Al-Muddaththir 74:41

Al-Muddaththir · from ayah 41

74:41

عَنِ الْمُجْرِمِیْنَ ۟ۙعَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَۙ

(یعنی آگ میں جلنے والے) گنہگاروں سے

— Fateh Muhammad Jalandhari

About the criminals,

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:41

(یعنی آگ میں جلنے والے) گنہگاروں سے

— مولانا فتح محمد جالندہری

سوال کرتے ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

مجرموں کے باب میں سوال کریں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مجرم لوگوں سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور مجرموں کی بابت پوچھ پاچھ کر رہے ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

گنہگاروں کے بارے میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی آگ میں جلنے والے گنہگاروں سے

— محترمہ رفعت اعجاز

about the guilty persons,

— Muhammad Taqi Usmani

about the guilty persons,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

About criminals (and they will say to them):

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

About the criminals,

— Saheeh International

and will ask of the criminals,

— Muhammad Sarwar

About the guilty:

— Muhammad Habib Shakir

Concerning the culprits:

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 74:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–56

جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہوگا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 40–42

سورة الْمُدَّثِّر 32 اس سے پہلے کئی مقامات پر قرآن مجید میں یہ بات گزر چکی ہے کہ اہل جنت اور اہل دوزخ ایک دوسرے سے ہزاروں لاکھوں میل دور ہونے کے باوجود جب چاہیں گے ایک دوسرے کو کسی آلے کی مدد کے بغیر دیکھ سکیں گے اور ایک دوسرے سے براہ راست گفتگو کرسکیں گے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، آیات 44 تا 50، حاشیہ 35۔ جلد چہارم، الصافات، آیات 50 تا 57، حاشیہ 32۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–47

ۭكُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ 38؀ۙاِلَّآ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ رھنتہ بمعنی مرہونہ ہے اور مراد اس سے اس کا محبوس ومقید ہونا ہے جس طرح کوئی شخص قرص کے بدلے میں کوئی چیز رہن رکھدے تو وہ چیز قرض خواہ کے قبضہ میں محبوس رہتی ہے، مالک اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اسی طرح قیامت کے روز ہر ایک نفس اپنے گناہوں کے بدلے میں محبوس اور مقید رہیگا مگر اصحاب الیمین اس حبس اور قید سے مستثنی ہوں گے۔ یہاں حبس سے مراد جہنم میں محبوس ہونا بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر مذکور میں لیا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ ہر شخص اپنے اپنے گناہوں کی سزا بھگنتے کے لئے جہنم میں محبوس رہے گا مگر اصحاب الیمین اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 39–41

اصحاب الیمین: اس دن نجات و فلاح صرف اصحاب الیمین کو حاصل ہو گی۔ اصحاب الیمین کی تفصیل اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے آخرت کو پیش نظر رکھ کر زندگی گزاری اور جن کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ فرمایا کہ یہ لوگ بے شک نہ صرف اپنی نیکیوں کا پورا پورا صلہ پائیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے بھی ان کو نوازے گا۔ یہ لوگ بہشت کے باغوں میں ہوں گے اور وہاں آپس میں ان مجرموں کے انجام سے متعلق سوال و جواب کر رہے ہوں گے جن سے دنیا میں ان کو سابقہ رہا۔ اس سوال و جواب کی نوعیت سورۂ صافات کی مدرجہ ذیل آیات سے واضح ہوتی ہے اور اسی سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–44

18: اس سے مراد وہ نیک لوگ ہیں جن کا اعمال نامہ انہیں ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 39–41

اصحاب الیمین کی رہائی اور قیدوبند سے ان کے چھوٹ جانے کا واقعہ کیونکر پیش آیا کہ اللہ نے اپنے فضل وکرم سے ان کی نیکیوں کو دوگنا کردیا اور ایسے مشکل حالات میں ان کی رہائی اور کامیابی کا اعلان دلوں کو گرما دیتا ہے اور انسان اللہ کی رحمتوں کے یقین سے سرشار ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اس بات کا اثر مجرموں اور تکذیب کرنے والوں پر بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو سخت ترین حالات میں محصور پاتے ہیں۔ نہایت ہی اہانت آمیزی کے ساتھ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ اور ایک طویل بیان ریکارڈ کراتے ہیں ، جبکہ وہ اہل ایمان جن کو وہ اس دنیا میں کچھ چیز ہی نہ سمجھتے تھے اور ان کو ذرہ برابر اہمیت بھی نہ دیتے تھے ، وہ اب عزت و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 38–41

8 یعنی جو لوگ میثاق کے دن حضرت آدم کی پشت سے داہنی طرف سے نکلے تھے اور دنیا میں بھی سیدھی چال چلتے رہے اور موقف میں بھی عرش کے داہنی طرف جدھر بہشت ہے کھڑے ہوئے اور اسی طرف روانہ ہوئے اور ان کے نامہ اعمال بھی داہنے ہاتھ میں آئے وہ لوگ البتہ قید میں پھنسے ہوئے نہیں بلکہ جنت کے باغوں میں آزاد ہیں اور نہایت بےفکر اور فارغ البال ہو کر آپس میں ایک دوسرے سے یا فرشتوں سے گنہگاروں کا حال پوچھتے ہیں کہ وہ لوگ کہاں گئے جو نظر نہیں پڑتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 40–45

آیت 45{ وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَ۔ } ”اور ہم کٹ حجتیاں کرنے والوں کے ساتھ مل کر کٹ حجتیاں کیا کرتے تھے۔“ ہم تو دنیا میں بس کھیل تماشوں میں ہی لگے رہے۔ حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے۔ ہم نے اپنی زندگی کے مقصد اور انجام کے بارے میں تو کبھی سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 39–41

20 اصحاب الیمین یعنی دائیں جانب یا دائیں ہاتھ والے۔ یہ ان لوگوں کا لقب ہے جن کو جنت کا پروانہ ملنے والا ہوگا۔ اور اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ ان لوگوں کی پوری تفصیل پہلے سورة واقعہ میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 38–41

19۔ (خود انہیں کفار مجرمین سے) سوال سے محض استفسار حال مقصود نہ ہوگا، اہل دوزخ کی مزید تذیل وسرزنش بھی مقصود ہوگی۔ (آیت) ” کل ...... رھینۃ “۔ یہ محبوسی دوزخ کی ہے، ہر شخص اپنی پاداش عمل میں گرفتار و ماخوذ ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ عفو خداوندی کسی کے جرائم ہی کو نظر انداز کردے۔ (آیت) ” الااصحب الیمین “۔ یعنی اہل جنت جنہیں نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں ملے گا، وہ اس حبس سے ہر طرح محفوظ ومستثنی ہوں گے۔ (آیت) ” المجرمین “۔ مراد کفار اہل دوزخ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–56

ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 40–48

(40۔ 48) دوزخیوں کا حال پوچھتے ہوں گے کہ تمہیں دوزخ میں کس بات نے داخل کیا۔ دوزخی جواب میں کہتے ہوں گے کہ ہم نہ تو مسلمانوں کی طرح پانچوں نمازیں پڑھا کرتے تھے اور نہ ہم مساکین کو صدقہ دینے کی ترغیب دیا کرتے تھے یا یہ کہ ہم زکوٰۃ اور صدقہ کچھ بھی نہیں دیا کرتے تھے۔ اور جھوٹوں کے ساتھ رہا کرتے تھے اور قیامت کے ہونے کا انکار کیا کرتے تھے یہاں تک کہ ہمیں موت آئے گی تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے فرمائے گا کہ تمہیں انبیاء کرام ملائکہ اور مسلمانوں کی سفارش نفع نہ دے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 40–42

(1) فی جنت یتسآء لون : یعنی اصحاب الیمین جنتوں میں ایک دوسرے سے مجرموں کے بارے میں سوال کریں گے کہ فلاں مجرم کا کیا بنا اور فلاں کدھر گیا ؟ ذرا جہنم ہی میں انہیں تلاش کریں، پھر جہنم میں جھانک کر دیکھیں گے اور وہ انہیں وہاں نظر آئیں گے تو ان سے کہیں گے :(ماسلکم فی سقر)”تمہیں جہن م میں کس چیز نے داخل کیا ؟“ آیات کی یہ تفسیر ”یتسآء لون“ (تفاعل) اور ”عن“ کے اس ترجمے کے مطابق ہے جو اکثر ساتعمال ہوا ہے۔”فاسلکم علی بعض یتسآء لون ، قال قآئل منھم انی کا ن لی قرین ، یقول ائنک لمن المصدقین ، اذا مثنا وکنا تربااً و عظاماً ، انا لمدینون، قال ھل انتم مظلعون ، فاظلع فراہ فی سوآء الجحیم، قال تاللہ ان کدت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 40–42

فی جنت یتساء لون، عن المجرمین۔ ماسلکم فی سقر۔ جنت سے مراد باغات ہیں، یتساء لون، یسالون کے معنی میں ہے، یعنی جنتی مشرکوں سے سوال کریں گے کس چیز نے تمہیں جہنم میں داخل کیا ہے ؟ جس طرح تو کہتا سلکت الخیط فی کذا، یعنی میں نے اس میں دھاگا داخل کردیا، کلبی نے کہا، جنتی جہنمی سے اس کا نام لے کر سوال کرے گا وہ اسے کہے گا، اے فلان، حضرت عبداللہ بن زبیر کی قرات میں ہے اے فلاں تجھے کس چیز نے جہنم میں داخل کیا ؟ کلبی سے یہ بھی منقول ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے یوں قرات کی، یا فلان ماسلکم فی سقر۔ یہ قرات آیت کی تفسیر بیان کرنے کے طریقہ پر ہے۔ یہ قرآن حکیم کا حصہ نہیں جس طرح وہ لوگ گمان کرتے ہیں جو قرآن حکیم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–41

7۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وعبد اللہ بن احمد فی زوائد الزہد وابن ابی داوٗد وابن الانباری ومافی المصاحف وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عمروبن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا آیت فی جنت یتساء لون عن المجرمین باغوں میں ہوں گے اور ایک دوسرے سے پوچھیں گے مجرم لوگوں سے اے فلانے ما سلککم فی سقر۔ کس چیز نے تمہیں دوزخ میں ڈالا عمرو (رح) نے فرمایا اور مجھے لقیط (رح) نے بتایا کہ میں نے ابن الزبیر ؓ سے سنا کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 40–45

﴿فِيْ جَنّٰتٍ ﴾ (حضرات اصحاب الیمین بہشتوں میں ہوں گے) ﴿ يَتَسَآءَلُوْنَ۠ۙ0040 عَنِ الْمُجْرِمِيْنَۙ0041﴾ یعنی کافروں کے بارے میں سوال کر رہے ہوں گے اور یہ سوال خود مجرمین سے ہوگا۔ ﴿ مَا سَلَكَكُمْ فِيْ سَقَرَ 0042﴾ (تمہیں کس چیز نے دوزخ میں داخل کیا) ﴿ قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّيْنَۙ0043 وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِيْنَۙ0044﴾ مجرمین جواب دیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے اور ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ ﴿ وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآىِٕضِيْنَ۠ۙ0045 ﴾ (اور مشغلہ رکھنے والوں کے ساتھ مشغلہ رکھتے تھے) لفظ خوض کا معنی ہے کسی چیز میں گھسے چلے جانا مطلب یہ ہے کہ اہل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–56

تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–42

15:۔ ” کل نفس “۔ رھینۃ مصدر ہے رھن کا۔ یہ فعیل بمعنی مفعول نہیں کیونکہ اس کا استعمال مذکر، مونث میں یکساں ہے۔ قیامت کے دن ہر نفس کفر و طغیان کی وجہ سے دوزخ میں رہن اور محبوس ہوگا مگر اصحاب الیمین یعنی وہ لوگ جن کو اعمالنامے دائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے کیونکہ وہ تو جنت میں ہوں گے اور ان کو وہاں ہر قسم کی راحت اور ہر نوع تعیش و تنعم حاصل ہوگی۔ یتساءلون، وہ مشرکین کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہوں گے اور مجرموں سے پوچھیں گے کہ کیا چیز تمہیں دوزخ میں لے آئی ہے اور تمہارے وہ کون سے اعمال ہیں جو تمہارے دوزخ میں آنے کا باعث ہوئے۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عَنِ الْمُجْرِمِيْنَ۝ 41 ۙ جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس المحمود، ومصدره : جَرْم، قوله عزّ وجل : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] ، ( ج ر م ) الجرم ( ض) اس کے اصل معنی درخت سے پھل کاٹنے کے ہیں یہ صیغہ صفت جارم ج جرام ۔ تمر جریم خشک کھجور ۔ جرامۃ روی کھجوریں جو کاٹتے وقت نیچے گر جائیں یہ نفایۃ کے وزن پر ہے ـ( جو کہ ہر چیز کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–47

ترکیب : کلار وع لقول الکفا ا نانقدر علی مقاومۃ خزنۃ النار والقمر الواوللقسم انھا الخ ھذا الکلام جواب القسم والضمیر الی سقر واتعلیل لکلاو القسم معترض للتاکید الکبر فی الکشاف انہ جمع الکبریٰ جعلت الف التانیث کتاء التانیث فکما جمعت فعلۃ علی فعل جمعت فعلی علیھا نذیرا بالنصب حال من الضمیر فی انھا قالہ الزجاج وقال الکسائی انہ حال من قولہ قم حال کو نک نذیراللبشر وقال الفراء مصدر بمعنی الانذار منصوب بفعل مقدروقیل تمیز لاحدی لتضمنھا معنی التعظیم وقیل مفعول لہ ای لاجل انذار البشر وقری بالرقع علی انہ خبرہ بعد خبراوبحذف المبتداء لمن شاء بدل من قولہ للبشر والتقدیر انھا نذیر لمن شاء منکم ان یتقدم اویتاخر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 38–41

کُلُّ نَفْسٍ م بِمَا کَسَبَتْ رَھِیْنۃٌ۔ اِلَّآاَصْحٰبَ الْیَمِیْنِ ۔ فِیْ جَنّٰتٍ قف ط یَتَسَآئَ لُوْنَ ۔ عَنِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (المدثر : 38 تا 41) (ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں رہن ہے۔ مگر داہنی طرف والے۔ وہ باغوں میں ہوں گے، پوچھ گچھ کررہے ہوں گے۔ ، مجرموں کے حال کے بارے میں۔ ) اعمال پر کامیابی اور ناکامی کا دارومدار ہے اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ ہر شخص کی قدر و قیمت اور اس کے اچھے برے انجام کا دارومدار اس کے اعمال پر ہے۔ بظاہر انسان اپنی شکل و صورت، اپنے رنگ و روپ، اپنے قبیلے، اپنی نسل، اپنے خاندان اور اپنے جغرافیے سے پہچانا جاتا اور مختلف مقامات سے گزارا جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 39–48

فہم القرآن ربط کلام : ہر انسان اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے اسی بنیاد پر ہی نجات پائے گا یا پکڑا جائے گا۔ اپنے اعمال کی وجہ سے پکڑے جانے والے لوگوں سے جنتی مستثنیٰ ہوں گے انہیں نیک اعمال کے بدلے جنت میں داخلہ دیا جائے گا وہ جنت میں تشریف فرما ہونے کے باوجود گاہے گاہے جہنمیوں سے بات چیت کرسکیں گے تاکہ جہنمیوں کو یہ احساس ہو کہ دنیا میں ہمارے ساتھ رہنے والے لوگ جنہیں ہم حقیر سمجھتے تھے وہ آج جنت میں عیش و عشرت کے ساتھ رہ رہے ہیں اور ہم ان کے مقابلے میں اذّیت ناک سزائیں پا رہے ہیں۔ جب جنتی ان سے سوال کریں گے کہ تمہیں کون سی چیز جہنم میں لے آئی ہے تو وہ اقرار کریں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 40–41

40، 41 : فِیْ جَنّٰتٍ یہ ہم مبتدا کی خبر ہے ای ھم فی جنات (ایسے باغات میں) جن کی حقیقت بیان میں نہیں آسکتی۔ یَتَسَآ ئَ لُوْنَ عَنِ الْمُجْرِمِیْنَ (وہ مجرموں کا حال پوچھتے ہوں گے) ایک دوسرے سے ان کے متعلق پوچھیں گے۔ نمبر 2۔ دوسروں سے ان کے متعلق دریافت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–56

38۔ 56۔ جس طرح گروی رکھوانے والا شخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھوڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھوڑانے کے لئے اپنے اپنے عمل کے پابند کئے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک و بد عمل کا حساب لکھنے کے لئے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اور اس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیا جاتا ہے اس کاغذ کو اعمال نہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جن کا حساب آسانی سے ہو کر جلدی سے ان کی نجات ہونے والی ہے۔ چناچہ اذا السماء انشقت میں آئے گا۔ فما من اوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 40–41

(فِيْ جَنّٰتٍ ۺ يَتَسَاۗءَلُوْنَ ۔ عَنِ الْمُجْرِمِيْنَ ) یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان پوگا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں کیا انہوں نے وہ کچھ پا لیا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا ؟

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 39–41

32 آخرت کی نجات و فلاح صرف اصحاب یمین کیلئے : سو ایسے خوش نصیبوں کا اسثناء کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " مگر دائیں بازو والے۔ کہ وہ اس گرفتاری سے آزاد اور جنت کی نعمتوں سے سرشار ہوں گے " اللھم اجعلنآ منھم بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین " سو اس روز کی نجات و فلاح صرف انہی خوش نصیبوں کو ملے گی اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں ‘ جنہوں نے آخرت اور اس کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر زندگی گزاری ہوگی ‘ انہی خوش نضیبوں کو ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے۔ سو یہ حضرات نہ صرف یہ کہ اپنی نیکیوں کا پورا پورا بدلہ پائیں گے ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے خاص فضل و کرم سے بھی نوازے گا۔ سو دوسرے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 39–56

اللہ کے مقبول بندوں کی پر سکون زندگیاں اور دوزخیوں کا اقرار جرم تشریح : یہاں داہنی طرف والے نیک لوگ۔ اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے۔ جو میدان حشر میں ہونے والی ہے اور جو ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جو اس بات کی ضمانت ہے کہ اس عقیدہ پر ایمان رکھنے والے ہر برا کام کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اس برے کام کا انجام عذاب کی صورت میں ضرور ملے گا۔ تو یہی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ مرنے کے بعد ہم ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ اعمال نامے ملنے کی صورت یہ ہوگی کہ کچھ کو دائیں طرف سے کچھ کو بائیں طرف سے پیچھے سے اعمال نامے دئیے جائـیں گے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو داہنی طرف سے اعمال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–56

آیات 32 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 40–41

ف 12 یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب عن ٗالحرمین میں عن کو زائد مانا جائے اور اسے زائد منایا جائی تو ترجمہ لف ہوگا وہ آپس میں ایک دوسرے سے مجرموں کے بارے میں دریافت کریں گے (یہ کہتے ہوئے کہ )……“

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:41) اگرچہ جنت پر وقف کی علامت ہے لیکن آیت 38 پر بھی وقف کیا جاسکتا ہے۔ اگر پہلی علامت معانقہ پر وقف کیا جائے تو آیت 39 کا ترجمہ ” سوائے اصحاب یمین کے “ پر جملہ ختم ہوجائے گا۔ اور فی جنت یتساء لون اکٹھا پڑھا جائے گا۔ اور جنت ظرف مکان یتساء لون کا ہوگا۔ اور فی جنت سے قبل ہم محذوف ہوگا اور آیت 41 اس کے ساتھ ہی پڑھی جائے گی۔ اور کلام یوں ہوگا :۔ ہم فی جنت یتساء لون عن المجرمین وہ باغوں میں مجرموں سے پوچھیں گے اور اگر دوسری علامت معانقہ پر وقف کیا جائے تو فی جنت کا ربط جملہ ما سبق سے ہوگا۔ اور کلام یوں ہوگا۔ الا اصحب الیمین فی جنت سوائے اصحاب یمین کے جو جنتوں میں ہوں گے۔ آیت 38 تا 42 کا باربط…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–56

لغات القرآن۔ ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔ تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–51

(ف 1) جس طرح گروی رکھوانے والاشخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھڑانے کے لیے اپنے اپنے عمل کے پابند کیے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک وبد کا حساب لکھنے کے لیے ہر شخص کے ساتھ دوفرشتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اورس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیاجاتا ہے۔ اس کاغذ کو اعمال نامہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تودائیں ہاتھ میں دیاجائے جن کے حساب آسانی سے ہوکر جلدی سے ان کو نجات ہونے والی ہے اور جن لوگوں کے حساب میں جانچ منظور ہے ان سب کے اعمال نامہ بائیں ہاتھ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–42

ف 2: یعنی اسلامی نقطہ نگاہ سے ہر شخص اپنے اعمال کی پاداش میں بطلق ہے ۔ اب اگر اعمال نیک اور صالح میں تو بنکاک کی سورت میں روح انسانی جنت کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوگی اور اگر برے اور بد ہیں ۔ تو یہ اعمال اس کو جہنم میں پھینکوا دینگے ۔ مگر اسلام ہر شخص سے براہ راست عمل خیر کا متوقع ہے ۔ اور اس چیز کو ظالمانہ اور نامنصفانہ قرار دیتا ہے ۔ کہ آپ کو دوسروں کے اعمال کے بدلہ میں گرفتار کیا جائے ۔ یا دوسروں کے تقویٰ اور زہد کی وجہ سے آپ کی رہائی ہوجائے ۔ اور آپ کو بخش دیا جائے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(41) گنہگاروں سے ان کا حال۔ یعنی یہ حضرات بہشت کے باغوں میں ہوں گے آٹھویں پارے میں اہل جہنم اور اہل جنت کی گفتگو کا ذکر ہوچکا ہے اسی گفتگو کا ایک حصہ یہاں مذکور ہے مجرمین سے اہل جنت دریافت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 38–44

(ہر جان جو کچھ کمایا اس میں گرو ہے) یعنی اللہ کے ہاں ہر نفس اپنے اعمال کا قیدی ہوگا ،۔۔۔ بعض تفاسیر میں ہے کہ ہر نفس بسبب اپنے برے اعمال کے قیدی ہوگا۔۔۔ (مگر داہنے ہاتھ والے) جن کے اعمال صالحہ ہوں گے۔ وہ لوگ اعمال صالحہ کی وجہ سے آزاد ہوں گے ، جیسے راہن شے کو آزاد کردیتا ہے جو قرض ادا کردے۔ یہ اصحاب یمین ایسے (باغوں میں) رہنے والے (ہیں) جن کی حقیقت کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی کوئی اس کی وسعت کو بیان کرسکتا ہے۔ یہی اہل یمین جنتوں کے اونچے محل پر ہوں گے اور دوزخ کو دیکھنے والے ہوں گے ، جو (دریافت کریں گے۔ مجرموں سے) یعنی مشرکین سے ان کے احوال ، (کہ کیا چیز لے گئی تمہیں جہنم میں ؟ انہوں نے جواب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–47

كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ اِلَّآ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ (Everyone will be detained [ in the Hell ] because of what he did, [ 38] except the People of the Right, [ i.e. those who will be given their Book of Deeds in their right hands ] 74:38-39) The word rahinah is used in the sense of marhunah 'will be detained'. The word is derived from rahn 'to give something valuable to a pawnbroker as a security for a debt. The valuable thing is thus merely detained by the pawnbroker. He cannot use it or take advantage of it. Likewise, every person on the Day of Judgment will be detained in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–42

32 At several places in the Qur'an above, it has been stated that the dwellers of Paradise and the dwellers of Hell will be able to see and commune with each other directly without the agency of any instrument whenever they will so desire, although they will be living hundreds of thousands of miles away from each other. For instance, see Al-A`raf: 44-50 and E.N. 35, As-Saaffat: 50-57 and E.N. 32 on it.

Read the full tafseer →