وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ ۟ؕوَ لِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡؕ
اور اپنے پروردگار کے لئے صبر کرو
— Fateh Muhammad Jalandhari
But for your Lord be patient.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ ۟ؕوَ لِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡؕ
اور اپنے پروردگار کے لئے صبر کرو
— Fateh Muhammad Jalandhari
But for your Lord be patient.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir
اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو
اور اپنے پروردگار کے لئے صبر کرو
اور اپنے رب کی راه میں صبر کر
اور اپنے پروردگار کی خاطر صبر سے کام لو۔
اور اپنے رب کے لیے صبر کیے رہو
اور آپ اپنے رب کے لئے صبر کیا کریں،
اور اپنے رب ہی کے لیے پس صبر کر۔
اور اپنے پروردگار کی خاطر صبر کیجیے
او اپنے رب کی راہ میں ثابت قدم رہ
اور اپنے رب (کی رضا) کے لئے صبر سے کام لیتے رہو
اور اپنے پروردگار (کی رضا) کے لء صبر کیجئے۔
اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔
اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔
and persevere for your Lord's sake.
And for the sake of your Lord, observe patience.
And for the sake of your Lord, observe patience.
And be patient for the sake of your Lord!
For the sake of thy Lord, be patient!
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
But for your Lord be patient.
Exercise patience to please your Lord.
And for the sake of your Lord, be patient.
And for the good-will of thy Lord be thou patient.
But, for thy Lord's (Cause), be patient and constant!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–10
ابتدائے وحی حضرت جابر سے صحیح بخاری شریف میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۙ) 74۔ المدثر :1) نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی آیت (اقرا باسم) کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ یحییٰ بن ابو کثیر فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کونسی آیتیں نازل ہوئیں ؟ تو فرمایا آیت (یا ایھا المدثر) میں نے کہا لوگ تو آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) بتاتے ہیں فرمایا میں نے حضرت جابر سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سورة الْمُدَّثِّر 7 یعنی یہ کام جو تمہارے سپرد کیا جا رہا ہے، بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس میں سخت مصائب اور مشکلات اور تکلیفوں سے تمہیں سابقہ پیش آئے گا۔ تمہاری اپنی قوم تمہاری دشمن ہوجائے گی۔ سارا عرب تمہارے خلاف صف آرا ہوجائے گا۔ مگر جو کچھ بھی اس راہ میں پیش آئے اپنے رب کی خاطر اس پر صبر کرنا اور اپنے فرض کو پوری ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ انجام دینا۔ اس سے باز رکھنے کے لیے خوف طمع، لالچ، دوستی، دشمنی، محبت ہر چیز تمہارے راستے میں حائل ہوگی۔ ان سب کے مقابلے میں مضبوطی کے ساتھ اپنے موقف پر قائم رہنا۔ یہ تھیں وہ اولین ہدایات جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس وقت دی تھیں جب اس نے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
چھٹاحکم وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر، صبر کے لفظی معنی اپنے نفس کو روکنے اور قابو میں رکھنے کے ہیں اسلئے صبر کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی پر اپنے نفس کو قائم رکھے اور یہ بھی داخل ہے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے نفس کو روکے اور یہ بھی داخل ہے کہ مصائب اور تکلیف میں اپنے اختیار کی حد تک جزع فزع اور شکایت سے بچے اسلئے یہ حکم ایک جامع حکم ہے جو تقریباً پورے دین کو شامل ہے اس موقع پر اس حکم کی خصوصیت ممکن ہے اسلئے بھی ہو کہ اوپر کی آیات میں آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ عام خلق خدا تعالیٰ کو دین حق کی طرف دعوت دیں کفر و شرک اور معاصی سے روکیں۔ یہ ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں…
Read the full tafseer →اس کا مفہوم وہی ہے جو آیت ’وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا‘ (الطور ۵۲: ۴۸) (اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو، تم ہماری آنکھوں میں ہو) کا ہے۔ ’صَبْرٌ‘ کے ساتھ جب ’ل‘ آئے تو اس کے معنی صبر و استقامت کے ساتھ انتظار کرنے کے ہو جاتے ہیں۔ اوپر والی آیت میں حضورؐ کو جو ہدایت ہوئی ہے اسی سے متعلق یہ ہدایت بھی ہے کہ اپنے کام کو کافی سمجھ کر کسی مرحلہ میں چھوڑ نہ بیٹھنا بلکہ صبر و استقامت کے ساتھ اس میں لگے رہنا اور اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرنا۔ اسی استقامت پر تمہاری کامیابی اور قوم پر اتمام حجت کا انحصار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
6۔ 1 یعنی احسان کرکے یہ خواہش نہ کر کہ بدلے میں اس سے زیادہ ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
4: جب آنحضرت ﷺ کو اسلام کی تبلیغ کا حکم ہوا تو اس بات کا پورا اندیشہ تھا کہ کافر لوگ آپ کو ستائیں گے، اس لئے حکم دیا گیا کہ فی الحال مسلح جدوجہد نہیں کرنی ہے، صبر سے کام لینا ہے اور ان کی زیادتیوں کی اصل سزا انہیں اس وقت ملے گی جب قیامت کے لئے صور پھونکا جائے گا جس کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے۔
Read the full tafseer →(5) آخر میں حضور اکرم ﷺ کو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ جو بھی پیش آئے ، آپ صبر کریں۔ ولربک فاصبر (74:7) ” اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو “۔ قرآن کریم میں دعوت اسلامی کے سلسلے میں اللہ بار بار صبر کی تلقین فرماتا ہے ، اور حقیقت بھی یہ ہے کہ دعوت اسلامی کی راہ میں صبر ہی اصل سازو سامان ہے۔ یہ ایک چومجھی لڑائی ہوتی ہے ، ایک طرف خوداپنی خواہشات اور میلانات کے خلاف جنگ کرنا ہوتی ہے ، دوسری جانب دعوت اسلامی کے دشمنوں کے خلاف جنگ کرنا ہوتی ہے۔ یہ دشمن شیطانوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور مفادات و خواہشات کے لئے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ پھر طویل جدوجہد اور قلت وسائل اور اجر سب کا سب اخروی ہوتا ہے۔ اس دنیا کا کوئی مفاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
10 یہ ہمت اور اولوالعزمی سکھلائی کہ جو کسی کو دے (روپیہ پیسہ یا علم و ہدایت وغیرہ) اس سے بدلہ نہ چاہیے۔ محض اپنے رب کے دیے پر شاکر و صابر رہ اور جو شدائد دعوت و تبلیغ کے راستہ میں پیش آئیں ان کو اللہ کے واسطے صبر و تحمل سے برداشت کر اور اسی کے حکم کی راہ دیکھ کر یہ عظیم الشان کام بدون اعلیٰ درجہ کی حوصلہ مندی اور صبر و استقلال کے انجام نہیں پائے گا۔ ان آیتوں کی تفسیر اور بھی کئی طرح کی گئی ہے لیکن احقر کے خیال میں یہی بےتکلف ہے۔
Read the full tafseer →آیت 7{ وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ۔ } ”اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔“ یہ اس آیت کا وہ ترجمہ ہے جو عام طور پر کیا جاتا ہے۔ لیکن میں قبل ازیں متعدد بار یہ وضاحت کرچکا ہوں کہ صبر کے ساتھ جب ”ل“ آتا ہے تو اس کے معنی میں انتظار کا مفہوم آجاتا ہے۔ چناچہ اس آیت کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ اپنے رب کے حکم کا انتظار کیجیے اور جو بھی حکم آئے اس پر عمل کیجیے۔ سورت کا پہلا حصہ ان ابتدائی سات آیات پر مشتمل ہے اور اس حصے میں حضور ﷺ سے خطاب تھا۔ اب اگلی آیت سے اس سورت کے دوسرے حصے کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ حصہ تین مختصر آیات پر مشتمل ہے اور ان آیات میں قیامت کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
6 بےلوث خدمت اور اللہ کے لیے صبر :۔ کسی شخص کی بےلوث خدمت کرنا بڑا حوصلہ مندی کا کام ہے۔ انسان تو یہ چاہتا ہے کہ اگر وہ کسی پر کوئی دنیوی یا دینی بھلائی کرے تو کسی نہ کسی رنگ میں اس کو اس کا بدلہ ضرور ملنا چاہیے۔ بلکہ بسا اوقات انسان کی طبیعت یہ چاہتی ہے کہ کسی پر اس نے جو احسان کیا ہے اس کا بدلہ اسے اس سے بڑھ کر ملنا چاہیے۔ یہ نظریہ خالصتاً خود غرضانہ اور مادی نظریہ ہے۔ لہذا جس عظیم مقصد کے لیے آپ کو تیار کیا جارہا تھا اور جس طرح آپ کو پوری بنی نوع انسان کی ہدایت کی خدمت سپرد کی جانے والی تھی اس کے لیے ابتدا میں ہی آپ کو یہ ہدایت کی گئی کہ کسی طرح کے فائدہ، لالچ، غرض اور معاوضہ کا طمع رکھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
3۔ (ان سختیوں پر جو راہ تبلیغ میں آپ ﷺ کو پیش آئیں گی، بنیادی عقائد کے بعد اب تعلیم فضائل اخلاق کی مل رہی ہے۔ (آیت) ” ولا تمنن تستکثر “۔ اپنے اعمال کو کثیر جاننا ان کے عوض میں رجوع خلق یا مدح کی آس لگائے رہنا، یہ سب شریعت میں قطعا ناجائز ہے۔ (آیت) ” ولربک فاصبر “۔ یعنی راہ حق میں صبر، رضائے حق ہی کی خاطر کیجئے۔ اے فاصبر علی طاعتہ واوامرہ ونواھیہ لاجل ثواب اللہ (معالم) لوجہ ربک عزوجل (ابن کثیر) (آیت) ” الرجزفاھجر “۔ یعنی باطنی نجاستوں سے بھی الگ رہیے۔ جس میں شرک کا نمبر اول ہے (آیت) ” والرجز فاھجر “۔ رجز کے معنی بت پرستی اور شرک کے ہیں۔ الرجز عبادۃ الاوثان (قاموس۔ لسان) وقیل ھوالشرک (لسان) خود…
Read the full tafseer →ولربک فاصبر، یعنی جو کام آپ ﷺ کے سپرد کیا جا رہا ہے بڑے جان جوکھوں کا کام ہے، اس میں سخت مصائب اور صبر آزما مشکلت اور تکلیفوں سے آپ ﷺ کو سابقہ پڑے گا، آپ کی اپنی قوم آپ ﷺ کی دشمن ہوجائے گی، پورا عرب آپ ﷺ کے خلاف صف آرا ہوجائے گا مگر جو کچھ اس راہ میں پیش آئے اپنے رب کی خاطر اس پر صبر کرنا اور اپنے فرض کو پوری ثابت قدمی اور مستقل مزاجی سے انجام دینا، اس سے باز رکھنے کے لئے خوف، طمع، لالچ، دوستی، دشمنی، محبت، غرضیکہ ہر چیز آپ ﷺ کے راستہ میں حائل ہوگی ان سب کے مقابلہ میں مضبوطی سے اپنے موقف پر قائم رہنا ہوگا۔
Read the full tafseer →ولبرک فاصبر . یعنی اللہ کی خوشنودی اور ثواب کی طلب میں اس کی طاعت ‘ حکم ممانعت اور مصائب پر صبر کرو۔ اصل کلام تھا : واصبر لربک فاصبر۔ حکم صبر کی تکرار۔ تاکید کے لیے ہے یا اقسام صبر کے گوناگوں ہونے کے زیر اثر۔ مجاہد نے کہا تم کو جو دکھ دیا جائے اس پر صبر کرو۔ ابن زید نے کہا تم پر عرب و عجم کے مقابلہ کا بار عظیم پڑا ہے اس بار کو اٹھانے میں صبر کرو۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ قضاء خداوندی پر اللہ کے لیے صابر رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(5۔ 7) اور گناہوں سے علیحدہ رہیے اور ان کے قریب بھی نہ جایے اور دنیا میں کسی کو معمولی چیز اس غرض سے مت دو کہ اس سے زائد دے گا یا یہ کہ اپنے عمل سے اللہ تعالیٰ پر احسان مت کرو کہ اس سے زیادہ معاوضہ چاہو۔
Read the full tafseer →ولربک فاصبر : یعنی آپ کسی پر جو احسان کریں یا کسی کو جو عطیہ دیں اس کی جزا صرف اپنے رب ہی سے لینے کے لئے صبر کریں۔”ولربک فاصبر“ میں یہ معنی بھی داخل ہے کہ آپ کو حق کا پیغام پہنچانے میں بہت سے مصائب و مشکلات کا سامنا ہوگا، عرب و عجم سے لڑائی درپیش ہوگ ی، آپ ان تمام مصائب پر صبر کریں اور یہ صبر صرف اور صرف اپنے رب کو رضای کرنے کے لئے ہو، اس ہمت اور اولوالعزمی کے بغیر دعوت کا کام سر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ لقمان نے اپنے بیٹے کو فرمایا تھا :(وامر بالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی ما اصابک ان ذلک من عزم الامور) (لقمان : 18) ”اور نیکی کا حکم کر اور برائی سے منع کر اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر…
Read the full tafseer →ولربک فاصبر۔ اپنے آقا اور اپنے مالک کے لیے اس کے فرائض اور اس کی عبادت پر صبر کیجئے، مجاہد نے کہا، آپ کو جو اذیت دی گئی اس پر صبر کیجئے، ابن زید نے کہا، آپ ﷺ پر عظیم امر ڈالا گیا یعنی عربوں اور عجمیوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا اس پر اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر صبر کیجئے ایک قول یہ کیا گیا اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قضا پر صبر کیجئے ایک قول یہ کیا گیا آزمائش پر صبر کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء اور منتخب افراد کا امتحان لیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اپنے اہل اور وطن کے فراق پر صبر کیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
احسان جتانے کی ممانعت 24۔ ابن المنذر نے حماد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابی ؓ کے مصحف میں یوں پڑھا آیت ولا تمنن تستکثر۔ 25۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تمنن تستکثر سے مراد ہے کہ آپ کسی کو کوئی چیز نہ دیں اس نیت سے تاکہ آپ کو اس سے زیادہ دیا جائے اور یہ آیت نبی مکرم ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 26۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے آیت ولا تمنن تستکثر کے بارے میں روایت کیا کہ آپ کوئی چیز نہ دیں اس نیت سے کہ آپ کو اس سے زیادہ دیا جائے۔ اور یہ حکم نبی مکرم ﷺ کے لیے خاص ہے اور عام لوگوں کو وسعت دی گئی ہے۔ 27۔ الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے آیت ولا تمنن تستکثر کے بارے میں روایت…
Read the full tafseer →[وَلِرَبِكَ فَاصْبِرْ : اور اپنے رب کے لیے پھر آپ ﷺ ثابت قدم رہیں ]
Read the full tafseer →﴿وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ007﴾ (اور اپنے رب کے لیے صبر کیے رہو) چونکہ آپ کو دعوت کا کام کرنے کا حکم ہوا اور اس میں مخاطبین سے تکلیف پہنچنا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے انذار کے حکم کے ساتھ اصطبار کا حکم بھی فرما دیا یعنی آپ دعوت توحید کے کام پر جمے رہیں اور دشمنوں سے جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کرتے رہیں اور یہ صبر اللہ کی رضا کے لیے ہو جب اللہ کی رضا مقصود ہوگی تو صبر کرنا کچھ مشکل نہ ہوگا ثواب ملنے کی امید تکلیف کو آسان بنا دے گی۔ قال اللہ تعالیٰ ﴿اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ 0010﴾
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
4:۔ ” ولا تمنن “ تسکثر مرفوع ہے اور لاتمنن کے فاعل سے حال ہے یہ نہی کا جواب نہیں ورنہ مجزوم ہوتا۔ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کی طرف سے تبلیغ پر مامور ہوں۔ اس لیے آپ لوگوں پر نبوت اور تعلیم و تبلیغ کا احسان نہ دھریں کہ آپ کو بکثرت دولت حاصل ہو۔ آپ کا اجر وثواب اللہ کے ذمہ ہے قال ابن زید معناہ لاتمنن بالنبوۃ علی الناس فتاخذ علیہا عوضا واجرا من الدنیا (مظہری ج 10 ص 125) یعنی آپ محض لوجہ اللہ تبلیغ کریں، کسی سے اجر و معاوضہ کی توقع نہ رکھیں اور نہ کسی کو دعوت و تبلیغ کا احسان جتائیں۔ ” ولربک فاصبر “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے کہ کفار و مشرکین کی طرف سے تبلیغ و توحید پر تکلیفیں آئیں تو ان سے…
Read the full tafseer →وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ 7 ۭ لام اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه : الأول : الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع وحذف في موضع . الثاني : للملک والاستحقاق، ولیس نعني بالملک ملک العین بل قد يكون ملکا لبعض المنافع، أو لضرب من التّصرّف . فملک العین نحو : وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : المدثر اصلہ المتدثر ادغمت التاء فی الدال للمجانستہ وقرء الجمہور بالادغام۔ والدثارما یلبس فوق الشعار والشعار مایلی الجسدومنہ قولہ (علیہ السلام) الانصارشعار والناس دثار۔ فانذر الفاء فیہ وفیما بعدہ لافادۃ معنی الشرط کانہ قال مایکن من شیئ۔ فانذروکبر۔ وقال ابن جنی ھو کقولک زیدا فاضرب فالفاء زائدۃ وربک و ثیابک والرجز منصوب بفعل محذوف یفسرہ مابعدہ تستکثر بالرفع علی انہ حال وبالجزم علی انہ جواب النھی وبالنصب علی تقدیر لتستکثروقیل علی تقدیر ان وبقاء علمھا۔ تفسیر : بخاری و مسلم وغیرہما نے نقل کیا ہے کہ ابوسلمۃ بن عبدالرحمن نے کہا سب سے پہلے یا ایہا المدثر نازل ہوئی اس پر یحییٰ بن ابی کثیر نے…
Read the full tafseer →وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ ۔ (المدثر : 7) (اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو۔ 7) صبر کا مفہوم آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ انذار کا جو عظیم کام آپ ﷺ کے سپرد کیا گیا ہے یہ بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ جیسے جیسے آپ ﷺ کی دعوت آگے بڑھے گی آپ ﷺ کی مخالفت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ آپ ﷺ کے مصائب اور مشکلات بڑھتی جائیں گی، آپ ﷺ کو ایک ایسی قوم سے واسطہ پڑا ہے جو اپنے عقائد اور رسم و رواج میں نہایت سخت اور جامد واقع ہوئی ہے۔ ان کے بنیادی تصورات کی سب سے بڑی اساس آبائواجداد کی تقلید ہے۔ وہ اپنے آباء کے بارے میں یہ تصور قبول نہیں کرسکتے کہ وہ بھی غلط ہوسکتے ہیں۔ اس لیے جب آپ ﷺ کی تعلیم اور دعوت ان جاہلانہ خیالات اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
فہم القرآن ربط کلام : نبوت کے آغاز میں آپ ﷺ کو مزید ہدایات۔ دعوت دینے والے کی دعوت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو اگر وہ ان باتوں کا خیال نہیں رکھتا تو لوگ اس کی شخصیت اور دعوت سے متاثر ہونے کی بجائے اس سے دور بھاگ جائیں گے اس لیے نبوت کے ابتدائی دور میں آپ ﷺ کو درج ذیل ہدایات دی گئیں۔ 1 ۔ اپنے لباس کو صاف اور اجلا رکھیں، یاد رہے کہ اس زمانے میں لوگ اس شخص کو پارسا سمجھتے تھے جو دنیا کے امور سے الگ تھلگ رہتا اور صاف ستھرا لباس پہننے سے پرہیز کرتا تھا۔ اسلام ترک دنیا اور گندہ رہنے کو انتہائی ناپسند سمجھتا ہے، بیشک دین میں سادگی کو بڑی اہمیت حاصل ہے لیکن انسان کا پاک اور صاف ستھرا رہنا نہایت ضروری ہے۔…
Read the full tafseer →7 : وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ (اور پھر اپنے رب کے واسطے صبر کیجئے) یعنی اس کی ذات کیلئے۔ صبر کا استعمال اللہ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی ہیں۔ اور ہر ایک مصبور علیہ ہے یعنی اس پر جمے رہنا ضروری ہے اور مصبور عنہ ہے یعنی اسے اپنا بچانا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →6 ۔” ولا تمنن تستکثر “ یعنی آپ اپنا مال مدارات و رشوت کے طور پر نہ دیں تاکہ اس سے زیادہ دیا جائے اور یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے۔ ضحاک اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ نبی کریم ﷺ کے لئے خاص تھا۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ حلال و حرام سے ربا ہے۔ بہرحال حلال تو وہ ہدایا ہیں اور حرام تو وہ سود ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں آپ ﷺ کوئی چیز دنیا کے بدلہ کی طمع پر نہ دیں یعنی اپنے رب کے لئے دیں اور اس سے اللہ کا ارادہ کریں اور حسن (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ہے کہ اپنے عمل کا اللہ پر احسان نہ جتائیں کہ آپ اس کو زیادہ کریں گے۔ ربیع فرماتے ہیں اپنی نگاہ میں اپنے عمل کو زیادہ نہ سمجھیں کیونکہ وہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ علماء مفسرین نے اس باب میں بہت بڑا اختلاف کیا ہے کہ قرآن شریف کی سورتوں میں سب سے پہلے اقرا باسم رباک الذی خلق نازل ہوئی ہے یا سورة مدثر نازل ہوئی ہے۔ صحیحین 1 ؎ کی حضرت جابر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی دونوں حدیثوں کو ملا کر دیکھا جائے تو رفع اس اختلاف کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر اور حافظ ابن کثیر اور خطیب وغیرہ نے بیان کیا ہے آنحضرت ﷺ کے رویا صادقہ کے عبد پہلے پہل وحی کا نزول جو شروع ہوا تو سب سے پہلے اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی پھر چند روز تک وحی بند رہی اس وحی کی بندش کے بعد پھر جو سلسلہ وحی کا چلا تو سورة مدثر نازل ہوئی غرض صحیح قول یہی ہے کہ سورة مدثر کا نزول اقراء سے موخر اور سب…
Read the full tafseer →(وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ ) یعنی اپنے صبر پر اجر کی امید رکھیے ور اس کا مقصد اللہ کی رضا ہو، پس رسول اللہ نے اپنے رب کے حکم کی اطاعت کی اور اس کی تعمیل کے لیے آگے بڑھے۔ پس آپ نے لوگوں کو انجام بد سے ڈرایا اور آپ نے ان کے سامنے آیات بینات اور تمام مطالب الٰہیہ کو واضح کیا اللہ کی عظمت بیان کی اور مخلوق کو اس کی تعظیم کی طرف بلایا، آپ نے اپنے تمام ظاہری اور باطی اعمال کو ہر قسم کی برائی سے پاک کرلیا آپ نے ہر اس ہستی سے برات کا اظہار کیا جو اللہ سے د ور کرتی تھی، اور اس کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کی جاتی تھی، یعنی بتوں، بت پرستوں، اور شرپسندوں سے بےزاری کا اعلان کیا لوگوں پر اللہ کے احسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
7 ۔ اپنے رب ہی کے لیے صبر کرنے کی تعلیم و تلقین،۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور اپنے رب کے لئے (اور اس کی رضا کی خاطر) صبر ہی کئے جاؤ راہ حق وصاب پر ہر طرح کے مصائب و مشاکل میں کہ اس وحدہ لاشریک کے لئے صبر کرنے سے حوصلوں میں قوت بھی ملے گی، مشکلات و مصائب میں آسانی بھی پیدا ہوگی اور اجر وثواب بھی ملے گا جس سے وہ مصائب بھی ذریعہ خیر بن جائیں گے۔ فان المصاب من حرم التواث۔ سو اس ارشاد سے بھی دراصل اوپر والے حکم اور ہدایت کی تاکید فرما دی گئی، کہ کسی بھی موقع پر اپنے کام کو بہت سمجھ کر چھوڑ نہیں دینا، بلکہ صبر و استقامت کے ساتھ اس میں لگے رہنا اور اپنے رب کے حکم و فیصلہ کا انتظار کرنا کہ اسی صبر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
اصلاح انسان کے احکامات تشریح : اب تک تو رسول اللہ ﷺ دین کی تبلیغ چپکے چپکے صرف اہل خاندان یا قریبی رفقا تک ہی کرتے تھے مگر اب ان کو حکم دیا گیا ہے کہ اب اسلام کی تبلیغ سر عام شروع کر دو ۔ جیسا کہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں اسلام کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اس کا آغاز 622ء یعنی جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو ہوا اور پھر اسی صدی کے ختم ہونے تک اسلام پورے مشرق وسطی شمالی افریقہ اور اسپین میں پھیل گیا۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کے وصال کے صرف ایک صدی کے اندر اندر ماوراء النہر سے لے کر اندلس تک سب اسلام کے حلقے میں آگئے۔ تو یہ سب کیسے ہوا ؟ صرف ایک مرد کامل کی مقدس تعلیمات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ف 10 یعنی ننگ دھڑنگ خالی ہاتھ جو دنیا میں آیا تو نہ اس کے پاس مال تھا اور نہ اولاد۔ مفرسین کہتے ہیں کہ یہ سخت وعید ہے جو قریش کے سردار ولید بن مغیرہ کو سنائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →(74:7) ولربک فاصبر : اصل کلام تھا واصبر لربک فاصبر حکم صبر کی تکرار تائید کے لئے ہے یا اقسام صبر کے گوناگوں ہونے کے زیر اثر۔ علماء کے اس بارے میں اقوال ہیں :۔ (1) اللہ کی خوشنودی اور ثواب کی طلب میں اس کی طاعت۔ حکم۔ ممانعت اور مصائب پر صبر کرو۔ (2) تم کو جو دکھ دیا جائے اس پر صبر کرو۔ (مجاہد) (3) تم پر عرب و عجم کے مقابلہ کا جو بار عظیم پڑا ہے اس بار کو اٹھانے میں صبر کرو۔ (4) قضاء خداوندی پر اللہ کے لئے صابر رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
(ف 1) یعنی جو شدائد دعوت وتبلیغ کے راستہ میں پیش آئیں ان کو اللہ کی خوشنودی کے لیے صبر و تحمل سے برداشت کرو اور خدمت نبوت کی ادائیگی کے سبب سے مخالف شریعت لوگ جو تم کو کچھ گستاخی کے الفاظ کہویں تو اس پر صبر کرنے کا سب کو پورا اجر اللہ تم کودے گا، پھر فرمایا کہ اے محبوب باوجود تمہاری نصیحت کے جو کوئی آخرت کی سزا وجزا کا منکر رہے تو ایسے لوگوں کو یہ سنا دیاجائے کہ مردوں کو زندہ کرنے کا دوسراصور پھونکے جائے گا۔ جب یہ لوگ زندہ ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہوں گے اور ذرہ ذرہ کا ان حساب لیاجائے گا، تو وہ وقت ان پر بڑی مشکل کا ہے اس مشکل کے لیے ان لوگوں کو تیاررہنا چاہیے۔
Read the full tafseer →[4] سورت کے شروع میں یہ سات آیتیں وہ ہیں جن میں سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو تبلیغ دین کا حکم دیا گیا۔ سورة اقراء کی ابتدائی آیتوں کے بعد یہ دوسری وحی ہے جو آپ پر نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة المدثر 1: آثار نبوت سے متوتر انسان کو تبلیغ و اشاعت کے لئے ابھارا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ اٹھئے ! اور لوگوں کو آگاہ کیجئے ۔ ربوبیت کے تخیل کی شرک اور بت پرستی سے تذلیل ہورہی ہے ۔ آپ اس کو قول وعمل کے ساتھ بلند کیجئے دل کو پاکیزہ بنائیے ۔ اور فکروخیال کی ہر نجات کو جھٹلا دیجئے ۔ اور ان فرائض کو اس طرح خلوص کے ساتھ ادا کیجئے ۔ کہ ان لوگوں کو ممنون کرکے مال و دولت میں فراوانی کرنا مقصود نہ ہو ۔ بلکہ محض اپنے فرض منصبی سے عہدہ برا ہوتا ہو ۔ گویا مبلغ حق وصداقت کے لئے پانچ چیزوں کا ہونا ضروری ہے ۔ اولاقیام واستعذاف ثانیا اعلاء کلمۃ اللہ کا جذبہ ثالثا قلب کی پاکیزگی اور اربقا برائی کی باتوں سے…
Read the full tafseer →(7) اور اپنے پروردگار کے لئے مصائب کو برداشت کیجئے۔ جس طرح پہلی سورت میں نبی کریم ﷺ کو تلطف اور مہربانی کے ساتھ خطاب فرمایا تھا اسی طرح اس سورت میں بھی حضور ہی کو خطاب فرمایا ہے ۔ مدثر اصل میں متدثر ہے تاکو داں سے بدل کر دال میں ادغام کردیا ہے ، اس سے مدثر ہوگیا ہے۔ دثار اوپر کے کپڑے کو کہتے ہیں جس طرح شعار نیچے کے کپڑے کو کہتے ہیں جو جسم سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے الانصار وثار والناس شعار، مدثر اس شخص کو کہتے ہیں جو سردی اور ٹھنڈ کی وجہ سے اپنے کپڑوں پر کوئی کپڑا اوپر سے اوڑھ لے اور کوئی گرم کپڑا اوپر سے لپیٹ لے۔ پہلی سورت میں نبی کریم ﷺ کو خطاب فرمایا تھا عبادت کرنے اور رات میں قیام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–29
ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
(اور بت کو تو بالکل چھوڑے رکھو) یا سب گناہوں سے کنارہ کش ہوجاؤ، یعنی جس تقوی پر ہو اسی پر رہو۔ (اور اس لیے اھسان نہ کرو کہ بدلہ زیادہ چاہو) یا نیک کام کر کے خدا پر احسان نہ رکھ ، کہ اس کو تو بہت شمار کرے۔ یا۔۔۔ تبلیغ احکام کر کے لوگوں پر احسان نہ جتا کہ ان سے بہت بدلا تو طلب کرے ۔ (اور اپنے رب ہی پر جمے رہو) یعنی اپنے رب کی رضا مندی کے واسطے صبر کرو۔ یا۔۔۔ موارد قضا کے تحت میں خدا کے واسطے صابر رہو ، اور جا لو (کہ جہاں پھونکا گیا صور میں) یعنی دوسرا نفخہ کہ بعث اس کا اثر ہے ، (تو) یہ پھونکنا جس دن ہوگا (وہ دن دشوار دن ہے۔ کافروں پر آسان نہیں ہے) ۔ اگرچہ ہول ہیبت شدت اس دن عام ہوگی مگر حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
Injunction [ 6] وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ ( and for the sake of your Lord, observe patience 74:7) The word sabr literally signifies 'to restrain oneself. In the Qur'anic context, the word has a very wide scope. It signifies to bind oneself to the laws of Allah, to restrain oneself from things made unlawful by Allah, and to control oneself, as far as possible, from unnecessary bewailing and complaining in times of difficulties and hardships. Thus this injunction is rather comprehensive which embraces almost the entire religion. On this occasion, the Holy Prophet is directed to observe patience,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7 That is, "The task that is being entrusted to you is full of hazards: you will meet with great hardships and difficulties and troubles on this way: even your own people will turn hostile to you and the whole of Arabia will become your enemy. Yet you should endure with patience, for the sake of your Lord, whatever you may have to face in this way, and carry out all your duties firmly and resolutely. Fear, greed, friendship, enmity, love, all these will hinder your way, but you should stand your ground firmly and steadfastly." These were the very preliminary instructions which Allah gave His…
Read the full tafseer →