Al-Qiyaama 75:38

Al-Qiyaama · from ayah 38

75:38

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰى ۟ۙثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ

پھر لوتھڑا ہوا پھر (خدا نے) اس کو بنایا پھر (اس کے اعضا کو) درست کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then he was a clinging clot, and [Allah] created [his form] and proportioned [him]

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:38

پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر لوتھڑا ہوا پھر (خدا نے) اس کو بنایا پھر (اس کے اعضا کو) درست کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر وه لہو کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست بنا دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اسے بنایا، اور اسے ٹھیک ٹھاک کیا،

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر خون کی پھٹک ہوا تو اس نے پیدا فرمایا پھر ٹھیک بنایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر وہ (رحم میں جال کی طرح جما ہوا) ایک معلّق وجود بن گیا، پھر اُس نے (تمام جسمانی اَعضاء کی اِبتدائی شکل کو اس وجود میں) پیدا فرمایا، پھر اس نے (انہیں) درست کیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر وہ جما ہوا خون بنا، پھر اس نے پیدا کیا، پس درست بنادیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر وہ لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ نے اسے ٹھیک انسان بنادیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر وہ بنا خون کی ایک پھٹکی اور اللہ نے اس کا خاکہ بنایا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر یہ ایک لوتھڑا بنا پھر اس (قادر مطلق) نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کئے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر وہ خون کا لوتھڑاہو گیا پھر (اللہ نے اسے انسان) بنایا پھر اعظا ٹھیک کئے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر وہ ایک علقہ بنا پھر اللہ نے اس کو بنایا اور اس کے اعضاء درست کیے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر لو تھڑا ہوا پھر اللہ نے اس کو بنایا پھر اسکے اعضاء کو درست کیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

then he became a clot, and then Allah made it into a living body and proportioned its parts,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then he became a clot of blood, then He created (him) and made (him) perfect,

— Muhammad Taqi Usmani

Then he became a clot of blood, then He created (him) and made (him) perfect,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then he became an `Alaqah; then shaped and fashioned in due proportion.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then he became a clot; then (Allah) shaped and fashioned

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then he was a clinging clot, and [Allah] created [his form] and proportioned [him]

— Saheeh International

Was he not once just a drop of discharged sperm.

— Muhammad Sarwar

Then he was a clot of blood, so He created (him) then made (him) perfect.

— Muhammad Habib Shakir

Then he became a clot; then He created him and formed him.

— Abdul Majid Daryabadi

Then did he become a leech-like clot; then did (Allah) make and fashion (him) in due proportion.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 75:38

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–40

جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 36–39

سورة الْقِیٰمَة 23 اب کلام کو ختم کرتے ہوئے اسی مضمون کا اعادہ کیا جا رہا ہے جس سے کلام کا آغاز کیا گیا تھا، یعنی زندگی بعد موت ضروری بھی ہے اور ممکن بھی۔ سورة الْقِیٰمَة 24 عربی زبان میں ابل سدی اس اونٹ کے لیے بولتے ہیں جو یونہی چھوٹا پھر رہا ہو، جدھر چاہے چرتا پھرے، کوئی اس کی نگرانی کرنے والا نہ ہو۔ اسی معنی میں ہم شتر بےمہار کا لفظ بولتے ہیں۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کیا انسان نے اپنے آپ کو شتر بےمہار سمجھ رکھا ہے کہ اس کے خالق نے اسے زمین میں غیر ذمہ دار بنا کر چھوڑ دیا ہو ؟ کوئی فرض اس پر عائد نہ ہو ؟ کوئی چیز اس کے لیے ممنوع نہ ہو ؟ اور کوئی وقت ایسا آنے والا نہ ہو جب اس سے اس کے اعمال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–39

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى، ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى لفظ اولی ویل کا مقلوب ہے۔ ویل کے معنے ہلاکت اور بربادی ہیں یہاں اس شخص کے لئے جس نے کفر و تکذیب ہی کو اپنا شعار بنائے رکھا اور دنیا کے مال و دولت میں مست رہا پھر اسی حال پر مر گیا اسکے لئے چار مرتبہ لفظ ہلاکت و بربادی استعمال کیا گیا کہ مرنے کے وقت پھر مرنے کے بعد قبر میں پھر حشر و نشر کے وقت پھر جہنم میں داخلے کے وقت یہ مصیبت و بربادی تیرا حصہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 36–40

جس مضمون سے سورہ کا آغاز ہوا اسی پر خاتمہ: اب اسی مضمون پر سورہ کو ختم فرمایا ہے جس سے آغاز ہوا تھا۔ شروع میں فرمایا ہے: ’أَیَحْسَبُ الْإِنۡسَانُ أَلَّنۡ نَجْمَعَ عِظَامَہٗ ۵ بَلٰی قَادِرِیْنَ عَلٰی أَنۡ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ‘ اس کے بعد کلام انسان کی خود سری، دیدہ و دانستہ حق پوشی اور ہول قیامت کے ذکر کی طرف مڑ گیا تھا۔ اب آخر میں اسی سوال کو لے کر اس کا جواب دیا کہ جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر تعجب کر رہے ہیں کیا وہ یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ انسان غیر مسؤل چھوڑ دیا جائے گا! اگر غیر مسؤل چھوڑ دیا جانا خدا کے عدل اور اس کی حکمت کے منافی ہے تو خدا کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 38–39

38۔ 1 فَسَوَّیٰ ، یعنی اسے ٹھیک ٹھاک کیا اور اس کی تکمیل کی اور اس میں روح پھونکی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 38–40

14: انسانی تخلیق کے تمام مراحل کا تذکرہ سورة مومنون : 14 میں فرمایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 37–38

الم یک ................ یمنی (37) ثم ................ فسوی (38) فجعل ........................(39) (37:75 تا 39) ”” کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر وہ ایک لو تھڑا بنا ، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے ، پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں “۔ یہ انسان کیا ہے ؟ یہ کس سے بنایا گیا ہے ؟ کس طرح تھا اور کس طرح ہوگیا۔ اور زندگی کا یہ سفر اس نے کہاں سے شروع کیا اور کہاں تک پہنچا۔ اس کرہ ارض پر وہ کیسے پہنچا جو ایک چھوٹا سا ستارہ ہے۔ کیا وہ پانی کا چھوٹا سا نطفہ نہیں تھا ، پانی کی ایک بوند جو ٹپکتی ہے۔ کیا انسان ایک نہایت ہی خوردبینی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 38–40

15 یعنی نطفہ سے جمے ہوئے خون کی شکل میں آیا۔ پھر اللہ نے اس کی پیدائش کے سب مراتب پورے کر کے انسان بنادیا اور تمام ظاہری اعضاء اور باطنی قوتیں ٹھیک کردیں۔ ایک نفطہ بیجان سے انسان عاقل بن گیا۔ پھر اسی نطفہ سے عورت اور مرد دو قسم کے آدمی پیدا کیے جن میں سے ہر ایک قسم کی ظاہری و باطنی خصوصیات جداگانہ ہیں۔ کیا وہ قادر مطلق جس نے اولاً سب کو ایسی حکمت وقدرت سے بنایا، اس پر قادر نہیں کہ دوبارہ زندہ کر دے ؟ " سبحانک اللہم فبلٰی۔ " پاک ہے تیری ذات اے خدا ! کیوں نہیں، تو بیشک قادر ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 38{ ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً } ”پھر وہ ایک علقہ بنا“ یعنی پانی کی اس بوند نے جونک جیسی شکل اختیار کرلی جو رحم مادر کی دیوار کے ساتھ چمٹی رہی۔ { فَخَلَقَ فَسَوّٰی۔ } ”پھر اللہ نے اس کو بنایا اور اس کے اعضاء درست کیے۔“ اللہ تعالیٰ نے علقہ کو گوشت کے لوتھڑے مضغہ میں تبدیل کیا اور پھر اس کا جسم بنایا ‘ جس میں آنکھیں ‘ ناک ‘ کان اور اپنی اپنی جگہ پر دوسرے تمام اعضاء بنا دیے۔ اور یہ سب کچھ ہوتا رہا : { فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰـثٍط } الزمر : 6 شکم مادر کے تین پردوں کے اندر۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 36–38

20 یعنی اللہ نے انسان کو بیشمار ایسی قوتیں عطا فرمائی ہیں جو دوسرے جانداروں کو عطا نہیں کی گئیں۔ لہذا جو انسان یہ سمجھتا ہے کہ جس طرح دوسرے جاندار پیدا ہوتے اور مرجاتے ہیں اور ان پر کسی طرح کی کچھ ذمہ داری نہیں اسی طرح انسان کا بھی حال ہے۔ اس کی یہ سوچ نہایت احمقانہ اور غیر دانشمندانہ ہے۔ اسے دوسرے جانداروں سے ممتاز کرنے کی آخر اللہ میاں کو کیا ضرورت تھی ؟ بلکہ اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ اگر انسان کی زندگی بھی ویسی ہی غیر ذمہ دارانہ سمجھی جائے جیسے دوسرے جانداروں کی ہے تو انسان کو پیدا کرنے کی ہی کیا ضرورت تھی ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 38–39

22۔ (تو جس کی محض پیدائش میں یہ اہتمام وانضباط ہو اور جس کی خلقت، ترکیب وارتقاء میں اتنی صنعت صرف ہو، کیا اس کا انجام کار کی طرف سے غفلت اور اسے محض بخت واتفاق پر چھوڑے رہنا عقل سلیم کسی طرح بھی قبول کرتی ہے ؟ ) والمقصود ھنا اثبات المعاد والرد علی امن انکرہ من اھل الزیغ والجھل والعناد (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–39

ترجمہ : انسان نے نہ تو تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی، لیکن اس نے قرآن کی تکذیب کی اور ایمان سے روگردانی کی (خود پسندی) سے اتراتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا، افسوس ہے تجھ پر اس میں غیبت سے (حاضر کی طرف) التفات ہے، اور (ویل) کلمہ اسم فعل ہے اور لام تبیین کے لئے ہے یعنی جس چیز کو تو ناپسند کرتا ہے، تجھ کو پیش آنے والی ہے حسرت ہے تجھ پر، پس وہ اولی ہے تیرے لئے یعنی وہ تیرے لئے دوسروں کے اعتبار سے بہتر ہے، پھر وائے ہے تیرے لئے اور خرابی ہے تاکید ہے کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کو بےکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کہ اس کو (احکام) و شرائع کا مکلف نہ بنایا جائے گا، کیا وہ منی کا نطفہ نہیں تھا جو ٹپکایا گیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم کان علقۃ فخلق فسوی . پھر اللہ نے اسکے اندر روح پھونک کر اسکو پیدا کیا اور اسکی ساخت کو بغیر کسی نقصان کے درست کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 37–38

(37۔ 38) کیا یہ ابوجہل ایک منی کا قطرہ نہ تھا جو عورت کے رحم میں ٹپکایا گیا پھر وہ خون کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے انسان بنایا اور اس کے ہاتھ پیروں اور تمام اعضاء کو درست کر کے اس میں روح پھونکی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 36–40

(1) ایحسب الانسان ان یثرک سدی …:”سدی“ وہ اونٹ جو کھلے چھوڑ دیئیج ائیں، انہیں ”ایل سدی“ کہتے ہیں، یعنی کھلا چھوڑا ہوا ، جس سے کوئی باز پرس نہ ہو۔”یمنی“”امنی یمنی“ (افعال) سے مضارع مجہول ہے، گرایا جاتا ہے، ٹپ کیا ا جاتا ہے۔ (2) حشر و نشر کے منکر اس بات کو ناممکن قرار یدتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں دوبارہ زندہ ہوں گی اور ان کا محاسبہ ہوگا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوبارہ زندہ کر کے اس سے حساب لینے کی دلیل بیان فرمایا ہے کہ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے پوچھے بغیر ہی رہنے دیا جائے گا ؟ نہیں، یہ غلط سوچ ہے، جس قادر مطلق نے پانی جیسی پتلی چیز کی ایک بوند کو رحم مادر میں مے ہوئے خون میں بدلنے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 38–39

ثم کان علقۃ فخلق فسوی، فعل منہ الزوجین الذکر والانثی۔ نطفہ کے بعد وہ خون تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کی بےقدری کو بیان کرنے کے لیے ان چیزوں کا یکے بعد دیگرے ذکر کیا پھر اندازہ لگایا اور اس کی روح رکھ کر مناسب اور موزوں بنادیا پھر اس انسان سے مرد اور عورت بنائے ایک قول یہ کیا گیا ہے، منہ کی ضمیر سے مراد منی ہے۔ جس نے خنثی کو ساقط کرنے کی رائے قائم کی ہے اس نے اس آیت سے استدلال کیا ہے سورة شوری میں یہ بات گزرچکی ہے کہ یہ آیت اور اس جیسی آیات غاب طریقہ کے اعتبار سے ہیں سورة النساء میں بھی اس بارے میں قول گزرچکا ہے میراث والی آیت میں اس کا حکم گزرچکا ہے اس کے دوبارہ اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 36–39

27۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان یترک سدی سے مراد ہے کہ وہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔ یعنی بےکار کہ اس پر کوئی پابندی اور نگرانی نہ ہوگا۔ 28۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ان یترک سدی سے مراد ہے کہ اسے باطل چھوڑدیا جائے گا نہ اسے حکم کیا جائے گا اور نہ روکا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ كَان عَلَقَةً : پھر وہ تھا خون کا ایک لوتھڑا ] [فَخَلَقَ : تو اس نے بنایا (اس کو)] [فَسَوّٰى: پھر اس نے (ناک نقشہ) درست کیا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 37–40

﴿ اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰىۙ0037﴾ (کیا وہ منی کا نطفہ نہیں تھا جسے ٹپکایا گیا) ۔ ﴿ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ0038﴾ (پھر وہ خون کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے اعضاء درست کردیئے) ۔ ﴿ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ0039﴾ (پھر اس نے اس کی دو قسمیں بنا دیں ایک مرد ایک عورت) ۔ ﴿ اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰى (رح) 0040﴾ (ان تصرفات اور تخلیقات والا کیا اس پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ فرما دے) انسان جو قیامت کا منکر ہے انکار کرتے ہوئے یوں کہتا ہے کہ بھلا مر کر بھی زندہ ہوں گے، اس کے جواب میں فرما دیا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 37–40

14:۔ ” الم یک “ یہ ثبوت قیامت پر عقلی دلیل ہے۔ انسان اپنی پیدائش سے پہلے منی کا ایک قطرہ تھا جو باپ کی پشت سے رحم مادر میں آیا نطفہ نے قدرت خداوندی سے جمے ہوئے خون اور پھر گوشت کی صورت اختیار کی پھر اللہ نے اس کامل و مکمل انسان کی شکل میں پیدا فرمایا اور اس کی قدرت کاملہ کا کرشمہ دیکھو کہ ایک ہی نطفہ سے نر و مادہ کو پیدا کیا۔ تو کیا جو ایسا قادر وعلیم اور صانع و حکیم ہے وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ؟ استفہام انکاری ہے یعنی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا ایسے قادر مطلق کی قدرت سے باہر نہیں۔ انسان کی پیدائش کو تسلیم کرنا حالانکہ وہ حشر و نشر سے زیادہ عجیب و غریب ہے اور قیامت کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ كَانَ عَلَقَۃً فَخَلَقَ فَسَوّٰى۝ 38 ۙ علق العَلَقُ : التّشبّث بالشّيء، يقال : عَلِقَ الصّيد في الحبالة، وأَعْلَقَ الصّائد : إذا علق الصّيد في حبالته، والمِعْلَقُ والمِعْلَاقُ : ما يُعَلَّقُ به، وعِلَاقَةُ السّوط کذلک، وعَلَقُ القربة كذلك، وعَلَقُ البکرة : آلاتها التي تَتَعَلَّقُ بها، ومنه : العُلْقَةُ لما يتمسّك به، وعَلِقَ دم فلان بزید : إذا کان زيد قاتله، والعَلَقُ : دود يتعلّق بالحلق، والعَلَقُ : الدّم الجامد ومنه : العَلَقَةُ التي يكون منها الولد . قال تعالی: خَلَقَ الْإِنْسانَ مِنْ عَلَقٍ [ العلق/ 2] ، وقال : وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسانَ إلى قوله : فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–40

ترکیب : فلاصدق ای لم یصدق لابمعنی لم و العرب تقول لاذہب ای لم یذہب وھذا کثیر فی کلام العرب قالہ الکسائی والاخفش وقیل لابمعنی ماوھو معطوف علیٰ قولہ یسئل ایان الخ والضمیر الفاعل نے لاصدق ولاصلی للانسان المذکور فی قولہ ایحسب الانسان الخ یتمطیٰ حال من فاعل ذہب یتمطی فیہ قولان (الاول) ان اصلہ یتمطط ای یتمدولان المتبختر یمد خطا و فقلبت الطاء فیہ یاء کما قیل فی تقضٰی صلہ تقضض (والثانی) من الط و ھوا لظھر لانہ یلویہ فعلی الاول الالف مَبَّدلۃ من طائٍ وعلی الثانی من واوٍ اولیٰ لک فیہ قولان الاول انہ اسم فعل مبنی علی السکون و معناہ ولیک ماتکرھمہ والفاعل ضمیر مستتریعود علی مایفھم من السیاق وھوالدعاء علیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 37–40

اَلَمْ یَکُ نُطْفَۃً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰی۔ ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً فَخَلَقَ فَسَوّٰی۔ فَجَعَلَ مِنْہُ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی۔ اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍعَلٰٓی اَنْ یُّحْیِ یَ الْمَوْتٰی۔ (القیامۃ : 37 تا 40) (کیا وہ ایک حقیر پانی کی بوند نہ تھا جو (رحمِ مادر) میں ٹپکایا جاتا ہے۔ پھر وہ خون کی ایک پھٹکی بنا اور اللہ نے اس کا جسم بنایا، پھر اس کے اعضاء درست کیے۔ پھر بنایا اس سے جوڑا، نر اور مادہ۔ کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کردے۔ ) امکانِ قیامت کے دلائل اوپر کی آیت کریمہ کا حاصل یہ تھا کہ انسان کوئی شتر بےمہار نہیں بلکہ وہ ایک ذمہ دار، صاحب عقل اور صاحب اخلاق انسان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 37–40

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والے کے لیے اس کے وجود سے قیامت کی دلیل۔ قرآن مجید نے موت کے بعد زندہ ہونے کو جن دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے ان دلائل میں ایک بڑی دلیل انسان کے اپنے وجود میں پائی جاتی ہے۔ جو شخص قیامت کے دن زندہ ہونے کا انکار کرتا ہے کیا وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ منی کے ایک قطرہ تھا۔ جو رحم مادر میں ٹپکایا گیا اللہ تعالیٰ نے پھر اسے لوتھڑا بنایا پھر اسے انسانی شکل میں ڈھالا پھر اسے مرد یا عورت کی قسم میں تبدیل فرمایا۔ کیا اب اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرے ؟ کیوں نہیں ! وہ اس بات پر پوری طرح قادر ہے کہ وہ مردوں کو زندہ فرما کر اپنی بارگاہ میں پیش کرے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

38 : ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً (پھر وہ خون کا لوتھڑا ہوگیا) یعنی منی چالیس یوم کے بعد جمے ہوئے خون کا لوتھڑا بن گیا۔ فَخَلَقَ فَسَوّٰی (پھر اللہ تعالیٰ نے بنایا پھر اعضاء درست کیے) اللہ تعالیٰ نے اس سے درست انسان بنادیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

37 ۔” الم یک نطفۃ من منی یمنی “ رحم میں ٹپکائی جاتی ہے۔ حفص نے عاصم سے ” یمنی “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ حسن (رح) کی قرات ہے اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے نطفہ کی وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–40

26۔ 40۔ اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کردیا ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لئے فرمایا کہ جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائیدار چیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمر بھر عقبیٰ کو برباد کریں۔ پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبیٰ کی بربادی کب تک۔ ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ قبر ‘ حشر ‘ قیامت کی باتیں تو بھلا آنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت بھی ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گزری کہ آخری وقت آن پہنچا اور جان سارے جسم میں سے کھنچ کر حلق میں آگئی۔ ایسے حکیم یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 37–38

(اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْـنٰى۔ ثُمَّ كَانَ ) کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے پھر ہوگیا۔ ؟ یعنی منی کے بعد (علقۃ) خون کا لوتھڑا (فخلق) پھر اللہ نے اس سے جان دار پیدا کیا اور اسے درست کیا یعنی اس کو مہارت سے محکم کرکے بنایا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–40

قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 38–39

36 زوجین کا وجود قدرت کا ایک اور کرشمہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اس نے اس سے اس کا جوڑا بنایا نر اور مادہ : اور اس قدر عجیب و غریب طریقے سے ‘ اور حیرت انگیز طور پر کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کے اندر وہ خصائص رکھے جو دوسرے کیلئے گویا کہ باعث تکمیل ہیں ‘ اور ایک عظیم الشان اور سعادت مند زندگی کیلئے لازم و ملزوم ہیں ‘ تو پھر یہ انسان بےمقصد اور غیر ذمہ دار کیونکر قرار دیا جاسکتا ہے ؟ کہ یہ کیڑے مکوڑوں اور برساتی مینڈکوں کی طرح یونہی مرکھپ کر ختم ہوجائے ‘ کلاثم کلا ہرگز ایسے نہیں ہوسکتا ‘ سو اس ارشاد ربانی میں انسان کیلئے خود اس کے اپنے مراحل تخلیق و تکمیل میں غور و فکر کی دعوت ہے ‘ کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–40

اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–40

آیات 31 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ کافر نے نہ تو تصدیق کی نہ ایمان لایا اور نہ اللہ سے تعلق جوڑا جو اس کی عبادت کے ذریعے جوڑا جاسکتا تھا بلکہ سارے دین یعنی نظام حیات کا انکار کردیا اور اس سے منہ موڑ لیا اور اپنے اہل و عیال اور دولت دنیا میں منہمک ہوگیا بڑے فخر اور تکبر کے ساتھ تباہ ہوگیا تباہ ہوگیا ، تباہ ہوگیا ۔ یعنی زندگی میں موت میں برزخ میں اور حشر میں ہر جگہ اپنے لیے تباہی خریدلی کیسا بیوقوف ہے سمجھتا ہے حساب کتاب نہ ہوگا اور یونہی عالم ختم ہوجائے گا حالانکہ ایک مربوط نظام ہے خود یہ ایک قطرہ منی سے بنایا گیا پھر شکم مادر میں محض خون تھا جماہوا پھر اسے انسان بناکرزندگی دی اور اس میں مردو عورت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75:38) ثم کان علقۃ : ای صار المنی قطعۃ دوجامد بعد اربعین یوما (مدارک التنزیل) پھر وہ منی ایک منجمد خون کا لوتھڑا بن گئی۔ فخلق فسوی :تعقیب کا۔ سوی ماضی واحد مذکر غائب۔ تسویۃ (تفعیل) مصدر سے۔ جس کے معنی بلندی یا پستی میں برابر بنانے کے ہیں۔ پھر اس نے پورا پورا بنایا۔ ای فخلق اللہ منہ بشرا سویا۔ (مدارک) ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس لوتھڑے سے ایک مکمل انسان پیدا کیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–40

لغات القرآن۔ لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–40

(ف 1) شان نزول : نسائی ، تفسیر ابن جریر وغیرہ میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ ابوجہل کی طرح طرح کی شرارتوں کے سبب سے ایک روز نبی ﷺ نے ابوجہل کی چادر کا پلو پکڑ کر فرمایا کہ تیری خرابی آلگی ، اب آلگی پھر تیری خرابی آلگی اب آلگی، تو ابوجہل نے کہا، اے محمد ﷺ کیا تم مجھے دھمکاتے ہو، تم اور تمہارا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان میں سب سے زیادہ قوی زورآور صاحب شوکت وقوت ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے کلام کی صداقت کے طور پر یہی الفاظ ان آیتوں میں نازل فرمائے اور اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے قرآنی خبر ضرور پوری ہوتی تھی اور آن حضرت کا فرمان ضرور پورا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–40

[13] یعنی آخرت کو ہرگز دور نہ سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے۔ یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنے ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 33–38

ف 1: ان آیتوں میں بتایا ہے ۔ کہ جو بات آخرت میں کام آنے والی ہے وہ اعمال صالحہ ہیں ۔ اور وہ جس نے ساری عمر نافرمانی اور معصیت میں بسر کی ۔ جس نے کبھی خدا کی راہ میں کچھ نہیں دیا ۔ جس نے کبھی مسجد تک آنے کی زحمت گوارا نہیں کی ۔ بلکہ ہمیشہ روگردانی اور تکذیب سے کام لیا ۔ اور اکڑتا ہوا ۔ اپنے گھر کو چل دیتا تھا ۔ وہ آج یوم الحساب کے دن کسی رعایت کا مستحق نہیں ۔ اس پر کم بختی آنے والی ہے ۔ اور ضرور کم بختی آنے والی ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(38) پھر وہ خون بستہ اور ایک خون کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو بنایا اور اس کے اعضاء کو درست کیا اور سڈول کیا۔ یعنی وہ نطفہ جو حکماء کے نزدیک ہضم رابع کا فضلہ ہے اور جسم سے علیحدہ ہونے کے بعد اس میں حیات کا کوئی اثر باقی نہ تھا وہ جب رحم میں پڑا اور ایک جما ہوا خون ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال خالقیت سے اس بےجان چیز کو جان بخشی اور اس کے اعضاء کی ساخت کو درست اور اس مردہ نطفہ کو انسان بنایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 29–38

ف 9۔ مراد اس سے ظہور سکرات موت ہے کچھ تخصیص التفات کی نہیں، اس کا ذکر تمثیلا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 36–40

(کیا خیال کر رہا ہے یہ ) بعث و حشر کا منکر (انسان ، کہ چھوڑ دیا جائے گا بےکار) مہمل ، معطل اور ضائع کہ دنیا میں مکلف اور عقبی میں مبعوث اور معذب نہ ہوگا۔ قدرت خداوندی کو نہ سمجھ لینے والو سوچو کہ ۔۔۔ (کیا نہ تھا) یہ انسان (قطرہ منی کا جو ٹپکایا جاتا ہے ) رحم میں (پھر ہوا لوتھڑا) یعنی جما ہوا خون ، (تو پیدا فرمایا) اس کے اجزا اور اعضا (اب سڈول کیا) یعنی راست اور درست کردیا اس صورت اور اس میں روح پھونکی (پھر کردیا اس) منی (سے جوڑے) دو قسم (مرد و عورت) یعنی نر اور مادہ ۔ (کیا نہیں ہے ایسا خالق قدرت والا اس پر کہ زندہ کردے مردوں کو) ۔ حدیث میں ہے کہ یہ سورت پڑھنے کے بعد کہنا چاہیے۔ بلی انہ علی کل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–39

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى '[ It will be said to such a man,] Woe to you, then woe to you! Again, woe to you, then woe to you!...(75:34-35) The word aula is the inverted form of wail which means ' The expression 'woe' has been mentioned four times for the has made it his habit to deny and reject, and was steeped in died in that state. Therefore, destruction has been heaped times: [ 1] at the time of death; [ 2] in the grave; [ 3] at Resurrection; and finally [ 4] at the time of entering Hell. destruction'. person who wealth, and on him four the time of

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 36–39

23 Now, in conclusion, the same theme is being repeated with which the discourse began Life-after-death is necessary as well as possible. 24 The word suda when used with regard to a camel implies a camel who is wandering aimlessly, grazing at will, without there being anybody to look after him. Thus, the verse means: "Dces tnan think that he has been left to himself to wander at will as if his Creator had laid no responsibility on him, had imposed no duty on him, had forbidden nothing to him, that at no time in future he would be required to account for his deeds'?" This same theme has been…

Read the full tafseer →