Al-Muddaththir 74:53

Al-Muddaththir · from ayah 53

74:53

كَلَّا ؕ— بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَ ۟ؕكَلَّا ‌ؕ بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ

ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو آخرت کا خوف ہی نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

No! But they do not fear the Hereafter.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:53

ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ یہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو آخرت کا خوف ہی نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہرگز ایسا نہیں (ہوسکتا بلکہ) یہ قیامت سے بے خوف ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہرگز نہیں ! بات اصل میں یہ ہے کہ ان کو آخرت کا خوف نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہرگز نہیں بلکہ ان کو آخرت کا ڈر نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ایسا ہرگز ممکن نہیں، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) وہ لوگ آخرت سے ڈرتے ہی نہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا، بلکہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہر گز نہیں بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ) آخرت سے نہیں ڈرتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہرگز نہیں، بلکہ وہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہرگز نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ڈرتے نہیں آخرت (کی پکڑ اور اسکے عذاب) سے

— مولانا اسحاق مدنی

ہرگز نہیں بلکہ اصل یہ ہے کہ یہ آخرت کا خوف ہی نہیں رکھتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہرگز نہیں ! اصل بات یہ ہے کہ وہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو آخرت کا خوف ہی نہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

No indeed; the truth is that they have no fear of the Hereafter.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Never! But they do not fear the Hereafter.

— Muhammad Taqi Usmani

Never! But they do not fear the Hereafter.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay! But they fear not the Hereafter.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, verily. They fear not the Hereafter.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

No! But they do not fear the Hereafter.

— Saheeh International

This will certainly never be the case! In fact, they are not afraid of the Day of Judgment.

— Muhammad Sarwar

Nay! but they do not fear the hereafter.

— Muhammad Habib Shakir

By no means! Aye, they fear not the Hereafter.

— Abdul Majid Daryabadi

By no means! But they fear not the Hereafter,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 74:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–56

جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہوگا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُدَّثِّر 39 یعنی ان کے ایمان نہ لانے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے مطالبے پورے نہیں کیے جاتے، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ آخرت سے بےخوف ہیں۔ انہوں نے سب کچھ اسی دنیا کو سمجھ رکھا ہے اور انہیں یہ خیال نہیں ہے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی بھی ہے جس میں ان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ اسی چیز نے ان کو دنیا میں بےفکر اور غیر ذمہ دار بنادیا ہے۔ یہ حق اور باطل کے سوال کو سرے سے بےمعنی سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کو دنیا میں کوئی حق ایسا نظر نہیں آتا جس کی پیروی کا نتیجہ لازما دنیا میں اچھا ہی نکلتا ہو۔ اور نہ کوئی باطل ایسا نظر آتا ہے جس کا نتیجہ دنیا میں ضرور برا ہی نکلا کرتا ہو۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 49–55

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ یہاں تذکرہ سے مراد قرآن حکیم ہے کیونکہ تذکرہ کے لفظی معنی یاد دلانے والی چیز کے ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی رحمت وغضب اور ثواب و عذاب کو یاد دلانے میں بےنظیر ہے اور آخر میں فرمایا کلا انہ تذکرة یعنی بلا شبہ قرآن تذکرہ ہے جسکو تم نے چھوڑ رکھا ہے قسورة کے معنی شیر کے بھی آتے اور تیر انداز شکاری کے بھی اس جگہ صحابہ کرام سے دونوں منقول ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اصل حقیقت: یعنی نہ ایسا ہونا ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے۔ ان کے گریز کی علت یہ نہیں ہے جو یہ ظاہر کر رہے ہیں بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ آخرت کے وقوع کے متوقع نہیں ہیں۔ ’یَخَافُوْنَ‘ یہاں ’یَرْجُوْنَ‘ کے مفہوم میں ہے اور اس معنی میں اس کا استعمال معروف ہے۔ اس کے شواہد اس کے محل میں ہم پیش کر چکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ آخرت سے نچنت ہیں اور ان کی دلی خواہش یہی ہے کہ اس سے نچنت ہی رہیں، اس کی فکر ان کے عیش کو مکدر کرنے نہ پائے تو ان کو کوئی نشانی بھی قائل نہیں کر سکتی۔ ان کی طلب کے مطابق ان کو کھلے صحیفے بھی پکڑا دیے جائیں جب بھی وہ کوئی نہ کوئی بت بنا ہی لیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

53۔ 1 یعنی ان کے فساد کی وجہ سے ان کا آخرت پر عدم ایمان اور اس کی تکذیب ہے جس نے انہیں بےخوف کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–56

21: یعنی یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ہر شخص کو الگ کتاب دی جائے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہمیشہ کسی پیغمبر کے واسطے سے بھیجی جاتی ہے، کیونکہ اگر ہر شخص پر براہ راست کتاب بھیجی جائے تو اول تو ایمان بالغیب کا تصور ہی ختم ہوجائے تو سارے امتحان کی بنیاد ہے، دوسرے تنہا کتاب انسان کی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہوسکتی، جب تک پیغمبر کی شکل میں کوئی معلم ساتھ نہ ہو۔ وہی انسانوں کو کتاب کا صحیح مطلب سمجھاتا ہے، اور وہی اس پر عمل کرنے کا طریقہ سکھاتا ہے، ورنہ ہر شخص کتاب کی من مانی تشریحات کر کے اس کا سارا مفہوم ہی خراب کرسکتا ہے۔ 22: یعنی یہ بےسرو پا اعتراضات کسی حق طلبی کی وجہ سے نہیں کیے جا رہے ہیں، بلکہ ان کی اصل…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

کلا .................... الاخرة ان کی یہ بےخوفی اور لاابالی پن ہی ہے جو انہیں اس نصیحت و حکمت سے دور کررہا ہے اور دعوت اسلامی سے یہ دور بھاگ رہے ہیں۔ اگر ان کے دلوں میں آخرت کا شعور ہوتا تو ان کی صورت حال یہ نہ ہوتی کہ یہ ہر معاملے میں شک میں گرفتار ہیں۔ اس کے بعد ایک بار پھر ان کو تنبیہ کی جاتی ہے۔ اب آخری بات کہہ دی جاتی ہے اور ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اب جو چاہیں کریں اور جو انجام چاہیں ، قبول کریں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

15 یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ نہ ان میں لیاقت نہ اس کی ضرورت۔ 1 یعنی یہ بیہودہ درخواستیں بھی کچھ اس لیے نہیں کہ ایسا کردیا جائے تو واقعی مان جائیں گے بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت کے عذاب سے نہیں ڈرتے اس لیے حق کی طلب نہیں، اور یہ درخواستیں محص تعنت سے ہیں۔ اگر یہ درخواستیں بالفرض پوری کردی جائیں تب بھی اتباع نہ کریں۔ کما قال تعالیٰ (وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَيْدِيْهِمْ لَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْـرٌ مُّبِيْنٌ) 6 ۔ الانعام :7)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 53{ کَلَّاط بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَۃَ۔ } ”ہرگز نہیں ! اصل بات یہ ہے کہ وہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔“ جب ان کے دلوں میں آخرت کا خوف نہیں رہا تو اب وہ جیسی چاہیں باتیں بنائیں۔ فارسی کا مشہور محاورہ ہے : ”بےحیا باش و ہرچہ خواہی کن !“ کہ ایک دفعہ حیا کا پردہ اٹھا دو پھر جو چاہو کرو۔ چناچہ آخرت سے بےخوف ہو کر وہ ہر طرح کی باتیں بنانے میں آزاد ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 53–55

25 اگر ہم ایسے کھلے خط ان کے نام بھیج بھی دیں تو بھی یہ لوگ کبھی ایمان نہ لائیں گے اور اسے بھی جادو کا کرشمہ قرار دے دیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ نہ ان کا آخرت پر ایمان ہے اور نہ یہ اپنے مواخذہ سے ڈرتے ہیں۔ کچھ سوچ سمجھ کر جواب تو وہی آدمی دیتا ہے جسے مواخذہ کا ڈر ہو۔ اور جو مواخذہ کا خطرہ ہی نہ سمجھتا ہو وہ جو چاہے بک دے۔ اس کا کیا بگڑتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

24۔ قرآن مجید ان منکرین کی نفسیت کی تشخیص یہ کرتا ہے کہ ان کے اعراض و انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کہ دلوں میں سرے سے اندیشہ آخرت اور طلب حق ہے ہی نہیں۔ (آیت) ” کلا “۔ یعنی ایسا ہرگز نہ کیا جائے گا، ان کے ہوائے نفس کے پورا ہونے کا موقع انہیں ہرگز نہ دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–56

ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کلا . وضوح امر کے بعد طلب معجزات سے یہ بازداشت ہے۔ بل لا یخافون الاخرۃ . بَل ابتدائیہ ہے۔ کلا سے کلام کا رخ پھیر دینے کے لیے نہیں ہے۔ یعنی ان کو آخرت کا خوف نہیں۔ اسی لیے تذکرۃ (قرآن) سے انہوں نے منہ پھیرلیا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ بَل اضراب کے لیے ہو۔ رفتار کلام بتارہی ہے کہ اصل کلام اس طرح تھا ‘ اگر ان کو کھلے پروانے بھی دے دیئے جائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ ان کو معجزہ کی طلب اس غرض کے لیے نہیں ہے کہ معاملہ مبہم ہے (نبوت کی صداقت ان پر واضح نہیں ہے) معاملہ تو ان پر کھلا ہوا ہے۔ اب جو معجزہ کے طلبگار ہیں ‘ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کو آخرت کا اندیشہ ہی نہیں ہے۔ تنبیہ خو فِ آخرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 53–55

(53۔ 55) یہ ہرگز نہیں ہوسکتا بلکہ یہ لوگ آخرت کے عذاب سے ڈرتے نہیں یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے نصیحت ہے سو جس کے نصیب میں اس سے نصیحت حاصل کرنا ہوگا وہ اس سے نصیحت حاصل کرلے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

کلا بل لایخافون الاخرۃ :”کلا“ یعنی ایسا تو ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ان میں سے ہر ایک کو کتاب دی جائے اور ان کے انکار کی وجہ بھی یہ نہیں، بلکہ ان کے نصیحت سے بھاگنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کا آخرت پر ایمان نہیں اور تمام خرابیوں کی جڑ یہی ہے۔ جب تک یہ لوگ دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے رہیں گے آپ ان کو ان کے تقاضوں کے مطابق کوئی معجزہ بھی دکھا دیں تو وہ اسے جادہ قرار دے کر ماننے سے انکار کردیں گے۔ دیکھیے سورة انعام (7)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

کلا، بل یخافون الاخرۃ۔ ایساہرگز نہیں، ایک قول یہ کیا گیا، اس کا معنی حقا ہے یعنی یقینا ایسا ہے، جب کہ پہلا معنی زیادہ عمدہ ہے کیونکہ اس میں ان کے قول کا رد ہے، یعنی جن کی وہ تمنا کرتے ہیں میں انہیں عطا نہیں کروں گا کیونکہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دنیا کی وجہ سے دھوکہ میں مبتلا ہیں۔ سعید بن جبیرہ نے صحفا منشرہ۔ پڑھا ہے جہاں تک کہ حاء کو ساکن پڑھنے کا تعلق ہے تو اس میں تخفیف ہے جہاں تک نون کو ساکن پڑھنے کا تعلق ہے تو یہ شاذ ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے، نشرت الثوب وشبھہ، انشرت کے الفاظ نہیں کہے جاتے، یہ بھی جائز ہے کہ صحیفہ کو میت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہو گویا وہ لپیٹ دینے کی صورت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 52–56

34۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل یرید کل امرء منہم ان یوتی صحفا منشرۃ۔ بلکہ ہر ایک آدمی ان میں سے چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دئیے جائیں۔ یعنی اس طرح سے کہ رب العالمین کی طرف سے فلاں بن فلاں کے نام جو صبح کے وقت ہر آدمی کے سر کے نیچے صحیفہ رکھا ہو جس کو وہ پڑھ لے۔ 35۔ عبدبن حمید وابن المنذرنے قتادہ ؓ سے آیت بل یرید کل امرء منہم ان یوتی صحفا منشرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ لوگوں میں سے کچھ کہنے والوں نے محمد ﷺ سے کہا۔ اگر آپ کو یہ بات خوش لگے کہ ہم آپ کی تابعداری کریں تو ہمارے پاس ایک خط لے آئیے کہ جس میں ہم کو آپ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہو اور فرمایا کہ آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كَلَّا ۭ بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَ : ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ خوف نہیں محسوس کرتے آخرت کا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 53–55

﴿كَلَّا 1ؕ بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ0053﴾ (حقیقت میں بات یہ ہے کہ یہ آخرت سے نہیں ڈرتے نہ انہیں آخرت کا یقین ہے اور نہ وہاں کے عذاب کا خوف ہے اسی لیے ایسی باتیں کرتے ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–56

تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

20:۔ کلا۔ حرف ردع ہے اور مشرکین کو مذکورہ بالا مطالبہ پر زجر ہے۔ بل لا یخافون الاخرۃ۔ یہ ترقی ہے یعنی وہ مذکورہ بالا مطالبہ تو کرتے ہی ہیں اور ان کے اعراض کی وجہ صرف یہ نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان کو آخرت کا ڈر نہیں، اس لیے وہ قرآن سے اعراض کرتے اور ناجائز قسم کے مطالبات دہراتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَلَّا۝ 0 ۭ بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَۃَ۝ 53 ۭ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–56

ترکیب : معرضین حال من الضمیر فی متعلق الجارو المجرور ‘ فما مبتدء لھم خبرہ کانھم الجملۃ حال من الضمیر فی معرضین علی التداخل مستنفرۃ قراء الجمہور بالکسر یقال نفرواوا ستنفروامثل سخرواستسخرو عجب واستعجب و قریٔ بالفتح قال ابوعلی الفارسی الکسرۃ اولی۔ فرت الخ حال بتقدیر قد والقسورۃ عندالاکثرالاسد فعولۃ من القسرو ھوا لقہرو الغلبۃ سمی بذلک لانہ یقہرا بساع وقیل جماعۃ الرماۃ قال الازہری اسم جمع للرماۃ لاواحدلہ من جنسہ و قیل ذکر الناس واصواتھم وقیل ظلمۃ اللیل بل یرید عطف علی مقدر یقتضیہ المقام کانہ قیل لایکتفون بتلک التذکرۃ بل یرید الخ کلابل لایخافون اضراب انتقالی لبیان ھذا التنعۃ وقیل کلابمعنی حقاً…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

کَلاَّ ط بَلْ لاَّ یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَۃَ ۔ (المدثر : 53) (ہرگز نہیں، بلکہ وہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔ ) مشرکین کا اصل مرض گزشتہ آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب ماننے کے لیے شرط رکھی کہ جس طرح کی آیات اور سورتیں آنحضرت ﷺ پر نازل ہورہی ہیں جب تک ہم پر نازل نہ کی جائیں ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا اصل سبب یہ ہے کہ ان کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا کہ جو کچھ وہ مطالبہ کررہے ہیں اسے کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ وہ ان کے انکار کی اصل علت نہیں۔ یہ تو محض…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–56

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کو ان کا اقرار اور انجام بتلانے کے بعد ایک دفعہ پھر نصیحت کی گئی ہے مجرموں کو کیا ہوگیا ہے کہ جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو اس پر توجہ کرنے کی بجائے اس سے اس طرح منہ موڑتے ہیں گویا کہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوں۔ ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں جن میں ان سے ایمان لانے کی درخواست کی جائے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کے پاس جب بھی کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں وہی کچھ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

53 : کَلَّآ اس میں اس ارادہ پر ردع ہے اور انکار ہے اور نشانات مانگنے پر زجرو تو بیخ ہے پھر فرمایا۔ بَلْ لَّا یَخَا فُوْنَ الْاٰخِرَۃَ ( ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ آخرت سے نہیں ڈرتے) اسی وجہ سے وہ نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں۔ اس بناء پر نہیں کہ ان کو صحیفے نہیں دیئے گئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

52 ۔” بل یرید کل امری منھم ان یوتی صحفا منشرۃ “ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ کفار قریش نے رسول اللہ ﷺ کو کہا صبح ہم میں سے ہر شخص کے سرہانے ایک تحریر ہو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لکھی ہوئی ہو کہ آپ اس کے رسول ہیں اس میں ہمیں آپ ﷺ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہو۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں مشرکین نے کہا اے محمد ! ﷺ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ بنی اسرائیل کا کوئی شخص صبح کرتا تو اس کے سر کے پاس اس کا گناہ اور اس کا کفارہ لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس آپ ہمارے پاس کی مثل لائیں اور صحف کتابیں یہ صحیفہ کی جمع ہے اور منشرۃ منشورۃ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–56

38۔ 56۔ جس طرح گروی رکھوانے والا شخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھوڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھوڑانے کے لئے اپنے اپنے عمل کے پابند کئے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک و بد عمل کا حساب لکھنے کے لئے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اور اس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیا جاتا ہے اس کاغذ کو اعمال نہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جن کا حساب آسانی سے ہو کر جلدی سے ان کی نجات ہونے والی ہے۔ چناچہ اذا السماء انشقت میں آئے گا۔ فما من اوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(كَلَّا ۭ ) ہرگز نہیں ہم انہیں وہ چیزیں عطا نہیں کریں گے جس کا انہوں نے مطالبہ کیا ہے، اس مطالبے سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ (بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَ ) حقیقت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔ پس اگر انہیں آخرت کا خوف تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 53–56

42 خوف آخرت سے محرومی ‘ محرومیوں کی محرومی۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خوف و اندیشہ نہیں رکھتے آخرت کی گرفت و پکڑ کا۔ سو اس سے ان کے راہ حق سے گریز و فرار کی اصل علت کی نشاندہی فرما دی گئی۔ پس ان کے گریز و فرار کی اصل علت یہ نہیں جس کو یہ لوگ ظاہر کرتے ہیں ‘ بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت سے نہیں ڈرتے کہ یہ اس کے وقوع کی توقع ہی نہیں رکھتے ‘ جس کی بناء پر یہ ایسے بےہودہ مطالبات کرتے ‘ اور اس طرح واہی تباہی بکتے ہیں ‘ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آخرت کے عقیدہ و یقین اور خوف خداوندی کے بغیر آدمی قطعی طور پر ایک غیر ذمہ دار اور لا ابالی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 39–56

اللہ کے مقبول بندوں کی پر سکون زندگیاں اور دوزخیوں کا اقرار جرم تشریح : یہاں داہنی طرف والے نیک لوگ۔ اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے۔ جو میدان حشر میں ہونے والی ہے اور جو ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جو اس بات کی ضمانت ہے کہ اس عقیدہ پر ایمان رکھنے والے ہر برا کام کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اس برے کام کا انجام عذاب کی صورت میں ضرور ملے گا۔ تو یہی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ مرنے کے بعد ہم ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ اعمال نامے ملنے کی صورت یہ ہوگی کہ کچھ کو دائیں طرف سے کچھ کو بائیں طرف سے پیچھے سے اعمال نامے دئیے جائـیں گے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو داہنی طرف سے اعمال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–56

آیات 32 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:53) کلا : ہرگز نہیں۔ یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ یہ ان کے اس ارادہ پر سرزنش ہے کہ ہمیں کھلی چٹھی ہر ایک کو مل جائے۔ فرمایا یہ ہرگز نہ ہوگا۔ کس لئے کہ ہر ایک میں اس سے مخاطب ہونے کی قابلیت واہلیت ہی نہیں ہے۔ بلا یخافون الاخرۃ : بل حرف اضراب ہے مطلب یہ کہ ان کا قرآن مجید سے اعراض اور ان کی یہ طلب کہ ان میں سے ہر ایک کو ایک کھلا پروانہ اللہ کی جانب سے جاری ہو۔ معقوک وجوہ پر مبنی نہیں ہے۔ بلکہ یہ ان کی محض ہٹ دھرمی ہے بات اصل میں یہ ہے کہ ان کو آخرت کا اندیشہ ہی نہیں ہے۔ لا یخافون : مضارع منفی جمع مذکر غائب خوف باب فتح مصدر سے۔ وہ نہیں ڈرتے۔ ان کو خوف ہی نہیں ہے۔ ان کو اندیشہ ہی نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–56

لغات القرآن۔ ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔ تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 52–56

(ف 1) کفار قریش نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص کے نام آصمان سے ایک حکم نامہ اس مضمون کا آنا چاہے کہ محمداللہ کے رسول ہیں تم لوگ ان کی فرمانبرداری کرو پھر فرمایا کہ ان لوگوں کی سرکشی کے سبب سے اللہ کی بارگاہ سے جو انتظام ہوچکا ہے وہ نہیں پلٹ سکتا۔ کیونکہ یہ خواہش ان لوگوں کی کچھ اس خیال سے نہیں ہے کہ اگر ان کی خواہش پوری ہوجائے تو ان کے دل میں اللہ کے رسول اللہ کے کلام کی صداقت پیدا ہوجائے بلکہ ان کے دل میں تو دنیا کے انجام پر غور کرکے عقبی کا یقین اورس یقین کے سبب اس کا خوف کچھ بھی نہیں ہے۔ اس واسطے یہ لوگ بےٹھکانے کی باتیں کررہے ہیں اور قرآن کی نصیحت کان کھول کر نہیں سنتے، پھر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 48–56

ف 5: اسلام سے قبل نجات کا مفہوم یہ تھا ۔ کہ لوگ ولیوں اور شہیدوں پر بھروسہ کرکے ہر نوع کے فسق وفجور کا ارتکاب کرتے اور یہ سمجھتے ۔ کہ چونکہ ان لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلقات امادت وعقیدت وابستہ ہیں ۔ اس لئے عذاب اور سزا سے ہمارا بچ جانا یقینی ہے ۔ کچھ لوگ بتوں اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو اس بات کا مجاز قراردیتے کہ وہ اپنے پچاریوں کو یحسوا لیں گے ۔ اس پر اس قبیل کی آیتیں نازل ہوئیں ۔ جن میں شفاعت کی نفی کی گئی ۔ اور بتایا گیا ۔ کہ جب تک ذاتی صلاحیت نہ ہو ۔ کوئی سفارش مفید نہیں ہوسکتی ۔ حل لغات :۔ رھینہ ۔ مصدر سے الیقین ۔ موت ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(53) نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت ہی سے نہیں ڈرتے۔ یعنی آخرت پر نہ ایمان نہ اس کا خوف اور نہ وہاں کے عذاب کا ڈر اس لئے یہ باتیں کرتے ہیں ان کا مقصد ایمان لانا نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 52–56

ف 6۔ در منثور میں قتادہ سے مروی ہے کہ بعضے کفار نے آپ سے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کا اتباع کریں تو خاص ہمارے نام ایسے نوشتے لائیں جن میں آپ کے اتباع کا حکم لکھا ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 52–53

(بلکہ چاہتا ہے ہر شخص ان کا کہ دیے جاتے الگ الگ صحیفے) سر کھلے بےمہر اس مضمون کے کہ اے فلاں ! محمد کی پیروی کرو۔ (ہرگز نہیں) دیے جائیں گے ان کو یہ نامے ، اور اگر دیے بھی جائیں تو بھی وہ ایمان نہ لائیں گے ، پس ان کا انکار اس واسطے نہیں کہ نامہ نہیں دیا جاتا ، (بلکہ وہ ڈرتے ہی نہیں آخرت) کے عذاب (کو) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–55

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ (So what has happened to them that they are turning away from the Reminder... 74:49) The word tadhkirah (Reminder), in this context, refers to the Holy Qur'an, because the word literally signifies a 'reminder or something that reminds'. The Qur'an is unique in reminding Allah's attributes of perfection, His mercy and wrath, and the reward and punishment. Towards the end, the verse 54 has explained that the 'Reminder' is the Holy Qur'an that is rejected by them. The allergy of the infidels against the Holy Qur'an has been mentioned in verses 50 and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

39 That is, the real cause of their failure to affirm the faith is not that their demands are not fulfilled, but the real cause is that they are fearless of the Hereafter. They think that this world is an end in itself and they do not have any idea that there is another life after this worldly life in which they will have to render an account of their deeds. This very thing has made them careless and irresponsible in the world. They regard the question of truth and falsehood as utterly meaningless, for they do not see any truth following which may have necessarily led to a good result in the…

Read the full tafseer →