Al-Muddaththir 74:4

Al-Muddaththir · from ayah 4

74:4

وَثِیَابَكَ فَطَهِّرْ ۟وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And your clothing purify

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:4

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اپنے کپڑے پاک رکھو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اپنے (ظاہر و باطن کے) لباس (پہلے کی طرح ہمیشہ) پاک رکھیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اپنے کپڑے پس پاک رکھ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اپنے کپڑے پاک صاف رکھیے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اپنے دامن کو پاک رکھ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اپنے کپڑوں کو پاک رکھو

— مولانا اسحاق مدنی

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اپنے کپڑوں کو صاف رکھنے کا اہتمام کیجیے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and purify your clothes,

— Muhammad Taqi Usmani

and purify your clothes,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And purify your garments!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And your clothing purify

— Saheeh International

cleanse your clothes,

— Muhammad Sarwar

And your garments do purify,

— Muhammad Habib Shakir

And thine raiment purify.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 74:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

ابتدائے وحی حضرت جابر سے صحیح بخاری شریف میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۙ) 74۔ المدثر :1) نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی آیت (اقرا باسم) کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ یحییٰ بن ابو کثیر فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کونسی آیتیں نازل ہوئیں ؟ تو فرمایا آیت (یا ایھا المدثر) میں نے کہا لوگ تو آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) بتاتے ہیں فرمایا میں نے حضرت جابر سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُدَّثِّر 4 یہ بڑے جامع الفاظ ہیں جن کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ ان کا ایک مطلب یہ ہے کہ اپنے لباس کو نجاست سے پاک رکھو، کیونکہ جسم و لباس کی پاگیزگی اور روح کی پاکیزگی دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ ایک پاکیزہ روح گندے جسم اور ناپاک لباس میں نہیں رہ سکتی۔ رسول اللہ ﷺ جس معاشرے میں اسلام کی دعوت لے کر اٹھے تھے وہ صرف عقائد اور اخلاق کی خرابیوں ہی میں مبتلا نہ تھا بلکہ طہارت و نظافت کے بھی ابتدائی تصورات تک سے خالی تھا، اور حضور ﷺ کا کام ان لوگوں کو ہر لحاظ سے پاکیزگی کا سبق سکھانا تھا۔ اس لیے آپ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ اپنی ظاہری زندگی میں طہارت کا ایک اعلی معیار قائم فرمائیں۔ چناچہ یہ اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسرا حکم یہ دیا گیا وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ، ثیاب ثوب کی جمع ہے اس کے اصلی اور حقیقی معنے کپڑے کے ہیں اور مجازی طور پر عمل کو بھی ثواب اور لباس کہا جاتا ہے، قلب اور نفس کو بھی اور خلق اور دین کو بھی، انسان کے جسم کو بھی لباس سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کے شواہد قرآن اور محاورات عرب میں بکثرت ہیں۔ اس آیت میں حضرات مفسرین سے سبھی معافی منقول ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ یہ کوئی تضاد اور اختلاف نہیں۔ بطور عموم مجاز کے اگر ان الفاظ سے سبھی معنی مراد لئے جاویں تو کوئی بعد نہیں، اور معنے اس حکم کے یہ ہوں گے کہ اپنے کپڑوں اور جسم کو ظاہری ناپاکیوں سے پاک رکھئے قلب اور نفس کو باطل عقائد و خیالات سے اور اخلاق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لفظ ’ثیاب‘ کا مفہوم: لفظ ’ثِیَابٌ‘ جمع ہے ’ثَوْبٌ‘ کی جس کے معنی کپڑے کے ہیں لیکن اس کے معنی دامن کے بھی ہو سکتے ہیں۔ بلکہ کلام عرب کے شواہد سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس مفہوم میں بھی آتا ہے جس کو ہم اپنی زبان میں ’دامن دل‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ امرء القیس کا مشہور شعر ہے: وان تک قد ساء تک منی خلیفۃ فسلی ثیابی من ثیابک تنسل ’’اگر میری حرکت تجھے بری ہی لگی ہے تو میرے دامن دل کو اپنے دامن دل سے جدا کر دے تو جدا ہو جائے گی۔‘‘ اس شعر میں شارحین نے ’ثیاب‘ کو دل ہی کے معنی میں لیا ہے اور یہ معنی اس صورت میں لیے جا سکتے ہیں جب اس کو بطریق استعارہ ’دامن دل‘ کے مفہوم میں سمجھا جائے۔ امرء القیس ہی کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 یعنی قلب اور نیت کے ساتھ کپڑے بھی پاک رکھ۔ یہ حکم اس لئے دیا گیا کہ مشرکین مکہ طہارت کا اہتمام نہیں کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: یہ اسی طرح کا خطاب ہے جیسا پچھلی سورت کے شروع میں گزرا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ وہاں اصل عربی لفظ مزمل تھا اور یہاں مدثر ہے، معنی دونوں کے تقریباً ایک ہیں، اس کی تشریح کے لئے پچھلی سورت کا حاشیہ نمبر 1 ملاحظہ فرمائیں، صحیح احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ پر سب سے پہلی وحی کے طور پر تو سورة علق (سورت نمبر : 96) کی پہلی پانچ آیتیں نازل ہوئی تھیں، اس کے بعد ایک عرصے تک وحی کا سلسلہ بندرہا، پھر سورة مدثر کی یہ آیتیں نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(2) دوسری ہدایت یہ دی جاتی ہے : وثیابک فطھر (74:4) ” اور اپنے کپڑے پاک رکھو “۔ یہ کنایہ ہے ، قلبی ، اخلاقی اور عملی پاکیزگی سے۔ شخصیت کی پاکیزگی ، جس میں ظاہری طہارت بھی شامل ہے اور وہ تمام معاملات بھی شامل ہیں جن کا کسی نہ کسی طریقے سے ذات نبی سے تعلق ہے اور روحانی اور اخلاقی پاکیزگی ہی میں انسان عالم بالا سے اشارات اخذ کرسکتا ہے۔ اور رسالت کے مزاج ہی میں پاکیزگی ہوتی ہے ، اس لئے یہاں پاکیزگی کا حکم دیا گیا۔ پھر فریضہ رسالت اور لوگوں تک پیغام پہنچانے اور ان کو ڈرانے اور مختلف قسم کے لوگوں ، مختلف قسم کی خواہشات اور مختلف قسم کے نشیب و فراز میں دعوت اسلامی کے کام کے لئے یہ ضروری تھا کہ آپ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

9 اس سورت کے نازل ہونے پر حکم ہوا کہ مخلوق کو خدا کی طرف بلائیں۔ پھر نماز وغیرہ کا حکم ہوا۔ نماز کے لیے شرط ہے کہ کپڑے پاک ہوں اور گندگی سے احتراز کیا جائے۔ ان چیزوں کو یہاں بیان فرما دیا۔ یہ ظاہر ہے کہ جب کپڑوں کا حسی و معنوی نجاستوں سے پاک رکھنا ضروری ہے تو بدن کی پاکی بطریق اولیٰ ضروری ہوگی۔ اس لیے اس کے بیان کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ بعض علماء نے کپڑوں کو پاک رکھنے سے نفس کا برے اخلاق سے پاک رکھنا مراد لیا ہے۔ اور گندگی سے دور رہنے کے معنی یہ لیے ہیں کہ بتوں کی گندگی سے دور رہیے۔ جیسے اب تک دور ہیں۔ بہرحال آیہ ہذا میں طہارت ظاہری و باطنی کی تاکید مقصود ہے۔ کیونکہ بدون اس کے رب کی بڑائی کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4{ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ۔ } ”اور اپنے کپڑوں کو صاف رکھنے کا اہتمام کیجیے۔“ جس طرح آپ ﷺ کی زندگی کا مقصد پاکیزہ ہے اسی طرح آپ ﷺ کا لباس بھی پاک اور صاف ہوناچاہیے۔ اس آیت کی صوفیانہ انداز میں ایک تعبیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ”ثیاب“ سے صرف کپڑے ہی نہیں بلکہ اخلاق و کردار بھی مراد ہے۔ گویا اس حکم میں ظاہری طہارت کے ساتھ ساتھ باطنی طہارت بھی شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 دوسرا سبق : جسم اور لباس کی صفائی اور راہبانہ تصور :۔ یعنی اپنے کپڑے میل کچیل سے بھی اور نجاست سے بھی پاک صاف رکھیے۔ اور صاف ستھرا لباس استعمال کیا کیجئے اور جسم کو پاک صاف رکھیے۔ کیونکہ روح کی پاکیزگی کے لیے جسم اور لباس کی صفائی بھی انتہائی ضروری ہے۔ اس آیت میں ان راہبانہ تصورات کا پورا رد موجود ہے۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ انسان جتنا گندہ اور میلا کچیلا رہے اتنا ہی وہ اللہ کے ہاں محبوب اور مقدس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اسلام میں جسم اور لباس کی صفائی کی جو اہمیت ہے اس ابتدائی حکم سے اس پر پوری روشنی پڑتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 3–4

2۔ یعنی طہارت ظاہری کا اہتمام رکھیے۔ یدل علی وجوب تطھیر الثیاب من النجاسات للصلوۃ (جصاص) فقہی احکام وہدایات کا نزول ابتدائے وحی ہی سے شروع ہوگیا تھا۔ اور یہ آیت احکام فقہی کی اولین آیات میں سے ہے۔ دوسرے معنی محاورۂ عرب کے مطابق یہ بھی کئے گئے ہیں کہ اپنے دامن کو ہر خطا ومعصیت کی آلودگی سے پاک وصاف رکھیے۔ قال ابن عباس ؓ لاتلتبسھا علی معصیۃ (ابن کثیر) والعرب تقول فی وصف الرجل بالصدق والوفاء انہ طاھر الثیاب (معالم عن ابن عباس ؓ وقلب فطھر من الصفات المذمومۃ وھو قول اکثر المفسرین (کبیر) تطھیر الثیاب کنایۃ عن تطھیر النفس عما تذم بھا من الافعال وکلمات جمھور السلف دائرۃ علی نحوھذا المعنی فی ھذہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وثیابک فطھر، ثیاب، ثوب کی جمع ہے اس کے حقیقی معنی کپڑے کے ہیں اور مجازی طور پر عمل کو بھی ثوب و لباس کہا جاتا ہے، قلب و نفس کو، خلق و دین کو اور انسانی جسم کو بھی ثوب سے تعبیر کیا جاتا ہے، جس کے شواہد قرآن مجید اور محاورات عرب میں بکثرت موجود ہیں، اس آت میں بھی حضرات مفسرین سے یہ سب ہی معنی منقول ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ ان تمام معنی میں کوئی تضاد و تناقض نہیں، بطور عموم مجاز کے اگر یہ سب ہی معنی مراد لئے جائیں، تو اس میں کوئی بعد نہیں، اور معنی اس حکم کے یہ ہوں گے کہ اپنے کپڑوں اور جسم کو ظاہری ناپاکیوں سے پاک رکھئے قلب و نفس کو باطل عقائد و خیالات سے اور اخلاق رذیلہ سے پاک رکھئے، پاجامہ یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و ثیابک فطھر . اپنے کپڑوں کو پاک کرو یعنی اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کرلو۔ قتادہ ‘ مجاہد ‘ ابراہیم ‘ ضحاک ‘ شعبی ‘ زہری ‘ عکرمہ نے کہا حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کا معنی پوچھا گیا تو فرمایا : گناہ اور گندگی کی حالت میں لباس نہ پہنو ‘ پھر فرمایا : کیا تو نے غیلان بن سلمہ ثقفی کا شعر سنا ہے۔ ؂ وانّی بحمد اللہ لا ثوب فاجر لبست ولا من عذرۃ اتقنع حضرت ابی بن کعب ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ ضحاک نے کہا : اپنے اعمال کو ٹھیک کرلو۔ سدی نے کہا : نیک اعمال آدمی کو پاک کپڑوں والا اور بد کردار آدمی کو ناپاک کپڑوں والا کہا جاتا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : اپنے دل اور گھر کو پاک کرلو۔ حسن بصری (رح) نے کہا : اپنے اخلاق…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وثیابک فطھر : کافر لوگ کتنے بھی صاف ستھرے ہوں اپنے کپڑے پاک نہیں رکھتے، نہ انہیں پیشاب سے پرہیز ہوتا ہے نہ استنجا کی فکر اور نہ غسل جنابت کا خیال۔ حکم ہوا کہ آپ اپنے کپڑے پاک رکھیں۔ جب کپڑے پاک رکھنا ضروری ہے تو جسم پاک رکھنا تو بدرجہ اولیٰ ضروری ہوا۔ آیت کے ظاہری الفاظ کا تقاضا یہی ہے اور سب سے پہلے مراد بھی یہی ہے۔ ہاں ، محاورہ میں پاک دامنی سے مراد گناہوں کی آلودگی سے پاک ہونا بھی ہوتا ہے، اسلئے یہ معنی بھی ہے کہ اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر رکھو۔ طبری نے پہلا معنی زیادہ ظاہر قرار دیا ہے۔ (2) ”وثیابک فطھر“ (اپنے کپڑے پاک رکھو) میں ٹخنے سے اوپر کپڑا اٹھا کر رکھنے کا حکم بھی داخل ہے،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ثیاب کی طہارت سے کیا مراد ہے ؟ مسئلہ نمبر 6۔ وثیابک فطھر۔ اس میں آٹھ قول ہیں۔ ثیاب سے مراد عمل ہے۔ دل۔ نفس۔ جسم۔ اہل، خلق، دین، ظاہری لباس۔ جو پہلے قول کی طرف گیا ہے اس نے کہا، آیت کی تاویل یہ ہے اپنے عمل کو درست کرو، یہ مجاہد اور ابن زید کا قول ہے، منصور نے ابن رزین سے روایت نقل کی ہے، اپنے عمل کو درست کرو۔ کہا، جب ایک آدمی کا عمل خبیث ہوتا ہے تو لوگ کہتے ہیں، ان فلانا خبیث الثیاب۔ جب وہ اچھے عمل والا ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں، ان فلانا طاھر الثیاب، سدی سے اسی طرح مروی ہے، اس معنی میں شاعر کا شعر ہے۔ لاھم ان عامر بن جھم اوذم حجا فی ثیاب دسم۔ اے اللہ تعالیٰ عامر بن جہم نے گناہوں سے لت پت ہوکرحج…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

15۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابر رزین ؓ سے آیت وثیابک فطہر کے بارے میں روایت کیا کہ اپنے عمل کی اصلاح کر جاہلیت والوں میں جب کوئی آدمی نیک عمل کرتا تھا تو کہتے تھے کہ فلاں پاک کپڑوں کو صاف رکھنے والا ہے۔ 16۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وثیابک فطہر سے مراد ہے کہ اپنے عمل کی اصلاح کیجیے۔ 17۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت وثیابک فطہر کے بارے میں روایت کیا کہ نہ آپ کاہن ہیں اور نہ ساحر ہیں۔ سو آپ ان سے اعراض کیجیے آیت والرجز فاہجر یعنی بتوں سے دور رہیے آیت ولا تمنن تستکثر یعنی آپ بطور احسان اس امید پر کوئی چیز نہ دیجیے کہ آپ کو اس سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَثِيَابَكَ فَطَهِرْ : اور اپنے کپڑوں کو پھر آپ ﷺ پاک رکھیں ] نوٹ۔ 2: وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ ۔ یہ بڑے جامع الفاظ ہیں جن کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ ان کا ایک مطلب یہ ہے کہ اپنے لباس کو نجاست سے پاک رکھو، کیونکہ جسم و لباس کی پاکیزگی اور روح کی پاکیزگی دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ ایک پاکیزہ روح گندے جسم اور ناپاک لباس میں نہیں رہ سکتی۔ رسول اللہ ﷺ جس معاشرے میں اسلام کی دعوت لے کر اٹھے تھے وہ صرف عقائد اور اخلاق کی خرابیوں میں مبتلا نہ تھا بلکہ طہارت و نظافت کے بھی ابتدائی تصورات تک سے خالی تھا اور حضور ﷺ کا کام ان لوگوں کو ہر لحاظ سے پاکیزگی کا سبق سکھانا تھا۔ اس لیے ہدایت فرمائی گئی کہ آپ اپنی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ﴾ (اور اپنے کپڑوں کو پاک کیجیے) اس میں ظاہری الفاظ میں تو کپڑوں کو پاک رکھنے کا حکم ہے لیکن حضرات مفسرین اور علمائے محققین نے اس سے یہ بات بھی مستنبط کی ہے کہ اپنے نفس کو اور قلب کو اخلاق رذیلہ غیر مرضیہ سے صاف اور پاک رکھیے کیونکہ جہاں کپڑوں کو غیر طاہر رکھنے کی اجازت نہ ہوگی وہاں قلب اور نفس کو پاک رکھنا کیونکر ضروری نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–31

حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

3:۔ ” وثیابک فطہر “ اپنے عمل کی اصلاح کر اور اپنے نفس کو اخلاق فاضلہ اور شمائل جمیلہ سے آراستہ کرتا کہ تبلیغ و انذار کے مقصد میں کامیابی کی راہ ہموار ہوجائے۔ انہ امر لہ ﷺ بالتخلق بالاخلاق الحسنۃ الموجبۃ لقبول الانذر بعد امرہ علیہ الصلاۃ والسالم بتخصیصہ ربہ عز وجل بالتکبیر الخ (روح ج 29 ص 118) ۔ ” والرجز فاھجر “ رجز سے اوثان اور معبودان باطل مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس، ابن زید، مجاہد اور عکرمہ رحمہم اللہ سے منقول ہے۔ قال مجاھد وعکرمۃ یعنی الاوثان، دلیلہ قولہ تعالیٰ فاجتنبوا الرجس من الاوثان، وقالہ ابن عباس وابن زید (قرطبی ج 19 ص 65) ۔ یعنی معبودان باطل کی عبادت چھوڑے رہو۔ ” فاھجر “ سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَثِيَابَكَ فَطَہِرْ۝ 4 ثوب أصل الثَّوْب : رجوع الشیء إلى حالته الأولی التي کان عليها، أو إلى الحالة المقدّرة المقصودة بالفکرة، وهي الحالة المشار إليها بقولهم : أوّل الفکرة آخر العمل «2» . فمن الرجوع إلى الحالة الأولی قولهم : ثَابَ فلان إلى داره، وثَابَتْ إِلَيَّ نفسي، وسمّي مکان المستسقي علی فم البئر مَثَابَة، ومن الرجوع إلى الحالة المقدرة المقصود بالفکرة الثوب، سمّي بذلک لرجوع الغزل إلى الحالة التي قدّرت له، وکذا ثواب العمل، وجمع الثوب أَثْوَاب وثِيَاب، وقوله تعالی: وَثِيابَكَ فَطَهِّرْ [ المدثر/ 4] ( ث و ب ) ثوب کا اصل معنی کسی چیز کے اپنی اصلی جو حالت مقدمہ اور مقصود ہوتی ہے اس تک پہنچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب : المدثر اصلہ المتدثر ادغمت التاء فی الدال للمجانستہ وقرء الجمہور بالادغام۔ والدثارما یلبس فوق الشعار والشعار مایلی الجسدومنہ قولہ (علیہ السلام) الانصارشعار والناس دثار۔ فانذر الفاء فیہ وفیما بعدہ لافادۃ معنی الشرط کانہ قال مایکن من شیئ۔ فانذروکبر۔ وقال ابن جنی ھو کقولک زیدا فاضرب فالفاء زائدۃ وربک و ثیابک والرجز منصوب بفعل محذوف یفسرہ مابعدہ تستکثر بالرفع علی انہ حال وبالجزم علی انہ جواب النھی وبالنصب علی تقدیر لتستکثروقیل علی تقدیر ان وبقاء علمھا۔ تفسیر : بخاری و مسلم وغیرہما نے نقل کیا ہے کہ ابوسلمۃ بن عبدالرحمن نے کہا سب سے پہلے یا ایہا المدثر نازل ہوئی اس پر یحییٰ بن ابی کثیر نے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ ۔ (المدثر : 4) (اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ ) ثیاب کا مفہوم یہ بڑے جامع الفاظ ہیں جن کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ صاحب تفہیم القرآن نے اس پر ایک جامع نوٹ لکھا ہے ہم سب سے پہلے اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ ان الفاظ کا ایک مطلب یہ ہے کہ اپنے لباس کو نجاست سے پاک رکھو کیونکہ جسم و لباس کی پاکیزگی اور روح کی پاکیزگی دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ ایک پاکیزہ روح گندے جسم اور ناپاک لباس میں نہیں رہ سکتی۔ رسول اللہ ﷺ جس معاشرے میں اسلام کی دعوت لے کر اٹھے تھے وہ صرف عقائد اور اخلاق کی خرابیوں ہی میں مبتلا نہ تھا بلکہ طہارت و نظافت کے بھی ابتدائی تصورات تک سے خالی تھا اور حضور ﷺ کا کام ان لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–7

فہم القرآن ربط کلام : نبوت کے آغاز میں آپ ﷺ کو مزید ہدایات۔ دعوت دینے والے کی دعوت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو اگر وہ ان باتوں کا خیال نہیں رکھتا تو لوگ اس کی شخصیت اور دعوت سے متاثر ہونے کی بجائے اس سے دور بھاگ جائیں گے اس لیے نبوت کے ابتدائی دور میں آپ ﷺ کو درج ذیل ہدایات دی گئیں۔ 1 ۔ اپنے لباس کو صاف اور اجلا رکھیں، یاد رہے کہ اس زمانے میں لوگ اس شخص کو پارسا سمجھتے تھے جو دنیا کے امور سے الگ تھلگ رہتا اور صاف ستھرا لباس پہننے سے پرہیز کرتا تھا۔ اسلام ترک دنیا اور گندہ رہنے کو انتہائی ناپسند سمجھتا ہے، بیشک دین میں سادگی کو بڑی اہمیت حاصل ہے لیکن انسان کا پاک اور صاف ستھرا رہنا نہایت ضروری ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کپڑوں کو پاک رکھیں : 4 : وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ (اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیے) یعنی پانی کے ساتھ اپنے کپڑوں کو نجاست سے پاک کریں کیونکہ نماز اس کے بغیر درست نہیں اور نماز کے علاوہ میں پاک رکھنا اولیٰ ہے۔ نمبر 2۔ اپنے کپڑوں کو چھوٹا کرو۔ عرب والوں کی اس عادت کی مخالفت کرتے ہوئے۔ کہ وہ کپڑوں کو لمبا رکھتے اور چادروں کے دامن کو زمین پر کھینچتے ہیں اس لئے کہ ایسی حالت میں نجاست سے حفاظت نہیں رہ سکتی۔ نمبر 3۔ اپنے نفس کو ان افعال سے پاک صاف رکھیے جو افعال نفوس کو میلا کرنے والے ہیں۔ عرب کہتے ہیں : فلان طاہر الثیاب۔ جب کہ اس کی تعریف کرتے ہوئے معایب سے اس کو پاک قرار دیں۔ اور کہتے ہیں : فلان دنس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

3 ۔” وربک فکبر “ یعنی اس کی بڑائی و عظمت بیان کریں ۔ اس سے جو اس کو بتوں کے پچاری کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ علماء مفسرین نے اس باب میں بہت بڑا اختلاف کیا ہے کہ قرآن شریف کی سورتوں میں سب سے پہلے اقرا باسم رباک الذی خلق نازل ہوئی ہے یا سورة مدثر نازل ہوئی ہے۔ صحیحین 1 ؎ کی حضرت جابر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی دونوں حدیثوں کو ملا کر دیکھا جائے تو رفع اس اختلاف کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر اور حافظ ابن کثیر اور خطیب وغیرہ نے بیان کیا ہے آنحضرت ﷺ کے رویا صادقہ کے عبد پہلے پہل وحی کا نزول جو شروع ہوا تو سب سے پہلے اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی پھر چند روز تک وحی بند رہی اس وحی کی بندش کے بعد پھر جو سلسلہ وحی کا چلا تو سورة مدثر نازل ہوئی غرض صحیح قول یہی ہے کہ سورة مدثر کا نزول اقراء سے موخر اور سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–5

(وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ) اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیں۔ اس ایت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ ثیاب کپڑے سے مراد تمام اعمال ہوں اور ان کی تطہیر سے مراد ہے ان کی تخلیص ان کے ذریعے سے خیرخواہی، ان کو کامل ترین طریقے پر بجالانا اور ان کو تمام مبطلات، مفسدات اور ان میں نقص پیدا کرنے والے امور، یعنی شرک ریا، نفاق، خود پسندی، تکبر، غفلت وغیرہ سے پاک کرنا ہو، جن کے بارے میں بندہ مومن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عبادات میں ان سے اجتناب کرے اس میں کپڑوں کی نجاست سے تطہیر بھی داخل ہے کیونکہ یہ تطہیر، اعمال کی تطہیر کی تکمیل ہے، خاص طور پر نماز کے اندر جس کے بارے میں بہت سے علما کا قول ہے کہ نجاست کو زائل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 4–5

کپڑوں کی طہارت قول باری ہے (وثیابک فطھر۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھو) نماز کے لئے کپڑوں کو تمام نجاستوں سے پاک کرنے کے وجوب پر آیت دلالت کررہی ہے نیز یہ کہ ناپاک کپڑوں میں نماز جائز نہیں ہے کیونکہ کپڑوں کی تطہیر صرف نماز کے لئے ضروری ہے۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عمار ؓ کو اپنے کپڑے دھوتے ہوئے دیکھا، پوچھا کہ کپڑے کیوں دھو رہے ہو ؟ حضرت عمار ؓ نے عرض کیا کہ اس میں نخامہ (ناک سے نکلنے والا بلغم) لگ گیا تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ کپڑا صرف خون، پیشاب یا منی وغیرہ لگ جانے سے دھویا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ مجھے حضور ﷺ نے کپڑے میں لگے ہوئے منی کو دھو دینے کا حکم دیا تھا جب کہ وہ ابھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–5

4 تطہیر ثیاب کا حکم و ارشاد اور اس سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ سو ان کو پاک رکھو ہر طرح کی نجاست و غلاظت سے۔ جس میں دوسرے لوگ طرح طرح مبتلاء اور ملوث ہیں، نیز پاک رکھو اپنے دامن کو ہر طرح کے اخلاقی عیوب سے، چناچہ عربی محاورہ میں پاکیزہ اخلاق والے کو طاہر الثیاب اور طاہر الذیل کہا جاتا ہے اور گندے اخلاق والے کو دنس الثیاب و دنس الذیل وغیرہ (صفوۃ البیان، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان، وغیرہ) نیز راہبانہ تصور کے برعکس اپنے کپڑوں کو ہر طرح کے میل و کچیل سے پاک و صاف رکھو کہ ایک پاکیزہ اور صاف ستھرے انسان کی پاکیزہ و ستھری زندگی کے لائق یہی ہے اور خاص کر ایسے شخص…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

اصلاح انسان کے احکامات تشریح : اب تک تو رسول اللہ ﷺ دین کی تبلیغ چپکے چپکے صرف اہل خاندان یا قریبی رفقا تک ہی کرتے تھے مگر اب ان کو حکم دیا گیا ہے کہ اب اسلام کی تبلیغ سر عام شروع کر دو ۔ جیسا کہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں اسلام کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اس کا آغاز 622؁ء یعنی جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو ہوا اور پھر اسی صدی کے ختم ہونے تک اسلام پورے مشرق وسطی شمالی افریقہ اور اسپین میں پھیل گیا۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کے وصال کے صرف ایک صدی کے اندر اندر ماوراء النہر سے لے کر اندلس تک سب اسلام کے حلقے میں آگئے۔ تو یہ سب کیسے ہوا ؟ صرف ایک مرد کامل کی مقدس تعلیمات سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–31

سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–4

ف 7 مراد حسی اور اخلاقی یا ظاہری اور باطنی ہر قسم کی طہارت ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز کے لئے کپڑوں کا پاک ہونا بھی ضروری ہے۔ حدیث میں ہے الطھارۃ شطر الایمان کہ طہارت آدھا ایمان ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:4) وثیابک فطھر۔ واؤ عاطفہ ثیابک مضاف مضاف الیہ۔ تیرے کپڑے ثیاب ثوب کی جمع ہے ثوب کے معنی کپڑے کے ہیں۔ یہ آیت جو امع الکلم میں سے ہے۔ (1) ثیاب سے مراد ظاہری کپڑے کے ہیں۔ اور اس سے مراد نفس بھی ہے۔ (راغب) (2) اس سے مراد دل بھی ہے۔ جو روح کا قالب ہے ۔ (روح البیان) (3) اس سے مراد اخلاق بھی ہیں جن کا تعلق مخلوق سے ہے اور اس سے مراد اعمال بھی ہیں ۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے یحشر المرء فی ثوبہ الذین مات فیہما ای عملہ الخبیث والطیب (روح البیان) انسان قیامت کے دن انہی کپڑوں میں اٹھے گا جن میں کہ وہ فوت ہوا۔ یعنی اپنے نیک و بد اعمال کے ساتھ۔ (4) اور اس سے مراد اہل و عیال بھی ہیں۔ والعرب تسمی الاہل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–31

لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–5

طہارت و پاکیزگی۔ (ف 3) مشرکین مکہ پہننے کے کپڑوں کی پاکی ناپاکی کا خیال نہ رکھتے تھے اس لیے فرمایا کہ تم اپنے کپڑے ہر طرح کی نجاست سے پاک صاف رکھو، کیونکہ نماز کے لیے طہارت ضروری ہے اور نماز کے سوا اور حالتوں میں کپڑے پاک رکھنا بہتر ہے، اور پلیدی سے دوررہنے کے معنی یہ ہیں کہ بتوں کی گندگی سے دور ہو جیسے اب تک درد ہو، بہرحال آیت ہذا میں طہارت ظاہری وباطنی کی تاکیدمقصود ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[1] اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اپنے کپڑے نجاست سے پاک رکھو۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اپنا لباس صاف ستھرا رکھو۔ تیسرا مفہوم یہ ہے کہ اپنے لباس کو اخلاقی عیوب سے پاک رکھو، یعنی اس میں فخروغرور، نمائش، ٹھاٹھ باٹ اور شان و شوکت کا شائبہ تک نہ ہو۔ ارشاد کا چوتھا مفہوم یہ ہے کہ اپنا دامن پاک رکھو، یعنی اپنے اخلاق پاکیزہ رکھو اور ہر قسم کی برائیوں سے بچو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–11

سورة المدثر 1: آثار نبوت سے متوتر انسان کو تبلیغ و اشاعت کے لئے ابھارا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ اٹھئے ! اور لوگوں کو آگاہ کیجئے ۔ ربوبیت کے تخیل کی شرک اور بت پرستی سے تذلیل ہورہی ہے ۔ آپ اس کو قول وعمل کے ساتھ بلند کیجئے دل کو پاکیزہ بنائیے ۔ اور فکروخیال کی ہر نجات کو جھٹلا دیجئے ۔ اور ان فرائض کو اس طرح خلوص کے ساتھ ادا کیجئے ۔ کہ ان لوگوں کو ممنون کرکے مال و دولت میں فراوانی کرنا مقصود نہ ہو ۔ بلکہ محض اپنے فرض منصبی سے عہدہ برا ہوتا ہو ۔ گویا مبلغ حق وصداقت کے لئے پانچ چیزوں کا ہونا ضروری ہے ۔ اولاقیام واستعذاف ثانیا اعلاء کلمۃ اللہ کا جذبہ ثالثا قلب کی پاکیزگی اور اربقا برائی کی باتوں سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–4

ف 3۔ یہاں تبشیر کو اس لئے نہیں فرمایا کہ یہ آیت بالکل ابتدائے نبوت کی ہے، اس وقت باستثناء ایک دو کے کوئی مسلمان نہ تھا تو انذار ہی انسب تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 1–4

(اے چادر اوڑھنے والے) اپنی خواب گاہ سے (کھڑے ہوجاؤ) یا قائم ہوجاؤ مراسم نبوت ادا کرنے میں (پھر ڈر سنا دو ) خلق کو عذاب الہی کا اگر اس کے سو وا اور کی عبادت کریں (اور اپنے رب کی بڑائی بولو) یعنی اپنے رب کو تعظیم کے ساتھ یاد کرو۔ (اور اپنے کپڑوں کو پاک ہی رکھو) میل و کچیل سے۔ یا۔۔ کوتاہ کر سرداران عرب کے خلاف ، کہ وہ لباس لمبا پہنتے ہیں ، تاکہ ان کی عادت ترک پر پہلی علامت ہو۔ حضرت علی کا ارشاد ہے کہ اپنا لباس کوتاہ کر ، بیشک وہ بہت پاک اور بہت پسندیدہ اور بہت باقی رہنے والا ہے۔ اور بعضوں نے یہ معنی کہے ہیں کہ جو کچھ نہ چاہیے اس سے اپنے نفس کو پاک رکھ۔ نفحات میں شیخ ابو الحسن علی شاذلی مغربی سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Injunction [ 3] وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (and purify your clothes... 74:4) The word thiyab is the plural of thaub. In its primary sense, it refers to 'clothes or garment'. Metaphorically, the words thaub and libas at times refer to 'action, heart, soul, moral character and religion.' Man's body may also be referred to as libas'. The Holy Qur'an and Arabic idioms bear ample testimony to this. Scholars of tafsir have taken all these senses into account when interpreting this verse. The variant interpretations may not be suspected of contradiction or conflict. The different interpretations attached…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 These are very comprehensive words, which are full of meaning. They mean this: "Keep your garments free from every filth and impurity, for the purity of the body and garments and the purity of the spirit are inter-linked and inter-dependent. " A pure spirit and an impure body with impure garments cannot live together. The society in which the Holy Prophet (upon whom be peace) had arisen with the invitation to Islam, was not only steeped in the evils of unbelief and immorality, but was also devoid of even the most elementary concepts of purity and cleanliness, and the Holy Prophet's task was…

Read the full tafseer →