Explained with ayahs 26–40
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے
یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
سورة الْقِیٰمَة 20
مفسرین میں سے بعض نے لفظ ساق (پنڈلی) کو عام لغوی معنی میں لیا ہے اور اس کے لحاظ سے مراد یہ ہے کہ مرنے کے وقت جب ٹانگیں سوکھ کر ایک دوسرے سے جڑ جائیں گی۔ اور بعض عربی محاورے کے مطابق اسے شدت اور سختی اور مصیبت کے معنی میں لیا ہے، یعنی اس وقت دو مصیبتیں ایک ساتھ جمع ہوجائیں گی۔ ایک دنیا اور اس کی ہر چیز سے جدا ہوجانے کی مصیبت اور دوسری عالم آخرت میں ایک مجرم کی حیثیت سے گرفتار ہو کر جانے کی مصیبت، جس سے ہر کافر و منافق اور ہر فاسق و فاجر کو سابقہ پیش آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ 26ۙوَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ 27ۙوَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ 28ۙوَالْتَفَّتِ السَّاق بالسَّاقِ 29ۙاِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ
سابقہ آیات میں قیامت کے حساب کتاب اور اہل جنت و دوزخ کا کچھ حال بیان فرمانے کے بعد اس آیت میں انسان کو متوجہ کیا گیا کہ اپنی موت کو نہ بھولے موت سے پہلے پہلے ایمان اور عمل صاحل کی طرف آجائے تاکہ آخرت میں نجات ملے۔ آیت مذکورہ میں موت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا کہ غفلت شعار انسان بھول میں رہتا ہے یہاں تک مہ موت سر پر آکھڑی ہو اور روح ترقوہ یعنی گلے کی ہنسلی میں آپھنسے اور تیمار دار لوگ دوا وعلاج سے عاجز ہو کر جھاڑ پھونک کرنے…
Read the full tafseer →استاذ امام علیہ الرحمۃ نے جو کچھ لکھا ہے وہ صحیح تحقیق پر مبنی ہے۔ ان کی تفسیر سے ہم اس کا ضروری خلاصہ اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔ مولاناؒ فرماتے ہیں:
’’پنڈلی لپٹنے کا ٹھیک مطلب سمجھ لینے کے بعد ’اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذٍ نِ الْمَسَاقُ‘ (اس دن تیرے رب کی طرف چلنا ہو گا) کا حسن موقع آپ سے آپ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ گویا اس سفر کی تیاریوں میں انسان سے جو غفلت ہوئی ہے یہ اس پر اس کو سرزنش ہے کہ وہ برابر دنیا ہی کی طلب میں سرگرداں رہا یہاں تک کہ اسی تگ و دو میں اس کی تمام طاقت نچڑ گئی اور اس کو جانا ہے اپنے رب کے پاس تو وہ یہ سفر کس طرح طے کرے گا!‘‘(ماخوذ ازتفسیر سورۂ قیامہ مؤلفہ امام فراہیؒ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
29۔ 1 اس سے یا تو موت کے وقت پنڈلی کا پنڈلی کے ساتھ مل جانا مراد ہے یا پے درپے تکلیفیں، بہت سے مفسرین نے دوسرے معنی کئے ہیں۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
11: نزع کی حالت میں جو تکلیف ہوتی ہے، اس میں بسا اوقات مریض دونوں پنڈلیوں کو ملا لیتا ہے۔ یہ اسی کیفیت کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →الی ............ المساق (75:30) ” وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا “۔ یہ منظر اس قدر زندہ اور متحرک ہے کہ انسان کو ریل پر چلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور ہر لفظ ایک حرکت کو مصور کررہا ہے۔ ہر لمحہ اور ہر قفرہ دوڑ دھوپ اور حرکت کو ظاہر کرتا ہے۔ جوں جوں موت قریب آتی ہے لوگوں کی حرکت اور جزع فزع میں تیزی آتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس کی طرف پورا مجمع بڑھ رہا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں تمام علاج ناکام ہوگئے ہیں۔ اور آخری منظر آتا ہے۔
الی ربک .................... المساق (75:30) ” یہ تو تیرے رب کی طرف چلنے کا دن ہے “۔ اب پردہ گرتا ہے ، لیکن ہمارے تخیل کے پردے پر تصویر جمی ہوئی ہے۔ ہمارے احساسات پر…
Read the full tafseer →10 یعنی سفر آخرت کی ابتداء یہاں سے ہے گویا بندہ اپنے رب کی طرف کھنچنا شروع ہوا مگر افسوس اپنی غفلت و حماقت سے کوئی سامان سفر کا پہلے سے درست نہ کیا نہ اتنے بڑے سفر کے لیے کوئی توشہ ساتھ لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
آیت 30{ اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِالْمَسَاقُ۔ } ”اس دن تو تیرے رب ہی کی طرف دھکیلے جانا ہے۔“
نوٹ کیجیے ‘ گزشتہ آیات کے بعد ہم آواز الفاظ سے بننے والا مخصوص صوتی آہنگ ایک مرتبہ پھر تبدیل ہورہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
18 یعنی سب سے پہلے پاؤں کی طرف سے جان نکلنا شروع ہوتی ہے۔ جب پنڈلیوں سے جان نکل چکتی ہے تو انسان میں یہ سکت نہیں رہتی کہ وہ ایک پنڈلی کو دوسری سے اٹھا کر الگ کرسکے۔ جب یہ کیفیت طاری ہوجائے تو سمجھ لو کہ سفر آخرت شروع ہوگیا اور میت کا اپنے پروردگار سے ملاقات کا وقت آگیا۔ بس یہی وقت ہے جس کے لئے کافر باربار پوچھتے اور اس کی جلدی کا تقاضا کرتے ہیں۔ جس شخص کو موت آگئی تو گویا پوری قیامت کے احوال اس پر منکشف ہونے لگ جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
17۔ یعنی نہ ایمان لایا تھا نہ اعمال کی پروا کی تھی ، (آیت) ” فلاصدق “۔ تصدیق سے مراد توحید و رسالت کی تصدیق ہونا ظاہر ہے۔ الفاظ آیت کی ترکیب سے ایک اشارہ پیدا کیا گیا ہے کہ جس طرح نماز بغیر ایمان صحیح نہیں ہوتی، اس طرح ایمان بھی بغیر نماز کے کامل نہیں ہوتا۔ علماء نے یہ مسئلہ بھی نکالا ہے کہ ایمان کے بعد نماز سے بڑھ کر کوئی عمل اہم ومؤکد نہیں۔ یہ مسئلہ بھی نکالا گیا ہے کہ مستحق زجروملامت جس طرح عدم ایمان ہے، اسی طرح ترک نماز بھی، اعلم ان الایۃ دالۃ علی ان الکافر یستحق الذم والعقاب بترک الصلوۃ کما یستحقھما بترک الایمان (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
کلا اذا بلغت التراقی (الآیۃ) اس آیت میں انسان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ اپنی موت کو نہ بھولے، موت سے پہلے پہلے ایمان اور عمل صالح کی طرف آجائے، تاکہ آخرت میں نجات ملے اس آیت میں موت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا ہے کہ غفلت شعار انسان غفلت میں رہتا ہے یہاں تک کہ موت سر پر آ کھڑی ہو اور روح تر قوہ یعنی گلے کی ہنسلی میں آ پھنسے اور تیمار دار لوگ دوا، علاج سے عاجز ہو کر جھاڑ پھونک کرنے والوں کو تلاش کرنے لگیں اور ایک پائوں کی پنڈلی دوسری پر لپٹنے لگے تو یہ وقت اللہ کے پاس جانے کا ہے، اب نہ توبہ قبول ہوتی ہے اور نہ عمل، اس لئے عقلمند پر لازم ہے کہ اس وقت سے پہلے اصلاح کی فکر کرے۔
Read the full tafseer →الی ربک یومئذ المساق . یعنی اس روز اللہ ہی کی طرف مرنے والے کا رجوع ہوتا ہے ‘ اللہ ہی جیسا چاہتا
ہے حکم دیتا ہے ‘ کسی اور کی طرف مردہ کی واپسی نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
(26۔ 30) ہرگز ایسا نہیں جب جان ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے اور حاضرین سے کہتا ہے کہ کوئی دوا دارو کرنے والا ہے یا یہ کہ فرشتے آپس میں کہتے ہیں کہ کون اس کی روح اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ہے اور اس وقت مردہ یقین کرلیتا ہے کہ یہ جدائی کا وقت ہے اور دنیاوی آخری دن کی سختی آخرت کے پہلے دن کی سختی کے ساتھ مل جاتی ہے یا یہ کہ ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جاتی ہے اور قیامت کے دن تمام مخلوقات کو اپنے پروردگار کی طرف جانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
(1) کلا اذا بلغت التراقی…:”بلغت“ کا فاعل ”نفس“ ہے جو محذوف ہے ، یعنی جان ہنسلیوں تک پہنچ جائیگی۔ ”التراقی“ ”ترقوۃ“ کی جمع ہے، سینے کی اوپر والی ہڈی جو گلے کے ساتھ ہے، ہنسلی۔ ”راق“ ”رفی یرفی“ (ض) سے اسم فاعل ہے، دم کرنے والا۔”ظن“ کا معنی گمان کرنا ہے، اگر اس کے بعد ”ان“ ہو تو یقین کے معنی میں بھی آتا ہے۔”المساق“ ”ساق یسوق سوقاً“ (ن) سے مصدر میمی ہے، ہانکنا، چلانا
(2) ”کلا“ نہیں نہیں، یعنی تمہارا جلدی حاصل ہونے والی دنیا سے محبت کرنا اور آخرت کو چھوڑ دینا ہرگز درست نہیں، تمہارے سامنے کتنے لوگ دنیا سے رخصت ہوئے، ان کا آخرت وقت یاد کرو جب جان پیروں سے اور تمام جسم سے نکل کر ہنسلیوں تک پہنچ جاتی…
Read the full tafseer →الی ربک یومئذ المساق۔ رب سے مراد خالق ہے، یومئذ سے مراد یوم قیامت ہے مساق سے مراد لوٹنا ہے۔ ایک تفسیر میں ہے وہ فرشتہ جو اس کی برائیاں لکھا کرتا تھا وہ اسے ہانکے گا، مساق یہ ساق، یسوق سے مصدر ہے جس طرح مقال یہ قال، یقول کا مصدر ہے۔
Read the full tafseer →22۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت الی ربک یومئذ المساق تیرے رب کی طرف اس دن چلنا ہوگا یعنی آخرت میں۔
Read the full tafseer →[اِلٰى رَبِكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ : (تو وہ سمجھتا ہے) تیرے رب کی طرف اس دن ہانکا جانا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
كَلَّاۤ یہ بات ہرگز ٹھیک نہیں ہے کہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے رہو، بلکہ موت کے و قت کے لیے اور موت کے بعد کے حالات کے لیے فکر مند رہنا ضروری ہے۔ یہ دنیا بہر حال چھوٹ جانے والی ہے۔ ﴿اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَۙ0026﴾ جب ہنسلیوں تک پہنچ جائے (یعنی روح نکلنے لگے) ﴿وَ قِيْلَ مَنْٚ رَاقٍۙ0027﴾ (اور یوں کہا جائے کہ جھاڑ پھونک کرنے والا کون ہے یعنی پاس کے بیٹھنے والے تیمار دار عزیز قریبی سوچنے لگیں کہ کوئی علاج کرنے والا ہے) ۔ ﴿ وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ0028﴾ (اور یہ یقین کرلے گا کہ اب جدائی ہے) یعنی جس کی روح ہنسلیوں تک پہنچی اس کے تیمار دار تو معالج کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور وہ سمجھ لیتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔
(ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
11:۔ ” کلا اذا “ کلا حرف ردع ہے اور بل تحبون العاجلۃ سے متعلق ہے یعنی دنیا سے محبت نہ کرو اور آخرت کی فکر کرو۔ یا بمعنی حقا ہے اور الی ربک یومئذن المساق سے متعقل ہے ای حقا ان المساق الی اللہ (قرطبی) ۔ مَنْ پر سکتہ ہے جب انسان کی روح موت کے وقت ہنسلیوں تک آپہنچے گی تو اس کے پاس موجود لوگ کہیں گے کون کون ؟ وہ کہے گا کوئی ہے دم اور جھاڑ پھونک جاننے والا جو اس وقت اس مصیبت سے بچا سکے۔ اور اس کو یقین ہوجائے گا کہ اب دنیا سے اٹھنے اور اعزہ و اقارب سے جدا ہونے کا وقت ہے اب اس کی پنڈلی پنڈلی کے ساتھ جڑ جائے گی یقینا یہ دن خدا کی طرف کوچ اور روانگی کا دن ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیل من کا قائل اور ہے…
Read the full tafseer →اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ 30 ۭۧ
إلى
إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
ترکیب : جمعہ و قرآن ہ اسم ان علینا خبرھا۔ قال الفراء القراءۃ والقرآن مصدران فاذا شرط قراناہ ای اتممتنا قرآتہ علیک فاتبع جواب الشرط ای استمع قرآتہ وکررھا وقیل اعمل بہ کلا للروع عن العجلۃ وقیل کلا بمعنی حقا۔ وجوہٌ مبتداء وجاز الابتداء بالنکرۃ محصول الفائدۃ ناضرۃ خبرہ و یومئذ الظرف للخبر ناضرہ ناعمۃ حسنۃ یقال شجر ناضرای حسن ناعم ونضارت العیش حسنہ وقیل مضیئۃ مسفرۃ مشرقۃ ناظرۃ خبر بعد خبر الیٰ ربھا متعلق بہ۔ وقبل وجوہ مبتداء و ناضرۃ صفۃ لوجوہ و یومئذ ظرف لناضرۃ وناظرۃ خبر۔ تظن الجملۃ صفۃ باسرۃ فی الصحاح بسرالرجل وجھہ بسورا ای کلح وقیل متغیرۃ شدید العبوس والباسل ابلغ من الباسرلکنہ غلب فی الشجاع اذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
کَلَّآاِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ ۔ وَقِیْلَ مَنْ سکتۃ رَاقٍ ۔ وَّظَنَّ اَنَّـہُ الْفِرَاقُ ۔ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ ۔ اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِ الْمَسَاقُ ۔ (القیامۃ : 26 تا 30)
(ہرگز نہیں جبکہ جان ہنسلی میں آپھنسے گی۔ اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا۔ اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے۔ اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔ اس دن تیرے رب کی طرف جانا ہوگا۔ )
جان کنی کی کیفیت کو یاد رکھو
وہ لوگ جنھیں عیش دنیا نے آخرت کے یقین سے دور رکھا ہے انھیں ایک ایسے منظر کی طرف متوجہ کیا جارہا ہے جس کا زندگی میں ہر آدمی کو تجربہ ہوتا ہے۔ یہ جان کنی کا منظر ہے جس سے ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
فہم القرآن
ربط کلام : نیک لوگوں کے مقابلے میں آخرت کا انکار کرنے والوں کا حال۔
جوں ہی قیامت کے منکرین کو ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے تو ان کے رنگ پیلے اور چہرے بجھ جائیں گے وہ فوراً سمجھ جائیں گے کہ ہمارے ساتھ کمرتوڑ سلوک ہونے والا ہے، کمرتوڑ سلوک سے مراد انتہادرجے کی ذلّت اور سزا ہے۔ اس مشکل گھڑی کی ابتدا اسی وقت سے ہوجائے گی جب ان پر موت وارد ہوگی۔ ایسے آدمی کی موت کے وقت یہ حالت ہوتی ہے جیسے اس کی جان ہنسلی میں آکراٹک گئی سو یہ ایسا وقت ہے جب کوئی دوا اثر نہیں کرتی اور اس کے لواحقین اس وقت کہتے ہیں کہ اب کسی سے دعا کروانی چاہیے۔ جن کا عقیدہ کمزور ہوتا ہے وہ تعویذ،…
Read the full tafseer →30 : اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِنِ الْمَسَاقُ (اس روز تیرے رب کی طرف جانا ہوتا ہے) المساقؔ یہ ساقہ کا مصدر ہے یعنی بندے اس جگہ چلے جائیں گے جہاں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ خواہ جنت میں یا نار میں۔
Read the full tafseer →29 ۔” والتفت الساق بالساق “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں سختی ، سختی کے ساتھ۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں موت کی سختی آخرت کی سختی کے ساتھ۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں اس پر لگاتار سختیاں آئیں۔ سدی (رح) فرماتے ہیں ایک تکلیف سے نہیں نکلے کہ دوسری اس سے سخت آجائے گی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کا امر آخرت کے امر کے ساتھ ۔ پس دنیا کے آخری دن اور آخرت کے ایام میں سے پہلے دن میں ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس میں موت وحیات جمع ہوگئیں۔
اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں لوگ اس کے جسم کو تیار کررہے ہوتے ہیں اور فرشتہ اس کی روح کو اور حسن (رح) فرماتے ہیں وہ دونوں میت کی پنڈلیاں ہیں جب کفن میں لپیٹی جائیں اور شعبی (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
26۔ 40۔ اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کردیا ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لئے فرمایا کہ جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائیدار چیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمر بھر عقبیٰ کو برباد کریں۔ پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبیٰ کی بربادی کب تک۔ ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ قبر ‘ حشر ‘ قیامت کی باتیں تو بھلا آنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت بھی ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گزری کہ آخری وقت آن پہنچا اور جان سارے جسم میں سے کھنچ کر حلق میں آگئی۔ ایسے حکیم یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ ) اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہوجائے گا، خواہش ہوگی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے یہ زجر وتوبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے ؟ فلوں کو اس منزل کی طرف سے لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جمارہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔
انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…
Read the full tafseer →28 سفر آخرت کیلئے روانگی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تیرے رب ہی کی طرف ہوگی اس دن کی یہ روانگی جس کیلئے آخرکار اس کو روانہ ہونا پڑے گا۔ سو اس وقت منکر انسان کو دو طرح کا صدمہ درپیش ہوگا ایک طرف تو اس کو دنیا اور اس کی لذتوں سے جدائی ‘ خویش و اقارب سے مفارقت ‘ اور ان سے جدائی ‘ اور دنیاوی عیش و عشرت سے محرومی کا صدمہ ہوگا کہ اپنی زندگی میں سا نے انہی چیزوں کو اصل اور مقصد بنا رکھا تھا ‘ آج اس کو یہ سب کچھ چھوڑنا پڑے گا اور دوسری طرف اس سے بھی بڑا صدمہ اس کو یہ ہوگا کہ اس وقت یہ دیکھے گا کہ وہی آخرت جس کا وہ عمر بھر انکار کرتا رہا تھا اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ اس کے سامنے موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا
تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة القیامہ۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔
نفس اور اس کی اقسام۔
عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی دنیا کی زندگی ختم ہوئی اب جواب دہی کا وقت آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(75:29) والتفت الساق بالساق۔ یہ جملہ بھی معطوف ہے اور اس کا عطف بھی حسب سابق ہے۔ التفت ماضی واحد مؤنث غائب التفات (افتعال) مصدر۔ لف مادہ۔ بمعنی لپٹ جانا۔ منضم ہوجانا۔ ساق : پنڈلی۔
یعنی جب ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی (اور آدمی کو اس کے ہلانے کی طاقت نہیں ہوگی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
لغات القرآن۔
لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔
تشریح :
حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
انسان کی پیدائش اور اس کی روح نکلنے کا ذکر۔ منکرین خدا اور محبوبان خدا کی جداجداحالت۔
(ف 2) اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کیا، ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لیے فرمایا جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائدارچیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمربھر عقبی کو برباد کریں ، پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبی کی بربادی کب تک ، ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے قبر، حشر قیامت کی باتیں تو بھلاآنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گذری کہ آخری وقت آن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
[13] یعنی آخرت کو ہرگز دور نہ سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے۔ یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنے ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
دیدار الٰہی
1: جمہور اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے ۔ کہ قیامت کے دن رویت باری تعالیٰ سے مشتاقان جمال ضرور مشرف ہونگے ۔ اور اللہ تعالیٰ ازراہ قرب و خوشنودی ان کو موقع دیں گے ۔ کہ وہ بارگاہ حسن میں عقیدت نیاز مندی کے نذرانے پیش کرسکیں گے ۔ اہل محل واعتزال کا عقیدہ یہ ہے ۔ کہ قرب وحضوری کے مقامات پر فائز ہونا تو ناممکن ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے ۔ کہ قرب اتنا زیادہ ہو کہ یہ مقربین متعین جناب قدس کے سامنے اپنے کو محسوس کریں ۔ اور وہی یقین کا مرتبہ حاصل کرلیں ۔ جو اس شخص کو حاصل ہوتا ہے ۔ جو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کررہا ہو ۔ اور اس طرح اس قرب وحضوری پر وہ شادمانی اور مسرت کا اظہار کریں ۔ مگر یہ کیونکر ممکن…
Read the full tafseer →(30) اس روز تیرے پروردگار کی جانب کشاں کشاں جانا۔ یعنی خوشی یا نہ خوشی بہرحال کھینچ کر تیرے پروردگار کی جانب چلا جانا ہے یہ حالت وہ ہے کہ دیکھنے والے دیکھتے ہیں اور عاجز و لاچار ہوتے ہیں پھر بھی قیامت کا یقین نہیں کرتے اور عاجلہ کی محبت سے باز نہیں آتے۔
حضرت سعدی نے کیا خوب فرمایا ہے۔ ؎
روز گا رم بشد نبا دانی
من نکروم شما حدز بکنید
اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھتے ہیں اور غفلت کا یہ عالم ہے کہ ہم کو ذرا احساس نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ نے اپنے فصیح کلام میں کس درد انگیز انداز میں موت کا نقشہ کھینچا ہے۔
اللھم انی اسئلک حسن الخاتمہ۔ اللھم احسن عاقبتا فی الامور کلھا واجرنا من خزی الدنیا و عذاب الاخرۃ
آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
ف 9۔ مراد اس سے ظہور سکرات موت ہے کچھ تخصیص التفات کی نہیں، اس کا ذکر تمثیلا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
(کیوں نہیں) اس لیے کہ (جب پہنچی جان گلے تک) اور گردن کی ہڈیوں میں (اور کہا گیا) یعنی جو لوگ مرنے کے قریب ہیں ان لوگوں نے کہا۔۔ یا۔۔ موت کے فرشتے بولے (کہ) کیا (کوئی جھاڑ پھونک والا ہے) اور شفا دینے والا ہے ۔ (اور اس نے) یعنی موت جس کے پیش نظر ہے (سمجھا کہ اب جدائی ہے ) یعنی جو چیز اس پر نازل ہوئی وہ دنیا اور دنیا کے لوگوں سے جدائی کا سبب ہے۔ (اور لپٹ گئ) مرنے والے کی (پنڈلی سے پنڈلی) یعنی موت کے ہول سے اس کے پاؤں آپس میں لپٹ اور سمٹ جاتے ہیں اور ان میں حرکت نہیں رہتی۔۔۔ یا موت کی شدت آخرت کی شدت کے ساتھ جمع ہوجاتی ہے۔ (تمہارے رب ہی کی طرف اس دن ہانک جانا) یعنی تیرے رب کی جزا کی طرف اس روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ
(When the soul [ of a patient ] reaches the clavicles, and it is said, "Who is an enchanter [ that can save him?] ", and he realizes that it is [ the time on departure [ from the world,] and one shank is intertwined with the other shank, then on that day, it is to your Lord that one has to be driven.... 75:26-30]
In the preceding verses, reckoning on the Day of Reckoning and conditions of the inmates of Paradise and Hell were described. In…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
20 Some commentators have taken the word saq (leg, shank) in its literal meaning, thereby implying that at death one lean leg will join the other lean leg; some others have taken it metaphorically in the sense of difficulty, vehemence and hardship so as to mean: At that tune one affliction will be joined with another affliction, one of being saparated from the world and all its enjoyments, and the other of being seized and taken to the Hereafter as a culprit, and this will be experienced by every disbeliever, hypocrite and sinner.
Read the full tafseer →