وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۟ۙوَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُۙ
اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And the sun and the moon are joined,
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۟ۙوَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُۙ
اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And the sun and the moon are joined,
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama
اور چاند سورج ملا کر ایک کر دیے جائیں گے
اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں
اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے
اور چاند اور سورج اکٹھے کردئے جائیں گے۔
اور سورج اور چاند ملادیے جائیں گے
اور سورج اور چاند اِکٹھے (بے نور) ہو جائیں گے،
اور سورج اور چاند اکٹھے کردیے جائیں گے۔
اور سورج اور چاند ملا دیئے جائیں گے
اور سورج اور چاند اکھٹے کردیے جائیں گے
اور جمع کردیا جائے گا (بےنور ہونے میں) سورج اور چاند کو
اور چاند اور سورج ایک حالت کے کردئیے جائیں گے
اور سورج اور چاند یکجا کردیے جائیں گے۔
سورج اور چاند جمع کر دئیے جائیں
and the sun and the moon are joined together,
and the sun and the moon will be joined together,
and the sun and the moon will be joined together,
And the sun and moon will be joined together.
And sun and moon are united,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And the sun and the moon are joined,
and the sun and the moon are brought together,
And the sun and the moon are brought together,
And the sun and the moon shall be joined.
And the sun and moon are joined together,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–15
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
سورة الْقِیٰمَة 8 یہ قیامت کے پہلے مرحلے میں نظام عالم کے درہم برہم ہوجانے کی کیفیت کا ایک مختصر بیان ہے۔ چاند کے بےنور ہوجانے اور سورج کے مل کر ایک ہوجانے کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف چاند کی روشنی ختم نہ ہوگی جو سورج سے ماخوذ ہے بلکہ خود سورج بھی تاریک ہوجائے گا اور بےنور ہوجانے میں دونوں یکساں ہوجائیں گے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین یکایک الٹی چل پڑے گی اور اس دن چاند اور سورج دونوں بیک وقت مغرب سے طلوع ہوں گے۔ اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ چاند یک لخت زمین کی گرفت سے چھوٹ کر نکل جائے گا اور سورج میں جا پڑے گا۔ ممکن ہے اس کا کوئی اور مفہوم بھی ہو جس کو آج ہم نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ ۙوَخَسَفَ الْقَمَرُ ۙوَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ یہ قیامت کے حالات کا بیان ہے برق بفتح البا و کسر را کے معنی آنکھ خیرہ ہوگی کہ دیکھ نہ سکیں۔ قیامت کے روز سب کی نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی، نگاہ جما کر کسی چیز کو نہ دیکھ سکیں گی۔ خسف القمر خسوف سے مشتق ہے جس کے معنی روشنی ختم ہو کر تاریکی ہوجانے کے ہیں۔ معنے یہ ہیں کہ چاند بےنور ہوجائے گا۔ آگے وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ میں یہ بتلایا کہ صرف چاند ہی بےنور نہیں ہوگا بلکہ آفتاب بھی بےنور ہوجائے گا جس کے متعلق دنیا کے فلاسفہ کا یہ کہنا ہے کہ اصل روشنی آفتاب میں ہے۔ چاند کی روشنی بھی آفتاب کی شعاعوں سے مستفاد ہے۔ حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
یعنی آج تو وہ اس کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں گویا اس کے مقابلہ کے لیے ہر قسم کی تیاری کیے بیٹھے ہیں لیکن جب اس کی ہولناکی سے سابقہ پیش آئے گا تو کہیں گے، اب کہاں بھاگیں؟ قیامت کے دکھا دیے جانے کا مطالبہ چونکہ ایک بالکل ہی احمقانہ مطالبہ ہے اس وجہ سے اس سے تو یہاں تعرض نہیں کیا لیکن اس کی ہولناکی کے بعض پہلو ان کے سامنے رکھ دیے۔ فرمایا کہ اس دن نگاہیں خیرہ ہو جائیں گی، چاند گہنا جائے گا، سورج اور چاند، جو آج اپنے الگ الگ مداروں میں گردش کر رہے ہیں، ان کی حد بندیاں ٹوٹ جائیں گی اور وہ آپس میں ٹکرا جائیں گے۔ یہ قیامت کے دن کے احوال ہیں جن کا تعلق متشابہات سے ہے۔ اس جہان میں ان کی اصل حقیقت کا…
Read the full tafseer →9۔ 1 یعنی بےنوری میں۔ مطلب ہے کہ چاند کی طرح سورج کی روشنی بھی ختم ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
3:۔ یعنی آخرت کی زندگی کا انکار یہ لوگ کسی علمی دلیل کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ آئندہ بھی وہ بےخوف و خطر گناہ کرتے رہیں، اور آخرت کا تصور ان کے لیے اپنی نفسانی خواہشات پوری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ بنے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فاذا ............................................ المفر (75:7 تا 10) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے۔ اس وقت یہی انسان کہے گا ” کہاں بھاگ کر جاﺅں ؟ “۔ جب بجلی چمکتی ہے تو نظر چندھیاجاتی ہے اور جلدی لوٹ آتی ہے۔ اور جب سورج خسف کا شکار ہوتا ہے تو بےنور ہوجاتا ہے اور سورج اور چاند دور ہیں لیکن یہ باہم مل جائیں گے اور اس طرح تمام فلکی انتظام مختل ہوجائے گا اور ایک خوفناک اور انقلابی صورت حالات ہوگی اس وقت ہر انسان پاہم ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔
Read the full tafseer →13 یعنی بےنور ہونے میں دونوں شریک ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت 9{ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ۔ } ”اور سورج اور چاند یکجا کردیے جائیں گے۔“ اس وقت سورج چاند سمیت تمام اجرامِ فلکی کشش ثقل کے قانون کے تحت اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ جب یہ نظام ڈھیلا پڑے گا تو تمام ُ کرے ّآپس میں ٹکرا جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
8 اس کی صحیح صورت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تاہم معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جب زمین لرزنے اور کپکپانے لگے گی تو اس کی کشش ثقل بھی ختم یا بےقاعدہ قسم کی بن جائے گی اور چاند پر سورج کی کشش ثقل اثر انداز ہو کر چاند کو اپنی طرف کھینچ لے گی اور وہ دونوں باہم ٹکرا جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
4۔ (اور یہ کلمہ انسان کی زبان پر کمال اضطراب و سراسیمگی کے عالم میں آئے گا) قرآن مجید نے بکمال حکمت وبلاغت ادھر توجی ہی نہیں کی کہ وقوع قیامت کی صدی اور وقت اور تاریخ کی تعیین کی جائے۔ بلکہ عین اس وقت کی کیفیات کی تصویر پیش کردی کہ قیامت اس وقت آئے گی جب نظام کائنات یوں اور یوں درہم برہم ہوجائے گا اور انسان ہر طرف یوں بلبلایا ہوا بدحواس بھاگتا پھرتا ہوتا۔ (آیت) ” فاذا برق البصر “۔ آنکھوں پر یہ چکا چوند کی کیفیت اس وقت کے انتہائی ہیبت ناک منظروں سے طاری ہوجائے گی۔ (آیت) ” وخسف القمر “۔ چاند کی اس بےنوری کی تصریح میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ عرب جاہلیت میں چاند ویوتا بہت بڑا دیوتا تھا۔ جس طرح مصر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–12
نفس امارہ، لوامہ، مطمئنہ : حضرات صوفیائے کرام نے اس میں یہ تفصیل کی ہے کہ نفس اپنی جبلت اور فطرت کے اعتبار سے (امارۃ بالسوء) ہوتا ہے مگر ایمان اور عمل صالح اور ریاضت و مجاہدہ سے یہ ” نفس لو امہ “ بن جاتا ہے مگر برائی سے بالکلیہ اس کا انقطاع نہیں ہوتا، آگے عمل صالح میں ترقی اور قرب حق کے حصول میں کوشش کرتے کرتے جب اس کا یہ حال ہوجائے کہ شریعت اس کی طبیعت ثانیہ بن جائے اور خلاف شرع کام سے طبعی نفرت بھی ہونے لگے تو اس نفس کا لقب ” مطمئنہ “ ہوجاتا ہے۔ یکایک سلسلہ کلام کو موقوف کر کے آیت 16 سے 19 تک جملہ معترضہ کے طور پر آپ ﷺ نے فرمایا جاتا ہے کہ اس وحی کو یاد کرنے کے لئے آپ ﷺ اپنی زبان مبارک کو…
Read the full tafseer →و جمع الشمس والقمر . یعنی دونوں سیاہ اور بےنور ہوجائیں گے ‘ دونوں کے اجتماع کا مطلب بعض لوگوں نے بیان کیا کہ دونوں مغرب سے نکلیں گے (جہت طلوع میں اشتراک ہوگا) اور خسوف سے بطور استعارہ بےنور ہونا مراد ہے۔ عطاء بن یسار نے کہا : قیامت کے دن دونوں کو اکٹھا کر کے سمندر میں پھینک دیا جائے گا اور سمندر آگ بن جائے گا۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ بےنور ہوجانے میں دونوں کا اشتراک ہوجائے گا یہی دونوں کا اجتماع ہے۔ جمل میں ہے کہ بروق بصر بعض کے نزدیک موت کے وقت ہوتا ہے ‘ اسی کی تشریح خسوف قمر ہے کہ آنکھوں کی روشنی جاتی رہے گی اور اجتماع شمس و قمر کا معنی یہ ہے کہ حاسۂ نظر کے پیچھے روح بھی جاتی رہے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(6۔ 9) یہ عدی بن ربیعہ بطور انکار کے پوچھتا ہے کہ قیامت کب آئے گی تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس وقت آنکھیں چندھیا جائیں گی اور چاند بےنور ہوجائے گا اور سورج و چاند دونوں ایک حالت کے ہوجائیں گے یعنی سیاہ بےنور ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →وجمع الشمس والقمر : یعنی یہ نظام فلکی جس میں چاند سورج سے لاکھوں میل کے فاصلے پر ہے، درہم برہم ہوجائے گا اور سورج اور چاند اکٹھے کردیئے جائیں گے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :) (الشمس والقمر مکوران یوم القیامۃ) (بخاری، بدء الخلق، باب صفۃ الشمس والقمر : 3200)”قیامت کے دن سورج اور چاند لپیٹے ہوئے ہوں گے۔“
Read the full tafseer →وجمع الشمس والقمر۔ روشنی کے چلے جانے میں ان دونوں کو جمع کردیا تو سورج کی کوئی روشنی نہ ہوگی جس طرح خسوف (چاند گرہن) کے بعد چاند کی کوئی روشنی نہیں ہوتی، یہ فراء اور زجاج کا قول ہے، فراء نے کہا، جمع کا صیغہ مونث ذکر نہیں کیا کیونکہ معنی ہے دونوں کو جمع کردیا گیا، ابوعبیدہ نے کہا مذکر کو غلبہ دینے کی بنا پر اسے مذکر ذکر کیا گیا ہے، کسائی نے کہا : یہ معنی پر محمول ہے گویا کہا وجمع الضوان، مبرد نے کہا، الشمس مونث غیر حقیقی ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضڑت ابن مسعود سے روایت نقل کی گئی ہے ان دونوں کو جمع کیا گیا ہے یعنی دونوں کو مغرب سے سیاہ و تاریک طلوع کرنے میں جمع کردیا گیا گویا وہ دونوں زخمی بیل…
Read the full tafseer →32۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجمع الشمس والقمر یعنی قیامت کے دن لپیٹے جائیں گے۔ چاند وسورج قیامت کے دن آگ کی شکل میں ہوں گے 32 (الف) ۔ ابن جریر وابن المنذر نے عطاء بن یسار سے روایت کیا کہ آیت وجمع الشمس والقمر سے مراد ہے کہ قیامت کے دن دونوں جمع کیے جائیں گے۔ پھر سمندر میں پھینک دئیے جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے بہت بڑی آگ میں بدل دئیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →[وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ : اور اکٹھا کیے جائیں گے سورج اور چاند ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
﴿فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ007 وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ008 وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ009﴾ (سو جس وقت آنکھیں حیران رہ جائیں گی اور چاند بےنور ہوجائے گا اور سورج اور چاند ایک حالت کے ہوجائیں گے) ۔ ﴿ يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّۚ0010﴾ (اس دن انسان کہے گا کہاں ہے بھاگنے کی جگہ) یعنی میں کہاں بھاگوں اور کیا کروں ﴿ كَلَّا لَا وَزَرَؕ0011﴾ (اللہ پاک کی طرف سے جواب ملے گا کہ ہرگز بھی کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے) ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْمُسْتَقَرُّؕ0012﴾ (آج کے دن تیرے رب ہی کے پاس ٹھکانا ہے) نہ بھاگنے کی جگہ ہے نہ بھاگنا فائدہ دے سکتا ہے، اللہ تعالیٰ جس حال میں رکھے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ف 5:۔ ” فاذا برق “ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں قیامت کے بعض احوال واہوال کا ذکر ہے۔ جب آنکھیں ہیبت اور شدت خوف سے حیران ہوجائیں گی، چاند بےنور ہوجائے گا۔ سورج اور چاند کو اکٹھا کردیا جائے گا دونوں بےنور ہوجائیں گے اور اکٹھے ہی مغرب سے طلوع ہوں گے۔ اس دن انسان کہے گا آج کوئی بھاگنے کی جگہ ہے جہاں بھاگ کر پناہ لی جاسکے اور آج کے شدائد واہوال سے جان بچائی جاسکے ؟ قال ابن عباس و ابن مسعود جمع بینھما ای قرن بینھا فی طلوعہما من المغرب اسودین مکورین مظلمین الخ (قرطبی ج 19 ص 93) ۔
Read the full tafseer →وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ 9 ۙ جمع الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ، ( ج م ع ) الجمع کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ۔ ( مال ) جمع کیا اور بند رکھا ۔ جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے شمس الشَّمْسُ يقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : لا اقسم قیل لازائدہ کمازیدت فی قولہ لئلایعلم۔ وقیل لیست بزائدۃ وحینئذ فی معناھاوجھان احدھما انہ نفی القسم بھا لوضوح الامرو الثانی ان ل اور لکلام مقدر لانھم قالوا انت مفترایحسب الھمزۃ للاستفہام الانکاری وان مخففۃ المثقلۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف و جواب القسم محذوف یدل علیہ ھذہ الجملۃ ای لیجمعن العظام۔ بلی ایجاب لمابعد النفی المنسحب الیہ الاستفہام والوقف علیہ حسن۔ ویبتدی الکلام بقولہ قادرین وانتصابہ علی الحال من الفاعل ای نجمعھا قادرین وقیل المعنی بل نجمعہا نقدر قادرین بنان جمع اواسم جمع لبنانۃ لیفجر اللام زائدۃ وناصبہ ان مقدرۃ ای ان یکذب امامہ ظرف ای لیکفرفیما یستقبل یسل تفسیر لیفجر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ ۔ وَخَسَفَ الْقَمَرُ ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۔ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّ ۔ (القیامۃ : 7 تا 10) (پس جب نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی۔ اور چاند بےنور ہوجائے گا۔ اور سورج اور چاند اکٹھے کردیئے جائیں گے۔ تو اس وقت انسان کہے گا کہاں بھاگ کر جاؤں۔ ) قیامت کا منظرنامہ منکرینِ قیامت کا یہ مطالبہ کہ قیامت کب آئے گی، چونکہ سراسر ایک احمقانہ مطالبہ تھا اس لیے اس سے تعرض نہیں کیا گیا۔ کیونکہ اگر یہ بتادیا جاتا کہ قیامت کے آنے میں ابھی صدیاں باقی ہیں تو کوئی اس کی تیاری کے لیے فکرمند نہ ہوتا۔ اور اگر یہ کہہ دیا جاتا کہ اتنے عرصے کے بعد آرہی ہے تو اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل کا جواب۔ قیامت کا انکار کرنے والے جس بات کو اپنے لیے بڑی دلیل سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب ہم مر کر بےنام ونشان ہوجائیں گے تو پھر ہمیں کس طرح زندہ کیا جائے گا انہیں فرمایا ہے۔ ” کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ واضح طور پر جھگڑالو بن جاتا ہے۔ اب وہ اپنی پیدائش کو بھول کر ہم پر باتیں بناتا ہے کہ ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جب یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں۔ ان سے کہیں کہ انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی مرتبہ انہیں پیدا کیا ہے۔ وہ سب کچھ پیدا کرنا جانتا ہے اسی نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کی ہے اور…
Read the full tafseer →9 : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ( اور سورج چاند ایک حالت کے ہوجائیں گے اور مغرب سے طلوع میں ان کو جمع کردیا جائے گا) نمبر 2۔ روشنی ختم کرنے میں دونوں جمع کردیئے جائیں گے۔ یعنی دونوں کی روشنی مٹا دیں گے۔ نمبر 3۔ ان کو جمع کر کے سمندر میں پھینک دیا جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بڑی بھڑکتی آگ بن جائے گا۔
Read the full tafseer →8 ۔” وخسف القمر “ تاریک ہوگیا اور اس کا نور و روشنی چلی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ عربی زبان کے محاورہ کے موافق ایسی قسم کھانے کی جگہ پر لا زائد بڑھا دیا جاتا ہے جیسے لا واللہ۔ اکثر سلف کے نزدیک نفس لوامہ میں وہ نفس ہے جو اپنی خطا پر خود اپنے آپ کو ملامت کرے اور اس طرح کا نفس آدمی کے ایماندار ہونے کی نشانی ہے چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد میں ابی امامہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت آدمی کے ایماندار ہونے کی کیا نشانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نیکی کرکے خوش ہو اور برائی کرکے پچھتائے تو یہی ایمانداری کی نشانی ہے شرح جامع الصغیر میں اس حدیث کو صحیح بتایا ہے۔ ایحسب الانسان سے علی ان نسوی بنانہ تک قسم کے جواب کا مضمون ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →(وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ) اور سورج اور چاند جمع کردیے جائیں گے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ کبھی اکٹھے نہیں ہوئے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو جمع کرے گا، چاند گہنا جائے گا اور سورج کو بےنور کردیا جائے گا اور ان دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے گا تاکہ بندے دیکھ لیں کہ چاند اور سورج بھی اللہ تعالیٰ کے مسخر ہیں تاکہ جو لوگ ان کی عبادت کرتے تھے وہ دیکھ لیں وہ جھوٹے تھے۔
Read the full tafseer →10 سورج اور چاند کی یکجائی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور جمع کردیا جائے گا سورج اور چاند کو اور ان کی باہمی حد بندیاں ٹوٹ جائیں گی۔ نیز یہ کہ یہ دونوں بےنور ہوجائیں گے ‘ یا دونوں ایک ہی مطلع سے طلوع کریں گے ‘ اور بعض نے یہ بھی کہا کہ دونوں کو اکٹھا کرکے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ‘ تاکہ ان پوجا کرنے والوں کی آگ اور بھی زیادہ بھڑکے اور مجرمین کو اور بھی جلائے ‘ روی ذالک عن مجاہد (طبری ‘ قرطبی ‘ محاسن ‘ ابن کثیر وغیرہ) سو آج تو سورج اور چاند کے یہ دونوں عظیم الشان کرے۔ (کل فی فلک یسبحون " کے مصداق اپنے اپنے مدار میں اس طرح چلے جا رہے ہیں کہ کوئی دوسرے کے راستے میں دخل نہیں دے سکتا ‘ مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
قیامت کا منظر تشریح : یہ دن بڑا ہی خو فناک دن ہوگا۔ یعنی قیامت کا دن۔ یہ دن اچانک آئے گا اور اس کی ہیبت کا اندازہ اس طرح کرلیجئے کہ جب آنکھیں چندھیا جائیں گی۔ ہمارے ایک مسلم سائنسدان نے ان آیات کی بڑی خوبصورت وضاحت کی ہے۔ ملاحظہ ہو لکھتے ہیں۔ سورج سے نکلنے والا آتشین مادہ جو ہر آن سورج سے دھماکوں کے ساتھ نکلتا رہتا ہے۔ اوسطاً یہ آتشی مادے سورج کی سطح سے تقریباً دس لاکھ میل دور تک پہنچ جاتے ہیں اور یہ سفر تقریباً 450 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے کرتے ہیں۔ اگر یہ شمسی طوفان شدت اختیار کر جائـیں تو پھر سورة دخان کی آیت 10 کے مطابق قیامت کے ایام میں شمسی فلیرز اور گرم پلازما ہماری زمین کو اپنی لپیٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
ف 1 یعنی جو اچھے برے اعمال کر کے اس نے بطور توشہ آخرت آگے بھیجے
Read the full tafseer →(75:9) وجمع الشمس والقمر : اس جملہ کا عطف بھی جملہ اذا برق البصر پر ہے اور جب سورج اور چاند اکٹھے کردیئے جائیں گے : یعنی دونوں بےنور اور سیاہ کر دئیے جائیں گے یہی ان کے اجماع کا مطلب ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ کشش ثقل کا جو قانون اس عالم میں کار فرما ہے اور ج کے ماتحت نظام شمسی کے ثوابت و سیارات اپنے اپنے مقامات پر پختگی کے ساتھ موجود ہیں یہ ختم ہوجائے گا اور چاند سورج کے ساتھ جا ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔ النفس اللوامۃ۔ ملامت کرنے والا نفس۔ لن نجمع۔ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے۔ عظام۔ ہڈیاں۔ نسوی۔ ہم برابر بٹھا دیں گے۔ ٹھیک بٹھا دیں گے۔ بنانہ۔ اس کی پور پور۔ لیفجر۔ تاکہ وہ بدکاری کرے۔ امام۔ سامنے۔ ایان۔ کب۔ برق البصر۔ آنکھ کھلی کی کھلی رہ جائے گی۔ خسف القمر۔ چاند کو گہن لگ جائے گا۔ المفر۔ بھاگنے کی جگہ۔ وزر۔ پہاڑ۔ بوجھ۔ المستقر۔ ٹھکانا۔ معازیر۔ حیلے بہانے۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گلی سڑ جائی گی، چورہ چورہ ہوجائیں گی اور ہمارے جسم کے تمام اجزاء اور ذرات بکھر کرنا پید ہوجائیں گے کیا ہم دوبارہ…
Read the full tafseer →(ف 3) یہ دنیا یا طلوع میں ہوگا، دونوں مغرب سے طلوع کریں گے یا بےنور ہونے میں دونوں شریک ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
[4] یہ سوال استفسار کی غرض سے نہیں بلکہ استہزا و تمسخر کے طور پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
ف 1: یعنی قیامت کا انکار اس وجہ سے نہیں ہے ۔ کہ یہ عقل وفہم کے منافی ہے ۔ اور یہ بدیں وجہ اس نظام کی مخالفت نہیں کرتے ۔ کہ دانش بینش کا یہ تقاضا ہے ۔ بلکہ کفرو انکار کے پس پردہ جو محرک کام کررہا ہے ۔ وہ فسق وفجور کا جذبہ ہے ۔ یہ لوگ چاہتے ہیں ۔ کہ آئندہ زندگی میں بھی بلاتامل گناہوں کا ارتکاب کرتے چلے جائیں ۔ اور کوئی قوت ان کو اس جذبہ معصیت سے نہ روکے ۔
Read the full tafseer →(9) اورسورج اور چاند ایک حالت اور ایک کیفیت پر اکٹھے کردیئے جائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ قیامت کا وقت ہے یعنی آدمی کی آنکھ روشنی سے عاجز ہوجاوے سورج پاس آئوے گا۔ خلاصہ : یہ کہ حضرت حق تعالیٰ کے غضب اور اس کے قہر سے آنکھیں چندھیا جائیں گی چاند کا نور سلب کرلیا جائے گا اور سورج و چاند کی بےنوری میں حالت ایک سی ہوجائے گی مطلب یہ کہ موجودہ نظام شمسی سب درہم برہم کردیا جائے گا اس انقلاب کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوں گے ان کو دیکھنے کی آنکھ کہا تاب لاسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
ف 3۔ یعنی چونکہ تمام عمر معاصی و شہوات میں گزارنے کا عازم ہے اس لئے اس کو طلب حق کی نوبت ہی نہیں آتی، کہ قیامت کا ہونا اس کو ثابت ہو، اس لئے انکار پر مصر ہے اور نکار پوچھتا ہے کہ کب آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
(بلکہ) عدی اور اس جیسا ہر (انسان چاہتا ہے کہ بدی کرتا رہے اس کے آگے) یعنی وہ چیز جو اس کے سامنے ہے ، یعنی بعث اور حساب اس کے تعلق سے جھوٹ بولتا رہے ، کیوں (کہ) از راہ تمسخر (پوچھتا ہے کہ کب ہے قیامت کا دن ؟ تو جب آنکھ چوندھیا پڑی) یعنی پتھرا گئی (اور گہن میں پڑا چاند) یعنی تیرہ و تاریک ہوگیا (اور ملا دیا گیا سورج اور چاند) یعنی دونوں ہی بےنور کردیے گئے۔ المختصر۔۔۔ جب قیامت آئے گی تو نظام شمسی و قمری سب کے سب درہم برہم کردیے جائیں گے اور ظاہر ہے کہ ان حالات میں قیامت کے وجود پر کسی کو شک و شبہ نہ ہوگا۔ اور جب یہ صورت حال پیش آئے گی تو۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (So, when the eyes will be dazzled, and the moon will lose its light, and the sun and the moon will be joined together,...75:7-9). This describes the scenes of the Resurrection. The verb bariqa means for the eyes 'to be dazzled and unable to see'. On the Day of Resurrection, the eyes of all will be dazzled and will not be able to see consistently. The verb khasafa is derived from khusuf which means 'to lose light and become dark'. The verse purports to say that the moon will lose its light or will be eclipsed. The…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
8 This is a brief description of the chaotic condition of the system of the universe, that will prevail in the first stage of Resurrection. The darkening of the moon and the joining of the moon and the sun together can also mean that not only will the moon lose its light, which is borrowed from the sun, but the sun itself will become dark and both will become devoid of light similarly. Another meaning can be that the earth will suddenly start rotating in the reverse order and on that day both the moon and the sun will rise simultaneously in the west. And a third meaning can be that the moon…
Read the full tafseer →