Explained with ayahs 38–56
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہوگا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ…
Read the full tafseer →سورة الْمُدَّثِّر 38
یعنی یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اگر واقعی محمد ﷺ کو نبی مقرر فرمایا ہے تو وہ مکہ کے ایک سردار اور ایک ایک شیخ کے نام خط لکھ کر بھیجے کہ محمد ہمارے نبی ہیں، تم ان کی پیروی قبول کرو۔ اور یہ خط ایسے ہوں جنہیں دیکھ کر انہیں یقین آجائے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے یہ لکھ کر بھیجے ہیں۔ ایک اور مقام پر قرآن مجید میں کفار مکہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ " ہم نہ مانیں گے جب تک وہ چیز خود ہم کو نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے "۔ (الانعام، 124)۔ ایک دوسری جگہ ان کا یہ مطالبہ نقل کیا گیا ہے کہ آپ ہمارے سامنے آسمان پر چڑھیں اور وہاں سے ایک لکھی ہوئی کتاب لا کر ہمیں دیں جسے ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ
یہاں تذکرہ سے مراد قرآن حکیم ہے کیونکہ تذکرہ کے لفظی معنی یاد دلانے والی چیز کے ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی رحمت وغضب اور ثواب و عذاب کو یاد دلانے میں بےنظیر ہے اور آخر میں فرمایا
کلا انہ تذکرة
یعنی بلا شبہ قرآن تذکرہ ہے جسکو تم نے چھوڑ رکھا ہے قسورة کے معنی شیر کے بھی آتے اور تیر انداز شکاری کے بھی اس جگہ صحابہ کرام سے دونوں منقول ہیں۔
Read the full tafseer →اعراض کا بہانہ:
یعنی اس یاددہانی سے فرار کے لیے انھوں نے یہ بہانہ بنایا ہے کہ اگر خدا کو کوئی کتاب ہی اتارنی تھی تو انہی (محمد ﷺ) پر یہ کیوں اتاری گئی! ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہمیں بھی کھلے ہوئے صحیفے پکڑا دیے جاتے! آخر اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا کرنا کیا دشوار تھا! یہ وہی بات ہے جو دوسرے مقام میں یوں بیان ہوئی ہے:
وَإِذَا جَآءَ تْہُمْ آیَۃٌ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَا أُوۡتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ اَللّٰہُ أَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ (الانعام ۶: ۱۲۴)
’’اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لانے کے جب تک کہ ہمیں بھی اسی طرح نہ…
Read the full tafseer →52۔ 1 یعنی ہر ایک کے ہاتھ میں اللہ کی طرف سے ایک ایک کتاب مفتوح نازل ہو جس میں لکھا ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ بغیر عمل کے یہ عذاب سے چھٹکارہ چاہتے ہیں، یعنی ہر ایک کو پروانہ نجات مل جائے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →20: یہ ان کافروں کا ذکر ہے جو یہ کہا کرتے تھے کہ قرآن کریم حضرت محمد ﷺ پر ہی کیوں نازل ہوا ہے ؟ اگر اللہ تعالیٰ کو ہدایت کے لیے کوئی کتاب بھیجنی تھی تو ہم میں سے ہر شخص پر الگ کتاب آنی چاہیے تھی۔
Read the full tafseer →بل یرید .................... منشرة
یہ شعور وہ نبی ﷺ کے ساتھ حسد کی وجہ سے رکھتے تھے کہ حضور ﷺ کو یہ منصب کیوں عطا ہوا ؟ ہر کہ ومنہ یہ چاہتا تھا کہ یہ منصب اسے دیا جائے اور ہر شخص کے اوپر کھلے صحیفے اترتے نظر آئیں۔ یہ اشارہ ہے ان کبرائے قریش کی طرف جو اس بات پر جل بھن گئے تھے کہ محمد (ﷺ) ابن عبداللہ پر یہ کلام کیوں نازل ہوا۔
لو لا ................................ عظیم ” یہ قرآن دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوا ؟ “ لیکن اللہ نے فرمایا کہ وہ چاہتا ہے کہ منصب رسالت کا اہل کون ہے اور اس عظیم کام کے لئے اس نے کس کا انتخاب کرنا ہے۔ یہی بات تھی جس کی وجہ سے یہ لوگ اسلامی نظریہ حیات سے…
Read the full tafseer →1 یعنی پیغمبر کی بات ماننا نہیں چاہتے بلکہ ان میں ہر شخص کی آرزو یہ ہے کہ خود اس پر اللہ کے کھلے ہوئے صحیفے اتریں اور پیغمبر بنایا جائے۔ (حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ ) 6 ۔ الانعام :124) یا یہ کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس براہ راست ایک نوشتہ خدا کی طرف سے آئے جس میں محمد ﷺ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہو۔ (حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ) 17 ۔ الاسراء :93)
Read the full tafseer →آیت 52{ بَلْ یُرِیْدُ کُلُّ امْرِیٍٔ مِّنْہُمْ اَنْ یُّؤْتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً۔ } ”بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کو پکڑا دیے جائیں کھلے صحیفے۔“
یہ ان کی استہزائیہ گفتگو کا ذکر ہے۔ وہ لوگ حضور ﷺ کی دعوت کے جواب میں اکثر ایسی باتیں کرتے تھے کہ یہ حساب کتاب کا معاملہ قیامت پر کیوں ٹالا جا رہا ہے ؟ آپ ﷺ اپنے اللہ سے کہیں کہ وہ مہربانی فرما کر ہمارے اعمالنامے ابھی ہمارے ہاتھوں میں پکڑا دے۔ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ہم قرآن کو اللہ کا کلام تب مانیں گے جب ہم میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایک صحیفہ پکڑا دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →24 قریشی سرداروں کا مطالبہ کہ کھلی چٹھی ہمارے نام آئے :۔ ان قریشی سرداروں میں سے ہر ایک کی آرزو یہ ہے کہ اللہ میاں کی طرف سے ایک کھلی چٹھی ان میں سے ہر ایک کے نام آئے۔ جس میں یہ مذکور ہو کہ تمہارے اس صاحب (یعنی محمد ﷺ کو میں نے ہی اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ لہذا تم اس پر ایمان لے آؤ۔ اس صورت میں ہی یہ ایمان لاسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →23۔ (آسمان سے اترے ہوئے) قرآن مجید اپنے مخاطبین کو دعوت غوروفکر ایک خاص قسم کی دیتا ہے، اور چاہتا ہے کہ لوگ اس کے پیش کئے ہوئے دلائل وحقائق پر غور کرکے ایمان تک پہنچیں۔ احمق اور سنجیدگی فکر سے محروم اور سطحی نظر رکھنے والے منکرین اس قوت فکری کا استعمال بھی اپنے لئے بار سمجھتے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ شہادتیں انہیں جو بھی ملیں کھلی ہوئی مادی، حسی، خوارق کے قسم کی ملیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آت سے مذمت اس طالب کی نکل رہی ہے جو کاملین کاملین کے اتباع سے عار محسوس کرتا ہے۔ اور خود اپنے واردات واحوال کی توقع وطلب میں لگا ررہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…
Read the full tafseer →بل یرید کل امرء منھم ان یوتی صحفا منشرۃ . اس جگہ بَلْ ابتدائیہ ہے اور محض انتقال مضمون
کے لیے لایا گیا ہے۔ کلام سابق سے اعراض مقصود نہیں۔ اہل تفسیر نے بیان کیا ہے کہ کفار قریش نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ (اگر تم سچے ہو تو) ہم میں سے ہر شخص کے سرہانے صبح کو ایک کھلی چٹھی برآمد ہونا چاہیے جس میں لکھا ہو کہ آپ خدا کے رسول ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کے کہنے پر عمل کرنا ضروری ہے۔ منشّرۃ اور منشورۃ ہم معنی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
(49۔ 52) سو ان مکہ والوں کو کیا ہوا کہ یہ قرآن کریم کو جھٹلاتے ہیں کہ گویا وہ وحشی گدھے ہیں کہ شیر سے یا آدمیوں کی جماعت سے بھاگے جارہے ہیں، بلکہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے نوشتے دیے جائیں، چناچہ ان لوگوں نے اس کی درخواست کی تھی کہ خاص ہمارے نام نوشے آئیں جس میں ہمارا نام اور توبہ لکھی ہو کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں۔
شان نزول : بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِۍ مِّنْهُمْ (الخ)
ابن منذر نے سدی سے روایت کیا ہے کہ کفار نے کہا کہ اگر محمد سچے ہیں تو صبح کو ہر ایک شخص کے سر کے نیچے سے لکھا ہوا نکلے جس میں اس کے لیے دوزخ سے برات لکھی ہوئی ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →(بل یرید کل امری منھم…: یعنی قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کا حق ہونا واضح ہوجانے کے باوجود ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے تازہ لکھی ہوئی تحریر دی جائے جو ابھی تہ بھی نہ کی گئی ہو اور ان کے ہر شخص کو باقاعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خط آئے کہ محمد (ﷺ) ہمارے رسول ہیں، انہیں مان لو۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے خیال میں اتنے بڑے بن رہے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے اور ان کی اطاعت کے لئے تیار ہی نہیں، بلکہ ان کی خواہش اور تقاضا یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو نبی بنادیا جائے، اسے کتاب عطا ہو اور وہ بھی خرق عادت کے طور پر کاغذپر لکھی ہوئی سب کے سامنے کھلی ہوئی حلات میں ان پر نازل ہو۔ لیکن یہ…
Read the full tafseer →بل یرید کل امری منھم ان یوتی صحفا منشرہ۔ یعنی انہیں کھلی کتاب دی جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ابوجہل اور قریش کی ایک جماعت نے کہا، اے محمد ﷺ ہم میں سے ہر ایک پاس رب العالمین کی جانب سے ایک مکتوب لے آ جس میں یہ لکھا ہوا ہے، میں نے حضرت محمد ﷺ کو تمہاری طرف بھیجا ہے، اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، ولن نومن لرقیک حتی تنزل علینا کتابا نقروہ۔ الاسرائ 93) ہم تیرے آسمان پر جانے کو تسلیم نہیں کریں گے یہاں تک کہ تو ہم پر کتاب نازل کرے جسے ہم پڑھیں، حضرت ابن عباس نے فرمایا وہ کہا کرتے تھے اگر محمد سچے ہیں تو وہ صبح کے وقت ہم میں سے ہر کسی کے پاس ایک صحیفہ لے آئیں جس میں اس کے جہنم سے بری ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
34۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل یرید کل امرء منہم ان یوتی صحفا منشرۃ۔ بلکہ ہر ایک آدمی ان میں سے چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دئیے جائیں۔ یعنی اس طرح سے کہ رب العالمین کی طرف سے فلاں بن فلاں کے نام جو صبح کے وقت ہر آدمی کے سر کے نیچے صحیفہ رکھا ہو جس کو وہ پڑھ لے۔
35۔ عبدبن حمید وابن المنذرنے قتادہ ؓ سے آیت بل یرید کل امرء منہم ان یوتی صحفا منشرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ لوگوں میں سے کچھ کہنے والوں نے محمد ﷺ سے کہا۔ اگر آپ کو یہ بات خوش لگے کہ ہم آپ کی تابعداری کریں تو ہمارے پاس ایک خط لے آئیے کہ جس میں ہم کو آپ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہو اور فرمایا کہ آیت…
Read the full tafseer →[بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِۍ مِّنْهُمْ : بلکہ چلتا ہے ہر مرد ان میں سے ] [ان يُّؤْتٰى: کہ اس کو دیئے جائیں ] [صُحُفًا مُّنَشَّرَةً : کھولے ہوئے اوراق ]
Read the full tafseer →﴿بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ0052﴾یعنی ان کو ایمان لانا نہیں ہے کفر پر جمے رہنے کے لیے ایسے مطالبات کرتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے بس میں نہیں ہیں، کہتے ہیں کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم میں سے ہر شخص کے سر کے پاس جب صبح کو سو کر اٹھیں تو ایک پرچہ ہونا چاہیے جس میں اللہ کی طرف سے یہ لکھا ہو کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ بھی لکھا ہو کہ ان کا اتباع کرو۔ یہ ان کی جاہلانہ باتیں ہیں واضح ہونے کے بعد حق کو نہ ماننا اور حیلے بہانے تلاش کرنا مزید کفر در کفر ہے۔ (الدر المنثور صفحہ 286 ض ج 6)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…
Read the full tafseer →19:۔ بل یرید۔ یہ مقدر پر معطوف ہے۔ یہ معاندین اس عظیم تذکرہ (قرآن) کو کافی نہیں سمجھتے، بلکہ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے نام پر الگ الگ صحیفہ آسمان سے ت اترے تب وہ مانیں گے عطف علی مقد یقتضیہ المقام کانہ قیل لایکتفون بتلک التذکرۃ ولا یرضون بھا بل یرید کل واحد منہم الخ (روح ج 29 ص 134) ۔ تائید : لن نؤمن حتی نؤتی مثل ما اوتی رسل اللہ (انعام) ۔
Read the full tafseer →بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً 52 ۙ
رود
والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]
( ر و د ) الرود
الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–56
ترکیب : معرضین حال من الضمیر فی متعلق الجارو المجرور ‘ فما مبتدء لھم خبرہ کانھم الجملۃ حال من الضمیر فی معرضین علی التداخل مستنفرۃ قراء الجمہور بالکسر یقال نفرواوا ستنفروامثل سخرواستسخرو عجب واستعجب و قریٔ بالفتح قال ابوعلی الفارسی الکسرۃ اولی۔ فرت الخ حال بتقدیر قد والقسورۃ عندالاکثرالاسد فعولۃ من القسرو ھوا لقہرو الغلبۃ سمی بذلک لانہ یقہرا بساع وقیل جماعۃ الرماۃ قال الازہری اسم جمع للرماۃ لاواحدلہ من جنسہ و قیل ذکر الناس واصواتھم وقیل ظلمۃ اللیل بل یرید عطف علی مقدر یقتضیہ المقام کانہ قیل لایکتفون بتلک التذکرۃ بل یرید الخ کلابل لایخافون اضراب انتقالی لبیان ھذا التنعۃ وقیل کلابمعنی حقاً…
Read the full tafseer →بَلْ یُرِیْدُ کُلُّ امْرِیٍٔ مِّنْھُمْ اَنْ یُّؤْتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً ۔ (المدثر : 52)
(بلکہ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دیئے جائیں۔ )
اعراض کا بہانہ
گزشتہ دو آیتوں میں مخالفین کے اعراض بلکہ وحشت زدگی کو بیان کرنے کے بعد اس آیت میں فرمایا کہ انھوں نے اپنے اعراض اور وحشت پر پردہ ڈالنے کے لیے بات کو الجھانے کی کوشش کی کہ جس طرح محمد ﷺ پر قرآن کریم مختلف صحیفوں یعنی سورتوں کی شکل میں نازل ہورہا ہے، اسی طرح ہم پر بھی کھلے صحیفے نازل کیے جائیں۔ انھیں دیکھ کر ہم اندازہ کرسکیں گے کہ آنحضرت ﷺ کا دعویٰ صحیح ہے یا غلط۔ اور ایک مفہوم اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر سردار کے نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–56
فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کو ان کا اقرار اور انجام بتلانے کے بعد ایک دفعہ پھر نصیحت کی گئی ہے
مجرموں کو کیا ہوگیا ہے کہ جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو اس پر توجہ کرنے کی بجائے اس سے اس طرح منہ موڑتے ہیں گویا کہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوں۔ ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں جن میں ان سے ایمان لانے کی درخواست کی جائے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کے پاس جب بھی کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں وہی کچھ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ…
Read the full tafseer →سب کو ایک ایک کتاب دی جائے :
52 : بَلْ یُرِیْدُ کُلُّ امْرِیٍٔ مِّنْھُمْ اَنْ یُّؤْتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً (بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کو کھلے ہوئے نوشتے دیے جائیں) صحفاؔ منشرہ ایسے کاغذ جن کو پھیلا کر پڑھا جائے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو کہا کہ ہم اس وقت تک تمہاری اتباع نہ کریں گے۔ یہاں تک کہ ہر ایک ہم میں سے آسمان سے ایک کتاب نہ لے آئے۔ جن کا عنوان یہ ہو۔ من رب العالمین الی فلان بن فلان۔ ان میں ہمیں تمہاری اتباع کا حکم دیا گیا ہو۔ اس کی مثال یہ ارشاد ہے۔ ولن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کتابا نقرؤہٗ ] الاسراء 93[ ایک قول یہ ہے کہ وہ کہنے لگے اگر محمد سچے…
Read the full tafseer →51 ۔” فرت من قسورۃ “ مجاہد، قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” القسورۃ “ تیر اندازوں کی جماعت اس کا اس کے لفظ سے کوئی واحد نہیں اور یہ عطاء کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔
قسورۃ کی تفسیر
سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں وہ جال پھینکنے والے (شکاری) ہیں اور یہی عطیہ کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں طاقتور مردوں سے اور ہر قوت والا مرد عرب کے ہاں قسورا اور قسورۃ ہے ۔ ابوالمتوکل سے روایت ہے فرمایا وہ قوم کا شوروغل اور ان کی آوازیں ہیں۔ عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں یہ شکاریوں کی رسیاں ہیں۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں وہ شیر ہیں اور وہ عطاء اور کلبی رحمہما اللہ کا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–56
38۔ 56۔ جس طرح گروی رکھوانے والا شخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھوڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھوڑانے کے لئے اپنے اپنے عمل کے پابند کئے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک و بد عمل کا حساب لکھنے کے لئے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اور اس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیا جاتا ہے اس کاغذ کو اعمال نہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جن کا حساب آسانی سے ہو کر جلدی سے ان کی نجات ہونے والی ہے۔ چناچہ اذا السماء انشقت میں آئے گا۔ فما من اوتی…
Read the full tafseer →اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے۔ اس نفرت اور عراض کے باوجود وہ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں پس (بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِۍ مِّنْهُمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً ) ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انہوں نے جھوٹ بولا ہے ان کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آجائے تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ انکے پاس واضح دلائل آئے جنہوں نے ھق کو بیان کرکے واضع کردیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے
قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔
دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
40 منکرین کی وحشت و نفرت کی تمثیل کا ذکر وبیان : سو ان کو جنگلی گدھوں سے تشبیہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ گویا کہ یہ جنگلی گدھے ہیں جو بھاگ کھڑے ہوئے ہوں شیر کے ڈر سے۔ جو کہ خطرے کی ہوا سونگھتے ہی بدحواس ہو کر ایسے چوپٹ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں کہ مڑ کر دیکھنے کو بھی تیار نہیں ہوتے ‘ سو یہی حال ان منکرین و مکذبین حق کا ہے ‘ تو ایسے میں حق اور ہدایت کی آواز ان کے کانوں میں پڑ ہی کیسے سکتی ہے ؟ یہاں پر یہ امر ملحوظ رہے کہ جب کوئی حقیقت اتنی واضح ہو کہ آدمی کا دل اس کے انکار کرنے پر مطمئن نہ ہو ‘ اور وہ اس کو قبول کرنے کیلئے تیار نہ ہو ‘ تو اس سے اس کے گریز و فرار کی شکل یہی ہوتی ہے جو اس مثال سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
اللہ کے مقبول بندوں کی پر سکون زندگیاں اور دوزخیوں کا اقرار جرم
تشریح : یہاں داہنی طرف والے نیک لوگ۔ اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے۔ جو میدان حشر میں ہونے والی ہے اور جو ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جو اس بات کی ضمانت ہے کہ اس عقیدہ پر ایمان رکھنے والے ہر برا کام کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اس برے کام کا انجام عذاب کی صورت میں ضرور ملے گا۔ تو یہی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ مرنے کے بعد ہم ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ اعمال نامے ملنے کی صورت یہ ہوگی کہ کچھ کو دائیں طرف سے کچھ کو بائیں طرف سے پیچھے سے اعمال نامے دئیے جائـیں گے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو داہنی طرف سے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
آیات 32 تا 56۔
اسرار ومعارف۔
اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ف 6 ” اس لئے وہ ایسی بیہودہ اور بےتکی باتیں کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →(74:52) بل یرید کل امری منھم ان یؤتی صحفا منشرۃ : بل یہاں ابتدائیہ ہے اور محض انتقال مضمون کے لئے لایا گیا ہے کلام سابق سے اعراض مقصود نہیں ۔
اہل تفسیر نے بیان کیا ہے کہ کفار قریش نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو ہم میں سے ہر شخص کے سرہانے صبح کو ایک کھلی چٹھی برآمد ہونا چاہیے جس میں لکھا ہو کہ آپ خدا کے رسول ہیں آپ کے کہنے پر عمل کرنا ضروری ہے۔
ان مصدریہ ہے یؤتی مضارع مجہول واحد مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر بمعنی دینا۔ صحفا۔ صحیفہ کی جمع ہے بمعنی صحیفے ، کتابیں، نوشتے، اور اق۔ صحف بوجہ مفعول منصوب ہے ۔ اور موصوف ہے اس کی صفت منشرۃ ہے۔ صحیفہ کی جمع صحف نادر ہے کیونکہ فعیلۃ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
لغات القرآن۔
ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔
تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
(ف 1) کفار قریش نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص کے نام آصمان سے ایک حکم نامہ اس مضمون کا آنا چاہے کہ محمداللہ کے رسول ہیں تم لوگ ان کی فرمانبرداری کرو پھر فرمایا کہ ان لوگوں کی سرکشی کے سبب سے اللہ کی بارگاہ سے جو انتظام ہوچکا ہے وہ نہیں پلٹ سکتا۔ کیونکہ یہ خواہش ان لوگوں کی کچھ اس خیال سے نہیں ہے کہ اگر ان کی خواہش پوری ہوجائے تو ان کے دل میں اللہ کے رسول اللہ کے کلام کی صداقت پیدا ہوجائے بلکہ ان کے دل میں تو دنیا کے انجام پر غور کرکے عقبی کا یقین اورس یقین کے سبب اس کا خوف کچھ بھی نہیں ہے۔ اس واسطے یہ لوگ بےٹھکانے کی باتیں کررہے ہیں اور قرآن کی نصیحت کان کھول کر نہیں سنتے، پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
[18] یعنی پیغمبر کی بات ماننا نہیں چاہتے بلکہ ان میں سے ہر شخص کی آرزو یہ ہے کہ خود اس پر اللہ تعالیٰ صحیفے نازل کرے اور وہ پیغمبر بنادیا جائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس براہ راست ایک نوشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے جس میں محمد ﷺ کے اتباع کا حکم دیا گیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–56
ف 5: اسلام سے قبل نجات کا مفہوم یہ تھا ۔ کہ لوگ ولیوں اور شہیدوں پر بھروسہ کرکے ہر نوع کے فسق وفجور کا ارتکاب کرتے اور یہ سمجھتے ۔ کہ چونکہ ان لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلقات امادت وعقیدت وابستہ ہیں ۔ اس لئے عذاب اور سزا سے ہمارا بچ جانا یقینی ہے ۔
کچھ لوگ بتوں اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو اس بات کا مجاز قراردیتے کہ وہ اپنے پچاریوں کو یحسوا لیں گے ۔ اس پر اس قبیل کی آیتیں نازل ہوئیں ۔ جن میں شفاعت کی نفی کی گئی ۔ اور بتایا گیا ۔ کہ جب تک ذاتی صلاحیت نہ ہو ۔ کوئی سفارش مفید نہیں ہوسکتی ۔
حل لغات :۔ رھینہ ۔ مصدر سے الیقین ۔ موت ۔
Read the full tafseer →(52) نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کو کھلے ہوئے آسمانی صحیفے دیئے جائیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہر کوئی نبی ہوا چاہتا ہے کہ کھلی کتاب پاوے آسمان سے۔
خلاصہ : یہ کہ سورة نبی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ یہ کافر ایمان لانے کے لئے یہ شرط مقرر کرتے تھے کہ اس کتاب کو ہم خودپڑھیں ایسی کتاب ہمارے سامنے آسمان سے لاکر ہم کو دو ، اس قسم کی شرائط محض وفع الوقتی کے لئے کرتے تھے یا یہ کہ جو کچھ اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے وہ ہم کو بھی دیا جائے۔ حتی نوتی مثل مااوتی رسل اللہ (سورہ انعام)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
ف 6۔ در منثور میں قتادہ سے مروی ہے کہ بعضے کفار نے آپ سے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کا اتباع کریں تو خاص ہمارے نام ایسے نوشتے لائیں جن میں آپ کے اتباع کا حکم لکھا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(بلکہ چاہتا ہے ہر شخص ان کا کہ دیے جاتے الگ الگ صحیفے) سر کھلے بےمہر اس مضمون کے کہ اے فلاں ! محمد کی پیروی کرو۔ (ہرگز نہیں) دیے جائیں گے ان کو یہ نامے ، اور اگر دیے بھی جائیں تو بھی وہ ایمان نہ لائیں گے ، پس ان کا انکار اس واسطے نہیں کہ نامہ نہیں دیا جاتا ، (بلکہ وہ ڈرتے ہی نہیں آخرت) کے عذاب (کو) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ (So what has happened to them that they are turning away from the Reminder... 74:49)
The word tadhkirah (Reminder), in this context, refers to the Holy Qur'an, because the word literally signifies a 'reminder or something that reminds'. The Qur'an is unique in reminding Allah's attributes of perfection, His mercy and wrath, and the reward and punishment. Towards the end, the verse 54 has explained that the 'Reminder' is the Holy Qur'an that is rejected by them. The allergy of the infidels against the Holy Qur'an has been mentioned in verses 50 and…
Read the full tafseer →38 That is, they desire that if Allah really has appointed Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) as His Prophet, He should send a letter to each one of the chiefs and elders of Makkah telling him that Muhammad is Allah's Prophet; therefore he should obey and follow him. And these letters should be such as may convince them that they have been written by Allah Himself. At another place in the Qur'an, this saying of the disbelievers of Makkah has been cited: "We will not believe in it unless we are given the like of what has been given to the Messengers of Allah." (Al-An`am: 124)…
Read the full tafseer →