Al-Qiyaama 75:10

Al-Qiyaama · from ayah 10

75:10

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَىِٕذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّ ۟ۚيَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَئِذٍ اَيۡنَ الۡمَفَرُّ‌

اس دن انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ جاؤں؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Man will say on that Day, "Where is the [place of] escape?"

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:10

اُس وقت یہی انسان کہے گا "کہاں بھاگ کر جاؤں؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس دن انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ جاؤں؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس دن انسان کہے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس وقت انسان کہے گا کہ : کہاں ہے کوئی جگہ جہاں بھاگ کر جاؤں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس دن آدمی کہے گا کدھر بھاگ کر جاؤں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اُس وقت انسان پکار اٹھے گا کہ بھاگ جانے کا ٹھکانا کہاں ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن انسان کہے گا کہاں بھاگ کر جاؤں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اس وقت انسان کہے گا کہ کہاں بھاگوں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس روز (مارے خوف و حیرت کے) کہے گا یہ انسان کہ اب کدھر کو بھاگوں میں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اس روز انسان کہے گا کہ اب کدھر بھاگوں ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس دن انسان کہے گا : کہاں ہے کوئی بھاگ جانے کی جگہ ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس دن انسان کہے گا کہ اب کہاں بھاگ جاؤں ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

on that Day will man say: “Whither the refuge?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

on that day man will say, :Where to escape?

— Muhammad Taqi Usmani

on that day man will say, :Where to escape?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

On that Day man will say: "Where (is the refuge) to flee"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

On that day man will cry: Whither to flee!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Man will say on that Day, "Where is the [place of] escape?"

— Saheeh International

people will say, "Is there anywhere to run away?"

— Muhammad Sarwar

Man shall say on that day: Whither to fly to?

— Muhammad Habib Shakir

On that Day shall man say: whither is the fleeing.

— Abdul Majid Daryabadi

That Day will Man say: "Where is the refuge?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 75:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–12

سورة الْقِیٰمَة 8 یہ قیامت کے پہلے مرحلے میں نظام عالم کے درہم برہم ہوجانے کی کیفیت کا ایک مختصر بیان ہے۔ چاند کے بےنور ہوجانے اور سورج کے مل کر ایک ہوجانے کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف چاند کی روشنی ختم نہ ہوگی جو سورج سے ماخوذ ہے بلکہ خود سورج بھی تاریک ہوجائے گا اور بےنور ہوجانے میں دونوں یکساں ہوجائیں گے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین یکایک الٹی چل پڑے گی اور اس دن چاند اور سورج دونوں بیک وقت مغرب سے طلوع ہوں گے۔ اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ چاند یک لخت زمین کی گرفت سے چھوٹ کر نکل جائے گا اور سورج میں جا پڑے گا۔ ممکن ہے اس کا کوئی اور مفہوم بھی ہو جس کو آج ہم نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–12

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ ۝ ۙوَخَسَفَ الْقَمَرُ ۝ ۙوَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ یہ قیامت کے حالات کا بیان ہے برق بفتح البا و کسر را کے معنی آنکھ خیرہ ہوگی کہ دیکھ نہ سکیں۔ قیامت کے روز سب کی نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی، نگاہ جما کر کسی چیز کو نہ دیکھ سکیں گی۔ خسف القمر خسوف سے مشتق ہے جس کے معنی روشنی ختم ہو کر تاریکی ہوجانے کے ہیں۔ معنے یہ ہیں کہ چاند بےنور ہوجائے گا۔ آگے وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ میں یہ بتلایا کہ صرف چاند ہی بےنور نہیں ہوگا بلکہ آفتاب بھی بےنور ہوجائے گا جس کے متعلق دنیا کے فلاسفہ کا یہ کہنا ہے کہ اصل روشنی آفتاب میں ہے۔ چاند کی روشنی بھی آفتاب کی شعاعوں سے مستفاد ہے۔ حق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–10

یعنی آج تو وہ اس کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں گویا اس کے مقابلہ کے لیے ہر قسم کی تیاری کیے بیٹھے ہیں لیکن جب اس کی ہولناکی سے سابقہ پیش آئے گا تو کہیں گے، اب کہاں بھاگیں؟ قیامت کے دکھا دیے جانے کا مطالبہ چونکہ ایک بالکل ہی احمقانہ مطالبہ ہے اس وجہ سے اس سے تو یہاں تعرض نہیں کیا لیکن اس کی ہولناکی کے بعض پہلو ان کے سامنے رکھ دیے۔ فرمایا کہ اس دن نگاہیں خیرہ ہو جائیں گی، چاند گہنا جائے گا، سورج اور چاند، جو آج اپنے الگ الگ مداروں میں گردش کر رہے ہیں، ان کی حد بندیاں ٹوٹ جائیں گی اور وہ آپس میں ٹکرا جائیں گے۔ یہ قیامت کے دن کے احوال ہیں جن کا تعلق متشابہات سے ہے۔ اس جہان میں ان کی اصل حقیقت کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 یعنی جب یہ واقعات ظہور پذیر ہونگے تو پھر اللہ سے یا جہنم کے عذاب سے راہ فرار ڈھونڈے گا، لیکن اس وقت راہ فرار کہاں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–12

3:۔ یعنی آخرت کی زندگی کا انکار یہ لوگ کسی علمی دلیل کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ آئندہ بھی وہ بےخوف و خطر گناہ کرتے رہیں، اور آخرت کا تصور ان کے لیے اپنی نفسانی خواہشات پوری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ بنے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

این المفر (75:10) ” بھاگنے کی جگہ کہاں ہے “۔ اور انسان اس جزع فزع میں پھر ہر طرف بھاگتا پھرے گا۔ جس طرح چوہا پنجرے میں بند ہوجاتا ہے اور ہر طرف بھاگتا رہتا ہے۔ اب نہ جائے فرار ہے ، نہ جائے پناہ ہے ، نہ آگے جاسکتے ہیں اور نہ پیچھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 10–12

14 یعنی اب تو کہتا ہے کہ وہ دن کہاں ہے۔ اور اس وقت بدحواس ہو کر کہے گا کہ آج کدھر بھاگوں اور کہاں پناہ لوں۔ ارشاد ہوگا کہ آج نہ بھاگنے کا موقع ہے نہ سوال کرنے کا۔ آج کوئی طاقت تیرا بچاؤ نہیں کرسکتی، نہ پناہ دے سکتی ہے۔ آج کے دن سب کو اپنے پروردگار کی عدالت میں حاضر ہونا اور اسی کی پیشی میں ٹھہرنا ہے پھر وہ جس کے حق میں جو کچھ فیصلہ کرے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–12

آیت 9{ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ۔ } ”اور سورج اور چاند یکجا کردیے جائیں گے۔“ اس وقت سورج چاند سمیت تمام اجرامِ فلکی کشش ثقل کے قانون کے تحت اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ جب یہ نظام ڈھیلا پڑے گا تو تمام ُ کرے ّآپس میں ٹکرا جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–10

8 اس کی صحیح صورت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تاہم معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جب زمین لرزنے اور کپکپانے لگے گی تو اس کی کشش ثقل بھی ختم یا بےقاعدہ قسم کی بن جائے گی اور چاند پر سورج کی کشش ثقل اثر انداز ہو کر چاند کو اپنی طرف کھینچ لے گی اور وہ دونوں باہم ٹکرا جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–10

4۔ (اور یہ کلمہ انسان کی زبان پر کمال اضطراب و سراسیمگی کے عالم میں آئے گا) قرآن مجید نے بکمال حکمت وبلاغت ادھر توجی ہی نہیں کی کہ وقوع قیامت کی صدی اور وقت اور تاریخ کی تعیین کی جائے۔ بلکہ عین اس وقت کی کیفیات کی تصویر پیش کردی کہ قیامت اس وقت آئے گی جب نظام کائنات یوں اور یوں درہم برہم ہوجائے گا اور انسان ہر طرف یوں بلبلایا ہوا بدحواس بھاگتا پھرتا ہوتا۔ (آیت) ” فاذا برق البصر “۔ آنکھوں پر یہ چکا چوند کی کیفیت اس وقت کے انتہائی ہیبت ناک منظروں سے طاری ہوجائے گی۔ (آیت) ” وخسف القمر “۔ چاند کی اس بےنوری کی تصریح میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ عرب جاہلیت میں چاند ویوتا بہت بڑا دیوتا تھا۔ جس طرح مصر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–12

نفس امارہ، لوامہ، مطمئنہ : حضرات صوفیائے کرام نے اس میں یہ تفصیل کی ہے کہ نفس اپنی جبلت اور فطرت کے اعتبار سے (امارۃ بالسوء) ہوتا ہے مگر ایمان اور عمل صالح اور ریاضت و مجاہدہ سے یہ ” نفس لو امہ “ بن جاتا ہے مگر برائی سے بالکلیہ اس کا انقطاع نہیں ہوتا، آگے عمل صالح میں ترقی اور قرب حق کے حصول میں کوشش کرتے کرتے جب اس کا یہ حال ہوجائے کہ شریعت اس کی طبیعت ثانیہ بن جائے اور خلاف شرع کام سے طبعی نفرت بھی ہونے لگے تو اس نفس کا لقب ” مطمئنہ “ ہوجاتا ہے۔ یکایک سلسلہ کلام کو موقوف کر کے آیت 16 سے 19 تک جملہ معترضہ کے طور پر آپ ﷺ نے فرمایا جاتا ہے کہ اس وحی کو یاد کرنے کے لئے آپ ﷺ اپنی زبان مبارک کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یقول الانسان یومئذ این المفر . الانسان سے مراد ہے کافر۔ این المفر ‘ یقول کا مفعول یعنی کافر کا مقولہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 10–12

(10۔ 12) تو دوزخ کے دیکھنے کے بعد عدی اور اس کے ساتھی ہوں گے اب کہاں بھاگوں اور کس جگہ پناہ لوں ہرگز کوئی پہاڑ اس کو دوزخ سے بچانے والا نہ ہوگا، کہتے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ سے بچنے کے لیے کوئی اس کی رکاوٹ اور جائے پناہ نہ ہوگی قیامت کے دن صرف آپ ہی کے رب کے پاس جانے کا ٹھکانا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 10–12

یقول الانسان یومئذ …: یہ انسان جو آج پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا، اس دن ایسا حیران اور خوف زدہ ہوگا کہ بھگانے کے لئے جگہ تلاش کرے گا، مگر اس دن کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی اور سب لوگوں کو اپنے رب کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یقول الانسان یومئذ این المفر۔ انسان کہے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے ابوجہل کہے گا، بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟ شاعر نے کہا، این المفر ولکباش تنتطح، وای کبش حاد عنھا حین یفتضح۔ بھاگنے کی جگہ کہاں ہوگی جب کہ مینڈھے سینگ مار رہے ہوں گے اور کون سا مینڈھا اس سے کنارہ کش ہوگا جب وہ ذلیل ہوگیا۔ ماوردی نے کہا : یہ دو وجہوں کا احتمال رکھتا ہے، ایک احتمال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حیاء کرتے ہوئے کہے گا دوسرا احتمال یہ ہے کہ وہ جہنم سے بچنے کے لیے یہ قول کرے گا۔ انسان کے بارے میں بھی دو قول ہیں (1) خاص طور پر کافر یہ قول کرے گا جب قیامت کے روز اس کی پیشی کا مرحلہ ہوگا، کیونکہ مومن کو تو اپنے رب کی بشارت پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

33۔ ابو عبید وعبد بن حمید وابن المنذر نے عبداللہ بن خالد (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے آیت این المفر میں میم کو نصب اور فاء کو کسرہ کے ساتھ پڑھا پھر فرمایا کہ یحییٰ بن وثاب رحم اللہ نے این المفر میں میم اور فاء دونوں کو نصب کے ساتھ پڑھا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَقُوْلُ الْانسَان يَوْمَىِٕذٍ : کہے گا انسان اس دن ] [اَيْنَ الْمَفَرُّ : کدھر ہے بھاگنے کی جگہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–12

﴿فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ007 وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ008 وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ009﴾ (سو جس وقت آنکھیں حیران رہ جائیں گی اور چاند بےنور ہوجائے گا اور سورج اور چاند ایک حالت کے ہوجائیں گے) ۔ ﴿ يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّۚ0010﴾ (اس دن انسان کہے گا کہاں ہے بھاگنے کی جگہ) یعنی میں کہاں بھاگوں اور کیا کروں ﴿ كَلَّا لَا وَزَرَؕ0011﴾ (اللہ پاک کی طرف سے جواب ملے گا کہ ہرگز بھی کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے) ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْمُسْتَقَرُّؕ0012﴾ (آج کے دن تیرے رب ہی کے پاس ٹھکانا ہے) نہ بھاگنے کی جگہ ہے نہ بھاگنا فائدہ دے سکتا ہے، اللہ تعالیٰ جس حال میں رکھے اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–10

ف 5:۔ ” فاذا برق “ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں قیامت کے بعض احوال واہوال کا ذکر ہے۔ جب آنکھیں ہیبت اور شدت خوف سے حیران ہوجائیں گی، چاند بےنور ہوجائے گا۔ سورج اور چاند کو اکٹھا کردیا جائے گا دونوں بےنور ہوجائیں گے اور اکٹھے ہی مغرب سے طلوع ہوں گے۔ اس دن انسان کہے گا آج کوئی بھاگنے کی جگہ ہے جہاں بھاگ کر پناہ لی جاسکے اور آج کے شدائد واہوال سے جان بچائی جاسکے ؟ قال ابن عباس و ابن مسعود جمع بینھما ای قرن بینھا فی طلوعہما من المغرب اسودین مکورین مظلمین الخ (قرطبی ج 19 ص 93) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ۝ 10 ۚ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : لا اقسم قیل لازائدہ کمازیدت فی قولہ لئلایعلم۔ وقیل لیست بزائدۃ وحینئذ فی معناھاوجھان احدھما انہ نفی القسم بھا لوضوح الامرو الثانی ان ل اور لکلام مقدر لانھم قالوا انت مفترایحسب الھمزۃ للاستفہام الانکاری وان مخففۃ المثقلۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف و جواب القسم محذوف یدل علیہ ھذہ الجملۃ ای لیجمعن العظام۔ بلی ایجاب لمابعد النفی المنسحب الیہ الاستفہام والوقف علیہ حسن۔ ویبتدی الکلام بقولہ قادرین وانتصابہ علی الحال من الفاعل ای نجمعھا قادرین وقیل المعنی بل نجمعہا نقدر قادرین بنان جمع اواسم جمع لبنانۃ لیفجر اللام زائدۃ وناصبہ ان مقدرۃ ای ان یکذب امامہ ظرف ای لیکفرفیما یستقبل یسل تفسیر لیفجر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–10

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ ۔ وَخَسَفَ الْقَمَرُ ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۔ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّ ۔ (القیامۃ : 7 تا 10) (پس جب نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی۔ اور چاند بےنور ہوجائے گا۔ اور سورج اور چاند اکٹھے کردیئے جائیں گے۔ تو اس وقت انسان کہے گا کہاں بھاگ کر جاؤں۔ ) قیامت کا منظرنامہ منکرینِ قیامت کا یہ مطالبہ کہ قیامت کب آئے گی، چونکہ سراسر ایک احمقانہ مطالبہ تھا اس لیے اس سے تعرض نہیں کیا گیا۔ کیونکہ اگر یہ بتادیا جاتا کہ قیامت کے آنے میں ابھی صدیاں باقی ہیں تو کوئی اس کی تیاری کے لیے فکرمند نہ ہوتا۔ اور اگر یہ کہہ دیا جاتا کہ اتنے عرصے کے بعد آرہی ہے تو اس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–15

فہم القرآن ربط کلام : جس قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر ہو رہا ہے اس دن لوگوں کی کیا حالت ہوگی۔ پہلی مرتبہ اسرافیل کے صور پھونکنے پر چاند اور سورج بےنور ہوجائیں گے اور کائنات کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اللہ تعالیٰ اس دن زمین و آسمانوں کو بدل دے گا۔ ( ابراہیم : 48) اسرافیل کے دوسری مرتبہ صورپھونکنے پر لوگ اپنے اپنے مدفن سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہر فرد محشر کے میدان کی طرف اس طرح جائے گا جس طرح تیر اپنے نشانے پر جاتا ہے۔ (یٰس : 51) رب ذوالجلال کی تشریف آوری سے پہلے جنتیوں اور جہنمیوں کو لوگوں کے سامنے لایا جائے گا، ملائکہ جہنمیوں کو بڑی بڑی زنجیروں کے ساتھ کھینچ کر محشر کے میدان میں لاکھڑا کریں گے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10 : یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ (اور اس روز انسان کہے گا) انسان سے کافر مراد ہے۔ یَوْمَپذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّ (کہ اب کدھر بھاگوں) المفریہؔ مصدر ہے یعنی آگ سے بھاگنا۔ نمبر 2۔ مومن بھی خوف کی وجہ سے کہے گا۔ قراءت : حسن (رح) نے فاؔ پر کسرہ پڑھا اس صورت میں یہ مصدر اور ظرف مکان دونوں بن سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔” وجمع الشمس والقمر “ یعنی وہ دونوں سیاہ بےنور ہوجائیں گے۔ گویا کہ وہ دو بیل ہیں دہشت زدہ اور کہا گیا ہے ان دونوں کو روشنی ختم کرنے میں جمع کردیں گے اور عطاء بن یسار (رح) فرماتے ہیں قیامت کے دن دونوں جمع کیے جائیں گے، پھر سمندر میں پھینکے جائیں گے۔ پس یہ دونوں اللہ کی بڑی آگ ہوجائیں گے اور کہا گیا ہے جمع کیے جائیں گے پھر دونوں آگ میں ڈالے جائیں گے اور کہا گیا ہے دونوں جمع کیے جائیں گے پھر مغرب سے طلوع کیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–15

1۔ 15۔ عربی زبان کے محاورہ کے موافق ایسی قسم کھانے کی جگہ پر لا زائد بڑھا دیا جاتا ہے جیسے لا واللہ۔ اکثر سلف کے نزدیک نفس لوامہ میں وہ نفس ہے جو اپنی خطا پر خود اپنے آپ کو ملامت کرے اور اس طرح کا نفس آدمی کے ایماندار ہونے کی نشانی ہے چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد میں ابی امامہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت آدمی کے ایماندار ہونے کی کیا نشانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نیکی کرکے خوش ہو اور برائی کرکے پچھتائے تو یہی ایمانداری کی نشانی ہے شرح جامع الصغیر میں اس حدیث کو صحیح بتایا ہے۔ ایحسب الانسان سے علی ان نسوی بنانہ تک قسم کے جواب کا مضمون ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–11

(يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ ) ان دن انسان کہے گا، یعنی جب وہ بےقرار کردینے والے زلزلے دیکھے گا تو پکار اٹھے گا (اَيْنَ الْمَفَرُّ ) آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟ جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے اس سے گلو خلاصی اور نجات کہاں ہے ؟ (کلا لاوزر) کوئی پناہ گاہ نہیں۔ یعنی اللہ کے ٹھکانے کے سوا کسی کے لیے کوئی ٹھکانہ نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

11 منکر انسان کی اس روز کی حواس باختگی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز انسان کہے گا کہ اب کدھر کو بھاگوں ؟ یعنی یہی بےفکر ‘ ناشکرا اور لاپروا انسان جو آج اپنی محرومی اور بدبختی کی بناء پر انکار و استہزاء کے طور پر کہتا ہے کہ آخر کب آئے گا قیامت کا وہ دن ؟ " یسال ایان یوم القیمۃ "۔ اس روز یہ اس طرح چیخ اٹھے گا کہ اب کدھر کو بھاگوں ؟ اور کیسے اپنے بچاؤں کا سامان کروں ؟ اس پر ایسی حواس باختگی طاری ہوگی کہ اس کا اس دنیا میں تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ اور یہ ایک طبعی اور فطری امر ہے کہ جس قیامت کا وہ ساری عمر انکار کرتا اور اس کا مذاق اڑاتا رہا تھا وہ اپنی تمام تر ہولناکیوں کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–15

قیامت کا منظر تشریح : یہ دن بڑا ہی خو فناک دن ہوگا۔ یعنی قیامت کا دن۔ یہ دن اچانک آئے گا اور اس کی ہیبت کا اندازہ اس طرح کرلیجئے کہ جب آنکھیں چندھیا جائیں گی۔ ہمارے ایک مسلم سائنسدان نے ان آیات کی بڑی خوبصورت وضاحت کی ہے۔ ملاحظہ ہو لکھتے ہیں۔ سورج سے نکلنے والا آتشین مادہ جو ہر آن سورج سے دھماکوں کے ساتھ نکلتا رہتا ہے۔ اوسطاً یہ آتشی مادے سورج کی سطح سے تقریباً دس لاکھ میل دور تک پہنچ جاتے ہیں اور یہ سفر تقریباً 450 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے کرتے ہیں۔ اگر یہ شمسی طوفان شدت اختیار کر جائـیں تو پھر سورة دخان کی آیت 10 کے مطابق قیامت کے ایام میں شمسی فلیرز اور گرم پلازما ہماری زمین کو اپنی لپیٹ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75:10) این المفر : کافر کا مقولہ ہے :۔ این کہاں ۔ ظرف ہے۔ جس طرح متی سے زبان کے متعلق سوال کیا جاتا ہے اسی طرح این سے مکان دریافت کیا جاتا ہے۔ المفر مصدر میمی ہے، فرار، بھاگنا۔ الفرار۔ خوف سے بھاگنا۔ باب ضرب سے مصدر ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ کہاں ہے بھاگ، کہاں ہے بھاگ کر جانے کی جگہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ النفس اللوامۃ۔ ملامت کرنے والا نفس۔ لن نجمع۔ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے۔ عظام۔ ہڈیاں۔ نسوی۔ ہم برابر بٹھا دیں گے۔ ٹھیک بٹھا دیں گے۔ بنانہ۔ اس کی پور پور۔ لیفجر۔ تاکہ وہ بدکاری کرے۔ امام۔ سامنے۔ ایان۔ کب۔ برق البصر۔ آنکھ کھلی کی کھلی رہ جائے گی۔ خسف القمر۔ چاند کو گہن لگ جائے گا۔ المفر۔ بھاگنے کی جگہ۔ وزر۔ پہاڑ۔ بوجھ۔ المستقر۔ ٹھکانا۔ معازیر۔ حیلے بہانے۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گلی سڑ جائی گی، چورہ چورہ ہوجائیں گی اور ہمارے جسم کے تمام اجزاء اور ذرات بکھر کرنا پید ہوجائیں گے کیا ہم دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–11

(ف 4) یعنی اب تو کہتا ہے کہ وہ دن کہاں ہے اور اس وقت بدحواس ہوکر کہے گا کہ آج کدھر بھاگوں اور کہاں پناہ لوں جو اس ہول و دہشت سے رہائی ملے، ارشاد ہوگا کہ آج نہ بھاگنے کا موقع ہے نہ سوال کرنے کا، آج کوئی طاقت تیرا بچاؤ نہیں کرسکتی نہ پناہ دے سکتی ہے آج کے دن سب کو اپنے پروردگار کی عدالت میں حاضر ہونا اور اس کی پیشی میں ٹھہرنا ہے پھر وہ جسے چاہے گا اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا جسے چاہے گا اپنے عل سے جہنم میں ڈالے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–11

[4] یہ سوال استفسار کی غرض سے نہیں بلکہ استہزا و تمسخر کے طور پر ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–13

ف 2: فرمایا ۔ آج تو یہ لوگ قیامت کے نام سے متنفر ہیں ۔ اور اس کو محض ڈھکوسلا قرار دیتے ہیں ۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے جب آنکھیں مارے حیرت کے کھلی کھلی رہ جائیں گی ۔ چاند بےنور رہ جائیگا ۔ اور آفتاب بھی اس تاریکی اور بےنوری میں اس کا شریک ہوجائیگا ۔ اس دن یہ لوگ کہیں گے ۔ کہ آج کہاں بھاگ کرجائیں ۔ اس وقت معلوم ہوگا ۔ کہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے ۔ سوائے پروردگار عالم کے حضور کے ۔ اس وقت ان کو ان کے کئے دھرے کا پتہ دیا جائیگا ۔ بلکہ یہ خود اس قابل ہونگے ۔ کہ اپنے اعمال کو کو دیکھ سکیں ۔ اور اپنے متعلق فیصلہ کرسکیں ۔ اگرچہ بتقاضائے بشریت یہ عذر اور بہانے پیش کرینگے ۔ مگر یہ واقعہ ہے ۔ کہ دل میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) اس دن انسان کہے گا کہاں چلا جائوں بھاگ کر اور کدھر بھاگ جائوں اور آج کہیں جائے گریز اور جائے فرار ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–14

ف 3۔ یعنی چونکہ تمام عمر معاصی و شہوات میں گزارنے کا عازم ہے اس لئے اس کو طلب حق کی نوبت ہی نہیں آتی، کہ قیامت کا ہونا اس کو ثابت ہو، اس لئے انکار پر مصر ہے اور نکار پوچھتا ہے کہ کب آئے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 10–13

(کہے گا انسان) یعنی تکذیب کرنے والا کافر (اس دن کہ کہاں بھاگ کر بچوں۔ ہرگز نہیں) ایسوں کے لیے (کوئی پناہ گاہ نہیں) اور (تمہارے رب ہی کی طرف) یعنی اس کے حکم کی طرف (اس دن ٹھہرنے کی جگہ ہے) یعنی حق تعالیٰ ہی اپنی مشیت سے جنتیوں اور دوزخیوں کے ٹھہرنے کی جگہ مقرر کرے گا۔ (بتا دیا جائے گا انسان اس دن جو کچھ آگے پیچھے کیا تھا) یعنی اس کے اعمال جو آگے پہنچ گئے اور اس کے اموال جو پیچھے رکھے رہ گئے۔ گناہ تو آگے بھیجتا ہے جرات کے ساتھ اور مال پیچھے رکھتا ہے حسرت کے ساتھ۔ تو چاہیے کہ گناہ کو توبہ سے نیست و نابود کردے کہ باقی نہ رہے ، اور مال صدقہ دے کر آگے بھیجے کہ ہمیشہ باقی رہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–12

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (So, when the eyes will be dazzled, and the moon will lose its light, and the sun and the moon will be joined together,...75:7-9). This describes the scenes of the Resurrection. The verb bariqa means for the eyes 'to be dazzled and unable to see'. On the Day of Resurrection, the eyes of all will be dazzled and will not be able to see consistently. The verb khasafa is derived from khusuf which means 'to lose light and become dark'. The verse purports to say that the moon will lose its light or will be eclipsed. The…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–12

8 This is a brief description of the chaotic condition of the system of the universe, that will prevail in the first stage of Resurrection. The darkening of the moon and the joining of the moon and the sun together can also mean that not only will the moon lose its light, which is borrowed from the sun, but the sun itself will become dark and both will become devoid of light similarly. Another meaning can be that the earth will suddenly start rotating in the reverse order and on that day both the moon and the sun will rise simultaneously in the west. And a third meaning can be that the moon…

Read the full tafseer →