Explained with ayahs 11–14
تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔
اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پرشوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت (ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ يَظُنُّوْنَ باللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۭ يَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قُلْ…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْفَال 8
یہی تجربہ مسلمانوں کو احد کی جنگ میں پیش آیا جیسا کہ سورة آل عمران آیت 154 میں گزر چکا ہے۔ اور دونوں مواقع پر وجہ وہی ایک تھی کہ جو موقع شدت خوف اور گھبراہٹ کا تھا اس وقت اللہ نے مسلمانوں کے دلوں کو ایسے اطمینان سے بھر دیا کہ ان پر غنودگی طاری ہونے لگی۔
سورة الْاَنْفَال 9
یہ اس رات کا واقعہ ہے جس کی صبح کو بدر کی لڑائی پیش آئی۔ اس بارش کے تین فائدے ہوئے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کو پانی کا کافی مقدار مل گئی اور انہوں نے فوراً حوض بنا بنا کر بارش کا پانی روک لیا۔ دوسرے یہ کہ مسلمان چونکہ وادی کے بالائی حصے پر تھے اس لیے بارش کی وجہ سے ریت جم گئی اور زمین اتنی مضبوط ہوگئی کہ قدم…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ تم پر اونگ طاری کر رہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لئے اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا تاکہ اس پانی کے ذریعہ تم کو (بےوضو یا بےغسل ہونے کی حالت سے) پاک کردے اور (تاکہ اس کے ذریعہ) تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کردے اور (تاکہ) تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور (تاکہ) تمہارے پاؤں جمادے (یعنی تم ریگ میں نہ دھسو) اس وقت کو یاد کرو جب کہ آپ کا رب (ان) فرشتوں کو (جو امداد کے لئے نازل ہوئے تھے) حکم دیتا تھا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں تو ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ میں ابھی کفار کے قلوب میں رعب ڈالے دیتا ہوں سو تم کفار کی گردنوں پر (حربہ) مارو اور ان کے پور پور…
Read the full tafseer →اِذْ يُغَشِّيْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً لِّيُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطٰنِ وَلِيَرْبِطَ عَلٰي قُلُوْبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَ۔
یہ اس جنگ کے سلسلہ کی دوسری تائید الٰہی کا بیان ہے اور ذکر اس شب کا ہے جس کی صبح کو جنگ واقع ہوئی۔ تصویر حال کے مقصد سے صیغہ مضارع کا استعمال ہوا ہے جس کا استعمال تصویر حال کے لیے معروف ہے۔ فرمایا کہ یہ بات بھی خاص اللہ کی طرف سے ہوئی کہ شب میں اس نے تم پر نیند طاری کردی کہ تمہارے اعصاب و دماغ کو سکون مل گیا اور تم کو صبح کو جنگ کے لیے چاق و چوبد ہوگئے۔ اس نیند کو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →11۔ 1 جنگ احد کی طرح جنگ بدر میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اونگھ طاری کردی جس سے ان کے دلوں کے بوجھ ہلکے ہوگئے اور اطمینان و سکون کی ایک خاص کیفیت ان پر طاری ہوگئی۔
11۔ 2 تیسرا انعام یہ کیا کہ بارش نازل فرمادی جس سے ایک تو ریتلی زمین میں نقل و حرکت آسان ہوگئی دوسرے وضو و طہارت میں آسانی ہوگئی، تیسرے اس سے شیطانی وسوسوں کا ازالہ فرما دیا جو اہل ایمان کے دلوں میں ڈال رہا تھا کہ تم اللہ کے نیک بندے ہوتے ہوئے بھی پانی سے دور ہو، دوسرے جنابت کی حالت میں تم لڑوگے تو کیسے اللہ کی رحمت و نصرت تمہیں حاصل ہوگی ؟ تیسرے تم پیاسے ہو، جب کہ تمہارے دشمن سیراب ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
11۔ 3 یہ چوتھا انعام ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
5: اتنے بڑے لشکر کے ساتھ تقریباً نہتے آدمیوں کا معرکہ پیش آنے والا ہو تو گھبراہٹ ایک طبعی امر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس گھبراہٹ کا علاج یہ فرمایا کہ صحابہ پر نیند طاری کردی، جس کی ایک تاثیر یہ ہوتی ہے کہ اس سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے، چنانچہ وہ جنگ سے پہلی رات جی بھر کر سوئے جس سے تازہ دم ہوگئے، نیز جنگ کے دوران بھی ان پر وقفے وقفے سے اونگھ طاری ہوتی رہی، جس سے انہیں سکون ملتا رہا۔
6: مسلمانوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کفار نے بدر کے میدان میں پہلے پہنچ کر بہترین جگہ پر قبضہ کرلیا تھا جہاں پانی کافی تھا، اور زمین بھی سخت تھی، مسلمانوں کو جو جگہ ملی وہ ریتیلی جگہ تھی جس پر پاؤں جمتے نہیں تھے،…
Read the full tafseer →یہ غنودگی کا واقعہ بھی نہایت ہی عجیب اور حیرت انگیز ہے۔ یہ ایک نفسیاتی حالت تھی اور جنگ سے قبل مسلمانوں پر طاری ہوگئی تھی۔ یہ صرف امر الہی اور اللہ کی خاص تدبیر اور تقدیر کا کارنامہ تھا۔ جب لشکروں کا آمنا سامنا ہوا تو مسلمانوں پر قدرے خوف طاری ہوگیا کیونکہ ان کی توقع نہ تھی کہ اس قدر عظیم لشکر امنڈ آئے گا۔ اور اس وجہ سے ان کی تیاری بھی نہ تھی ، اچانک انہیں غنودگی نے آ لیا۔
جب یہ غنودگی دور ہوئی تو وہ بالکل فریش اور تروتازہ تھے۔ ان کے دل اطمینان سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ حالات ان پر احد میں طاری ہوگئی تھی۔ لوگوں کے اندر بےچینی آگئی ، اور اللہ نے ان پر غنودگی طاری کردی۔ اور انہیں اطمینان ہوگیا ۔ میں…
Read the full tafseer →2 " بدر کا معرکہ فی الحقیقت مسلمانوں کے لیے بہت ہی سخت آزمائش اور عظیم الشان امتحان کا موقع تھا۔ وہ تعداد میں تھوڑے تھے، بےسروسامان تھے، فوجی مقابلہ کے لیے تیار ہو کر نہ نکلے تھے، مقابلہ پر ان سے تگنی تعداد کا لشکر تھا۔ جو پورے سازو سامان سے کبرو غرور کے نشہ میں سرشار ہو کر نکلا تھا، مسلمانوں اور کافروں کی یہ پہلی ہی قابل ذکر ٹکر تھی، پھر صورت ایسی پیش آئی کہ کفار نے پہلے سے اچھی جگہ اور پانی وغیرہ پر قبضہ کرلیا مسلمان نشیب میں تھے، ریت بہت زیادہ تھی جس میں چلتے ہوئے پاؤں دھنستے تھے، گردو غبار نے الگ پریشان کر رکھا تھا۔ پانی نہ ملنے سے ایک طرف غسل و وضوء کی تکلیف، دوسری طرف تشنگی ستا رہی تھی۔…
Read the full tafseer →آیت 11 اِذْ یُغَشِّیْکُمُ النُّعَاسَ اَمَنَۃً مِّنْہُ وَیُنَزِّلُ عَلَیْکُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَہِّرَکُمْ بِہٖ
بدر کی رات تمام مسلمان بہت پر سکون نیند سوئے اور اسی رات غیر معمولی انداز میں بارش بھی ہوئی۔ مسلمانوں کی یہ پر سکون نیند اور بارش کا نزول گویا دو معجزے تھے ‘ جن کا ظہور مسلمانوں کی خاص مدد کے لیے عمل میں آیا۔ یہ معجزات اس انداز میں ظہور پذیر نہیں ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے باقاعدہ ان کے بارے میں اعلان فرمایا ہو ‘ یا یہ کہ یہ بالکل خرق عادت واقعات ہوں ‘ بلکہ یہ معجزات اس انداز میں تھے کہ اس وقت ان دونوں واقعات سے مسلمانوں کو غیر معمولی طور پر مدد ملی ‘ اور اس لیے بھی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
12 فرشتوں کی اطلاع ثابت قدم رکھنے کے لئے :۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو فرشتوں کے بغیر بھی تمہاری مدد کرسکتا اور تمہیں کامیابی سے ہمکنار کرسکتا تھا، اور اگر فرشتے بھیج کر مدد کی تو بھی اسی کی مدد تھی۔ تمہیں پہلے مطلع کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ تم کہیں اپنے سے تین گنا کافروں کا مسلح لشکر دیکھ کر حوصلہ نہ چھوڑ بیٹھو، یہ اطلاع فقط تمہارا حوصلہ بڑھانے اور تمہیں ثابت قدم رکھنے کی وجہ سے دی گئی تھی۔
Read the full tafseer →19 ۔ بدر میں مشرکین پہلے جاپہنچے تھے، اور پانی پر قبضہ کرلیا تھا مسلمان بعد میں پہنچے اور ایک خشک ریگستان میں اترے جہاں پانی نہ ہونے سے پیاس کی بھی شدت اور نماز کے وقت وضو اور غسل سے بھی عاجز (اور تیمم کا حکم اس وقت تک نازل نہیں ہوا تھا) ادھر ریگستان میں چلنا پھرنا مصیبت کہ اس میں پاؤں دھنسے جاتے تھے۔ ان اسباب سے قلب سخت پریشان ہوا، اوپر سے شیطان نے وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ اگر تم اللہ کے نزدیک مقبول ومنصور ہوتے تو اس پر یشانی میں کیوں پھنستے۔ حالانکہ یہ وسوسہ محض بےبنیاد تھا مگر پریشانی بڑھانے کے لیے کافی تھا۔ حق تعالیٰ نے اول باران رحمت نازل فرمایا جس سے پانی کی افراط ہوگئی، پیا بھی وضو، غسل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
آیت نمبر 11 تا 19
ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے اس خوف سے جو تم کو درپیش تھا غنودگی کی شکل میں تم پر سکون اور بےخوفی طاری کررہا تھا اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا ریا تھا کہ تم اصغر اور حدث اکبر سے پاک کرے اور تم سے اس شیطانی وسوسہ کو دور کرے کہ اگر تم حق پر ہوتے تو تم (اس طرح) پیاسے اور بےطہارت نہ ہوتے اور مشرک پانی ہر قابض نہ ہوتے اور تاکہ تمہارے قلوب کو یقین و صبر کے ساتھ مضبوط کرے اور تاکہ بارش کے ذریعہ تمہارے قدموں کو جما دے کہ ریت میں نہ دھنسیں، (اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارا رب ان فرشتوں سے کہہ رہا تھا جن کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد فرمائی مدد اور نصرت…
Read the full tafseer →اذ یغشیکم النعاس جب کہ اللہ تم پر اونگھ چھا رہا تھا۔ ابن کثیر اور ابو عمرو کی قرأت میں اِذْ یَغْشٰکُمْ آیا ہے ‘ جیسے سورة آل عمران میں آیا ہے : اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی۔ نافع کی قرأت میں یُغْشِیْکُمْ آیا ہے ‘ جیسے آیت کَاَنَّمَا اُغْشِیَتْ وُجُوْھُھُمْمیں آیا ہے (یعنی باب افعال سے) باقی قاریوں کے نزدیک اِذْ یَغْشِّیْکُمْ (باب تفعیل سے) آیا ہے ‘ جیسے آیت فَغَشَّاھَا مَا غشّا میں آیا ہے۔
اَمَنَۃً مِّنَہُ اپنی طرف سے چین دینے کیلئے۔ امنۃً لفظ کے اعتبار سے مفعول مطلق ہے اور معنی کے لحاظ سے مفعول لہٗ (یعنی علت فعل) کیونکہ اونگھ آجانے کی غرض چین حاصل ہوجانا ہے اور یُغَشِّیْکُمْ النُّعَاسَکے اندر…
Read the full tafseer →(11) اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ تعالیٰ تم پر اپنی جانب سے دشمن سے راحت دینے کے لیے اونگھ کو طاری کررہا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر بڑا احسان تھا اور اس ذات نے آسمان سے پانی برسایا تاکہ تمہیں چھوٹی ناپاکی اور بڑی ناپاکی سے پاک کر دے۔
اور تمہارے دلوں سے شیطانی وسوسہ کو دور کردے اور اس کے لیے تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور بارش سے ریت پر تمہارے پاؤں کو جمادے یا یہ کہ بارش سے ریت کو جمادے تاکہ پیر اس پر جمنے لگیں ،
Read the full tafseer →اِذْ يُغَشِّيْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ : جنگ بدر میں فرشتوں کے ساتھ مدد کے علاوہ یہ دوسری مدد تھی۔ یہ اونگھ دو طرح سے آئی، ایک تو یہ کہ جس رات کی صبح کو لڑائی ہونے والی تھی صحابہ کرام ؓ خوب سوئے، حالانکہ دشمن کی فکر لگی ہوئی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند بھیج دی، تاکہ وہ تازہ دم ہوجائیں اور دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ علی ؓ فرماتے ہیں : ”بدر کے دن مقداد ؓ کے سوا اور کسی کے پاس گھوڑا نہیں تھا، میں نے دیکھا کہ ہم میں سے ہر شخص سو رہا تھا مگر رسول اللہ ﷺ درخت کے نیچے نماز پڑھتے رہے اور رو رو کر دعائیں کرتے رہے، حتیٰ کہ صبح ہوگئی۔“ [ أحمد : 1؍125، ح : 1023، قال شعیب أرنؤوط إسنادہ صحیح…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 11
قولہ تعالیٰ : آیت : اذیغشیکم النعاس اس میں دو مفعول ہیں۔ اور یہ اہل مدینہ کی قراءت ہے اور یہی اچھی ہے، کیونکہ اس میں فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اس کا ذکر پہلے آیت : وما النصر الا من عند اللہ ( آل عمران : 126) کے تحت گزر چکا ہے۔ اور اس لیے بھی کہ اس کے بعد آیت : وینزل علیکم ہے اور اس میں فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ پس اس طرح اغشاء کی نسبت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے گی تاکہ کلام باہم متوافق اور متشاکل ہوجائے۔ ابن کثیر اور ابو عمرو نے یغشاکم النعاس پڑھا ہے یعنی فعل کی نسبت نعاس کی طرف کی ہے۔ اس کی دلیل آیت : امنۃ نعاسا یغشی ( آل عمران : 154) ہے اس کی قراءت کے…
Read the full tafseer →: 1 ابو یعلی بیہقی نے دلائل میں علی ؓ سے روایت کیا کہ بدر کے دن مقداد ؓ کے گھوڑے کے سوا کسی کا گھوڑا ہمارے درمیان نہیں تھا میں نے دیکھا کہ ہم سب سور ہے تھے مگر رسول اللہ ﷺ درخت کے نیچے صبح تک نماز پڑھتے رہے۔
: 2 ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) اذ یغشیکم النعاس امنۃ منہ “ کے بارے میں فرمایا ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت بدر کے دن ایمان والوں کے بارے میں نازل ہوئی جس دن اللہ تعالیٰ نے ان کو اونگھ سے ڈھانک لیا تھا تاکہ وہ اس کی طرف سے باعث سکون ہو۔
: 3۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” امنۃ “ یعنی وہ…
Read the full tafseer →[ اِذْ : جب ] [ يُغَشِّيْكُمُ : اس نے ڈھانپ دیا تم لوگوں کو ] [ النُّعَاسَ : اونگھ سے ] [ اَمَنَةً : امن ہوتے ہوئے ] [ مِّنْهُ : اپنی طرف سے ] [ وَيُنَزِّلُ : اور اس نے اتارا ] [ عَلَيْكُمْ : تم پر ] [ مِّنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ مَاۗءً : کچھ پانی ] [ لِّيُطَهِّرَكُمْ : تاکہ وہ پاک کرے تم لوگوں کو ] [ بِهٖ : اس سے ] [ وَيُذْهِبَ : اور وہ لے جائے ] [ عَنْكُمْ : تم سے ] [ رِجْزَ الشَّيْطٰنِ : شیطان کی نجاست کو ] [ وَلِيَرْبِطَ : اور تاکہ وہ مضبوط کرے ] [ عَلٰي قُلُوْبِكُمْ : تمہارے دلوں کو ] [ وَيُثَبِّتَ : اور وہ جمادے ] [ بِهِ : اس سے ] [ الْاَقْدَامَ : قدموں کو ]
نوٹ ۔ 1: ہمارے کچھ…
Read the full tafseer →بدر میں مسلمانوں پر اونگھ کا طاری ہونا
اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں پر یہ بھی انعام فرمایا کہ پریشانی دور فرمانے کے لیے ان پر اونگھ بھیج دی۔ جیسا کہ غزوۂ احد کے موقعہ پر بھی اونگھ بھیجی تھی۔ جس کا ذکر سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ اس اونگھ کا نفع یہ ہوا کہ وہ جو تکلیف محسوس کر رہے تھے اس کا احساس ختم ہوگیا کو ن کہ نیند ہر چیز سے غافل کردیتی ہے خوشی سے بھی اور رنج سے بھی۔ ان کی پریشانی جاتی رہی، حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم سب پر نیند کا غلبہ ہوگیا تھا مگر رسول اللہ ﷺ صبح تک برابر نماز میں مشغول رہے (کمافی الدر المنثور) نیز اللہ تعالیٰ نے بارش بھی نازل فرمائی۔ اس بارش کے دو فائدے ہوئے ایک ایک…
Read the full tafseer →انعام چہارم
قال اللہ تعالیٰ اذ یغشیکم النعاس امنۃ۔۔۔ الی۔۔۔ یثبت بہ الاقدام
(ر بط) ان آیات میں بھی ایک خاص انعام کا ذکر ہے وہ یہ کہ جنگ بدر میں مسلمانوں کے دل کچھ افسردہ ہو رہے تھے اور کیوں نہ ہوتے کافروں کی فوج مسلمانوں سے دو چند بلکہ سہ چند سے بھی زائد تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دل مضبوط کرنے کے لیے خلاف عادت ان پر نیند طاری کردی جس سے ان کا تکان دور ہوگیا اور دلوں سے سارا خوف وہراس کافور ہوا عین جنگ کے وقت اونگ اور نیند کا آنا ایک خارق عادت امر ہے جو نبی اکرم ﷺ کے اعتبار سے معجزہ تھا اور صحابہ کرام کے اعتبار سے کرامت تھی۔ اس لیے کہ قاعدہ یہ ہے کہ جنگ کے وقت اور خاص کر جب کہ…
Read the full tafseer →11: یہ چوتھی علت ہے۔ “ اَمَنَةً ” مفعول ہے اور “ مِنْهُ ” کی ضمیر مجرور اللہ کی طرف راجع ہے میدان بدر میں کئی ایک ظاہری اسباب کی وجہ سے مسلمان کچھ پریشان سے تھے مشرکین تعداد میں زیادہ تھے اور ہر قسم کے ضروری سامان جنگ سے لیس تھے اور میدان میں صرف ایک ہی جگہ پانی تھا اس پر بھی دشمن ہی کا قبضہ تھا۔ جس جگہ دشمن نے پڑاؤ ڈالا تھا وہاں ریت نہیں تھی بلکہ مٹی تھی لیکن جہاں مسلمانوں کا لشکر ٹھہرا وہاں پانی کا نام و نشان نہ تھا اور ہر طرف ریت ہی ریت تھی جس کی وجہ سے ان کے لیے چلنا پھرنا دشوار تھا۔ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی مہربانی سے بارش برسا دی جس کی وجہ سے مشرکین کے پڑاؤ کی جگہ میں ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
ربط آیات :
اس سورة کی ابتدائی آیت میں جماعتی نظم وضبط کے قانون کا ذکر کیا گیا تھا پھر کامل الایمان لوگوں کی پانچ صفات بیان ہوئیں فرمایا مال غنیمت کے ضمن میں لوگوں کا جھگڑنا اور حق جتلانا مناسب نہیں کیونکہ یہ مال تو اللہ تعالیٰ کا ہے ، اسی نے اپنی رحمت ومہربانی سے مسلمانوں کو فتح دلائی ، لہٰذا اللہ تعالیٰ جو حکم دیگا اللہ کا رسول اس کے مطابق مال غنیمت میں تصرف کرے گا اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے فرمایا یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا اللہ نے آپ کو گھر سے نکالا حالانکہ اہل ایمان کا ایک گروہ لڑائی کو ناپسند کرتا تھا مگر اللہ کی مصلحت میں اس موقع پر کفار کی شکست وریخت اور مسلمانوں کو غالب…
Read the full tafseer →اِذْ يُغَشِّيْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَۃً مِّنْہُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً لِّيُطَہِّرَكُمْ بِہٖ وَيُذْہِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطٰنِ وَلِيَرْبِطَ عَلٰي قُلُوْبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِہِ الْاَقْدَامَ 11 ۭ
غشي
غَشِيَهُ غِشَاوَةً وغِشَاءً : أتاه إتيان ما قد غَشِيَهُ ، أي : ستره . والْغِشَاوَةُ : ما يغطّى به الشیء، قال : وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23]
( غ ش و ) غشیۃ غشاوۃ وغشاء
اس کے پاس اس چیز کی طرح آیا جو اسے چھپائے غشاوۃ ( اسم ) پر دہ جس سے کوئی چیز ڈھانپ دی جائے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] اور اس کی آنکھوں پر پر دہ ڈال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
(2) اذ یغشیکم الخ یہ بھی اسی روز کا دوسرا واقعہ ہے جب خدا نے مسلمانوں کو مضبوط کرنا چاہا تو خلاف عادت ان پر نیند مسلط کردی۔ اس نعاس یعنی نیند میں علماء کے دو قول ہیں۔ اول یہ کہ جنگ سے اول اس رات کہ صبح کو جنگ ہوگی حق سبحانہ نے مسلمانوں کو راحت سے سلا یا جس سے ماندگی سفر کی دور ہوگئی اور دل بھی صبح کو قوی تھے۔ ایسے قلق و اضطراب میں کہ موت سامنے دکھلائی دے رہی ہو نیند آنا انعامِ الٰہی ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ بہ وقت جنگ ایک ایسی حالت طاری ہوگئی جس سے اطمینان اور دل سنبھل گئے۔ یہ صاف معجزہ ہے عین صف جنگ میں سب کا اونگھنا خلاف عادت ہے۔ روایات سے اخیر قول کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →اِذْ یُغْشِیْکُمُ النُّعَاسَ اَمَنَۃً مِّنْہُ وَیُنَزِّلُ عَلَیْکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ مَآئً لِیُطَھِّرَ کُمْ بِہٖ ویُذْھِبَ عَنْکُمْ رِجْزَالشَّیْطٰنِ وَلِیَرْبِطَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ وَیُثَبِّتَ بِہِ الْاَقْدَامَ ۔ ط (الانفال : 11)
(اس وقت کو یاد کرو ! جب وہ تم پر نیند طاری کررہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لیے اور اس نے تم پر آسمان سے پانی برسایا تاکہ اس سے تم کو پاکیزگی بخشے اور تم سے شیطان کی نجاست کو دور کردے اور تاکہ اس سے تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور قدموں کو جمائے۔ )
اللہ تعالیٰ کے مزید احسانات کا بدلہ
اس آیت کریمہ میں پروردگار نے مسلمانوں پر اپنے مزید احسانات کا ذکر فرمایا ہے۔ تفصیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کا مدینہ طیبہ سے نکلنا، اللہ تعالیٰ کی مشیت کے عین مطابق تھا۔ آپ نے بدر کے ریتلے علاقہ میں پڑاؤ ڈالا جس کا نقشہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔
نبی اکرم ﷺ رات بھر اپنے رب کی بار گاہ میں آہ وزاری کے ساتھ دعا کرتے رہے۔ جس میں آپ اس حد تک اپنے رب کے حضور فریاد کناں ہوئے کہ اے بار الہا ! اگر یہ مٹھی بھر مسلمان ختم ہوگئے تو قیامت تک تیرا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ ان الفاظ کے پیچھے دو قسم کے محرکات تھے۔ ایک تو اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں انتہا درجہ کی عاجزی اور بےکسی کا اظہار۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اگر مکہ کے لوگ آج غالب آگئے تو وہ اگلے دن مدینہ میں کسی ایک مسلمان کو زندہ…
Read the full tafseer →غلبہ ٔ اونگھ :
آیت 11: اِذْ یُغَشِّیْکُمُ (یاد کرو جب اللہ تعالیٰ تم پر طاری کر رہا تھا) : یہ اذیعدکم سے دوسرابدل ہے۔ نمبر 2۔ النصر کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 3۔ اذکر مضمر مان کر منصوب ہے۔
قراءت : مدنی نے یغشیکُمْ پڑھا ہے۔ النُّعَاسَ (اونگھ) نیند۔ دونوں قراءتوں کے مطابق فاعل اللہ ہی ہے۔ مکی اور ابو عمرو نے یغشاکم النعاسُپڑھا ہے۔ اَمَنَۃً (چین دینے کیلئے) نمبر 1۔ یہ مفعول لہ ٗہے۔ جب تم امن کیلئے اونگھ رہے تھے۔ ای لامنکم، نمبر 2۔ مصدر ہے پس تم امن میں ہوگئے امن میں ہونا۔ نیند سے رعب چلا جاتا ہے اور نفس کو آرام ملتا ہے۔ مِّنْہُ (اپنی طرف سے) یہ امنۃ کی صفت ہے یعنی امنۃ حاصلۃ لکم وہ امن جو تمہیں…
Read the full tafseer →(11) (اذ یغشیکم النعاس امنۃ منہ) ابن کثیر ار ابو عمرو نے (یغشاکم) یاء کے زبر کے ساتھ اور (النعاس) پیش کے ساتھ پڑھا ہے اس بناء پر کہ یہ اس فعل کا فاعل ہے سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ کے قول (امنۃ تعاسا یغشی طائفۃ منکم) کی وجہ سے اہل مدینہ نے (یغشیکم) یاء کے پیش اور شین کی زیر کے ساتھ بغیر شد کے پڑھا ہے (النعاس) زبر کے ساتھ اس بناء پر کہ یہ فعل اللہ تعالیٰ کا ہے اللہ تعالیٰ کے قول (فعشا ھا ماغشی) کی وجہ سے اور النعاس ہلکی نیند (اونگھ) (امنۃ) امن ہے (منہ) مصدر ہے امنت امنا وامنۃ وامانا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ قتال میں اونگھ اللہ کی طرف سے سکون ہے اور نماز میں شیطان کی طرف سے ہے۔…
Read the full tafseer →11۔ اوپر کی آیت میں یہ بات گذر چکی ہے کہ بدر کی لڑائی میں مسلمان بہت ہی کم کچھ اوپر تین سو تھے اور دشمن ایک ہزار کے قریب تھے یہ کثرت دشمنوں کی دیکھ کر مسلمانوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ دیکھئے کیوں کر ان پر فتح نصیب ہوتی ہے اس پر یہ ہوا کہ رات کو مسلمانوں کو نہانے کی حاجت ہوگئی اور پانی پر کفار کا قبضہ ہوگیا تھا ریت کی زمین تھی خشکی کے سبب سے نہ انسان کے پاؤں جمتے تھے نہ جانور چل سکتے تھے صبح نماز وغیرہ فرائض ضروری ادا کرنے سے مجبور ہوئے جس کا ان کے دل پر بہت بڑا اثر ہوا اور سمجھے کہ یہ شکست کے آثار ہیں اللہ پاک نے حضرت ﷺ کی دعا سے ایک ہزار فرشتے ان کی مدد کو بھیج دئے جیسا کہ اوپر کی آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
آیت 9
یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمہاری مڈ بھیڑ کو یقینی اور قریب کردیا، تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لئے پکار اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ (فاستجاب لکم) ” پس اس نے تمہاری پکار کا جواب دیا “ اور متعدد امور کے ساتھ تمہاری مدد فرمائی، مثلاً اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجا (بالف من المئکۃ مردفین) ” ہزار فرشتے لگاتار آنے والے “ یعنی وہ پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔ (وما جعلہ اللہ) ” اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے “ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو (الا بشری) ” مگر خوش خبری “ تاکہ اس سے تمہارے دل خوشی حاصل کریں۔ (ولتطمئن بہ قلوبکم) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
دوران جنگ نیند
قول باری ہے اذیغشیکم العناس امنۃ منہ۔ اور وہ وقت جبکہ اللہ نے اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان اور بےخوفی کی کیفیت طاری کردی تھی جب کیل کانٹے سے مسلح دشمن کو اپنے بالمقابل صف آرا دیکھ کر عام حالات میں نیند اڑجاتی ہے خاص طور پر جبکہ دشمن ا ن سے کئی گناہ تھا۔
بارش کے ذریعہ مدد
پھر فرمایا وینزل علیکم من السماء ماء لیطھرکم بہ۔ اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے) یعنی جنابت سے پاک کرے اس لئے کہ اسلامی لشکر میں کچھ افراد ایسے تھے جنہیں غسل جنابت کی ضرورت تھی۔ جنابت شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست ہے اس لئے کہ اس کے وسوسے کی بنا پر یہ صورت پیش آتی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
12 مدد سب اللہ ہی کی طرف سے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مدد سب کی سب اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ اور وہ وحدہ لاشریک ظاہری اسباب کا محتاج نہیں کہ وہ ضرورت و احتیاج کے ہر شائبے سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے اسباب و وسائل تو بیشک اختیار کیے جائیں اور ضرور کیے جائیں، مگر بھروسہ اسباب پر نہیں، بلکہ مسبب الاسباب پر رکھا جائے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ مدد جب بھی آتی ہے یا آئے گی، اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے اور اسی کی طرف سے آئے گی۔ اور وہ عزیز اور بڑا ہی زبردست ہے۔ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ کوئی اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ حکیم بھی ہے۔ اس لیے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
اللہ کی حکمتیں، کفار کی سزا اور مسلمانوں کی مدد
تشریح : غزوئہ بدر مسلمانوں اور کفار کے درمیان میدان جنگ میں لڑنے کا پہلا معرکہ تھا۔ گو کہ مسلمان کم اور کفار زیادہ تھے۔ اسی لیے صحابہ کرام کا خیال تھا کہ اگر ابوسفیان کے قافلے سے مقابلہ ہوجائے تو زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک تو وہ جنگی تیاری سے نہیں نکلے اور دوسرے مال و دولت خوب ہاتھ لگے گا۔ مگر اللہ کا فیصلہ اس کے برعکس تھا۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ زورآور اور حکمت والا ہے وہ اسلام کی طاقت اور کفر کی بےبسی کا فیصلہ دشمنوں کو صاف طور پر دکھانا چاہتا تھا کہ دیکھو مسلمانوں کی روحانی طاقت اور توکل علی اللہ کس قدر مضبوط ہے کہ ایک چھوٹی سی اور بےسروسامان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
آیات 11 تا 19
اسرار و معارف
مزید انعامات یہ کہ مقام بدر میں مشرکین نے ایسی جگہ قبضہ کرلیا جو اونچائی پر تھی اور نسبتا مضبوط زمین تھی اور مسلمانوں کو ایسی جگہ ٹھہرناپڑاجونشیبی تھی حضرت حباب بن منذر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول ﷺ اللہ اگر یہ جگہ پر قبضہ کرلیا جائے چناچہ آپ ﷺ کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور پھر حضرت سعدبن معا ؓ ذ کے مشورہ سے ایک طرف ذرابلند ی پر آپ ﷺ کے لیے ایک چھونپڑی سی بنادی گئی جس میں صرف صدیق اکبر ؓ کو شرف حضوری حاصل تھا اور حضرت معاذ ؓ دروازہ پر بہرہ دے رہے تھے۔
یہ بدر کی پہلی شب تھی دونوں لشکروں کا دن اس طرح بسرہوارات کفاراونچی اور مضبوط زمین پر تھے اور مسلمان نشیبی زمین پر جس…
Read the full tafseer →صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ بدر کے دن آنحضرت ﷺ پر غنودگی طاری ہوگئی پھر آپ ﷺ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے اور حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا ابوبکر ؓ خوش ہوجاؤ یہ جبر یل ( علیہ السلام) آئے ہیں ان کے دانتوں پر گرد پڑی ہوئی ہے۔ اس قسم کی غنودگی مسلمانوں پر جنگ احد کی موقع پر بھی طاری کی گئی، ( دیکھئے سورة آل عمران رکوع 19)7 یہ بھی اس راہ کا واقعہ ہے کہ رات کو بارش ہونے ریت جم گئی اور زمین اتنی سخت ہوگئی کہ اس پر پاؤں اچھی طرح جم سکتے تھے اس سے فائدہ اٹھاکر مسلمان آگے بڑھے اور پینے کے لے پانی کی بھی سہولت ہوگئی کفار کے پڑاؤ کو جگہ نشیبی تھی بارش کی وجہ سے کیچڑہو گئی اور پاؤں پھسلنے لگے مسلمانوں کے دلوں سے…
Read the full tafseer →(8:11) یغشیکم۔ مضارع واحد مذکر غائب تغشیۃ بروزن تفعلۃ (باب تفعیل) سے مصدر ہے۔ جیسے تصدیۃ۔ تالیاں بجانا۔ (8:35) اور تصلیۃ (56:94) نماز پڑھنا۔ یا ایندھن کا آگ میں جلنا۔ یہاں باب تفعیل سے متعدی بدو مفعول آیا ہے مفعول اول کم اور مفعول ثانی النعاس اس نے غنودگی سے تم کو ڈھانپ دیا۔ وہ غنودگی سے تم کو ڈھانک رہا تھا۔
النعاس۔ اسم معرفہ۔ اونگھ (تھانوی) خفیف سی نیند (راغب) ۔ امنۃ۔ مفعول لہ۔ امن و چین سے۔ یا مصدر ہے۔
منہ۔ ای من اللہ۔ امنۃ کی صفت ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوئی تھی۔ بہ میں ضمیر ہ کا مرجع ماء ہے۔
رجز۔ عقوبت۔ بلائ، عذاب۔ کپکپا اور لرزا دینے والا عذاب۔ پلیدی۔ وسوسہ شیطانی۔ شیطان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
لغات القرآن۔
تستغیثون۔ تم فریاد کرتے ہو۔ استجاب۔ جواب دیا۔ قبول کیا۔ ممد۔ مدد کرنے والا۔ الف۔ ہزار۔ مردفین۔ ایک کے بعد دوسرے کا آنا۔ لگاتار آنا۔ بشری۔ خوش خبری۔ لتطمئن۔ تاکہ مطمئن ہوجائیں۔ عزیز۔ زبردست۔ اللہ کی صفت ہے۔ یغشی۔ وہ چھا جاتا ہے۔ النعاس۔ اونگھ (نیند اور جاگنے کی درمیانی حالت) ۔ لیطھرکم۔ تاکہ وہ تمہیں پاک کردے۔ یذھب۔ وہ لے جاتا ہے۔ وہ جاتا ہے۔ رجز الشیطن۔ شیطان کی گندگی۔ لیربط۔ تاکہ وہ باندھ دے۔ یثبت۔ جما دیتا ہے۔ الاقدام۔ (قدم) قدم۔ ثبتوا۔ تم جما دو ۔ القی۔ میں ڈال دوں گا۔ الرعب۔ ہیبت۔ ڈر۔ اضربوا۔ مارو۔ سزا دو ۔ فوق۔ اوپر۔ الاعناق۔ (عنق) ۔ گردنیں۔ بنان۔ انگلیوں کے پورے۔ جوڑ جوڑ۔…
Read the full tafseer →بدر میں چونکہ مشرکین پہلے سے جا پہنچے تھے اور پانی پر قبضہ کرلیا تھا اور مسلمان بعد میں پہنچنے کے سبب ریگستان میں اترے تھے۔ جہاں پانی نہ ہونے کے سبب سے پیاس کی بھی شدت محسوس ہونے لگی اور نماز کے وقت وضو اور غسل سے بھی عاجز تھے، اور تیمم کا حکم اس وقت تک نازل نہیں ہوا تھا۔ اس پر طرہ یہ ہوا کہ رات کو مسلمانوں کو نہانے کی حاجت ہوگئی اور ریت کی زمین تھی، جس کی وجہ سے نہ انسان کے پاؤں جمتے تھے نہ جانور چل سکتے تھے۔ صبح نماز وحوائج ضروری ادا کرنے سے مجبور ہوئے جس کا ان کے دل پر بہت برا اثر ہوا۔ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کی دعا سے ایک ہزار فرشتے ان کی مدد کے لئے بھیج دیئے۔ جیسا کہ اوپر کی آیت میں گزر چکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[2] ہجرت کے دوسرے سال جب مشرکین مکہ مدینے پر حملے کی نیت سے روانہ ہوئے تو اس زمانے میں ان کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ آ رہا تھا اور مدینے کے قرب و جوار سے ہو کر گزرنے والا تھا۔ رسول اکرم ﷺ نے وحی الٰہی سے مطلع ہو کر فرمایا کہ ایک گروہ مکہ سے آ رہا ہے اور دوسرا قافلہ ہے۔ ان دو میں سے کسی ایک سے ضرور جنگ ہوگی۔ چونکہ قافلے کے ساتھ بہت تھوڑے آدمی تھے اس لئے مسلمانوں کی خواہش تھی کہ اس سے مقابلہ ہو اور مکہ والی فوج سے نہ لڑیں کیونکہ خود بڑی ہی بےسروسامانی کی حالت میں تھے۔ مگر رسول اکرم ﷺ نے لوگوں کے ان خیالات کی پروا نہ کی اور حملہ آوروں کے مقابلے کا فیصلہ کرلیا۔ اگرچہ مسلمانوں نے آپ کا فیصلہ…
Read the full tafseer →(ف 2) عین میدان جنگ میں نیند یہ اللہ کی خاص نعمت تھی ، اس سے مسلمان تازہ دم ہوگئے نیز کفار کے لئے یہ امر نہایت مرعوب کن ہے کہ مسلمان مصاف جنگ میں بےخطر ہو کر سوجاتے ہیں ۔
یہ درحقیقت مسلمانوں کی طمانیت قلب کا بہترین نمونہ ہے ۔
پانی کا برس جانا بھی خاص عنایت تھی طبیتیں شگفتہ ہوگئیں ، ضروریات کو پورا کرلیا گیا ، اور دل میں کسی طرح کا میل باقی نہ رہا ۔
Read the full tafseer →1 1 وہ وقت یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہاری تسکین اور چین کے لئے اپنی طرف سے غنودگی اور اونگھ طاری کردی اور تم پر آسمان کی جانب سے بارش نازل فرمائی تاکہ اس پانی سے تم کو پاک کردے اور تم سے شیطانی نجاست اور شیطانی وسوسوں کی آلودگی کو زائل کردے اور تاکہ تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور تمہارے قلوب کو تقویت عطا فرمائے اور اس پانی کی وجہ سے تمہارے قدموں کو جمادے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب دو لشکر مقابل ہوئے رات کو مسلمانوں کو حاجتِ غسل ہوگئی اور پانی پینے کا بھی نہ تھا اور زمین ریت تھی جہاں پائوں نہ ٹھہریں صبح کو لڑائی درپیش یہ چیزیں دیکھ کر مسلمان ڈرے کہ آثار شکست کے ہیں اس وقت بارانِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
ف 2۔ اس میں اشارہ ہے ایک قصہ کی طرف بیان اس اجمال کا یہ ہے کہ بدر میں مشرکین پہلے جاپہنچے تھے اور پانی پر قبضہ کرلیا تھا مسلمان بعد میں پہنچے اور ایک خشک ریگستان میں اترے جہاں پانی نہ ہونے سے پیاس کی بھی شدت اور نماز کے وقت وضو اور غسل سے بھی عاجز اور تیمم کا حکم اس وقت نازل نہ ہوا تھا ادھر ریگستان میں چلنا پھرنا مصیبت کہ اس میں پاوں دھنسے جاتے تھے ان اسباب سے قلب سخت پریشان ہوا اوپر سے شیطان نے وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم اگر اللہ کے نزدیک مقبول ومنصور ہوتے تو اس پریشانی میں کیوں پھنستے حالانکہ یہ وسوسہ محض بےبنیاد تھا مگر پریشانی بڑھانے کے لیے کافی تھا اللہ نے اول باران رحمت نازل فرمایا جس…
Read the full tafseer →تمہارے دلوں کو مطمئن کر کے تم کو گہری نیند سلایا اور تمہاری ساری ناپاکی کو دور کردیا :
18: اس آیت میں اوپر ذکر کی گئی خوشخبری کی مزید تشریح اور تفصیل ذکر کی گئی تاکہ بات سمجھنے والے اچھی طرح سمجھ جائیں۔ اس لئے زیر نظر آیت میں مختلف پانچ باتوں کا ذکر کیا گیا پہلی بات یہ ہوئی کہ ” اس نے چھا جانے والی غنودگی تم پر طاری کردی۔ “ دوسری بات یہ ہوئی کہ ” تمہارے دل تسکین و بےخوفی کا سامان پیدا کردیا۔ “ تیسری بات یہ ہوئی ” آسمان سے پانی برسا کر تمہارے ریتلے میدان کو پختہ کردیا۔ “ اور چوتھی بات یہ ہوئی کہ ” تم سے شیطان کا وسوسوں کی ناپاکی دور کردی۔ “ اور پانچویں بات یہ ہوئی کہ ” تمہارے دلوں کی ڈھارس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
The fourth verse (10) restates this aspect explicitly by saying: وَمَا جَعَلَهُ اللَّـهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ. It means: 'Allah has done it only to give you glad tidings and so that your hearts might be at rest thereby.'
The number of angels sent to support Muslims in the battle of Badr has been given as one thousand at this place, while in Surah 'Al-` Imran (3:124) the number mentioned is three thousand and five thousand. The reason for this lies in three different promises made under different circumstances. The first promise was that of one thousand angels,…
Read the full tafseer →8. In the Battle of Uhud the Muslims passed through a similar experience (see Al'lmran 3: 154 above). On both occasions, when prevalent conditions should have produced intense fear and panic among them, God filled their hearts with such peace and tranquillity that they were overpowered with drowsiness.
9. This refers to the heavy downpour on the night preceding the Battle of Badr. It helped the Muslims in three ways. First, it provided them with an abundant water supply which they quickly stored in large reservoirs. Second, rain compacted the loose sand in the upper part of the valley where…
Read the full tafseer →