Al-Anfaal 8:9

Al-Anfaal · from ayah 9

8:9

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُرْدِفِیْنَ ۟اِذۡ تَسۡتَغِيۡثُوۡنَ رَبَّكُمۡ فَاسۡتَجَابَ لَـكُمۡ اَنِّىۡ مُمِدُّكُمۡ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰۤئِكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Remember] when you asked help of your Lord, and He answered you, "Indeed, I will reinforce you with a thousand from the angels, following one another."

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:9

اور وہ موقع یاد کرو جبکہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے در پے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، تو اس نے تمہاری فریاد کا جواب دیا کہ میں تمہاری مدد کے لیے ایک ہزار فرشتوں کی کمک بھیجے والا ہوں جو لگاتار آئیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب تم اپنے رب سے فریا د کرتے تھے تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزاروں فرشتوں کی قطار سے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ وقت یاد کرو) جب تم اپنے رب سے (مدد کے لئے) فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد قبول فرمالی (اور فرمایا) کہ میں ایک ہزار پے در پے آنے والے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد کرنے والا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب تم اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی کہ بیشک میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کرنے والا ہوں، جو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں جواب میں فرمایا کہ میں پے در پے ایک ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیج رہا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد سنی کہ میں ایک ہزار فرشتے تمہاری کمک پر بھیجنے والا ہوں جن کے پرے کے بعد پرے نمودار ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یاد کرو کہ جب تم لوگ فریاد کر رہے تھے اپنے رب سے، تو اس نے تمہاری فریاد کے جواب میں فرمایا کہ میں یقینی طور پر تمہاری مدد کے لئے اتارنے والا ہوں ایک ہزار فرشتے پے درپے اترنے والے،

— مولانا اسحاق مدنی

(اور اس وقت کو یاد کرو) جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کررہے تھے۔ پھر اس نے تمہاری سن لی (اور فرمایا) کہ میں تمہیں ایک ہزار فرشتوں یکے بعد دیگرے آنے والوں سے مدد دوں گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یاد کرو جبکہ تم لوگ اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی تھی کہ میں تمہاری مدد کروں گا ایک ہزار ملائکہ کے ساتھ جو پے درپے آئیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی اور فرمایا کہ میں ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کروں گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And recall when you implored your Lord for help and He responded to you: 'I will indeed reinforce you with a thousand angels, coming host after host.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When you were calling your Lord for help, so He responded to you (saying): :I am going to support you with one thousand of the angels, one following the other.

— Muhammad Taqi Usmani

When you were calling your Lord for help, so He responded to you (saying): :I am going to support you with one thousand of the angels, one following the other.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Remember) when you sought help of your Lord and He answered you (saying): "I will help you with a thousand of the angels Murdifin."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When ye sought help of your Lord and He answered you (saying): I will help you with a thousand of the angels, rank on rank.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Remember] when you asked help of your Lord, and He answered you, "Indeed, I will reinforce you with a thousand from the angels, following one another."

— Saheeh International

When you (believers) begged for assistance from your Lord, He said, "I am helping you with a thousand angels, all in rows marching one after the other".

— Muhammad Sarwar

When you sought aid from your Lord, so He answered you: I will assist you with a thousand of the angels following one another.

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time ye implored our Lord and He answered you: verily I am about to succour you with a thousand of angels rank in rank.

— Abdul Majid Daryabadi

Remember ye implored the assistance of your Lord, and He answered you: "I will assist you with a thousand of the angels, ranks on ranks."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–10

سب سے پہلا غزوہ بدر بنیاد لا الہ الا اللہ مسند احمد میں ہے کہ بدر والے دن نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کی طرف نظر ڈالی وہ تین سو سے کچھ اوپر تھے پھر مشرکین کو دیکھا ان کی تعدد ایک ہزار سے زیادہ تھی۔ اسی وقت آپ قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے چادر اوڑھے ہوئے تھے اور تہبند باندھے ہوئے تھے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا شروع کی کہ الٰہی جو تیرا وعدہ ہے اسے اب پورا فرما الٰہی جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا ہے وہی کر اے اللہ اہل اسلام کی یہ تھوڑی سی جماعت اگر ہلاک ہوجائے گی تو پھر کبھی بھی تیری توحید کے ساتھ زمین پر عبادت نہ ہوگی یونہی آپ دعا اور فریاد میں لگے رہے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں پر سے اتر گئی اسی وقت حضرت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 8–10

سورة الْاَنْفَال 7 اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت فی الواقع صورت حال کیا رونما ہوگئی تھی۔ جیسا کہ ہم نے سورة کے دیباچہ میں بیان کیا ہے، لشکر قریش کے نکل آنے سے دراصل سوال یہ پیدا ہوگیا تھا کہ دعوت اسلامی اور نظام جاہلیت دونوں میں سے کس کو عرب میں زندہ رہنا ہے۔ اگر مسلمان اس وقت مردانہ وار مقابلہ کے لیے نہ نکلتے تو اسلام کے لیے زندگی کا کوئی موقع باقی نہ رہتا۔ بخلاف اس کے مسلمانوں کے نکلنے اور پہلے ہی بھرپور وار میں قریش کی طاقت پر کاری چوٹ لگا دینے سے وہ حالات پیدا ہوئے جن کی بدولت اسلام کو قدم جمانے کا موقع مل گیا اور پھر اس کے مقابلہ میں نظام جاہلیت پیہم شکست کھاتا ہی چلا گیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسری اور چوتھی آیتوں میں اس واقعہ کا بیان ہے جو مصلح فوج سے مقابلہ ٹھن جانے کے بعد پیش آیا کہ رسول کریم ﷺ نے جب یہ دیکھا کہ آپ کے رفقاء صرف تین سو تیرہ اور وہ بھی اکثر غیر مصلح ہیں اور مقابلہ پر تقریبا ایک ہزار جوانوں کا مصلح لشکر ہے تو اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں نصرت و امداد کی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ آپ دعا مانگتے تھے اور صحابہ کرام آپ کے ساتھ آمین کہتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے آنحضرت ﷺ کی دعا کے یہ کلمات نقل فرمائے ہیں یا اللہ مجھ سے جو وعدہ آپ نے فرمایا ہے اس کو جلد پورا فرمادے۔ یا اللہ اگر یہ تھوڑی سی جماعت مسلمین فنا ہوگئی تو پھر زمین میں کوئی تیری عبادت کرنے والا باقی نہ رہے گا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیات 9 تا 19 کا مضمون : آگے اللہ تعالیٰ نے اپنی ان غیبی تائیدات کا حوالہ دیا ہے جو اس موقع پر مسلمانوں کی مدد اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ظاہر ہوئیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور اسلام کے مستقبل پر ان کا ایمان و اعتماد مضبوط ہو۔ اوپر کے ٹکڑے میں جن کمزور لوگوں کا ذکر آیا تھا ظاہر ہے کہ وہ مسلمانوں کی جماعتی اصلاح ہی کے نقطہ نطر سے آیا تھا، اب گویا اسی مقصد کے تحت ان باتوں کی یاد دہانی کی جا رہی ہے جن کی یاد داشت آگے کے مراحل میں کام آنے والی تھی۔ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ کفار قریش کو بھی مخاطب کر کے تنبیہ کردی گئی کہ یہ چپت جو تمہیں لگی ہے یہ تو تمہید ہے، تمہاری روش اگر یہی رہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جب کہ کافر اس سے تین گنا (یعنی ہزار کے قریب تھے پھر مسلمانوں نہتے اور بےسروسامان تھے جب کے کافروں کے پاس اسلحے کی بھی فروانی تھی ان حالات میں مسلمانوں کا سہارا صرف اللہ کی ذات ہی تھی جس سے وہ گڑ گڑا کر مدد کی فریادیں کر رہے تھے خود نبی کریم ﷺ الگ ایک خیمے میں نہایت الحاح وزاری سے مصروف دعا تھے (صحیح بخاری) چناچہ اللہ تعالیٰ نے دعائیں قبول کیں اور ایک ہزار فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے مسلسل لگاتار مسلمانوں کی مدد کے لئے آگئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–9

3: اس سے مراد ابو سفیان کا قافلہ ہے اور ”کانٹے“ سے مراد خطرہ ہے۔ قافلے میں مسلح افراد کی تعداد کل چالیس تھی۔ لہذا اس پر حملہ کرنے میں کوئی بڑا خطرہ نہیں تھا۔ لہذا طبعی طور پر اس پر حملہ کرنا آسان تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

تفسیر آیات 9 تا 14: اب سیاق کلام میں اس فیصلہ کن جنگ کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت جماعت مسلمہ کا حال کیسا تھا ، اور اللہ نے ان کے لیے کیسی تدابیر اختیار کیں اور اللہ کی تائید و نصرت ان کو محض مشیت الہیہ اور تائید ایزدی کی وجہ سے نصیب ہوئی۔ قرآن کریم کا بےمثال انداز بیان اس معرکے کے مشاہدات ، تاثرات ، واقعات ، پریشانیوں اور امیدوں کو نہایت ہی دقت سے قلم بند کرتا ہے اس طرح کہ قاری گویا اپنے اپ کو اس معرکے کے اندر محسوس کرے مگر قرآنی تبصرے کے ساتھ ، تاکہ وہ حقائق کو بدر سے وسیع تر دائرے میں سمجھیں۔ جزیرۃ العرب سے بھی ان کی نظر وسیع بلکہ ان کا نقطہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 9–10

1 اسی طرح کی آیت " آل عمران " پارہ " لن تنالوا " کے ربع پر گزر چکی ہے۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کیے جائیں۔ البتہ اس جگہ فرشتوں کی تعداد تین سے پانچ ہزار تک بیان کی گئی تھی اگر واقعہ ایک ہے تو کہا جائے گا کہ اول ایک ہزار کا دستہ آیا ہوگا۔ پھر اس کے پیچھے دوسرے دستے آئے ہوں، جن کی تعداد تین سے پانچ ہزار تک پہنچی۔ شاید لفظ " مردِفین " میں اسی طرف اشارہ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9 اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلآءِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ قریش کے ایک ہزار کے لشکر کے مقابلے میں تمہاری مدد کے لیے ایک ہزار فرشتے آسمانوں سے قطار در قطار اتریں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 عریش میں آپ کی دعا :۔ جب بدر کے مقام پر دونوں لشکروں نے آمنے سامنے ڈیرہ ڈال لیا اور آپ نے دیکھا کہ مسلمان کافروں کے مقابلہ میں تہائی سے بھی کم ہیں، نہتے بھی ہیں اور سامان رسد بھی موجود نہیں تو آپ ﷺ نے اپنے لیے ایک خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا، جسے عریش کہتے ہیں۔ اس میں آپ ﷺ نے ساری رات اللہ کے حضور دعاؤں اور آہ وزاری میں گزاردی، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن جب نبی اکرم ﷺ نے مشرکین پر نظر ڈالی تو وہ ایک ہزار تھے اور مسلمان 319 تھے۔ آپ ﷺ نے قبلہ رو ہو کر دونوں ہاتھ پھیلا دیئے۔ پھر اپنے رب سے فریاد کرنے لگے آپ نے اس طرح دعا کی : اے اللہ ! تو نے جو وعدہ کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16 ۔ (اپنی قلت تعداد اور بےسروسامانی اور دشمن کی کثرت تعداد سازوسامان پر نظر کرکے) 17 ۔ یہی مضمون سورة آل عمران پارۂ چہارم میں آیا ہے اور حاشیے وہاں گزر چکے۔ (آیت) ” مردفین “۔ سے مراد شاید یہ ہو کہ جس طرح آج میدان جنگ میں باقاعدہ فوجوں کے جنگی دستے ترتیب کے ساتھ ایک کے بعد ایک آتے رہتے ہیں اسی جنگی نظام وترتیب کے ساتھ فرشتوں کے دستوں کا نزول ہوتا رہا۔ المردف المتقدم الذی اردف غیرہ (راغب) اے متتابعین تاتی فرقۃ بعد فرقۃ وذالک اھیب فی العیون (قرطبی) (آیت) ” فاستجاب لکم “۔ یہ وعدہ امداد الہی پیغمبر کے ذریعہ سے ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے جب بدر کے مال غنیمت (کی تقسیم) کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا، تو جوانوں نے کہا یہ ہمارا حق ہے اسلئے کہ ہم نے براہ راست قتال کیا ہے اور بوڑھوں نے کہا پرچموں کے تحت ہم تمہارے مدگار تھے اگر (خدانخواستہ) تم کو شکست ہوجاتی تو تم ہمارے پاس پلٹ کر آتے لہٰذا تم مال غنیمت کے بارے میں ترجع کا دعوانہ کرو، اے محمد ﷺ لوگ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا کون مستحق ہے آپ ان سے کہہ دو مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے وہ جس کو چاہیں دیں چناچہ آپ ﷺ نے اس مال غنیمت کو جوانوں اور بوڑھوں کے درمیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممکم بالف من الملئکۃ مردفین اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اللہ نے تمہاری سن لی (اور فرما دیا) کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو سلسلہ وار چلے آئیں گے۔ اِذْ تسْتَغِیْثُوْنَ یا اِذْیَعْدِکُمْسے بدل ہے یا لیحق سے اس کا تعلق ہے ‘ یا فعل محذوف سے متعلق ہے ‘ یعنی تم دشمن سے محفوظ رہنے کی اللہ سے درخواست کر رہے تھے اور مدد طلب کر رہے تھے ‘ پھر اللہ نے تمہاری دعا قبول کرلی تھی ‘ اس وقت کو یاد کرو۔ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ یعنی تمہاری مدد کیلئے اور تمہاری طرف سے دفاع کیلئے بھیجوں گا۔ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلآءِکَۃِ ایک ہزار ملائکہ۔ بیہقی نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(9) بدر کے روز جب تم لوگ مدد کے لیے دعا کررہے تھے، پھر تمہاری پکار سن لی گئی کہ ایک ہزار فرشتوں سے میں تمہاری مدد کروں گا جو سلسلہ وار چلے آئیں گے۔ شان نزول : (آیت) ”اذ تستغیثون ربکم فاستجاب“۔ (الخ) حضرت امام ترمذی ؒ نے حضرت عمر فاروق ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے مشرکین مکہ کو دیکھا تو وہ ایک ہزار تھے اور آپ کی جماعت کے لوگ تین سو تیرہ تھے، چناچہ آپ ﷺ قبلہ رخ ہوئے اور ہاتھ اٹھا کر اپنے پروردگار سے دعا کرنے لگے کہ یا الہ العالمین جو آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے اس کو پورا کر، یا الہ العالمین مسلمانوں کی اگر یہ جماعت ہلاک ہوجائے گی تو پھر زمین پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی، آپ قبلہ کی طرف…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ : اپنی تعداد، تیاری، اسلحہ کی کے تین گنا سے زیادہ اور ہر قسم کے اسلحے سے لیس ہونے کی وجہ سے سب مسلمان ہی اپنے پروردگار سے مدد کے لیے فریاد کر رہے تھے۔ خصوصاً رسول اللہ ﷺ تو نہایت عجز اور الحاح کے ساتھ دعا فرما رہے تھے۔ عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں کہ جب بدر کا دن ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی طرف دیکھا، وہ ایک ہزار تھے اور آپ کے ساتھی تین سو انیس آدمی تھے، تو اللہ کے نبی ﷺ نے قبلے کی طرف رخ کرکے ہاتھ پھیلا دیے اور اپنے رب سے بلند آواز سے فریاد کرنے لگے : ”اے اللہ ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے وہ مجھ سے پورا کر، اے اللہ ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے وہ مجھ سے پورا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–10

آیت نمبر : 9۔ 10 قولہ تعالیٰ : آیت : اذتستغیثون ربکم الاستغاثۃ کا معنی مدد اور نصرت طلب کرنا ہے۔ غوث الرجل ( اس نے آدمی کی مدد کی) کہا : واغوثاہ ( اے مدد کرنے والے) اور اس سے اسم غوث، غواث اور غواث ہیں۔ اور استغاثنی فلان فاغشتہ ( فلاں نے مجھ سے مدد طلب کی تو میں نے اس کی مدد کی) اس کا اسم الغیاث ہے، یہ جوہری سے منقول ہے۔ امام مسلم (رح) نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت نقل کی ہے آپ نے بیان فرمایا : جب غزوہ بدر کا دن تھا تو رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی طرف دیکھا تو ہو ایک ہزار تھے اور آپ ﷺ کے اصحاب تین سو سترہ افراد تھے۔ پس حضور نبی مکرم ﷺ قبلہ شریف کی طرف متوجہ ہوئے، پھر اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–10

1:۔ ابن ابی شیبہ اور احمد اور مسلم اور ابوداود اور ترمذی اور ابن جریر اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابو عوانہ اور ابن حبان اور ابو الشیخ اور ابن مردویہ اور ابونعیم اور بہیقی دونوں نے دلائل میں عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو عمربن خطاب ؓ نے بیان فرمایا جب بدر کا دن تھا۔ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کو شمار کیا تو وہ تین سو دس سے کچھ اوپر تھے۔ اور مشرکین کی طرف دیکھا اور وہ ہزار سے زیادہ تھے۔ نبی ﷺ قبلہ رخ ہوئے پھر اپنے ہاتھ کو لمبا فرمایا اور اپنے رب کو پکار رہے تھے۔ اے اللہ وہ وعدہ پورا فرمائیے جو آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے اے اللہ اگر تو نے اہل اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کردیا تو زمین…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِذْ : جب ] [ تَسْتَغِيْثُوْنَ : تم لوگ مدد کے لیے پکارتے تھے ] [ رَبَّكُمْ : اپنے رب کو ] [ فَاسْتَجَابَ : تو اس نے جواب دیا ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ اَنِّىْ : کہ میں ] [ مُمِدُّ : مدد کرنے والا ہوں ] [ كُمْ : تمہاری ] [ بِاَلْفٍ : ایک ہزار سے ] [ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں میں سے ] [ مُرْدِفِيْنَ : لگا تار آنے والے ہوتے ہوئے ] غ و ث ۔ (ن) : غوثا ۔ مدد کرنا ۔ ان یستغیثوا یغاثوا بماء کالمھل [ اگر وہ لوگ مدد کے لیے پکاریں گے تو ان کی مدد کی جائے گی ایک پانی سے جیسے پگھلی ہوئی دھات ] 18: 29 ۔ (استفعال ) استغاثہ ۔ مدد کے لیے پکارنا ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 9 ۔ رد۔ (س) : ردفا ۔ کسی کے پیچھے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

غزوۂ بدر کے موقعہ پر رسول ﷺ کا دعا میں مشغول رہنا اور آپ کی دعا قبول ہونا قریش مکہ اپنے لشکر اور ساز و سامان اور گانے والی عورتیں لے کر بدر پہنچ گئے۔ یہ لوگ مکہ مکرمہ سے آئے تھے۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ بھی مدینہ منورہ سے روانہ ہو کر چند دن میں بدر پہنچ گئے۔ راستہ میں متعدد مراحل میں قیام فرمایا اور حضرت صحابہ سے مشورہ کیا جس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ صاحب روح المعانی ص 172 ج 9 میں بحوالہ مسلم و ابو داؤد و ترمذی حضرت ابن عباس ؓ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عمر بن الخطاب ؓ نے بتایا کہ بدر کے دن نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ پر نظر ڈالی تو یہ حضرات تین سو دس سے کچھ اوپر تھے (ان حضرات کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–10

انعام سوم قال اللہ تعالیٰ اذ تستغیثون ربکم۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ان اللہ عزیز حکیم یاد کرو تم اس وقت کو کہ جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کر رہے تھے کہ اے اللہ ہم کو اپنے دشمن پر فتح دے اور آنحضرت ﷺ نے یہ دعا فرمائی کے اے اللہ اگر مومنوں کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو کوئی تیری عبادت کرنے والا نہ رہے گا کیونکہ یہ امت آخری امت ہے اور یہ نبی آخری نبی ہے سو اللہ تعالیٰ نے تمہاری فریاد سن لی اور تمہاری دعا قبول کی۔ اور وعدہ فرمایا کہ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا جو لگاتار یکے بعد دیگرے آنے والے ہوں گے۔ ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت آئے گی۔ چناچہ اولا ایک ہزار فرشتوں سے مدد کا وعدہ فرمایا پھر تین ہزار…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

8: یہ تیسری علت ہے جب مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ اب مشرک فوج سے مقابلہ ناگزیر ہوگیا ہے تو اب اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر امداد و نصرت کے لیے دعائیں کرنے لگے خود حضور ﷺ نے انتہائی تضرع اور زاری سے دعا کی۔ آپ قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ہاتھ اٹھا کر عرض کی، بارے خدایا اپنا وعدہ فتح و نصرت پورا فرما۔ اللہ ! اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین پر تیری خالص عبادت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا آپ نے اس قدر طویل دعا مانگی کہ آپ کی چادر کندھوں سے گر پڑی حضرت ابوبکر چادر آپ کے کندھوں پر ڈالتے اور کہتے یارسول اللہ دعا کافی ہوگئی اللہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔ (قرطبی وغیرہ) ۔ 9: یعنی اللہ نے تمہاری دعا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–14

ربط آیات : اس سورة کی ابتدائی آیت میں جماعتی نظم وضبط کے قانون کا ذکر کیا گیا تھا پھر کامل الایمان لوگوں کی پانچ صفات بیان ہوئیں فرمایا مال غنیمت کے ضمن میں لوگوں کا جھگڑنا اور حق جتلانا مناسب نہیں کیونکہ یہ مال تو اللہ تعالیٰ کا ہے ، اسی نے اپنی رحمت ومہربانی سے مسلمانوں کو فتح دلائی ، لہٰذا اللہ تعالیٰ جو حکم دیگا اللہ کا رسول اس کے مطابق مال غنیمت میں تصرف کرے گا اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے فرمایا یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا اللہ نے آپ کو گھر سے نکالا حالانکہ اہل ایمان کا ایک گروہ لڑائی کو ناپسند کرتا تھا مگر اللہ کی مصلحت میں اس موقع پر کفار کی شکست وریخت اور مسلمانوں کو غالب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَۃِ مُرْدِفِيْنَ۝ 9 غوث ( استغاث) الغَوْثُ يقال في النّصرة، والغَيْثُ في المطر، واسْتَغَثْتُهُ : طلبت الغوث أو الغیث، فَأَغَاثَنِي من الغوث، وغَاثَنِي من الغیث، وغَوَّثت من الغوث، قال تعالی: إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ [ الأنفال/ 9] ، وقال : فَاسْتَغاثَهُ الَّذِي مِنْ شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ [ القصص/ 15] ، وقوله : وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغاثُوا بِماءٍ كَالْمُهْلِ [ الكهف/ 29] ، فإنّه يصحّ أن يكون من الغیث، ويصحّ أن يكون من الغوث، وکذا يُغَاثُوا، يصحّ فيه المعنیان . والغيْثُ :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–10

ترکیب : اذ تستغیثون ممکن ہے کہ اذا ول سے بدل ہو انی اے بانی جملہ تفسیر ہے استجاب کی یا بیان مردفین بضم المیم وکسر الدال واسکان الرامن اردف مفعولہ مجذوف ہے مردفین امثالھم۔ یہ حال ہے الملائکۃ سے ولتطمئن معطوف ہے بشرٰی پر ای ما جعلہ الا لتطمئن وما النصر الخ جملہ حال ہے فاعل جعل سے النعاس مفعول ثانی ہے یغشیکم کا منہ صفت ہے امنۃ کی جو حال ہے النعاس سے یا مفعول لہ وینزل معطوف ہے یغشی پر ویذھب معطوف ہے یطہر پر وقس علیہ البواتی اذ یوحی بدل ہے اذیغشیکم سے اور عامل ان کا استجاب ہے وقیل اذکر انی سے لے کر کل بنان تک یوحی کا بیان ہے النعاس النوم الخفیف۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان دو باتوں میں سے کہ جن…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِذْتَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّی مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ ۔ (الانفال : 9) (اور اس وقت کو یاد کرو ! جب تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد سنی کہ میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کروں گا جن کے پرے کے بعد پرے نمودار ہوں گے۔ ) مسلمانوں کی دعا کی استجابت ایک ہزار فرشتوں کی صورت میں مسلمان اللہ کے حکم کے مطابق میدانِ جنگ میں پہنچ گئے دونوں فوجوں نے اپنے اپنے پڑائو ڈال لیے تو مسلمانوں نے دیکھا کہ ان کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ قوت ہے۔ ان میں ایک ایک مقابلے میں تین کافر ہیں اور پھر مزید یہ کہ ان میں سے ہر شخص پوری…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–12

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کا مدینہ طیبہ سے نکلنا، اللہ تعالیٰ کی مشیت کے عین مطابق تھا۔ آپ نے بدر کے ریتلے علاقہ میں پڑاؤ ڈالا جس کا نقشہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ نبی اکرم ﷺ رات بھر اپنے رب کی بار گاہ میں آہ وزاری کے ساتھ دعا کرتے رہے۔ جس میں آپ اس حد تک اپنے رب کے حضور فریاد کناں ہوئے کہ اے بار الہا ! اگر یہ مٹھی بھر مسلمان ختم ہوگئے تو قیامت تک تیرا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ ان الفاظ کے پیچھے دو قسم کے محرکات تھے۔ ایک تو اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں انتہا درجہ کی عاجزی اور بےکسی کا اظہار۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اگر مکہ کے لوگ آج غالب آگئے تو وہ اگلے دن مدینہ میں کسی ایک مسلمان کو زندہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اللہ سے استغاثہ : آیت 9: اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ (اور یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے) : یہ اذیعدکم سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ لیحق الحق و یبطل الباطل کے متعلق ہے۔ جب صحابہ کرام کو یقین ہوگیا کہ لشکر کا سامنا بہرصورت ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگے اور کہنے لگے اے ہمارے رب انصرنا علی عدوک تو اپنے دشمن پر ہمیں فتح دے۔ یاغیاث المستغیثینَ اغثنا اے ہمارے فریاد رس ہماری فریاد رسی فرما۔ استغاثہ طلب غوث کو کہتے ہیں۔ اور طلب غوث کا معنی ہے ناپسند حالت سے چھٹکارا پانا۔ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ (پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی) پس اسنے قبول فرمایا۔ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ (کہ میں تم کو مدد دونگا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(9) (اذا تستغیثون ربکم) تم اس سے پناہ طلب کرنے لگے اور دشمن کے خلاف مدد طلب کرنے لگے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی طرف دیکھا، وہ ایک ہزار اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین تین سو سے کچھ زائد تھے آپ (علیہ السلام) حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ خیمہ میں تشریف لے گئے اور قبلہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اے اللہ ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا اس کو پورا کر۔ اے اللہ ! اگر تو مسلمانوں کی اس جماعت کو ہلاک کر دیگاتو زمین میں تیری عبادت نہ ہوگی، آپ (علیہ السلام) دعا مانگتے رہے یہاں تک کہ آپ (علیہ السلام) کی چادر کندھوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

9۔ صحیح مسلم ترمذی ‘ نسائی اور مسند امام احمد بن حنبل میں چند صحابہ کی روایتوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا اصل یہ ہے کہ جب آنحضرت نے مشرکین کی فوج کی ہزار آدمی اور اپنی طرف کے صرف کچھ اگلے تین سو آدمی دیکھے تو آپ کو بڑا اندیشہ ہوا اس لئے جس صبح کو مقابلہ ہونے والا تھا اس رات آپ نے تمام رات اللہ سے مدد اور فتح کی دعا بڑی عاجزی سے دعا مانگی اتنے میں ذرا آپ کو اونگھ آگئی اور پھر آپ مسکراتے ہوئے اٹھے حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا تم کو میں حوشخبری سناتا ہوں کہ اللہ کی مدد آن پہنچی دیکھو ایک طرف جبرئیل پانسو فرشتوں کی فوج سے اور دوسری طرف میکائیل پانسو فرشتوں کو فوج سے لشکر اسلام کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–15

آیت 9 یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمہاری مڈ بھیڑ کو یقینی اور قریب کردیا، تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لئے پکار اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ (فاستجاب لکم) ” پس اس نے تمہاری پکار کا جواب دیا “ اور متعدد امور کے ساتھ تمہاری مدد فرمائی، مثلاً اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجا (بالف من المئکۃ مردفین) ” ہزار فرشتے لگاتار آنے والے “ یعنی وہ پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔ (وما جعلہ اللہ) ” اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے “ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو (الا بشری) ” مگر خوش خبری “ تاکہ اس سے تمہارے دل خوشی حاصل کریں۔ (ولتطمئن بہ قلوبکم) ”…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–10

فرشتوں کے ذریعہ مدد قول باری ہے فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملائکۃ مردفین وما جعلہ اللہ الا بشری ولتطمین بہ قلوبکم۔ جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لئے پے در پے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں۔ یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لئے بتادی کہ تمہیں خوشخبری ہو اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں) یہ تمام باتیں واقعاتی طور پر اسی طرح پیش آئیں جس طرح آیت میں بتائی گئی تھیں اور اس طرح یہ باتیں مسلمانوں کے دلوں میں طمانیت کا ذریعہ بن گئیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

11 حاجت روا و فریاد رس سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی یاد کرو کہ جب تم سب لوگ فریاد کر رہے تھے اپنے رب کے حضور کہ فریاد رس اور حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سو دیکھئے حضرت امام الانبیاء ۔ ﷺ ۔ اور آپ ﷺ کے قدسی صفت صحابہ کرام کی جماعت، سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے حضور فریاد کرتے اور اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ اور اپنی سب حاجتیں اور ضرورتیں اسی وحدہ لاشریک کے حضور پیش کرتے ہیں۔ اور جب امام الانبیاء ۔ علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام ۔ بھی حاجت روا و فریاد رس اور مشکل کشا نہیں بلکہ وہ بھی دوسروں کی طرح اللہ ہی کے محتاج ہیں تو پھر اور کون ایسا ہوسکتا ہے جو اس کا اہل ہو ؟ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–17

اللہ کی حکمتیں، کفار کی سزا اور مسلمانوں کی مدد تشریح : غزوئہ بدر مسلمانوں اور کفار کے درمیان میدان جنگ میں لڑنے کا پہلا معرکہ تھا۔ گو کہ مسلمان کم اور کفار زیادہ تھے۔ اسی لیے صحابہ کرام کا خیال تھا کہ اگر ابوسفیان کے قافلے سے مقابلہ ہوجائے تو زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک تو وہ جنگی تیاری سے نہیں نکلے اور دوسرے مال و دولت خوب ہاتھ لگے گا۔ مگر اللہ کا فیصلہ اس کے برعکس تھا۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ زورآور اور حکمت والا ہے وہ اسلام کی طاقت اور کفر کی بےبسی کا فیصلہ دشمنوں کو صاف طور پر دکھانا چاہتا تھا کہ دیکھو مسلمانوں کی روحانی طاقت اور توکل علی اللہ کس قدر مضبوط ہے کہ ایک چھوٹی سی اور بےسروسامان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سورة الانفال یہ سورة مدنی ہے سورة اعراف میں کفر وشرک اور برائی پر انجام بد اور ایمان اور نیکی پر انعامات کا جو در س چل رہا تھا ، آیات 1 تا 10 اسرار و معارف آپ سے مال غنیمت کے بارے جاننا چاہتے ہیں تو فرمادیجیے کہ یہ مال اللہ کریم کا ہے اور اللہ کریم کی طرف سے اس کے رسول کا ہے یعنی اس کے متعلق کسی کی رائے یامشورہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ، چونکہ یہ خالص اللہ کریم کا مال ہے پہلی امتوں کو لینے کی اجازت ہی نہ تھی اور اب اجازت ملی تو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا فیصلہ نافذہوگا چناچہ چارمعروف طریقے زمانہ اقدس سے اس بارہ میں جاری ہوئے ۔ ایک یہ کہ اعلان کردیاجاتا کہ جو مخالف کو قتل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یہ آنحضرت کی دعا کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ حضرت عمر ؓ سے رایت ہے کہ بدر کے روز کافروں کو تعداد ایک ہزار اور مسلمانوں کی تعاداد 317 تھی، جب آنحضرت ﷺ نے یہ صورت حال یہ دیکھی تو قبلہ رخ ہوئے اور ہاتھ اٹھاکر نہایت عاجزی سے دعا فرمانے لگے اے اللہ تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما اے اللہ۔ ! تو نے مجھے جس چیز کا وعدہ کیا ہے۔ وہ عطا فرما، اے اللہ ! اگر تو نے اہل اسلام کے اس گروہ کو ایک کر ڈالا تو روئے زمین پر تیری بندگی کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔ ( مسلم، ابود اؤد)3 یا ایک ہزار پے در پے آنے والے فرشتوں سے تمہاری مدد کرو گا، چناچہ فرشتے نازل ہوئے اور انہوں نے جنگ میں شرکت کی جیسا کہ صحیح مسلم کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:9) تستغیثون۔ تم فریاد کرتے ہو۔ تم فریاد چاہتے ہو۔ استغاثۃ (استفعال) سے کسی کو مدد کے لئے پکارنا۔ فاستغاثہ الذی من شیعتہ علی الذی من عدوہ (28:15) تو جو شخص ان کی قوم سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلہ میں جو موسیٰ (علیہ السلام) کے دشمنوں میں سے تھا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد طلب کی۔ غیث مدد مانگنا اور پانی مانگنا بھی ہوسکتا ہے۔ غیث بمعنی بارش ۔ جیسے کمثل غیث اعجب الکفار نباتہ (57:10) جیسے بارش کہ اس سے کھیتی اگتی اور کسانوں کو بھلی لگتی ہے۔ استجاب۔ اس نے قبول کیا۔ اس نے مانا۔ استجابۃ (استفعال) سے مصدر جس کے معنی قبول کرنے اور ماننے کے ہیں۔ صیغہ واحد مذکر غائب ماضی معروف۔ ممدکم۔ مضاف مضاف…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–14

لغات القرآن۔ تستغیثون۔ تم فریاد کرتے ہو۔ استجاب۔ جواب دیا۔ قبول کیا۔ ممد۔ مدد کرنے والا۔ الف۔ ہزار۔ مردفین۔ ایک کے بعد دوسرے کا آنا۔ لگاتار آنا۔ بشری۔ خوش خبری۔ لتطمئن۔ تاکہ مطمئن ہوجائیں۔ عزیز۔ زبردست۔ اللہ کی صفت ہے۔ یغشی۔ وہ چھا جاتا ہے۔ النعاس۔ اونگھ (نیند اور جاگنے کی درمیانی حالت) ۔ لیطھرکم۔ تاکہ وہ تمہیں پاک کردے۔ یذھب۔ وہ لے جاتا ہے۔ وہ جاتا ہے۔ رجز الشیطن۔ شیطان کی گندگی۔ لیربط۔ تاکہ وہ باندھ دے۔ یثبت۔ جما دیتا ہے۔ الاقدام۔ (قدم) قدم۔ ثبتوا۔ تم جما دو ۔ القی۔ میں ڈال دوں گا۔ الرعب۔ ہیبت۔ ڈر۔ اضربوا۔ مارو۔ سزا دو ۔ فوق۔ اوپر۔ الاعناق۔ (عنق) ۔ گردنیں۔ بنان۔ انگلیوں کے پورے۔ جوڑ جوڑ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

مطلب اس ٓیت کا یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے مشرکین کی فوج کے ہزار آدمی اور اپنی طرف کے کچھ اگلے تین سو دیکھے تو آپ کو بڑا اندیشہ ہوا۔ اس لئے جس صبح کو مقابلہ ہونے والا تھا، اس رات کو اللہ تعالیٰ سے مدد اور فتح کی دعا بڑی عاجزی سے مانگی، اور آپ کی دعا قبول ہوگئی اور اللہ کی مدد آن پہنچی۔ ایک طرف حضرت جبرئیل (علیہ السلام) پانچ سو فرشتوں کی فوج سے اور دوسری طرف حضرت میکائیل (علیہ السلام) پابچ سو فرشتوں کی فوج سے لشکر اسلام کے دائیں بائیں موجود تھے۔ فرشتے اگرچہ مسلمانوں کی دلجمعی کے لئے اور لڑائیوں میں بھی لشکر اسلام کی مدد کو آئے ہیں۔ ہر شخص کو چاہئے کہ دل لگا کر اصرار اور عاجزی سے دعا مانگے ضرور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–11

[2] ہجرت کے دوسرے سال جب مشرکین مکہ مدینے پر حملے کی نیت سے روانہ ہوئے تو اس زمانے میں ان کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ آ رہا تھا اور مدینے کے قرب و جوار سے ہو کر گزرنے والا تھا۔ رسول اکرم ﷺ نے وحی الٰہی سے مطلع ہو کر فرمایا کہ ایک گروہ مکہ سے آ رہا ہے اور دوسرا قافلہ ہے۔ ان دو میں سے کسی ایک سے ضرور جنگ ہوگی۔ چونکہ قافلے کے ساتھ بہت تھوڑے آدمی تھے اس لئے مسلمانوں کی خواہش تھی کہ اس سے مقابلہ ہو اور مکہ والی فوج سے نہ لڑیں کیونکہ خود بڑی ہی بےسروسامانی کی حالت میں تھے۔ مگر رسول اکرم ﷺ نے لوگوں کے ان خیالات کی پروا نہ کی اور حملہ آوروں کے مقابلے کا فیصلہ کرلیا۔ اگرچہ مسلمانوں نے آپ کا فیصلہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–9

غزوہ بدر : (ف 1) 2 ھ؁ میں مسلمانوں کو ضرورت محسوس ہوئی کہ مکہ والوں کی شرارتوں کا قطعی سدباب کردیا جائے یہ تقریبا 300 میل کی دوری کے باوجود مسلمانوں کو چین سے نہیں رہنے دیتے تھے اکثر دھمکیاں دیتے ، کہ ہم یثرب پہنچ کر تمہیں مزہ چکھائین گے ربیع الاول 2 ھ؁ میں ایک شخص کو زبن جابر الفہری مدینہ پہنچا اور اونٹ لوٹ کرلے گیا ، حضور ﷺ نے فیصلہ کرلیا ، کہ مدینے سے باہر نکل کر فیصلہ کن جنگ ہوجائے ، تاکہ کفر کو آیندہ ایمان کے خلاف جرات نہ رہے ۔ حضور ﷺ نے صحابہ کرام ؓ اجمعین سے مشورہ کیا ، سب نے رضا مندی کا اظہار کیا یہ ایک جماعت ایسی تھی ، جسے باہر نکل کر کامیابی کا بھروسہ نہ تھا وہ کہتے تھے ہم اچھی طرح…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

9 وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے اور دعائیں مانگ رہے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری دعا اور تمہاری فریاد کو قبول کرلیا اور یہ وعدہ کیا کہ میں تمہاری ایک ہزار فرشتوں سے مدد کروں گا جن کے پیچھے دوسرے فرشتے ہوں گے۔ یعنی یا تو یہ ایک ہزار لگاتار آئیں گے یا یہ کہ ہزار کے بعد اور مزید فرشتے آئیں گے تفصیل چوتھے پارے میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–10

ف 1۔ اس غلبہ کے باوجود اس کے تمام کفار قریش ہلاک نہ ہوئے تھے قطع دابر اس لیے کہا گیا کہ اس واقعہ سے ان کی قوت بالکل فنا ہوگئی تھی کیونکہ ان کے بڑے بڑے سردار ستر قتل اور ستر قید ہوئے تھے اس طرح گویا وہ سب ہی ختم ہوگئے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بدر میں اللہ نے تمہاری فریاد سن کر فرشتوں سے تمہاری مدد کی : 16: میدان بدر میں حق و باطل کا آمنا سامنا ہوگیا۔ مادی وسائل کے لحاظ سے باطل کی طاقت و قوت افرادی حق کا مقابلہ میں تگنی ہے اور وسائل کے مقابلہ میں کم از کم دس گنا تھی۔ مٹھی بھر جماعت جب میدان میں اتر چکی تو رات کے وقت بنی اعظم و آخر ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے مدد کی درخواست کی اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” اے اللہ ! مجھ سے جو وعدہ تو نے فرمایا ہے اس کو جلد پورا فرمادے اے اللہ ! آج یہ تھوڑی سی جماعت مسلمین کی گرفتاری ہوگئی تو پھر اس زمین پر تیری گرفتاری کرنے والا کوئی باقی نہ رہے۔ “ (عبداللہ بن عباس ؓ آپ ﷺ اسی طرح الحاح وزاری کے ساتھ دعا میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In substance, what Muslims are being chastised for is their choice of an option which was laced with timidity, desire to relax, and was a thing of temporal benefit. Contrary to that, the intention made by Allah Ta` ala was based on high determination, great objectives and benefits which were perfect and eternal. Then, in the second verse (8), it was further clarified by saying that there was nothing outside the power and control of Allah Ta` ala. If He had so willed, Muslims would have triumphed over the trading caravan, but He deemed it compatible with the station and majesty of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–10

7. This gives some idea of the prevalent situation at the time. As we have said earlier (see above, p. 128), the march of the Quraysh towards Madina meant that only one of the two would survive in Arabia - either Islam or the entrenched system of Jahiliyah (Ignorance). Had the Muslims not taken up the challenge, the very survival of Islam would have been imperilled. But since the Muslims took the initiative and dealt a severe blow to the military strength of the Quraysh it became possible for Islam to consolidate itself and subsequently the forces of Ignorance suffered a succession of…

Read the full tafseer →