Al-Muddaththir 74:8

Al-Muddaththir · from ayah 8

74:8

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ ۟ۙفَاِذَا نُقِرَ فِى النَّاقُوۡرِۙ

جب صور پھونکا جائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when the trumpet is blown,

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:8

اچھا، جب صور میں پھونک ماری جائے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب صور پھونکا جائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس جب کہ صور میں پھونک ماری جائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جب صور میں پھونک مار دی جائے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب صور پھونکا جائے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب (دوبارہ) صور میں پھونک ماری جائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سو جب صور میں پھونکا جائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس جب صور میں پھونک ماری جائے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس جب صور پھونکا جائے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر (ان کو خبردار کردو اس ہولناک انجام سے کہ) جب پھونک مار دی جائے گی اس کھوکھری چیز (صور) میں

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جس وقت صور پھونکا جائے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جب صور میں پھونکا جائے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب صور پھونکا جائے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When the Trumpet shall be sounded,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

For when the trumpet will be blown,

— Muhammad Taqi Usmani

For when the trumpet will be blown,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then, when the Naqur is sounded.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when the trumpet is blown,

— Saheeh International

When the trumpet is sounded,.

— Muhammad Sarwar

For when the trumpet is sounded,

— Muhammad Habib Shakir

Then when the horn shall be blown,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 74:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

ابتدائے وحی حضرت جابر سے صحیح بخاری شریف میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۙ) 74۔ المدثر :1) نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی آیت (اقرا باسم) کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ یحییٰ بن ابو کثیر فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کونسی آیتیں نازل ہوئیں ؟ تو فرمایا آیت (یا ایھا المدثر) میں نے کہا لوگ تو آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) بتاتے ہیں فرمایا میں نے حضرت جابر سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–8

سورة الْمُدَّثِّر 7 یعنی یہ کام جو تمہارے سپرد کیا جا رہا ہے، بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس میں سخت مصائب اور مشکلات اور تکلیفوں سے تمہیں سابقہ پیش آئے گا۔ تمہاری اپنی قوم تمہاری دشمن ہوجائے گی۔ سارا عرب تمہارے خلاف صف آرا ہوجائے گا۔ مگر جو کچھ بھی اس راہ میں پیش آئے اپنے رب کی خاطر اس پر صبر کرنا اور اپنے فرض کو پوری ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ انجام دینا۔ اس سے باز رکھنے کے لیے خوف طمع، لالچ، دوستی، دشمنی، محبت ہر چیز تمہارے راستے میں حائل ہوگی۔ ان سب کے مقابلے میں مضبوطی کے ساتھ اپنے موقف پر قائم رہنا۔ یہ تھیں وہ اولین ہدایات جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس وقت دی تھیں جب اس نے آپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–11

چھٹاحکم وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر، صبر کے لفظی معنی اپنے نفس کو روکنے اور قابو میں رکھنے کے ہیں اسلئے صبر کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی پر اپنے نفس کو قائم رکھے اور یہ بھی داخل ہے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے نفس کو روکے اور یہ بھی داخل ہے کہ مصائب اور تکلیف میں اپنے اختیار کی حد تک جزع فزع اور شکایت سے بچے اسلئے یہ حکم ایک جامع حکم ہے جو تقریباً پورے دین کو شامل ہے اس موقع پر اس حکم کی خصوصیت ممکن ہے اسلئے بھی ہو کہ اوپر کی آیات میں آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ عام خلق خدا تعالیٰ کو دین حق کی طرف دعوت دیں کفر و شرک اور معاصی سے روکیں۔ یہ ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 8–9

انذار کا اصل موضوع: یہ ذکر ہے انذار کے اصل موضوع کا جس سے غفلت ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ نبی ﷺ کی دعوت سے قریش کی مخاصمت کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ قیامت کو نہ مانتے تھے نہ ماننا چاہتے تھے۔ وہ اول تو اس کو نہایت مستبعد اور بعید از امکان سمجھتے تھے اور اگر کسی درجے میں مانتے تھے تو اپنی دنیوی کامیابیوں کو دلیل بنا کر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ قیامت ہوئی تو جس طرح ان کو یہاں سب کچھ حاصل ہے اسی طرح وہاں بھی حاصل ہو گا اور اگر خدا نے ان پر ہاتھ ڈالا ان کے معبود اپنی سفارش سے انھیں بچا لیں گے۔ فرمایا کہ اس ہولناک دن سے ان کو اچھی طرح آگاہ کر دو کہ جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن بڑا ہی کٹھن ہو گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–9

6۔ 1 یعنی احسان کرکے یہ خواہش نہ کر کہ بدلے میں اس سے زیادہ ملے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–10

4: جب آنحضرت ﷺ کو اسلام کی تبلیغ کا حکم ہوا تو اس بات کا پورا اندیشہ تھا کہ کافر لوگ آپ کو ستائیں گے، اس لئے حکم دیا گیا کہ فی الحال مسلح جدوجہد نہیں کرنی ہے، صبر سے کام لینا ہے اور ان کی زیادتیوں کی اصل سزا انہیں اس وقت ملے گی جب قیامت کے لئے صور پھونکا جائے گا جس کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

فاذا ........................ الناقور (74:8) ” کے معنی بھی بگل میں پھونکنے کے ہیں لیکن نقر کے معنی میں آواز کی سختی بھی ہے اور آواز کی اس سختی سے اشارہ مقصود ہے ، اس دن کی سختی کی طرف۔ گویا ناقور میں آواز ٹھونکی جاتی ہے اور اس سے سخت آواز نکلتی ہے اور یہ آواز کانوں پر فائر کی طرح لگتی ہے۔ اس لئے یہ دن کافروں پر بہت ہی سخت ہوگا اور اس میں ان کے لئے کوئی سہولت نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10{ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ۔ } ”کافروں پر وہ ہلکا نہیں ہوگا۔“ اس کے مقابل سورة المزمل میں قیامت کے دن کا ذکر اس طرح آیا تھا : { فَکَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَانِ - السَّمَآئُ مُنْفَطِرٌم بِہٖط کَانَ وَعْدُہٗ مَفْعُوْلًا۔ } ”اب اگر تم بھی کفر کرو گے تو تم کیسے بچ جائو گے اس دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ آسمان اس کے ساتھ پھٹ پڑنے کو ہے۔ اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔“ اس کے بعد سورت کے تیسرے حصے کا آغاز ہو رہا ہے۔ ان آیات کا لہجہ اور انداز بہت سخت ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–9

6 بےلوث خدمت اور اللہ کے لیے صبر :۔ کسی شخص کی بےلوث خدمت کرنا بڑا حوصلہ مندی کا کام ہے۔ انسان تو یہ چاہتا ہے کہ اگر وہ کسی پر کوئی دنیوی یا دینی بھلائی کرے تو کسی نہ کسی رنگ میں اس کو اس کا بدلہ ضرور ملنا چاہیے۔ بلکہ بسا اوقات انسان کی طبیعت یہ چاہتی ہے کہ کسی پر اس نے جو احسان کیا ہے اس کا بدلہ اسے اس سے بڑھ کر ملنا چاہیے۔ یہ نظریہ خالصتاً خود غرضانہ اور مادی نظریہ ہے۔ لہذا جس عظیم مقصد کے لیے آپ کو تیار کیا جارہا تھا اور جس طرح آپ کو پوری بنی نوع انسان کی ہدایت کی خدمت سپرد کی جانے والی تھی اس کے لیے ابتدا میں ہی آپ کو یہ ہدایت کی گئی کہ کسی طرح کے فائدہ، لالچ، غرض اور معاوضہ کا طمع رکھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–10

4۔ ابتدائی مکہ سورتوں میں عقیدہ توحید کے بعد قدرۃ سب سے زیادہ زور عقیدہ آخرت ہی پر ہے۔ (آیت) ” علی الکفرین “۔ اس قید نے یہ صاف کردیا کہ یوم حشر کے شدائد علی الاطلاق نہ ہوں گے، بلکہ کافروں، منکروں کے ساتھ مخصوص ہوں گے، اور مومنین انشاء اللہ حورو قصور، بلکہ سارے لذائدقرب ولقاء سے محظوظ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–10

فاذا نقر فی الناقور، فذلک یومئذ یوم عسیر، اس سورت کا یہ حصہ، سورت کی ابتدائی آیات کے چند ماہ بعد اس وقت نازل ہوا، جب رسول اللہ ﷺ کی طرف سے علانیہ تبلیغ اسلام شروع ہوجانے کے بعد پہلی مرتبہ حج کا زمانہ آیا، تو سرداران قریش کو یہ اندیشہ ہوا کہ اس موقع پر پورے عرب کے لوگ آئیں گے ایسا نہ ہو کہ محمد ﷺ کے نئے دین سے لوگ متاثر ہوجائیں جس سے اس دین کو تقویت حاصل ہوجائے لہٰذا اس کے سدباب کے لئے کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ متفقہ لائحہ عمل کے لئے مشرکین مکہ کی کانفرنس : قم فانذر، کی تعمیل میں جب آپ ﷺ نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور قرآن مجید کی پے در پے نازل ہونے والی سورتوں کو آپ ﷺ نے سنانا شروع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاذا انقر . جب پھونکا جائے گا۔ فی الناقور . صور۔ یہ لفظ نقر سے بنا ہے۔ نقر کا معنی ہے آواز پیدا کرنا۔ اصل معنی ہے کسی چیز کو اتنا کھٹکھٹانا کہ آخر اس میں سو راخ ہوجائے۔ پرندہ کی چونچ کو منقاد اسی مناسبت سے کہتے ہیں۔ صحاح ‘ جوہری ‘ ابو الشیخ ‘ ابن حبان نے کتاب العظمۃ میں وہب بن منبہ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے سفید موتی سے جو بلور کی طرح چمکدار تھا ‘ صور کو بنایا ‘ پھر عرش کو حکم دیا کہ صور کو پکڑ لے ‘ صور عرش سے معلق ہوگیا پھر کُن فرمایا تو اسرافیل پیدا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسرافیل کو صور لے لینے کا حکم دیا۔ اسرافیل نے صور لے لیا۔ صور میں ہر پیداہ شدہ روح کی تعداد کے مطابق سوراخ ہیں۔ کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–10

(8۔ 10) اور اپنے پروردگار کی اطاعت اور اس کی عبادت پر جمے رہو، سو جس وقت مردوں کو زندہ کرنے کے لیے صورت میں پھونک ماری جائے گی تو اس دن کی ہیبت و عذاب کافروں کے لیے سخت ہوگا جس میں ان پر ذرا آسانی نہ ہوگی۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔ قُمْ فَاَنْذِرْ (الخ) امام بخاری و مسلم نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے غار حرا میں ایک مہینہ تک اعتکاف کیا ہے جب میں اپنے اعتکاف کے دن پورا کرچکا تو میں وہاں سے آنے کے لیے نکلا تو مجھے آواز دی گئی تو میں نے اپنا سر اوپر کو اٹھایا دیکھتا کیا ہوں کہ وہی فرشتہ ہے جو میرے پاس غار غرا میں آیا تھا، چناچہ میں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

فاذا نقرفی الناقور…:”الناقور“ ”نقر ینفر“ (ن) سے ”فاعدل“ کے وزن پر ہے جس کا معنی ہے، پھونکنا، ایسی ضرب لگانا کہ سوراخ ہوجائے، مراد صور ہے۔ شروع سورت میں ڈرانے کا حکم ہے، اب اس کی تفصیل ہے کہ جس دن صور میں پھونکا جائے گا اور ہر چیز فنا ہونے کے بعد دوبارہ سب لوگ قبروں سے نکل کر اللہ کے حضور پیش ہوں گے تو وہ ایک مشکل دن ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–10

فاذا نقر فی الناقور۔۔۔ تا۔۔۔۔ غیریسیر فاذا نقر فی الناقور۔ جب صور پھونکا جائے گا، ناقور، نقر سے فاعول کا وزن ہے گویا یہ ایسی چیز ہے جس کی شان یہ ہے کہ آواز پیدا کرنے کے لیے جسے کھٹکھٹایاجائے بلکہ عرب میں نقر کا معنی آواز ہے، اس معنی میں امراء القیس کا شعر ہے : اخفضہ بالنقر لما علوتہ، ویرفع طرفا غیر خاف غضیض۔ عرب کہتے ہیں : نقر باسم الرجل یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ اسے بلائے جب کہ اپنی دعوت کو اس کے لیے خاص کرے۔ مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا، یہ بگل جیسی کوئی چیز ہے اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے پہلا نفخہ مراد ہے کیونکہ یہ پہلی ہولناک سختی ہوگی اس کے بارے میں مفصل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

30۔ ابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں نقل کیا ہے آیت فاذا نقر فی الناقور جب صور میں پھونکا جائے گا۔ یعنی صور میں یوم عسیر وہ دن سخت ہوگا۔ یعنی انتہائی شدید اور سخت دن۔ 31۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا نقر فی الناقور یعنی جب صور میں پھونکا جائے گا۔ 32۔ عبد بن حمید نے عکرمہ، ابو مالک اور عامر رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 33۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الناقور سے مراد ہے صور اور وہ بگل کی طرح ایک چیز ہے۔ 34۔ ابن ابی شیبہ والطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت فاذا نقر فی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–10

مکہ معظمہ کے بعض معاندین کی حرکتوں کا تذکرہ اور اس کے لیے عذاب کی وعید، عذاب دوزخ کیا ہے ؟ معالم التنزیل صفحہ 415 : ج 4 میں علامہ بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ ایک دن ولید بن مغیرہ مسجد حرام میں تھا رسول اللہ ﷺ سے اس نے سورة ٴ غافر کی شروع کی دو آیات سنیں اور آیات سن کر متاثر ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے محسوس فرما لیا کہ یہ متاثر ہو رہا ہے۔ آپ نے دوبارہ آیات کو دہرایا اس کے بعد ولید وہاں سے چلا گیا اور اپنی قوم بنی مخزوم میں جا کر کہا کہ اللہ کی قسم میں نے محمد ﷺ سے ابھی ابھی ایسا کلام سنا ہے جو نہ انسانوں کا کلام ہے نہ جنات کا اور اس میں بڑی مٹھاس ہے۔ اور وہ خود بلند ہوتا ہے دوسروں کو بلند کرنے کی ضرورت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–31

حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–10

5:۔ ” فاذا نقر “ تخویف اخروی۔ نقر ای نفخ، یعنی پھونکا جائے گا۔ فلذلک الخ جملہ جزائے شرط ہے۔ یومئذ، ذلک سے بدل ہے اور اسم غیر متمکن کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے یوم مبنی علی الفتح ہے۔ یوم عسیر، ذلک کی خبر ہے۔ علی الکافرین، عسیر سے متعلق ہے۔ غیر یسیر، عسیر کی تاکید ہے (روح) ۔ جب صور پھونکا جائے گا اور قیامت قائم ہوجائے گی تو یہ دن کفار و مشرکین پر نہایت سخت اور دشوار ہوگا۔ اس دن میں کسی قسم کی آسانی، رعایت اور راحت ان کو میسر نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُوْرِ۝ 8 ۙ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ نقر النَّقْرُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–16

ترکیب : فاذا وا للسببتیہ کانہ قیل اصبر علی اذا ھم فبین ایدیھم یوم ھائل یلقون فیہ عاقبۃ امرھم۔ والعامل فی اذاماول علیہ قولہ فذلک لانہ اشارۃ الی النقرای وقت النقروقیل ماول علیہ عسیر ای یعسر نقربفخ الناقور علی وزن فاعول من النقر بمعنے التصویت فذلک اشارۃ الی وقت النقر مبتداء یومئذ بدل منہ اوظرف بخبرہ یوم عسیر خبرہ غیر یسیر تاکید و قال الاخفش اذامبتداء والخبر فذلک والفاء زائدۃ یومئذ ظرف لذلک وقیل ھوفی موضع رفع بدل من ذلک اومبتداء و یوم عسیر خبرہ والجملۃ خیر ذلک وعلی یتعلق بعسیرا وھی لغت لہ اوحال من الضمیر الذی فیہ ومن مفعول معہ اومعطوف علی الضمیر المنصوب۔ وحیدا حال من الیاء ای ذرنی وحدی معہ فانی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–10

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ ۔ فَذٰلِکَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌ۔ عَلَی الْـکٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ ۔ (المدثر : 8 تا 10) (پس جب صور پھونکا جائے گا۔ تو وہ بڑا ہی سخت دن ہوگا۔ کافروں پر آسان نہ ہوگا۔ ) انذار کا اصل موضوع نَاقُوْر کے معنی صور کے ہیں۔ اور نَقَرَ سے مراد صور میں پھونک مارنا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو انذار کا حکم دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ لوگوں کو خواب غفلت سے چونکا دیں۔ اس کی اہم ترین صورت یہ ہے کہ ہر شخص کی موت پھر مجموعی طور پر انسانی زندگی کا خاتمہ، کائنات کی بساط کا لپیٹ دیا جانا، نئی زندگی کا آغاز ہونا اور پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو کر دنیا میں گزاری ہوئی زندگی کے لمحے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–25

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے رسول نے جونہی لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دی تو وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے اور انہوں نے آپ کی مخالفت میں ایڈی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ایسے لوگوں کو ان کا انجام بتلایا گیا ہے کہ آج تم اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے ہو۔ وہ وقت یاد کرو جس دن صور پھونکا جائے گا۔ انکار کرنے والوں کے لیے یہ دن بڑا سخت ہوگا اور اس کی سختی کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ سرداران مکہ نے بڑی کوشش کی کہ نبی ﷺ کی دعوت کی طرف لوگ متوجہ نہ ہوسکیں لیکن دعوت کی کشش، آپ کے اخلاق اور آپ ﷺ کی عظیم جدوجہد کے نتیجہ میں لوگ آپ کی ذات کے گرویدہ اور توحید کی دعوت قبول کیے جا رہے تھے یہ بات سرداران مکہ کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نفخہ صور : 8 : فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ (پھر جس وقت صور پھونکا جائے گا) نقرنا قو رسے نفخ صور مراد ہے یہ نفخہ اولیٰ ہے۔ ایک قول نفخہ ثانیہ کا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” ولربک فاصبر “ کہا گیا ہے پس تو صبر کر اس کی طاعت پر اور اس کے اوامرونواہی پر اللہ کے ثواب کی وجہ سے۔ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں پس آپ اللہ تعالیٰ کے لئے صبر کریں اس پر جو آپ کو اس کے راستے میں تکلیفیں دی گئیں۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی آپ نے بڑا عظیم امر اٹھایا ہے اس میں عرب وعجم سے لڑائی ہے۔ پس آپ (علیہ السلام) اس پر صبر کریں اللہ تعالیٰ کے لئے اور کہا گیا ہے پس آپ صبر کریں قضاء کے موارد کے تحت اللہ کی وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ علماء مفسرین نے اس باب میں بہت بڑا اختلاف کیا ہے کہ قرآن شریف کی سورتوں میں سب سے پہلے اقرا باسم رباک الذی خلق نازل ہوئی ہے یا سورة مدثر نازل ہوئی ہے۔ صحیحین 1 ؎ کی حضرت جابر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی دونوں حدیثوں کو ملا کر دیکھا جائے تو رفع اس اختلاف کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر اور حافظ ابن کثیر اور خطیب وغیرہ نے بیان کیا ہے آنحضرت ﷺ کے رویا صادقہ کے عبد پہلے پہل وحی کا نزول جو شروع ہوا تو سب سے پہلے اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی پھر چند روز تک وحی بند رہی اس وحی کی بندش کے بعد پھر جو سلسلہ وحی کا چلا تو سورة مدثر نازل ہوئی غرض صحیح قول یہی ہے کہ سورة مدثر کا نزول اقراء سے موخر اور سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

جب مردوں کو قبروں سے کھڑا کرنے اور تمام خلائق کو دوبارہ زندہ کرکے حساب و کتاب کے لیے جمع کرنے کے لیے صور پھونکا جائے گا

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–9

7 ۔ اپنے رب ہی کے لیے صبر کرنے کی تعلیم و تلقین،۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور اپنے رب کے لئے (اور اس کی رضا کی خاطر) صبر ہی کئے جاؤ راہ حق وصاب پر ہر طرح کے مصائب و مشاکل میں کہ اس وحدہ لاشریک کے لئے صبر کرنے سے حوصلوں میں قوت بھی ملے گی، مشکلات و مصائب میں آسانی بھی پیدا ہوگی اور اجر وثواب بھی ملے گا جس سے وہ مصائب بھی ذریعہ خیر بن جائیں گے۔ فان المصاب من حرم التواث۔ سو اس ارشاد سے بھی دراصل اوپر والے حکم اور ہدایت کی تاکید فرما دی گئی، کہ کسی بھی موقع پر اپنے کام کو بہت سمجھ کر چھوڑ نہیں دینا، بلکہ صبر و استقامت کے ساتھ اس میں لگے رہنا اور اپنے رب کے حکم و فیصلہ کا انتظار کرنا کہ اسی صبر و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

اصلاح انسان کے احکامات تشریح : اب تک تو رسول اللہ ﷺ دین کی تبلیغ چپکے چپکے صرف اہل خاندان یا قریبی رفقا تک ہی کرتے تھے مگر اب ان کو حکم دیا گیا ہے کہ اب اسلام کی تبلیغ سر عام شروع کر دو ۔ جیسا کہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں اسلام کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اس کا آغاز 622؁ء یعنی جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو ہوا اور پھر اسی صدی کے ختم ہونے تک اسلام پورے مشرق وسطی شمالی افریقہ اور اسپین میں پھیل گیا۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کے وصال کے صرف ایک صدی کے اندر اندر ماوراء النہر سے لے کر اندلس تک سب اسلام کے حلقے میں آگئے۔ تو یہ سب کیسے ہوا ؟ صرف ایک مرد کامل کی مقدس تعلیمات سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–31

سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–11

ف 10 یعنی ننگ دھڑنگ خالی ہاتھ جو دنیا میں آیا تو نہ اس کے پاس مال تھا اور نہ اولاد۔ مفرسین کہتے ہیں کہ یہ سخت وعید ہے جو قریش کے سردار ولید بن مغیرہ کو سنائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:8) فاذا نقر فی الناقور : ناقور، صور، یہ لفظ نقر سے بنا ہے۔ نقر کا مطلب ہے آواز پیدا کرنا۔ اصل معنی ہے کسی چیز کو اتنا کھٹکھٹانا کہ آخر اس میں سوراخ ہوجائے۔ پدنرے کی چونچ کو منقار اسی مناسبت سے کہتے ہیں۔ فاذا میںسببیہ ہے۔ گویا مطلب ہوا کہ کافروں کے دکھ پر صبر کرو ان کے سامنے ایک سخت ترین دن آرہا ہے جس میں تم کو صبر کا اچھا نتیجہ ملے گا۔ ترجمہ :۔ پھر جب ناقور پھونکا جائے گا۔ اذا شرطیہ، جملہ شاطیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–31

لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–10

(ف 1) یعنی جو شدائد دعوت وتبلیغ کے راستہ میں پیش آئیں ان کو اللہ کی خوشنودی کے لیے صبر و تحمل سے برداشت کرو اور خدمت نبوت کی ادائیگی کے سبب سے مخالف شریعت لوگ جو تم کو کچھ گستاخی کے الفاظ کہویں تو اس پر صبر کرنے کا سب کو پورا اجر اللہ تم کودے گا، پھر فرمایا کہ اے محبوب باوجود تمہاری نصیحت کے جو کوئی آخرت کی سزا وجزا کا منکر رہے تو ایسے لوگوں کو یہ سنا دیاجائے کہ مردوں کو زندہ کرنے کا دوسراصور پھونکے جائے گا۔ جب یہ لوگ زندہ ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہوں گے اور ذرہ ذرہ کا ان حساب لیاجائے گا، تو وہ وقت ان پر بڑی مشکل کا ہے اس مشکل کے لیے ان لوگوں کو تیاررہنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–11

سورة المدثر 1: آثار نبوت سے متوتر انسان کو تبلیغ و اشاعت کے لئے ابھارا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ اٹھئے ! اور لوگوں کو آگاہ کیجئے ۔ ربوبیت کے تخیل کی شرک اور بت پرستی سے تذلیل ہورہی ہے ۔ آپ اس کو قول وعمل کے ساتھ بلند کیجئے دل کو پاکیزہ بنائیے ۔ اور فکروخیال کی ہر نجات کو جھٹلا دیجئے ۔ اور ان فرائض کو اس طرح خلوص کے ساتھ ادا کیجئے ۔ کہ ان لوگوں کو ممنون کرکے مال و دولت میں فراوانی کرنا مقصود نہ ہو ۔ بلکہ محض اپنے فرض منصبی سے عہدہ برا ہوتا ہو ۔ گویا مبلغ حق وصداقت کے لئے پانچ چیزوں کا ہونا ضروری ہے ۔ اولاقیام واستعذاف ثانیا اعلاء کلمۃ اللہ کا جذبہ ثالثا قلب کی پاکیزگی اور اربقا برائی کی باتوں سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–29

ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 5–10

(اور بت کو تو بالکل چھوڑے رکھو) یا سب گناہوں سے کنارہ کش ہوجاؤ، یعنی جس تقوی پر ہو اسی پر رہو۔ (اور اس لیے اھسان نہ کرو کہ بدلہ زیادہ چاہو) یا نیک کام کر کے خدا پر احسان نہ رکھ ، کہ اس کو تو بہت شمار کرے۔ یا۔۔۔ تبلیغ احکام کر کے لوگوں پر احسان نہ جتا کہ ان سے بہت بدلا تو طلب کرے ۔ (اور اپنے رب ہی پر جمے رہو) یعنی اپنے رب کی رضا مندی کے واسطے صبر کرو۔ یا۔۔۔ موارد قضا کے تحت میں خدا کے واسطے صابر رہو ، اور جا لو (کہ جہاں پھونکا گیا صور میں) یعنی دوسرا نفخہ کہ بعث اس کا اثر ہے ، (تو) یہ پھونکنا جس دن ہوگا (وہ دن دشوار دن ہے۔ کافروں پر آسان نہیں ہے) ۔ اگرچہ ہول ہیبت شدت اس دن عام ہوگی مگر حق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–11

Injunction [ 6] وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ ( and for the sake of your Lord, observe patience 74:7) The word sabr literally signifies 'to restrain oneself. In the Qur'anic context, the word has a very wide scope. It signifies to bind oneself to the laws of Allah, to restrain oneself from things made unlawful by Allah, and to control oneself, as far as possible, from unnecessary bewailing and complaining in times of difficulties and hardships. Thus this injunction is rather comprehensive which embraces almost the entire religion. On this occasion, the Holy Prophet is directed to observe patience,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

7 That is, "The task that is being entrusted to you is full of hazards: you will meet with great hardships and difficulties and troubles on this way: even your own people will turn hostile to you and the whole of Arabia will become your enemy. Yet you should endure with patience, for the sake of your Lord, whatever you may have to face in this way, and carry out all your duties firmly and resolutely. Fear, greed, friendship, enmity, love, all these will hinder your way, but you should stand your ground firmly and steadfastly." These were the very preliminary instructions which Allah gave His…

Read the full tafseer →