مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ ۟مَا سَلَـكَكُمۡ فِىۡ سَقَرَ
کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے؟
— Fateh Muhammad Jalandhari
[And asking them], "What put you into Saqar?"
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz
مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ ۟مَا سَلَـكَكُمۡ فِىۡ سَقَرَ
کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے؟
— Fateh Muhammad Jalandhari
[And asking them], "What put you into Saqar?"
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir
"تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی؟"
کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے؟
تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈاﻻ
کہ : تمہیں کس چیز نے دوزخ میں داخل کردیا ؟
تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی،
(اور کہیں گے:) تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی،
تمہیں کس چیز نے سقر میں داخل کردیا ؟
تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی ؟
تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی ؟
کہ کس چیز نے داخل کردیا تم کو دوزخ (کی اس دہکتی آگ) میں ؟
کہ تمہیں کون سی چیز دوزخ میں لائی ؟
تم لوگوں کو کس چیز نے جہنم میں ڈالا ؟
کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے ہو ؟
“What drove you to Hell?”
:What has brought you to Saqar? (Hell)
:What has brought you to Saqar? (Hell)
"What has caused you to enter Hell"
What hath brought you to this burning?
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
[And asking them], "What put you into Saqar?"
"what led you into hell?"
What has brought you into hell?
What led you into the Scorching Fire?
"What led you into Hell Fire?"
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 38–56
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہوگا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
سورة الْمُدَّثِّر 32 اس سے پہلے کئی مقامات پر قرآن مجید میں یہ بات گزر چکی ہے کہ اہل جنت اور اہل دوزخ ایک دوسرے سے ہزاروں لاکھوں میل دور ہونے کے باوجود جب چاہیں گے ایک دوسرے کو کسی آلے کی مدد کے بغیر دیکھ سکیں گے اور ایک دوسرے سے براہ راست گفتگو کرسکیں گے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، آیات 44 تا 50، حاشیہ 35۔ جلد چہارم، الصافات، آیات 50 تا 57، حاشیہ 32۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–47
ۭكُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ 38ۙاِلَّآ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ رھنتہ بمعنی مرہونہ ہے اور مراد اس سے اس کا محبوس ومقید ہونا ہے جس طرح کوئی شخص قرص کے بدلے میں کوئی چیز رہن رکھدے تو وہ چیز قرض خواہ کے قبضہ میں محبوس رہتی ہے، مالک اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اسی طرح قیامت کے روز ہر ایک نفس اپنے گناہوں کے بدلے میں محبوس اور مقید رہیگا مگر اصحاب الیمین اس حبس اور قید سے مستثنی ہوں گے۔ یہاں حبس سے مراد جہنم میں محبوس ہونا بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر مذکور میں لیا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ ہر شخص اپنے اپنے گناہوں کی سزا بھگنتے کے لئے جہنم میں محبوس رہے گا مگر اصحاب الیمین اس…
Read the full tafseer →یعنی اہل جنت آپس میں مجرموں سے متعلق سوال و جواب کرتے کرتے اہل دوزخ کو مخاطب کر کے ان سے بھی پوچھ لیں گے کہ بتاؤ تمہیں دوزخ میں کیا چیز لے گئی!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
40۔ 1 اہل جنت بالاخانوں میں بیٹھے، جہنمیوں سے سوال کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
18: اس سے مراد وہ نیک لوگ ہیں جن کا اعمال نامہ انہیں ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →ماسلککم فی سقر (74:42) ” تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی ؟ “ اور اس صورت حال کا اہل ایمان کے دل پر گہرا اثر ہوتا ہے ، جو ان مجرمین کے ہاتھوں اس جہاں میں سخت اذیتیں جھیل رہے تھے۔ آج وہ عالم آخرت میں اپنے آپ کو نہایت ہی اعلیٰ مقام میں پاتے ہیں ، جبکہ ان کو دق کرنے والے اس توہین آمیز پوزیشن میں ہیں ، یہ منظر اس قدر دلکش اور پرتاثیر ہے کہ فریقین اپنے آپ کو قیامت کے دن حاضر وموجود پاتے ہیں۔ گویا اس دنیا کا صفحہ لپیٹ لیا گیا ہے اور ہم قیامت کے میدان میں حاضر وموجود ہیں۔ اور اب ذرا اس طویل اعتراف جرم کو پڑھیں جو ان مکذبین اور متکبرین نے اللہ اور مومنین کی موجودگی میں کیا اور نہایت ہی ذلت اور خواری کے…
Read the full tafseer →9 یعنی جب سنیں گے کہ گنہگاروں کو دوزخ میں داخل کیا گیا ہے، تب ان گنہگاروں کی طرف متوجہ ہو کر یہ سوال کریں گے کہ باوجود عقل و دانائی کے تم اس دوزخ کی آگ میں کیسے آپڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
آیت 45{ وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَ۔ } ”اور ہم کٹ حجتیاں کرنے والوں کے ساتھ مل کر کٹ حجتیاں کیا کرتے تھے۔“ ہم تو دنیا میں بس کھیل تماشوں میں ہی لگے رہے۔ حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے۔ ہم نے اپنی زندگی کے مقصد اور انجام کے بارے میں تو کبھی سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
21 جنت اور دوزخ میں طویل مسافت کے باوجود جب اہل جنت اہل دوزخ میں سے اپنے کسی دنیا کے ساتھی کو دیکھنا چاہیں گے یا اس سے کلام کرنا چاہیں گے تو کرسکیں گے۔ کیونکہ اس دنیا میں لوگوں کو جو قوتیں سمع و بصر وغیرہ عطا کی جائیں گی۔ وہ اس دنیا میں عطا کردہ قوتوں سے بدرجہا زیادہ ہوں گی۔ مثلاً اس دنیا میں کوئی انسان اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتا لیکن آخرت میں مومن لوگ بلاتکلف اللہ تعالیٰ کا دیدار کرسکیں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم اس دنیا میں چاند کی طرف دیکھ سکتے ہیں اور ہمیں سرور بھی حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح اہل جنت جب چاہیں گے۔ جہنم میں اپنے دنیا کے ساتھیوں کی طرف جھانک بھی سکیں گے اور ان سے بلاتکلف گفتگو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
20۔ (اور ہم انہیں غفلتوں اور سرشاریوں میں پڑے رہ گئے) (آیت) ” نخوض مع الخآئضین “۔ خوض سے مطلق مشغلہ نہیں بلہ ایسا مشغلہ مراد ہے جو دین اور واجبات دین سے غافل کردے۔ الخوض الشروع فی الباطل ومالا ینبغی (کشاف) والمراد منہ الاباطیل (کبیر) کافروں کی تقریر کا حاصل یہ ہوگا کہ ہم نے نہ حق اللہ ہی ادا کئے نہ حقوق العباد، اور ادائے حقوق تو کیا کرتے سرے سے روز حشر کی آمد ہی سے انکار کرتے رہے۔ اور ابطال دین کو ایک مشغلہ سا بنا کر اسی میں لگے رہے۔ تو بہ وانابت کی توفیق کبھی نہ ہوئی اور موت ہی اس حالت میں آگئی۔ (آیت) ” حتی اتنا الیقین “۔ یقین کے معنی یہاں عام طور پر موت ہی کے لئے گئے ہیں۔ وقال المفسرون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…
Read the full tafseer →ما سلکم فی سقر . یہ سوال اور اس کا آئندہ جواب اس واقعہ کا بیان ہے جو سائل ‘ مسؤل اور مجرموں کے درمیان ہوگا۔ مسؤل مجرموں سے کیا پوچھیں گے ‘ مجرم کیا جواب دیں گے اور سوال کرنے والے دوسروں سے کیا دریافت کریں گے ‘ کس کی حالت دریافت کریں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کلام میں اختصار ہو۔ اصل کلام اس طرح تھا کہ اہل جنت کچھ لوگوں سے مجرموں کی حالت پوچھیں گے اور وہ مجرموں سے سوال کریں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عن المجرمین میں عن زائد ہے۔ اس وقت یہ مطلب ہوگا کہ اہل جنت مجرموں سے دریافت کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–48
(40۔ 48) دوزخیوں کا حال پوچھتے ہوں گے کہ تمہیں دوزخ میں کس بات نے داخل کیا۔ دوزخی جواب میں کہتے ہوں گے کہ ہم نہ تو مسلمانوں کی طرح پانچوں نمازیں پڑھا کرتے تھے اور نہ ہم مساکین کو صدقہ دینے کی ترغیب دیا کرتے تھے یا یہ کہ ہم زکوٰۃ اور صدقہ کچھ بھی نہیں دیا کرتے تھے۔ اور جھوٹوں کے ساتھ رہا کرتے تھے اور قیامت کے ہونے کا انکار کیا کرتے تھے یہاں تک کہ ہمیں موت آئے گی تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے فرمائے گا کہ تمہیں انبیاء کرام ملائکہ اور مسلمانوں کی سفارش نفع نہ دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
(1) فی جنت یتسآء لون : یعنی اصحاب الیمین جنتوں میں ایک دوسرے سے مجرموں کے بارے میں سوال کریں گے کہ فلاں مجرم کا کیا بنا اور فلاں کدھر گیا ؟ ذرا جہنم ہی میں انہیں تلاش کریں، پھر جہنم میں جھانک کر دیکھیں گے اور وہ انہیں وہاں نظر آئیں گے تو ان سے کہیں گے :(ماسلکم فی سقر)”تمہیں جہن م میں کس چیز نے داخل کیا ؟“ آیات کی یہ تفسیر ”یتسآء لون“ (تفاعل) اور ”عن“ کے اس ترجمے کے مطابق ہے جو اکثر ساتعمال ہوا ہے۔”فاسلکم علی بعض یتسآء لون ، قال قآئل منھم انی کا ن لی قرین ، یقول ائنک لمن المصدقین ، اذا مثنا وکنا تربااً و عظاماً ، انا لمدینون، قال ھل انتم مظلعون ، فاظلع فراہ فی سوآء الجحیم، قال تاللہ ان کدت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
فی جنت یتساء لون، عن المجرمین۔ ماسلکم فی سقر۔ جنت سے مراد باغات ہیں، یتساء لون، یسالون کے معنی میں ہے، یعنی جنتی مشرکوں سے سوال کریں گے کس چیز نے تمہیں جہنم میں داخل کیا ہے ؟ جس طرح تو کہتا سلکت الخیط فی کذا، یعنی میں نے اس میں دھاگا داخل کردیا، کلبی نے کہا، جنتی جہنمی سے اس کا نام لے کر سوال کرے گا وہ اسے کہے گا، اے فلان، حضرت عبداللہ بن زبیر کی قرات میں ہے اے فلاں تجھے کس چیز نے جہنم میں داخل کیا ؟ کلبی سے یہ بھی منقول ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے یوں قرات کی، یا فلان ماسلکم فی سقر۔ یہ قرات آیت کی تفسیر بیان کرنے کے طریقہ پر ہے۔ یہ قرآن حکیم کا حصہ نہیں جس طرح وہ لوگ گمان کرتے ہیں جو قرآن حکیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
8۔ ابو عبید فی فضائلہ وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ما سلککم فی سقر اے کافرو ! کونسی چیز تم کو یہاں لے آئی۔
Read the full tafseer →[مَا سَلَكَكُمْ فِيْ سَقَرَ : (پھر مجرموں سے پوچھیں گے) کس چیز نے ڈالا تم کو دوزخ میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
﴿فِيْ جَنّٰتٍ ﴾ (حضرات اصحاب الیمین بہشتوں میں ہوں گے) ﴿ يَتَسَآءَلُوْنَ۠ۙ0040 عَنِ الْمُجْرِمِيْنَۙ0041﴾ یعنی کافروں کے بارے میں سوال کر رہے ہوں گے اور یہ سوال خود مجرمین سے ہوگا۔ ﴿ مَا سَلَكَكُمْ فِيْ سَقَرَ 0042﴾ (تمہیں کس چیز نے دوزخ میں داخل کیا) ﴿ قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّيْنَۙ0043 وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِيْنَۙ0044﴾ مجرمین جواب دیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے اور ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ ﴿ وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآىِٕضِيْنَ۠ۙ0045 ﴾ (اور مشغلہ رکھنے والوں کے ساتھ مشغلہ رکھتے تھے) لفظ خوض کا معنی ہے کسی چیز میں گھسے چلے جانا مطلب یہ ہے کہ اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
15:۔ ” کل نفس “۔ رھینۃ مصدر ہے رھن کا۔ یہ فعیل بمعنی مفعول نہیں کیونکہ اس کا استعمال مذکر، مونث میں یکساں ہے۔ قیامت کے دن ہر نفس کفر و طغیان کی وجہ سے دوزخ میں رہن اور محبوس ہوگا مگر اصحاب الیمین یعنی وہ لوگ جن کو اعمالنامے دائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے کیونکہ وہ تو جنت میں ہوں گے اور ان کو وہاں ہر قسم کی راحت اور ہر نوع تعیش و تنعم حاصل ہوگی۔ یتساءلون، وہ مشرکین کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہوں گے اور مجرموں سے پوچھیں گے کہ کیا چیز تمہیں دوزخ میں لے آئی ہے اور تمہارے وہ کون سے اعمال ہیں جو تمہارے دوزخ میں آنے کا باعث ہوئے۔
Read the full tafseer →مَا سَلَكَكُمْ فِيْ سَقَرَ 42 ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
ترکیب : کلار وع لقول الکفا ا نانقدر علی مقاومۃ خزنۃ النار والقمر الواوللقسم انھا الخ ھذا الکلام جواب القسم والضمیر الی سقر واتعلیل لکلاو القسم معترض للتاکید الکبر فی الکشاف انہ جمع الکبریٰ جعلت الف التانیث کتاء التانیث فکما جمعت فعلۃ علی فعل جمعت فعلی علیھا نذیرا بالنصب حال من الضمیر فی انھا قالہ الزجاج وقال الکسائی انہ حال من قولہ قم حال کو نک نذیراللبشر وقال الفراء مصدر بمعنی الانذار منصوب بفعل مقدروقیل تمیز لاحدی لتضمنھا معنی التعظیم وقیل مفعول لہ ای لاجل انذار البشر وقری بالرقع علی انہ خبرہ بعد خبراوبحذف المبتداء لمن شاء بدل من قولہ للبشر والتقدیر انھا نذیر لمن شاء منکم ان یتقدم اویتاخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–48
مَاسَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ ۔ قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ ۔ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ ۔ وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَ ۔ وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ ۔ حَتّٰیٓ اَتٰـنَا الْیَقِیْنُ ۔ فَمَا تَنْفَعُھُمْ شَفَاعَۃُ الشّٰفِعِیْنَ ۔ (المدثر : 42 تا 48) (سوال کریں گے) تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی۔ وہ جواب دیں گے، ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ اور نہ غریبوں کو کھلاتے ہی تھے۔ اور کٹ حجتیاں کرتے تھے، کٹ حجتیاں کرنے والے کے ساتھ۔ اور ہم جزاء و سزا کے دن کو جھٹلاتے تھے۔ حتیٰ کہ آپہنچی ہم پر وہ یقینی بات۔ تو ان کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کچھ نفع نہ دے گی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
فہم القرآن ربط کلام : ہر انسان اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے اسی بنیاد پر ہی نجات پائے گا یا پکڑا جائے گا۔ اپنے اعمال کی وجہ سے پکڑے جانے والے لوگوں سے جنتی مستثنیٰ ہوں گے انہیں نیک اعمال کے بدلے جنت میں داخلہ دیا جائے گا وہ جنت میں تشریف فرما ہونے کے باوجود گاہے گاہے جہنمیوں سے بات چیت کرسکیں گے تاکہ جہنمیوں کو یہ احساس ہو کہ دنیا میں ہمارے ساتھ رہنے والے لوگ جنہیں ہم حقیر سمجھتے تھے وہ آج جنت میں عیش و عشرت کے ساتھ رہ رہے ہیں اور ہم ان کے مقابلے میں اذّیت ناک سزائیں پا رہے ہیں۔ جب جنتی ان سے سوال کریں گے کہ تمہیں کون سی چیز جہنم میں لے آئی ہے تو وہ اقرار کریں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں…
Read the full tafseer →42 : مَاسَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ (کہ تم کو دوزخ میں کس بات نے داخل کیا ) سوال : یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا ماسلککم۔ یہ یتساء لون عن المجرمین کے مطابق نہیں کیونکہ یہ تو خود مجرمین سے سوال ہے اس کے مطابق تو اس طرح ہوتا : یتساء لون المجرمین ماسلککم ؟ جواب۔ کیونکہ ماسلککم۔ ان کے متعلق باہمی تساؤل کا بیان نہیں ہے۔ بلکہ یہ مسئولین کے قول کو حکایۃً ذکر کیا گیا ہے کیونکہ مسؤلین، سوال کرنے والوں کو وہ ذکر کریں گے جو ان کے اور مجرمین کے درمیان پیش آیا پس وہ کہیں گے کہ ہم نے ان سے سوال کیا کہ ماسلککم فی سقر ؟ کہ تم کو دوزخ میں کیا چیز لائی تو جواب میں انہوں نے کہا لم نک من المصلین ہم تو نماز نہ پڑھتے…
Read the full tafseer →۔ 41 ۔ عن المجرمین “ مشرکین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–56
38۔ 56۔ جس طرح گروی رکھوانے والا شخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھوڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھوڑانے کے لئے اپنے اپنے عمل کے پابند کئے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک و بد عمل کا حساب لکھنے کے لئے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اور اس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیا جاتا ہے اس کاغذ کو اعمال نہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جن کا حساب آسانی سے ہو کر جلدی سے ان کی نجات ہونے والی ہے۔ چناچہ اذا السماء انشقت میں آئے گا۔ فما من اوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کیا تم انہیں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انہیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے انہیں عذاب دیا جا رہا ہوگا تو وہ ان سے کہیں گے (مَا سَلَكَكُمْ فِيْ سَقَرَ ) یعنی کس چیز نے تمہیں جہنم میں ڈالا۔ اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو ؟ (قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّيْنَ ۔ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِيْنَ ) کہیں گے ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے، یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →34 دخول دوزخ کے اسباب سے متعلق سوال : سو اہل جنت دوزخیوں سے دخول دوزخ کے سبب کے بارے میں پوچھتے ہوئے ان سے کہیں گے کہ کس چیز نے داخل کردیا تم لوگوں کو دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ میں ؟ اور یہ سوال ان کی تذلیل و تحقیر کیلئے ہوگا ورنہ اہل جنت کو تو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ یہ لوگ دوزخ میں کیوں گئے۔ سو اس طرح سوال و جواب سے جہاں اہل دوزخ کی تحقیر و تذلیل ہوگی وہیں اس سے اہل جنت کیلئے خوشی و مسرت کا خاص سامان ہوگا کہ جنت اور دوزخ کے ان دونوں انجاموں کو سامنے دیکھ کر اہل جنت سراپا شکر وسپاس بن جائیں گے اور پکار اٹھیں گے کہ اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں دوزخ کے اس ہولناک انجام سے بچا کر جنت کی ان ابدی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
اللہ کے مقبول بندوں کی پر سکون زندگیاں اور دوزخیوں کا اقرار جرم تشریح : یہاں داہنی طرف والے نیک لوگ۔ اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے۔ جو میدان حشر میں ہونے والی ہے اور جو ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جو اس بات کی ضمانت ہے کہ اس عقیدہ پر ایمان رکھنے والے ہر برا کام کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اس برے کام کا انجام عذاب کی صورت میں ضرور ملے گا۔ تو یہی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ مرنے کے بعد ہم ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ اعمال نامے ملنے کی صورت یہ ہوگی کہ کچھ کو دائیں طرف سے کچھ کو بائیں طرف سے پیچھے سے اعمال نامے دئیے جائـیں گے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو داہنی طرف سے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
آیات 32 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ف 1 یعنی نہ خدا کا حق ادا رتے تھے اور نہ بندوں کا
Read the full tafseer →(74:42) ما سلککم فی سقر : یہ سوال ہے اصحاب الیمین کا مجرمین سے۔ ما استفہامیہ ہے۔ سلک ماضی واحد مذکر غائب ۔ سلک مصدر (باب نصر) سے جس کے معنی چلانے اور داخل کرنے کے ہیں۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ کس نے تم کو دوزخ میں داخل کیا۔ یا کون تم کو دوزخ میں لایا۔ سقر : جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ دوزخ کا ایک نام ہے بوجہ علمیت و تانیث غیر منصرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
لغات القرآن۔ ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔ تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–51
(ف 1) جس طرح گروی رکھوانے والاشخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھڑانے کے لیے اپنے اپنے عمل کے پابند کیے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک وبد کا حساب لکھنے کے لیے ہر شخص کے ساتھ دوفرشتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اورس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیاجاتا ہے۔ اس کاغذ کو اعمال نامہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تودائیں ہاتھ میں دیاجائے جن کے حساب آسانی سے ہوکر جلدی سے ان کو نجات ہونے والی ہے اور جن لوگوں کے حساب میں جانچ منظور ہے ان سب کے اعمال نامہ بائیں ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
[17] یقینی چیز سے مراد موت بھی ہے اور آخرت بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ف 2: یعنی اسلامی نقطہ نگاہ سے ہر شخص اپنے اعمال کی پاداش میں بطلق ہے ۔ اب اگر اعمال نیک اور صالح میں تو بنکاک کی سورت میں روح انسانی جنت کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوگی اور اگر برے اور بد ہیں ۔ تو یہ اعمال اس کو جہنم میں پھینکوا دینگے ۔ مگر اسلام ہر شخص سے براہ راست عمل خیر کا متوقع ہے ۔ اور اس چیز کو ظالمانہ اور نامنصفانہ قرار دیتا ہے ۔ کہ آپ کو دوسروں کے اعمال کے بدلہ میں گرفتار کیا جائے ۔ یا دوسروں کے تقویٰ اور زہد کی وجہ سے آپ کی رہائی ہوجائے ۔ اور آپ کو بخش دیا جائے ۔
Read the full tafseer →(42) تم کو دوزخ میں کس بات نے داخل کیا اور تم کا ہے سے دوزخ میں جاپڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
ف 3۔ یہ سوال تقریعا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
(ہر جان جو کچھ کمایا اس میں گرو ہے) یعنی اللہ کے ہاں ہر نفس اپنے اعمال کا قیدی ہوگا ،۔۔۔ بعض تفاسیر میں ہے کہ ہر نفس بسبب اپنے برے اعمال کے قیدی ہوگا۔۔۔ (مگر داہنے ہاتھ والے) جن کے اعمال صالحہ ہوں گے۔ وہ لوگ اعمال صالحہ کی وجہ سے آزاد ہوں گے ، جیسے راہن شے کو آزاد کردیتا ہے جو قرض ادا کردے۔ یہ اصحاب یمین ایسے (باغوں میں) رہنے والے (ہیں) جن کی حقیقت کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی کوئی اس کی وسعت کو بیان کرسکتا ہے۔ یہی اہل یمین جنتوں کے اونچے محل پر ہوں گے اور دوزخ کو دیکھنے والے ہوں گے ، جو (دریافت کریں گے۔ مجرموں سے) یعنی مشرکین سے ان کے احوال ، (کہ کیا چیز لے گئی تمہیں جہنم میں ؟ انہوں نے جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–47
كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ اِلَّآ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ (Everyone will be detained [ in the Hell ] because of what he did, [ 38] except the People of the Right, [ i.e. those who will be given their Book of Deeds in their right hands ] 74:38-39) The word rahinah is used in the sense of marhunah 'will be detained'. The word is derived from rahn 'to give something valuable to a pawnbroker as a security for a debt. The valuable thing is thus merely detained by the pawnbroker. He cannot use it or take advantage of it. Likewise, every person on the Day of Judgment will be detained in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
32 At several places in the Qur'an above, it has been stated that the dwellers of Paradise and the dwellers of Hell will be able to see and commune with each other directly without the agency of any instrument whenever they will so desire, although they will be living hundreds of thousands of miles away from each other. For instance, see Al-A`raf: 44-50 and E.N. 35, As-Saaffat: 50-57 and E.N. 32 on it.
Read the full tafseer →