Explained with ayahs 9–10
سب سے پہلا غزوہ بدر بنیاد لا الہ الا اللہ
مسند احمد میں ہے کہ بدر والے دن نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کی طرف نظر ڈالی وہ تین سو سے کچھ اوپر تھے پھر مشرکین کو دیکھا ان کی تعدد ایک ہزار سے زیادہ تھی۔ اسی وقت آپ قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے چادر اوڑھے ہوئے تھے اور تہبند باندھے ہوئے تھے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا شروع کی کہ الٰہی جو تیرا وعدہ ہے اسے اب پورا فرما الٰہی جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا ہے وہی کر اے اللہ اہل اسلام کی یہ تھوڑی سی جماعت اگر ہلاک ہوجائے گی تو پھر کبھی بھی تیری توحید کے ساتھ زمین پر عبادت نہ ہوگی یونہی آپ دعا اور فریاد میں لگے رہے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں پر سے اتر گئی اسی وقت حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
سورة الْاَنْفَال 7
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت فی الواقع صورت حال کیا رونما ہوگئی تھی۔ جیسا کہ ہم نے سورة کے دیباچہ میں بیان کیا ہے، لشکر قریش کے نکل آنے سے دراصل سوال یہ پیدا ہوگیا تھا کہ دعوت اسلامی اور نظام جاہلیت دونوں میں سے کس کو عرب میں زندہ رہنا ہے۔ اگر مسلمان اس وقت مردانہ وار مقابلہ کے لیے نہ نکلتے تو اسلام کے لیے زندگی کا کوئی موقع باقی نہ رہتا۔ بخلاف اس کے مسلمانوں کے نکلنے اور پہلے ہی بھرپور وار میں قریش کی طاقت پر کاری چوٹ لگا دینے سے وہ حالات پیدا ہوئے جن کی بدولت اسلام کو قدم جمانے کا موقع مل گیا اور پھر اس کے مقابلہ میں نظام جاہلیت پیہم شکست کھاتا ہی چلا گیا۔
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں بھی یہی مضمون ارشاد فرمایا (آیت) وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰي وَلِتَطْمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ صرف اس لئے کیا کہ تمہیں بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں۔
غزوہ بدر میں جو اللہ تعالیٰ کے فرشتے امداد کے لئے بیھجے گئے ان کی تعداد اس جگہ ایک ہزار مذکور ہے اور سورة آل عمران میں تین ہزار اور پانچ ہزار ذکر کی گئی ہے۔ اس کا سبب دراصل تین مخلتف وعدے ہیں جو مختلف حالات میں کئے گئے ہیں۔ پہلا وعدہ ایک ہزار فرشتوں کا ہوا جس کا سبب رسول کریم ﷺ کی دعا اور عام مسلمانوں کی فریاد تھی۔ دوسرا وعدہ جو تین ہزار فرشتوں کا سورة آل عمران میں پہلے مذکور ہے…
Read the full tafseer →وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰي وَلِتَطْمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ۔ ضمیر مفعول کا مرجع وہی وعدہ نصرت ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اس موقع پر تمہارے رب نے یہ صریح الفاظ میں تمہاری مدد کا پہلے سے جو وعدہ فرمایا تو محض اس لیے کہ تم ہراساں تھے، تمہاری ڈھارس بندھ جائے اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں۔ اس سے یہ نہ سمجھنا کہ خدا کی یہ مدد اسی موقع کے ساتھ مخصوص ہے بلکہ جب بھی اللہ کے مومن بندے اس کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں گے اور ایمان و اخلاص کے ساتھ اس سے طالب مدد ہوں گے، وہ ان کی مدد فرمائے گا خواہ اس مدد کے لیے پہلے سے ان کو بشارت ملی ہو یا نہ ملی ہو۔ اس وضاحت کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ…
Read the full tafseer →10۔ 1 یعنی فرشتوں کا نزول تو صرف خوشخبری اور تمہارے دلوں کے اطمینان کے لئے تھا ورنہ اصل مدد تو اللہ کی طرف سے تھی جو فرشتوں کے بغیر بھی تمہاری مدد کرسکتا تھا تاہم اس سے یہ سمجھنا بھی صحیح نہیں کہ فرشتوں نے عملاً جنگ میں حصہ نہیں لیا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں فرشتوں نے عملی حصہ لیا اور کئی کافروں کو انہوں نے تہ تیغ کیا (صحیح بخاری)۔
Read the full tafseer →4:: یعنی اللہ تعالیٰ کو مدد کرنے کے لئے فرشتے بھیجنے کی حقیقت میں ضرورت نہیں تھی، نہ فرشتوں میں کوئی ذاتی طاقت ہے کہ وہ مدد کرسکیں، مدد تو اللہ تعالیٰ براہ راست بھی کرسکتا تھا، لیکن یہ انسان کی فطرت ہے کہ جس چیز کے اسباب سامنے ہوں اس پر اسے زیادہ اطمینان اور خوشی حاصل ہوتی ہے، اس لئے یہ وعدہ کیا گیا تھا، اس آیت نے یہ سبق دیا ہے کہ کسی کام کے جو اسباب بھی اختیار کئے جائیں ایک مومن کو یہ بات ہر آن سامنے رکھنی چاہیے کہ یہ اسباب اللہ تعالیٰ ہی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور ان میں تاثیر اسی کے حکم سے پیدا ہوتی ہے، لہذا بھروسہ اسباب پر نہیں بلکہ اسی کے فضل و کرم پر کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →مسلمان اللہ کے دربار میں زاری کر رہے تھے تو اللہ نے ان کو جواب دیا کہ میں ایک ہزار فرشتوں کی امداد تمہارے لیے بھیج رہا ہوں جو لگاتار نازل ہوتے رہیں گے۔ اس اعلان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ بہت عظیم تھا ، اور اللہ کے نزدیک اقامت دین کی بہت اہمیت تھی ، لیکن اللہ تعالیٰ یہاں اس بات کی وضاحت بار بار فرماتے ہیں کہ دنیا میں اسباب کی اس قدر اہمیت نہیں کہ ان سے تخلف ممکن نہ ہو۔ اصل اختیار اللہ کی مشیت کا ہوتا ہے۔ لہذا اسباب کے معاملے میں مومن کو اپنا ذہن صاف رکھنا چاہیے۔ اللہ کی جانب سے مدد کی قبولیت اور پھر اس کی اطلاع محض ایک خوشخبری تھی جس کے ذریعے مومنین کو اطمینان دلانا مقصود تھا۔ رہی نصرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
1 اسی طرح کی آیت " آل عمران " پارہ " لن تنالوا " کے ربع پر گزر چکی ہے۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کیے جائیں۔ البتہ اس جگہ فرشتوں کی تعداد تین سے پانچ ہزار تک بیان کی گئی تھی اگر واقعہ ایک ہے تو کہا جائے گا کہ اول ایک ہزار کا دستہ آیا ہوگا۔ پھر اس کے پیچھے دوسرے دستے آئے ہوں، جن کی تعداد تین سے پانچ ہزار تک پہنچی۔ شاید لفظ " مردِفین " میں اسی طرف اشارہ ہو۔
Read the full tafseer →آیت 10 وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ الاَّ بُشْرٰی وَلِتَطْمَءِنَّ بِہٖ قُلُوْبُکُمْ ط وَمَا النَّصْرُ الاَّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ
اللہ تعالیٰ تو کُنْ فَیَکُوْن کی شان کے ساتھ جو چاہے کر دے۔ وہ فرشتوں کو بھیجے بغیر بھی تمہاری مدد کرسکتا تھا ‘ لیکن انسانی ذہن کا چونکہ سوچنے کا اپنا ایک انداز ہے ‘ اس لیے اس نے تمہارے دلوں کی تسکین اور تسلی کے لیے نہ صرف ایک ہزار فرشتے بھیجے بلکہ تمہیں ان کی آمد کی اطلاع بھی دے دی کہ خاطر جمع رکھو ‘ ہم تمہاری مدد کے لیے فرشتے بھیج رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اللہ کے وعدے کے مطابق میدان بدر میں فرشتے اترے ضرور ہیں لیکن انہوں نے عملی طور پر لڑائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
12 فرشتوں کی اطلاع ثابت قدم رکھنے کے لئے :۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو فرشتوں کے بغیر بھی تمہاری مدد کرسکتا اور تمہیں کامیابی سے ہمکنار کرسکتا تھا، اور اگر فرشتے بھیج کر مدد کی تو بھی اسی کی مدد تھی۔ تمہیں پہلے مطلع کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ تم کہیں اپنے سے تین گنا کافروں کا مسلح لشکر دیکھ کر حوصلہ نہ چھوڑ بیٹھو، یہ اطلاع فقط تمہارا حوصلہ بڑھانے اور تمہیں ثابت قدم رکھنے کی وجہ سے دی گئی تھی۔
Read the full tafseer →18 ۔ چناچہ وہ بالکل براہ راست بلاکسی واسطہ کے بھی امداد پر قادر ہے لیکن وہ رعایت اسباب بھی رکھتا ہے اور اس لیے مدد واسطوں اور ذریعوں سے پہنچاتا ہے۔ (آیت) ” وما جعلہ “۔ ضمیر اسی وعدۂ امداد بذریعہ ملائکہ کی جانب ہے۔ (آیت) ” الا بشری “۔ یعنی توقع فتح و غلبہ سے دل خوش ہوجائے، (آیت) ” ولتطمئن بہ قلوبکم “۔ اس میں اس حقیقت کی جانب اشارہ ہے کہ طبعا تسلی اسباب ظاہری سے ہوتی ہے۔ (آیت) ” وما النصر الا من عند اللہ “۔ یعنی کہیں وسائط وذرائع پر زیادہ نظر کرکے انہیں میں نہ الجھ جانا، حقیقت حال یہ ہے کہ امداد ساری کی ساسی اللہ ہی کی طرف سے ہے نبہ علی ان النصر من عندہ عزوجل لامن الملئکۃ (قرطبی) مرشد تھانوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے جب بدر کے مال غنیمت (کی تقسیم) کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا، تو جوانوں نے کہا یہ ہمارا حق ہے اسلئے کہ ہم نے براہ راست قتال کیا ہے اور بوڑھوں نے کہا پرچموں کے تحت ہم تمہارے مدگار تھے اگر (خدانخواستہ) تم کو شکست ہوجاتی تو تم ہمارے پاس پلٹ کر آتے لہٰذا تم مال غنیمت کے بارے میں ترجع کا دعوانہ کرو، اے محمد ﷺ لوگ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا کون مستحق ہے آپ ان سے کہہ دو مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے وہ جس کو چاہیں دیں چناچہ آپ ﷺ نے اس مال غنیمت کو جوانوں اور بوڑھوں کے درمیان…
Read the full tafseer →وما جعلہ اللہ الا بشری اور اللہ نے ملائکہ کی امداد صرف تمہاری بشارت کیلئے عطا فرمائی تھی۔ جَعَلَہٗ میں ہُ ضمیر امداد کی طرف راجع ہے اور امداد کا ذکر ضمناً لفظ مُمِدُّکُمْمیں آگیا ہے۔ بُشْرٰی یعنی خوش ہونے کا سبب۔
ولتطمئن قلوبکم اور اسلئے کہ تمہارے دلوں کو اطمینان ہوجائے اور وہ خوف دور ہوجائے جو اپنی قلت اور دشمن کی کثرت دیکھ کر حسب معمول پیدا ہوا تھا۔
میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ سے اللہ نے فتح کا وعدہ فرما لیا تھا ‘ پھر بھی آپ کو اضطراب پیدا ہوا اور آپ نے اللہ سے وعدہ کا واسطہ دے کر دعا کی۔ بات یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کی حالت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح تھی ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →(10) اور یہ امداد محض اس حکمت سے تھی کہ تمہیں خطبہ سے بشارت ہو اور واقعہ فرشتوں کی ایہ امداد اس ذات کی طرف سے تھی جو اپنے دشمنوں کو سزا دینے میں زبردست ہے اور حکمت والا ہے کہ ان کے لیے قتل اور شکست کا فیصلہ کیا اور تمہارے لیے غنیمت اور مدد کا فیصلہ۔
Read the full tafseer →وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰي : آیت کے ان الفاظ سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ فرشتوں نے خود لڑنے میں کوئی حصہ نہیں لیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مسلمانوں کی مدد کے لیے محض اس لیے بھیجا تھا کہ ان کے حوصلے بلند ہوں اور انھیں اطمینان رہے کہ ان کی مدد کے لیے فرشتے موجود ہیں، لیکن یہ خیال صحیح نہیں۔ صحیح مسلم میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس دوران میں کہ ایک مسلمان مشرکین میں سے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اس نے کوڑا مارنے کی ضرب کی آواز سنی اور ایک سوار کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا حیزوم ! آگے بڑھو۔ اس نے اس مشرک کو دیکھا کہ وہ چت گرگیا ہے، دیکھا تو اس کی ناک پر نشان تھا، چہرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
آیت نمبر : 9۔ 10
قولہ تعالیٰ : آیت : اذتستغیثون ربکم الاستغاثۃ کا معنی مدد اور نصرت طلب کرنا ہے۔ غوث الرجل ( اس نے آدمی کی مدد کی) کہا : واغوثاہ ( اے مدد کرنے والے) اور اس سے اسم غوث، غواث اور غواث ہیں۔ اور استغاثنی فلان فاغشتہ ( فلاں نے مجھ سے مدد طلب کی تو میں نے اس کی مدد کی) اس کا اسم الغیاث ہے، یہ جوہری سے منقول ہے۔
امام مسلم (رح) نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت نقل کی ہے آپ نے بیان فرمایا : جب غزوہ بدر کا دن تھا تو رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی طرف دیکھا تو ہو ایک ہزار تھے اور آپ ﷺ کے اصحاب تین سو سترہ افراد تھے۔ پس حضور نبی مکرم ﷺ قبلہ شریف کی طرف متوجہ ہوئے، پھر اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
1:۔ ابن ابی شیبہ اور احمد اور مسلم اور ابوداود اور ترمذی اور ابن جریر اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابو عوانہ اور ابن حبان اور ابو الشیخ اور ابن مردویہ اور ابونعیم اور بہیقی دونوں نے دلائل میں عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو عمربن خطاب ؓ نے بیان فرمایا جب بدر کا دن تھا۔ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کو شمار کیا تو وہ تین سو دس سے کچھ اوپر تھے۔ اور مشرکین کی طرف دیکھا اور وہ ہزار سے زیادہ تھے۔ نبی ﷺ قبلہ رخ ہوئے پھر اپنے ہاتھ کو لمبا فرمایا اور اپنے رب کو پکار رہے تھے۔ اے اللہ وہ وعدہ پورا فرمائیے جو آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے اے اللہ اگر تو نے اہل اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کردیا تو زمین…
Read the full tafseer →[ وَمَا جَعَلَهُ : اور نہیں بنایا اس کو ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ اِلَّا : مگر ] [ بُشْرٰي : خوشخبری ] [ وَلِتَطْمَىِٕنَّ : اور تاکہ مطمئن ہوں ] [ بِهٖ : اس سے ] [ قُلُوْبُكُمْ ۭ : تمہارے دل ] [ وَمَا النَّصْرُ : اور نصرت نہیں ہے ] [ اِلَّا : مگر ] [ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ : اللہ کے پاس سے ] [ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ عَزِيْزٌ: بالا دست ہے ] [ حَكِيْمٌ: حکمت والا ہے ]
نوٹ ۔ 1: یہ آیات ان روایات کی تردید کررہی ہیں جو جنگ بدر کے سلسلہ میں عموما کتب سیرت ومغازی میں نقل کی جاتی ہیں، یعنی یہ کہ ابتداء نبی ﷺ اور مومنین قافلے کو لوٹنے کے لیے مدینہ سے روانہ ہوئے تھے ۔ پھر چند منزل آگے جاکر جب…
Read the full tafseer →(وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ) (اور مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے) وہ جس کی چاہے مدد فرمائے اور جیسے چاہے مدد فرمائے (اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ غلبہ والا ہے اور حکمت والا ہے) وہ بغیر فرشتوں کے بھی غلبہ دے سکتا ہے لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ فرشتوں کو بھیجا جائے۔ کسی قوم کو فتح ونصرت اور غلبہ دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کو کسی سبب کی ضرورت نہیں۔ لیکن وہ اپنی حکمت کے مطابق اسباب پیدا فرما دیتا ہے اور پھر اسباب کے ذریعہ جو نفع پہنچانا مقصود ہو وہ نفع پہنچا دیتا ہے۔ جو فرشتے آئے تھے انہوں نے تھوڑا بہت قتال بھی کیا جس کا بعض احادیث میں ذکر ہے لیکن پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
انعام سوم
قال اللہ تعالیٰ اذ تستغیثون ربکم۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ان اللہ عزیز حکیم
یاد کرو تم اس وقت کو کہ جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کر رہے تھے کہ اے اللہ ہم کو اپنے دشمن پر فتح دے اور آنحضرت ﷺ نے یہ دعا فرمائی کے اے اللہ اگر مومنوں کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو کوئی تیری عبادت کرنے والا نہ رہے گا کیونکہ یہ امت آخری امت ہے اور یہ نبی آخری نبی ہے سو اللہ تعالیٰ نے تمہاری فریاد سن لی اور تمہاری دعا قبول کی۔ اور وعدہ فرمایا کہ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا جو لگاتار یکے بعد دیگرے آنے والے ہوں گے۔ ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت آئے گی۔ چناچہ اولا ایک ہزار فرشتوں سے مدد کا وعدہ فرمایا پھر تین ہزار…
Read the full tafseer →10: فرشتوں کا اتارنا محض فتح و ظفر کی خوشخبری اور ظاہری سبب سازی کے طور پر تھا تاکہ مسلمانوں کے دل مطمئن رہیں اور دشمن کی کثرت اور اس کے سامان جنگ کی وجہ سے ان کے پائے استقلال میں لغزش نہ آنے پائے۔ باقی رہی فتح و نصرت تو وہ اللہ کے ہاتھ میں اور اسی کی طرف سے ہے۔ فرشتوں اور دیگر اسباب پر منحصر نہیں کامیاب وہی ہوتا ہے جس کی اللہ مدد کرے خواہ وہ ظاہری اسباب میں پست ہی کیوں نہ ہو۔ “ المعنی لا تحسبوا النصر من الملائکة علیھم السلام فان الناصر ھو اللہ تعالیٰ لکم والملائکة وعلیه فلا دخل للمالئکة فی النصر اصلاً ” (روح ج 9 ص 174) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
ربط آیات :
اس سورة کی ابتدائی آیت میں جماعتی نظم وضبط کے قانون کا ذکر کیا گیا تھا پھر کامل الایمان لوگوں کی پانچ صفات بیان ہوئیں فرمایا مال غنیمت کے ضمن میں لوگوں کا جھگڑنا اور حق جتلانا مناسب نہیں کیونکہ یہ مال تو اللہ تعالیٰ کا ہے ، اسی نے اپنی رحمت ومہربانی سے مسلمانوں کو فتح دلائی ، لہٰذا اللہ تعالیٰ جو حکم دیگا اللہ کا رسول اس کے مطابق مال غنیمت میں تصرف کرے گا اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے فرمایا یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا اللہ نے آپ کو گھر سے نکالا حالانکہ اہل ایمان کا ایک گروہ لڑائی کو ناپسند کرتا تھا مگر اللہ کی مصلحت میں اس موقع پر کفار کی شکست وریخت اور مسلمانوں کو غالب…
Read the full tafseer →وَمَا جَعَلَہُ اللہُ اِلَّا بُشْرٰي وَلِتَطْمَىِٕنَّ بِہٖ قُلُوْبُكُمْ 0 ۚ وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 10 ۧ
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
بشر
واستبشر :
إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ترکیب : اذ تستغیثون ممکن ہے کہ اذا ول سے بدل ہو انی اے بانی جملہ تفسیر ہے استجاب کی یا بیان مردفین بضم المیم وکسر الدال واسکان الرامن اردف مفعولہ مجذوف ہے مردفین امثالھم۔ یہ حال ہے الملائکۃ سے ولتطمئن معطوف ہے بشرٰی پر ای ما جعلہ الا لتطمئن وما النصر الخ جملہ حال ہے فاعل جعل سے النعاس مفعول ثانی ہے یغشیکم کا منہ صفت ہے امنۃ کی جو حال ہے النعاس سے یا مفعول لہ وینزل معطوف ہے یغشی پر ویذھب معطوف ہے یطہر پر وقس علیہ البواتی اذ یوحی بدل ہے اذیغشیکم سے اور عامل ان کا استجاب ہے وقیل اذکر انی سے لے کر کل بنان تک یوحی کا بیان ہے النعاس النوم الخفیف۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان دو باتوں میں سے کہ جن…
Read the full tafseer →وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشْرٰی وَلِتَطْمَئِنَّ بِہٖ قُلُوْبُکُمْ ج وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔ ع (الانفال : 10)
(اور نہیں کیا اللہ نے ( فرشتوں کی خبر دینے کو) مگر خوشخبری تاکہ اس سے تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اور مدد تو اللہ ہی کے پاس سے آتی ہے، بیشک اللہ زور آورحکمت والا ہے )
اللہ تعالیٰ کی نصرت اسباب کے پردے میں
اس آیت کریمہ میں دو باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ایک تو یہ بات کہ کسی شخص کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کسی کی مدد کے لیے فرشتوں یا اسباب کا محتاج ہے۔ کائنات کی ہر مخلوق اپنی قوتوں اور اپنے خواص کے لیے اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کا مدینہ طیبہ سے نکلنا، اللہ تعالیٰ کی مشیت کے عین مطابق تھا۔ آپ نے بدر کے ریتلے علاقہ میں پڑاؤ ڈالا جس کا نقشہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔
نبی اکرم ﷺ رات بھر اپنے رب کی بار گاہ میں آہ وزاری کے ساتھ دعا کرتے رہے۔ جس میں آپ اس حد تک اپنے رب کے حضور فریاد کناں ہوئے کہ اے بار الہا ! اگر یہ مٹھی بھر مسلمان ختم ہوگئے تو قیامت تک تیرا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ ان الفاظ کے پیچھے دو قسم کے محرکات تھے۔ ایک تو اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں انتہا درجہ کی عاجزی اور بےکسی کا اظہار۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اگر مکہ کے لوگ آج غالب آگئے تو وہ اگلے دن مدینہ میں کسی ایک مسلمان کو زندہ…
Read the full tafseer →نصرتِ ملائکہ تو اطمینانِ قلبی کے لئے ہے :
آیت 10: وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ (اور اللہ تعالیٰ نے یہ امداد نہیں عطاء کی) یعنی وہ امداد جس پر ممدکم دلالت کرتا ہے۔ اِلَّا بُشْرٰی (مگر صرف بشارت کیلئے) مگر وہ تمہارے لئے نصرت کی بشارت وَلِتَطْمَپنَّ بِہٖ قُلُوْبُکُمْ (اور تاکہ تمہارے دلوں کو اطمینان ہوجائے) یعنی تم نے فریاد طلب کی اور اپنی قلت کی بناء پر گڑ گڑائے پس ملائکہ کے ذریعہ امدادوہ تمہارے لئے نصرت کی خوشخبری اور تسکین کا باعث تھی۔ اور تمہارے دلوں کیلئے ڈھارس تھی۔ وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ (اور نصرت صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے) یعنی تم وہ مددملائ کہ کی طرف سے مت سمجھو اصل…
Read the full tafseer →تفسیر 10 (وما جعلہ اللہ الا بشریٰ ) یعنی فرشتوں کی مدد (ولیتطمئن بہ قلوبکم وما النصر الا من عند اللہ ان اللہ عزیز حکیم)
Read the full tafseer →10۔ بدر کی لڑائی میں مسلمان بہت تھوڑے تھے اور کافر بہت تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اس طرح کی مدد کی اور کئی طرح کے اسباب دل جمعی کے ان کے لئے مہیا کئے آسمان سے اول ایک ہزار پھر تین ہزار پھر پانچ ہزار تک فرشتے ان کی مدد کو بھیجے کافروں نے پہلے سے بدر پر پہنچ کر وہاں کے پانی پر قبضہ کرلیا تھا اور شیطان نے مسلمانوں کی پیاس اور نہانے اور وضو سے تنگ پا کر ان کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا تھا کہ اگر یہ دین حق ہوتا اور تم سچے ہوتے تو کیا تم کو ایسی مصیبت میں ڈالتا کہ پانی تک کو ترس رہے ہو شیطان کا یہ وسوسہ دفع کرنے کے لئے فورا اللہ تعالیٰ نے مینہ برسایا اور جگہ جگہ گڑھوں میں مسلمانوں کی ضرورت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
آیت 9
یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمہاری مڈ بھیڑ کو یقینی اور قریب کردیا، تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لئے پکار اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ (فاستجاب لکم) ” پس اس نے تمہاری پکار کا جواب دیا “ اور متعدد امور کے ساتھ تمہاری مدد فرمائی، مثلاً اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجا (بالف من المئکۃ مردفین) ” ہزار فرشتے لگاتار آنے والے “ یعنی وہ پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔ (وما جعلہ اللہ) ” اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے “ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو (الا بشری) ” مگر خوش خبری “ تاکہ اس سے تمہارے دل خوشی حاصل کریں۔ (ولتطمئن بہ قلوبکم) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فرشتوں کے ذریعہ مدد
قول باری ہے فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملائکۃ مردفین وما جعلہ اللہ الا بشری ولتطمین بہ قلوبکم۔ جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لئے پے در پے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں۔ یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لئے بتادی کہ تمہیں خوشخبری ہو اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں) یہ تمام باتیں واقعاتی طور پر اسی طرح پیش آئیں جس طرح آیت میں بتائی گئی تھیں اور اس طرح یہ باتیں مسلمانوں کے دلوں میں طمانیت کا ذریعہ بن گئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
12 مدد سب اللہ ہی کی طرف سے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مدد سب کی سب اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ اور وہ وحدہ لاشریک ظاہری اسباب کا محتاج نہیں کہ وہ ضرورت و احتیاج کے ہر شائبے سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے اسباب و وسائل تو بیشک اختیار کیے جائیں اور ضرور کیے جائیں، مگر بھروسہ اسباب پر نہیں، بلکہ مسبب الاسباب پر رکھا جائے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ مدد جب بھی آتی ہے یا آئے گی، اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے اور اسی کی طرف سے آئے گی۔ اور وہ عزیز اور بڑا ہی زبردست ہے۔ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ کوئی اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ حکیم بھی ہے۔ اس لیے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
اللہ کی حکمتیں، کفار کی سزا اور مسلمانوں کی مدد
تشریح : غزوئہ بدر مسلمانوں اور کفار کے درمیان میدان جنگ میں لڑنے کا پہلا معرکہ تھا۔ گو کہ مسلمان کم اور کفار زیادہ تھے۔ اسی لیے صحابہ کرام کا خیال تھا کہ اگر ابوسفیان کے قافلے سے مقابلہ ہوجائے تو زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک تو وہ جنگی تیاری سے نہیں نکلے اور دوسرے مال و دولت خوب ہاتھ لگے گا۔ مگر اللہ کا فیصلہ اس کے برعکس تھا۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ زورآور اور حکمت والا ہے وہ اسلام کی طاقت اور کفر کی بےبسی کا فیصلہ دشمنوں کو صاف طور پر دکھانا چاہتا تھا کہ دیکھو مسلمانوں کی روحانی طاقت اور توکل علی اللہ کس قدر مضبوط ہے کہ ایک چھوٹی سی اور بےسروسامان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
سورة الانفال
یہ سورة مدنی ہے سورة اعراف میں کفر وشرک اور برائی پر انجام بد اور ایمان اور نیکی پر انعامات کا جو در س چل رہا تھا ،
آیات 1 تا 10
اسرار و معارف
آپ سے مال غنیمت کے بارے جاننا چاہتے ہیں تو فرمادیجیے کہ یہ مال اللہ کریم کا ہے اور اللہ کریم کی طرف سے اس کے رسول کا ہے یعنی اس کے متعلق کسی کی رائے یامشورہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ، چونکہ یہ خالص اللہ کریم کا مال ہے پہلی امتوں کو لینے کی اجازت ہی نہ تھی اور اب اجازت ملی تو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا فیصلہ نافذہوگا چناچہ چارمعروف طریقے زمانہ اقدس سے اس بارہ میں جاری ہوئے ۔ ایک یہ کہ اعلان کردیاجاتا کہ جو مخالف کو قتل…
Read the full tafseer →ف 4 آیت کے الفا ظ سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ فرشتوں نے خود لڑنے میں کوئی محض اس لیے بھیجا ہے تھا کہ ان کے حوصلے بلند ہوں اور انہیں اطمینان رہے کہ انکی مدد کے لیے فرشتے موجود ہیں لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث سے صراحتہ معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں نے لڑائی میں بھی حصہ لیا۔ اگرچہ غزوہ بد رکے علاوہ کسی دوسری جنگ میں انہوں نے لڑکر حصہ نہیں لیا) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہی کہ جنگ بد کے موقع پر ایک انصاری مسلمان کسی کافر کا پیچھا کر رہا تھا کہ اچانک اس نے اوپر سے ایک کوڑے کی آواز سنی اور ایک گھڑ سوارنے اپنے گھوڑے کو پکارا حیزوم ! آگے بڑھو۔ اس نے اپنے سامنے کافر کو دیکھا کہ…
Read the full tafseer →(8:10) وما جعلہ۔ میں ما نافیہ ہے اور ہ ضمیر قول کریم انی ممدکم کی طرف راجع ہے ای امداد من اللہ۔ بعض کے نزدیک اس کا مرجع نزول المئکۃ ہے جو امداد کی عملی صورت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
لغات القرآن۔
تستغیثون۔ تم فریاد کرتے ہو۔ استجاب۔ جواب دیا۔ قبول کیا۔ ممد۔ مدد کرنے والا۔ الف۔ ہزار۔ مردفین۔ ایک کے بعد دوسرے کا آنا۔ لگاتار آنا۔ بشری۔ خوش خبری۔ لتطمئن۔ تاکہ مطمئن ہوجائیں۔ عزیز۔ زبردست۔ اللہ کی صفت ہے۔ یغشی۔ وہ چھا جاتا ہے۔ النعاس۔ اونگھ (نیند اور جاگنے کی درمیانی حالت) ۔ لیطھرکم۔ تاکہ وہ تمہیں پاک کردے۔ یذھب۔ وہ لے جاتا ہے۔ وہ جاتا ہے۔ رجز الشیطن۔ شیطان کی گندگی۔ لیربط۔ تاکہ وہ باندھ دے۔ یثبت۔ جما دیتا ہے۔ الاقدام۔ (قدم) قدم۔ ثبتوا۔ تم جما دو ۔ القی۔ میں ڈال دوں گا۔ الرعب۔ ہیبت۔ ڈر۔ اضربوا۔ مارو۔ سزا دو ۔ فوق۔ اوپر۔ الاعناق۔ (عنق) ۔ گردنیں۔ بنان۔ انگلیوں کے پورے۔ جوڑ جوڑ۔…
Read the full tafseer →بدر کی لڑائی میں مسلمان بہت تھوڑے اور کافر بہت تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی طرح طرح کی مدد کی اور اور کئی طرح کے اسباب دلجمعی کے ان کے لئے مہیا کئے : (1) آسمان سے اول ایک ہزار پھر تین ہزار پھر پابچ ہزار تک فرشتے ان کی مدد کو بھیجے۔ (2) کافروں نے پانی پر قبضہ کرلیا اللہ تعالیٰ نے مینہ برسادیا۔ (3) مسلمانوں کو رات جاگنے سے تکان ہوگئی تھی دشمن کے مقابلے سے پہلے ان کو ایک طرح کی اونگھ میں کر کرے وہ تکان رفع کردی۔ (4) دشمنوں کے دلوں میں رعب اور ان کے دلوں میں دلیری پیدا کردی۔ سب اسباب کے بعد اس آیت میں فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارا دل خوش کرنے اور تمہاری راحت کے لئے کردیا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[2] ہجرت کے دوسرے سال جب مشرکین مکہ مدینے پر حملے کی نیت سے روانہ ہوئے تو اس زمانے میں ان کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ آ رہا تھا اور مدینے کے قرب و جوار سے ہو کر گزرنے والا تھا۔ رسول اکرم ﷺ نے وحی الٰہی سے مطلع ہو کر فرمایا کہ ایک گروہ مکہ سے آ رہا ہے اور دوسرا قافلہ ہے۔ ان دو میں سے کسی ایک سے ضرور جنگ ہوگی۔ چونکہ قافلے کے ساتھ بہت تھوڑے آدمی تھے اس لئے مسلمانوں کی خواہش تھی کہ اس سے مقابلہ ہو اور مکہ والی فوج سے نہ لڑیں کیونکہ خود بڑی ہی بےسروسامانی کی حالت میں تھے۔ مگر رسول اکرم ﷺ نے لوگوں کے ان خیالات کی پروا نہ کی اور حملہ آوروں کے مقابلے کا فیصلہ کرلیا۔ اگرچہ مسلمانوں نے آپ کا فیصلہ…
Read the full tafseer →فرشتوں کی تائید :
(ف 1) حضور ﷺ جب بدر میں تین سو تیرہ قدوسی لے کر پہنچے ہیں ، تو کفار ایک ہزار کی تعداد میں تھے ،
مسلمان نہایت بےسروسامانی میں تھے ساری فوج میں دو گھوڑے اور سات اونٹ ، غور کرو ، اتنی سی قوت کے ساتھ کفر کے خلاف صف آرائی کا خیال ہے ۔
حضور ﷺ نے دعا کی کہ اللہ اگر یہ مخلصین کی چھوٹی سی جماعت کٹ گئی ، تو پھر تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک کون پھیلائے گا ، اللہ تعالیٰ نے دعا کو خلعت قبولیت بخشا اور مسلمانوں کی تائید کے لئے ایک ہزار فرشتے نازل فرمائے ۔
آیت کا مقصد یہ ہے کہ فرشتوں کا نزول تمہاری تسکین کے لئے ہے ورنہ اللہ کے پاس اور بھی نصرت واعانت کے بیشمار روحانی وسائل ہیں ۔
Read the full tafseer →10 اور یہ فرشتوں کی مدد جو اللہ تعالیٰ نے فرمائی وہ محض تمہارے خوش کرنے کے لئے فرمائی اور اس لئے بھی فرمائی کہ تمہارے دل اس بشارت اور خوش خبری سے مطمئن ہوجائیں اور تمہارے دلوں کو چین ہو ورنہ حقیقت میں تو مدد اور نصرت و کامرانی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے ہوا کرتی ہے بلاشبہ ! اللہ تعالیٰ کمال قوت اور کمال علم و حکمت کا مالک ہے۔ یعنی جب تک حضرت حق کی امداد شامل حال نہ ہو اس وقت تک کچھ نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ف 1۔ اس غلبہ کے باوجود اس کے تمام کفار قریش ہلاک نہ ہوئے تھے قطع دابر اس لیے کہا گیا کہ اس واقعہ سے ان کی قوت بالکل فنا ہوگئی تھی کیونکہ ان کے بڑے بڑے سردار ستر قتل اور ستر قید ہوئے تھے اس طرح گویا وہ سب ہی ختم ہوگئے تھے۔
Read the full tafseer →فرشتوں کی اتنی بڑی تعداد کا ذکر مسلمانوں کے دلوں کی ڈھارس بنا :
17: ہلاکت کے لئے ایک فرشتہ ہی ساری جماعت پر بھای تھا لیکن یہ عذاب الٰہی نازل کرنے کے لئے فرشتوں کی تعداد کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط کرنے اور ان کی ہمت باندھنے کے لئے اس تعداد کا ذکر فرمایا یہ گویا مسلمانوں کے لئے خوشخبری ہے اور ان کے دلوں کو مطمئن کرنا مقصود ہے اور یہی بات زیر نظر آیت میں خود اللہ نے ارشاد فرمائی کہ ” اللہ نے یہ بات جو کی تو اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ یہ خوشخبری ہو اور تمہارے مضطربدل قرار پا جائیں ورنہ مدد تو ہر حال میں اللہ ہی کے پاس ہے بلاشبہ وہ سب پر غالب آنے والا اور حکمت رکھنے والا ہے۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
The fourth verse (10) restates this aspect explicitly by saying: وَمَا جَعَلَهُ اللَّـهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ. It means: 'Allah has done it only to give you glad tidings and so that your hearts might be at rest thereby.'
The number of angels sent to support Muslims in the battle of Badr has been given as one thousand at this place, while in Surah 'Al-` Imran (3:124) the number mentioned is three thousand and five thousand. The reason for this lies in three different promises made under different circumstances. The first promise was that of one thousand angels,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
7. This gives some idea of the prevalent situation at the time. As we have said earlier (see above, p. 128), the march of the Quraysh towards Madina meant that only one of the two would survive in Arabia - either Islam or the entrenched system of Jahiliyah (Ignorance). Had the Muslims not taken up the challenge, the very survival of Islam would have been imperilled. But since the Muslims took the initiative and dealt a severe blow to the military strength of the Quraysh it became possible for Islam to consolidate itself and subsequently the forces of Ignorance suffered a succession of…
Read the full tafseer →