہے کفر کے خلاف پوری طرح جانباز ہے گو وہ تمام قوموں سے پیچھے ہے ، گر رعب اب تک قائم ہے ، کفر وطاغوت کی تمام فوجیں مسلمان سے خائف ہیں ، کیونکہ یہی تنہا استعمار کے لئے خطرہ ہے ، حل لغات : مردفین : مردف کی جمع ہے ، یعنی فرشتے ، ردیف دار آتے ہیں گے ، لیربط علی قلوبکم ، ربط علی قلبہ محاورہ ہے مراد حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

12 وہ وقت یاد کیجئے جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں کو یہ حکم کیا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں سو تم ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں دل بڑھائو اور اہل ایمان کی ہمتیں مضبوط رکھو میں عنقریب ان کافروں کے دلوں میں رعب اور ہیبت ڈال دوں گا سو تم ان منکرین کی گردنوں پر خوب ضرب لگائو اور ان منکرین کی ہر ایک پور اور جوڑ پر چوٹ مارو۔ یعنی حضرت حق نے فرشتوں کو یہ حکم دیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اور تمہارا مدد گارہوں تم اہل ایمان کے قلوب میں تثبیت القاکرو اور ان کے دلوں د کو بڑھائو میں کفار کے قلوب کو مرعوب کردوں گا۔ گردنوں پر مارنے کو فرمایا یعنی قتل کرو اور ان کے اعضاء کو بیکار کردو تاکہ حملہ کی طاقت باقی نہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–15

ف 2۔ اس میں اشارہ ہے ایک قصہ کی طرف بیان اس اجمال کا یہ ہے کہ بدر میں مشرکین پہلے جاپہنچے تھے اور پانی پر قبضہ کرلیا تھا مسلمان بعد میں پہنچے اور ایک خشک ریگستان میں اترے جہاں پانی نہ ہونے سے پیاس کی بھی شدت اور نماز کے وقت وضو اور غسل سے بھی عاجز اور تیمم کا حکم اس وقت نازل نہ ہوا تھا ادھر ریگستان میں چلنا پھرنا مصیبت کہ اس میں پاوں دھنسے جاتے تھے ان اسباب سے قلب سخت پریشان ہوا اوپر سے شیطان نے وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم اگر اللہ کے نزدیک مقبول ومنصور ہوتے تو اس پریشانی میں کیوں پھنستے حالانکہ یہ وسوسہ محض بےبنیاد تھا مگر پریشانی بڑھانے کے لیے کافی تھا اللہ نے اول باران رحمت نازل فرمایا جس…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرشتوں کو حکم ملا کہ تم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھو تاکہ وہ کفار کی گردنیں کاٹ لیں : 19: اس آیت میں غزوہ بدر کے میدان کار زار میں مسلمانوں پر یہ بھی انعام فرمایا کہ ان فرشتوں کو جو مسلمانوں کی امداد کے لئے بھیجے تھے ان سے خطاب کر کے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ کہ وہ میدان کار زار میں اپنی بہادری جو ہر دکھائیں اور دنیا پر یہ بات ثابت کردیں کہ موحد صرف ایک اللہ کا ڈر رکھتا ہے اور اس کے علاوہ کسی سے بھی خوف نہیں کھاتا اور حالات کتنے ہی نازل سے نازل ترین ہوجائیں وہ دل بالکل نہیں ہارتا فرمایا کہ فرشتوں کو یہ حکم ہوا کہ مسلمانوں کے قدم جمائیں اور ان کو لرنے اور مخالفین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–14

Commentary Being enumerated from the very beginning are blessings of Allah Ta` ala which descended upon His obedient servants. The events of the battle of Badr are parts of the same chain. Out of the many blessings bestowed by Allah Ta` ala during the battle of Badr, the very first blessing is the bringing out of Muslims for this Jihad, which finds mention in: كَمَا أَخْرَ‌جَكَ رَ‌بُّكَ (When your Lord made you leave your home - 5). The second blessing is the promise of providing the support of angels which has been made وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّـهُ (And when Allah was promising you - 7). The…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

10. In view of the general principle propounded in the Qur'an we presume that the angels did not take part in the actual fighting. What we may suggest is that the angels helped the Muslims and as a result their blows became more accurate and effective.

Read the full tafseer →