وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ ۟وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ
اور ناپاکی سے دور رہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
And uncleanliness avoid
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ ۟وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ
اور ناپاکی سے دور رہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
And uncleanliness avoid
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir
اور گندگی سے دور رہو
اور ناپاکی سے دور رہو
ناپاکی کو چھوڑ دے
اور گندگی سے کنارہ کرلو۔
اور بتوں سے دور رہو،
اور (حسبِ سابق گناہوں اور) بتوں سے الگ رہیں،
اور پلیدگی کو پس چھوڑ دے۔
اور گندگی سے دور رہیے
اور ناپاکی کو چھوڑ
گندگی سے دور رہو
اور بتوں سے الگ رہئے
اور ہر قسم کی گندگی سے دور رہیے۔
اور ناپاکی سے دور رہو۔
and shun uncleanness,
and keep away from filth,
and keep away from filth,
And keep away from Ar-Rujz!
Pollution shun!
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And uncleanliness avoid
stay away from sins
And uncleanness do shun,
And pollution shun.
And all abomination shun!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–10
ابتدائے وحی حضرت جابر سے صحیح بخاری شریف میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۙ) 74۔ المدثر :1) نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی آیت (اقرا باسم) کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ یحییٰ بن ابو کثیر فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کونسی آیتیں نازل ہوئیں ؟ تو فرمایا آیت (یا ایھا المدثر) میں نے کہا لوگ تو آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) بتاتے ہیں فرمایا میں نے حضرت جابر سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے…
Read the full tafseer →سورة الْمُدَّثِّر 5 گندگی سے مراد ہر قسم کی گندگی ہے خواہ وہ عقائد اور خیالات کی ہو، یا اخلاق و اعمال کی، یا جسم و لباس اور رہن سہن کی، مطلب یہ ہے کہ تمہارے گرد و پیش سارے معاشرے میں طرح طرح کی جو گندگیاں پھیلی ہوئی ہیں ان سب سے اپنا دامن بچا کر رکھو۔ کوئی شخص کبھی تم پر یہ حرف نہ رکھ سکے کہ جن برائیوں سے تم لوگوں کو روک رہے ہو ان میں سے کسی کا بھی کوئی شائبہ تمہاری اپنی زندگی میں پایا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →چوتھا حکم یہ دیا گیا والرُّجْزَ فَاهْجُرْ ، رجز بضم الرا کسر ہادونوں کے ایک ہی معنے ہیں۔ ائمہ تفسیر مجاہد، عجرمہ، قتادہ، زہری، ابن زید وغیرہ نے اس جگہ رجز کے معنے بتوں کے قرار دیئے ہیں اور حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں اس سے مراد ہر گناہ اور مصیبت منقول ہے۔ معنے آیت کے یہ ہیں کہ بتوں کو یا گناہ و معصیت کو چھوڑیئے۔ رسول اللہ ﷺ تو پہلے ہی سب کو چھوڑے ہوئے تھے آپ کو اس کا حکم کرنے کے معنے یہ ہیں کہ آئندہ بھی ان چیزوں سے دور رہیں اور درحقیقت یہ حکم امت کے لئے تعلیم ہے جو غایت تاکید کے لئے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے دیا گیا ہے کہ تاکہ وہ سمجھیں کہ جب پیغمبر معصوم کو بھی اس کا حکم ہے تو ہمیں اس کا…
Read the full tafseer →’رُجز‘ ’رِجز‘ اور ’رِجس‘ سب قریب المخرج اور تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں۔ اس کا استعمال اس گندگی کے لیے ہوتا ہے جس کو دیکھ کر طبیعت میں ارتعاش اور گھن پیدا ہو۔ یوں تو اس سے ہر قسم کی گندگی مراد ہو سکتی ہے لیکن یہاں یہ خاص طور پر شرک کی گندگی کے لیے آیا ہے اور مقصود اسی مضمون کی تاکید ہے جو ’وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ یعنی اپنے دامن کو شرک کے چھینٹوں سے محفوظ رکھنے کے لیے شرک کی ناپاکی سے دور رہو۔ اس ہدایت کی ضرورت اس لیے نہیں تھی کہ العیاذ باللہ آپ کے کسی شرک میں مبتلا ہونے کا اندیشہ تھا۔ آپ جس طرح دور اسلام میں طاہر و مطہر رہے اسی طرح جاہلیت میں بھی شرک کے ہر شائبہ سے پاک…
Read the full tafseer →5۔ 1 یعنی بتوں کی عبادت چھوڑ دے۔ یہ دراصل لوگوں کو آپ کے ذریعے سے حکم دیا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →2: بہت سے مفسرین نے یہاں گندگی سے مراد بت لئے ہیں، لیکن الفاظ ہر قسم کی گندگی کے لیے عام ہیں۔
Read the full tafseer →(3) آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ شرک ترک کردیں اور تمام وہ افعال ترک کردیں جو آخرت میں عذاب کا موجب ہوں گے۔ والرجز فاھجر (74:5) ” اور گندگی سے دور ہوجاﺅ“۔ حضور اکرم ﷺ تو پہلے سے ہر قسم کے شرک اور ان باتوں سے اجتناب کررہے تھے جو آخرت میں عذال کے موجب تھے اور منصب نبوت پر فائز ہونے سے پہلے ہی آپ اس ہدایت پر عمل پیرا تھے ، کیونکہ آپ نے اللہ کے حکم سے پہلے اپنی فطرت سلیمہ کے تقاضے کے مطابق ان برائیوں کو ترک کردیا تھا۔ تمام نظریاتی ، اخلاقی ، رواجی اور عملی جاہلیت سے آپ پہلے سے مجتنب تھے۔ کسی روایت میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ آپ نے کسی جاہلی رسم اور شرکیہ عمل میں شرکت کی ہو۔ پس یہ ہدایت دراصل اس بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
9 اس سورت کے نازل ہونے پر حکم ہوا کہ مخلوق کو خدا کی طرف بلائیں۔ پھر نماز وغیرہ کا حکم ہوا۔ نماز کے لیے شرط ہے کہ کپڑے پاک ہوں اور گندگی سے احتراز کیا جائے۔ ان چیزوں کو یہاں بیان فرما دیا۔ یہ ظاہر ہے کہ جب کپڑوں کا حسی و معنوی نجاستوں سے پاک رکھنا ضروری ہے تو بدن کی پاکی بطریق اولیٰ ضروری ہوگی۔ اس لیے اس کے بیان کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ بعض علماء نے کپڑوں کو پاک رکھنے سے نفس کا برے اخلاق سے پاک رکھنا مراد لیا ہے۔ اور گندگی سے دور رہنے کے معنی یہ لیے ہیں کہ بتوں کی گندگی سے دور رہیے۔ جیسے اب تک دور ہیں۔ بہرحال آیہ ہذا میں طہارت ظاہری و باطنی کی تاکید مقصود ہے۔ کیونکہ بدون اس کے رب کی بڑائی کا…
Read the full tafseer →آیت 5{ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ۔ } ”اور ہر قسم کی گندگی سے دور رہیے۔“ یعنی ظاہری اور باطنی نجاستوں سے خود کو بچا کر رکھئے۔ ظاہر ہے باطنی گندگیوں میں سب سے بڑی گندگی شرک ہے۔ اسی لیے بعض مترجمین نے الرُّجْزَ کا ترجمہ ”بتوں کی گندگی“ کیا ہے۔
Read the full tafseer →5 باطنی صفائی :۔ رُجْزٌ سے مراد ظاہری میل کچیل، گندگی اور نجاست بھی ہے۔ اور باطنی یعنی دل کی نجاست یا گندگی بھی۔ اس لفظ کا اطلاق ان تمام شیطانی وساوس پر ہوتا ہے جو دل میں موجود ہوں۔ خواہ یہ غیر اللہ کی عبادت سے متعلق ہوں یا برے خیالات سے۔ اور یہ باطنی صفائی ظاہری صفائی سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
3۔ (ان سختیوں پر جو راہ تبلیغ میں آپ ﷺ کو پیش آئیں گی، بنیادی عقائد کے بعد اب تعلیم فضائل اخلاق کی مل رہی ہے۔ (آیت) ” ولا تمنن تستکثر “۔ اپنے اعمال کو کثیر جاننا ان کے عوض میں رجوع خلق یا مدح کی آس لگائے رہنا، یہ سب شریعت میں قطعا ناجائز ہے۔ (آیت) ” ولربک فاصبر “۔ یعنی راہ حق میں صبر، رضائے حق ہی کی خاطر کیجئے۔ اے فاصبر علی طاعتہ واوامرہ ونواھیہ لاجل ثواب اللہ (معالم) لوجہ ربک عزوجل (ابن کثیر) (آیت) ” الرجزفاھجر “۔ یعنی باطنی نجاستوں سے بھی الگ رہیے۔ جس میں شرک کا نمبر اول ہے (آیت) ” والرجز فاھجر “۔ رجز کے معنی بت پرستی اور شرک کے ہیں۔ الرجز عبادۃ الاوثان (قاموس۔ لسان) وقیل ھوالشرک (لسان) خود…
Read the full tafseer →والرجز فاھجر، گندگی سے مراد ہر قسم کی گندگی ہے، خواہ وہ عقائد و خیالات کی گندگی ہو یا اخلاق و اعمال کی یا جسم و لباس اور رہن سہن کی، مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے گردوپیش سارے معاشرے میں طرح طرح کی جو گندگیاں پھیلی ہوئی ہیں ان سب سے اپنا دامن بچا کر رکھو، کوئی شخص آپ ﷺ پر انگلی نہ اٹھا سکے کہ جن برائیوں سے آپ ﷺ لوگوں کو روک رہے ہوں ان میں سے کسی کا بھی کوئی شائبہ آپ ﷺ کی زندگی میں پایا جائے۔
Read the full tafseer →والرجز فاھجر . مجاہد ‘ عکرمہ ‘ قتادہ ‘ زہری ‘ ابن زید ؓ اور ابو سلمہ نے کہا رجز سے مراد ہیں بت یعنی بتوں کو چھوڑ دو اور ان کے قریب بھی نہ جاؤ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : گناہ کو چھوڑ دو ‘ ابو العالیہ اور ربیع نے کہا : رُجز کا معنی ہے بت اور رجز کا معنی ہے نجاست اور گناہ۔ ضحاک نے کہا : شرک مراد ہے اور کلبی کے نزدیک عذاب یعنی ایسے عقائد و اعمال ترک کر دو جو موجب عذاب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(5۔ 7) اور گناہوں سے علیحدہ رہیے اور ان کے قریب بھی نہ جایے اور دنیا میں کسی کو معمولی چیز اس غرض سے مت دو کہ اس سے زائد دے گا یا یہ کہ اپنے عمل سے اللہ تعالیٰ پر احسان مت کرو کہ اس سے زیادہ معاوضہ چاہو۔
Read the full tafseer →(والرجز فاھجر :) اس کا لفظی معنی ہے ”اور پلیدی کو پس چھوڑ دے۔“ مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی پلیدی سے علیحدہ رہو۔”رجز“ اور ”رجس“ ایک ہی چیز ہے، اس کا سب سے پہلا مصداق بت اور غیر اللہ کے آستانے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(فاجتبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور) (الحج : 30)”پس بوتں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو۔“ یعنی پلیدی سے بچو، جو بت ہیں۔ علاوہ ازیں ”الرجز“ (پلیدی) میں ہر قسم کے فاسد اعتقاد، برے اخلاق جھوٹے اقوال ، قبیح اخلاق اور نظر آنے والی اور نظر نہ آنے والی تمام نجاستیں شامل ہیں۔ ان دونوں آیتوں میں داعی کو خود کو ہر لحاظ سے پاک صاف رکھنے کی تاکید ہے ، کیونکہ اگر وہ خود ہی ناپاک یا…
Read the full tafseer →آیت۔ والرجز فاھجر۔ والرجز فاھجر۔ مجاہد اور عکرمہ نے کہا : یہاں رجز سے مراد بت ہیں اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان، فاجتنبوالرجس من الاوثان (الحج 30) حضرت ابن عباس اور ابن زید نے بھی یہی کہا ہے، حضرت ابن عباس سے یہ بھی منقول ہے گناہوں کو چھوڑ دیجئے۔ مغیرہ نے ابراہیم نخعی سے اس طرح روایت کیا ہے کہ رجز سے مراد گناہ ہے قتادہ نے کہا، رجز سے مراد اوصاف اور نائلہ دوبت ہیں جو بیت اللہ کے قریب نصب تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد عذاب ہے جب کہ مضاف مقدر ہے معنی ہوگا عذاب کے عمل کو چھوڑ دے یا مراد ہے ایسے عمل کو چھوڑ دے جو عذاب کی طرف لے جانے والا ہے رجز کا اصل معنی عذاب ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے،…
Read the full tafseer →22۔ الطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے آیت والرجز فاہجر میں الرجز کو راہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا۔ 23۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یوں فرماتے سنا : آیت والرجز فاہجر راء کے رفع کے ساتھ اور فرمایا کہ وہ بت مراد ہیں۔
Read the full tafseer →[وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ : اور گندگی کو پس آپ ﷺ چھوڑ دیں ] نوٹ۔ 3: رُجْزٌ۔ رِجْزٌ اور رِجْسٌ تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں۔ اس کا استعمال اس گندگی کے لیے ہوتا ہے جس کو دیکھ کر طبیعت میں ارتعاش اور گھن پیدا ہو۔ یوں تو اس سے ہر قسم کی گندگی مراد ہوسکتی ہے لیکن یہاں یہ خاص طور پر شرک کی گندگی کے لیے آیا ہے کہ اپنے دامن کو شرک کے چھینٹوں سے محفوظ رکھنے کے لیے شرک کی ناپاکی سے دور رہو۔ اس ہدایت کی ضرورت اس لیے نہیں تھی کہ العیاذ باللہ آپ ﷺ کے کسی شرک میں مبتلا ہونے کا اندیشہ تھا۔ مقصود صرف کفار و مشرکین کو آگاہ کرنا تھا کہ وہ جان لیں کہ جو خبردار کرنے والا ان کے پاس آیا ہے اس کا موقف ان کے دین شرک کے…
Read the full tafseer →مزید فرمایا ﴿ وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ (اور گناہوں کو چھوڑے رہو) اس میں اعضاء کی تطہیر کا حکم بھی ہوگیا کیونکہ عموماً گناہ اعضاء وجوارح سے ہوتے ہیں، بعض حضرات نے الرجز سے عبادۃ الاصنام مراد لیا ہے یعنی بتوں کی عبادت چھوڑو رسول اللہ ﷺ نے کبھی بتوں کی عبادت نہیں کی یہ خطاب آپ کے توسط سے مشرکین مکہ کو ہے۔ صاحب روح المعانی نے (صفحہ 136: ج 29) بعض اکابر سے نقل کیا ہے کہ الرجز سے دنیا مراد ہے جو سب سے بڑا بت ہے کیونکہ بتوں کی عبادت تو مندروں میں ہوتی ہے اور دنیا کی عبادت ہر جگہ مساجد تک میں دنیا کی عبادت ہوتی ہے یعنی دنیا کے لیے جنگ کی جاتی ہے۔ دنیا کے لیے مساجد بنائی جاتی ہیں۔ دنیا کے لیے قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3:۔ ” وثیابک فطہر “ اپنے عمل کی اصلاح کر اور اپنے نفس کو اخلاق فاضلہ اور شمائل جمیلہ سے آراستہ کرتا کہ تبلیغ و انذار کے مقصد میں کامیابی کی راہ ہموار ہوجائے۔ انہ امر لہ ﷺ بالتخلق بالاخلاق الحسنۃ الموجبۃ لقبول الانذر بعد امرہ علیہ الصلاۃ والسالم بتخصیصہ ربہ عز وجل بالتکبیر الخ (روح ج 29 ص 118) ۔ ” والرجز فاھجر “ رجز سے اوثان اور معبودان باطل مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس، ابن زید، مجاہد اور عکرمہ رحمہم اللہ سے منقول ہے۔ قال مجاھد وعکرمۃ یعنی الاوثان، دلیلہ قولہ تعالیٰ فاجتنبوا الرجس من الاوثان، وقالہ ابن عباس وابن زید (قرطبی ج 19 ص 65) ۔ یعنی معبودان باطل کی عبادت چھوڑے رہو۔ ” فاھجر “ سے…
Read the full tafseer →وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ 5 رجز أصل الرِّجْزِ : الاضطراب، ومنه قيل : رَجَزَ البعیرُ رَجَزاً ، فهو أَرْجَزُ ، وناقة رَجْزَاءُ : إذا تقارب خطوها واضطرب لضعف فيها، وشبّه الرّجز به لتقارب أجزائه وتصوّر رِجْزٍ في اللسان عند إنشاده، ويقال لنحوه من الشّعر أُرْجُوزَةٌ وأَرَاجِيزُ ، ورَجَزَ فلان وارْتَجَزَ إذا عمل ذلك، أو أنشد، وهو رَاجِزٌ ورَجَّازٌ ورِجَّازَةٌ. وقوله : عَذابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ [ سبأ/ 5] ، فَالرِّجْزُ هاهنا کالزّلزلة، وقال تعالی: إِنَّا مُنْزِلُونَ عَلى أَهْلِ هذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزاً مِنَ السَّماءِ [ العنکبوت/ 34] ، وقوله : وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ [ المدثر/ 5] ، قيل : هو صنم، وقیل : هو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : المدثر اصلہ المتدثر ادغمت التاء فی الدال للمجانستہ وقرء الجمہور بالادغام۔ والدثارما یلبس فوق الشعار والشعار مایلی الجسدومنہ قولہ (علیہ السلام) الانصارشعار والناس دثار۔ فانذر الفاء فیہ وفیما بعدہ لافادۃ معنی الشرط کانہ قال مایکن من شیئ۔ فانذروکبر۔ وقال ابن جنی ھو کقولک زیدا فاضرب فالفاء زائدۃ وربک و ثیابک والرجز منصوب بفعل محذوف یفسرہ مابعدہ تستکثر بالرفع علی انہ حال وبالجزم علی انہ جواب النھی وبالنصب علی تقدیر لتستکثروقیل علی تقدیر ان وبقاء علمھا۔ تفسیر : بخاری و مسلم وغیرہما نے نقل کیا ہے کہ ابوسلمۃ بن عبدالرحمن نے کہا سب سے پہلے یا ایہا المدثر نازل ہوئی اس پر یحییٰ بن ابی کثیر نے…
Read the full tafseer →وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْ ۔ (المدثر : 5) (اور گندگی سے دور رہو۔ ) رُجْز کا تلفظ اور مفہوم رُجْز، رِجْز اور رِجْس سب قریب المخرج اور تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں۔ گندگی کے معنی میں مستعمل ہیں۔ یہاں گندگی سے مراد ہر قسم کی گندگی ہے۔ مثلاً عقائد کی گندگی، جیسے شرک اور ریا وغیرہ۔ اور خیالات کی گندگی، مثلاً جنسی خیالات، سفلی تصورات، متکبرانہ خیالات وغیرہ۔ اخلاق و اعمال کی گندگی، مثلاً حسد و بغض، ہوسِ زر، شہرت کی طلب، دوسروں کو نقصان پہنچانے کی فکر وغیرہ۔ جسم اور لباس کی گندگی جس سے سب واقف ہیں۔ اسی طرح رہن سہن میں گری ہوئی حرکتیں اور نامناسب طرزعمل یہ وہ تمام گندگیاں ہیں جن سے انسانی زندگی آلودہ ہوجاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
فہم القرآن ربط کلام : نبوت کے آغاز میں آپ ﷺ کو مزید ہدایات۔ دعوت دینے والے کی دعوت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو اگر وہ ان باتوں کا خیال نہیں رکھتا تو لوگ اس کی شخصیت اور دعوت سے متاثر ہونے کی بجائے اس سے دور بھاگ جائیں گے اس لیے نبوت کے ابتدائی دور میں آپ ﷺ کو درج ذیل ہدایات دی گئیں۔ 1 ۔ اپنے لباس کو صاف اور اجلا رکھیں، یاد رہے کہ اس زمانے میں لوگ اس شخص کو پارسا سمجھتے تھے جو دنیا کے امور سے الگ تھلگ رہتا اور صاف ستھرا لباس پہننے سے پرہیز کرتا تھا۔ اسلام ترک دنیا اور گندہ رہنے کو انتہائی ناپسند سمجھتا ہے، بیشک دین میں سادگی کو بڑی اہمیت حاصل ہے لیکن انسان کا پاک اور صاف ستھرا رہنا نہایت ضروری ہے۔…
Read the full tafseer →5 : وَالرُّجْزَ (اور بتوں سے) قراءت : یعقوب، سہل، حفص نے ضمہ سے پڑھا ہے جبکہ دیگر قراء نے کسرہ سے پڑھا ہے۔ جس کا معنی عذاب ہے۔ اور یہاں مراد وہ افعال و اعمال ہیں جو عذاب تک پہنچانے والے ہیں۔ فَاھْجُرْ (الگ رہو) اس کے چھوڑنے پر پختگی اختیار کرو۔ کیونکہ آپ ﷺ تو اس سے پاک و صاف تھے۔
Read the full tafseer →4 ۔” وثیابک فطھر “ قتادہ اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کریں تو الثوب کے ذریعے نفس سے کنایہ کیا ہے اور یہ ابراہیم، ضحاک، شعبی اور زہری رحمہم اللہ کا قول ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” وثیابک فطھر “ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا تو ان کو گناہ اور دھوکہ پر نہ پہن، پھر فرمایا کیا تونے غیلان بن سلمہ ثقفی کا قول نہیں سنا۔ میں نے اللہ کی قسم نہ گناہ کے کپڑے پہنے اور نہ عذر کا نقاب اوڑھا اور عرب آدمی کا سچ اور وفاء میں وصف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ظاہر الثیاب یعنی پاک دامن ہے اور تو اس کے لئے کہے گا جو عذر کرے۔ بیشک اس کا دامن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ علماء مفسرین نے اس باب میں بہت بڑا اختلاف کیا ہے کہ قرآن شریف کی سورتوں میں سب سے پہلے اقرا باسم رباک الذی خلق نازل ہوئی ہے یا سورة مدثر نازل ہوئی ہے۔ صحیحین 1 ؎ کی حضرت جابر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی دونوں حدیثوں کو ملا کر دیکھا جائے تو رفع اس اختلاف کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر اور حافظ ابن کثیر اور خطیب وغیرہ نے بیان کیا ہے آنحضرت ﷺ کے رویا صادقہ کے عبد پہلے پہل وحی کا نزول جو شروع ہوا تو سب سے پہلے اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی پھر چند روز تک وحی بند رہی اس وحی کی بندش کے بعد پھر جو سلسلہ وحی کا چلا تو سورة مدثر نازل ہوئی غرض صحیح قول یہی ہے کہ سورة مدثر کا نزول اقراء سے موخر اور سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ) اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیں۔ اس ایت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ ثیاب کپڑے سے مراد تمام اعمال ہوں اور ان کی تطہیر سے مراد ہے ان کی تخلیص ان کے ذریعے سے خیرخواہی، ان کو کامل ترین طریقے پر بجالانا اور ان کو تمام مبطلات، مفسدات اور ان میں نقص پیدا کرنے والے امور، یعنی شرک ریا، نفاق، خود پسندی، تکبر، غفلت وغیرہ سے پاک کرنا ہو، جن کے بارے میں بندہ مومن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عبادات میں ان سے اجتناب کرے اس میں کپڑوں کی نجاست سے تطہیر بھی داخل ہے کیونکہ یہ تطہیر، اعمال کی تطہیر کی تکمیل ہے، خاص طور پر نماز کے اندر جس کے بارے میں بہت سے علما کا قول ہے کہ نجاست کو زائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
کپڑوں کی طہارت قول باری ہے (وثیابک فطھر۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھو) نماز کے لئے کپڑوں کو تمام نجاستوں سے پاک کرنے کے وجوب پر آیت دلالت کررہی ہے نیز یہ کہ ناپاک کپڑوں میں نماز جائز نہیں ہے کیونکہ کپڑوں کی تطہیر صرف نماز کے لئے ضروری ہے۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عمار ؓ کو اپنے کپڑے دھوتے ہوئے دیکھا، پوچھا کہ کپڑے کیوں دھو رہے ہو ؟ حضرت عمار ؓ نے عرض کیا کہ اس میں نخامہ (ناک سے نکلنے والا بلغم) لگ گیا تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ کپڑا صرف خون، پیشاب یا منی وغیرہ لگ جانے سے دھویا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ مجھے حضور ﷺ نے کپڑے میں لگے ہوئے منی کو دھو دینے کا حکم دیا تھا جب کہ وہ ابھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4 تطہیر ثیاب کا حکم و ارشاد اور اس سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ سو ان کو پاک رکھو ہر طرح کی نجاست و غلاظت سے۔ جس میں دوسرے لوگ طرح طرح مبتلاء اور ملوث ہیں، نیز پاک رکھو اپنے دامن کو ہر طرح کے اخلاقی عیوب سے، چناچہ عربی محاورہ میں پاکیزہ اخلاق والے کو طاہر الثیاب اور طاہر الذیل کہا جاتا ہے اور گندے اخلاق والے کو دنس الثیاب و دنس الذیل وغیرہ (صفوۃ البیان، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان، وغیرہ) نیز راہبانہ تصور کے برعکس اپنے کپڑوں کو ہر طرح کے میل و کچیل سے پاک و صاف رکھو کہ ایک پاکیزہ اور صاف ستھرے انسان کی پاکیزہ و ستھری زندگی کے لائق یہی ہے اور خاص کر ایسے شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
اصلاح انسان کے احکامات تشریح : اب تک تو رسول اللہ ﷺ دین کی تبلیغ چپکے چپکے صرف اہل خاندان یا قریبی رفقا تک ہی کرتے تھے مگر اب ان کو حکم دیا گیا ہے کہ اب اسلام کی تبلیغ سر عام شروع کر دو ۔ جیسا کہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں اسلام کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اس کا آغاز 622ء یعنی جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو ہوا اور پھر اسی صدی کے ختم ہونے تک اسلام پورے مشرق وسطی شمالی افریقہ اور اسپین میں پھیل گیا۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کے وصال کے صرف ایک صدی کے اندر اندر ماوراء النہر سے لے کر اندلس تک سب اسلام کے حلقے میں آگئے۔ تو یہ سب کیسے ہوا ؟ صرف ایک مرد کامل کی مقدس تعلیمات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…
Read the full tafseer →ف 8 جیسا کہ دوسری جگہ دوسری جگہ فرمایا فاخبنیوا الرجس من الاوثان “ اور بتوں کی گندی سے بچو “ (حج 30) رجز کے دوسرے معنی گناہ کے بھی ہیں یعنی ہر اس کام سے الگ رہو جو گناہ کا باعث ہو۔
Read the full tafseer →(74:5) والرجز فاھجر : واؤ عاطفہ۔ الرجز۔ پلیدی ، گناہ، عذاب، بت ۔ بغوی لکھتے ہیں رجز سے مراد اوثان یعنی بت ہیں۔ بعض کا قول ہے رجس (پلیدی) سے ہے بوجہ ہم مخرج ہونے کے س اور ز کو ایک دوسرے کی جگہ لے آتے ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ رجز (ر کے پیش کے ساتھ) بمعنی بت۔ اور ر کی زیر کے ساتھ لمبی نجاست و معصیت ہے۔ جزائیہ ہے (ملاحظہ ہو 74:3 مذکورہ بالا) اھجر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ھجر (باب نصر) مصدر۔ بمعنی چھوڑ دینا۔ دور رہنا۔ اور بتوں سے (حسب سابق) دور رہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
طہارت و پاکیزگی۔ (ف 3) مشرکین مکہ پہننے کے کپڑوں کی پاکی ناپاکی کا خیال نہ رکھتے تھے اس لیے فرمایا کہ تم اپنے کپڑے ہر طرح کی نجاست سے پاک صاف رکھو، کیونکہ نماز کے لیے طہارت ضروری ہے اور نماز کے سوا اور حالتوں میں کپڑے پاک رکھنا بہتر ہے، اور پلیدی سے دوررہنے کے معنی یہ ہیں کہ بتوں کی گندگی سے دور ہو جیسے اب تک درد ہو، بہرحال آیت ہذا میں طہارت ظاہری وباطنی کی تاکیدمقصود ہے۔
Read the full tafseer →[2] گندگی سے مراد ہر قسم کی گندگی ہے۔ خواہ وہ عقائد و اخلاق کی گندگی ہو خواہ جسم و لباس کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة المدثر 1: آثار نبوت سے متوتر انسان کو تبلیغ و اشاعت کے لئے ابھارا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ اٹھئے ! اور لوگوں کو آگاہ کیجئے ۔ ربوبیت کے تخیل کی شرک اور بت پرستی سے تذلیل ہورہی ہے ۔ آپ اس کو قول وعمل کے ساتھ بلند کیجئے دل کو پاکیزہ بنائیے ۔ اور فکروخیال کی ہر نجات کو جھٹلا دیجئے ۔ اور ان فرائض کو اس طرح خلوص کے ساتھ ادا کیجئے ۔ کہ ان لوگوں کو ممنون کرکے مال و دولت میں فراوانی کرنا مقصود نہ ہو ۔ بلکہ محض اپنے فرض منصبی سے عہدہ برا ہوتا ہو ۔ گویا مبلغ حق وصداقت کے لئے پانچ چیزوں کا ہونا ضروری ہے ۔ اولاقیام واستعذاف ثانیا اعلاء کلمۃ اللہ کا جذبہ ثالثا قلب کی پاکیزگی اور اربقا برائی کی باتوں سے…
Read the full tafseer →(5) اور ہر قسم کی پلیدگی کو خوب پاک رکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–29
ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
(اور بت کو تو بالکل چھوڑے رکھو) یا سب گناہوں سے کنارہ کش ہوجاؤ، یعنی جس تقوی پر ہو اسی پر رہو۔ (اور اس لیے اھسان نہ کرو کہ بدلہ زیادہ چاہو) یا نیک کام کر کے خدا پر احسان نہ رکھ ، کہ اس کو تو بہت شمار کرے۔ یا۔۔۔ تبلیغ احکام کر کے لوگوں پر احسان نہ جتا کہ ان سے بہت بدلا تو طلب کرے ۔ (اور اپنے رب ہی پر جمے رہو) یعنی اپنے رب کی رضا مندی کے واسطے صبر کرو۔ یا۔۔۔ موارد قضا کے تحت میں خدا کے واسطے صابر رہو ، اور جا لو (کہ جہاں پھونکا گیا صور میں) یعنی دوسرا نفخہ کہ بعث اس کا اثر ہے ، (تو) یہ پھونکنا جس دن ہوگا (وہ دن دشوار دن ہے۔ کافروں پر آسان نہیں ہے) ۔ اگرچہ ہول ہیبت شدت اس دن عام ہوگی مگر حق…
Read the full tafseer →Injunction [ 4] وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ (...and keep away from filth...74:5). The letters 'RJZ' may be read as rujz or rUz, and in either case the word has the same significance. Mujahid, ` Ikramah, Qatadah, Zuhri, Ibn Zaid and other leading authorities of Tafsir interpret the word rujz as 'idols' in this context. According to a narration of Sayyidna Ibn ` Abbas, it signifies 'any sin'. The verse enjoins to give up idols or sins. Although the Holy Prophet never indulged in idolatry at any time in his life, he is commanded, for emphasis, to abstain from it in future as he kept away from it in…
Read the full tafseer →5 "Filth" implies every kind of filth, whether of belief and thought, of morals and deeds, of the body, dress or mode of life. The versemeans: "Keep yourself free from the filth of evils which are prevalent in society around you: no one should ever impute to you the blame that your own life itself is stained in some degree with the evils that you tell others to avoid."
Read the full tafseer →