Al-Muddaththir 74:6

Al-Muddaththir · from ayah 6

74:6

وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ ۟وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَكۡثِرُ

اور (اس نیت سے) احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And do not confer favor to acquire more

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:6

اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (اس نیت سے) احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور احسان کرکے زیاده لینے کی خواہش نہ کر

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کوئی احسان اس نیت سے نہ کرو کہ زیادہ وصول کرسکو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور زیادہ لینے کی نیت سے کسی پر احسان نہ کرو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اس غرض سے کسی پر) احسان نہ کریں کہ اس سے زیادہ کے طالب ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور (اس نیت سے) احسان نہ کر کہ زیادہ حاصل کرے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور زیادہ حاصل کرنے کے لیے احسان نہ کیجیے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اپنی سعی کو زیادہ خیال کرکے منقطع نہ کر۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے

— مولانا اسحاق مدنی

اور کسی کو اس غرض سے مت دیجئے کہ زیادہ معاوضہ ملے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور زیادہ لینے کے لیے کسی پر احسان نہ کیجیے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس نیت سے احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

and bestow not favour in order to seek from others a greater return,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and do not do a favour (to anyone merely) to seek more (in return) .

— Muhammad Taqi Usmani

and do not do a favour (to anyone merely) to seek more (in return) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And give not a thing in order to have more.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And show not favour, seeking wordly gain!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And do not confer favor to acquire more

— Saheeh International

and do not think that by doing such deeds, you have done a great favor to God.

— Muhammad Sarwar

And bestow not favors that you may receive again with increase,

— Muhammad Habib Shakir

And bestow not favour that thou mayest receive more.

— Abdul Majid Daryabadi

Nor expect, in giving, any increase (for thyself)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 74:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

ابتدائے وحی حضرت جابر سے صحیح بخاری شریف میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۙ) 74۔ المدثر :1) نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی آیت (اقرا باسم) کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ یحییٰ بن ابو کثیر فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کونسی آیتیں نازل ہوئیں ؟ تو فرمایا آیت (یا ایھا المدثر) میں نے کہا لوگ تو آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) بتاتے ہیں فرمایا میں نے حضرت جابر سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُدَّثِّر 6 اصل الفاظ ہیں ولا تمنن تستکثر۔ ان کے مفہوم میں اتنی وسعت ہے کہ کسی ایک فقرے میں ان کا ترجمہ کر کے پورا مطلب ادا نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا ایک مفہوم یہ ہے کہ جس پر بھی احسان کرو بےغرضانہ کرو۔ تمہاری عطا اور بخشش اور سخاوت اور حسن سلوک محض اللہ کے لیے ہو، اس میں کوئی شائبہ اس خواہش کا نہ ہو کہ احسان کے بدلے میں تمہیں کسی قسم کی دنیوی فوائد حاصل ہوں۔ بالفاظ دیگر اللہ کے لیے احسان کرو، فائدہ حاصل کرنے کے لیے کوئی احسان نہ کرو۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نبوت کا جو کام تم کر رہے ہو یہ اگرچہ اپنی جگہ ایک بہت بڑا احسان ہے کہ تمہاری بدولت خلق خدا کو ہدایت نصیب ہو رہی ہے، مگر اس کا کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

پانچواں حکم وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِر، یعنی کسی شخص پر احسان اس نیت سے نہ کیئجے کہ جو کچھ اس کو دیا ہے اس سے زیادہ وصول ہوجائے گا، اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کو ہدیہ تحفہ اس نیت سے دینا کہ وہ اس کے معاوضہ میں اس سے زیادہ دے گا یہ مذموم و مکروہ ہے۔ قرآن کی دوسری آیت سے اگرچہ اس کا جواز عام لوگوں کے لئے معلوم ہوتا ہے مگر وہ بھی کراہت سے خالی نہیں اور شریفانہ اخلاق کے منافی ہے۔ خصوصاً رسول اللہ ﷺ کے لئے تو اس کو حرام قرار دیا گیا (قالہ ابن عباس)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تالیف کلام کی ایک شکل اور اس کا حل: ’مَنٌّ‘ کے معنی جس طرح احسان کرنے کے آتے ہیں اسی طرح کسی چیز کو کاٹ دینے کے بھی آتے ہیں۔ سورۂ قلم میں فرمایا ہے: ’وَاِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ‘ (۳) (اور بے شک تمہارے لیے ایک کبھی نہ منقطع ہونے والا صلہ ہے) یعنی جس انذار و تبلیغ کی تمہیں ہدایت کی جا رہی ہے اس کو برابر جاری رکھنا۔ یہ خیال ترک کر کے کہ اب کافی انذار کیا جا چکا، مزید کی ضرورت نہیں رہی، اس عمل کو منقطع نہ کر بیٹھنا۔ تمہارے رب کی طرف سے جو حکم دیا جا رہا ہے اس پر اس وقت تک قائم و دائم رہو جب تک رب ہی کی طرف سے اس باب میں کوئی اور ہدایت تمہیں نہ ملے۔ ’تَسْتَکْثِرُ‘ یہاں نہی کا جواب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–9

6۔ 1 یعنی احسان کرکے یہ خواہش نہ کر کہ بدلے میں اس سے زیادہ ملے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: کسی کو اس نیت سے کوئی ہدیہ تحفہ دینا کہ جواب میں وہ اس سے زیادہ دے اس آیت کی رو سے ممنوع ہے۔ ایک تفسیر کے مطابق یہی حکم سورة روم : 39 میں بھی گذرا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(4) یہ ہدایت بھی آپ کو دی جاتی ہے کہ نبوت کے کام سے اپنے ذاتی مفادات کو دور رکھیں اور آپ جو عظیم کام کررہے ہیں اس پر احسان نہ جتلائیں۔ ولا تمنن تستکثر (74:6) ” اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے “۔ حضور اکرم ﷺ نے دعوت کی زندگی میں بہت کچھ صرف کرنا تھا ، اپنی پوری مادی اور اخلاقی اور جسمانی قوت اس راہ میں صرف کرنی تھی اور قربانیاں دینی تھیں لیکن رب تعالیٰ کا مطالبہ آپ سے یہ تھا کہ اس عظیم جدوجہد کو عظیم نہ سمجھیں اور کسی پر احسان نہ جتلائیں۔ دعوت اسلامی کی راہ میں اگر کسی کے اندر یہ احساس پیدا ہوجائے کہ میں نے بہت کچھ کیا ہے تو وہ ہرگز داعی نہیں رہ سکتا۔ اس راہ میں جدوجہد اس وقت عظمت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 6–7

10 یہ ہمت اور اولوالعزمی سکھلائی کہ جو کسی کو دے (روپیہ پیسہ یا علم و ہدایت وغیرہ) اس سے بدلہ نہ چاہیے۔ محض اپنے رب کے دیے پر شاکر و صابر رہ اور جو شدائد دعوت و تبلیغ کے راستہ میں پیش آئیں ان کو اللہ کے واسطے صبر و تحمل سے برداشت کر اور اسی کے حکم کی راہ دیکھ کر یہ عظیم الشان کام بدون اعلیٰ درجہ کی حوصلہ مندی اور صبر و استقلال کے انجام نہیں پائے گا۔ ان آیتوں کی تفسیر اور بھی کئی طرح کی گئی ہے لیکن احقر کے خیال میں یہی بےتکلف ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6{ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ۔ } ”اور زیادہ لینے کے لیے کسی پر احسان نہ کیجیے۔“ اس آیت کا عام اور معروف مفہوم تو یہی ہے کہ کسی پر احسان کرتے ہوئے بدلے کی توقع نہ رکھو ‘ بلکہ احسان برائے احسان کرو۔ لیکن مجھے ذاتی طور پر اس آیت کا وہ ترجمہ پسند ہے جو مولانا اصلاحی صاحب نے کیا ہے : ”اور اپنی سعی کو زیادہ خیال کر کے منقطع نہ کر !“ مَنَّ یَمُنُّ مَنًّا کے معانی احسان کرنا اور احسان جتلانا کے علاوہ توڑنے اور کاٹنے کے بھی ہیں۔ اصلاحی صاحب نے اپنے ترجمے میں اسی معنی کو اپنایا ہے۔ چناچہ اس معنی میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اپنے فرضِ منصبی سے متعلق جدوجہد کو منقطع نہ کرنا ‘ یقینا آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–9

6 بےلوث خدمت اور اللہ کے لیے صبر :۔ کسی شخص کی بےلوث خدمت کرنا بڑا حوصلہ مندی کا کام ہے۔ انسان تو یہ چاہتا ہے کہ اگر وہ کسی پر کوئی دنیوی یا دینی بھلائی کرے تو کسی نہ کسی رنگ میں اس کو اس کا بدلہ ضرور ملنا چاہیے۔ بلکہ بسا اوقات انسان کی طبیعت یہ چاہتی ہے کہ کسی پر اس نے جو احسان کیا ہے اس کا بدلہ اسے اس سے بڑھ کر ملنا چاہیے۔ یہ نظریہ خالصتاً خود غرضانہ اور مادی نظریہ ہے۔ لہذا جس عظیم مقصد کے لیے آپ کو تیار کیا جارہا تھا اور جس طرح آپ کو پوری بنی نوع انسان کی ہدایت کی خدمت سپرد کی جانے والی تھی اس کے لیے ابتدا میں ہی آپ کو یہ ہدایت کی گئی کہ کسی طرح کے فائدہ، لالچ، غرض اور معاوضہ کا طمع رکھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 5–7

3۔ (ان سختیوں پر جو راہ تبلیغ میں آپ ﷺ کو پیش آئیں گی، بنیادی عقائد کے بعد اب تعلیم فضائل اخلاق کی مل رہی ہے۔ (آیت) ” ولا تمنن تستکثر “۔ اپنے اعمال کو کثیر جاننا ان کے عوض میں رجوع خلق یا مدح کی آس لگائے رہنا، یہ سب شریعت میں قطعا ناجائز ہے۔ (آیت) ” ولربک فاصبر “۔ یعنی راہ حق میں صبر، رضائے حق ہی کی خاطر کیجئے۔ اے فاصبر علی طاعتہ واوامرہ ونواھیہ لاجل ثواب اللہ (معالم) لوجہ ربک عزوجل (ابن کثیر) (آیت) ” الرجزفاھجر “۔ یعنی باطنی نجاستوں سے بھی الگ رہیے۔ جس میں شرک کا نمبر اول ہے (آیت) ” والرجز فاھجر “۔ رجز کے معنی بت پرستی اور شرک کے ہیں۔ الرجز عبادۃ الاوثان (قاموس۔ لسان) وقیل ھوالشرک (لسان) خود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ولا تمنن تستکثر، اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جس پر احسان کرو بےغرضانہ کرو، آپ ﷺ کی عطا و بخشش، جود و سخا، حسن سلوک و ہمدردی محض اللہ کے لئے ہو اس میں کوئی شائبہ اس خواہش کا نہ ہو کہ احسان کے بدلے آپ ﷺ کو کسی قسم کے دنیوی فوائد حاصل ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کو ہدیہ و تحفہ اس نیت سے دینا کہ وہ اس کے عوض اس سے زیادہ دے گا، یہ مذموم اور مکروہ ہے، قرآن کریم کی دوسری آیات سے اگرچہ عام لوگوں کے لئے اس کا جواز معلوم ہوتا ہے مگر وہ بھی کراہت سے خالی نہیں اور شریفانہ اخلاق کے بھی منافی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا تمنن تستکثر . یعنی اس غرض کے لیے لوگوں کو اپنا مال نہ دو کہ تم کو اس سے زیادہ دیا جائے ‘ اکثر مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہی قول اختیار کیا ہے۔ قتادہ (رح) نے کہا : کسی کو مال دنیوی بدلہ کے لالچ میں نہ دو بلکہ محض اللہ کے واسطے دو ۔ کہا گیا ہے کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے (وجوبی نہیں) ضحاک و مجاہد کا قول ہے کہ یہ حکم (وجوبی) صرف رسول اللہ ﷺ کے لیے تھا۔ ضحاک نے یہ بھی کہا : سود (حصول مال بلا عوض) دو قسم کے ہیں : ایک حلال ‘ دوسرا حرام۔ حلال سود ‘ تحفے ہدیئے ہیں اور حرام سود (عرفی شرعی) سود ہے۔ حسن بصری (رح) نے اس طرح تشریح کی کہ اپنے اعمال کو کثیر سمجھ کر اللہ پر اپنے اعمال کا احسان نہ رکھو۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–7

(5۔ 7) اور گناہوں سے علیحدہ رہیے اور ان کے قریب بھی نہ جایے اور دنیا میں کسی کو معمولی چیز اس غرض سے مت دو کہ اس سے زائد دے گا یا یہ کہ اپنے عمل سے اللہ تعالیٰ پر احسان مت کرو کہ اس سے زیادہ معاوضہ چاہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ولاتمنن تستکثر :”من یمن“ احسان کرنا۔ ”استکثر“ (استفعال) زیادہ طلب کرنا۔ ”استکثر الشیء“ کا معنی کسی چیز کو زیادہ سمجھنا بھی آتا ہے۔ یعنی آپ کسی پر احسان کریں تو اس نیت سے نہیں کہ مجھے اس سے زیادہ ملے گا۔ نہ راہ حق کی طرف رہنمائی کے احسان پر کسی سے کوئی توقع رکھیں ، نہ کسی کو کچھ دے کہ اس سے زیادہ حاصل ہونے کی طلب رکھیں، تو قع اور طلب صرف اپنے پروردگار سے رکھیں۔ اس کے علاوہ یہ معنی بھی درست ہے کہ آپ کسی پر جتنا بھی احسان کریں اسے زیادہ نہ سمجھیں۔ اس آیت میں داعی کو ہر قسم کی طمع اور لالچ سے اجتناب کا حکم ہے، کیونکہ یہ چیز دعوت الی اللہ کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ولاتمنن تستکثر اس میں تین مسائل ہیں۔ استکثار کے وصف کے ساتھ احسان نہ کرنے کی صورتیں۔ مسئلہ نمبر 1۔ ولاتمنن تستکثر۔ میں گیارہ تاویلیں ہیں۔ (1) جو آپ ﷺ نبوت کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں ان کے بدلے میں اللہ تعالیٰ پر احسان نہ جتلائیے جس طرح وہ آدمی جو غیر کی وجہ سے کوئی چیز اٹھاتا ہے تو اسے کثیر خیال کرتا ہے۔ (2) غیر کو عطیہ نہ دو کہ اس کے عوض میں زیادہ کے طالب ہو یہ حضرت ابن عباس عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے، ضحاک نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اسے رسول اللہ پر حرام کیا کیونکہ رسول اللہ کو آداب میں سب سے شرف والے اور اخلاق میں سب سے جلیل کا حکم دیا گیا ہے جب کہ آپ کی امت کے لیے مباح قرار دیا، یہ مجاہد کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–7

احسان جتانے کی ممانعت 24۔ ابن المنذر نے حماد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابی ؓ کے مصحف میں یوں پڑھا آیت ولا تمنن تستکثر۔ 25۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تمنن تستکثر سے مراد ہے کہ آپ کسی کو کوئی چیز نہ دیں اس نیت سے تاکہ آپ کو اس سے زیادہ دیا جائے اور یہ آیت نبی مکرم ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 26۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے آیت ولا تمنن تستکثر کے بارے میں روایت کیا کہ آپ کوئی چیز نہ دیں اس نیت سے کہ آپ کو اس سے زیادہ دیا جائے۔ اور یہ حکم نبی مکرم ﷺ کے لیے خاص ہے اور عام لوگوں کو وسعت دی گئی ہے۔ 27۔ الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے آیت ولا تمنن تستکثر کے بارے میں روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَا تمنُنْ تَسْتَكْثِرُ : اور آپ ﷺ احسان مت کریں کثرت (بہت معاوضہ) چاہتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ006﴾ یعنی کسی پر احسان کرتے ہوئے یہ نیت نہ رکھو کہ جس کو دے رہا ہوں یہ شخص مجھے اس کے بدلہ میں زیادہ دے گا، نہ زبان سے طلب کرو نہ دل میں اس کا خیال رکھو، جو دینا ہو اللہ کی رضا کے لیے دے دو ۔ سورة ٴ دھر میں اللہ کے بندوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے : ﴿وَ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيْمًا وَّ اَسِيْرًا 008 اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا 009﴾ (اور کھانا کھلاتے ہیں۔ کھانے کی محبت ہوتے ہوئے مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو اور کہتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–31

حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–7

4:۔ ” ولا تمنن “ تسکثر مرفوع ہے اور لاتمنن کے فاعل سے حال ہے یہ نہی کا جواب نہیں ورنہ مجزوم ہوتا۔ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کی طرف سے تبلیغ پر مامور ہوں۔ اس لیے آپ لوگوں پر نبوت اور تعلیم و تبلیغ کا احسان نہ دھریں کہ آپ کو بکثرت دولت حاصل ہو۔ آپ کا اجر وثواب اللہ کے ذمہ ہے قال ابن زید معناہ لاتمنن بالنبوۃ علی الناس فتاخذ علیہا عوضا واجرا من الدنیا (مظہری ج 10 ص 125) یعنی آپ محض لوجہ اللہ تبلیغ کریں، کسی سے اجر و معاوضہ کی توقع نہ رکھیں اور نہ کسی کو دعوت و تبلیغ کا احسان جتائیں۔ ” ولربک فاصبر “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے کہ کفار و مشرکین کی طرف سے تبلیغ و توحید پر تکلیفیں آئیں تو ان سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۝ 6 لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب : المدثر اصلہ المتدثر ادغمت التاء فی الدال للمجانستہ وقرء الجمہور بالادغام۔ والدثارما یلبس فوق الشعار والشعار مایلی الجسدومنہ قولہ (علیہ السلام) الانصارشعار والناس دثار۔ فانذر الفاء فیہ وفیما بعدہ لافادۃ معنی الشرط کانہ قال مایکن من شیئ۔ فانذروکبر۔ وقال ابن جنی ھو کقولک زیدا فاضرب فالفاء زائدۃ وربک و ثیابک والرجز منصوب بفعل محذوف یفسرہ مابعدہ تستکثر بالرفع علی انہ حال وبالجزم علی انہ جواب النھی وبالنصب علی تقدیر لتستکثروقیل علی تقدیر ان وبقاء علمھا۔ تفسیر : بخاری و مسلم وغیرہما نے نقل کیا ہے کہ ابوسلمۃ بن عبدالرحمن نے کہا سب سے پہلے یا ایہا المدثر نازل ہوئی اس پر یحییٰ بن ابی کثیر نے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلاَ تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ ۔ (المدثر : 6) (اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے۔ ) مَن اور اِسْتِکْثَارْ کا مفہوم وَلاَ تَمْنُن، مَنٌّ سے ہے۔ اس کا ایک معنی ہے احسان کرنا۔ اور اس معنی میں یہ لفظ عربی زبان میں عام استعمال ہوتا ہے۔ تَسْتَکْثِرُ ، استکثار سے ہے۔ اس کا ایک معنی ہے، کسی چیز کا زیادہ چاہنا۔ مثلاً سورة الاعراف آیت 188 میں ہے وَلَوْکُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لاَ سْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ ” اگر میں غیب جانتا تو میں بہت ساری بھلائیاں اکٹھی کرلیتا۔ “ اس لحاظ سے اس آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ آپ کسی پر احسان اس نیت سے نہ کریں کہ جو کچھ اس کو دیا ہے اس سے زیادہ وصول ہوجائے گا یعنی آپ کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–7

فہم القرآن ربط کلام : نبوت کے آغاز میں آپ ﷺ کو مزید ہدایات۔ دعوت دینے والے کی دعوت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو اگر وہ ان باتوں کا خیال نہیں رکھتا تو لوگ اس کی شخصیت اور دعوت سے متاثر ہونے کی بجائے اس سے دور بھاگ جائیں گے اس لیے نبوت کے ابتدائی دور میں آپ ﷺ کو درج ذیل ہدایات دی گئیں۔ 1 ۔ اپنے لباس کو صاف اور اجلا رکھیں، یاد رہے کہ اس زمانے میں لوگ اس شخص کو پارسا سمجھتے تھے جو دنیا کے امور سے الگ تھلگ رہتا اور صاف ستھرا لباس پہننے سے پرہیز کرتا تھا۔ اسلام ترک دنیا اور گندہ رہنے کو انتہائی ناپسند سمجھتا ہے، بیشک دین میں سادگی کو بڑی اہمیت حاصل ہے لیکن انسان کا پاک اور صاف ستھرا رہنا نہایت ضروری ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اعلیٰ اخلاق کی تلقین : 6 : وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ (اور کسی کو اس غرض سے مت دو کہ زیادہ معاوضہ چاہو) رفع کے ساتھ تستکثر حال ہونے کی وجہ سے منصوب المحل ہے۔ ای لا تعط مستکثرا رائیا لما تعطیہ کثیرا تم کثرت طلب کرنے کیلئے مت دو یہ خیال کرتے ہوئے کہ جو کچھ تم دے رہے ہو وہ کثیر ہے۔ نمبر 2 : مت دو اس حال میں کہ تم اس سے زیادہ چاہنے والے ہو جو تم نے دیا۔ اس لئے کہ آپ کو اعلیٰ ترین اخلاق کا حکم دیا گیا ہے۔ اور عمدہ ترین آداب بتلائے گئے ہیں۔ تمننؔ یہ مَنّ علیہ سے بنا ہے جبکہ وہ انعام کرے۔ حسن نے لا تستکثِرسکون کے ساتھ پڑھا اور اس کو جواب نہی قرار دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” والرجز فاھجر “ ابو جعفر اور حفص نے عاصم اور یعقوب سے ” الرجز “ راء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ان دونوں کی زیر کے ساتھ اور یہ دولغتیں ہیں اور ان دونوں کا معنی ایک ہے۔ مجاہد، عکرمہ، قتادہ، زہری، ابن زید اور ابو اسلمہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں الرجز سے مراد بت ہیں۔ فرمایا ” فاھجرھا “ ان کے قریب نہ جائو اور کہا گیا ہے اس میں زاسین سے تبدیل کی گئی ہے اور عرب سین اور زاء کو ایک دوسرے کی جگہ لاتے رہتے ہیں ان کے مخرج کے قریب ہونے کی وجہ سے اور اس تاویل کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ” واجتنبوا الرجس میں الاوثان “ ہے اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ اس کا معنی آپ گناہوں کی جگہوں کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ علماء مفسرین نے اس باب میں بہت بڑا اختلاف کیا ہے کہ قرآن شریف کی سورتوں میں سب سے پہلے اقرا باسم رباک الذی خلق نازل ہوئی ہے یا سورة مدثر نازل ہوئی ہے۔ صحیحین 1 ؎ کی حضرت جابر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی دونوں حدیثوں کو ملا کر دیکھا جائے تو رفع اس اختلاف کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر اور حافظ ابن کثیر اور خطیب وغیرہ نے بیان کیا ہے آنحضرت ﷺ کے رویا صادقہ کے عبد پہلے پہل وحی کا نزول جو شروع ہوا تو سب سے پہلے اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی پھر چند روز تک وحی بند رہی اس وحی کی بندش کے بعد پھر جو سلسلہ وحی کا چلا تو سورة مدثر نازل ہوئی غرض صحیح قول یہی ہے کہ سورة مدثر کا نزول اقراء سے موخر اور سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ ) یعنی آپ نے لوگوں پر جو دینی اور دنیاوی احسانات کیے ہیں انہیں جتلائیں نہیں کہ اس احسان کے بدلے میں زیادہ حاصل کریں اور ان احسانات کی وجہ سے اپنے آپ کو لوگوں سے افضل سمجھیں بلکہ جب بھی آپ کے لیے ممکن ہو آپ لوگوں پر احسان کریں، پھر ان پر اپنے اس احسان کو بھول جائیے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کیجئے جس پر آپ نے احسان کیا ہے اسے اور دوسروں کو برابر سطح پر رکھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کسی کو کوئی چیز اس لیے عطا نہ کریں کہ آپ کا ارادہ ہو کہ وہ آپ کو اس سے بڑھ کر بدلہ عطا کرے تب یہ نبی اکرم کے ساتھ مختص ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

6 ۔ استکثار کی بناء پر احسان کی ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے بلکہ جو بھی نیکی اور احسان کرنا ہو وہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کرو کہ یہی درحقیقت اساس و بنیاد ہے تمام نیکیوں اور خوبیوں کی اسی طرح کار رسالت کی ادائیگی کے عوض بھی کسی سے کسی طرح کے بدلے کی امید نہ رکھو، بلکہ یہ اعلیٰ ترین نیکی بھی صرف اور صرف اپنے رب کی رضا کے لئے کرو، اور اسی سے اس کے اجر و صلہ کی امید رکھو، اسی طرح ایک اور مطلب اس ارشاد ربانی کا یہ بھی بنتا ہے کہ اپنی کسی نیکی اور نیک عمل کو کوئی بڑی چیز نہیں سمجھنا کہ اللہ پاک کا حق بہرحال بہت بڑا ہے، سبحانہ و تعالیٰ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

اصلاح انسان کے احکامات تشریح : اب تک تو رسول اللہ ﷺ دین کی تبلیغ چپکے چپکے صرف اہل خاندان یا قریبی رفقا تک ہی کرتے تھے مگر اب ان کو حکم دیا گیا ہے کہ اب اسلام کی تبلیغ سر عام شروع کر دو ۔ جیسا کہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں اسلام کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اس کا آغاز 622؁ء یعنی جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو ہوا اور پھر اسی صدی کے ختم ہونے تک اسلام پورے مشرق وسطی شمالی افریقہ اور اسپین میں پھیل گیا۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کے وصال کے صرف ایک صدی کے اندر اندر ماوراء النہر سے لے کر اندلس تک سب اسلام کے حلقے میں آگئے۔ تو یہ سب کیسے ہوا ؟ صرف ایک مرد کامل کی مقدس تعلیمات سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–31

سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی کسی کو اس نیت سیت حفہ نہیں دینا چائے کہ کل اس سے بڑاتحفہ وصول کیا جائے۔ … دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ نبوت کا جو بار آپ پر ڈالا گیا ہے۔ اس یبڑا سمجھتے ہوئے اپنے رب پر احسان جتانے سے پرہیز کیجیے۔ ان جریر نے اسمفہوم کو پسند کیا ہے اور حاظ ابن کثیر نے اسے واضح تربتایا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:6) ولا تمنن تستکثر۔ واؤ عاطفہ، لا تمنن فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ من (باب نصر) مصدر۔ سے بمعنی احسان کرنا۔ تو احسان نہ رکھ۔ تو احسان نہ کرو۔ تستکثر : مضارع معروف صیغہ واحد مذکر حاضر۔ استکثار (استفعال) مصدر تو زیادہ چاہتا ہے۔ زیادہ چاہتے ہوئے۔ ضمیر فاعل لا تمنن سے حال ہے۔ تو کسی پر احسان نہ کر درآنحالیکہ اس کے عوض زیادہ کی امید رکھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–31

لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 4) یعنی جیسے کہ دنیا میں ہدیے اور نیوتے دینے کا دستور ہے کہ دینے والایہ خیال کرتا ہے کہ جس کو میں نے دیا ہے اور وہ اس سے زیادہ مجھے دے دے گا، اس قسم کے نیوتے اور ہدیے شرعاجائز ہیں مگر نبی کریم کو اس سے منع فرمایا گیا ، کیونکہ شان نبوت بہت ارفع واعلی ہے اور اس منصب عالی کے لائق یہی ہے کہ جس کو جو دیں وہ محض کرم ہو اس سے لینے یا نفع حاصل کرنے کی نیت نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] یعنی تبلیغ رسالت کا احسان لوگوں پر نہ جتاؤ اور اس کا کوئی فائدہ اپنی ذات کے لئے حاصل نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–11

سورة المدثر 1: آثار نبوت سے متوتر انسان کو تبلیغ و اشاعت کے لئے ابھارا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ اٹھئے ! اور لوگوں کو آگاہ کیجئے ۔ ربوبیت کے تخیل کی شرک اور بت پرستی سے تذلیل ہورہی ہے ۔ آپ اس کو قول وعمل کے ساتھ بلند کیجئے دل کو پاکیزہ بنائیے ۔ اور فکروخیال کی ہر نجات کو جھٹلا دیجئے ۔ اور ان فرائض کو اس طرح خلوص کے ساتھ ادا کیجئے ۔ کہ ان لوگوں کو ممنون کرکے مال و دولت میں فراوانی کرنا مقصود نہ ہو ۔ بلکہ محض اپنے فرض منصبی سے عہدہ برا ہوتا ہو ۔ گویا مبلغ حق وصداقت کے لئے پانچ چیزوں کا ہونا ضروری ہے ۔ اولاقیام واستعذاف ثانیا اعلاء کلمۃ اللہ کا جذبہ ثالثا قلب کی پاکیزگی اور اربقا برائی کی باتوں سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) اور کسی پر اس لئے احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ بدلا چاہو یعنی مت دے کسی کو زیادہ لینے کو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–29

ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 5–10

(اور بت کو تو بالکل چھوڑے رکھو) یا سب گناہوں سے کنارہ کش ہوجاؤ، یعنی جس تقوی پر ہو اسی پر رہو۔ (اور اس لیے اھسان نہ کرو کہ بدلہ زیادہ چاہو) یا نیک کام کر کے خدا پر احسان نہ رکھ ، کہ اس کو تو بہت شمار کرے۔ یا۔۔۔ تبلیغ احکام کر کے لوگوں پر احسان نہ جتا کہ ان سے بہت بدلا تو طلب کرے ۔ (اور اپنے رب ہی پر جمے رہو) یعنی اپنے رب کی رضا مندی کے واسطے صبر کرو۔ یا۔۔۔ موارد قضا کے تحت میں خدا کے واسطے صابر رہو ، اور جا لو (کہ جہاں پھونکا گیا صور میں) یعنی دوسرا نفخہ کہ بعث اس کا اثر ہے ، (تو) یہ پھونکنا جس دن ہوگا (وہ دن دشوار دن ہے۔ کافروں پر آسان نہیں ہے) ۔ اگرچہ ہول ہیبت شدت اس دن عام ہوگی مگر حق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Injunction [ 5] وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ (...and do no favour [ to anyone merely ] to ask more [ in exchange ]....74:6). In other words, no gift should be given to anyone seeking to get back in return more than what was given. This indicates that it is reprehensible to give to someone a gift with the intention that the person will give him a higher gift. Although it seems to be allowed, by another verse of the Qur'an, for common people, yet it is reprehensible and morally unrighteous - especially for the Holy Prophet, it is unlawful, as explained by Ibn ` Abbas

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 The words wa Ia tamnun tastakthir in the original are so vast.in meaning that no one sentence can convey their full sense in translation. Their one meaning is: "Whomever you favour, you should favour him without any selfish motive. Your bestowal of an endowment and donation, your generosity and good treatment should be only for the sake of Allah: there should be no trace in it of the desire that you should receive any worldly gains in return for the favour done. In other words, do good to others for the sake of Allah, not for seeking any benefits." The second meaning is: "Although the…

Read the full tafseer →