Al-Muddaththir 74:9

Al-Muddaththir · from ayah 9

74:9

فَذٰلِكَ یَوْمَىِٕذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌ ۟ۙفَذٰلِكَ يَوۡمَئِذٍ يَّوۡمٌ عَسِيۡرٌۙ‏

وہ دن کا مشکل دن ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

That Day will be a difficult day

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:9

وہ دن کا مشکل دن ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو وه دن بڑا سخت دن ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

تو وہ دن کڑا (سخت) دن ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو وہ دن (یعنی روزِ قیامت) بڑا ہی سخت دن ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو وہ اس دن، ایک مشکل دن ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو وہ وقت نہایت کٹھن وقت ہوگا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو یہ دن بڑا ہی سخت دن ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

وہ دن کافروں پر ایک سخت دن ہوگا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو وہ دن بہت سخت دن ہوگا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ دن مشکل کا دن ہوگا

— محترمہ رفعت اعجاز

that will surely be a hard day,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

that day will be a difficult day,

— Muhammad Taqi Usmani

that day will be a difficult day,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Truly, that Day will be a Hard Day.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Surely that day will be a day of anguish,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That Day will be a difficult day

— Saheeh International

it will be a hard day

— Muhammad Sarwar

That, at that time, shall be a difficult day,

— Muhammad Habib Shakir

That shall be - that Day-a day hard.

— Abdul Majid Daryabadi

That will be- that Day - a Day of Distress,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 74:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

ابتدائے وحی حضرت جابر سے صحیح بخاری شریف میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۙ) 74۔ المدثر :1) نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی آیت (اقرا باسم) کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ یحییٰ بن ابو کثیر فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کونسی آیتیں نازل ہوئیں ؟ تو فرمایا آیت (یا ایھا المدثر) میں نے کہا لوگ تو آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) بتاتے ہیں فرمایا میں نے حضرت جابر سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُدَّثِّر 8 جیسا کہ ہم دیباچے میں بیان کر آئے ہیں، اس سورة کا یہ حصہ ابتدائی آیات کے چند مہینے بعد اس وقت نازل ہوا تھا جب رسول اللہ ﷺ کی طرف سے علانیہ تبلیغ اسلام شروع ہوجانے کے بعد پہلی مرتبہ حج کا زمانہ آیا اور سرداران قریش نے ایک کانفرنس کر کے یہ طے کیا کہ باہر سے آنے والے حاجیوں کو قرآن اور محمد ﷺ سے بد گمان کرنے کے لیے پروپیگنڈا کی ایک زبردست مہم چلائی جائے۔ ان آیات میں کفار کی اسی کارروائی پر تبصرہ کیا گیا ہے اور اس تبصرے کا آغاز ان الفاظ سے کیا گیا ہے جن کا مطلب یہ ہے کہ اچھا، یہ حرکتیں جو تم کرنا چاہتے ہو کرلو، دنیا میں ان سے کوئی مقصد براری تم نے کر بھی لی تو اس روز اپنے برے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–11

چھٹاحکم وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر، صبر کے لفظی معنی اپنے نفس کو روکنے اور قابو میں رکھنے کے ہیں اسلئے صبر کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی پر اپنے نفس کو قائم رکھے اور یہ بھی داخل ہے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے نفس کو روکے اور یہ بھی داخل ہے کہ مصائب اور تکلیف میں اپنے اختیار کی حد تک جزع فزع اور شکایت سے بچے اسلئے یہ حکم ایک جامع حکم ہے جو تقریباً پورے دین کو شامل ہے اس موقع پر اس حکم کی خصوصیت ممکن ہے اسلئے بھی ہو کہ اوپر کی آیات میں آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ عام خلق خدا تعالیٰ کو دین حق کی طرف دعوت دیں کفر و شرک اور معاصی سے روکیں۔ یہ ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 8–9

انذار کا اصل موضوع: یہ ذکر ہے انذار کے اصل موضوع کا جس سے غفلت ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ نبی ﷺ کی دعوت سے قریش کی مخاصمت کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ قیامت کو نہ مانتے تھے نہ ماننا چاہتے تھے۔ وہ اول تو اس کو نہایت مستبعد اور بعید از امکان سمجھتے تھے اور اگر کسی درجے میں مانتے تھے تو اپنی دنیوی کامیابیوں کو دلیل بنا کر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ قیامت ہوئی تو جس طرح ان کو یہاں سب کچھ حاصل ہے اسی طرح وہاں بھی حاصل ہو گا اور اگر خدا نے ان پر ہاتھ ڈالا ان کے معبود اپنی سفارش سے انھیں بچا لیں گے۔ فرمایا کہ اس ہولناک دن سے ان کو اچھی طرح آگاہ کر دو کہ جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن بڑا ہی کٹھن ہو گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–9

6۔ 1 یعنی احسان کرکے یہ خواہش نہ کر کہ بدلے میں اس سے زیادہ ملے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–10

4: جب آنحضرت ﷺ کو اسلام کی تبلیغ کا حکم ہوا تو اس بات کا پورا اندیشہ تھا کہ کافر لوگ آپ کو ستائیں گے، اس لئے حکم دیا گیا کہ فی الحال مسلح جدوجہد نہیں کرنی ہے، صبر سے کام لینا ہے اور ان کی زیادتیوں کی اصل سزا انہیں اس وقت ملے گی جب قیامت کے لئے صور پھونکا جائے گا جس کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

فاذا ........................ الناقور (74:8) ” کے معنی بھی بگل میں پھونکنے کے ہیں لیکن نقر کے معنی میں آواز کی سختی بھی ہے اور آواز کی اس سختی سے اشارہ مقصود ہے ، اس دن کی سختی کی طرف۔ گویا ناقور میں آواز ٹھونکی جاتی ہے اور اس سے سخت آواز نکلتی ہے اور یہ آواز کانوں پر فائر کی طرح لگتی ہے۔ اس لئے یہ دن کافروں پر بہت ہی سخت ہوگا اور اس میں ان کے لئے کوئی سہولت نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی اس دن کے واقعات میں سے صور کا پھونکا جانا گویا ایک مستقل دن ہے جو سرتاپا مشکلات اور سختیوں سے بھرا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–11

آیت 1 1{ ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا۔ } ”آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا۔“ ذَرْنِیْکا یہ انداز ہم قبل ازیں سورة ن اور سورة المزمل میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ خَلَقْتُ وَحِیْدًا کا مفہوم یہ ہے کہ جب میں نے اسے پیدا کیا تھا اس وقت یہ تنہا تھا ‘ کوئی مال ‘ اولاد یا جائیداد وغیرہ لے کر پیدا نہیں ہوا تھا۔ ان آیات کے بارے میں مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی ہیں۔ اس شخص کی مکہ اور طائف دونوں شہروں میں بڑی بڑی جائیدادیں تھیں۔ اللہ نے اسے بہت سے بیٹوں سے بھی نواز رکھا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–9

6 بےلوث خدمت اور اللہ کے لیے صبر :۔ کسی شخص کی بےلوث خدمت کرنا بڑا حوصلہ مندی کا کام ہے۔ انسان تو یہ چاہتا ہے کہ اگر وہ کسی پر کوئی دنیوی یا دینی بھلائی کرے تو کسی نہ کسی رنگ میں اس کو اس کا بدلہ ضرور ملنا چاہیے۔ بلکہ بسا اوقات انسان کی طبیعت یہ چاہتی ہے کہ کسی پر اس نے جو احسان کیا ہے اس کا بدلہ اسے اس سے بڑھ کر ملنا چاہیے۔ یہ نظریہ خالصتاً خود غرضانہ اور مادی نظریہ ہے۔ لہذا جس عظیم مقصد کے لیے آپ کو تیار کیا جارہا تھا اور جس طرح آپ کو پوری بنی نوع انسان کی ہدایت کی خدمت سپرد کی جانے والی تھی اس کے لیے ابتدا میں ہی آپ کو یہ ہدایت کی گئی کہ کسی طرح کے فائدہ، لالچ، غرض اور معاوضہ کا طمع رکھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–10

4۔ ابتدائی مکہ سورتوں میں عقیدہ توحید کے بعد قدرۃ سب سے زیادہ زور عقیدہ آخرت ہی پر ہے۔ (آیت) ” علی الکفرین “۔ اس قید نے یہ صاف کردیا کہ یوم حشر کے شدائد علی الاطلاق نہ ہوں گے، بلکہ کافروں، منکروں کے ساتھ مخصوص ہوں گے، اور مومنین انشاء اللہ حورو قصور، بلکہ سارے لذائدقرب ولقاء سے محظوظ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–10

فاذا نقر فی الناقور، فذلک یومئذ یوم عسیر، اس سورت کا یہ حصہ، سورت کی ابتدائی آیات کے چند ماہ بعد اس وقت نازل ہوا، جب رسول اللہ ﷺ کی طرف سے علانیہ تبلیغ اسلام شروع ہوجانے کے بعد پہلی مرتبہ حج کا زمانہ آیا، تو سرداران قریش کو یہ اندیشہ ہوا کہ اس موقع پر پورے عرب کے لوگ آئیں گے ایسا نہ ہو کہ محمد ﷺ کے نئے دین سے لوگ متاثر ہوجائیں جس سے اس دین کو تقویت حاصل ہوجائے لہٰذا اس کے سدباب کے لئے کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ متفقہ لائحہ عمل کے لئے مشرکین مکہ کی کانفرنس : قم فانذر، کی تعمیل میں جب آپ ﷺ نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور قرآن مجید کی پے در پے نازل ہونے والی سورتوں کو آپ ﷺ نے سنانا شروع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فذلک یومئذ یوم عسیر . یعنی اس روز کافروں کے لیے امر دشوار ہوگا۔ ذٰلک سے صور پھونکنے کے وقت کی طرف اشارہ ہے۔ ذلک مبتداء ہے۔ یوم عسیر خبر ہے۔ یومئذ اس سے بدل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–10

(8۔ 10) اور اپنے پروردگار کی اطاعت اور اس کی عبادت پر جمے رہو، سو جس وقت مردوں کو زندہ کرنے کے لیے صورت میں پھونک ماری جائے گی تو اس دن کی ہیبت و عذاب کافروں کے لیے سخت ہوگا جس میں ان پر ذرا آسانی نہ ہوگی۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔ قُمْ فَاَنْذِرْ (الخ) امام بخاری و مسلم نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے غار حرا میں ایک مہینہ تک اعتکاف کیا ہے جب میں اپنے اعتکاف کے دن پورا کرچکا تو میں وہاں سے آنے کے لیے نکلا تو مجھے آواز دی گئی تو میں نے اپنا سر اوپر کو اٹھایا دیکھتا کیا ہوں کہ وہی فرشتہ ہے جو میرے پاس غار غرا میں آیا تھا، چناچہ میں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

فاذا نقرفی الناقور…:”الناقور“ ”نقر ینفر“ (ن) سے ”فاعدل“ کے وزن پر ہے جس کا معنی ہے، پھونکنا، ایسی ضرب لگانا کہ سوراخ ہوجائے، مراد صور ہے۔ شروع سورت میں ڈرانے کا حکم ہے، اب اس کی تفصیل ہے کہ جس دن صور میں پھونکا جائے گا اور ہر چیز فنا ہونے کے بعد دوبارہ سب لوگ قبروں سے نکل کر اللہ کے حضور پیش ہوں گے تو وہ ایک مشکل دن ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–10

فاذا نقر فی الناقور۔۔۔ تا۔۔۔۔ غیریسیر فاذا نقر فی الناقور۔ جب صور پھونکا جائے گا، ناقور، نقر سے فاعول کا وزن ہے گویا یہ ایسی چیز ہے جس کی شان یہ ہے کہ آواز پیدا کرنے کے لیے جسے کھٹکھٹایاجائے بلکہ عرب میں نقر کا معنی آواز ہے، اس معنی میں امراء القیس کا شعر ہے : اخفضہ بالنقر لما علوتہ، ویرفع طرفا غیر خاف غضیض۔ عرب کہتے ہیں : نقر باسم الرجل یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ اسے بلائے جب کہ اپنی دعوت کو اس کے لیے خاص کرے۔ مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا، یہ بگل جیسی کوئی چیز ہے اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے پہلا نفخہ مراد ہے کیونکہ یہ پہلی ہولناک سختی ہوگی اس کے بارے میں مفصل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–10

36۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فذلک یومئذ یوم عسیر پس وہ دن بڑا کٹن ہوگا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر فرمایا جن پر عذاب کی مشقت اور تنگی ہوگی فرمایا آیت علی الکفرین غیر یسیر یعنی کافروں پر وہ آسان نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَذٰلِكَ يَوْمَىِٕذٍ : تو وہ (واقعہ) ایسے دن ہوگا جو ] [يَّوْمٌ عَسِيْرٌ: ایک دشوار دن ہے ] ترکیب : (آیت۔ 9 ۔ 10) فَذٰلِکَ کا اشارہ گذشتہ آیت میں اِذَا نُقِرَ کی طرف ہے۔ یَوْمَگذٍ نکرہ مخصوصہ ہے۔ یَوْمٌ عَسِیْرٌ (مرکب توصیفی) اور غَیْرُ یَسِیْرٍ (مرکب اضافی) دونوں اس کی خصوصیت ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–10

مکہ معظمہ کے بعض معاندین کی حرکتوں کا تذکرہ اور اس کے لیے عذاب کی وعید، عذاب دوزخ کیا ہے ؟ معالم التنزیل صفحہ 415 : ج 4 میں علامہ بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ ایک دن ولید بن مغیرہ مسجد حرام میں تھا رسول اللہ ﷺ سے اس نے سورة ٴ غافر کی شروع کی دو آیات سنیں اور آیات سن کر متاثر ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے محسوس فرما لیا کہ یہ متاثر ہو رہا ہے۔ آپ نے دوبارہ آیات کو دہرایا اس کے بعد ولید وہاں سے چلا گیا اور اپنی قوم بنی مخزوم میں جا کر کہا کہ اللہ کی قسم میں نے محمد ﷺ سے ابھی ابھی ایسا کلام سنا ہے جو نہ انسانوں کا کلام ہے نہ جنات کا اور اس میں بڑی مٹھاس ہے۔ اور وہ خود بلند ہوتا ہے دوسروں کو بلند کرنے کی ضرورت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–31

حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–10

5:۔ ” فاذا نقر “ تخویف اخروی۔ نقر ای نفخ، یعنی پھونکا جائے گا۔ فلذلک الخ جملہ جزائے شرط ہے۔ یومئذ، ذلک سے بدل ہے اور اسم غیر متمکن کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے یوم مبنی علی الفتح ہے۔ یوم عسیر، ذلک کی خبر ہے۔ علی الکافرین، عسیر سے متعلق ہے۔ غیر یسیر، عسیر کی تاکید ہے (روح) ۔ جب صور پھونکا جائے گا اور قیامت قائم ہوجائے گی تو یہ دن کفار و مشرکین پر نہایت سخت اور دشوار ہوگا۔ اس دن میں کسی قسم کی آسانی، رعایت اور راحت ان کو میسر نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَذٰلِكَ يَوْمَىِٕذٍ يَّوْمٌ عَسِيْرٌ۝ 9 ۙ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن بڑی مشکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–16

ترکیب : فاذا وا للسببتیہ کانہ قیل اصبر علی اذا ھم فبین ایدیھم یوم ھائل یلقون فیہ عاقبۃ امرھم۔ والعامل فی اذاماول علیہ قولہ فذلک لانہ اشارۃ الی النقرای وقت النقروقیل ماول علیہ عسیر ای یعسر نقربفخ الناقور علی وزن فاعول من النقر بمعنے التصویت فذلک اشارۃ الی وقت النقر مبتداء یومئذ بدل منہ اوظرف بخبرہ یوم عسیر خبرہ غیر یسیر تاکید و قال الاخفش اذامبتداء والخبر فذلک والفاء زائدۃ یومئذ ظرف لذلک وقیل ھوفی موضع رفع بدل من ذلک اومبتداء و یوم عسیر خبرہ والجملۃ خیر ذلک وعلی یتعلق بعسیرا وھی لغت لہ اوحال من الضمیر الذی فیہ ومن مفعول معہ اومعطوف علی الضمیر المنصوب۔ وحیدا حال من الیاء ای ذرنی وحدی معہ فانی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–10

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ ۔ فَذٰلِکَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌ۔ عَلَی الْـکٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ ۔ (المدثر : 8 تا 10) (پس جب صور پھونکا جائے گا۔ تو وہ بڑا ہی سخت دن ہوگا۔ کافروں پر آسان نہ ہوگا۔ ) انذار کا اصل موضوع نَاقُوْر کے معنی صور کے ہیں۔ اور نَقَرَ سے مراد صور میں پھونک مارنا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو انذار کا حکم دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ لوگوں کو خواب غفلت سے چونکا دیں۔ اس کی اہم ترین صورت یہ ہے کہ ہر شخص کی موت پھر مجموعی طور پر انسانی زندگی کا خاتمہ، کائنات کی بساط کا لپیٹ دیا جانا، نئی زندگی کا آغاز ہونا اور پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو کر دنیا میں گزاری ہوئی زندگی کے لمحے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–25

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے رسول نے جونہی لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دی تو وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے اور انہوں نے آپ کی مخالفت میں ایڈی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ایسے لوگوں کو ان کا انجام بتلایا گیا ہے کہ آج تم اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے ہو۔ وہ وقت یاد کرو جس دن صور پھونکا جائے گا۔ انکار کرنے والوں کے لیے یہ دن بڑا سخت ہوگا اور اس کی سختی کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ سرداران مکہ نے بڑی کوشش کی کہ نبی ﷺ کی دعوت کی طرف لوگ متوجہ نہ ہوسکیں لیکن دعوت کی کشش، آپ کے اخلاق اور آپ ﷺ کی عظیم جدوجہد کے نتیجہ میں لوگ آپ کی ذات کے گرویدہ اور توحید کی دعوت قبول کیے جا رہے تھے یہ بات سرداران مکہ کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9 : فَذٰلِکَ اس سے پھونکے جانے کے دن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ مبتدأ اور یَوْمَپذٍ اس کا بدل ہے۔ یَّوْمٌ عَسِیْرٌیہ خبر ہے۔ یَّوْمٌ عَسِیْرٌ (پس وہ وقت یعنی وہ دن کافروں پر ایک سخت دن ہوگا) گویا عبارت یہ ہے۔ فیوم النقر یوم عسیر۔ اور فاذا کی فاء سببیہ ہے۔ اور فذالک کی فاء جزاء کی ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا : اصبر علٰی اذاھم فبین ایدیھم یوم عسیر یلقون فی عاقبۃ اذا ھم و تلقی عاقبۃ صبرک علیہ تم ان کی ایذاء پر صبر کرو۔ پس ان کے سامنے سخت تنگی والا دن ہے جس میں وہ اپنے ایذاء کا انجام پالیں گے اور تم اس پر اپنے صبر کا نتیجہ پالو گے۔ اور فاذاؔ میں عامل وہ ہے جس پر جزاء دلالت کر رہی ہے۔ ای فاذا نقرفی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” فاذا نقرفی الناقور “ یعنی صور میں پھونک ماری جائے گی اور وہ سینگ ہے جس میں اسرافیل پھونک ماریں گے یعنی دوسری پھونک۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ علماء مفسرین نے اس باب میں بہت بڑا اختلاف کیا ہے کہ قرآن شریف کی سورتوں میں سب سے پہلے اقرا باسم رباک الذی خلق نازل ہوئی ہے یا سورة مدثر نازل ہوئی ہے۔ صحیحین 1 ؎ کی حضرت جابر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی دونوں حدیثوں کو ملا کر دیکھا جائے تو رفع اس اختلاف کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر اور حافظ ابن کثیر اور خطیب وغیرہ نے بیان کیا ہے آنحضرت ﷺ کے رویا صادقہ کے عبد پہلے پہل وحی کا نزول جو شروع ہوا تو سب سے پہلے اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی پھر چند روز تک وحی بند رہی اس وحی کی بندش کے بعد پھر جو سلسلہ وحی کا چلا تو سورة مدثر نازل ہوئی غرض صحیح قول یہی ہے کہ سورة مدثر کا نزول اقراء سے موخر اور سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَذٰلِكَ يَوْمَىِٕذٍ يَّوْمٌ عَسِيْرٌ) تو ہولناکیوں اور سختیوں کی کثرت کی بنا پر وہ دن بڑاہی سخت ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–9

7 ۔ اپنے رب ہی کے لیے صبر کرنے کی تعلیم و تلقین،۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور اپنے رب کے لئے (اور اس کی رضا کی خاطر) صبر ہی کئے جاؤ راہ حق وصاب پر ہر طرح کے مصائب و مشاکل میں کہ اس وحدہ لاشریک کے لئے صبر کرنے سے حوصلوں میں قوت بھی ملے گی، مشکلات و مصائب میں آسانی بھی پیدا ہوگی اور اجر وثواب بھی ملے گا جس سے وہ مصائب بھی ذریعہ خیر بن جائیں گے۔ فان المصاب من حرم التواث۔ سو اس ارشاد سے بھی دراصل اوپر والے حکم اور ہدایت کی تاکید فرما دی گئی، کہ کسی بھی موقع پر اپنے کام کو بہت سمجھ کر چھوڑ نہیں دینا، بلکہ صبر و استقامت کے ساتھ اس میں لگے رہنا اور اپنے رب کے حکم و فیصلہ کا انتظار کرنا کہ اسی صبر و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

اصلاح انسان کے احکامات تشریح : اب تک تو رسول اللہ ﷺ دین کی تبلیغ چپکے چپکے صرف اہل خاندان یا قریبی رفقا تک ہی کرتے تھے مگر اب ان کو حکم دیا گیا ہے کہ اب اسلام کی تبلیغ سر عام شروع کر دو ۔ جیسا کہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں اسلام کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اس کا آغاز 622؁ء یعنی جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو ہوا اور پھر اسی صدی کے ختم ہونے تک اسلام پورے مشرق وسطی شمالی افریقہ اور اسپین میں پھیل گیا۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کے وصال کے صرف ایک صدی کے اندر اندر ماوراء النہر سے لے کر اندلس تک سب اسلام کے حلقے میں آگئے۔ تو یہ سب کیسے ہوا ؟ صرف ایک مرد کامل کی مقدس تعلیمات سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–31

سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–11

ف 10 یعنی ننگ دھڑنگ خالی ہاتھ جو دنیا میں آیا تو نہ اس کے پاس مال تھا اور نہ اولاد۔ مفرسین کہتے ہیں کہ یہ سخت وعید ہے جو قریش کے سردار ولید بن مغیرہ کو سنائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:9) فذلک یومئذ یوم عسیر :جزائیہ ہے۔ ذلک میں اشارہ وقت نقر (صور پھونکنے کے وقت) کی طرف اشارہ ہے۔ یہ مبتداء ہے اور یومئذ اس سے بدل ہے ۔ یوم عسیر مبتدء کی خبر ہے ۔ علی الکافرین متعلق بہ عسیر ہے۔ یوم عسیر موصوف صفت ہے۔ عسیر عسرۃ سے (باب نصر و ضرب) مصدر بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے سخت، تنگ، بھاری ، مشکل۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–31

لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–10

(ف 1) یعنی جو شدائد دعوت وتبلیغ کے راستہ میں پیش آئیں ان کو اللہ کی خوشنودی کے لیے صبر و تحمل سے برداشت کرو اور خدمت نبوت کی ادائیگی کے سبب سے مخالف شریعت لوگ جو تم کو کچھ گستاخی کے الفاظ کہویں تو اس پر صبر کرنے کا سب کو پورا اجر اللہ تم کودے گا، پھر فرمایا کہ اے محبوب باوجود تمہاری نصیحت کے جو کوئی آخرت کی سزا وجزا کا منکر رہے تو ایسے لوگوں کو یہ سنا دیاجائے کہ مردوں کو زندہ کرنے کا دوسراصور پھونکے جائے گا۔ جب یہ لوگ زندہ ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہوں گے اور ذرہ ذرہ کا ان حساب لیاجائے گا، تو وہ وقت ان پر بڑی مشکل کا ہے اس مشکل کے لیے ان لوگوں کو تیاررہنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–11

[6] یعنی ہم اس سے نپٹنے کے لئے کافی ہیں۔ [7] یعنی بغیر مال و اولاد کے اور مراد اس سے ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی اور جو عرب کا سردار مانا جاتا تھا اور خود اپنے آپ کو بطور فخروتکبر وحید ابن الوحید (یعنی یکتا کا بیٹا یکتا) کہا کرتا تھا کہ قوم میں نہ میری کوئی نظیر ہے نہ میرے باپ مغیرہ کی مگر اس ظالم نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور قرآن کو کلام الٰہی یقین کرلینے کے باوجود اس نے جھوٹی بات بنائی اور قرآن کو سحر اور رسول اللہ ﷺ کو ساحر کہا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–11

سورة المدثر 1: آثار نبوت سے متوتر انسان کو تبلیغ و اشاعت کے لئے ابھارا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ اٹھئے ! اور لوگوں کو آگاہ کیجئے ۔ ربوبیت کے تخیل کی شرک اور بت پرستی سے تذلیل ہورہی ہے ۔ آپ اس کو قول وعمل کے ساتھ بلند کیجئے دل کو پاکیزہ بنائیے ۔ اور فکروخیال کی ہر نجات کو جھٹلا دیجئے ۔ اور ان فرائض کو اس طرح خلوص کے ساتھ ادا کیجئے ۔ کہ ان لوگوں کو ممنون کرکے مال و دولت میں فراوانی کرنا مقصود نہ ہو ۔ بلکہ محض اپنے فرض منصبی سے عہدہ برا ہوتا ہو ۔ گویا مبلغ حق وصداقت کے لئے پانچ چیزوں کا ہونا ضروری ہے ۔ اولاقیام واستعذاف ثانیا اعلاء کلمۃ اللہ کا جذبہ ثالثا قلب کی پاکیزگی اور اربقا برائی کی باتوں سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–29

ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 5–10

(اور بت کو تو بالکل چھوڑے رکھو) یا سب گناہوں سے کنارہ کش ہوجاؤ، یعنی جس تقوی پر ہو اسی پر رہو۔ (اور اس لیے اھسان نہ کرو کہ بدلہ زیادہ چاہو) یا نیک کام کر کے خدا پر احسان نہ رکھ ، کہ اس کو تو بہت شمار کرے۔ یا۔۔۔ تبلیغ احکام کر کے لوگوں پر احسان نہ جتا کہ ان سے بہت بدلا تو طلب کرے ۔ (اور اپنے رب ہی پر جمے رہو) یعنی اپنے رب کی رضا مندی کے واسطے صبر کرو۔ یا۔۔۔ موارد قضا کے تحت میں خدا کے واسطے صابر رہو ، اور جا لو (کہ جہاں پھونکا گیا صور میں) یعنی دوسرا نفخہ کہ بعث اس کا اثر ہے ، (تو) یہ پھونکنا جس دن ہوگا (وہ دن دشوار دن ہے۔ کافروں پر آسان نہیں ہے) ۔ اگرچہ ہول ہیبت شدت اس دن عام ہوگی مگر حق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–11

Injunction [ 6] وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ ( and for the sake of your Lord, observe patience 74:7) The word sabr literally signifies 'to restrain oneself. In the Qur'anic context, the word has a very wide scope. It signifies to bind oneself to the laws of Allah, to restrain oneself from things made unlawful by Allah, and to control oneself, as far as possible, from unnecessary bewailing and complaining in times of difficulties and hardships. Thus this injunction is rather comprehensive which embraces almost the entire religion. On this occasion, the Holy Prophet is directed to observe patience,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8 As already explained in the introduction, this part of the Surah wa:. sent down a few months after the initial verses when at the beginning of the first ever Hajj season, after the advent of Islam, the Quraish chiefs decided in a conference to start a powerful propaganda campaign to dissuade the outsiders, who came to visit the Ka`bah, from the Qur'an and the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) . In these verses, this very scheming of the Quraish has been reviewed, and the review has begun with the words, as if to ay: "You thay act as you please, but even if you…

Read the full tafseer →