Al-Muddaththir 74:37

Al-Muddaththir · from ayah 37

74:37

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَ ۟ؕلِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّتَقَدَّمَ اَوۡ يَتَاَخَّرَؕ

جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہنا چاہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

To whoever wills among you to proceed or stay behind.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:37

تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے ڈراوا جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہنا چاہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(یعنی) اسے جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تم میں سے ہر اس شخص کو جو آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا چاہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اسے جو تم میں چاہے، کہ آگے آئے یا پیچھے رہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یعنی) اس شخص کے لئے جو تم میں سے (نیکی میں) آگے بڑھنا چاہے یا جو (بدی میں پھنس کر) پیچھے رہ جائے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کے لیے جو تم میں سے چاہے کہ آگے بڑھے، یا پیچھے ہٹے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہنا چاہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے لئے جو تم میں سے آگے بڑھا یا پیچھے ہٹنا چاہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تم میں سے ہر ایک شخص کے لئے جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے

— مولانا اسحاق مدنی

یعنی تم میں سے اس کے لئے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو بھی تم میں سے چاہے کہ وہ آگے بڑھے یا پیچھے رہ جائے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو کوئی تم میں سے آگے بڑھے یا پیچھے رہے

— محترمہ رفعت اعجاز

a warning to everyone of you whether he would like to come forward or lag behind.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

to the one from among you who wishes to come forward (towards good deeds) or to go back (from them) .

— Muhammad Taqi Usmani

to the one from among you who wishes to come forward (towards good deeds) or to go back (from them) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

To any of you that chooses to go forward, or to remain behind.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Unto him of you who will advance or hang back.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

To whoever wills among you to proceed or stay behind.

— Saheeh International

whether one steps forward to embrace the faith or one turns away from it.

— Muhammad Sarwar

To him among you who wishes to go forward or remain behind.

— Muhammad Habib Shakir

A warning Unto him of you who shall go forward or who chooseth to lag behind.

— Abdul Majid Daryabadi

To any of you that chooses to press forward, or to follow behind;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 74:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–37

سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بےرحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابو جہل نے کہا اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو نہ تھکا سکو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُدَّثِّر 29 مطلب یہ ہے کہ اس چیز سے لوگوں کو ڈرا دیا گیا ہے۔ اب جس کا جی چاہے اس سے ڈر کر بھلائی کے راستے پر آگے بڑھے اور جس کا جی چاہے پیچھے ہٹ جائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لِمَنْ شَاۗءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّتَقَدَّمَ اَوْ يَتَاَخَّرَ یہاں تقدم سے مراد تقدم الی الایمان والطاعة اور تاخر سے مراد ایمان وطاعت سے پیچھے ہٹنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جہنم کے عذاب سے ڈرانا جو اوپر کی آیت میں ہے یہ ہر ایک انسان کے لئے عام ہے پھر کوئی یہ ڈرسن کر ایمان و اطاعت کی طرف پیشقدمی کرتا ہی کوئی بدنصیب اس کے باوجود پیچھے رہ جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

دلیلوں سے فائدہ اٹھانا لوگوں کا اپنا کام ہے: یعنی اس ہولناک دن سے سابقہ پیش آنے سے پہلے لوگوں کو اس سے آگاہ کرنا ضروری تھا تاکہ جب یہ آئے تو کوئی یہ عذر نہ کر سکے کہ اس کو اس سے آگاہ نہیں کیا گیا ورنہ وہ اس کے لیے تیاری کرتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے ذریعہ سے اتمام حجت کر دیا۔ رہا اس کو رویا قبول کرنا تو یہ لوگوں کا اپنا کام ہے۔ جو اپنی عاقبت کی خیر چاہے گا وہ اس کو قبول کرنے کے لیے آگے بڑھے گا اور جس کی شامت آئی ہوئی ہو گی وہ اعراض و استکبار کی روش اختیار کرے گا اور پیچھے ہٹ جائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

37۔ 1 یعنی یہ جہنم ڈرانے والی ہے یا نذیر سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں یا قرآن بھی اپنے بیان کردہ وعد و وعید کے اعتبار سے انسانوں کے لئے نذیر ہے۔ اور ایمان واطاعت میں آگے بڑھنا چاہیے یا اس سے پیچھے ہٹنا چاہیے مطلب ہے کہ انداز ہر ایک کے لیے ہے جو ایمان لائے یا کفر کرے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

16: یعنی یہ اس شخص کو بھی خبردار کرتا ہے جو بھلائی کی طرف آگے بڑھے، اور اس کو بھی جو بھلائی سے پیچھے ہٹے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 37–38

ہر شخص اپنے نفس کا ذمہ دار ہے ، جس حالت میں اسے چاہے ، رکھ دے ، جو بوجھ چاہے اٹھالے ، جو قدم چاہے اٹھائے۔ اچھائی کی طرف آگے بڑھے ، یا پیچھے رہ جائے۔ اپنے آپ کو عزت دے یا ذلیل کرے۔ ہر نفس اپنی کمائی کے ہاتھ رہن ہے اور اپنے اعمال کے ہاں قید ہے۔ اللہ نے ہر شخص کو راہ ہدایت بھی بتادی ہے اور راہ ضلالت بھی دکھا دی ہے اور اس کائنات کے ان مناظر کی روشنی میں اور جہنم کی منظر کشی کے بعد وہ ہر اس چیز کو فنا کردینے والی ہے ، جو اس کے دائرے کے اندر آجائے۔ اس منظر کے بعد کہ ہر نفس اپنے کیے کا ذمہ دار ہے اور جو کچھ اس نے کیا اس کا مرہون ہے۔ یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اصحاب الیمین ان جکڑ بندیوں اور ان پابندیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 36–37

7 آگے بڑھے نیکی یا بہشت کی طرف اور پیچھے رہے بدی میں پھنسا ہوا یا دوزخ میں پڑا ہوا۔ بہرحال مقصود یہ ہے کہ دوزخ سب مکلفین کے حق میں بڑے ڈراوے کی چیز ہے اور چونکہ اس ڈرانے کے عواقب و نتائج قیامت میں ظاہر ہوں گے۔ اس لیے قسم ایسی چیزوں کی کھائی جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے۔ چناچہ چاند کا اول بڑھنا پھر گھٹنا نمونہ ہے اس عالم کے نشوونما اور اضمحلال و فنا کا اسی طرح اس عالم دنیا کو عالم آخرت کے ساتھ حقائق کے اختفاء و اکتشاف میں ایسی نسبت ہے جیسے رات کو دن کے ساتھ۔ گویا اس عالم کا ختم ہوجانا رات کے گزر جانے اور اس عالم کا ظہور نور صبح کے پھیل جانے کے مشابہ ہے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 36–37

آیت 37{ لِمَنْ شَآئَ مِنْکُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَ۔ } ”جو بھی تم میں سے چاہے کہ وہ آگے بڑھے یا پیچھے رہ جائے۔“ اب کامیابی کا دار و مدار ہر کسی کی ہمت اور کوشش پر ہے۔ جس کی ہمت جوان ہو وہ سب سے آگے بڑھ کر صدیقیت کا مقام اور ”السابقون الاولون“ کا درجہ حاصل کرلے۔ جو کوئی دوسروں کا انتظار کرکے ذرا دیر سے چلنے میں عافیت سمجھے وہ وَاتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ والوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوا لے اور جس کسی کی ہمت اور قسمت ساتھ نہ دے وہ خود کو مستقل طور پر محروم کرلے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 37–38

19 حقیقت تو وہی کچھ ہے جو تمہیں بتادی گئی ہے۔ اب یہ بات ہر شخص کی پسند اور ارادہ و اختیار پر منحصر ہے کہ ہدایت کی طرف آگے بڑھتا ہے۔ یا گمراہی کی دلدلوں میں ہی پھنسا رہنا چاہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 32–37

18۔ یعنی اس کیلئے بھی جو خیر و فلاح کی طرف قدم بڑھانا چاہے اور اس کیلئے بھی جو خیر و فلاح سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔ غرض یہ کہ جملہ مکلفین کے لئے۔ (آیت) ” والقمر ..... الکبر “۔ موقع قسم پر یہاں تین چیزوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چاند اور رخصت ہوتی ہوئی رات اور روشن ہوتی ہوئی صبح، اور یہ تینوں چیزیں خاص مناسبت واقعہ قیامت سے رکھتی ہیں، جس پر بطور شہادت انہیں پیش کیا گیا ہے۔ چاند کا اول بڑھنا اور پھر گھٹنا، یہاں تک کہ نظروں سے معدوم ہوجانا ایک نمونہ اور مثال ہے، اس کائنات کے وجود وحدوث، اور نشوونما کا، اور پھر اضمحلال وانحطاط، یہاں تک کہ فناء کا، اسی طرح اس عالم کو آخرت کے ساتھ اختفاء اور اکتشاف حقائق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–56

ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لمن شاء منکم یتقدم او یتاخر . یعنی دونوں فریقوں کے لیے نذیر ہے ‘ ایک وہ فریق جو خیر وطاعت میں آگے بڑھنا چاہتا ہے ‘ دوسرا وہ فریق ہے جو شر اور گناہ میں پڑا رہنا چاہتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان یتقدم او یتاخر مبتداء ہو اور من شآء منکم خبر مقدم ہو۔ اس وقت آیت کا مفہوم زجر و توبیخ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 32–38

(32۔ 38) قسم ہے چاند کی اور رات کی جس وقت وہ جانے لگیں اور صبح کی جبکہ وہ آنے لگے یا یہ کہ روشن ہوجائے اور سقر دوزخ کے حصوں میں سے ایک بڑا حصہ ہے، چناچہ جہنم، سقر، نطی، حظمہ، سعیر، جحیم، ہاویہ یہ سب دوزخ کے حصے ہیں جو ان کے لیے بڑا ڈراوا ہے۔ یا یہ کہ محمد انسانوں کو ڈرانے والے ہیں اب اس صورت میں اس جملہ کا تعلق صورت کے ابتدائی کلمات قم فانذر سے ہوجائے گا۔ یعنی تم میں جو چیز خیر کی طرف بڑھ کر ایمان لے آئے اس کے لیے بھی یا شر سے ہٹ کر اس کو چھوڑ دے اس کے لیے بھی، یا یہ کہ خیر سے ہٹ کر کفر اختیار کرے ہر کافر شخص اپنے اعمال کفر کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے دوزخ میں محبوس ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 32–37

(کلا و القمر…:”کلا“ ہرگز نہیں، یعنی جہنم یا اس پر مامور فرشتوں کی تعداد سے انکار ہرگز درست نہیں۔ اس کے بعد تینچ یزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ جہنم یقیناً بہت ہی بڑی چیز ہے۔ ان قسموں کی مناسبت جواب قسم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہنم کا انکار کرنے والوں کا انکار اس لئے ہے کہ وہ ان کی نگاہوں سے اوجھل ہے اور ان کے خیال میں اتنی بڑی ہولناک اور عظیم الشان چیز کا موجود ہونا ممکن نہیں۔ فرمایا اس کائنات میں چاند کو دیکھو، وہ ہلال اور بدر اور بدر سے ہلال ہونے تک روزانہ جن مراحل سے گزرتا ہے ان پر غور کرو، رات کو دیکھو جب وہ رخصت ہوتی ہے اور کائنات میں روزانہ ایک عظیم انقلاب رونما ہوتا ہے، پھر صبح کو دیکھو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

لمن شاء منکم ان یتقدم اویتاخر۔ لام تعلیل نذیرا کے ساتھ متعلق ہے یعنی یہ خبردار کرنے والا ہے اسے بھی جو خیر اور طاعت کی طرف آگے بڑھے یاشر اور معصیت کے لیے پیچھے ہٹے، اس کی مثل ولقد علمنا المستقدمین منکم والقد علمنا المستاخرین۔ حجر) ہے تحقیق ہم نے تم میں سے خیر کی طرف آگے بڑھنے والوں کو بھی جان لیا، اور تم میں سے جو اس سے پیچھے رہنے والے ہیں ابھی جان لیا، حضرت حسن بصری نے کہا، یہ وعید اور دھمکی ہے اگرچہ خبر کے انداز میں بیان کی گئی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر۔ کہف 29) جو چاہے ایمان لائے جو چاہے کفر اختیار کرے بعض اہل تاویل نے یہ تعبیر کی ہے اس کا معنی ہے جس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

63۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لمن شاء منکم ان یتقدم او یتاخر تم میں سے ہر ایک کے لیے خواہ کوئی اس کے آگے آئے یا پیچھے ہٹے۔ یعنی جو چاہے اللہ کی اطاعت کی اتباع کرے اور جو چاہے اس میں سے پیچھے ہٹ جائے۔ 64۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لمن شاء منکم ان یتقدم۔ یعنی جو آگے بڑھے اللہ کی اطاعت میں آیت او یتاخر اور جو پیچھے ہٹ جائے اللہ کی نافرمانی میں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لِمَنْ شَاۗءَ مِنْكُمْ : اس کے لیے جو چاہے تم میں سے ] [ان يَّتَقَدَّمَ : کہ وہ آگے بڑھے ] [اَوْ يَتَاَخَّرَ : یا (چاہے تو) پیچھے رہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 32–37

دوزخیوں سے سوال کہ تمہیں دوزخ میں کس نے پہنچایا ؟ پھر ان کا جواب، ان کو کسی کی شفاعت کام نہ دے گی، یہ لوگ نصیحت سے ایسے اعراض کرتے ہیں جیسے گدھے شیروں سے بھاگتے ہیں ان آیات میں اول تو یہ فرمایا ہے کہ چاند کی اور رات کی اور صبح کی قسم یہ دوزخ (جس کا اوپر سے ذکر چلا آ رہا ہے) بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک چیز ہے اس کے عذاب کو معمولی نہ سمجھا جائے اسی دنیا میں رہتے ہوئے جو اس کی خبر اللہ کی کتاب نے دی ہے یہ خبر سچی ہے اور اس کا بیان کرنا اس لیے ہے کہ انسان اس کے اخبار اور احوال سن کر خوف کھائے۔ (قال القرطبی صفحہ 58: ج 19) وذكر، لان معناہ معنی العذاب، او اراد ذات انذار علی معنی النسب کقولھم امراة…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–56

تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 35–37

14:۔ نذیرا، مصدر ہے بمعنی انذار اور یہ حدا الکبر کی تمییز ہے یعنی انذار اور یہ احدی الکبر کی تمییز ہے یعنی انذار و تخویف کے اعتبار سے دوزخ شدید ترین سزاؤں اور عقوبتوں میں سے ایک ہے یا یہ حال ہے اور تائے تانیث محذوف ہے (روح) ۔ دوزخ شدید ترین عقوبات میں سے ایک ہے۔ خلق کو ڈرانے والی ہے تاکہ وہ اس کے ڈر سے خدا کی اطاعت کریں۔ لمن شاء الخ، یہ للبشر سے بدل ہے۔ وہ ڈرانے والی ہے اس کو جو تم میں سے چاہے کہ نیکی اور بھلائی کی طرف بڑھے نیز اس کو جو گناہ و معصیت میں پیچھے رہے۔ من شاء ان یتقدم فی الخیر والطاعۃ ومن شاء ان یتاخر فی الشر والمعصیۃ (مظہری ج 10 ص 131) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِمَنْ شَاۗءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّتَقَدَّمَ اَوْ يَتَاَخَّرَ۝ 37 ۭ شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–47

ترکیب : کلار وع لقول الکفا ا نانقدر علی مقاومۃ خزنۃ النار والقمر الواوللقسم انھا الخ ھذا الکلام جواب القسم والضمیر الی سقر واتعلیل لکلاو القسم معترض للتاکید الکبر فی الکشاف انہ جمع الکبریٰ جعلت الف التانیث کتاء التانیث فکما جمعت فعلۃ علی فعل جمعت فعلی علیھا نذیرا بالنصب حال من الضمیر فی انھا قالہ الزجاج وقال الکسائی انہ حال من قولہ قم حال کو نک نذیراللبشر وقال الفراء مصدر بمعنی الانذار منصوب بفعل مقدروقیل تمیز لاحدی لتضمنھا معنی التعظیم وقیل مفعول لہ ای لاجل انذار البشر وقری بالرقع علی انہ خبرہ بعد خبراوبحذف المبتداء لمن شاء بدل من قولہ للبشر والتقدیر انھا نذیر لمن شاء منکم ان یتقدم اویتاخر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 32–37

کَلاَّ وَالْقَمَرِ ۔ وَالَّیْلِ اِذْ اَدْبَر۔ وَالصُّبْحِ اِذَٓا اَسْفَرَ ۔ اِنَّھَا لَاِحْدَی الْـکُبَرِ ۔ نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِ ۔ لِمَنْ شَآئَ مِنْـکُمْ اَنْ یَّـتَـقَـدَّمَ اَوْیَتَاَخَّرَ ۔ (المدثر : 32 تا 37) (ہرگز نہیں، قسم ہے چاند کی۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ پیٹھ پھیر لیتی ہے۔ اور قسم ہے صبح کی جب وہ روشن ہوجاتی ہے۔ بیشک وہ قیامت بڑے حوادث میں سے ایک ہے۔ جو انسان کے لیے نذیر ہے۔ اس کے لیے جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہے۔ ) دلائلِ آفاق سے اثباتِ قیامت اور قسموں کی وضاحت اثباتِ قیامت کا مضمون جاری ہے اور اشرافِ قریش کی ہر زہ سرائیوں کا جواب دیا جارہا ہے۔ اسی تسلسل کو آگے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–38

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کی ہولناکیوں کا مزید ذکر۔ سابقہ آیات میں جہنم کی ہولناکیوں اور اس پر مقرر کردہ ملائکہ کی تعداد کا ذکرہوا جسے اہل مکہ نے مذاق کا نشانہ بنایا اس پر ارشاد ہوا کہ یہ لوگ جہنم کے ملائکہ کی تعدا پر اعتراض کررہے ہیں انہیں کیا خبر ! کہ آپ کے رب کے لشکر کتنی تعداد میں ہیں اور کس قدر طاقتور ہیں ان کی تعداد اور طاقت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لہٰذا تمہیں جہنم سے ڈرنا چاہیے۔ قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ پلٹتی ہے اور صبح کی قسم جب وہ روشن ہوجاتی ہے جس جہنم کا یہ مذاق اڑاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خوفناک چیزوں میں بڑی ہی خوفناک جگہ ہے، چاند، رات اور دن کا حوالہ دے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

37 : لِمَنْ شَآ ئَ مِنْکُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَ (تم میں سے جو آگے کو بڑھے اس کے لئے بھی اور جو پیچھے کو ہٹے اس کے لئے بھی) لامؔ جارہ کا اعادہ کیا گیا ہے۔ ان یتقدمؔ سے مراد خیر کی طرف بڑھنا۔ اویتاخرؔ کا معنی خیر سے پیچھے ہٹنا۔ قول الزجاج : اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا یا منع کیا اس کی طرف بڑھنا اور پیچھے ہٹنا مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

36 ۔” نذیراً للبشر “ یعنی آگ انسانوں کو ڈرانے والی ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے اس سے زیادہ کسی دہشت ناک چیز سے نہیں ڈرایا اور اس کا نصب اللہ تعالیٰ کے قول ” لاحدی الکبر “ سے قطع پر ہے اس لئے کہ وہ معرفۃ ہے اور نذیراً نکرہ ہے۔ خلیل (رح) فرماتے ہیں نذیر مصدر ہے نکیر کی طرح اور اس لئے اس کے ساتھ مونث کو موصوف کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی صفت میں سے ہے اور اس کا مجاز ” وما جعلنا اصحاب النار الا ملائکۃ نذیراً للبشر “ یعنی ” اندارا لھم “ ان کو ڈرانے کے لئے۔ ابورزین فرماتے ہیں فرمایا ہے کہ میں تمہارے لئے اس سے نذیر ہوں۔ پس تم اس سے ڈرو اور کہا ہے یہ محمد ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–37

31۔ 37۔ تفسیر ابن جریر 1 ؎ وغیرہ میں جو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اوپر کی آیتوں میں یہ لفظ اترے کہ دوزخ پر انیس فرشتے تعینات ہیں تو ابوجہل نے قریش سے کہا کہ تم لوگ تو بہت بڑی قوم ہو تم میں سے سو سو شخص بھی اگر ایک ایک فرشتے سے بھگت لو گے تو انیس فرشتے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کی عقل ماری گئی ہے جو یہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ یہ انیس انسان نہیں جو سارے قریش مل کر ان سے بھگت لیں گے یہ تو فرشتے ہیں۔ ان میں کا تو ایک ایک ساری دنیا کے الٹ پلٹ کردینے کو کافی ہے۔ کیا ان لوگوں نے سنا نہیں کہ اللہ کے ایک فرشتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–37

(كَلَّا) یہاں بمعنی (حقا) یا بمعنی (الا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لامحدود وقوت، بےپایاں رحمت ور اس کے احاطہ علم پر دلالت کرتی ہیں۔ جس پر قسم کھائی وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (انھا لاحدی الکبر) کہ وہ آگ ایک بہت بڑی آفت ہے۔ یعنی بیشک جہنم کی آگ بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کردینے والا معاملہ ہے۔ پس جب ہم نے تمہیں اس کے بارے میں خبردار کردیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو، تب تم میں سے جو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

30 اصل مدارو انحصار انسان کے اپنے ارادہ و اختیار پر : سو ارشاد فرمایا گیا ہر اس شخص کیلئے جو آگے بڑھنا چاہے ایمان و اطاعت اختیار کرکے ‘ سو اس ہولناک دن کے آنے سے پہلے لوگوں کو خبردار کردیا گیا اور اس کے انذار کیلئے ایسا کامل اور حکمتوں بھرا انتظام کردیا کہ اب کسی کیلئے یہ کہنے کی یا اس کا عذر اور بہانہ کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی کہ اس کو اس کا پتہ نہیں تھا ‘ یا اس کو خبردار نہیں کیا گیا تھا۔ سو اب خیر میں آگے بڑھنا اور اپنی عقبی کو بنانے سنوارنے کا معاملہ اس کے اپنے ارادہ اور مرضی پر ہے۔ سو یہ ارشاد ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " وقل الحق من ربکم ومن شاء فلیمون…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–38

منکرین اور ان کا انجام تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–56

آیات 32 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 34–39

ف 11 یعنی وہلوگ جنہیں ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا جو دائیں ہاتھ چلائے جائیں گے یا جو حضرت آدم کی پشت کی دائیں جانب سے نکلے یا جو دنیا میں سیدھی راہ پر چلتے رہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:37) لمن شاء منکم ان یقدم او یتاخر لمن شاء بدل ہے۔ للبشر سے یعنی تم میں سے دونوفریقوں کے لئے نذیر ہے ایک فریق وہ جو خیر و طاعت میں آگے بڑھنا چاہتا ہے دوسرا وہ فریق جو کہ شر اور گناہ میں پڑا رہنا چاہتا ہے۔ مطلب یہ کہ تم کو سقر کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے اب تم میں سے جس کا جی چاہے اس سے ڈر کر بھلائی اور نیکی کے راستہ پر آگے بڑھے یا برائیوں میں پھنس کر پیچھے رہ جائے۔ ان یتقدم : ان مصدریہ یتقدم مضارع منصوب بوجہ عمل ان صیغہ واحد مذکر غائب ۔ تقدم (تفعل) مصدر آگے بڑھنا۔ او بمعنی یا یتاخر ای ان یتاخر ان مصدریہ یتاخر فعل مضارع منصوب بوجہ عمل ان صیغہ واحد مذکر غائب۔ تاخر (تفعل) مصدر بمعنی پیچھے رہنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–56

لغات القرآن۔ ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔ تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–37

(ف 3) آگے بڑھے نیکی یا بہشت کی طرف اور پیچھے رہے بدی میں پھنسا ہوا یا دوزخ میں پڑا ہوا بہرحال مقصود یہ ہے کہ دوزخ سب مکلفین کے حق میں بڑے ڈراوے کی چیز ہے اور چونکہ اس ڈرانے کے عواقب ونتائج قیامت میں ظاہر ہوں گے اس لیے قسم ایسی چیزوں کی کھائی جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے چناچہ چاند کا اول بڑھنا پھر گھٹنا نمونہ ہے اس عالم کے نشوونما اور اضمحلال وفنا کا، اسی طرح اس عالم دنیا کو آخرت کے ساتھ حقائق کے اختفاء واکتشاف میں ایسی نسبت ہے جیسے رات کو دن کے ساتھ گویا اس عالم کا ختم ہوجانا رات کے گذرجانے اور اس عالم کا ظہور نور صبح کے پھیل جانے کے مشابہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 33–37

[14] یعنی اب جس کا جی چاہے اس سے ڈر کر بھلائی کے راستے پر آگے بڑھے اور جس کا جی چاہے بدی میں پھنس کر پیچھے رہ جائے۔ مقصود یہ ہے کہ دوزخ بڑے ڈراوے کی چیز ہے اور کیونکہ اس ڈراوے کے عواقب و نتائج قیامت میں ظاہر ہوں گے اس لئے قسم ایسی چیز کی کھائی گئی ہے جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے۔ چناچہ پہلے چاند کو پیش کیا گیا ہے کہ جس طرح وہ درجہ بدرجہ ہلال سے بدر کے مقام تک پہنچتا ہے اسی طرح انسان بھی مختلف اطوار و مراحل سے گزرتا ہوا بالآخر اس مقام تک پہنچے گا جس کی خبر دی جا رہی ہے۔ چاند کے بعد رات اور صبح کی قسم کھائی گئی ہے یعنی جس طرح رات کی تاریکی میں صبح کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا لیکن وقت آتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–37

صبح اسلام کا طلوع 1: قمر سے مراد نبوت سابقہ کی روشنی ہے ۔ رات سے مقصود کفر کی تاریکی ہے ۔ جو صبح کی آمد آمد میں غائب ہورہی ہے ۔ اور یہ صبح وہ صبح سعادت ہے ۔ کہ جس کے مقابلہ میں ظلمت کا کوئی اثر نہیں اور شام قیامت تک ممتد ہے ۔ فرمایا ۔ کہ تم یقین رکھ کہ دوزخ کا مسئلہ کوئی ڈھکوسلہ نہیں ۔ بلکہ یہ بڑی بھاری چیز ہے ۔ اس کے قیام اور بقا ہے یہ غرض ہے ۔ کہ نادان انسان دنیا میں اس کی ہولناک سزاؤں کا خیال کرکے پاکبازی اور پرہیزگاری کی زندگی بسر کرے ۔ حل لغات :۔ اسفر ۔ روشن ہوجائے الکبر ۔ کبریٰ کی جمع ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(37) جو تم میں سے کوئی آگے بڑھنا چاہے اس کے لئے بھی اور جو پیچھے رہے اس کے لئے بھی۔ کلا اصل میں تو ردع اور جھڑکی کے لئے ہے اس جگہ کی مناسبت سے اپنے حضرات نے کئی طرح معنی کئے ہیں ہم نے تقریباً سب لکھ دیئے ہیں اس کے بعد چاند کی قسم ہے جس کا گھٹنا بڑھنا آنکھوں کے سامنے ہے یہ نمونہ عالم کے نشو و نما اور اضمحلال کا رات کا جانا اور صبح کا آنا نمونہ ہے فنا اور بقا کا۔ جس طرح رات ختم ہوکر دن نکلتا ہے اور رات کے اندھیرے میں چھپی ہوئی سب چیزیں منکشف ہوجاتی ہیں اور ہر شئے کی حقیقت ظاہر ہوجاتی ہے اسی طرح اس عالم کے بعدجب دوسرے عالم کی روشنی ظاہر ہوگی اس وقت حق اور باطل علیحدہ علیحدہ نظر آجائے گا، یہ سب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 37–40

ف 2۔ مطلب یہ کہ جمیع مکلفین کے لئے نذیر ہے اور چونکہ عواقب اس انذار کے قیامت میں ظاہر ہوں گے اس لئے قسم ایسی چیزوں کی کھائی گئی ہے جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 32–37

(نہیں کیا) یعنی ایسا نہیں کہ کوئی سقر کا انکار کرسکے (قسم ہے چاند کی) کہ وقتوں اور مدتوں کی پہچان اس سے متعلق ہے۔ (اور رات کی جب پیٹھ پھیرے) یعنی جب جاتی ہے دن کے آگے سے ، (اور صبح کی جب روشنی پھیلا دے) اور عالم کو روشن کردے۔ (بیشک جہنم بڑی چیزوں کی ایک ہے) یعنی ایک درکہ دوزخ کے بڑے درکوں میں سے ہے ۔ (اور (ڈراؤنی بشر کے لیے) یعنی ہم نے کیا ہے اسے ایک چیز کہ اس سے ڈرائیں آدمی کو۔ لباب میں ہے کہ حق تعالیٰ رسول اللہ کو فرماتا ہے کہ قم نذیرا ، یعنی کھڑا ہو ڈرانے والا آدمیوں کے واسطے تاکہ تجھ سے نصیحت پکڑ کر گناہ سے پرہیز کریں۔ اس قول پر رسول ڈرانے والے ہیں اور پہلے قول پر دوزخ ڈرانے والی ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

لِمَنْ شَاۗءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّتَقَدَّمَ اَوْ يَتَاَخَّرَ (to the one who wishes to come forward [ towards good deeds ] or to go back [ from them ]...74:37) In this context, 'to come forward' signifies 'coming forward towards faith and obedience' and ta'akhkhur 'to go backward' signifies 'moving away from faith and obedience'. The verse purports to warn against the torment and torture of the Hellfire. This applies to all human beings in general. Some accept the warning and are guided by the truth, and the unfortunate ones hold back from accepting the warning, turn away from it and reject it.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

29 That is, the people have been warned to this effect. Now, let him who heeds the warning go forward on the right way, and let him who wills still lag behind.

Read the full tafseer →