Explained with ayahs 38–56
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہوگا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ…
Read the full tafseer →سورة الْمُدَّثِّر 33
مطلب یہ ہے کہ ہم ان لوگوں میں سے نہ تھے جنہوں نے خدا اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کو مان کر خدا کا وہ اولین حق ادا کیا ہو جو ایک خدا پرست انسان پر عائد ہوتا ہے، یعنی نماز۔ اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ نماز کوئی شخص اس وقت تک پڑھ ہی نہیں سکتا جب تک وہ ایمان نہ لایا ہو۔ اس لیے نمازیوں میں سے ہونا آپ سے آپ ایمان لانے والوں میں سے ہونے کو مستلزم ہے۔ لیکن نمازیوں میں سے نہ ہونے کو دوزخ میں جانے کا سبب قرار دے کر یہ بات واضح کردی گئی کہ ایمان لا کر بھی آدمی دوزخ سے نہیں بچ سکتا اگر وہ تارک نماز ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–47
ۭكُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ 38ۙاِلَّآ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ
رھنتہ بمعنی مرہونہ ہے اور مراد اس سے اس کا محبوس ومقید ہونا ہے جس طرح کوئی شخص قرص کے بدلے میں کوئی چیز رہن رکھدے تو وہ چیز قرض خواہ کے قبضہ میں محبوس رہتی ہے، مالک اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اسی طرح قیامت کے روز ہر ایک نفس اپنے گناہوں کے بدلے میں محبوس اور مقید رہیگا مگر اصحاب الیمین اس حبس اور قید سے مستثنی ہوں گے۔
یہاں حبس سے مراد جہنم میں محبوس ہونا بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر مذکور میں لیا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ ہر شخص اپنے اپنے گناہوں کی سزا بھگنتے کے لئے جہنم میں محبوس رہے گا مگر اصحاب الیمین اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
اہل دوزخ کا اعتراف:
اہل دوزخ ان کے جواب میں اعتراف کر لیں گے کہ ہمارے اعمال ہی ہمیں یہاں لانے والے بنے ہیں۔ قصور سارا ہمارا اپنا ہی ہے، کسی دوسرے کا نہیں ہے۔
سب سے پہلے وہ اس جرم کا اعتراف کریں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ دین کے عقائد میں جس طرح توحید کو سب پر تقدم حاصل ہے اسی طرح اعمال میں نماز کو سب پر تقدم حاصل ہے۔ ہر نبی نے سب سے پہلے اسی عمل کی دعوت دی ہے اور اسی کے اہتمام اور اسی کے ترک پر دین کو منحصر بتایا ہے۔
اس کے بعد وہ اپنے عدم انفاق کا اعتراف کریں گے کہ وہ مسکینوں کو کھلانے کے روادار نہ تھے۔ اعمال میں نماز کے بعد دوسرا درجہ انفاق کا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
40۔ 1 اہل جنت بالاخانوں میں بیٹھے، جہنمیوں سے سوال کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
18: اس سے مراد وہ نیک لوگ ہیں جن کا اعمال نامہ انہیں ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →قالو ................ المصلین (74:43) ” وہ کہیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے “۔
اشارہ یہ ہے کہ ہم ایمان لاکر اس گروہ میں شامل نہ ہوئے جو نمازیوں کا گروہ تھا ، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں نماز کی اہمیت کیا ہے ۔ یہ گویا ایمان اور فلاح کی دلیل ہے اور نماز کا انکار دراصل کفر ہے اور جو شخص نماز نہیں پڑھتا۔ وہ صفت ایمان سے محروم ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–47
10 یعنی نہ اللہ کا حق پہچانا نہ بندوں کی خبر لی۔ البتہ دوسرے لوگوں کی طرح حق کے خلاف بحثیں کرتے رہے اور بدصحبتوں میں رہ کر شکوک و شبہات کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہم کو یقین نہ ہوا کہ انصاف کا دن بھی آنے والا ہے۔ ہمیشہ اس بات کو جھٹلایا کیسے یہاں تک کہ موت کی گھڑی سر پر آن پہنچی اور آنکھوں سے دیکھ کر ان باتوں کا یقین حاصل ہوا جن کی تکذیب کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
آیت 45{ وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَ۔ } ”اور ہم کٹ حجتیاں کرنے والوں کے ساتھ مل کر کٹ حجتیاں کیا کرتے تھے۔“
ہم تو دنیا میں بس کھیل تماشوں میں ہی لگے رہے۔ حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے۔ ہم نے اپنی زندگی کے مقصد اور انجام کے بارے میں تو کبھی سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
21 جنت اور دوزخ میں طویل مسافت کے باوجود جب اہل جنت اہل دوزخ میں سے اپنے کسی دنیا کے ساتھی کو دیکھنا چاہیں گے یا اس سے کلام کرنا چاہیں گے تو کرسکیں گے۔ کیونکہ اس دنیا میں لوگوں کو جو قوتیں سمع و بصر وغیرہ عطا کی جائیں گی۔ وہ اس دنیا میں عطا کردہ قوتوں سے بدرجہا زیادہ ہوں گی۔ مثلاً اس دنیا میں کوئی انسان اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتا لیکن آخرت میں مومن لوگ بلاتکلف اللہ تعالیٰ کا دیدار کرسکیں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم اس دنیا میں چاند کی طرف دیکھ سکتے ہیں اور ہمیں سرور بھی حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح اہل جنت جب چاہیں گے۔ جہنم میں اپنے دنیا کے ساتھیوں کی طرف جھانک بھی سکیں گے اور ان سے بلاتکلف گفتگو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
20۔ (اور ہم انہیں غفلتوں اور سرشاریوں میں پڑے رہ گئے) (آیت) ” نخوض مع الخآئضین “۔ خوض سے مطلق مشغلہ نہیں بلہ ایسا مشغلہ مراد ہے جو دین اور واجبات دین سے غافل کردے۔ الخوض الشروع فی الباطل ومالا ینبغی (کشاف) والمراد منہ الاباطیل (کبیر) کافروں کی تقریر کا حاصل یہ ہوگا کہ ہم نے نہ حق اللہ ہی ادا کئے نہ حقوق العباد، اور ادائے حقوق تو کیا کرتے سرے سے روز حشر کی آمد ہی سے انکار کرتے رہے۔ اور ابطال دین کو ایک مشغلہ سا بنا کر اسی میں لگے رہے۔ تو بہ وانابت کی توفیق کبھی نہ ہوئی اور موت ہی اس حالت میں آگئی۔ (آیت) ” حتی اتنا الیقین “۔ یقین کے معنی یہاں عام طور پر موت ہی کے لئے گئے ہیں۔ وقال المفسرون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…
Read the full tafseer →قالوا . مجرم جواب دیں گے۔
لم نک من المصلین . ہم فرض پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–48
(40۔ 48) دوزخیوں کا حال پوچھتے ہوں گے کہ تمہیں دوزخ میں کس بات نے داخل کیا۔ دوزخی جواب میں کہتے ہوں گے کہ ہم نہ تو مسلمانوں کی طرح پانچوں نمازیں پڑھا کرتے تھے اور نہ ہم مساکین کو صدقہ دینے کی ترغیب دیا کرتے تھے یا یہ کہ ہم زکوٰۃ اور صدقہ کچھ بھی نہیں دیا کرتے تھے۔
اور جھوٹوں کے ساتھ رہا کرتے تھے اور قیامت کے ہونے کا انکار کیا کرتے تھے یہاں تک کہ ہمیں موت آئے گی تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے فرمائے گا کہ تمہیں انبیاء کرام ملائکہ اور مسلمانوں کی سفارش نفع نہ دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
(1) قالوا لم نک من المصلین…: جہنمی اپنے جہنم میں جانے کے چار اسباب بیان کریں گے، پہلا یہ کہ وہ نماز ادا کرنے والوں میں شامل نہ ہوئے، دوسرا یہ کہ وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، تیسرا یہ کہ دین کی باتوں کو مذاق کرنے اور جھٹلانے کیلئے وہ مجلسوں میں بیٹھ کر فضول بحث کیا کرتے تھے اور چوتھا یہ کہ وہ روز جزا کو جھٹلاتے تھے۔ ان کی فصیل حسب ذیل ہے :(1) نماز ایمان کے ان ارکان میں سے ہے جن کے بغیر کوئی شخص اسلامی برادری میں شامل ہی نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اسے ”انما المومنون اخوۃ“ والی اخوت دینی حاصل ہوسکتی ہے، جیسا کہ فرمایا :(فان تابوا واقاموا ال صلوۃ و اتوا الزکو ۃ فاخوانکم فی الدین) (التوبۃ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
قالو لم نک من المصلین، ولم نک نطعم المسکین، وکنا نخوض مع الخائضین۔ جہنمیوں نے کہا، ہم نماز نہیں پڑھا کرتے تھے ہم صدقہ نہیں کرتے تھے اور ہم اہل باطل کے ساتھ ان کے باطل میں شامل ہوجایا کرتے تھے ابن زید نے کہا، ہم حضرت محمد کے مسئلہ میں ہرزہ سرائی کرنے والوں کے ساتھ ہرزہ سرائی کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے وہ یہ کہتے : وہ کاہن، مجنون، شاعر اور جادوگر ہے۔ سدی نے کہا ہم جھٹلانے والوں کے ساتھ مل کر جھٹلایا کرتے تھے۔ قتادہ نے کہا جب بھی کوئی گمراہ گمراہوں جیسا عمل کرتا ہے ہم بھی اس کے ساتھ اس عمل میں شریک ہوجاتے۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ ہم تو پیروکار تھے ہم پیشوا نہیں تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
8۔ ابو عبید فی فضائلہ وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ما سلککم فی سقر اے کافرو ! کونسی چیز تم کو یہاں لے آئی۔
Read the full tafseer →[قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِيْنَ : وہ لوگ کہیں گے ہم نہیں تھے نمازیوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
﴿فِيْ جَنّٰتٍ ﴾ (حضرات اصحاب الیمین بہشتوں میں ہوں گے) ﴿ يَتَسَآءَلُوْنَ۠ۙ0040 عَنِ الْمُجْرِمِيْنَۙ0041﴾ یعنی کافروں کے بارے میں سوال کر رہے ہوں گے اور یہ سوال خود مجرمین سے ہوگا۔ ﴿ مَا سَلَكَكُمْ فِيْ سَقَرَ 0042﴾ (تمہیں کس چیز نے دوزخ میں داخل کیا) ﴿ قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّيْنَۙ0043 وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِيْنَۙ0044﴾ مجرمین جواب دیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے اور ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ ﴿ وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآىِٕضِيْنَ۠ۙ0045 ﴾ (اور مشغلہ رکھنے والوں کے ساتھ مشغلہ رکھتے تھے) لفظ خوض کا معنی ہے کسی چیز میں گھسے چلے جانا مطلب یہ ہے کہ اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–47
16:۔ ” قالوا “ کفار و مشرکین جواب میں کہیں گے۔ ہم نماز کی فرضیت کے معتقد نہیں تھے، نہ فقراء و مساکین پر خرچ کرنے کو اچھا سمجھتے تھے۔ دین کا مذاق اڑانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی دین کا تمسخر اڑاتے تھے اور قیامت کے دن کو بھی نہیں مانتے تھے۔ ہم اسی حال میں رہے۔ یہاں تک کہ موت نے ہمیں آلیا۔ کفار چونکہ مخاطب بالفروع نہیں ہیں اس لیے نماز نہ پڑھنے سے نماز کی فرضیت کا اعتقاد نہ رکھنا مراد ہے۔ یا مصلین، مومنین سے کنایہ ہے۔ فیجوز ان یکون المعنی من المعتقدین للصلاۃ ووجوبھا فیکون العذاب علی ترک الاعتقاد وایضا المصلین یجوز ان یکون کنایۃ عن المؤمنین (روح ج 29 ص 133) ۔
Read the full tafseer →قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّيْنَ 43 ۙ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
«لَمْ»
وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل علی الفعل المستقبل، ويدخل عليه ألف الاستفهام للتّقریر . نحو : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] ، أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی [ الضحی/ 6]
( لم ( حرف ) لم ۔ کے بعد اگرچہ فعل مستقبل آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے وہ اسے ماضی منفی بنادیتا ہے ۔ اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
ترکیب : کلار وع لقول الکفا ا نانقدر علی مقاومۃ خزنۃ النار والقمر الواوللقسم انھا الخ ھذا الکلام جواب القسم والضمیر الی سقر واتعلیل لکلاو القسم معترض للتاکید الکبر فی الکشاف انہ جمع الکبریٰ جعلت الف التانیث کتاء التانیث فکما جمعت فعلۃ علی فعل جمعت فعلی علیھا نذیرا بالنصب حال من الضمیر فی انھا قالہ الزجاج وقال الکسائی انہ حال من قولہ قم حال کو نک نذیراللبشر وقال الفراء مصدر بمعنی الانذار منصوب بفعل مقدروقیل تمیز لاحدی لتضمنھا معنی التعظیم وقیل مفعول لہ ای لاجل انذار البشر وقری بالرقع علی انہ خبرہ بعد خبراوبحذف المبتداء لمن شاء بدل من قولہ للبشر والتقدیر انھا نذیر لمن شاء منکم ان یتقدم اویتاخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–48
مَاسَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ ۔ قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ ۔ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ ۔ وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَ ۔ وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ ۔ حَتّٰیٓ اَتٰـنَا الْیَقِیْنُ ۔ فَمَا تَنْفَعُھُمْ شَفَاعَۃُ الشّٰفِعِیْنَ ۔ (المدثر : 42 تا 48)
(سوال کریں گے) تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی۔ وہ جواب دیں گے، ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ اور نہ غریبوں کو کھلاتے ہی تھے۔ اور کٹ حجتیاں کرتے تھے، کٹ حجتیاں کرنے والے کے ساتھ۔ اور ہم جزاء و سزا کے دن کو جھٹلاتے تھے۔ حتیٰ کہ آپہنچی ہم پر وہ یقینی بات۔ تو ان کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کچھ نفع نہ دے گی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
فہم القرآن
ربط کلام : ہر انسان اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے اسی بنیاد پر ہی نجات پائے گا یا پکڑا جائے گا۔
اپنے اعمال کی وجہ سے پکڑے جانے والے لوگوں سے جنتی مستثنیٰ ہوں گے انہیں نیک اعمال کے بدلے جنت میں داخلہ دیا جائے گا وہ جنت میں تشریف فرما ہونے کے باوجود گاہے گاہے جہنمیوں سے بات چیت کرسکیں گے تاکہ جہنمیوں کو یہ احساس ہو کہ دنیا میں ہمارے ساتھ رہنے والے لوگ جنہیں ہم حقیر سمجھتے تھے وہ آج جنت میں عیش و عشرت کے ساتھ رہ رہے ہیں اور ہم ان کے مقابلے میں اذّیت ناک سزائیں پا رہے ہیں۔ جب جنتی ان سے سوال کریں گے کہ تمہیں کون سی چیز جہنم میں لے آئی ہے تو وہ اقرار کریں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں…
Read the full tafseer →43 : قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ (وہ کہیں گے ہم نہ تو نماز پڑھا کرتے تھے) یعنی اس کی فرضیت کا اعتقاد نہ رکھتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
42 ۔” ماسلککم “ تمہیں داخل کیا۔ ” فی سقر “ پس انہوں نے جواب دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–56
38۔ 56۔ جس طرح گروی رکھوانے والا شخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھوڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھوڑانے کے لئے اپنے اپنے عمل کے پابند کئے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک و بد عمل کا حساب لکھنے کے لئے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اور اس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیا جاتا ہے اس کاغذ کو اعمال نہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جن کا حساب آسانی سے ہو کر جلدی سے ان کی نجات ہونے والی ہے۔ چناچہ اذا السماء انشقت میں آئے گا۔ فما من اوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کیا تم انہیں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انہیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے انہیں عذاب دیا جا رہا ہوگا تو وہ ان سے کہیں گے (مَا سَلَكَكُمْ فِيْ سَقَرَ ) یعنی کس چیز نے تمہیں جہنم میں ڈالا۔ اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو ؟ (قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّيْنَ ۔ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِيْنَ ) کہیں گے ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے، یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے
قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔
دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →35 ترک نماز دخول دوزخ کا پہلا بڑا سبب۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سوال کے جواب میں دوزخ میں پڑے وہ مجرم اپنے جرم کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں نہیں تھے۔ کہ ہم تو سرے سے ایمان کی دولت ہی سے محروم تھے، والعیاذ باللہ، اور ہم نماز کی فرضیت ہی کے قائل ہی نہیں تھے، سو اس سے یہ امر واضح ہوگیا کہ ترک نماز دخول دوزخ کا پہلا بڑا سبب ہوگا جس کا اظہار و اقرار اس موقع پر دوزخی لوگ کریں گے۔ والعیاذ باللہ جل و علا۔ بہرکیف اس طرح وہ ظالم اعتراف کریں گے کہ ہمارے اعمال ہی ہمیں لانے والے بنے ہیں ‘ سو قصور سب ہمارا اپنا ہی ہے کسی دوسرے کا نہیں۔ مگر بےوقت کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
اللہ کے مقبول بندوں کی پر سکون زندگیاں اور دوزخیوں کا اقرار جرم
تشریح : یہاں داہنی طرف والے نیک لوگ۔ اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے۔ جو میدان حشر میں ہونے والی ہے اور جو ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جو اس بات کی ضمانت ہے کہ اس عقیدہ پر ایمان رکھنے والے ہر برا کام کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اس برے کام کا انجام عذاب کی صورت میں ضرور ملے گا۔ تو یہی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ مرنے کے بعد ہم ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ اعمال نامے ملنے کی صورت یہ ہوگی کہ کچھ کو دائیں طرف سے کچھ کو بائیں طرف سے پیچھے سے اعمال نامے دئیے جائـیں گے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو داہنی طرف سے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
آیات 32 تا 56۔
اسرار ومعارف۔
اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ف 1 یعنی نہ خدا کا حق ادا رتے تھے اور نہ بندوں کا
Read the full tafseer →(74:43) قالوا۔ یعنی اہل دوزخ (المجرمین) کہیں گے :۔
(1) لم نک من المصلین لم نک مضارع نفی جحد بلم (مضارع مجزوم بوجہ عمل لم) ۔ نک اصل میں نکون تھا۔ ہم نمازی نہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
لغات القرآن۔
ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔
تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–51
(ف 1) جس طرح گروی رکھوانے والاشخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھڑانے کے لیے اپنے اپنے عمل کے پابند کیے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک وبد کا حساب لکھنے کے لیے ہر شخص کے ساتھ دوفرشتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اورس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیاجاتا ہے۔ اس کاغذ کو اعمال نامہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تودائیں ہاتھ میں دیاجائے جن کے حساب آسانی سے ہوکر جلدی سے ان کو نجات ہونے والی ہے اور جن لوگوں کے حساب میں جانچ منظور ہے ان سب کے اعمال نامہ بائیں ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
[17] یقینی چیز سے مراد موت بھی ہے اور آخرت بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 3: قرآن حکیم نے یہاں مصلی کے لفظ کو مسلمان کو مسلمان کے ہم معنی قرار دیا ہے کیونکہ اسلامی تصور حیات میں یہ ناممکن ہے ۔ کہ کوئی شخص اسلام کا دعویٰ دار ہی ہو ۔ اور بےنیاز بھی ہو ۔ قرآن و حدیث اور صحابہ کی زندگی میں اس قسم کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ کہ کوئی شخص اسلام کا حلقہ بگوش ہو ۔ اور اس کے متعلق شکایت یہ ہو ۔ کہ وہ نماز نہیں پڑھتا ۔ نمازی ہونا ایک صف لازم ہے ۔ کہ مسلمان کے تخیل سے ان کا جدا کرنا ناممکن ہے ۔ یہ محض غلط فہمی یا اپنے متعلق حسن ظن ہے ۔ کہ ہم ایسے مسلمانوں کو بھی مسلمان سمجھنے پر مجبور ہیں ۔ جو اس اہم فریضہ کو ادا نہیں کرتے ۔ ورنہ دیکھ لیجئے ۔ کہ اہل جہنم سب سے بڑی وجہ اپنے جہنم…
Read the full tafseer →(43) وہ جواب دیں گے نہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
ف 3۔ یہ سوال تقریعا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
(ہر جان جو کچھ کمایا اس میں گرو ہے) یعنی اللہ کے ہاں ہر نفس اپنے اعمال کا قیدی ہوگا ،۔۔۔ بعض تفاسیر میں ہے کہ ہر نفس بسبب اپنے برے اعمال کے قیدی ہوگا۔۔۔ (مگر داہنے ہاتھ والے) جن کے اعمال صالحہ ہوں گے۔ وہ لوگ اعمال صالحہ کی وجہ سے آزاد ہوں گے ، جیسے راہن شے کو آزاد کردیتا ہے جو قرض ادا کردے۔
یہ اصحاب یمین ایسے (باغوں میں) رہنے والے (ہیں) جن کی حقیقت کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی کوئی اس کی وسعت کو بیان کرسکتا ہے۔ یہی اہل یمین جنتوں کے اونچے محل پر ہوں گے اور دوزخ کو دیکھنے والے ہوں گے ، جو (دریافت کریں گے۔ مجرموں سے) یعنی مشرکین سے ان کے احوال ، (کہ کیا چیز لے گئی تمہیں جہنم میں ؟ انہوں نے جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–47
كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ اِلَّآ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ (Everyone will be detained [ in the Hell ] because of what he did, [ 38] except the People of the Right, [ i.e. those who will be given their Book of Deeds in their right hands ] 74:38-39)
The word rahinah is used in the sense of marhunah 'will be detained'. The word is derived from rahn 'to give something valuable to a pawnbroker as a security for a debt. The valuable thing is thus merely detained by the pawnbroker. He cannot use it or take advantage of it. Likewise, every person on the Day of Judgment will be detained in…
Read the full tafseer →33 That is, "We were not of those who after having believed in Allah and His Messenger and His Boo , performed the foremost duty imposed by Allah, i.e. the Prayer. " Here, it should be understood well that unless a person has believed he cannot offer the Prayer at all. Therefore, one's being of those who performed the Prayer, by itself implies that one is a believer. But by attributing one's going to Hell to one's not being of those who performed their Prayer, it has been made explicit that one cannot escape Hell even after having believed if one dces not perform one's Prayers regularly.
Read the full tafseer →