كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ ۟ۙكَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ
گویا گدھے ہیں کہ بدک جاتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
As if they were alarmed donkeys
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz
كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ ۟ۙكَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ
گویا گدھے ہیں کہ بدک جاتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
As if they were alarmed donkeys
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir
گویا یہ جنگلی گدھے ہیں
گویا گدھے ہیں کہ بدک جاتے ہیں
گویا کہ وه بِدکے ہوئے گدھے ہیں
اس طرح جیسے وہ جنگلی گدھے ہوں۔
گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں،
گویا وہ بِدکے ہوئے (وحشی) گدھے ہیں،
جیسے وہ سخت بدکنے والے گدھے ہیں۔
جیسے وہ بد کے ہوئے گدھے ہوں
گویا کہ وہ بدکے ہوئے گدھے ہوں
گویا کہ یہ بدکنے والے (جنگلی) گدھے ہیں
گویا وہ وحشی گدھے ہیں
گویا وہ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں۔
گویا گدھے ہیں کہ بدک جاتے ہیں
as though they were frightened wild asses,
as if they were wild donkeys,
as if they were wild donkeys,
As if they were wild donkeys.
As they were frightened asses
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
As if they were alarmed donkeys
like frightened donkeys
As if they were asses taking fright
As though they were asses startled."
As if they were affrighted asses,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 38–56
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہوگا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
سورة الْمُدَّثِّر 36 یعنی ایسے لوگ جنہوں نے مرتے دم تک یہ روش اختیار کیے رکھی ہو ان کے حق میں اگر کوئی شفاعت کرنے والا شفاعت کرے بھی تو اسے معافی نہیں مل سکتی۔ شفاعت کے مسئلے کو قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے کہ کسی شخص کو یہ جاننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی کہ شفاعت کون کرسکتا ہے اور کون نہیں کرسکتا، کس حالت میں کی جاسکتی ہے اور کس حالت میں نہیں کی جاسکتی، کس کے لیے کی جاسکتی ہے اور کس کے لیے نہیں کی جاسکتی، اور کس کے حق میں وہ نافع ہے اور کس کے حق میں نافع نہیں ہے۔ دنیا میں چونکہ لوگوں کی گمراہی کے بڑے اسباب میں سے ایک سبب شفاعت کے بارے میں غلط عقائد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ یہاں تذکرہ سے مراد قرآن حکیم ہے کیونکہ تذکرہ کے لفظی معنی یاد دلانے والی چیز کے ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی رحمت وغضب اور ثواب و عذاب کو یاد دلانے میں بےنظیر ہے اور آخر میں فرمایا کلا انہ تذکرة یعنی بلا شبہ قرآن تذکرہ ہے جسکو تم نے چھوڑ رکھا ہے قسورة کے معنی شیر کے بھی آتے اور تیر انداز شکاری کے بھی اس جگہ صحابہ کرام سے دونوں منقول ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
یہ ان کی وحشت زدگی کی مثال ہے۔ فرمایا کہ ان کا حال ان بدکے ہوئے گدھوں کا ہے جو شیر سے ڈر کے بھاگے ہوں۔ ’قَسْوَرَۃٌ‘ شیر کو کہتے ہیں۔ گدھے اور گورخر وغیرہ شیر کی آواز سن کر بھاگے ہوں تو وہ بڑی مشکل سے قرار پکڑتے ہیں۔ کسی طرف سے ذرا بھی کھٹکا ہو تو وہ اس طرح بھاگتے ہیں گویا شیر ہی آ گیا۔ فرمایا کہ یہی حال ان لوگوں کا ہے۔ یہ اس یاددہانی سے ایسے سہمے ہوئے ہیں کہ اس کا ایک حرف بھی سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ ایک حقیقت جب اتنی واضح ہو کہ آدمی کا دل اس کے انکار پر بھی مطمئن نہ ہو اور اس کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار نہ ہو تو اس سے اس کے گریز و فرار کی شکل یہی ہوتی ہے جو اس مثال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
48۔ 1 یعنی جو صفات مذکورہ کا حامل ہوگا، اسے کسی کی شفاعت بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی، اس لئے کہ کفر کی وجہ سے محل شفاعت ہی نہیں ہوگا، شفاعت تو صرف ان کے لئے مفید ہوگی جو ایمان کی وجہ سے شفاعت کے قابل ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
19: اس سے مراد کافروں کے وہ سردار ہیں جو اسلام اور قرآن کا مذاق اڑانے کے لیے محفلیں سجایا کرتے تھے، اور بےہودہ مذاق سے حق کی تردید کیا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جو ہر قسم کی بےہودہ گفتگو اور بےہودہ مشغلوں کو شامل ہیں، جو آخرت میں انسان کے لیے مصیبت کا سبب بنیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
فمالھم ............................ قسورة جنگلی گدھے بہت ہی ڈرپوک ہوتے ہیں ، جب یہ شیر کی دھاڑ کی آواز سنتے ہیں تو یہ جدھر منہ ہوتا ہے ادھر بھاگ جاتے ہیں۔ عرب اس قسم کے مناظر سے واقف تھے۔ جب انسانوں کو ان خوفزدہ گدھوں سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ تو یہ منظر نہایت ہی مضحکہ خیزہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکرہ اور نصیحت سے ان کی نفرت اور فرار نہیں انسانوں کی بجائے گدھے بنا دیتا ہے۔ سا لئے نہیں کہ انہیں کوئی خوف درپیش ہے بلکہ اس لئے کہ ایک یاددہانی کرانے والا ان کو اپنے رب کی طرف بلارہا ہے اور انہیں یہ موقعہ فراہم کررہا ہے کہ یہ لوگ اس خوفناک انجام سے دو چار ہونے سے بچ جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دست قدر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
13 یعنی حق کا شورو غل اور شیران خدا کی آوازیں سن کر جنگلی گدھوں کی طرح بھاگے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
آیت 51{ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ۔ } ”جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں۔“ یہ لوگ ایک اللہ ‘ قرآن اور آخرت کے ذکر سے ایسے بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شیر کی آہٹ پا کر جان بچانے کے لیے بھاگتے ہیں۔ ایسے مناظر اب ٹیلی ویژن پر عام دکھائے جاتے ہیں کہ افریقہ کے جنگلوں میں زیبروں کے غول کے غول شیر کی آہٹ محسوس کر کے بگٹٹ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
23 آخرت میں تو سب حالات ان کے سامنے آجائیں گے اور وہ اپنے جرائم کا اعتراف بھی کرلیں گے مگر آج ان کی یہ صورت حال ہے کہ اگر کوئی نصیحت کی بات کہی جائے تو اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اور وہاں سے یوں منہ موڑ کر بھاگ اٹھتے ہیں۔ جیسے جنگلی گدھے کسی شیر کی دھاڑ سن کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر پیچھے مڑ کر دیکھنے کا نام ہی نہیں لیتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
22۔ (بالکل اندھا دھند منہ اٹھائے ہوئے) گدھے اور پھر وحشی جنگلی گدھے کمال بلادت کے لئے ضرب المثل ہیں۔ معمولی اور بالکل بےضرر چیزوں سے بھی بدکتے اور بھاگتے رہتے ہیں۔ اور پھر جب شیر سے بھاگیں گے تو ان کی وحشت اور بدوحواسی کا کیا ٹھکانا۔ تشبیہ سے مقصود قرآن مجید سے ان لوگوں کے انتہائی بعد وتنفر کا اظہار ہے اور تشبیہ صرف فرار اور عدم فرار میں ہے دوسرے آثار میں نہیں۔ (آیت) ” قسورۃ “۔ کے معنی اور بھی کئے گئے ہیں۔ لیکن صحابہ اور محققین نے شیرہی کے معنی لئے ہیں۔ وقال ابوھیریرۃ ؓ الاسد وھو قول عطاء الکلبی (معالم) قال ابوھریرہ ؓ وابن عباس ؓ فی روایۃ عنہ وزید بن اسلم وابنہ عبدالرحمن (ابن کثیر) اور ماہرین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…
Read the full tafseer →کانھم حمر مستنفرۃ . مستنفر بکسر فاء بھاگنے والا۔ نفر اور استنفر دونوں ہم معنی ہیں جیسے : عجب اور استعجب۔ مستنفرہ بفتح فاء خوفزدہ ‘ بد کے ہوئے ‘ دونوں طرح مروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
(49۔ 52) سو ان مکہ والوں کو کیا ہوا کہ یہ قرآن کریم کو جھٹلاتے ہیں کہ گویا وہ وحشی گدھے ہیں کہ شیر سے یا آدمیوں کی جماعت سے بھاگے جارہے ہیں، بلکہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے نوشتے دیے جائیں، چناچہ ان لوگوں نے اس کی درخواست کی تھی کہ خاص ہمارے نام نوشے آئیں جس میں ہمارا نام اور توبہ لکھی ہو کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں۔ شان نزول : بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِۍ مِّنْهُمْ (الخ) ابن منذر نے سدی سے روایت کیا ہے کہ کفار نے کہا کہ اگر محمد سچے ہیں تو صبح کو ہر ایک شخص کے سر کے نیچے سے لکھا ہوا نکلے جس میں اس کے لیے دوزخ سے برات لکھی ہوئی ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
فما لھم عن التذکرۃ…:”مستنفرۃ“ باب استفعال سے اسم فاعل بمعنی ”نافرۃ“ ہے، جیسے ”عجب“ اور ”استعجب“ اسی طرح ”سخر“ اور ”استخر“ ہم معنی ہیں۔ حروف زیادہ ہونے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ، سخت بدکنے والے۔ ”قسورۃ“”قسر“ سے ہے جس کا معنی غلبہ اورق ہر ہے، چونکہ شیر اپنے شکار کو مغلوب و مقہور کرتا ہے اسلئے اسے ”ق سورة“ کہتے ہیں۔ شکاریوں کی جماعت کو بھی ”ق سورة“ کہتے ہیں اور لوگوں کے شور و غل کو بھی ”ق سورة“ کہتے ہیں۔ کفار کے نصیحت اور آیات قرآنی سننے سے بھگانے کو ان جنگلی گدھوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو شیر کی آہٹ یا شکاریوں کے خطرے سے بدک کر بےتحاشا بھاگتے ہیں۔
Read the full tafseer →کانھم حمر مستنفرہ۔ گویا یہ کفار حضرت محمد ﷺ سے بھاگنے میں بدکے ہوئے گدھے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا اس سے مراد وحشی گدھے ہیں نافع اور ابن عامر نے فاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، منفرۃ پڑھا ہے۔ ابوعبید اور ابوحاتم نے اسی قرات کو پسند کیا ہے جب کہ باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، جس کا معنی کافرہ ہے، کہا جاتا ہے، نفرت، استنفرت دونوں ہم معنی ہیں، جس طرح عجبت، استعجبت اور سخرت، استخرت ہے، فراء نے یہ شعر پڑھا ہے۔ امسک حمارک انہ مستنفرۃ فی اثر احمرۃ عمدن لغرب۔ اپنے گدھے کو روکو وہ گدھوں کے پیچھے بھاگا جارہا ہے، جنہوں غرب (جگہ کا نام) کا قصد کیا۔
Read the full tafseer →18۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت کانہم حمر۔ گویا کہ وہ گدھے ہیں میں کان کو مثقلہ اور مستنفرۃ میں فاء کسرہ کے ساتھ پڑھا۔ 23۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کانہم حمر مستنفرۃ فرت من قسورۃ۔ گویا کہ وہ بدکنے والے گدھے ہیں جو شیر سے بھاگے ہیں یعنی وہ وحشی جانور جو اپنے تیر مارنے والے سے بھاگتا ہے۔ 24۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت فرت من قسورۃ سے مراد ہے شکاری۔ 25۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فرت من قسورۃ سے مراد ہے شکاری تیر پھینکنے والا۔ 26۔ عبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ قسورۃ سے مراد ہے تیر پھینکنے…
Read the full tafseer →[كَانهُمْ : (ایسے) جیسے کہ وہ لوگ ] [حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ: بدکنے والے ایسے گدھے ہیں جو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
آخرت میں ان کی یہ بدحالی ہوگی اور دنیا میں ان کا یہ حال ہے کہ نصیحت سے منہ موڑتے ہیں اعراض کر کے چلے جاتے ہیں اور اعراض بھی معمولی نہیں سخت اعراض کرتے ہیں۔ اسی کو فرمایا ﴿ كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ0050 فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ0051﴾ (قرآن کی باتیں سن کر وہ اس طرح اعراض کرتے ہیں کہ گویا گدھے ہیں جو شیر سے متنفر ہو کر بھاگ رہے ہیں، قسورۃ کا ترجمہ شیر کیا گیا ہے یہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے۔ كما ذکر فی معالم التنزیل وفیہ اقوال اخرو ھذہ الکلمة لا واحدلھا من لفظھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
18 ۔ ” فما لہم “ قرآن سے اعراض کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں، لیکن پھر بھی اہل مکہ اس سے اعراض کر رہے ہیں وہ قرآن سے اس طرح بدکتے اور بھاگتے ہیں جس طرح حمر و حشیہ (گور خر) شیر کو دیکھ کر بھاگتے ہی۔ قسورۃ کے معنی شیر کے ہیں جیسا کہ ابوہریرہ اور ابن عباس ؓ سے منقول ہے۔ یا قسورۃ، قسور کی جمع ہے بمعنی تیز انداز یہ قول حضرت ابو موسیٰ اشعری، سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، قتادہ، ضحاک، ابو ظبیان نیز ابن عباس ؓ سے منقول ہے (قرطبی) ۔
Read the full tafseer →كَاَنَّہُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَۃٌ 50 ۙ حمر الحِمَار : الحیوان المعروف، وجمعه حَمِير وأَحْمِرَة وحُمُر، قال تعالی: وَالْخَيْلَ وَالْبِغالَ وَالْحَمِيرَ [ النحل/ 8] ، ويعبّر عن الجاهل بذلک، کقوله تعالی: كَمَثَلِ الْحِمارِ يَحْمِلُ أَسْفاراً [ الجمعة/ 5] ، وقال تعالی: كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ [ المدثر/ 50] ، وحمار قبّان : دويّبة، والحِمَارَان : حجران يجفّف عليهما الأقط شبّه بالحمار في الهيئة، والمُحَمَّر : الفرس الهجين المشبّه بلادته ببلادة الحمار . والحُمْرَة في الألوان، وقیل : ( الأحمر والأسود) للعجم والعرب اعتبارا بغالب ألوانهم، وربما قيل : حمراء العجان والأحمران : اللحم والخمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–56
ترکیب : معرضین حال من الضمیر فی متعلق الجارو المجرور ‘ فما مبتدء لھم خبرہ کانھم الجملۃ حال من الضمیر فی معرضین علی التداخل مستنفرۃ قراء الجمہور بالکسر یقال نفرواوا ستنفروامثل سخرواستسخرو عجب واستعجب و قریٔ بالفتح قال ابوعلی الفارسی الکسرۃ اولی۔ فرت الخ حال بتقدیر قد والقسورۃ عندالاکثرالاسد فعولۃ من القسرو ھوا لقہرو الغلبۃ سمی بذلک لانہ یقہرا بساع وقیل جماعۃ الرماۃ قال الازہری اسم جمع للرماۃ لاواحدلہ من جنسہ و قیل ذکر الناس واصواتھم وقیل ظلمۃ اللیل بل یرید عطف علی مقدر یقتضیہ المقام کانہ قیل لایکتفون بتلک التذکرۃ بل یرید الخ کلابل لایخافون اضراب انتقالی لبیان ھذا التنعۃ وقیل کلابمعنی حقاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
کَاَنَّھُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَۃٌ۔ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ ۔ (المدثر : 50، 51) (گویا کہ وہ بدکے ہوئے گدھے ہوں۔ جو شیر سے ڈر کے بھاگے ہوں۔ ) گزشتہ آیت کریمہ میں کفار کے اعراض پر اظہارِ تعجب کیا گیا ہے، لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں ایک قدم آگے بڑھ کر فرمایا کہ وہ صرف آپ ﷺ کی اور قرآن کریم کی دعوت سے اعراض ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے اندر اس دعوت سے متعلق ایک وحشت پیدا ہوگئی ہے کہ وہ اس کا نام سنتے اور اس کی آواز کانوں میں پڑتے ہی بےساختہ بھاگ اٹھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ قرآن کریم کا کوئی بول ان کے کانوں میں پڑنے نہ پائے۔ درحقیقت انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب وہ کسی چیز کو اس لیے قبول کرنے پر آمادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–56
فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کو ان کا اقرار اور انجام بتلانے کے بعد ایک دفعہ پھر نصیحت کی گئی ہے مجرموں کو کیا ہوگیا ہے کہ جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو اس پر توجہ کرنے کی بجائے اس سے اس طرح منہ موڑتے ہیں گویا کہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوں۔ ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں جن میں ان سے ایمان لانے کی درخواست کی جائے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کے پاس جب بھی کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں وہی کچھ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ…
Read the full tafseer →50 : کَاَنَّھُمْ حُمُرٌ (گویا کہ وہ وحشی گدھے ہیں) حمر سے مرادوحشی گدھے۔ نحو : یہ معرضین کی ضمیر سے حال ہے۔ مُّسْتَنْفِرَۃٌ (بہت بھاگنے اور نفرت کرنے والے) گویا وہ اپنے آپ سے ہر وقت بھاگنا چاہ رہے ہیں۔ قراءت ـ : مُستَنْفَرَۃ فاء مفتوح مدنی، شامی نے پڑھا ہے۔ معنی یہ ہوگا بھگائے ہوئے گدھے ہیں۔
Read the full tafseer →49 ۔” فمالھم عن التذکرۃ معرضین “ قرآن کے مواعظہ سے معرضین حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے اور کہا گیا ہے وہ ہوگئے اعراض کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–56
38۔ 56۔ جس طرح گروی رکھوانے والا شخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھوڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھوڑانے کے لئے اپنے اپنے عمل کے پابند کئے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک و بد عمل کا حساب لکھنے کے لئے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اور اس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیا جاتا ہے اس کاغذ کو اعمال نہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جن کا حساب آسانی سے ہو کر جلدی سے ان کی نجات ہونے والی ہے۔ چناچہ اذا السماء انشقت میں آئے گا۔ فما من اوتی…
Read the full tafseer →(كَاَنَّهُمْ ) گویا کہ وہ، اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں (حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ) بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آگئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
39 منکرین کے حال پر اظہار تعجب و افسوس : سو منکرین کے حال پر اظہار تعجب و افسوس کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہوگیا ان لوگوں کو جو اس عظیم الشان نصیحت و یاددہانی سے منہ موڑے ہوئے ہیں ؟ یعنی قرآن حکیم سے۔ جس جیسی جامع ‘ کامل اور ابدی نصیحت نہ کوئی ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے ‘ نہ ہوسکے گی۔ جس کو رب رحمن و رحیم نے اپنی رحمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق نازل فرمایا ہے تاکہ اس کے ذریعے یہ لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوسکیں ‘ مگر یہ ہیں کہ اس سے اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح جنگلی گدھے شیر کو دیکھ کر بھاگتے ہیں۔ واضح رہے کہ تذکرۃ کے اصل معنی یاد دہانی کے آتے ہیں قرآن حکیم چونکہ انسان کو اہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
اللہ کے مقبول بندوں کی پر سکون زندگیاں اور دوزخیوں کا اقرار جرم تشریح : یہاں داہنی طرف والے نیک لوگ۔ اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے۔ جو میدان حشر میں ہونے والی ہے اور جو ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جو اس بات کی ضمانت ہے کہ اس عقیدہ پر ایمان رکھنے والے ہر برا کام کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اس برے کام کا انجام عذاب کی صورت میں ضرور ملے گا۔ تو یہی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ مرنے کے بعد ہم ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ اعمال نامے ملنے کی صورت یہ ہوگی کہ کچھ کو دائیں طرف سے کچھ کو بائیں طرف سے پیچھے سے اعمال نامے دئیے جائـیں گے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو داہنی طرف سے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
آیات 32 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
ف 5 یا ” جو تیر انداز شکاریوں کو دیکھ کر بھاگے گا۔ شوکانی نے اس معنی کو انسب قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے اس کے معنی ” سب الرجال (یعنی آدمیوں کے جتھے) کئے ہیں۔ علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ ’ دق سورة کے معنی ” دٓمیوں کا شور “ بھی آتے ہیں۔ (رازی)
Read the full tafseer →(74:50) کانھم : کان حرف مشابہ بفعل۔ اس کا اسم منصوب اور خبر مرفوع ہوتی ہے لہٰذا ہم کان کا اسم اور حمر مستنفرۃ اس کی خبر۔ حمر حمار کی جمع۔ گدھے مستفرۃ اسم فاعل واحد مؤنث استفار (استفعال) مصدر سے۔ بدک کر بھاگنے والے۔ نفر مادہ۔ نفار (باب ضرب) دوڑنا۔ دور ہوجانا۔ نفور بھاگنے والا۔ کانھم حمر مستنفرۃ گویا کہ وہ بدک کر بھاگنے والے گدھے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
لغات القرآن۔ ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔ تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–51
(ف 1) جس طرح گروی رکھوانے والاشخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھڑانے کے لیے اپنے اپنے عمل کے پابند کیے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک وبد کا حساب لکھنے کے لیے ہر شخص کے ساتھ دوفرشتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اورس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیاجاتا ہے۔ اس کاغذ کو اعمال نامہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تودائیں ہاتھ میں دیاجائے جن کے حساب آسانی سے ہوکر جلدی سے ان کو نجات ہونے والی ہے اور جن لوگوں کے حساب میں جانچ منظور ہے ان سب کے اعمال نامہ بائیں ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
[18] یعنی پیغمبر کی بات ماننا نہیں چاہتے بلکہ ان میں سے ہر شخص کی آرزو یہ ہے کہ خود اس پر اللہ تعالیٰ صحیفے نازل کرے اور وہ پیغمبر بنادیا جائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس براہ راست ایک نوشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے جس میں محمد ﷺ کے اتباع کا حکم دیا گیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–56
ف 5: اسلام سے قبل نجات کا مفہوم یہ تھا ۔ کہ لوگ ولیوں اور شہیدوں پر بھروسہ کرکے ہر نوع کے فسق وفجور کا ارتکاب کرتے اور یہ سمجھتے ۔ کہ چونکہ ان لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلقات امادت وعقیدت وابستہ ہیں ۔ اس لئے عذاب اور سزا سے ہمارا بچ جانا یقینی ہے ۔ کچھ لوگ بتوں اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو اس بات کا مجاز قراردیتے کہ وہ اپنے پچاریوں کو یحسوا لیں گے ۔ اس پر اس قبیل کی آیتیں نازل ہوئیں ۔ جن میں شفاعت کی نفی کی گئی ۔ اور بتایا گیا ۔ کہ جب تک ذاتی صلاحیت نہ ہو ۔ کوئی سفارش مفید نہیں ہوسکتی ۔ حل لغات :۔ رھینہ ۔ مصدر سے الیقین ۔ موت ۔
Read the full tafseer →(50) کہ گویا وہ جنگلی اور وحشی گدھے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
ف 5۔ اور اس عدم نفع کا عدم شفاعت کے تحقق سے ہوگا یعنی شفاعت ہی نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
(تو انہیں کیا ہے کہ نصیحت سے روگردانی کرنے والے ہیں) یعنی قرآن اور اس کی ہدایات سے منہ پھیرتے ہیں (گویا کہ وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہیں۔ بھاگے ہیں شیر سے) یا شکاری سے ، یا پھندے سے ، یا تیر انداز آدمی سے ، یا مختلف آوازوں سے ، یعنی جس طرح جنگلی گدھے ان چیزوں سے بھاگتے ہیں ، اس طرح وہ قرآن سننے سے بھاگتے ہیں اس واسطے کہ بات سننے والے کان اور نصیحت قبول کرنے والے دل نہیں رکھتے ہیں۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ (So what has happened to them that they are turning away from the Reminder... 74:49) The word tadhkirah (Reminder), in this context, refers to the Holy Qur'an, because the word literally signifies a 'reminder or something that reminds'. The Qur'an is unique in reminding Allah's attributes of perfection, His mercy and wrath, and the reward and punishment. Towards the end, the verse 54 has explained that the 'Reminder' is the Holy Qur'an that is rejected by them. The allergy of the infidels against the Holy Qur'an has been mentioned in verses 50 and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
36 That is, "Even if an intercessor interceded for a person who persisted in this way of life till death, he would not be forgiven." The question of intercession has been so fully explained at so many places in the Qur'an that no one can have any difficulty in nowing and understanding as to who can intercede and who cannot, when one can intercede and when one cannot, for whom one can intercede and for whom one cannot, and for whom intercession is beneficial and for whom it is not. As one of the major causes of the people's deviation in the world, is their false concept about intercession, it…
Read the full tafseer →