Al-Muddaththir 74:48

Al-Muddaththir · from ayah 48

74:48

فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَ ۟ؕفَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَؕ‏

(تو اس حال میں) سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے حق میں کچھ فائدہ نہ دے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

So there will not benefit them the intercession of [any] intercessors.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:48

اُس وقت سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(تو اس حال میں) سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے حق میں کچھ فائدہ نہ دے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ سفارش کرنے والوں کی سفارش ایسے لوگوں کے کام نہیں آئے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو انہیں سفارشیوں کی سفارش کام نہ دے گی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو (اب) شفاعت کرنے والوں کی شفاعت انہیں کوئی نفع نہیں پہنچائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس انھیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہیں دے گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اس وقت) سفارش کرنے والوں کی سفارش انہیں کچھ فائدہ نہ دے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو ان کو شفاعت کرنیوالوں کی شفاعت کچھ نفع نہ دے گی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تب انکے کچھ بھی کام نہ آسکے گی سفارش کرنے والوں کی کوئی سفارش

— مولانا اسحاق مدنی

سو ان کو سفارش کرنے والوں کی سفارش (کوئی) نفع نہ دے گی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اب ان کے لیے نفع بخش نہیں ہوگی شفاعت کرنے والوں کی کوئی شفاعت۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اس حال میں سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے حق میں کچھ فائدہ نہ دے گی

— محترمہ رفعت اعجاز

The intercession of the intercessors shall then be of no avail to them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then intercession of intercessors will not benefit them.

— Muhammad Taqi Usmani

Then intercession of intercessors will not benefit them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So no intercession of intercessors will be of any use to them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The mediation of no mediators will avail them then.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So there will not benefit them the intercession of [any] intercessors.

— Saheeh International

The intercession of the intercessors will be of no benefit to them.

— Muhammad Sarwar

So the intercession of intercessors shall not avail them.

— Muhammad Habib Shakir

Then there will not Profit them intercision of the interceders,

— Abdul Majid Daryabadi

Then will no intercession of (any) intercessors profit them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 74:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–56

جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہوگا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–50

سورة الْمُدَّثِّر 36 یعنی ایسے لوگ جنہوں نے مرتے دم تک یہ روش اختیار کیے رکھی ہو ان کے حق میں اگر کوئی شفاعت کرنے والا شفاعت کرے بھی تو اسے معافی نہیں مل سکتی۔ شفاعت کے مسئلے کو قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے کہ کسی شخص کو یہ جاننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی کہ شفاعت کون کرسکتا ہے اور کون نہیں کرسکتا، کس حالت میں کی جاسکتی ہے اور کس حالت میں نہیں کی جاسکتی، کس کے لیے کی جاسکتی ہے اور کس کے لیے نہیں کی جاسکتی، اور کس کے حق میں وہ نافع ہے اور کس کے حق میں نافع نہیں ہے۔ دنیا میں چونکہ لوگوں کی گمراہی کے بڑے اسباب میں سے ایک سبب شفاعت کے بارے میں غلط عقائد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ تنفعھم کی ضمیر ان مجرمین کیطرف راجع ہے جن کا ذکر اس سے پہلی آیت میں آیا ہے کہ انہوں نے اپنے چار جرائم کا اعتراف کیا، ایک یہ کہ وہ نماز نہیں پڑھتے تھے دوسرے یہ کہ وہ کسی مسکین غریب کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ مراد یہ ہے کہ غریبوں کی ضروریات پر خرچ نہیں کرتے تھے، تیسرے یہ کہ اہل باطل جو اسلام و ایمان کے خلاف باتیں کرتے یا معاصی و فواحش میں مبتلا ہوتے ہیں یہ بھی انکے ساتھ لگے رہتے تھے ان سے بیزاری کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ چوتھے یہ کہ قیامت کا انکار کرتے تھے۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ ایسے مجرم جو ان سب گناہوں کے مرتکب ہوں جن میں قیامت کی تکذیب بھی داخل ہے جو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مشرکین کی مزعومہ شفاعت کی نفی: یہ ان کے مزعومہ شفعاء اور ان کی مفروضہ شفاعت کی نفی فرمائی ہے کہ نہ وہاں ان کے مزعومہ شفعاء ہوں گے اور نہ ان کی شفاعت۔ یہاں کلام، عربیت کے اسلوب پر ہے جس کو ’نفی الشئ ینفی لازمہٖ‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور جس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کر چکے ہیں۔ امراء القیس نے ایک صحرائی راستہ کی تعریف میں کہا ہے کہ ’لا یُھتدٰی بمنارہٖ‘ اس کے منارہ سے رہنمائی نہیں حاصل کی جاتی۔ اس کا مطلب ظاہر ہے کہ یہی ہو سکتا ہے کہ اس میں منارے ہیں ہی نہیں کہ ان سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ مشرکین کو اپنے جن شفعاء پر ناز تھا ان کے متعلق قرآن نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ’إِنْ ہِیَ إِلَّا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 48–50

48۔ 1 یعنی جو صفات مذکورہ کا حامل ہوگا، اسے کسی کی شفاعت بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی، اس لئے کہ کفر کی وجہ سے محل شفاعت ہی نہیں ہوگا، شفاعت تو صرف ان کے لئے مفید ہوگی جو ایمان کی وجہ سے شفاعت کے قابل ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 45–51

19: اس سے مراد کافروں کے وہ سردار ہیں جو اسلام اور قرآن کا مذاق اڑانے کے لیے محفلیں سجایا کرتے تھے، اور بےہودہ مذاق سے حق کی تردید کیا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جو ہر قسم کی بےہودہ گفتگو اور بےہودہ مشغلوں کو شامل ہیں، جو آخرت میں انسان کے لیے مصیبت کا سبب بنیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

” اس وقت سفارش کرنے والوں کی کوئی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی “۔ اب تو فیصلہ ہوچکا اور بات سچ ہوگئی۔ سب کا فیصلہ ہوگیا ، اور یہ فیصلہ اور یہ انجام مجرمین کا حقیقی انجام تھا۔ اب ان مجرموں کو کسی کی کوئی سفارش فائدہ نہ دے گی اور اگر فرض کرلیا جائے کہ کوئی سفارش ہوگی تو بھی یہ سفارش کام نہ آئے گی۔ اس توہین آمیز اور مابوس کن صورت حالات کی تصویر دکھا کر اب پھر ان لوگوں کو ، متوجہ کیا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ان کے لئے جو مواقع فراہم کردیئے گئے ہیں ، ان کو چاہئے کہ وہ ان مواقع سے فائدہ اٹھائی لیکن وہ اس ہدایت سے منہ موڑ رہے ہیں اور دوسروں کو بھی اس سے روکتے ہیں بلکہ وہ ہدایت اور خیر سے دور بھاگتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 46–51

آیت 51{ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ۔ } ”جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں۔“ یہ لوگ ایک اللہ ‘ قرآن اور آخرت کے ذکر سے ایسے بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شیر کی آہٹ پا کر جان بچانے کے لیے بھاگتے ہیں۔ ایسے مناظر اب ٹیلی ویژن پر عام دکھائے جاتے ہیں کہ افریقہ کے جنگلوں میں زیبروں کے غول کے غول شیر کی آہٹ محسوس کر کے بگٹٹ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 46–49

22 دوزخ میں لے جانے والے چار بڑے گناہ :۔ اہل دوزخ نے اہل جنت کے سوال کے جواب میں چار باتیں بتائیں گے جو انہیں دوزخ میں لے جانے کا باعث بنیں۔ پہلی یہ کہ ہم نماز ادا نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ نماز کی باقاعدگی صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو اللہ پر بھی ایمان رکھتا ہو اور روز آخرت کے محاسبہ پر بھی۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص باقاعدہ نماز ادا کرتا ہے تم اس کے ایماندار ہونے کی گواہی دو ۔ جس کا دوسرا مطلب یہ نکلتا ہے کہ جو شخص نماز ادا نہیں کرتا، نہ اس کا اللہ پر ایمان ہوتا ہے نہ روزآخرت پر، دوسرا جرم وہ یہ بتائیں گے کہ وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلایا کرتے تھے۔ پہلا جرم اللہ کے حق سے متعلق تھا۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

21۔ مراد یہ ہے کہ ایسوں کی شفاعت جب سرے سے ہو ہی گی نہیں تو کارگر کیا ہوتی۔ اے لایقدرون علی شفاعتھم فتنفعھم۔ اے لاشفاعۃ شافعین لھم فتفغھم (بحر) (آیت) ” ما تنفعھم “۔ لفظ نفع، منع عذاب وتخفیف عذاب دونوں کو عام ہے۔ اس کی نفی کے معنی یہ ہوئے کہ یہ نہ عذاب سے ہی بچ سکیں گے اور نہ کوئی رعایت ہی حاصل کرسکیں گے۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ آیت سے مومنین کے حق میں شفاعت کا اثبات نکلتا ہے۔ وفیہ دلیل ثبوت الشفاعۃ لل مومنین (مدارک) وفی ھذہ الایۃ دلالۃ واصحۃ علی ان اللہ تعالیٰ مشفع بعض خلقہ فی بعض (ابن جریر) بلکہ اہل سنت نے تو یہ کہا ہے کہ آیت سے فساق امت تک کی شفاعت کا اثبات ہوتا ہے۔ واحتج اصحابنا علی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–56

ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فما تنفعھم شفاعۃ الشافعین . بالفرض اگر سب سفارشی بھی مل کر ان کی سفارش کریں تو سفارش قبول نہیں کی جائے گی۔ اس جملہ کی وابستگی یا تو کل نفس بما کسبت رھینۃٌ سے ہے یا لم نک من المصلّین سے۔ یہ آیت بطور مفہوم مخالف بتارہی ہے کہ اہل ایما کے لیے خواہ وہ فاسق (مرتکب کبیرہ) ہوں ‘ شفاعت سود مند ہوگی۔ اسحق بن راہویہ نے اپنی مسند میں حضرت ام حبیبہ ؓ یا حضرت ام سلمہ ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ہم عائشہ ؓ کے گھر تھے ‘ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا : جس مسلمان کے تین خورد سال بچے جوانی کو پہنچنے سے پہلے مرجائیں گے ‘ ان کو قیامت کے دن لا کر جنت کے دروازہ پر کھڑا کیا جائے گا اور جنت کے اندر داخل ہونے کا حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 40–48

(40۔ 48) دوزخیوں کا حال پوچھتے ہوں گے کہ تمہیں دوزخ میں کس بات نے داخل کیا۔ دوزخی جواب میں کہتے ہوں گے کہ ہم نہ تو مسلمانوں کی طرح پانچوں نمازیں پڑھا کرتے تھے اور نہ ہم مساکین کو صدقہ دینے کی ترغیب دیا کرتے تھے یا یہ کہ ہم زکوٰۃ اور صدقہ کچھ بھی نہیں دیا کرتے تھے۔ اور جھوٹوں کے ساتھ رہا کرتے تھے اور قیامت کے ہونے کا انکار کیا کرتے تھے یہاں تک کہ ہمیں موت آئے گی تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے فرمائے گا کہ تمہیں انبیاء کرام ملائکہ اور مسلمانوں کی سفارش نفع نہ دے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فما تنفعھم شفاعۃ الشفعین : کیونکہ کفار کے حق میں سفارش کی اجازت ہی نہیں ہوگی، اگر کوئی کرے گا بھی تو کافر کے حق میں قبول نہیں ہوگی، جیسا کہ ابراہیم ؑ اپنے والد کے حق میں سفارش کریں گے تو قبول نہیں ہوگی۔ یاد رہے کہ کفار کو سفارشیوں کی سفارش کا فائدہ نہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سفارش سے جہنم سے نہیں نکل سکیں گے، البتہ تخفیف عذاب کا فائدہ ہوسکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے ابو طالب کے عذاب میں تخفیف ہوگی۔ (2) اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ مومن موحد ہیں مگر اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے انہیں سفارش فائدہ دے گی۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے انبیاء شہداء اور صلحاء ان کی سفارش کریں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فماتنفعھم شفاعۃ الشافعین۔ یہ گناہ گاروں کے حق میں شفاعت کے صحیح ہونے کی دلیل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل توحید میں سے کچھ لوگوں کو گناہوں کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا پھر ان کی شفاعت کی جائے گی اللہ تعالیٰ ان کے موحد ہونے اور شفاعت کی وجہ سے ان پر رحم فرمائے گا اور انہیں جہنم سے نکال دے گا۔ کفار کو کوئی شفیع نہیں ہوگا، جوان کے بارے میں شفاعت کرے، حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا، تمہارے نبی چار میں سے چوتھے نمبر پر شفاعت کریں گے۔ حضرت جبرائیل امین پھر حضرت ابراہیم پھر حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) پھر تمہارے نبی ﷺ پھر ملائکہ، پھر انبیاء، پھر صدیق پھر شہدائ، ایک قوم جہنم میں رہ جائے گی تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

11۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فما تنفعہم شفاعۃ الشفعین یعنی ان کو کسی سفارش کرنے والے کی کوئی سفارش نفع نہیں دے گی۔ 12۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری سفارش سے ضرور نکلتے رہیں گے۔ ایمان والے دوزخ میں سے یہاں تک کہ اس میں کوئی باقی نہ رہے گا۔ سوائے ان کے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ آیت ما سلککم فی سقر سے لے کر آیت شفاعۃ الشفعین تک ہر مومن کے حق میں شفاعت ہوگی 13۔ ابن مردویہ نے عبدالرحمن بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ کعب ؓ ایک دن عمر بن خطاب ؓ کے پاس آئے۔ عمر ؓ نے ان سے فرمایا مجھ سے بیان کیجیے کہ جہاں محمد ﷺ کی سفارش قیامت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَمَا تَنْفَعُهُمْ : تو نفع نہیں دے گی ان کو ] [شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ : شفاعت کرنے والوں کی شفاعت ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 48–49

﴿فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَؕ0048﴾ (سو ان لوگوں کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت نفع نہ دے گی) کافر کے لیے کوئی شفاعت کرنے والا نہ ہوگا جو اسے دوزخ سے نکلوا دے سورة ٴ مومن میں فرمایا : ﴿مَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ حَمِيْمٍ وَّ لَا شَفِيْعٍ يُّطَاعُؕ0018﴾ (ظالموں کے لیے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا ہوگا جس کی بات مانی جائے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–56

تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

17:۔ ” فما تنفعہم “ یعنی اگر بالفرض سفارشی ان کی سفارش کریں گے بھی تو ان کو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا اور ان کے حق میں کوئی سفارش قبول نہ ہوگی۔ یہ علی سبیل الفرض ہے کیونکہ ان کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کی اجازت ہی نہیں ملے گی۔ لو شفعوا لہم جمیعا فالکلام علی الفرض (روح) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَمَا تَنْفَعُہُمْ شَفَاعَۃُ الشّٰفِعِيْنَ۝ 48 ۭ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–56

ترکیب : معرضین حال من الضمیر فی متعلق الجارو المجرور ‘ فما مبتدء لھم خبرہ کانھم الجملۃ حال من الضمیر فی معرضین علی التداخل مستنفرۃ قراء الجمہور بالکسر یقال نفرواوا ستنفروامثل سخرواستسخرو عجب واستعجب و قریٔ بالفتح قال ابوعلی الفارسی الکسرۃ اولی۔ فرت الخ حال بتقدیر قد والقسورۃ عندالاکثرالاسد فعولۃ من القسرو ھوا لقہرو الغلبۃ سمی بذلک لانہ یقہرا بساع وقیل جماعۃ الرماۃ قال الازہری اسم جمع للرماۃ لاواحدلہ من جنسہ و قیل ذکر الناس واصواتھم وقیل ظلمۃ اللیل بل یرید عطف علی مقدر یقتضیہ المقام کانہ قیل لایکتفون بتلک التذکرۃ بل یرید الخ کلابل لایخافون اضراب انتقالی لبیان ھذا التنعۃ وقیل کلابمعنی حقاً…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 42–48

مَاسَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ ۔ قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ ۔ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ ۔ وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَ ۔ وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ ۔ حَتّٰیٓ اَتٰـنَا الْیَقِیْنُ ۔ فَمَا تَنْفَعُھُمْ شَفَاعَۃُ الشّٰفِعِیْنَ ۔ (المدثر : 42 تا 48) (سوال کریں گے) تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی۔ وہ جواب دیں گے، ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ اور نہ غریبوں کو کھلاتے ہی تھے۔ اور کٹ حجتیاں کرتے تھے، کٹ حجتیاں کرنے والے کے ساتھ۔ اور ہم جزاء و سزا کے دن کو جھٹلاتے تھے۔ حتیٰ کہ آپہنچی ہم پر وہ یقینی بات۔ تو ان کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کچھ نفع نہ دے گی۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 39–48

فہم القرآن ربط کلام : ہر انسان اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے اسی بنیاد پر ہی نجات پائے گا یا پکڑا جائے گا۔ اپنے اعمال کی وجہ سے پکڑے جانے والے لوگوں سے جنتی مستثنیٰ ہوں گے انہیں نیک اعمال کے بدلے جنت میں داخلہ دیا جائے گا وہ جنت میں تشریف فرما ہونے کے باوجود گاہے گاہے جہنمیوں سے بات چیت کرسکیں گے تاکہ جہنمیوں کو یہ احساس ہو کہ دنیا میں ہمارے ساتھ رہنے والے لوگ جنہیں ہم حقیر سمجھتے تھے وہ آج جنت میں عیش و عشرت کے ساتھ رہ رہے ہیں اور ہم ان کے مقابلے میں اذّیت ناک سزائیں پا رہے ہیں۔ جب جنتی ان سے سوال کریں گے کہ تمہیں کون سی چیز جہنم میں لے آئی ہے تو وہ اقرار کریں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شافعین سے مراد : 48 : فَمَا تَنْفَعُھُمْ شَفَاعَۃُ الشَّا فِعِیْنَ (پس ان کو سفارش نفع نہ دے گی) الشافعین سے فرشتے ‘ انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین مراد ہیں کیونکہ سفارش تو ایمان والوں کیلئے ہے نہ کہ کفار کیلئے۔ اس میں شفاعت کا ثبوت ملتا ہے کہ وہ مؤمنین کیلئے برحق ہے حدیث شریف میں وارد ہے میری امت میں ربیعہ اور مضر کی تعداد سے بڑھ کر لوگ میری شفاعت سے جنت میں داخل ہونگے۔ ] رواہ احمد : 4/212[

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–56

38۔ 56۔ جس طرح گروی رکھوانے والا شخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھوڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھوڑانے کے لئے اپنے اپنے عمل کے پابند کئے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک و بد عمل کا حساب لکھنے کے لئے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اور اس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیا جاتا ہے اس کاغذ کو اعمال نہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جن کا حساب آسانی سے ہو کر جلدی سے ان کی نجات ہونے والی ہے۔ چناچہ اذا السماء انشقت میں آئے گا۔ فما من اوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ ) پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہوگا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ راضی نہیں جب اللہ نے مخالفین کا انجام واضح کردیا اور یہ بھی بیان کردیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجودہ کفار پر عتاب اور ملاملت کی طرف توجہ دی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 47–48

38 موت ایک اٹل اور قطعی حقیقت : اور ایسی اٹل اور قطعی حقیقت کہ اس کا انکار اور اس سے مفر کسی کیلئے بھی ممکن نہیں خواہ وہ مومن ہو یا کافر، نیک ہو یا بد، کہ اس کا مزہ ہر کسی نے بہرحال چکھنا ہے، چناچہ دوزخی لوگ اس موقع پر اپنے اعتراف و اقرار جرم کے سلسلے میں مزید کہیں گے کہ ہم ایسے ہی رہے یہاں تک کہ آپہنچی ہم کو موت۔ جو ایک ایسی اٹل حقیقت ہے کہ اس سے کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا، بڑے سے بڑے اور کٹے سے کٹے کافر کو بھی اسے مانے بغیر چارئہ کار نہیں، نیز موت کے آنے کے بعد چونکہ مابعد الموت کے تمام حقائق انسان کے سامنے ایسے روشن ہوجاتے ہیں کہ منکر سے منکر انسان بھی ان کو ماننے اور تسلیم کرنے پر مجبور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 39–56

اللہ کے مقبول بندوں کی پر سکون زندگیاں اور دوزخیوں کا اقرار جرم تشریح : یہاں داہنی طرف والے نیک لوگ۔ اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے۔ جو میدان حشر میں ہونے والی ہے اور جو ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جو اس بات کی ضمانت ہے کہ اس عقیدہ پر ایمان رکھنے والے ہر برا کام کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اس برے کام کا انجام عذاب کی صورت میں ضرور ملے گا۔ تو یہی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ مرنے کے بعد ہم ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ اعمال نامے ملنے کی صورت یہ ہوگی کہ کچھ کو دائیں طرف سے کچھ کو بائیں طرف سے پیچھے سے اعمال نامے دئیے جائـیں گے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو داہنی طرف سے اعمال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–56

آیات 32 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 کیونکہ وہ کفر کی حالت میں مرے اور کافروں کی آخرت میں کوئی سفارش نہیں کریگا اور نہ سفارش کی اجازت ہوگی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:48) فما ینفعہمسببیہ ہے۔ ما تنفع مضارع منفی واحد مؤنث غائب نفع (باب فتح) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ پس (مدیں سبب) ان کو نفع نہ دیگی۔ شفاعۃ الشفعین مضاف مضاف الیہ۔ سفارش کرنا۔ شافعین شعاعۃ سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ سفارش کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–56

لغات القرآن۔ ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔ تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–51

(ف 1) جس طرح گروی رکھوانے والاشخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھڑانے کے لیے اپنے اپنے عمل کے پابند کیے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک وبد کا حساب لکھنے کے لیے ہر شخص کے ساتھ دوفرشتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اورس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیاجاتا ہے۔ اس کاغذ کو اعمال نامہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تودائیں ہاتھ میں دیاجائے جن کے حساب آسانی سے ہوکر جلدی سے ان کو نجات ہونے والی ہے اور جن لوگوں کے حساب میں جانچ منظور ہے ان سب کے اعمال نامہ بائیں ہاتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–52

[18] یعنی پیغمبر کی بات ماننا نہیں چاہتے بلکہ ان میں سے ہر شخص کی آرزو یہ ہے کہ خود اس پر اللہ تعالیٰ صحیفے نازل کرے اور وہ پیغمبر بنادیا جائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس براہ راست ایک نوشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے جس میں محمد ﷺ کے اتباع کا حکم دیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 48–56

ف 5: اسلام سے قبل نجات کا مفہوم یہ تھا ۔ کہ لوگ ولیوں اور شہیدوں پر بھروسہ کرکے ہر نوع کے فسق وفجور کا ارتکاب کرتے اور یہ سمجھتے ۔ کہ چونکہ ان لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلقات امادت وعقیدت وابستہ ہیں ۔ اس لئے عذاب اور سزا سے ہمارا بچ جانا یقینی ہے ۔ کچھ لوگ بتوں اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو اس بات کا مجاز قراردیتے کہ وہ اپنے پچاریوں کو یحسوا لیں گے ۔ اس پر اس قبیل کی آیتیں نازل ہوئیں ۔ جن میں شفاعت کی نفی کی گئی ۔ اور بتایا گیا ۔ کہ جب تک ذاتی صلاحیت نہ ہو ۔ کوئی سفارش مفید نہیں ہوسکتی ۔ حل لغات :۔ رھینہ ۔ مصدر سے الیقین ۔ موت ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(48) لہٰذا ایسے لوگوں کو سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر کے حق میں کوئی سفارش نہ کرے گا اور کرے گا تو قبول نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–51

ف 5۔ اور اس عدم نفع کا عدم شفاعت کے تحقق سے ہوگا یعنی شفاعت ہی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 45–48

(اور بےہودہ بحثیں کرتے تھے بےہودہ گویوں کے ساتھ ساتھ) یعنی محمد عربی ، کی شان میں ہم بحث کرتے تھے اور ان کی غیبت میں مشغول ہوتے تھے۔ (اور ہم جھٹلایا کرتے تھے روز جزا کو) اور اسے ہم باور نہ کرتے تھے (یہاں تک کہ آگئی ہمیں موت) اور موت سے پہلے جو حالتیں تھیں جن میں سے بعض اوپر مذکور ہوئیں اسی حال میں ہم مرگئے توبہ کی توفیق نہ مل سکی اور ہم ایمان نہ لاسکے۔ (اب) اگر بفرض محال کوئی ان کی شفارش بھی کرے تو (نہ فائدہ دے گی انہیں شفاعت کرنے والوں کی شفاعت) شفاعت کے باب میں بنیادی بات یہ ہے کہ شفاعت وہی کرے گا جس کو رب کریم شفاعت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائے گا۔ اور وہ اسی کے لیے شفاعت کرے گا جس کی شفاعت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ (Then intercession of intercessors will not avail them...74:48) The attached pronoun of tanfa'uhum refers to those sinners who have been mentioned in the preceding verses. They confessed to four crimes: [ 1] they did not perform obligatory prayers; [ 2] they did not feed the poor, that is, they did not spend on the necessities of the poor; [ 3] they indulged (in mocking at the truth) along with those who indulged in opposing Islam or committing sins and shameful deeds; and [ 4] they denied the Day of Requital. This verse purports to say that whoever…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–50

36 That is, "Even if an intercessor interceded for a person who persisted in this way of life till death, he would not be forgiven." The question of intercession has been so fully explained at so many places in the Qur'an that no one can have any difficulty in nowing and understanding as to who can intercede and who cannot, when one can intercede and when one cannot, for whom one can intercede and for whom one cannot, and for whom intercession is beneficial and for whom it is not. As one of the major causes of the people's deviation in the world, is their false concept about intercession, it…

Read the full tafseer →