Al-Muddaththir 74:51

Al-Muddaththir · from ayah 51

74:51

فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ ۟ؕفَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ

(یعنی) شیر سے ڈر کر بھاگ جاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Fleeing from a lion?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:51

جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) شیر سے ڈر کر بھاگ جاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو شیر سے بھاگے ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو کسی شیر سے (ڈر کر) بھاگ پڑے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ شیر سے بھاگے ہوں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو شیر سے بھاگ کھڑے ہوئے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو شیر سے بھاگے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو شیر (کے ڈر) سے بھاگ کھڑے ہوں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو شیر سے ڈر کے بھاگے ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو بھاگ کھڑے ہوئے ہیں شیر سے

— مولانا اسحاق مدنی

جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی شیر سے ڈر کر بھاگ جاتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

fleeing from a lion?

— Muhammad Taqi Usmani

fleeing from a lion?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Fleeing from a Qaswarah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Fleeing from a lion?

— Saheeh International

running away from a lion?

— Muhammad Sarwar

That had fled from a lion?

— Muhammad Habib Shakir

Fleeing away from a lion.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 74:51

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–56

جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہوگا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُدَّثِّر 37 یہ ایک عربی محاورہ ہے۔ جنگی گدھوں کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ خطرہ بھانپتے ہی وہ اس قدر بد حواس ہو کر بھاگتے ہیں کہ کوئی دوسرا جانور اس طرح نہیں بھاگتا۔ اس لیے اہل عرب غیر معمولی طور پر بد حواس ہو کر بھاگنے والے کو ان جنگلی گدھوں سے تشبیہ دیتے ہیں جو شیر کی بوُ یا شکاری کی آہٹ پاتے ہی بھاگ پڑے ہوں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 49–55

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ یہاں تذکرہ سے مراد قرآن حکیم ہے کیونکہ تذکرہ کے لفظی معنی یاد دلانے والی چیز کے ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی رحمت وغضب اور ثواب و عذاب کو یاد دلانے میں بےنظیر ہے اور آخر میں فرمایا کلا انہ تذکرة یعنی بلا شبہ قرآن تذکرہ ہے جسکو تم نے چھوڑ رکھا ہے قسورة کے معنی شیر کے بھی آتے اور تیر انداز شکاری کے بھی اس جگہ صحابہ کرام سے دونوں منقول ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 50–51

یہ ان کی وحشت زدگی کی مثال ہے۔ فرمایا کہ ان کا حال ان بدکے ہوئے گدھوں کا ہے جو شیر سے ڈر کے بھاگے ہوں۔ ’قَسْوَرَۃٌ‘ شیر کو کہتے ہیں۔ گدھے اور گورخر وغیرہ شیر کی آواز سن کر بھاگے ہوں تو وہ بڑی مشکل سے قرار پکڑتے ہیں۔ کسی طرف سے ذرا بھی کھٹکا ہو تو وہ اس طرح بھاگتے ہیں گویا شیر ہی آ گیا۔ فرمایا کہ یہی حال ان لوگوں کا ہے۔ یہ اس یاددہانی سے ایسے سہمے ہوئے ہیں کہ اس کا ایک حرف بھی سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ ایک حقیقت جب اتنی واضح ہو کہ آدمی کا دل اس کے انکار پر بھی مطمئن نہ ہو اور اس کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار نہ ہو تو اس سے اس کے گریز و فرار کی شکل یہی ہوتی ہے جو اس مثال…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

51۔ 1 یعنی یہ حق سے نفرت اور اعراض کرنے میں ایسے ہیں جیسے وحشی، خوف زدہ گدھے، شیر سے بھاگتے ہیں جب وہ ان کا شکار کرنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 45–51

19: اس سے مراد کافروں کے وہ سردار ہیں جو اسلام اور قرآن کا مذاق اڑانے کے لیے محفلیں سجایا کرتے تھے، اور بےہودہ مذاق سے حق کی تردید کیا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جو ہر قسم کی بےہودہ گفتگو اور بےہودہ مشغلوں کو شامل ہیں، جو آخرت میں انسان کے لیے مصیبت کا سبب بنیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–51

فمالھم ............................ قسورة جنگلی گدھے بہت ہی ڈرپوک ہوتے ہیں ، جب یہ شیر کی دھاڑ کی آواز سنتے ہیں تو یہ جدھر منہ ہوتا ہے ادھر بھاگ جاتے ہیں۔ عرب اس قسم کے مناظر سے واقف تھے۔ جب انسانوں کو ان خوفزدہ گدھوں سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ تو یہ منظر نہایت ہی مضحکہ خیزہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکرہ اور نصیحت سے ان کی نفرت اور فرار نہیں انسانوں کی بجائے گدھے بنا دیتا ہے۔ سا لئے نہیں کہ انہیں کوئی خوف درپیش ہے بلکہ اس لئے کہ ایک یاددہانی کرانے والا ان کو اپنے رب کی طرف بلارہا ہے اور انہیں یہ موقعہ فراہم کررہا ہے کہ یہ لوگ اس خوفناک انجام سے دو چار ہونے سے بچ جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دست قدر کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 50–51

13 یعنی حق کا شورو غل اور شیران خدا کی آوازیں سن کر جنگلی گدھوں کی طرح بھاگے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 46–51

آیت 51{ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ۔ } ”جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں۔“ یہ لوگ ایک اللہ ‘ قرآن اور آخرت کے ذکر سے ایسے بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شیر کی آہٹ پا کر جان بچانے کے لیے بھاگتے ہیں۔ ایسے مناظر اب ٹیلی ویژن پر عام دکھائے جاتے ہیں کہ افریقہ کے جنگلوں میں زیبروں کے غول کے غول شیر کی آہٹ محسوس کر کے بگٹٹ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 50–51

23 آخرت میں تو سب حالات ان کے سامنے آجائیں گے اور وہ اپنے جرائم کا اعتراف بھی کرلیں گے مگر آج ان کی یہ صورت حال ہے کہ اگر کوئی نصیحت کی بات کہی جائے تو اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اور وہاں سے یوں منہ موڑ کر بھاگ اٹھتے ہیں۔ جیسے جنگلی گدھے کسی شیر کی دھاڑ سن کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر پیچھے مڑ کر دیکھنے کا نام ہی نہیں لیتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 49–51

22۔ (بالکل اندھا دھند منہ اٹھائے ہوئے) گدھے اور پھر وحشی جنگلی گدھے کمال بلادت کے لئے ضرب المثل ہیں۔ معمولی اور بالکل بےضرر چیزوں سے بھی بدکتے اور بھاگتے رہتے ہیں۔ اور پھر جب شیر سے بھاگیں گے تو ان کی وحشت اور بدوحواسی کا کیا ٹھکانا۔ تشبیہ سے مقصود قرآن مجید سے ان لوگوں کے انتہائی بعد وتنفر کا اظہار ہے اور تشبیہ صرف فرار اور عدم فرار میں ہے دوسرے آثار میں نہیں۔ (آیت) ” قسورۃ “۔ کے معنی اور بھی کئے گئے ہیں۔ لیکن صحابہ اور محققین نے شیرہی کے معنی لئے ہیں۔ وقال ابوھیریرۃ ؓ الاسد وھو قول عطاء الکلبی (معالم) قال ابوھریرہ ؓ وابن عباس ؓ فی روایۃ عنہ وزید بن اسلم وابنہ عبدالرحمن (ابن کثیر) اور ماہرین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–56

ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فرت من قسورۃ . قسورۃ بروزن فعولہ . قسر سے مشتق ہے اور قسر کا معنی ہے قہر۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : قسورۃ سے مراد ہیں شیر۔ عطاء اور کلبی کا بھی یہی قول ہے۔ مجاہد ‘ قتادہ اور ضحاک کے نزدیک تیر انداز (شکاری) مراد ہیں۔ قسورۃ کا واحد اس لفظ سے نہیں آتا۔ عطاء کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول بھی یہی منقول ہے۔ زید بن اسلم نے کہا : طاقتور اور ہر موٹے قوی کو عرب قسورۃ کہتے ہیں۔ ابو المتوکل نے کہا : لوگوں کے شور و شغب کو قسورۃ کہتے ہیں۔ عکرمہ کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے کہ قسورۃ شکاری کے جال کو کہتے ہیں ‘ سعید ابن جبیر نے شکاری ترجمہ کیا ہے۔ ابن المنذر نے سدی کی روایت سے بیان کیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 49–52

(49۔ 52) سو ان مکہ والوں کو کیا ہوا کہ یہ قرآن کریم کو جھٹلاتے ہیں کہ گویا وہ وحشی گدھے ہیں کہ شیر سے یا آدمیوں کی جماعت سے بھاگے جارہے ہیں، بلکہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے نوشتے دیے جائیں، چناچہ ان لوگوں نے اس کی درخواست کی تھی کہ خاص ہمارے نام نوشے آئیں جس میں ہمارا نام اور توبہ لکھی ہو کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں۔ شان نزول : بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِۍ مِّنْهُمْ (الخ) ابن منذر نے سدی سے روایت کیا ہے کہ کفار نے کہا کہ اگر محمد سچے ہیں تو صبح کو ہر ایک شخص کے سر کے نیچے سے لکھا ہوا نکلے جس میں اس کے لیے دوزخ سے برات لکھی ہوئی ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 49–51

فما لھم عن التذکرۃ…:”مستنفرۃ“ باب استفعال سے اسم فاعل بمعنی ”نافرۃ“ ہے، جیسے ”عجب“ اور ”استعجب“ اسی طرح ”سخر“ اور ”استخر“ ہم معنی ہیں۔ حروف زیادہ ہونے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ، سخت بدکنے والے۔ ”قسورۃ“”قسر“ سے ہے جس کا معنی غلبہ اورق ہر ہے، چونکہ شیر اپنے شکار کو مغلوب و مقہور کرتا ہے اسلئے اسے ”ق سورة“ کہتے ہیں۔ شکاریوں کی جماعت کو بھی ”ق سورة“ کہتے ہیں اور لوگوں کے شور و غل کو بھی ”ق سورة“ کہتے ہیں۔ کفار کے نصیحت اور آیات قرآنی سننے سے بھگانے کو ان جنگلی گدھوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو شیر کی آہٹ یا شکاریوں کے خطرے سے بدک کر بےتحاشا بھاگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فرت من قسورۃ۔ وہ ان تیراندازوں سے بھاگے جارہے ہیں جو انہیں تیر مارتے ہیں اہل لغت میں سے ایک نے کہا، قسورۃ کا معنی تیرانداز ہے اس کی جمع ق سورة ہے۔ سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، قتادہ، ضحاک اور ابن کیسان نے کہا : ق سورة سے مراد تیر انداز اور شکاری ہیں۔ عطاء، حضرت ابن عباس اور ابوظبیان (ابوحیان) حضرت ابوموسی اشعری سے روایت نقل کرتے ہیں، اس سے مراد شیر ہے، یہی قول حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عباس کا ہے۔ ابن عرفہ نے کہا، ق سورة کا معنی غلبہ ہے شیر، درندوں پر غالب آجاتا ہے اور وحشی گدھے درندوں سے دور بھاگتے ہیں ابوحمزہ نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہا، میں عربوں میں سے کسی کی لغت میں بھی ق…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

19۔ ابو عبید وابن المنذر وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم نے ابوموسی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت فرت من قسورۃ جو شیر سے بھاگے ہیں میں ق سورة سے مراد ہے تیر پھینکنے والے، شکار کرنے والے لوگ۔ 21۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ق سورة سے مراد ہے تیر پھینکنے والے آدمی۔ 22۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو حمزہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا ق سورة سے مراد شیر ہے۔ اور فرمایا اس کو میں کسی عرب کی لغت میں نہیں جانتا کہ اسد (شیر) سے مرادمردوں کی ایک جماعت ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 50–51

آخرت میں ان کی یہ بدحالی ہوگی اور دنیا میں ان کا یہ حال ہے کہ نصیحت سے منہ موڑتے ہیں اعراض کر کے چلے جاتے ہیں اور اعراض بھی معمولی نہیں سخت اعراض کرتے ہیں۔ اسی کو فرمایا ﴿ كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ0050 فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ0051﴾ (قرآن کی باتیں سن کر وہ اس طرح اعراض کرتے ہیں کہ گویا گدھے ہیں جو شیر سے متنفر ہو کر بھاگ رہے ہیں، قسورۃ کا ترجمہ شیر کیا گیا ہے یہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے۔ كما ذکر فی معالم التنزیل وفیہ اقوال اخرو ھذہ الکلمة لا واحدلھا من لفظھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–56

تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 49–51

18 ۔ ” فما لہم “ قرآن سے اعراض کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں، لیکن پھر بھی اہل مکہ اس سے اعراض کر رہے ہیں وہ قرآن سے اس طرح بدکتے اور بھاگتے ہیں جس طرح حمر و حشیہ (گور خر) شیر کو دیکھ کر بھاگتے ہی۔ قسورۃ کے معنی شیر کے ہیں جیسا کہ ابوہریرہ اور ابن عباس ؓ سے منقول ہے۔ یا قسورۃ، قسور کی جمع ہے بمعنی تیز انداز یہ قول حضرت ابو موسیٰ اشعری، سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، قتادہ، ضحاک، ابو ظبیان نیز ابن عباس ؓ سے منقول ہے (قرطبی) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ۝ 51 ۭ فر أصل الفَرِّ : الکشف عن سنّ الدّابّة . يقال : فَرَرْتُ فِرَاراً ، ومنه : فَرَّ الدّهرُ جذعا «1» ، ومنه : الِافْتِرَارُ ، وهو ظهور السّنّ من الضّحك، وفَرَّ عن الحرب فِرَاراً. قال تعالی: فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ [ الشعراء/ 21] ، وقال : فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ [ المدثر/ 51] ، فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعائِي إِلَّا فِراراً [ نوح/ 6] ، لَنْ يَنْفَعَكُمُ الْفِرارُ إِنْ فَرَرْتُمْ [ الأحزاب/ 16] ، فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ [ الذاریات/ 50] ، وأَفْرَرْتُهُ : جعلته فَارّاً ، ورجل (ر ر ) الفروالفرار ۔ اس کے اصل معنی ہیں جانور کی عمر معلوم کرنے کے لئے اس کے دانتوں کو کھولنا اسی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–56

ترکیب : معرضین حال من الضمیر فی متعلق الجارو المجرور ‘ فما مبتدء لھم خبرہ کانھم الجملۃ حال من الضمیر فی معرضین علی التداخل مستنفرۃ قراء الجمہور بالکسر یقال نفرواوا ستنفروامثل سخرواستسخرو عجب واستعجب و قریٔ بالفتح قال ابوعلی الفارسی الکسرۃ اولی۔ فرت الخ حال بتقدیر قد والقسورۃ عندالاکثرالاسد فعولۃ من القسرو ھوا لقہرو الغلبۃ سمی بذلک لانہ یقہرا بساع وقیل جماعۃ الرماۃ قال الازہری اسم جمع للرماۃ لاواحدلہ من جنسہ و قیل ذکر الناس واصواتھم وقیل ظلمۃ اللیل بل یرید عطف علی مقدر یقتضیہ المقام کانہ قیل لایکتفون بتلک التذکرۃ بل یرید الخ کلابل لایخافون اضراب انتقالی لبیان ھذا التنعۃ وقیل کلابمعنی حقاً…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 50–51

کَاَنَّھُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَۃٌ۔ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ ۔ (المدثر : 50، 51) (گویا کہ وہ بدکے ہوئے گدھے ہوں۔ جو شیر سے ڈر کے بھاگے ہوں۔ ) گزشتہ آیت کریمہ میں کفار کے اعراض پر اظہارِ تعجب کیا گیا ہے، لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں ایک قدم آگے بڑھ کر فرمایا کہ وہ صرف آپ ﷺ کی اور قرآن کریم کی دعوت سے اعراض ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے اندر اس دعوت سے متعلق ایک وحشت پیدا ہوگئی ہے کہ وہ اس کا نام سنتے اور اس کی آواز کانوں میں پڑتے ہی بےساختہ بھاگ اٹھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ قرآن کریم کا کوئی بول ان کے کانوں میں پڑنے نہ پائے۔ درحقیقت انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب وہ کسی چیز کو اس لیے قبول کرنے پر آمادہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–56

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کو ان کا اقرار اور انجام بتلانے کے بعد ایک دفعہ پھر نصیحت کی گئی ہے مجرموں کو کیا ہوگیا ہے کہ جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو اس پر توجہ کرنے کی بجائے اس سے اس طرح منہ موڑتے ہیں گویا کہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوں۔ ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں جن میں ان سے ایمان لانے کی درخواست کی جائے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کے پاس جب بھی کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں وہی کچھ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

51 : فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ (جو شیر سے بھاگے جا رہے ہوں) ۔ یہ جملہ حال ہے اور اس کے ساتھ قد مقدر ہے۔ الق سورة ؔ تیر مارنے والا، شیر یہ القسرؔ سے فعولۃ کا وزن ہے اور اس کا معنی زبردستی اور غلبہ ہے۔ ان کے قرآن مجید سے اعراض کو اور ذکر کے سننے سے اعراض کو ایسے گدھوں سے تشبیہ دی ہے جو تیزی سے بھاگے جارہے ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

50 ۔” کانھم حمر “ حمار کی جمع ہے ” مستفرۃ “ اہل مدینہ اور اہل شام نے فاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے اس کی زیر کے ساتھ۔ پس جس نے زبر کے ساتھ پڑھا تو اس کا معنی متفرۃ مذعورۃ بھگائے ہوئے پاگل گدھے اور جس نے زیر کے ساتھ پڑھا ہے تو اس کا معنی بھاگنے والے۔ کہا جاتا ہے نفر اور استنفر ایک معنی میں ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے عجب واستعجب ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–56

38۔ 56۔ جس طرح گروی رکھوانے والا شخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھوڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھوڑانے کے لئے اپنے اپنے عمل کے پابند کئے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک و بد عمل کا حساب لکھنے کے لئے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اور اس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیا جاتا ہے اس کاغذ کو اعمال نہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جن کا حساب آسانی سے ہو کر جلدی سے ان کی نجات ہونے والی ہے۔ چناچہ اذا السماء انشقت میں آئے گا۔ فما من اوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ ) جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو یا کسی شیر وغیرہ سے، ڈر کر بھاگے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 51–52

40 منکرین کی وحشت و نفرت کی تمثیل کا ذکر وبیان : سو ان کو جنگلی گدھوں سے تشبیہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ گویا کہ یہ جنگلی گدھے ہیں جو بھاگ کھڑے ہوئے ہوں شیر کے ڈر سے۔ جو کہ خطرے کی ہوا سونگھتے ہی بدحواس ہو کر ایسے چوپٹ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں کہ مڑ کر دیکھنے کو بھی تیار نہیں ہوتے ‘ سو یہی حال ان منکرین و مکذبین حق کا ہے ‘ تو ایسے میں حق اور ہدایت کی آواز ان کے کانوں میں پڑ ہی کیسے سکتی ہے ؟ یہاں پر یہ امر ملحوظ رہے کہ جب کوئی حقیقت اتنی واضح ہو کہ آدمی کا دل اس کے انکار کرنے پر مطمئن نہ ہو ‘ اور وہ اس کو قبول کرنے کیلئے تیار نہ ہو ‘ تو اس سے اس کے گریز و فرار کی شکل یہی ہوتی ہے جو اس مثال سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 39–56

اللہ کے مقبول بندوں کی پر سکون زندگیاں اور دوزخیوں کا اقرار جرم تشریح : یہاں داہنی طرف والے نیک لوگ۔ اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے۔ جو میدان حشر میں ہونے والی ہے اور جو ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جو اس بات کی ضمانت ہے کہ اس عقیدہ پر ایمان رکھنے والے ہر برا کام کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اس برے کام کا انجام عذاب کی صورت میں ضرور ملے گا۔ تو یہی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ مرنے کے بعد ہم ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ اعمال نامے ملنے کی صورت یہ ہوگی کہ کچھ کو دائیں طرف سے کچھ کو بائیں طرف سے پیچھے سے اعمال نامے دئیے جائـیں گے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو داہنی طرف سے اعمال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–56

آیات 32 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 49–51

ف 5 یا ” جو تیر انداز شکاریوں کو دیکھ کر بھاگے گا۔ شوکانی نے اس معنی کو انسب قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے اس کے معنی ” سب الرجال (یعنی آدمیوں کے جتھے) کئے ہیں۔ علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ ’ دق سورة کے معنی ” دٓمیوں کا شور “ بھی آتے ہیں۔ (رازی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:51) فرت من قسورۃ۔ جملہ حمر سے حال ہے فرت ماضی واحد مؤنث غائب فرار ومفر (باب ضرب) مصدر۔ وہ بھاگی۔ فرار خوف سے بھاگنا۔ ڈر کر بھاگنا۔ قسورۃ شیر۔ جمع قس اور ق س ر مادہ۔ شیر کے ڈر سے بھاگے جا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–56

لغات القرآن۔ ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔ تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–51

(ف 1) جس طرح گروی رکھوانے والاشخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھڑانے کے لیے اپنے اپنے عمل کے پابند کیے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک وبد کا حساب لکھنے کے لیے ہر شخص کے ساتھ دوفرشتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اورس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیاجاتا ہے۔ اس کاغذ کو اعمال نامہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تودائیں ہاتھ میں دیاجائے جن کے حساب آسانی سے ہوکر جلدی سے ان کو نجات ہونے والی ہے اور جن لوگوں کے حساب میں جانچ منظور ہے ان سب کے اعمال نامہ بائیں ہاتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–52

[18] یعنی پیغمبر کی بات ماننا نہیں چاہتے بلکہ ان میں سے ہر شخص کی آرزو یہ ہے کہ خود اس پر اللہ تعالیٰ صحیفے نازل کرے اور وہ پیغمبر بنادیا جائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس براہ راست ایک نوشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے جس میں محمد ﷺ کے اتباع کا حکم دیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 48–56

ف 5: اسلام سے قبل نجات کا مفہوم یہ تھا ۔ کہ لوگ ولیوں اور شہیدوں پر بھروسہ کرکے ہر نوع کے فسق وفجور کا ارتکاب کرتے اور یہ سمجھتے ۔ کہ چونکہ ان لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلقات امادت وعقیدت وابستہ ہیں ۔ اس لئے عذاب اور سزا سے ہمارا بچ جانا یقینی ہے ۔ کچھ لوگ بتوں اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو اس بات کا مجاز قراردیتے کہ وہ اپنے پچاریوں کو یحسوا لیں گے ۔ اس پر اس قبیل کی آیتیں نازل ہوئیں ۔ جن میں شفاعت کی نفی کی گئی ۔ اور بتایا گیا ۔ کہ جب تک ذاتی صلاحیت نہ ہو ۔ کوئی سفارش مفید نہیں ہوسکتی ۔ حل لغات :۔ رھینہ ۔ مصدر سے الیقین ۔ موت ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(51) جو شیر سے بھاگ رہے ہیں۔ تذکرہ یعنی قرآن کریم سے یہ لوگ اعراض اور روگردانی اور نفرت اور بدکنا اور بدک کر بھاگنا اس قسم کی حرکات کیوں کرتے ہیں ان کی حرکات ایسی ہیں کہ گویا یہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر سے بھاگ رہے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جنگل کے گدھے کھٹکے سے بھاگتے ہیں۔ منکروں کو حمر مستنفرۃ کے ساتھ تشبیہہ دی اول تو گدھا حماقت اور بیوقوف میں مشہور ہے پھر وہ بھی وحشی یعنی گورخر معمولی آواز سے ڈرتا اور بدکتا ہے تو یہ کفار مکہ حق کے شوروغل سے اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح جنگلی گدھے معمولی آواز اور شیر کی خوشبو سے بھاگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–51

ف 5۔ اور اس عدم نفع کا عدم شفاعت کے تحقق سے ہوگا یعنی شفاعت ہی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 49–51

(تو انہیں کیا ہے کہ نصیحت سے روگردانی کرنے والے ہیں) یعنی قرآن اور اس کی ہدایات سے منہ پھیرتے ہیں (گویا کہ وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہیں۔ بھاگے ہیں شیر سے) یا شکاری سے ، یا پھندے سے ، یا تیر انداز آدمی سے ، یا مختلف آوازوں سے ، یعنی جس طرح جنگلی گدھے ان چیزوں سے بھاگتے ہیں ، اس طرح وہ قرآن سننے سے بھاگتے ہیں اس واسطے کہ بات سننے والے کان اور نصیحت قبول کرنے والے دل نہیں رکھتے ہیں۔۔۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–55

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ (So what has happened to them that they are turning away from the Reminder... 74:49) The word tadhkirah (Reminder), in this context, refers to the Holy Qur'an, because the word literally signifies a 'reminder or something that reminds'. The Qur'an is unique in reminding Allah's attributes of perfection, His mercy and wrath, and the reward and punishment. Towards the end, the verse 54 has explained that the 'Reminder' is the Holy Qur'an that is rejected by them. The allergy of the infidels against the Holy Qur'an has been mentioned in verses 50 and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

37 This is an idiomatic expression in Arabic which depicts the character of wild asses who flee stupefied and stunned as soon as they smell a lion or hear a hunter

Read the full tafseer →