وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ۟وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ
اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو
— Fateh Muhammad Jalandhari
And your Lord glorify
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ۟وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ
اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو
— Fateh Muhammad Jalandhari
And your Lord glorify
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir
اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو
اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو
اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر
اور اپنے پروردگار کی تکبیر کہو۔
اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو
اور اپنے رب کی بڑائی (اور عظمت) بیان فرمائیں،
اور اپنے رب ہی کی پس بڑائی بیان کر۔
اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کیجیے
اور اپنے رب ہی کی کبرپائی کی مساوی کر
اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو
اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کیجئے
اور اپنے رب کو بڑا کرو !
اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو
and magnify the glory of your Lord,
and pronounce the greatness of your Lord,
and pronounce the greatness of your Lord,
And magnify your Lord!
Thy Lord magnify,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And your Lord glorify
proclaim the greatness of your Lord,
And your Lord do magnify,
And thine Lord magnify!
And thy Lord do thou magnify!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–10
ابتدائے وحی حضرت جابر سے صحیح بخاری شریف میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۙ) 74۔ المدثر :1) نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی آیت (اقرا باسم) کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ یحییٰ بن ابو کثیر فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کونسی آیتیں نازل ہوئیں ؟ تو فرمایا آیت (یا ایھا المدثر) میں نے کہا لوگ تو آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) بتاتے ہیں فرمایا میں نے حضرت جابر سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے…
Read the full tafseer →سورة الْمُدَّثِّر 3 یہ ایک نبی کا اولین کام ہے جسے اس دنیا میں اسے انجام دینا ہوتا ہے۔ اس کا پہلا کام ہی یہ ہے کہ جاہل انسان یہاں جن جن کی بڑائی مان رہے ہیں ان سب کی نفی کر دے اور ہانکے پکارے دنیا بھر میں یہ اعلان کر دے کہ اس کائنات میں بڑائی ایک خدا کے سوا اور کسی کی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں کلمہ اللہ اکبر کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اذان کی ابتدا ہی اللہ اکبر کے اعلان سے ہوتی ہے۔ نماز میں بھی مسلمان تکبیر کے الفاظ کہہ کر داخل ہوتا ہے اور بار بار اللہ اکبر کہہ کر اٹھتا اور بیٹھتا ہے۔ جانور کے گلے پر چھری بھی پھیرتا ہے تو بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر پھیرتا ہے۔ نعرہ تکبیر آج ساری…
Read the full tafseer →دوسرا حکم یہ دیا گیا کہ وَرَبَّكَ فَكَبِّر یعنی صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کیئجے قول سے بھی، عمل سے بھی، لفظ رب اس جگہ اسلئے اختیار کیا گیا کہ یہ خود علت اس حکم کی ہے کہ جو سارے جہان کا پالنے والا ہے صرف وہی ہر بڑائی اور کبریائی کا مستحق ہے۔ تکبیر کے لفظی معنی اللہ اکبر کہنے کے بھی آتے ہیں جسمیں نماز کی تکبیر تحریمہ اور دوسری تکبیرات بھی داخل ہیں اور خارج نماز بھی اذان اقامت وغیرہ کی تکبیر اس میں شامل ہے۔ اس حکم کو نماز کی تکبیر تحریمہ کیساتھ مخصوص قرار دینے کا الفاظ قرآن میں کوئی اشارہ نہیں۔
Read the full tafseer →توحید خالص کی منادی: یہ اس انذار کا پہلا حکم ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ حضرات انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں توحید کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے یعنی صرف اللہ ہی کی کبریائی و یکتائی کا اعلان۔ مفعول کی تقدیم سے یہاں حصر کا مضمون پیدا ہو گیا ہے۔ یعنی اللہ کے سوا جو بھی کبریائی کے مدعی ہیں یا جن کی کبریائی کا بھی دعویٰ کیا جا سکتا ہے وہ سب باطل، تم صرف اپنے رب ہی کی عظمت و کبریائی کا اعلان کرو۔ ایک جاہلی معاشرہ میں یہ اعلان ساری خدائی سے لڑائی مول لینے کے ہم معنی تھا لیکن دین کی بنیاد چونکہ اسی کلمہ پر ہے اس وجہ سے ہر نبی کو بے درنگ یہ اعلان کرنا پڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2۔ 1 یعنی اہل مکہ کو ڈرا، اگر وہ ایمان نہ لائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: یہ اسی طرح کا خطاب ہے جیسا پچھلی سورت کے شروع میں گزرا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ وہاں اصل عربی لفظ مزمل تھا اور یہاں مدثر ہے، معنی دونوں کے تقریباً ایک ہیں، اس کی تشریح کے لئے پچھلی سورت کا حاشیہ نمبر 1 ملاحظہ فرمائیں، صحیح احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ پر سب سے پہلی وحی کے طور پر تو سورة علق (سورت نمبر : 96) کی پہلی پانچ آیتیں نازل ہوئی تھیں، اس کے بعد ایک عرصے تک وحی کا سلسلہ بندرہا، پھر سورة مدثر کی یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کو یہ عظیم ڈیوٹی سپرد کرنے کے بعد اب آپ کی ذات کے بارے میں خصوصی ہدایات دی جاتی ہیں۔ (1) پہلے یہ کہ اپنے رب کی بڑائی کرو۔ وربک فکبر (74:3) ” اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو “۔ یعنی اللہ وحدہ کی بڑائی کا اعلان کردو۔ کیونکہ درحقیقت بڑا صرف اللہ ہے۔ اور صرف وہی مستحق ہے کہ اس کا نعرہ تکبیر بلند کیا جائے۔ اس ہدایت میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں الٰہ اور توحید کے مفوم کے اندر یہ بات شامل ہے کہ اللہ وحدہ بڑا ہے۔ ہر فرد ، ہر شے ، ہر قدر ، اور ہر حقیقت اللہ کے مقابلے میں صغیروحقیر ہے۔ اور اللہ وحد کبیر اور متعال ہے۔ اللہ کے جلالی کبریائی میں تمام اجرام فلکی ، تمام حجم ،…
Read the full tafseer →8 کیونکہ رب کی بڑائی بولنے اور بزرگی و عظمت بیان کرنے ہی سے اس کا خوف دلوں میں پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تعظیم و تقدیس ہی وہ چیز ہے جس کی معرفت سب اعمال و اخلاق سے پہلے حاصل ہونی چاہیے۔ بہرحال اس کے کمالات و انعامات پر نظر کرتے ہوئے نماز میں اور نماز سے باہر اس کی بڑائی کا اقرار و اعلان کرنا تمہارا کام ہے۔
Read the full tafseer →آیت 3{ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ۔ } ”اور اپنے رب کو بڑا کرو !“ غور کیجیے ! رب کو بڑا کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ وہ تو اپنی ذات میں خود ہی سب سے بڑا ہے۔ ہم انسان اس کو بھلا کیا بڑا کریں گے ؟ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ اس زمین میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی عملاً تسلیم نہیں کی جارہی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو محدود اختیار عطا فرمایا تھا اس کے بل پر اس نے اسی کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ ظلم اور فساد کا بازار گرم ہوگیا ہے : { ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ } الروم : 41 ”بحر و بر میں فساد رونما ہوچکا ہے ‘ لوگوں کے اعمال کے…
Read the full tafseer →3 پہلا سبق اللہ کی کبریائی :۔ یعنی دنیا میں جتنے لوگ بڑے بنے بیٹھے ہیں۔ ان سب کی بڑائیاں اللہ کی بڑائی کے سامنے ہیچ ہیں۔ نیز بڑے بڑے حکمران اور ان کی حکومتیں بھی اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے سامنے کوئی چیز نہیں۔ آپ ﷺ لوگوں کو اللہ کی کبریائی، بزرگی اور بڑائی سے پوری طرح روشناس کرائیے۔ اور زبان سے بھی اللہ کی بڑائی بیان کرتے رہا کیجئے۔ اسی حکم کی وجہ سے اسلام میں تکبیر یا کلمہ اللہ اکبر کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ ہر اذان میں چھ بار یہ کلمہ دہرایا جاتا ہے۔ اور ہر نماز کا افتتاح بھی اسی تکبیر سے ہوتا ہے۔ پھر رکوع جاتے وقت، سجدہ کے وقت، سجدہ سے اٹھتے وقت غرض نماز کی ہر رکعت میں متعدد بار اللہ اکبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
2۔ یعنی طہارت ظاہری کا اہتمام رکھیے۔ یدل علی وجوب تطھیر الثیاب من النجاسات للصلوۃ (جصاص) فقہی احکام وہدایات کا نزول ابتدائے وحی ہی سے شروع ہوگیا تھا۔ اور یہ آیت احکام فقہی کی اولین آیات میں سے ہے۔ دوسرے معنی محاورۂ عرب کے مطابق یہ بھی کئے گئے ہیں کہ اپنے دامن کو ہر خطا ومعصیت کی آلودگی سے پاک وصاف رکھیے۔ قال ابن عباس ؓ لاتلتبسھا علی معصیۃ (ابن کثیر) والعرب تقول فی وصف الرجل بالصدق والوفاء انہ طاھر الثیاب (معالم عن ابن عباس ؓ وقلب فطھر من الصفات المذمومۃ وھو قول اکثر المفسرین (کبیر) تطھیر الثیاب کنایۃ عن تطھیر النفس عما تذم بھا من الافعال وکلمات جمھور السلف دائرۃ علی نحوھذا المعنی فی ھذہ…
Read the full tafseer →وربک فکبر، ایک نبی کا سب سے پہلا اور بڑا کام یہ ہوتا ہے کہ جاہل انسان جن جن کی بڑائی مان رہے ہیں، ان کی نفی کر دے اور ہانکے پکارے دنیا بھر میں یہ اعلان کر دے کہ اس کائنات میں بڑائی ایک خدا کے سوا کسی کی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام میں کلمہ اللہ اکبر کو بڑی اہمیت حاصل ہے، اذان و اقامت کی ابتداء اللہ اکبر کے اعلان سے ہوتی ہے، نماز میں بھی مسلمان اللہ اکبر کہہ کر داخل ہوتا ہے، اور بار بار اللہ اکبر کہہ کر اٹھتا اور بیٹھتا ہے اور جب ذبح کرتا ہے تو بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر، اور نعرہ تکبیر پوری دنیا میں مسلمانوں کا سب سے زیادہ نمایاں امتیازی شعار ہے، کیونکہ اس امت کے نبی نے اپنا کام ہی اللہ اکبر…
Read the full tafseer →و ربک فکبر . اس جگہ اور اس کے بعد آنے والے جملوں میں (یعنی فطھر اور فاھجر میں) فاء جزائیہ ہے۔ اصل کلام یوں تھا کہ کچھ بھی ہو ‘ کسی حال میں ہو ‘ اپنے رب کی بڑائی کا اظہار کرو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ ربّک فعل محذوف کا مفعول ہو اور فکبّر اس کی تاکید ہو اور اس سے استمرار مقصود ہو (یعنی پیہم اللہ کی بڑائی کا اظہار کرو) ۔ تکبیر کا معنی ہے حدوث اور ہر زوال و نقصان کی علامات سے اللہ کو برتر قرار دینا۔ وجوب وجود اور الوہیت و عبادت میں کسی کو اس کا شریک نہ بنانا۔ کسی ممکن سے کسی طرح ذات ‘ اوصاف اور افعال میں اس کو مشابہ نہ منانا ‘ صرف اسی کے اندر اوصاف کمال تسلیم کرنا اور دوسروں کے اوصاف کو ناقص اوصاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1۔ 3) محمد اٹھو اور کافروں کو ڈراؤ اور ان کو توحید کی طرف بلاؤ اور بتوں کے پجاریوں کے سامنے اپنے پروردگار کی بڑائیاں بیان کرو۔
Read the full tafseer →وربک فکبر :”ربک“ کو پہلے لانے سے یہ معنی پیدا ہوگیا کہ صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔”فکبر“ میں ”فائ“ پہلے ”قم“ کے جواب ہی میں ہے، یعنی ”فم فکبر“ ربک“ اسی طرح ”وثیابک فطھر“ اور ”والرجز فاھجر“ میں بھی ”فائ“ اسی ”قم“ کے جواب میں ہے۔ ”وربک فکبر“ کے الفاظ میں ”صرف اپنے رب کو بڑا جان“ اور ”صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کر ”’ ونوں معنی موجود ہیں، یعنی دعوت دیتے وقت کوئی کتنا بڑا سردار یا مال دار، یا بادشاہ یا بدمعاش ہو اس کی بڑائی تمہاری دعوت کے لئے رکاوٹ نہ بنے، بلکہ صرف اپنے رب کو بڑا جانو۔ جب تمہارے دل و دماغ میں اور تمہاری آنکھوں کے سامنے صرف وہی بڑا ہوگا تو ساری مخلوق تمہاری نظروں میں ہیچ ہوگی اور…
Read the full tafseer →تکبیر کہنے کا حکم اور اس کے اسباب۔ مسئلہ نمبر 4۔ وربک فکبر۔ اپنے سردار، اپنے مالک اور اپنے معاملات کو درست کرنے والے کی عظمت بیان کر اور اس کی یہ صفت بیان کر کہ وہ اسے برتر ہے کہ اس کا کوئی بیٹا یا بیوی ہو، ایک حدیث میں ہے کہ صحابہ نے پوچھا، نماز کو کیسے شروع کیا جائے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی، وربک فکبر۔ یعنی اس کی اس سے صفت بیان کرو کہ وہ سب سے بڑا ہے۔ علامہ ابن عربی نے کہا، یہ ارشاد اگرچہ اس کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ نماز کی تکبیر کو بھی شامل ہے تاہم اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرنا اور اس کی پاکی بیان کرنا ہے اس کے سواتمام شریکوں اور بتوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا جائے اور اس کے سوا کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ ابن الضریس وابن مردویہ والنحاس والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة المدثر مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ طیالسی وعبد الرزاق واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن الضریس وابن جرری وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن الانباری (رح) سے مصاحف میں روایت کیا کہ میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے قرآن مجید میں سب سے اول نازل ہونے والے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یا ایہا المدثر ہے میں کہا لوگ کہتے ہیں آیت اقرأ باسم ربک الذی خلق ہے ابو سلمہ ؓ نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے اس بارے میں پوچھا تھا میں ان سے ایسے ہی کہا جیسے تو…
Read the full tafseer →[وَرَبَّكَ فَكَبِرْ : اور اپنے رب کی پھر آپ ﷺ بڑائی بیان کریں ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 3 ۔ میں حکم دیا گیا کہ صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے، قول سے بھی اور عمل سے بھی۔ اس جگہ لفظ رب اس لیے اختیار کیا گیا کہ یہ اس حکم کی علت ہے کیونکہ جو سارے جہان کا پالنے والا ہے صرف وہی ہر بڑائی اور کبریائی کا مستحق ہے (معارف القرآن) انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت میں توحید کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے یعنی صرف اللہ ہی کی کبریائی ویکتائی کا اعلان کہ اللہ کے سوا جو بھی کبریائی کے مدعی ہیں یا جن کی کبریائی کا دعوٰی کیا جاتا ہے، وہ سب باطل ہیں۔ ایک جاہلی معاشرہ میں یہ اعلان ساری خدائی سے لڑائی مول لینے کے ہم معنی تھا…
Read the full tafseer →دوسرا حکم فرمایا ﴿ وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ﴾ (اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے) یعنی اپنے رب کی عظمت اور کبریائی کا اعتقاد بھی رکھیے اور اسے بیان بھی کیجئے۔ چناچہ اللہ کی بڑائی بیان کرنا نماز کے شروع میں بھی مشروع ہوگیا اور نماز کے انتقالات میں بھی اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کی جاتی ہے بار بار اللہ اکبر کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
2:۔ ” یا ایہا المدثر “ اصل میں متدثر تھا۔ فائے تفعل میں دال واقع ہونے کی وجہ سے تائے تفعل کو دال سے بدل کر ادغام کردیا گیا۔ یہ دثار سے ماخوذ ہے۔ دثار اس کپڑے کو کہا جاتا ہے جو بدن سے متصل ملبوسات کے اوپر اوڑھا جاتا ہے مثلا موٹی چادر یا کمبل وغیرہ۔ المتدثر وھو الذی یتدثر بثیابہ لینام او لیستدفئ (کبیر ج 8 ص 347) ۔ پہلی وحی کے بعد رسول اللہ ﷺ حسب معمول غار حرا میں تشریف لے گئے جب اپنے معمول سے فارغ ہو کر پہاڑ سے نیچے اترے تو کسی نے آپ کو آواز دی آپ نے آپ نے ہر طرف دیکھا لیکن آپ کو کوئی شخص نظر نہ آیا۔ پھر آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ کو فضا میں کرسی پر بیٹھا ہوا وہی فرشتہ نظر آیا…
Read the full tafseer →وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ 3 رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : المدثر اصلہ المتدثر ادغمت التاء فی الدال للمجانستہ وقرء الجمہور بالادغام۔ والدثارما یلبس فوق الشعار والشعار مایلی الجسدومنہ قولہ (علیہ السلام) الانصارشعار والناس دثار۔ فانذر الفاء فیہ وفیما بعدہ لافادۃ معنی الشرط کانہ قال مایکن من شیئ۔ فانذروکبر۔ وقال ابن جنی ھو کقولک زیدا فاضرب فالفاء زائدۃ وربک و ثیابک والرجز منصوب بفعل محذوف یفسرہ مابعدہ تستکثر بالرفع علی انہ حال وبالجزم علی انہ جواب النھی وبالنصب علی تقدیر لتستکثروقیل علی تقدیر ان وبقاء علمھا۔ تفسیر : بخاری و مسلم وغیرہما نے نقل کیا ہے کہ ابوسلمۃ بن عبدالرحمن نے کہا سب سے پہلے یا ایہا المدثر نازل ہوئی اس پر یحییٰ بن ابی کثیر نے…
Read the full tafseer →وَرَبَّـکَ فَکَبِّرْ ۔ (المدثر : 3) (اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کیجیے۔ ) انذار کا پہلا حکم سب سے بڑے بگاڑ کی اصلاح ہے دنیا میں بگاڑ کے اسباب بہت سے ہیں لیکن جس سبب نے انسانوں کے بگاڑ میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ یا اس کی شراکت میں دوسری بہت سی قوتوں کی بڑائی کو تسلیم کرنا ہے۔ انسان کبھی کسی کو غیرمشروط اطاعت کا حق دے دیتا ہے تو اس کے لیے اس کی بےپایاں عظمت کو تسلیم کرنے لگتا ہے۔ وہ عظمت اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ اس کی ہر بات اور ہر اشارے کو حکم کا درجہ دے، چاہے وہ عظمت اقتدار کی بےپناہی سے پھوٹی ہو یا دولت کے انباروں سے، یا مشیخیت و تقدس کے دعویداروں کی نام نہاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن ربط سورت : سورة المزمل کی ابتداء اور اس کے آخر میں نبی ﷺ کو تہجد کا ایک فائدہ یہ بتلایا گیا کہ تہجد کی نماز انسان میں ضبط نفس اور مستعدی پیدا کرتی ہے۔ المدثر کے آغاز میں حکم ہوا کہ اب آرام کا وقت ختم ہوا اس لیے ” اللہ “ کے راستے میں اٹھ کھڑے ہوں اور اپنا لباس پاک صاف رکھیں، شرک کی نجاست سے دور رہیں، تبلیغ کا کام کسی معاوضہ کی غرض سے نہ کریں اور اس راستے میں آنے والے مصائب پر صبر کرتے رہیں۔ سورۃ العلق کی ابتدائی آیات نازل ہونے کے بعد ایک مدت تک آپ ﷺ پر وحی نازل نہ ہوئی۔ اس مدت کے بارے میں محدثین اور مفسرین میں اختلاف ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ ایک سال تک وحی نازل نہیں ہوئی لیکن ثقہ…
Read the full tafseer →3 : وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ (اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو) یعنی کبریائی کے ساتھ اپنے رب کو خاص قرار دو تکبر وکبریائی تعظیم کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے اپنی نگاہ میں کسی اور کی بڑائی مت لائو۔ اور جب غیر اللہ کی طرف سے کوئی بات پیش آئے تو کہو اللہ اکبر۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ روایت میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ اکبر۔ پھر خدیجہ ؓ نے اللہ اکبر کہا اور خوش ہوئیں اور ان کو یقین ہوگیا کہ یہ وحی ہے۔ (ذکرہ الزمخشری فی الکشاف) اور کبھی اس کو نماز کی تکبیر پر بھی محمول کیا گیا ہے۔ اور معنی شرط کی وجہ سے آتی ہے گویا اس طرح کہا گیا۔ وماکان فلا تدع تکبیرہٗ ۔ کچھ بھی ہو کسی حال میں ہو۔ اس کی…
Read the full tafseer →1-2 ۔…” یایھا المدثر۔ قم فانذر “ یعنی کفار مکہ کو ڈرائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ علماء مفسرین نے اس باب میں بہت بڑا اختلاف کیا ہے کہ قرآن شریف کی سورتوں میں سب سے پہلے اقرا باسم رباک الذی خلق نازل ہوئی ہے یا سورة مدثر نازل ہوئی ہے۔ صحیحین 1 ؎ کی حضرت جابر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی دونوں حدیثوں کو ملا کر دیکھا جائے تو رفع اس اختلاف کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر اور حافظ ابن کثیر اور خطیب وغیرہ نے بیان کیا ہے آنحضرت ﷺ کے رویا صادقہ کے عبد پہلے پہل وحی کا نزول جو شروع ہوا تو سب سے پہلے اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی پھر چند روز تک وحی بند رہی اس وحی کی بندش کے بعد پھر جو سلسلہ وحی کا چلا تو سورة مدثر نازل ہوئی غرض صحیح قول یہی ہے کہ سورة مدثر کا نزول اقراء سے موخر اور سب…
Read the full tafseer →وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ) یعنی توحید کے ذریعے سے اس کی عظمت بیان کیجے۔ اپنے انداز و تنبیہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود بنائیں، نیز اسبات کو مدنظر رکھیں کہ بندے اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی عبادت کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 کار نبوت کی اولین ذمہ داری انداز عام : سو کار نبوت کی اولین ذمہ داری سے آگاہی کی طور پر آپ کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا اٹھو اور خبردار کرو۔ یعنی خبردار کرو لوگوں کو ان کے اس حقیقی اور ہولناک انجام سے جس سے ان کو بہرحال اور قطعی طور پر سابقہ پڑنا ہے اور انہوں نے زندگی بھر کے کء کرائے کا حساب دینا اور بدلہ پانا ہے اس انجام سے ان کو خبردار کرو قبل اس سے کہ فرصت عمل ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور عمر رواں کی دلوت ان سے چھن جائے اور یہ اس نقصان عظیم اور خسران مبین میں مبتلا ہوجائیں جس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ان کے لئے ممن نہیں ہوگی، بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہا ٹھو اور پورے عزم و حوصلے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
اصلاح انسان کے احکامات تشریح : اب تک تو رسول اللہ ﷺ دین کی تبلیغ چپکے چپکے صرف اہل خاندان یا قریبی رفقا تک ہی کرتے تھے مگر اب ان کو حکم دیا گیا ہے کہ اب اسلام کی تبلیغ سر عام شروع کر دو ۔ جیسا کہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں اسلام کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اس کا آغاز 622ء یعنی جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو ہوا اور پھر اسی صدی کے ختم ہونے تک اسلام پورے مشرق وسطی شمالی افریقہ اور اسپین میں پھیل گیا۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کے وصال کے صرف ایک صدی کے اندر اندر ماوراء النہر سے لے کر اندلس تک سب اسلام کے حلقے میں آگئے۔ تو یہ سب کیسے ہوا ؟ صرف ایک مرد کامل کی مقدس تعلیمات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ف 7 مراد حسی اور اخلاقی یا ظاہری اور باطنی ہر قسم کی طہارت ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز کے لئے کپڑوں کا پاک ہونا بھی ضروری ہے۔ حدیث میں ہے الطھارۃ شطر الایمان کہ طہارت آدھا ایمان ہے۔
Read the full tafseer →(73:3) وربک فکبر : تفسیر مظہری میں ہے :۔ اس جگہ اور اس کے بعد میں آنے والے جملوں میں (یعنی فطھر اور فاھجر میں)جزائیہ ہے۔ اصل کلام یوں تھا :۔ کہ کچھ بھی ہو، کسی بھی حال میں ہو اپنے رب کی بڑائی کا اظہار کرو۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ ربک فعل محذوف کا مفعول ہو اور فکبر اس کی تاکید ہو اور اس سے استمرار مقصود ہو (یعنی پیہم اللہ کی بڑائی کا اظہار کرو۔ کبر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر تکبیر (تفعیل) مصدر ۔ بڑائی بیان کرنا۔ علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں :۔ تکبیر کا معنی ہے حدوث (کسی ایسی چیز کا وجود میں آنا جو پہلے نہ ہو) اور ہر زوال و نقصان کی علامات سے اللہ کو برقرار دینا۔ وجوب وجود اور الوہیت و عبادت میں کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(ف 1) شان نزول : حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں کوہ حرا پر تھا، کہ مجھے ندا کی گئی یامحمد انک رسول اللہ میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا کچھ نہ پایا، اوپر دیکھا ایک شخص آسمان زمین کے درمیان بیٹھا ہے یعنی وہی فرشتہ جس نے ندا کی تھی ، یہ دیکھ کر مجھ پر رعب ہوا اور میں خدیجہ ؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا مجھے کپڑا وغیرہ اڑھاؤ۔ انہوں نے اڑھادیا تو جبرائیل آئے اور انہوں نے یا ایھا المدثر، یعنی اے کپڑا اوڑھنے والے محبوب۔ (ف 2) یعنی وحی کے ثقل اور فرشتہ کی ہیبت سے آپ کو گھبرانا اور ڈرنا نہیں چاہیے، آپ کا کام تو یہ ہے کہ دوسروں کو خدا کا خوف دلائیں اور کفر ومعصیت کے برے انجام سے ڈرائیں پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[1] اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اپنے کپڑے نجاست سے پاک رکھو۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اپنا لباس صاف ستھرا رکھو۔ تیسرا مفہوم یہ ہے کہ اپنے لباس کو اخلاقی عیوب سے پاک رکھو، یعنی اس میں فخروغرور، نمائش، ٹھاٹھ باٹ اور شان و شوکت کا شائبہ تک نہ ہو۔ ارشاد کا چوتھا مفہوم یہ ہے کہ اپنا دامن پاک رکھو، یعنی اپنے اخلاق پاکیزہ رکھو اور ہر قسم کی برائیوں سے بچو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة المدثر 1: آثار نبوت سے متوتر انسان کو تبلیغ و اشاعت کے لئے ابھارا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ اٹھئے ! اور لوگوں کو آگاہ کیجئے ۔ ربوبیت کے تخیل کی شرک اور بت پرستی سے تذلیل ہورہی ہے ۔ آپ اس کو قول وعمل کے ساتھ بلند کیجئے دل کو پاکیزہ بنائیے ۔ اور فکروخیال کی ہر نجات کو جھٹلا دیجئے ۔ اور ان فرائض کو اس طرح خلوص کے ساتھ ادا کیجئے ۔ کہ ان لوگوں کو ممنون کرکے مال و دولت میں فراوانی کرنا مقصود نہ ہو ۔ بلکہ محض اپنے فرض منصبی سے عہدہ برا ہوتا ہو ۔ گویا مبلغ حق وصداقت کے لئے پانچ چیزوں کا ہونا ضروری ہے ۔ اولاقیام واستعذاف ثانیا اعلاء کلمۃ اللہ کا جذبہ ثالثا قلب کی پاکیزگی اور اربقا برائی کی باتوں سے…
Read the full tafseer →(3) اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ف 3۔ یہاں تبشیر کو اس لئے نہیں فرمایا کہ یہ آیت بالکل ابتدائے نبوت کی ہے، اس وقت باستثناء ایک دو کے کوئی مسلمان نہ تھا تو انذار ہی انسب تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(اے چادر اوڑھنے والے) اپنی خواب گاہ سے (کھڑے ہوجاؤ) یا قائم ہوجاؤ مراسم نبوت ادا کرنے میں (پھر ڈر سنا دو ) خلق کو عذاب الہی کا اگر اس کے سو وا اور کی عبادت کریں (اور اپنے رب کی بڑائی بولو) یعنی اپنے رب کو تعظیم کے ساتھ یاد کرو۔ (اور اپنے کپڑوں کو پاک ہی رکھو) میل و کچیل سے۔ یا۔۔ کوتاہ کر سرداران عرب کے خلاف ، کہ وہ لباس لمبا پہنتے ہیں ، تاکہ ان کی عادت ترک پر پہلی علامت ہو۔ حضرت علی کا ارشاد ہے کہ اپنا لباس کوتاہ کر ، بیشک وہ بہت پاک اور بہت پسندیدہ اور بہت باقی رہنے والا ہے۔ اور بعضوں نے یہ معنی کہے ہیں کہ جو کچھ نہ چاہیے اس سے اپنے نفس کو پاک رکھ۔ نفحات میں شیخ ابو الحسن علی شاذلی مغربی سے…
Read the full tafseer →Injunction [ 2] وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ (..and pronounce the greatness of your Lord...74:3) It means: "Proclaim the greatness of your Lord both orally and practically. The attribute rabb (Lord) has been used in this context because it is itself the effective cause of the injunction, in that He is the Sustainer, Cherisher and Nourisher of the entire world. He alone is worthy of Kibriya'. The word takbtr literally signifies 'to say Allahu Akbar '. This includes takbir of tahrimah in the beginning of prayers and other takbirs also. Takbir is recited outside the prayers as well, such as in adhan and…
Read the full tafseer →3 This is the primary duty of a Prophet, which he has to perform in this world. His foremost duty is to refute the greatness of alI those whom the ignorant people might be holding as great, and publicly proclaim that we greatness in this universe belongs to none but Allah alone. For this very reason the phrase Allahu Akbar has been Geld as of supreme importance in Islam. The adhan (call to prayer) begins with the proclamation of Allahu Akbar. The Muslim enters the Prayer itself with Allahu Akbar and repeats Allahu Akbar every time he sits or stands, He pronounces Bismillahi Allahu Akbar also…
Read the full tafseer →