Al-Anfaal 8:13

Al-Anfaal · from ayah 13

8:13

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۚ— وَمَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۟ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآ قُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌ ۚ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ

یہ (سزا) اس لیے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

That is because they opposed Allah and His Messenger. And whoever opposes Allah and His Messenger - indeed, Allah is severe in penalty.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:13

یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسولؐ کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسولؐ کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ (سزا) اس لیے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے سو بےشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی مول لی ہے، اور اگر کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی مول لیتا ہے، تو یقینا اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخا لفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کرے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرے تو بیشک اللہ (اسے) سخت عذاب دینے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ اس لیے کہ بیشک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے تو بیشک اللہ بہت سخت عذاب والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ اس لیے تھا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی تھی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سخت سزا دینے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اس سبب سے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ کو اٹھے ہیں اور جو اللہ و رسول کے مقابلہ کو اٹھتے ہیں تو اللہ ان کے لیے سخت پاداش والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ سزا اس لئے کہ انہوں نے مقابلہ کیا اللہ اور اس کے رسول کا، اور جو کوئی مقابلہ کرے گا اللہ اور اس کے رسول کا تو وہ یقینا تباہ ہو کر رہے گا کہ بیشک اللہ بڑا ہی سخت عذاب دینے والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

یہ (حکم قتال) اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے سو اللہ سزادینے میں سخت ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ (سزا ان کی) اس لیے ہے کہ انہوں نے مخالفت کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ دشمنی کرے تو اللہ بھی سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ سزا اس لیے دی گئی کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ کا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

This is because they defied Allah and His Messenger. Whoever defies Allah and His Messenger must know that Allah is severe in punishment.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

That is because they were hostile to Allah and His Messenger; and whoever becomes hostile to Allah and His Messenger, then, Allah is severe at punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

That is because they were hostile to Allah and His Messenger; and whoever becomes hostile to Allah and His Messenger, then, Allah is severe at punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

This is because they defied and disobeyed Allah and His Messenger. And whoever defies and disobeys Allah and His Messenger, then verily, Allah is severe in punishment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That is because they opposed Allah and His messenger. Whoso opposeth Allah and His messenger, (for him) lo! Allah is severe in punishment.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That is because they opposed Allah and His Messenger. And whoever opposes Allah and His Messenger - indeed, Allah is severe in penalty.

— Saheeh International

they have opposed God and His Messengers." For those who oppose God and His Messengers, God has prepared a severe retribution.

— Muhammad Sarwar

This is because they acted adversely to Allah and His Apostle; and whoever acts adversely to Allah and His Apostle-- then surely Allah is severe in requiting (evil).

— Muhammad Habib Shakir

This, because they have resisted Allah and His apostle; and whosoever resisteth Allah and His apostle, then verily Allah severe in retribution.

— Abdul Majid Daryabadi

This because they contended against Allah and His Messenger: If any contend against Allah and His Messenger, Allah is strict in punishment.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–14

تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پرشوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت (ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ يَظُنُّوْنَ باللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۭ يَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قُلْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْفَال 11 یہاں تک کہ جنگ بدر کے جن واقعات کو ایک ایک کرکے یاد دلایا گیا ہے اس سے مقصود دراصل لفظ ”انفال“ کی معنویت واضح کرنا ہے۔ ابتدا میں ارشاد ہوا تھا کہ اس مال غنیمت کو اپنی جانفشانی کا ثمرہ سمجھ کر اس کے مالک و مختار کہاں بنے جاتے ہو، یہ تو دراصل عطیہ الہٰی ہے اور معطی خود ہی اپنے مال کا مختار ہے۔ اب اس کے ثبوت میں یہ واقعات گنائے گئے ہیں کہ اس فتح میں خود ہی حساب لگا کر دیکھ لو کہ تمہاری اپنی جانفشانی اور جرأت وجسارت کا کتنا حصہ تھا اور اللہ کی عنایت کا کتنا حصہ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–14

معارف و مسائل شروع سورة انفال سے اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کا بیان ہو رہا ہے جو اس کے فرمانبردار بندوں پر مبزول ہوئے۔ غزوہ بدر کے واقعات بھی اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ غزوہ بدر میں جو انعامات حق تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئے ان میں سے پہلا انعام تو خود اس جہاد کے لئے مسلمانوں کو نکالنا ہے جس کا بیان (آیت) كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ میں ہوا ہے، دوسرا انعام فرشتوں کی مدد کا وعدہ ہے جس کا ذکر (آیت) اِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ میں آیا ہے۔ تیسرا انعام دعا کی قبولیت اور مدد کا وعدہ پوا کرنا ہے جس کا ذکر (آیت) اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ ، میں ہوا ہے۔ مذکور الصدر آیات میں سے پہلی آیت میں چوتھے انعام کا تذکرہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاۗقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۚ وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔ یہ وجہ بیان ہوئی اس بات کی کہ کیوں خدا ان کے دلوں میں رعب ڈال دے گا اور کیوں یہ مسلمانوں کے ہاتھوں گاجر مولی کی طرح کاٹے جائیں گے ؟ فرمایا کہ اس لیے کہ یہ اللہ و رسول کے مقابلہ کے لیے اٹھے ہیں اور جو لوگ اللہ و رسول سے مقابلہ کے لیے اٹھتے ہیں اللہ ان کو شدید پاداش سے دوچار کرتا ہے۔ انسانی فطرت کے اندر خدا اور خدا کے رسول سے لڑنے کے لیے کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ لڑائی کا جواز وہاں ہوتا ہے کہ خدا کے مقابل میں کسی حق کا سوال پیدا نہیں ہوتا اس وجہ سے اس قسم کی جہالت کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 12–14

12۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے سے اور خاص اپنی طرف سے جس جس طریقے سے مسلمانوں کی بدر میں مدد فرمائی اس کا بیان ہے۔ 12۔ 1 بَنَانِ۔ ہاتھوں اور پیروں کے پور۔ یعنی ان کی انگلیوں کے اطراف (کنارے) یہ اطراف کاٹ دیئے جائیں تو ظاہر ہے کہ وہ معزور ہوجائیں گے۔ اسطرح وہ ہاتھوں سے تلوار چلانے کے اور پیروں سے بھاگنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–15

5: اتنے بڑے لشکر کے ساتھ تقریباً نہتے آدمیوں کا معرکہ پیش آنے والا ہو تو گھبراہٹ ایک طبعی امر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس گھبراہٹ کا علاج یہ فرمایا کہ صحابہ پر نیند طاری کردی، جس کی ایک تاثیر یہ ہوتی ہے کہ اس سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے، چنانچہ وہ جنگ سے پہلی رات جی بھر کر سوئے جس سے تازہ دم ہوگئے، نیز جنگ کے دوران بھی ان پر وقفے وقفے سے اونگھ طاری ہوتی رہی، جس سے انہیں سکون ملتا رہا۔ 6: مسلمانوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کفار نے بدر کے میدان میں پہلے پہنچ کر بہترین جگہ پر قبضہ کرلیا تھا جہاں پانی کافی تھا، اور زمین بھی سخت تھی، مسلمانوں کو جو جگہ ملی وہ ریتیلی جگہ تھی جس پر پاؤں جمتے نہیں تھے،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس تقریر کے آخر میں اور اس عظیم اور ہولناک حقیقت کے انکشاف کے آخر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اس معرکے کا پس منظر کیا تھا اور کن حقائق کی وجہ سے کسی کو نصرت ملی اور کسی کے حصے میں ہزیمت آئی۔ وہ عظیم پس منظر یہ تھا :۔ ” ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاۗقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۚ وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ : یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے “ یہ کوئی ایسا واقعہ نہ تھا کہ اچانک پیش آگیا اور نہ ہی یہ اتفاقی حادثہ تھا جو پیش آگیا اور چلا گیا۔ اللہ نے جماعت مسلمہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 12–14

3 جنگ بدر کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ اس معرکہ میں خود ابلیس لعین کنانہ کے سردار اعظم سراقہ بن مالک مدلجی کی صورت میں ممثل ہو کر ابو جہل کے پاس آیا اور مشرکین کے خوب دل بڑھائے کہ آج تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا، میں اور میرا سارا قبیلہ تمہارے ساتھ ہے۔ ابلیس کے جھنڈے تلے بڑا بھاری لشکر شیاطین کا تھا۔ یہ واقعہ آگے آئے گا۔ اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کی کمک پر شاہی فوج کے دستے جبرائیل و میکائیل کی کمانڈ میں یہ کہہ کر بھیجے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر شیاطین آدمیوں کی صورت میں (ہم شکّل) ہو کر کفار کے حوصلے بڑھا رہے ہیں اور ان کی طرف سے لڑنے کو تیار ہیں اور مسلمانوں کے قلوب کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ شَآقُّوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗج وَمَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ اس کے بعد اب قریش سے براہ راست خطاب ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 13–15

14 کفار مکہ کا آپ کو تکلیفیں پہنچانا اور آپ کی بددعا :۔ رسول اللہ ﷺ کو جس طرح کی ایذائیں پہنچائی جاتی تھیں ان کا ایک نمونہ درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے : سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ آپ ایک دفعہ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اور اس کے ساتھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے وہ آپس میں کہنے لگے کہ تم میں سے کون جاتا ہے اور فلاں لوگوں نے جو اونٹنی کاٹی ہے اس کا بچہ دان لا کر محمد ﷺ جب سجدہ کرے تو اس کی پیٹھ پر رکھ دیتا ہے ؟ یہ سن کر ان کا بدبخت ترین (عقبہ بن ابی معیط) اٹھا اور بچہ دان اٹھا لایا اور دیکھتا رہا، جب آپ ﷺ سجدہ میں گئے تو بچہ دان آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان میں پیٹھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

22 ۔ (خواہ یہ سزا آخرت میں ہو یا دنیا میں، یا دونوں جگہ) (آیت) ” شآقواللہ “۔ سے مراد شاقوا اولیاء اللہ بھی لی گئی، ای اولیاء ہ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–15

آیت نمبر 11 تا 19 ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے اس خوف سے جو تم کو درپیش تھا غنودگی کی شکل میں تم پر سکون اور بےخوفی طاری کررہا تھا اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا ریا تھا کہ تم اصغر اور حدث اکبر سے پاک کرے اور تم سے اس شیطانی وسوسہ کو دور کرے کہ اگر تم حق پر ہوتے تو تم (اس طرح) پیاسے اور بےطہارت نہ ہوتے اور مشرک پانی ہر قابض نہ ہوتے اور تاکہ تمہارے قلوب کو یقین و صبر کے ساتھ مضبوط کرے اور تاکہ بارش کے ذریعہ تمہارے قدموں کو جما دے کہ ریت میں نہ دھنسیں، (اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارا رب ان فرشتوں سے کہہ رہا تھا جن کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد فرمائی مدد اور نصرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذلک بانھم شاقوا اللہ ورسولہ ومن یشاقق اللہ ورسولہ فان اللہ شدید العقاب : یہ (سزا) اسلئے دی گئی کہ انہوں نے اللہ اور رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ اور رسول کی مخالفت کرتا ہے (تو اس کو اللہ عذاب دے گا کیونکہ) اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ ذٰلِکَ یعنی یہ مار اور مارنے کا حکم۔ اس میں خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ بِاَنّٰھُمْ شَآقُّوا یعنی اس مار کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ اور اللہ کے رسول سے عناد کیا۔ شَاقُّوا کا مادہ شِق ہے ‘ شق کا معنی ہے جانب ‘ پہلو۔ دو عناد کرنے والوں میں سے ہر فریق دوسرے فریق کے مخالف جانب میں ہوتا ہے جیسے معادات کا مادہ عدوۃ اور مخاصمۃ کا مادہ خصم ہے۔ وَمَنْ یُّشَاقِقِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–14

(13۔ 14) ان کافروں کا قتال اس لیے کیا جارہا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دین کی مخالفت کی ہے اور جو ایسا کرتا ہے ہم اسے سخت سزا دیتے ہیں اور اس دنیا میں بھی سزا چکھو اور آخرت میں بھی جہنم کا عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاۗقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : یعنی کفار کو بدر کے دن جو ذلت آمیز شکست ہوئی اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اس طرح مخالفت کی کہ صاف مقابلے پر اتر آئے۔ ”شَاۗقُّوا“ یہ ”شِقٌّ“ سے مفاعلہ ہے کہ ایک طرف ایک ہو اور دوسری طرف دوسرا اس کے مقابلے میں ہو، یعنی مخالفت، مقابلے میں آنا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–14

آیت نمبر : 13۔ 14 قولہ تعالیٰ : آیت : ذلک بانھم شاقوا اللہ، ذلک یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے اور تقدیر کلام ہے : ذالک الامر، یا الامر ذالک ( یہ حکم اس لیے ہے) شاقوا اللہ یعنی انہوں نے اللہ کے اولیاء ( اور دوستوں) کی مخالفت کی ہے۔ اور الشقاق کا معنی ہر ایک کا مشقت میں پڑنا ہے ( یا ہر ایک کا ایک طرف اور کنارہ میں ہوجانا ہے) یہ معنی پہلے گزر چکا ہے۔ آیت : ذلکم فذوقوہ وان للکفرین عذاب النار زجاج نے کہا ہے : ذالکم، الآمر یا القصہ مضمر ماننے کے سب مرفوع ہے۔ یعنی الامر ذالکم فذوقوہ ( معاملہ اور قصہ یہ ہے پس چکھو اسے) اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ ذوقوا ( فعل کا مفعول ہونے) کے سبب محل نصب میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–14

1۔ ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ ابو بدر عباد بن ابولید المغبری (رح) نے ہم کو اپنے خطبہ میں خبر دی کہ اس نے کہا میں نے ابو سعید احمد بن داود الحداد کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو یہ نہیں فرمایا کہ اس کے ساتھ ہے مگر بدر کے دن فرشتوں کے لئے فرمایا بلاشبہ میں تمہارے ساتھ ہوں مدد کے لئے۔ 2۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) نے فرمایا کہ فرشتے نہیں لڑے مگر بدر کے دن۔ 3۔ ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ نے ابوامامہ بن سہل بن حنیف (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میرے والد نے بتایا اے میرے بیٹے ہم نے بدر کے دن دیکھا اور ہم میں سے ایک کوئی اپنی تلوار سے اشارہ کرتا تھا مشرک کے سر کی طرف…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ذٰلِكَ : یہ ] [ بِاَنَّهُمْ : اس سبب سے کہ انہوں نے ] [ شَاۗقُّوا : مخالفت کی ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ وَرَسُوْلَهٗ ۚ : اور اس کے رسول کی ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ يُّشَاقِقِ : مخالفت کرے گا ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ وَرَسُوْلَهٗ : اور اس کے رسول کی ] [ فَاِنَّ : تو بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ شَدِيْدُ الْعِقَابِ : گرفت کرنے کا سخت ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مشرکین کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کی سزا ملی ذلک کا مشار الیہ ضرب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کافروں کو مارنے کا یہ حکم اس لیے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ پھر اس کو بطور قاعدہ کلیہ کے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا سزا کا مستحق ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ مخالفت کرنے والوں کو سخت عذاب دینے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–14

بیان حکمت در ہزیمت کفار قال اللہ تعالیٰ ذلک بانھم شاقوا اللہ ورسولہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ وان للکفرین عذاب النار (ربط) ان آیات میں کافروں کی ذلت اور ہزیمت کا سبب ذکر فرماتے ہیں ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور اس کی اطاعت سے سرکشی کی جس کا دنیا میں کچھ مزا چکھا اور اصل سزا تو آخرت میں ملے گی۔ چناچہ فرماتے ہیں یہ اس طرح سے کافروں کا مقتول اور مخذول ہونا اس لیے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا تو بیشک اللہ اس کو سخت عذاب دینے والا ہے اور۔ اے مشرکو یہ قتل اور قید کا مزہ تو فی الحال دنیا میں چکھ لو اور جان رکھو کہ کافروں کے لیے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–14

14: مذکورہ امور کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی مشرکین کو مارنے اور ان کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہوچکے تھے۔ “ ذٰلِکُمْ فَذُوْقُوْہُ ” اس سے پہلے “ قُوْلُوْا ” محذوف ہے اور “ اَنَّ لِلْکٰفِرِیْنَ ” سے پہلے “ وَاعْلَمُوْا ” مقدر ہے۔ یعنی ہم نے کہا تھا کہ اب یہ عذاب چکھو اور یہ بھی جان لو کہ آخت میں تم جیسے کافروں کے لیے دوزخ کا عذاب بھی تیار ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–14

ربط آیات : اس سورة کی ابتدائی آیت میں جماعتی نظم وضبط کے قانون کا ذکر کیا گیا تھا پھر کامل الایمان لوگوں کی پانچ صفات بیان ہوئیں فرمایا مال غنیمت کے ضمن میں لوگوں کا جھگڑنا اور حق جتلانا مناسب نہیں کیونکہ یہ مال تو اللہ تعالیٰ کا ہے ، اسی نے اپنی رحمت ومہربانی سے مسلمانوں کو فتح دلائی ، لہٰذا اللہ تعالیٰ جو حکم دیگا اللہ کا رسول اس کے مطابق مال غنیمت میں تصرف کرے گا اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے فرمایا یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا اللہ نے آپ کو گھر سے نکالا حالانکہ اہل ایمان کا ایک گروہ لڑائی کو ناپسند کرتا تھا مگر اللہ کی مصلحت میں اس موقع پر کفار کی شکست وریخت اور مسلمانوں کو غالب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ شَاۗقُّوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ۝ 0 ۚ وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۝ 13 شقاق والشِّقَاقُ : المخالفة، وکونک في شِقٍّ غير شِقِ صاحبک، أو مَن : شَقَّ العصا بينک وبینه . قال تعالی: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقاقَ بَيْنِهِما[ النساء/ 35] ، فَإِنَّما هُمْ فِي شِقاقٍ [ البقرة/ 137] ، أي : مخالفة، لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي [هود/ 89] ، وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتابِ لَفِي شِقاقٍ بَعِيدٍ [ البقرة/ 176] ، مَنْ يُشاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ الأنفال/ 13] ، أي : صار في شقّ غير شقّ أولیائه، نحو : مَنْ يُحادِدِ اللَّهَ [ التوبة/ 63] ، ونحوه :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–14

(2) اذ یغشیکم الخ یہ بھی اسی روز کا دوسرا واقعہ ہے جب خدا نے مسلمانوں کو مضبوط کرنا چاہا تو خلاف عادت ان پر نیند مسلط کردی۔ اس نعاس یعنی نیند میں علماء کے دو قول ہیں۔ اول یہ کہ جنگ سے اول اس رات کہ صبح کو جنگ ہوگی حق سبحانہ نے مسلمانوں کو راحت سے سلا یا جس سے ماندگی سفر کی دور ہوگئی اور دل بھی صبح کو قوی تھے۔ ایسے قلق و اضطراب میں کہ موت سامنے دکھلائی دے رہی ہو نیند آنا انعامِ الٰہی ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ بہ وقت جنگ ایک ایسی حالت طاری ہوگئی جس سے اطمینان اور دل سنبھل گئے۔ یہ صاف معجزہ ہے عین صف جنگ میں سب کا اونگھنا خلاف عادت ہے۔ روایات سے اخیر قول کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–14

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّی مَعَکُمْ فَثَبِّتُوْاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاط سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْ مِنْھُمْ کُلَّ بَنَانٍ ۔ ط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ شَآقُّوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ ج وَمَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ ذٰلِکُمْ فَذُوْقُوْہُ وَاَنَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ ۔ (الانفال : 12 تا 14) (اس وقت کو یاد کرو ! جب تیرے رب نے فرشتوں کو حکم بھیجا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم ایمان والوں کو جمائے رکھو میں عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔ سو مارو گردنوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–14

اس طرح قلبی اطمینان، ذہنی آسودگی، جسمانی نشاط اور ملائکہ کی کمک کی وجہ سے مجاہد قدم جما کر لڑے۔ اس دوران یہ وحی بھی نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیا ہے۔ گویا کہ وہ پوری طرح تم سے مرعوب ہوگئے ہیں۔ لہٰذا آگے بڑھ کر ان کی گردنیں کاٹو اور جوڑ جوڑ کو نشانہ بناؤ کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے باغی ہیں۔ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کا باغی ہوگا اس کو دنیا کی سزا کے ساتھ آخرت میں شدید عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ جس طرح بدر میں انھیں مارنے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اسی طرح جہنم کی آگ میں جھونکتے ہوئے ملائکہ انھیں کہیں گے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانیوں کا مزا ہمیشہ چکتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 13–14

یہ سزا اللہ اور رسول (ﷺ) کی مخالفت کی وجہ سے ملی : آیت 13، 14: ذٰلِکَ (یہ) یہ ضرب، قتل، جلد پہنچے والی سزا تمام کی طرف اشارہ ہے۔ یہ مبتداء ہے۔ بِاَنَّھُمْ شَآقُّوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی) اس کی خبر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عقاب ان پر مخالفت خدا و رسول کی وجہ سے پڑا۔ شاقوا کا لفظ الشق سے ہے۔ ہر دشمنی کرنے والا ایک جانب اور دوسری جانب اس کا مقابل کذا المعاداۃ و المخاصمۃ کیونکہ ایک ایک جانب اور دوسرا دوسری جانب ہوتا ہے۔ وَمَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (31) ذلک بانھم شاقرا اللہ و رسولہ ومن یشاقق اللہ و رسولہ فان اللہ شدید العقاب)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–14

12۔ 14۔ اللہ پاک نے فرشتے جو لشکر اسلام کی مدد کو بدر کی لڑائی میں بھیجے تھے ان کا حال یہ بیان فرمایا کہ مسلمان اس کا شکریہ ادا کریں اور یہ بھی فرمایا فرشتوں کو یہ حکم تھا کہ اے فرشتوں تم مومنوں کے دل کو جاکر مضبوط اور قوی کرو ہم کفار کے دلوں میں خوف ورعب ڈال دیں گے فرشتے آئے تو انہوں نے مسلمانوں کے دل کو مضبوط کیا اور لڑائی میں مسلمانوں کا ہاتھ بھی بٹایا فرشتے انسان کی صورت میں ایک ایک صحابی کے پاس آکر کہتے تھے کہ ہم نے مشرکوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر مسلمان ہم پر حملہ کریں گے تو ہم بھاگ جائیں گے پھر اس بات کا چرچا مسلمانوں میں ہونے لگتا تھا اور ان کے دلوں کو قوت اور طاقت ہوتی تھی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–15

آیت 9 یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمہاری مڈ بھیڑ کو یقینی اور قریب کردیا، تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لئے پکار اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ (فاستجاب لکم) ” پس اس نے تمہاری پکار کا جواب دیا “ اور متعدد امور کے ساتھ تمہاری مدد فرمائی، مثلاً اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجا (بالف من المئکۃ مردفین) ” ہزار فرشتے لگاتار آنے والے “ یعنی وہ پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔ (وما جعلہ اللہ) ” اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے “ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو (الا بشری) ” مگر خوش خبری “ تاکہ اس سے تمہارے دل خوشی حاصل کریں۔ (ولتطمئن بہ قلوبکم) ”…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 11–15

دوران جنگ نیند قول باری ہے اذیغشیکم العناس امنۃ منہ۔ اور وہ وقت جبکہ اللہ نے اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان اور بےخوفی کی کیفیت طاری کردی تھی جب کیل کانٹے سے مسلح دشمن کو اپنے بالمقابل صف آرا دیکھ کر عام حالات میں نیند اڑجاتی ہے خاص طور پر جبکہ دشمن ا ن سے کئی گناہ تھا۔ بارش کے ذریعہ مدد پھر فرمایا وینزل علیکم من السماء ماء لیطھرکم بہ۔ اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے) یعنی جنابت سے پاک کرے اس لئے کہ اسلامی لشکر میں کچھ افراد ایسے تھے جنہیں غسل جنابت کی ضرورت تھی۔ جنابت شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست ہے اس لئے کہ اس کے وسوسے کی بنا پر یہ صورت پیش آتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–13

16 معیت رب کی خوشخبری سے سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب تمہارا رب فرشتوں کی طرف وحی فرما رہا تھا کہ بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں۔ یعنی اپنی نصرت و امداد کے لحاظ سے اور اپنی تایید و عنایت کے اعتبار سے۔ اور جب میں تمہارے ساتھ ہوں تو پھر تمہیں کسی کی کیا پروا ہوسکتی ہے ؟ ۔ اللّٰھُمْ فکُنْ لَنَا ومَعَنَا بفَضْلِکَ وَ بِرَحْمَتِکَ فِیْ کُلِّ مَوْطِنٍ مّنَ الْمَوَاطِنِ وَ بکُلِّ حَالٍ مِّنَ الْاَحوال ۔ یَا ذَا الجُوْدِ وَالْکَرِمِ وَ یا ذَا الْجلَالِ وَاْلاِکرام ۔ بہرکیف یہ پہلا حکم تھا جو حضرت حق ۔ جَلَّ مَجْدَہٗ ۔ کی طرف سے فرشتوں کی اس فوج کو دیا گیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ پس تم ثابت قدم رکھو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–17

اللہ کی حکمتیں، کفار کی سزا اور مسلمانوں کی مدد تشریح : غزوئہ بدر مسلمانوں اور کفار کے درمیان میدان جنگ میں لڑنے کا پہلا معرکہ تھا۔ گو کہ مسلمان کم اور کفار زیادہ تھے۔ اسی لیے صحابہ کرام کا خیال تھا کہ اگر ابوسفیان کے قافلے سے مقابلہ ہوجائے تو زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک تو وہ جنگی تیاری سے نہیں نکلے اور دوسرے مال و دولت خوب ہاتھ لگے گا۔ مگر اللہ کا فیصلہ اس کے برعکس تھا۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ زورآور اور حکمت والا ہے وہ اسلام کی طاقت اور کفر کی بےبسی کا فیصلہ دشمنوں کو صاف طور پر دکھانا چاہتا تھا کہ دیکھو مسلمانوں کی روحانی طاقت اور توکل علی اللہ کس قدر مضبوط ہے کہ ایک چھوٹی سی اور بےسروسامان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–19

آیات 11 تا 19 اسرار و معارف مزید انعامات یہ کہ مقام بدر میں مشرکین نے ایسی جگہ قبضہ کرلیا جو اونچائی پر تھی اور نسبتا مضبوط زمین تھی اور مسلمانوں کو ایسی جگہ ٹھہرناپڑاجونشیبی تھی حضرت حباب بن منذر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول ﷺ اللہ اگر یہ جگہ پر قبضہ کرلیا جائے چناچہ آپ ﷺ کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور پھر حضرت سعدبن معا ؓ ذ کے مشورہ سے ایک طرف ذرابلند ی پر آپ ﷺ کے لیے ایک چھونپڑی سی بنادی گئی جس میں صرف صدیق اکبر ؓ کو شرف حضوری حاصل تھا اور حضرت معاذ ؓ دروازہ پر بہرہ دے رہے تھے۔ یہ بدر کی پہلی شب تھی دونوں لشکروں کا دن اس طرح بسرہوارات کفاراونچی اور مضبوط زمین پر تھے اور مسلمان نشیبی زمین پر جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–15

ف 1 یعنی ان کے مقابلہ س بھاگو نہیں، بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ حکم صحابہ ؓ کو بدر کے لیے تھا مگر یہ رائے صحیح نہیں بلکہ یہ حکم سب مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے ہے متعدد احادیث میں کفار کے مقابلہ سے بھاگنے کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو، پھر آپ ﷺ نے ان سات چیزوں کو ذکر فرمایا جن میں سے ایک کافروں کے مقابلہ سے بھاگنا ہے۔ ( شوکانی، ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:13) ذلک۔ یعنی یہ کافروں کا قتل اور ان کو قیدی بنانا وغیرہ۔ بانہم۔ ای بسبب۔ شاقوا۔ انہوں نے مخالفت کی۔ شاقۃ اور شقاق سے ماضی جمع مذکر غائب ۔ شاق کے معنی ہیں ضد۔ مخالفت مقابلہ۔ اپنے دوست کی شق کو چھوڑ کر دوسری شق میں ہونا۔ شق طرف کو کہتے ہیں ۔ یعنی اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف کو چھوڑ کر مخالف طرف اختیار کرلی۔ ذلک مبتدا ہے اور بانہم شاقوا اللہ ورسولہ اس کی خبر ہے۔ من تشاقق۔ مضارع مجزوم مکسور بالوصل۔ واحد مذکر غائب۔ باب مفاعلہ۔ جو مخالفت کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–14

لغات القرآن۔ تستغیثون۔ تم فریاد کرتے ہو۔ استجاب۔ جواب دیا۔ قبول کیا۔ ممد۔ مدد کرنے والا۔ الف۔ ہزار۔ مردفین۔ ایک کے بعد دوسرے کا آنا۔ لگاتار آنا۔ بشری۔ خوش خبری۔ لتطمئن۔ تاکہ مطمئن ہوجائیں۔ عزیز۔ زبردست۔ اللہ کی صفت ہے۔ یغشی۔ وہ چھا جاتا ہے۔ النعاس۔ اونگھ (نیند اور جاگنے کی درمیانی حالت) ۔ لیطھرکم۔ تاکہ وہ تمہیں پاک کردے۔ یذھب۔ وہ لے جاتا ہے۔ وہ جاتا ہے۔ رجز الشیطن۔ شیطان کی گندگی۔ لیربط۔ تاکہ وہ باندھ دے۔ یثبت۔ جما دیتا ہے۔ الاقدام۔ (قدم) قدم۔ ثبتوا۔ تم جما دو ۔ القی۔ میں ڈال دوں گا۔ الرعب۔ ہیبت۔ ڈر۔ اضربوا۔ مارو۔ سزا دو ۔ فوق۔ اوپر۔ الاعناق۔ (عنق) ۔ گردنیں۔ بنان۔ انگلیوں کے پورے۔ جوڑ جوڑ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–14

جنگ بدر میں مسلمانوں کی غیبی امداد اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ اے فرشتو ! تم مومنوں کے دل کو جاکر مظبوط اور قوی کرو ہم کفار کے دلوں میں خوف و رعب ڈال دیں گے۔ فرشتے آئے تو انہوں نے مسلمانوں کے دلوں کو مظبوط کیا اور لڑائی میں مسلمانوں کا ہاتھ بٹایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کافروں کے سر پر مارو اور ہاتھ پر اور مونڈھے وغیرہ ہر ایک جوڑ پر ضرب لگاؤ۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ یہ خدا اور رسول کی مخالفت کی سزا ہے۔ ان مشرکوں نے خدا اور رسول کی مخالفت کی تھی۔ یہ نہیں جانتے تھے کہ خدا بڑا سخت عذاب کرنے والا ہے۔ پھر کافروں کو مخاطب ٹھرا کر فرمایا کہ اب تو دنیا میں یہ عذاب چکھ لو، قتل و گرفتار ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–16

[3] آیت 9 سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے وہ احسانات یاد دلائے ہیں جو اس نے جنگ بدر میں ان پر کئے تھے۔ مقصد اس بات کو واضح کرنا ہے کہ تم خود ہی حساب لگا کر دیکھ لو کہ اس فتح میں تمہاری اپنی کاوشوں کا کتنا حصہ تھا اور اللہ کی عنایات کا کتنا حصہ۔ اس لئے یہ فیصلہ کرنا کہ مال غنیمت کس طرح تقسیم ہو تمہارا نہیں اللہ کا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–15

(ف 1) فرشتے اللہ کا حکم پاکر کفر کو مرعوب کرتے رہے ، اور اس کا اثر آج تک مسلمان محسوس کرتا ہے ، وہ ہزار کمزور ہے کفر کے خلاف پوری طرح جانباز ہے گو وہ تمام قوموں سے پیچھے ہے ، گر رعب اب تک قائم ہے ، کفر وطاغوت کی تمام فوجیں مسلمان سے خائف ہیں ، کیونکہ یہی تنہا استعمار کے لئے خطرہ ہے ، حل لغات : مردفین : مردف کی جمع ہے ، یعنی فرشتے ، ردیف دار آتے ہیں گے ، لیربط علی قلوبکم ، ربط علی قلبہ محاورہ ہے مراد حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

13 یہ اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سخت سزا دینے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–15

ف 2۔ اس میں اشارہ ہے ایک قصہ کی طرف بیان اس اجمال کا یہ ہے کہ بدر میں مشرکین پہلے جاپہنچے تھے اور پانی پر قبضہ کرلیا تھا مسلمان بعد میں پہنچے اور ایک خشک ریگستان میں اترے جہاں پانی نہ ہونے سے پیاس کی بھی شدت اور نماز کے وقت وضو اور غسل سے بھی عاجز اور تیمم کا حکم اس وقت نازل نہ ہوا تھا ادھر ریگستان میں چلنا پھرنا مصیبت کہ اس میں پاوں دھنسے جاتے تھے ان اسباب سے قلب سخت پریشان ہوا اوپر سے شیطان نے وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم اگر اللہ کے نزدیک مقبول ومنصور ہوتے تو اس پریشانی میں کیوں پھنستے حالانکہ یہ وسوسہ محض بےبنیاد تھا مگر پریشانی بڑھانے کے لیے کافی تھا اللہ نے اول باران رحمت نازل فرمایا جس…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ اور اس کے رسول کے مخالفوں کے لئے سخت عذاب کی خبر ان کو سنا دو : 20: جب صحابہ کرام ؓ کی جماعت پر سکون رات گزار رہی تھی اور سب پر گہری نیند طاری تھی خودرسول اللہ ﷺ رات کو نماز میں مشغول رہے اور آپ کی آنکھ لگ گئی تو فوراً ہی ہنستے ہوئے بیدار ہوئے اور فرمایا اے ابوبکر ! خوشخبری سن لو کہ ابھی ابھی جبرئیل آئے تھے اور یہ کہتے ہوئے آپ اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور آپ کی زبان پر سیھزم الجمع ویولون الدبر جاری تھا یعنی عنقریب دشمنوں کی جماعت ہار جائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے گی اور باہر تشریف لا کر آپ ﷺ نے مختلف جگہوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ جگہ ابو جہل کے قتل ہونے کی ہے اور یہ فلاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–14

Commentary Being enumerated from the very beginning are blessings of Allah Ta` ala which descended upon His obedient servants. The events of the battle of Badr are parts of the same chain. Out of the many blessings bestowed by Allah Ta` ala during the battle of Badr, the very first blessing is the bringing out of Muslims for this Jihad, which finds mention in: كَمَا أَخْرَ‌جَكَ رَ‌بُّكَ (When your Lord made you leave your home - 5). The second blessing is the promise of providing the support of angels which has been made وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّـهُ (And when Allah was promising you - 7). The…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

11. In recounting the events of the Battle of Badr, the Qur'an aims to explain the significance of the word al-anfal (spoils of war). In the opening verse of the surah the Muslims were told that they should not deem the spoils to be a reward for their toil. Rather, the spoils should constitute a special reward granted to the Muslims by God, to Whom the spoils rightfully belong. The events recounted here support this. The Muslims could reflect on the course of events and see for themselves to what extent the victory they had achieved was due to God's favour, and to what extent it was due to…

Read the full tafseer →