Al-Qiyaama 75:36

Al-Qiyaama · from ayah 36

75:36

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًی ۟ؕاَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًىؕ

کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Does man think that he will be left neglected?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:36

کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ آزاد چھوڑ دیا جائے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا اِنسان یہ خیال کرتا ہے کہ اُسے بے کار (بغیر حساب و کتاب کے) چھوڑ دیا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا انسان گمان کرتا کہ اسے بغیر پوچھے ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اسے شتر بےمہار کی طرح چھوڑ دیا جائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا انسان گمان رکھتا ہے کہ وہ بس یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ایسے انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس کو یونہی بےکار چھوڑ دیا جائے گا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا انسان اس خیال میں ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا ؟۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Does man think that he will be left alone, unquestioned?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Does man presume that he will be left unchecked?

— Muhammad Taqi Usmani

Does man presume that he will be left unchecked?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Does man think that he will be left neglected

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thinketh man that he is to be left aimless?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Does man think that he will be left neglected?

— Saheeh International

For you, the human being of such behavior, will certainly deserve it.

— Muhammad Sarwar

Does man think that he is to be left to wander without an aim?

— Muhammad Habib Shakir

Deemest man that he is to be left uncontrolled?

— Abdul Majid Daryabadi

Does man think that he will be left uncontrolled, (without purpose)?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 75:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–40

جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 36–39

سورة الْقِیٰمَة 23 اب کلام کو ختم کرتے ہوئے اسی مضمون کا اعادہ کیا جا رہا ہے جس سے کلام کا آغاز کیا گیا تھا، یعنی زندگی بعد موت ضروری بھی ہے اور ممکن بھی۔ سورة الْقِیٰمَة 24 عربی زبان میں ابل سدی اس اونٹ کے لیے بولتے ہیں جو یونہی چھوٹا پھر رہا ہو، جدھر چاہے چرتا پھرے، کوئی اس کی نگرانی کرنے والا نہ ہو۔ اسی معنی میں ہم شتر بےمہار کا لفظ بولتے ہیں۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کیا انسان نے اپنے آپ کو شتر بےمہار سمجھ رکھا ہے کہ اس کے خالق نے اسے زمین میں غیر ذمہ دار بنا کر چھوڑ دیا ہو ؟ کوئی فرض اس پر عائد نہ ہو ؟ کوئی چیز اس کے لیے ممنوع نہ ہو ؟ اور کوئی وقت ایسا آنے والا نہ ہو جب اس سے اس کے اعمال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–39

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى، ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى لفظ اولی ویل کا مقلوب ہے۔ ویل کے معنے ہلاکت اور بربادی ہیں یہاں اس شخص کے لئے جس نے کفر و تکذیب ہی کو اپنا شعار بنائے رکھا اور دنیا کے مال و دولت میں مست رہا پھر اسی حال پر مر گیا اسکے لئے چار مرتبہ لفظ ہلاکت و بربادی استعمال کیا گیا کہ مرنے کے وقت پھر مرنے کے بعد قبر میں پھر حشر و نشر کے وقت پھر جہنم میں داخلے کے وقت یہ مصیبت و بربادی تیرا حصہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 36–40

جس مضمون سے سورہ کا آغاز ہوا اسی پر خاتمہ: اب اسی مضمون پر سورہ کو ختم فرمایا ہے جس سے آغاز ہوا تھا۔ شروع میں فرمایا ہے: ’أَیَحْسَبُ الْإِنۡسَانُ أَلَّنۡ نَجْمَعَ عِظَامَہٗ ۵ بَلٰی قَادِرِیْنَ عَلٰی أَنۡ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ‘ اس کے بعد کلام انسان کی خود سری، دیدہ و دانستہ حق پوشی اور ہول قیامت کے ذکر کی طرف مڑ گیا تھا۔ اب آخر میں اسی سوال کو لے کر اس کا جواب دیا کہ جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر تعجب کر رہے ہیں کیا وہ یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ انسان غیر مسؤل چھوڑ دیا جائے گا! اگر غیر مسؤل چھوڑ دیا جانا خدا کے عدل اور اس کی حکمت کے منافی ہے تو خدا کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 36–37

36۔ 1 یعنی اس کو کسی چیز کا حکم دیا جائے گا، نہ کسی چیز سے منع کیا جائے گا، نہ اس کا محاسبہ ہوگا۔ یا اس کی قبر میں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا جائے گا، وہاں سے اسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 36–37

13: یعنی اسے اس دنیا میں اس طرح چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کسی شرعی قاعدے قانون کا پابند نہ ہو، اور جو جی میں آئے، کرتا پھرے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ آخری مقطع ہے جو نہایت اثر آفرین ہے اور اس میں گہرے حقائق کی طرف اشارہ ہیں۔ ان حقائق کے بارے میں اس وقت کے سامعین نے کبھی غور ہی نہ کیا تھا۔ ان حقائق میں سے زیادہ انسان کی تخلیق اور اس دنیا میں اس کی حیات کے نشوونما کے لئے تدابیر کی طرف اشارات ہیں۔ ایحسب ........................ سدی (36:75) ” کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اسے یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا ؟ “ اہل عرب کے نزدیک زندگی ایک ایسی حرکت تھی جس کا نہ کوئی سبب تھا اور نہ کوئی علت تھی۔ نہ کوئی مقصد اور نہ غایت تھی۔ لوگ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے تھے اور قبروں میں جاتے تھے۔ اور پیدائش اور موت کے درمیان کا عرصہ لہو ولعب کے لئے مخصوص تھا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 یعنی کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس کو یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا ؟ اور امرونہی کی کوئی قید اس پر نہ ہوگی ؟ یا میرے پیچھے اٹھایا نہ جائے گا ؟ اور سب نیک و بد کا حساب نہ لیں گے ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 36–37

آیت 36{ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَکَ سُدًی۔ } ”کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟“ کیا یہ لوگ اپنی دنیوی زندگی کو ہی اصل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں ؟ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا اور ان کا حساب کتاب نہیں ہوگا ؟ اور انہیں ان کے کرتوتوں کا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑے گا ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 36–38

20 یعنی اللہ نے انسان کو بیشمار ایسی قوتیں عطا فرمائی ہیں جو دوسرے جانداروں کو عطا نہیں کی گئیں۔ لہذا جو انسان یہ سمجھتا ہے کہ جس طرح دوسرے جاندار پیدا ہوتے اور مرجاتے ہیں اور ان پر کسی طرح کی کچھ ذمہ داری نہیں اسی طرح انسان کا بھی حال ہے۔ اس کی یہ سوچ نہایت احمقانہ اور غیر دانشمندانہ ہے۔ اسے دوسرے جانداروں سے ممتاز کرنے کی آخر اللہ میاں کو کیا ضرورت تھی ؟ بلکہ اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ اگر انسان کی زندگی بھی ویسی ہی غیر ذمہ دارانہ سمجھی جائے جیسے دوسرے جانداروں کی ہے تو انسان کو پیدا کرنے کی ہی کیا ضرورت تھی ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

20۔ (بلا حساب و کتاب اور بغیر جزاء وسزا کے) (آیت) ” الانسان “۔ انسان سے یہاں مراد کافر، ناسپاب، منکر حشر انسان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–39

ترجمہ : انسان نے نہ تو تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی، لیکن اس نے قرآن کی تکذیب کی اور ایمان سے روگردانی کی (خود پسندی) سے اتراتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا، افسوس ہے تجھ پر اس میں غیبت سے (حاضر کی طرف) التفات ہے، اور (ویل) کلمہ اسم فعل ہے اور لام تبیین کے لئے ہے یعنی جس چیز کو تو ناپسند کرتا ہے، تجھ کو پیش آنے والی ہے حسرت ہے تجھ پر، پس وہ اولی ہے تیرے لئے یعنی وہ تیرے لئے دوسروں کے اعتبار سے بہتر ہے، پھر وائے ہے تیرے لئے اور خرابی ہے تاکید ہے کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کو بےکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کہ اس کو (احکام) و شرائع کا مکلف نہ بنایا جائے گا، کیا وہ منی کا نطفہ نہیں تھا جو ٹپکایا گیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ایحسب الانسان ان یترک سدی . کیا انسان کا یہ خیال ہے کہ اس کو یونہی بیکار چھوڑ دیا جائے گا ‘ نہ کسی کام کو کرنے کا حکم دیا جائے گا نہ کسی فعل سے منع کیا جائے گا ‘ نہ اس کا حشر ہوگا ‘ نہ جزا و سزا ‘ انکار حشر کا تو اقتضاء ہے کہ آدمی کو آزاد چھوڑ دیا جائے ‘ حالانکہ انسانی پیدائش کی غرض ہی پابندی امر و نہی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ دوسری جگہ فرمایا : قل ما یعبأبکم ربی لولا دعاء کم۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 36–40

(1) ایحسب الانسان ان یثرک سدی …:”سدی“ وہ اونٹ جو کھلے چھوڑ دیئیج ائیں، انہیں ”ایل سدی“ کہتے ہیں، یعنی کھلا چھوڑا ہوا ، جس سے کوئی باز پرس نہ ہو۔”یمنی“”امنی یمنی“ (افعال) سے مضارع مجہول ہے، گرایا جاتا ہے، ٹپ کیا ا جاتا ہے۔ (2) حشر و نشر کے منکر اس بات کو ناممکن قرار یدتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں دوبارہ زندہ ہوں گی اور ان کا محاسبہ ہوگا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوبارہ زندہ کر کے اس سے حساب لینے کی دلیل بیان فرمایا ہے کہ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے پوچھے بغیر ہی رہنے دیا جائے گا ؟ نہیں، یہ غلط سوچ ہے، جس قادر مطلق نے پانی جیسی پتلی چیز کی ایک بوند کو رحم مادر میں مے ہوئے خون میں بدلنے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 36–37

ایحسب الانسان ان یترک سدی۔۔۔ تا۔۔۔۔ الموتی۔ ایحسب الانسان ان یترک سدی۔ کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گانہ اسے حکم دیا جائے گا نہ اسے نہی کی جائے گی، یہ ابن زید اور مجاہد نے کہا، اسی سے اہل سدی ہے جو اونٹ چرواہے کے بغیر چرتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اسے قبر میں ہمیشہ کے لیے اس طرح چھوڑ دیا جائے گا اسے دوبارہ نہیں اٹھایاجائے گا۔ شاعر نے کہا : فاقسم باللہ جھد الیمین ما ترک اللہ شیا سدی۔ میں اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھاتا ہوں اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو مہمل نہیں چھوڑا۔ الم یک نطفۃ من منی یمنی۔ پانی کا قطرہ جسے رحم میں ٹپکایا جاتا ہے۔ منی کو منٰی اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 36–39

27۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان یترک سدی سے مراد ہے کہ وہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔ یعنی بےکار کہ اس پر کوئی پابندی اور نگرانی نہ ہوگا۔ 28۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ان یترک سدی سے مراد ہے کہ اسے باطل چھوڑدیا جائے گا نہ اسے حکم کیا جائے گا اور نہ روکا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَيَحْسَبُ الْانسَان : کیا سمجھتا ہے انسان ] [ان يُّتْرَكَ : کہ وہ چھوڑ دیا جائے گا ] [سُدًى: (یوں ہی) بےلگام ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًىؕ0036﴾ (کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ یوں ہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا) ۔ قرآن مجید کے مخاطبین ایمان لانے کو تیار نہ تھے اور جب انہیں قیامت اور وہاں کے حساب کتاب اور جنت اور جہنم کے داخلے کی باتیں بتائی جاتی تھیں تو ان سب کو جھٹلا دیتے تھے اور یوں سمجھتے تھے کہ دنیا میں رہیں گے مزے اڑاتے رہیں گے۔ دنیا میں آئے، وقت پورا کیا، چلے گئے، موت کے بعد پوچھ گچھ جزا سزا کچھ نہیں ان لوگوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کیا انسان یوں سمجھتا ہے کہ وہ یوں ہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا ؟ یہ استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ انسان کا اپنے بارے میں یہ سوچ لینا کہ میں یوں ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

13:۔ ” ایحسب “ یہ زجر ہے اور ابتداء سورت۔ ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامہ سے متعلق ہے۔ سدی، بےکار، مہمل۔ جس پر نہ کوئی ذمہ داری عائد اور نہ اسے جزاء سزا ہو۔ (سدی) مہملا لا یکلف ولا یجازی (بیضاوی) ۔ کیا منکرین قیامت کا خیال ہے کہ ان کو ویسے ہی بےکار اور بےمقصد پیدا کیا گیا ہے ؟ اور مرنے کے بعد جزاء وسزا کے لیے ان کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا نہیں نہیں، ان کی طرف پیغمبر مبعوث کر کے ان کو ایمان وعمل کا مکلف کیا گیا ہے اور ان پر قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ ایمان و تصدیق کی صورت میں وہ ثواب کے مستحق ہوں گے اور انکار وجحود پر عذاب کے مستحق ہوں گے وہ مرنے کے بعد دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى۝ 36 ۭ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–40

ترکیب : فلاصدق ای لم یصدق لابمعنی لم و العرب تقول لاذہب ای لم یذہب وھذا کثیر فی کلام العرب قالہ الکسائی والاخفش وقیل لابمعنی ماوھو معطوف علیٰ قولہ یسئل ایان الخ والضمیر الفاعل نے لاصدق ولاصلی للانسان المذکور فی قولہ ایحسب الانسان الخ یتمطیٰ حال من فاعل ذہب یتمطی فیہ قولان (الاول) ان اصلہ یتمطط ای یتمدولان المتبختر یمد خطا و فقلبت الطاء فیہ یاء کما قیل فی تقضٰی صلہ تقضض (والثانی) من الط و ھوا لظھر لانہ یلویہ فعلی الاول الالف مَبَّدلۃ من طائٍ وعلی الثانی من واوٍ اولیٰ لک فیہ قولان الاول انہ اسم فعل مبنی علی السکون و معناہ ولیک ماتکرھمہ والفاعل ضمیر مستتریعود علی مایفھم من السیاق وھوالدعاء علیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَکَ سُدًی۔ (القیامۃ : 36) (کیا انسان یہ گمان رکھتا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا۔ ) عربی زبان میں اِبِلٌ سُدًیاس اونٹ کو کہتے ہیں جسے آزاد پھرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے، جدھر چاہے چرتا پھرے، نہ اس سے کوئی کام لیا جائے اور نہ اس کی کوئی نگرانی کرنے والا ہو۔ اردو زبان میں عام طور پر شتر بےمہار کا لفظ اسی معنی میں بولتے ہیں۔ انسان کی گمراہی اور اس کا رد اس سورة کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ قیامت اور آخرت کو مختلف دلائل سے ثابت کیا جارہا ہے اور اسی ضمن میں قریش کی جانب سے جو اعتراضات اور اشتباہات اٹھائے جاتے تھے ان کا جواب دیا گیا ہے۔ ان میں ایک بڑا اعتراض یہ تھا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–36

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکر کو موت کے وقت اس لیے زیادہ تکلیف ہوتی ہے کیونکہ وہ نہ قیامت پر یقین رکھتا ہے اور نہ نمازی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موت کے لمحات بڑے سخت ہوتے ہیں، ان لمحات سے مراد وہ لمحات ہیں جو روح نکلنے سے پہلے شروع ہوتے ہیں۔ جب مومن کی روح نکلنا شروع ہوتی ہے تو اس کے لیے وہ لمحات بہت آسان کر دئیے جاتے ہیں، جس کا حوالہ پچھلی آیت کی تفسیر میں دیا گیا ہے۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لایا اور نہ اس نے قیامت کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی، نزع کے وقت اس کی بری حالت ہوتی ہے۔ اس کی حالت کا درج ذیل حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اعتقاداً یا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

36 : اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَکَ سُدًی (کیا انسان یہ خیال کرتا ہے۔ کہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائیگا۔ ) کیا کافر کا خیال ہے کہ اس کو یوں بیکار چھوڑا جائے گا۔ اس کو کسی بات کا حکم اور کسی بات کی ممانعت نہ کی جائے گی اور نہ اس کو اٹھا یا اور نہ اس سے بدلہ لیا جائے گا ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

35 ۔” ثم اولی لک فاولیٰ “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابوجہل کے لئے وعید پر وعید ہے اور یہ کلمہ دھمکی اور وعید کے لئے وضع کیا گیا ہے اور بعض علماء نے کہا ہے کہ اس کا معنی ہے تو اس عذاب کا زیادہ لائق اور زیادہ حق دار ہے اس آدمی کے لئے کہا جاتا ہے جس کو کوئی ناپسند چیز پہنچے۔ ” یستوجبہ “ یہ اس کا سزوار ہے اور کہا گیا ہے یہ کلمہ عرب اس کے لئے بولتے ہیں جس کے ناپسند چیز قریب ہو اور اسکی اصل ولی سے ہے اور وہ بمعنی “ قریب “ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” قاتلوا الذین یلونکم من الکفار “ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہمیں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے بطحاء میں ابوجہل کے کپڑے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–40

26۔ 40۔ اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کردیا ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لئے فرمایا کہ جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائیدار چیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمر بھر عقبیٰ کو برباد کریں۔ پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبیٰ کی بربادی کب تک۔ ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ قبر ‘ حشر ‘ قیامت کی باتیں تو بھلا آنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت بھی ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گزری کہ آخری وقت آن پہنچا اور جان سارے جسم میں سے کھنچ کر حلق میں آگئی۔ ایسے حکیم یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چناچہ فرمایا (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى) یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا ؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لا ئق نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–40

قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

34 منکر انسان کے قلب و ضمیر پر ایک دستک کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکر انسان کے حال پر اظہار تعجب و افسوس اور ایسے غافلوں کو جھنجھوڑنے اور ان کے قلوب و ضمائر پر ایک دستک کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا ؟ کہ اس سے نہ کوئی پوچھ ہو ‘ نہ حساب کتاب اور نہ ثواب و عذاب ‘ اور وہ کیڑے مکوڑوں کی طرح یونہی مرکھپ کر خٹم ہوجائے اور بس ‘ اور قصہ یونہی تمام ہوجائے ؟ استفہام انکار اور توبیخ و تقریع کیلئے ہے ‘ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا ‘ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر انسان کو عقل و خرد جیسے جوہر فرق وتمیز سے نواز کر ‘ اور اس کو اشرف المخلوقات…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–40

اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–40

آیات 31 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ کافر نے نہ تو تصدیق کی نہ ایمان لایا اور نہ اللہ سے تعلق جوڑا جو اس کی عبادت کے ذریعے جوڑا جاسکتا تھا بلکہ سارے دین یعنی نظام حیات کا انکار کردیا اور اس سے منہ موڑ لیا اور اپنے اہل و عیال اور دولت دنیا میں منہمک ہوگیا بڑے فخر اور تکبر کے ساتھ تباہ ہوگیا تباہ ہوگیا ، تباہ ہوگیا ۔ یعنی زندگی میں موت میں برزخ میں اور حشر میں ہر جگہ اپنے لیے تباہی خریدلی کیسا بیوقوف ہے سمجھتا ہے حساب کتاب نہ ہوگا اور یونہی عالم ختم ہوجائے گا حالانکہ ایک مربوط نظام ہے خود یہ ایک قطرہ منی سے بنایا گیا پھر شکم مادر میں محض خون تھا جماہوا پھر اسے انسان بناکرزندگی دی اور اس میں مردو عورت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75:36) ایحسب الانسان ان یترک سدی۔ جملہ استفہامیہ انکاریہ ہے۔ ایحسب الانسان : ملاحظہ ہو 75:3 متذکرۃ الصدر۔ کیا انسان خیال کرتا ہے ان مصدریہ بمعنی کہ : یترک مضارع مجہول (منصوب بوجہ عمل ان) ترک (باب نصر) مصدر۔ وہ چھوڑ دیا جائے گا۔ سدی۔ بےقید، مہل، کہ نہ کسی بات پر مامور ہو اور نہ کسی چیز سے اسے روکا جائے۔ اسداء (افعال) مصدر سے جس کے معنی مہمل چھوڑ دینے کے ہیں۔ اسم ہے واحد اور جمع دونوں کے لئے مساوی طور پر استعمال ہوتا ہے۔ سدی بےکار چھوڑے ہوئے اونٹ ، شتر بےبہار۔ سدی، یترک کی ضمیر نائب فاعل سے حال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا انسان یہ سوچتا ہے کہ اس کو یوں ہی بےکار چھوڑ دیا جائے گا نہ کسی کام کا حکم دیا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–40

لغات القرآن۔ لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–40

(ف 1) شان نزول : نسائی ، تفسیر ابن جریر وغیرہ میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ ابوجہل کی طرح طرح کی شرارتوں کے سبب سے ایک روز نبی ﷺ نے ابوجہل کی چادر کا پلو پکڑ کر فرمایا کہ تیری خرابی آلگی ، اب آلگی پھر تیری خرابی آلگی اب آلگی، تو ابوجہل نے کہا، اے محمد ﷺ کیا تم مجھے دھمکاتے ہو، تم اور تمہارا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان میں سب سے زیادہ قوی زورآور صاحب شوکت وقوت ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے کلام کی صداقت کے طور پر یہی الفاظ ان آیتوں میں نازل فرمائے اور اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے قرآنی خبر ضرور پوری ہوتی تھی اور آن حضرت کا فرمان ضرور پورا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–40

[13] یعنی آخرت کو ہرگز دور نہ سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے۔ یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنے ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 33–38

ف 1: ان آیتوں میں بتایا ہے ۔ کہ جو بات آخرت میں کام آنے والی ہے وہ اعمال صالحہ ہیں ۔ اور وہ جس نے ساری عمر نافرمانی اور معصیت میں بسر کی ۔ جس نے کبھی خدا کی راہ میں کچھ نہیں دیا ۔ جس نے کبھی مسجد تک آنے کی زحمت گوارا نہیں کی ۔ بلکہ ہمیشہ روگردانی اور تکذیب سے کام لیا ۔ اور اکڑتا ہوا ۔ اپنے گھر کو چل دیتا تھا ۔ وہ آج یوم الحساب کے دن کسی رعایت کا مستحق نہیں ۔ اس پر کم بختی آنے والی ہے ۔ اور ضرور کم بختی آنے والی ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(36) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ یوں ہی بیکار اور مہمل چھوڑ دیا جائے گا۔ یہ منکر انسان شایدوہی ہے جس کا ذکر شروع سورت میں گزرا ہے۔ ایحسب الانسان الن نجمع یعنی سعد بن ربیعہ جو اخنس بن شریق کا داماد تھا اور بعض حضرات فرماتے ہیں انسان سے مراد ابوجہل ہے بہرحال ! مطلب یہ ہے کہ اس منکر انسان نے نہ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تصدیق کی نہ عقائد اسلامی کا یقین کیا نہ نماز ادا کی جو اعمال صالحہ میں بڑی اہم چیز تھی اسلامی عقائد کا یقین تو کیا کرتا اور نماز تو کیا پڑھتا بلکہ اس نے تو بجائے تصدیق کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑا اور اپنی ان ناشائستہ اور کافرانہ حرکت پر فخر کرتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 29–38

ف 9۔ مراد اس سے ظہور سکرات موت ہے کچھ تخصیص التفات کی نہیں، اس کا ذکر تمثیلا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 36–40

(کیا خیال کر رہا ہے یہ ) بعث و حشر کا منکر (انسان ، کہ چھوڑ دیا جائے گا بےکار) مہمل ، معطل اور ضائع کہ دنیا میں مکلف اور عقبی میں مبعوث اور معذب نہ ہوگا۔ قدرت خداوندی کو نہ سمجھ لینے والو سوچو کہ ۔۔۔ (کیا نہ تھا) یہ انسان (قطرہ منی کا جو ٹپکایا جاتا ہے ) رحم میں (پھر ہوا لوتھڑا) یعنی جما ہوا خون ، (تو پیدا فرمایا) اس کے اجزا اور اعضا (اب سڈول کیا) یعنی راست اور درست کردیا اس صورت اور اس میں روح پھونکی (پھر کردیا اس) منی (سے جوڑے) دو قسم (مرد و عورت) یعنی نر اور مادہ ۔ (کیا نہیں ہے ایسا خالق قدرت والا اس پر کہ زندہ کردے مردوں کو) ۔ حدیث میں ہے کہ یہ سورت پڑھنے کے بعد کہنا چاہیے۔ بلی انہ علی کل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–39

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى '[ It will be said to such a man,] Woe to you, then woe to you! Again, woe to you, then woe to you!...(75:34-35) The word aula is the inverted form of wail which means ' The expression 'woe' has been mentioned four times for the has made it his habit to deny and reject, and was steeped in died in that state. Therefore, destruction has been heaped times: [ 1] at the time of death; [ 2] in the grave; [ 3] at Resurrection; and finally [ 4] at the time of entering Hell. destruction'. person who wealth, and on him four the time of

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 36–39

23 Now, in conclusion, the same theme is being repeated with which the discourse began Life-after-death is necessary as well as possible. 24 The word suda when used with regard to a camel implies a camel who is wandering aimlessly, grazing at will, without there being anybody to look after him. Thus, the verse means: "Dces tnan think that he has been left to himself to wander at will as if his Creator had laid no responsibility on him, had imposed no duty on him, had forbidden nothing to him, that at no time in future he would be required to account for his deeds'?" This same theme has been…

Read the full tafseer →