Al-Muddaththir 74:49

Al-Muddaththir · from ayah 49

74:49

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِیْنَ ۟ۙفَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَۙ‏

ان کو کیا ہوا ہے کہ نصیحت سے روگرداں ہو رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then what is [the matter] with them that they are, from the reminder, turning away

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:49

آخر اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ اِس نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان کو کیا ہوا ہے کہ نصیحت سے روگرداں ہو رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہیں کیا ہو گیا ہے؟ کہ نصیحت سے منھ موڑ رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ نصیحت کی بات سے منہ موڑے ہوئے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو انہیں کیا ہوا نصیحت سے منہ پھیرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو ان (کفّار) کو کیا ہوگیا ہے کہ (پھر بھی) نصیحت سے رُوگردانی کئے ہوئے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو انھیں کیا ہے کہ نصیحت سے منہ موڑنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر انہیں کیا ہوگیا ہے کہ نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ یاد دہانی سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا ہوگیا ان لوگوں کو جو اس (عظیم الشان) نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

انہیں کیا ہوگیا کہ نصیحت سے روگرانی کرتے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو انہیں کیا ہوگیا ہے کہ یہ اس یاد دہانی (قرآن) سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کو کیا ہوا ہے کہ نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

What is the matter with people that they are turning away from this Exhortation,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So what has happened to them that they are turning away from the Reminder,

— Muhammad Taqi Usmani

So what has happened to them that they are turning away from the Reminder,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then what is wrong with them that they turn away from admonition

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Why now turn they away from the Admonishment,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then what is [the matter] with them that they are, from the reminder, turning away

— Saheeh International

If such will be the Day of Judgment, what is the matter with them? Why do they run away from guidance,

— Muhammad Sarwar

What is then the matter with them, that they turn away from the admonition

— Muhammad Habib Shakir

What aileth them, therefore, that they are from the Admonition turning away?

— Abdul Majid Daryabadi

Then what is the matter with them that they turn away from admonition?-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 74:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–56

جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہوگا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–50

سورة الْمُدَّثِّر 36 یعنی ایسے لوگ جنہوں نے مرتے دم تک یہ روش اختیار کیے رکھی ہو ان کے حق میں اگر کوئی شفاعت کرنے والا شفاعت کرے بھی تو اسے معافی نہیں مل سکتی۔ شفاعت کے مسئلے کو قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے کہ کسی شخص کو یہ جاننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی کہ شفاعت کون کرسکتا ہے اور کون نہیں کرسکتا، کس حالت میں کی جاسکتی ہے اور کس حالت میں نہیں کی جاسکتی، کس کے لیے کی جاسکتی ہے اور کس کے لیے نہیں کی جاسکتی، اور کس کے حق میں وہ نافع ہے اور کس کے حق میں نافع نہیں ہے۔ دنیا میں چونکہ لوگوں کی گمراہی کے بڑے اسباب میں سے ایک سبب شفاعت کے بارے میں غلط عقائد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 49–55

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ یہاں تذکرہ سے مراد قرآن حکیم ہے کیونکہ تذکرہ کے لفظی معنی یاد دلانے والی چیز کے ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی رحمت وغضب اور ثواب و عذاب کو یاد دلانے میں بےنظیر ہے اور آخر میں فرمایا کلا انہ تذکرة یعنی بلا شبہ قرآن تذکرہ ہے جسکو تم نے چھوڑ رکھا ہے قسورة کے معنی شیر کے بھی آتے اور تیر انداز شکاری کے بھی اس جگہ صحابہ کرام سے دونوں منقول ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اعراض کرنے والوں کے حال پر تعجب: یہ ان کے حال پر تعجب کا اظہار فرمایا ہے کہ ان کو تو اپنے رب کا شکرگزار ہونا تھا کہ اس نے جزا و سزا کے یوم موعود سے پہلے ان کی یاددہانی اور اصل حقائق سے آگاہ کرنے کے لیے ایک کتاب بھی نازل کر دی اور ایک رسول بھی بھیج دیا لیکن ان کا حال عجیب ہے کہ وہ اس یاددہانی سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔ ’مُعْرِضِیْنَ‘ ضمیر مجرور سے حال پڑا ہوا ہے۔ یہ اسلوب عربیت میں معروف ہے۔ اس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 48–50

48۔ 1 یعنی جو صفات مذکورہ کا حامل ہوگا، اسے کسی کی شفاعت بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی، اس لئے کہ کفر کی وجہ سے محل شفاعت ہی نہیں ہوگا، شفاعت تو صرف ان کے لئے مفید ہوگی جو ایمان کی وجہ سے شفاعت کے قابل ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 45–51

19: اس سے مراد کافروں کے وہ سردار ہیں جو اسلام اور قرآن کا مذاق اڑانے کے لیے محفلیں سجایا کرتے تھے، اور بےہودہ مذاق سے حق کی تردید کیا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جو ہر قسم کی بےہودہ گفتگو اور بےہودہ مشغلوں کو شامل ہیں، جو آخرت میں انسان کے لیے مصیبت کا سبب بنیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–51

فمالھم ............................ قسورة جنگلی گدھے بہت ہی ڈرپوک ہوتے ہیں ، جب یہ شیر کی دھاڑ کی آواز سنتے ہیں تو یہ جدھر منہ ہوتا ہے ادھر بھاگ جاتے ہیں۔ عرب اس قسم کے مناظر سے واقف تھے۔ جب انسانوں کو ان خوفزدہ گدھوں سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ تو یہ منظر نہایت ہی مضحکہ خیزہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکرہ اور نصیحت سے ان کی نفرت اور فرار نہیں انسانوں کی بجائے گدھے بنا دیتا ہے۔ سا لئے نہیں کہ انہیں کوئی خوف درپیش ہے بلکہ اس لئے کہ ایک یاددہانی کرانے والا ان کو اپنے رب کی طرف بلارہا ہے اور انہیں یہ موقعہ فراہم کررہا ہے کہ یہ لوگ اس خوفناک انجام سے دو چار ہونے سے بچ جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دست قدر کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی یہ مصیبتیں سامنے ہیں۔ مگر نصیحت سن کر ٹس سے مس نہیں ہوتے بلکہ سننا بھی نہیں چاہتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 46–51

آیت 51{ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ۔ } ”جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں۔“ یہ لوگ ایک اللہ ‘ قرآن اور آخرت کے ذکر سے ایسے بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شیر کی آہٹ پا کر جان بچانے کے لیے بھاگتے ہیں۔ ایسے مناظر اب ٹیلی ویژن پر عام دکھائے جاتے ہیں کہ افریقہ کے جنگلوں میں زیبروں کے غول کے غول شیر کی آہٹ محسوس کر کے بگٹٹ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 46–49

22 دوزخ میں لے جانے والے چار بڑے گناہ :۔ اہل دوزخ نے اہل جنت کے سوال کے جواب میں چار باتیں بتائیں گے جو انہیں دوزخ میں لے جانے کا باعث بنیں۔ پہلی یہ کہ ہم نماز ادا نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ نماز کی باقاعدگی صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو اللہ پر بھی ایمان رکھتا ہو اور روز آخرت کے محاسبہ پر بھی۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص باقاعدہ نماز ادا کرتا ہے تم اس کے ایماندار ہونے کی گواہی دو ۔ جس کا دوسرا مطلب یہ نکلتا ہے کہ جو شخص نماز ادا نہیں کرتا، نہ اس کا اللہ پر ایمان ہوتا ہے نہ روزآخرت پر، دوسرا جرم وہ یہ بتائیں گے کہ وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلایا کرتے تھے۔ پہلا جرم اللہ کے حق سے متعلق تھا۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 49–51

22۔ (بالکل اندھا دھند منہ اٹھائے ہوئے) گدھے اور پھر وحشی جنگلی گدھے کمال بلادت کے لئے ضرب المثل ہیں۔ معمولی اور بالکل بےضرر چیزوں سے بھی بدکتے اور بھاگتے رہتے ہیں۔ اور پھر جب شیر سے بھاگیں گے تو ان کی وحشت اور بدوحواسی کا کیا ٹھکانا۔ تشبیہ سے مقصود قرآن مجید سے ان لوگوں کے انتہائی بعد وتنفر کا اظہار ہے اور تشبیہ صرف فرار اور عدم فرار میں ہے دوسرے آثار میں نہیں۔ (آیت) ” قسورۃ “۔ کے معنی اور بھی کئے گئے ہیں۔ لیکن صحابہ اور محققین نے شیرہی کے معنی لئے ہیں۔ وقال ابوھیریرۃ ؓ الاسد وھو قول عطاء الکلبی (معالم) قال ابوھریرہ ؓ وابن عباس ؓ فی روایۃ عنہ وزید بن اسلم وابنہ عبدالرحمن (ابن کثیر) اور ماہرین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–56

ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فمالھم عن التذکرہ معرضین . التذکرۃ سے مراد صرف قرآن ہے یا وہ تمام یادداشتیں جن میں قرآن بھی شامل ہے ‘ استفہام انکاری ہے یعنی دنیا میں ان کا حال ایسا کیوں ہے جو عذاب آخرت تک پہنچانے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 49–52

(49۔ 52) سو ان مکہ والوں کو کیا ہوا کہ یہ قرآن کریم کو جھٹلاتے ہیں کہ گویا وہ وحشی گدھے ہیں کہ شیر سے یا آدمیوں کی جماعت سے بھاگے جارہے ہیں، بلکہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے نوشتے دیے جائیں، چناچہ ان لوگوں نے اس کی درخواست کی تھی کہ خاص ہمارے نام نوشے آئیں جس میں ہمارا نام اور توبہ لکھی ہو کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں۔ شان نزول : بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِۍ مِّنْهُمْ (الخ) ابن منذر نے سدی سے روایت کیا ہے کہ کفار نے کہا کہ اگر محمد سچے ہیں تو صبح کو ہر ایک شخص کے سر کے نیچے سے لکھا ہوا نکلے جس میں اس کے لیے دوزخ سے برات لکھی ہوئی ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 49–51

فما لھم عن التذکرۃ…:”مستنفرۃ“ باب استفعال سے اسم فاعل بمعنی ”نافرۃ“ ہے، جیسے ”عجب“ اور ”استعجب“ اسی طرح ”سخر“ اور ”استخر“ ہم معنی ہیں۔ حروف زیادہ ہونے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ، سخت بدکنے والے۔ ”قسورۃ“”قسر“ سے ہے جس کا معنی غلبہ اورق ہر ہے، چونکہ شیر اپنے شکار کو مغلوب و مقہور کرتا ہے اسلئے اسے ”ق سورة“ کہتے ہیں۔ شکاریوں کی جماعت کو بھی ”ق سورة“ کہتے ہیں اور لوگوں کے شور و غل کو بھی ”ق سورة“ کہتے ہیں۔ کفار کے نصیحت اور آیات قرآنی سننے سے بھگانے کو ان جنگلی گدھوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو شیر کی آہٹ یا شکاریوں کے خطرے سے بدک کر بےتحاشا بھاگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فمالھم عن التذکرۃ۔۔۔ تا۔۔۔۔ یخافون الاخرۃ۔ فمالھم عن التذکرۃ معرضین۔ اہل مکہ کو کیا ہوگیا ہے انہوں نے اس چیز سے اعراض کیا اور منہ پھیرلیا جو آپ لائے تھے مقاتل کی تفسیر میں ہے قرآن حکیم سے اعراض دو طریقوں سے ہوتا ہے۔ (1) انکار (2) اس کے حکم پر عمل کو چھوڑ دینا۔ معرضین، لھم میں ھم ضمیر سے حال ہے اور اس کے لام میں فعل کا معنی پایا جاتا ہے حال کو نصب فعل کے معنی کی وجہ سے ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

17۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فمالہم عن التذکرۃ معرضین پس انہیں کیا ہوگا کہ وہ نصیحت سے منہ موڑتے ہیں اس میں ” التذکرۃ “ سے مراد قرآن مجید ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَمَا لَهُمْ : تو انھیں کیا (ہو گیا) ہے ] [عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ : (کہ) اس یاددہانی سے اعراض کرنے والے ہوتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 48–49

﴿فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَؕ0048﴾ (سو ان لوگوں کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت نفع نہ دے گی) کافر کے لیے کوئی شفاعت کرنے والا نہ ہوگا جو اسے دوزخ سے نکلوا دے سورة ٴ مومن میں فرمایا : ﴿مَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ حَمِيْمٍ وَّ لَا شَفِيْعٍ يُّطَاعُؕ0018﴾ (ظالموں کے لیے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا ہوگا جس کی بات مانی جائے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–56

تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 49–51

18 ۔ ” فما لہم “ قرآن سے اعراض کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں، لیکن پھر بھی اہل مکہ اس سے اعراض کر رہے ہیں وہ قرآن سے اس طرح بدکتے اور بھاگتے ہیں جس طرح حمر و حشیہ (گور خر) شیر کو دیکھ کر بھاگتے ہی۔ قسورۃ کے معنی شیر کے ہیں جیسا کہ ابوہریرہ اور ابن عباس ؓ سے منقول ہے۔ یا قسورۃ، قسور کی جمع ہے بمعنی تیز انداز یہ قول حضرت ابو موسیٰ اشعری، سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، قتادہ، ضحاک، ابو ظبیان نیز ابن عباس ؓ سے منقول ہے (قرطبی) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَمَا لَہُمْ عَنِ التَّذْكِرَۃِ مُعْرِضِيْنَ۝ 49 ۙ تَّذْكِرَةُ : ما يتذكّر به الشیء، وهو أعمّ من الدّلالة والأمارة، قال تعالی: فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ، كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] ، أي : القرآن . وذَكَّرْتُهُ التذکرۃ جس کے ذریعہ کسی چیز کو یاد لایا جائے اور یہ دلالت اور امارت سے اعم ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ان کو کیا ہوا کہ نصیحت سے روگرداں ہورہے ہیں ۔ كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] دیکھو یہ ( قرآن ) نصیحت ہے ۔ مراد قرآن پاک ہے ۔ ذَكَّرْتُهُ كذا اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–56

ترکیب : معرضین حال من الضمیر فی متعلق الجارو المجرور ‘ فما مبتدء لھم خبرہ کانھم الجملۃ حال من الضمیر فی معرضین علی التداخل مستنفرۃ قراء الجمہور بالکسر یقال نفرواوا ستنفروامثل سخرواستسخرو عجب واستعجب و قریٔ بالفتح قال ابوعلی الفارسی الکسرۃ اولی۔ فرت الخ حال بتقدیر قد والقسورۃ عندالاکثرالاسد فعولۃ من القسرو ھوا لقہرو الغلبۃ سمی بذلک لانہ یقہرا بساع وقیل جماعۃ الرماۃ قال الازہری اسم جمع للرماۃ لاواحدلہ من جنسہ و قیل ذکر الناس واصواتھم وقیل ظلمۃ اللیل بل یرید عطف علی مقدر یقتضیہ المقام کانہ قیل لایکتفون بتلک التذکرۃ بل یرید الخ کلابل لایخافون اضراب انتقالی لبیان ھذا التنعۃ وقیل کلابمعنی حقاً…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَمَا لَھُمْ عَنِ التَّذْکِرَۃِ مُعْرِضِیْنَ ۔ (المدثر : (49) (پس ان کو کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔ ) اعراض کرنے والوں کے حال پر تعجب آنحضرت ﷺ کی دعوت جو آپ ﷺ قریش اور اہل مکہ کے سامنے پیش فرما رہے تھے اور وہ یاد دہانی جس کا تذکرہ بار بار ان کے سامنے کرتے تھے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ عجیب بات ہے کہ یہ لوگ نہ اس دعوت پر کان دھرتے ہیں اور نہ اس یاددہانی کو قابل توجہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم نے ان حقائق کے اثبات کے لیے بار بار دلائل پیش کیے۔ اور آنحضرت ﷺ اپنی دلآویز شخصیت اور ہمدردی اور غمگساری سے بار بار اس کے لیے انھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–56

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کو ان کا اقرار اور انجام بتلانے کے بعد ایک دفعہ پھر نصیحت کی گئی ہے مجرموں کو کیا ہوگیا ہے کہ جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو اس پر توجہ کرنے کی بجائے اس سے اس طرح منہ موڑتے ہیں گویا کہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوں۔ ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں جن میں ان سے ایمان لانے کی درخواست کی جائے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کے پاس جب بھی کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں وہی کچھ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

49 : فَمَا لَھُمْ عَنِ التَّذْکِرَۃِ (تو ان کو کیا ہوا کہ یہ اس نصیحت سے روگردانی کرتے ہیں) التذکیر ؔ نصیحت مراد اس سے قرآن مجید مُعْرِضِیْنَ (منہ موڑنے والے ہیں) نحو : یہ ضمیر سے حال ہے۔ جیسا کہتے ہیں مالک قائمًا ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

48 ۔” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فما تنفعھم شفاعۃ الشافعین “ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں فرشتے سفارش کریں گے اور انبیاء اور شہداء اور نیک لوگ اور تمام مومنین۔ پس جہنم میں صرف چار قسم کے لوگ باقی رہ جائیں گے پھر تلاوت کی۔ ” قالوا لم نک من المصلین “ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” یوم الدین “ تک۔ عمران بن حصین (رح) فرماتے ہیں شفاعت ہر ایک کے لئے نفع دے گی سوائے ان لوگوں کے جن کا تم سن رہے ہو۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنمیوں کی صف بنائی جائے گی، پھر عذاب دیئے جائیں گے، فرمایا پھر ان پر اہل جنت میں سے ایک شخص گزرے گا تو ان میں سے ایک کہے گا اے فلاں ! تو وہ کہے گا تو کیا چاہتا ہے ؟ تو وہ کہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–56

38۔ 56۔ جس طرح گروی رکھوانے والا شخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھوڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھوڑانے کے لئے اپنے اپنے عمل کے پابند کئے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک و بد عمل کا حساب لکھنے کے لئے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اور اس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیا جاتا ہے اس کاغذ کو اعمال نہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جن کا حساب آسانی سے ہو کر جلدی سے ان کی نجات ہونے والی ہے۔ چناچہ اذا السماء انشقت میں آئے گا۔ فما من اوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

چناچہ فرمایا (فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ ) پس انہیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 49–50

39 منکرین کے حال پر اظہار تعجب و افسوس : سو منکرین کے حال پر اظہار تعجب و افسوس کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہوگیا ان لوگوں کو جو اس عظیم الشان نصیحت و یاددہانی سے منہ موڑے ہوئے ہیں ؟ یعنی قرآن حکیم سے۔ جس جیسی جامع ‘ کامل اور ابدی نصیحت نہ کوئی ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے ‘ نہ ہوسکے گی۔ جس کو رب رحمن و رحیم نے اپنی رحمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق نازل فرمایا ہے تاکہ اس کے ذریعے یہ لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوسکیں ‘ مگر یہ ہیں کہ اس سے اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح جنگلی گدھے شیر کو دیکھ کر بھاگتے ہیں۔ واضح رہے کہ تذکرۃ کے اصل معنی یاد دہانی کے آتے ہیں قرآن حکیم چونکہ انسان کو اہم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 39–56

اللہ کے مقبول بندوں کی پر سکون زندگیاں اور دوزخیوں کا اقرار جرم تشریح : یہاں داہنی طرف والے نیک لوگ۔ اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے۔ جو میدان حشر میں ہونے والی ہے اور جو ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جو اس بات کی ضمانت ہے کہ اس عقیدہ پر ایمان رکھنے والے ہر برا کام کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اس برے کام کا انجام عذاب کی صورت میں ضرور ملے گا۔ تو یہی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ مرنے کے بعد ہم ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ اعمال نامے ملنے کی صورت یہ ہوگی کہ کچھ کو دائیں طرف سے کچھ کو بائیں طرف سے پیچھے سے اعمال نامے دئیے جائـیں گے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو داہنی طرف سے اعمال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–56

آیات 32 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 49–51

ف 5 یا ” جو تیر انداز شکاریوں کو دیکھ کر بھاگے گا۔ شوکانی نے اس معنی کو انسب قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے اس کے معنی ” سب الرجال (یعنی آدمیوں کے جتھے) کئے ہیں۔ علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ ’ دق سورة کے معنی ” دٓمیوں کا شور “ بھی آتے ہیں۔ (رازی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:49) فما لہم عن التذکرۃ معرضین :بمعنی پھر، ما استفہامیہ ہے پھر ان کو کیا ہوگیا ہے۔ عن التذکرۃ : جار مجرور، التذکرۃ ای القران جار مجرور مل کر متعلق معرضین، معرضین اسم فاعل جمع مذکر منصوب، اعراض (افعال) مصدر سے اعراض کرنے والے۔ رخ موڑنے والے۔ اجتناب کرنے والے۔ معرضین نسب علی الحال کقولک مالک قائما : اس کا نصب بوجہ حال ہے جیسا کہ کہتے ہیں ما لک قائما تو کیوں کھڑا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر ان کو کیا ہوگیا ہے جو نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–56

لغات القرآن۔ ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔ تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–51

(ف 1) جس طرح گروی رکھوانے والاشخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھڑانے کے لیے اپنے اپنے عمل کے پابند کیے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک وبد کا حساب لکھنے کے لیے ہر شخص کے ساتھ دوفرشتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اورس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیاجاتا ہے۔ اس کاغذ کو اعمال نامہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تودائیں ہاتھ میں دیاجائے جن کے حساب آسانی سے ہوکر جلدی سے ان کو نجات ہونے والی ہے اور جن لوگوں کے حساب میں جانچ منظور ہے ان سب کے اعمال نامہ بائیں ہاتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–52

[18] یعنی پیغمبر کی بات ماننا نہیں چاہتے بلکہ ان میں سے ہر شخص کی آرزو یہ ہے کہ خود اس پر اللہ تعالیٰ صحیفے نازل کرے اور وہ پیغمبر بنادیا جائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس براہ راست ایک نوشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے جس میں محمد ﷺ کے اتباع کا حکم دیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 48–56

ف 5: اسلام سے قبل نجات کا مفہوم یہ تھا ۔ کہ لوگ ولیوں اور شہیدوں پر بھروسہ کرکے ہر نوع کے فسق وفجور کا ارتکاب کرتے اور یہ سمجھتے ۔ کہ چونکہ ان لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلقات امادت وعقیدت وابستہ ہیں ۔ اس لئے عذاب اور سزا سے ہمارا بچ جانا یقینی ہے ۔ کچھ لوگ بتوں اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو اس بات کا مجاز قراردیتے کہ وہ اپنے پچاریوں کو یحسوا لیں گے ۔ اس پر اس قبیل کی آیتیں نازل ہوئیں ۔ جن میں شفاعت کی نفی کی گئی ۔ اور بتایا گیا ۔ کہ جب تک ذاتی صلاحیت نہ ہو ۔ کوئی سفارش مفید نہیں ہوسکتی ۔ حل لغات :۔ رھینہ ۔ مصدر سے الیقین ۔ موت ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(49) پھر ان دین حق کے منکروں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اس سراسر نصیحت یعنی قرآن سے اس طرح منہ موڑتے اور منہ پھیرتے اور روگردانی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–51

ف 5۔ اور اس عدم نفع کا عدم شفاعت کے تحقق سے ہوگا یعنی شفاعت ہی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 49–51

(تو انہیں کیا ہے کہ نصیحت سے روگردانی کرنے والے ہیں) یعنی قرآن اور اس کی ہدایات سے منہ پھیرتے ہیں (گویا کہ وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہیں۔ بھاگے ہیں شیر سے) یا شکاری سے ، یا پھندے سے ، یا تیر انداز آدمی سے ، یا مختلف آوازوں سے ، یعنی جس طرح جنگلی گدھے ان چیزوں سے بھاگتے ہیں ، اس طرح وہ قرآن سننے سے بھاگتے ہیں اس واسطے کہ بات سننے والے کان اور نصیحت قبول کرنے والے دل نہیں رکھتے ہیں۔۔۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–55

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ (So what has happened to them that they are turning away from the Reminder... 74:49) The word tadhkirah (Reminder), in this context, refers to the Holy Qur'an, because the word literally signifies a 'reminder or something that reminds'. The Qur'an is unique in reminding Allah's attributes of perfection, His mercy and wrath, and the reward and punishment. Towards the end, the verse 54 has explained that the 'Reminder' is the Holy Qur'an that is rejected by them. The allergy of the infidels against the Holy Qur'an has been mentioned in verses 50 and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–50

36 That is, "Even if an intercessor interceded for a person who persisted in this way of life till death, he would not be forgiven." The question of intercession has been so fully explained at so many places in the Qur'an that no one can have any difficulty in nowing and understanding as to who can intercede and who cannot, when one can intercede and when one cannot, for whom one can intercede and for whom one cannot, and for whom intercession is beneficial and for whom it is not. As one of the major causes of the people's deviation in the world, is their false concept about intercession, it…

Read the full tafseer →