Explained with ayahs 38–56
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہوگا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ…
Read the full tafseer →سورة الْمُدَّثِّر 30
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة طور، حاشیہ 16۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–47
ۭكُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ 38ۙاِلَّآ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ
رھنتہ بمعنی مرہونہ ہے اور مراد اس سے اس کا محبوس ومقید ہونا ہے جس طرح کوئی شخص قرص کے بدلے میں کوئی چیز رہن رکھدے تو وہ چیز قرض خواہ کے قبضہ میں محبوس رہتی ہے، مالک اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اسی طرح قیامت کے روز ہر ایک نفس اپنے گناہوں کے بدلے میں محبوس اور مقید رہیگا مگر اصحاب الیمین اس حبس اور قید سے مستثنی ہوں گے۔
یہاں حبس سے مراد جہنم میں محبوس ہونا بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر مذکور میں لیا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ ہر شخص اپنے اپنے گناہوں کی سزا بھگنتے کے لئے جہنم میں محبوس رہے گا مگر اصحاب الیمین اس…
Read the full tafseer →عمل ہی نجات دے گا، عمل ہی ہلاکت کرے گا:
یعنی قانون الٰہی یہ ہے کہ جس طرح معلول اپنی علت کے ساتھ بندھا ہوا ہوتا ہے اسی طرح ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ بندھا ہوا ہو گا۔ جزا و سزا کے دن اس کا عمل ہی اس کو چھڑائے گا اور عمل ہی اس کو ہلاک کرے گا۔ اگر کوئی حسب و نسب اور شرک و شفاعت کے بل پر اس دن کی آفتوں سے چھوٹنے کے زعم میں مبتلا ہے تو وہ یاد رکھے کہ اس طرح کی کوئی چیز اس کے کام آنے والی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →38۔ 1 رہن گروی کو کہتے ہیں یعنی ہر شخص اپنے عمل کا گروی ہے، وہ عمل اسے عذاب سے چھڑا لے گا، (اگر نیک ہوگا) یا ہلاک کروا دے گا۔ (اگر برا ہے)
Read the full tafseer →17: یعنی جس طرح قرض کی توثیق کے لیے کوئی چیز گروی (رہن) رکھی جاتی ہے، کہ اگر قرض ادا نہ ہوا تو قرض خواہ اسے بیچ کر اپنا حق حاصل کرسکتا ہے، اسی طرح کافر اس طرح رہن رکھا ہوا ہے کہ یا تو ہدایت کا راستہ اختیار کرلے، ورنہ اس کا پورا وجود دوزخ کا ایندھن بنے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
ہر شخص اپنے نفس کا ذمہ دار ہے ، جس حالت میں اسے چاہے ، رکھ دے ، جو بوجھ چاہے اٹھالے ، جو قدم چاہے اٹھائے۔ اچھائی کی طرف آگے بڑھے ، یا پیچھے رہ جائے۔ اپنے آپ کو عزت دے یا ذلیل کرے۔ ہر نفس اپنی کمائی کے ہاتھ رہن ہے اور اپنے اعمال کے ہاں قید ہے۔ اللہ نے ہر شخص کو راہ ہدایت بھی بتادی ہے اور راہ ضلالت بھی دکھا دی ہے اور اس کائنات کے ان مناظر کی روشنی میں اور جہنم کی منظر کشی کے بعد وہ ہر اس چیز کو فنا کردینے والی ہے ، جو اس کے دائرے کے اندر آجائے۔
اس منظر کے بعد کہ ہر نفس اپنے کیے کا ذمہ دار ہے اور جو کچھ اس نے کیا اس کا مرہون ہے۔ یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اصحاب الیمین ان جکڑ بندیوں اور ان پابندیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
8 یعنی جو لوگ میثاق کے دن حضرت آدم کی پشت سے داہنی طرف سے نکلے تھے اور دنیا میں بھی سیدھی چال چلتے رہے اور موقف میں بھی عرش کے داہنی طرف جدھر بہشت ہے کھڑے ہوئے اور اسی طرف روانہ ہوئے اور ان کے نامہ اعمال بھی داہنے ہاتھ میں آئے وہ لوگ البتہ قید میں پھنسے ہوئے نہیں بلکہ جنت کے باغوں میں آزاد ہیں اور نہایت بےفکر اور فارغ البال ہو کر آپس میں ایک دوسرے سے یا فرشتوں سے گنہگاروں کا حال پوچھتے ہیں کہ وہ لوگ کہاں گئے جو نظر نہیں پڑتے۔
Read the full tafseer →آیت 38{ کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ رَہِیْنَۃٌ۔ } ”ہر جان رہن ہے اس کے عوض جو کچھ کہ اس نے کمایا ہے۔“
ہر انسان نے اپنی دنیا کی زندگی میں جو کچھ کمایا ہے قیامت کے دن وہ سب کچھ اسے وصول کرنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
19 حقیقت تو وہی کچھ ہے جو تمہیں بتادی گئی ہے۔ اب یہ بات ہر شخص کی پسند اور ارادہ و اختیار پر منحصر ہے کہ ہدایت کی طرف آگے بڑھتا ہے۔ یا گمراہی کی دلدلوں میں ہی پھنسا رہنا چاہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
19۔ (خود انہیں کفار مجرمین سے) سوال سے محض استفسار حال مقصود نہ ہوگا، اہل دوزخ کی مزید تذیل وسرزنش بھی مقصود ہوگی۔ (آیت) ” کل ...... رھینۃ “۔ یہ محبوسی دوزخ کی ہے، ہر شخص اپنی پاداش عمل میں گرفتار و ماخوذ ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ عفو خداوندی کسی کے جرائم ہی کو نظر انداز کردے۔ (آیت) ” الااصحب الیمین “۔ یعنی اہل جنت جنہیں نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں ملے گا، وہ اس حبس سے ہر طرح محفوظ ومستثنی ہوں گے۔ (آیت) ” المجرمین “۔ مراد کفار اہل دوزخ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…
Read the full tafseer →کل نفس بما کسبت . یعنی گناہ ‘ بد اعمالیاں۔
رھینۃ . یہ شتیمۃ کی طرح مصدر ہے۔ صیغۂ صفت (بروزن فعیلۃ) بمعنی اسم مفعول نہیں ہے کیونکہ جو وزن فعیل بمعنی مفعول ہوتا ہے اس میں مذکر و مؤنث برابر ہوتے ہیں۔ مؤنث کے لیے تانیث کی تاء زیادہ نہیں کی جاتی اس لیے اگر صیغۂ صفت بمعنی اسم مفعول ہو تو رھینۃ کی بجائے رھینٌ ہونا چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اپنی بد اعمالی کی وجہ سے دوزخ میں ہمیشہ کے لیے محبوس ہوگا۔ بد اعمالی کی وجہ سے یعنی کفر کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
(32۔ 38) قسم ہے چاند کی اور رات کی جس وقت وہ جانے لگیں اور صبح کی جبکہ وہ آنے لگے یا یہ کہ روشن ہوجائے اور سقر دوزخ کے حصوں میں سے ایک بڑا حصہ ہے، چناچہ جہنم، سقر، نطی، حظمہ، سعیر، جحیم، ہاویہ یہ سب دوزخ کے حصے ہیں جو ان کے لیے بڑا ڈراوا ہے۔
یا یہ کہ محمد انسانوں کو ڈرانے والے ہیں اب اس صورت میں اس جملہ کا تعلق صورت کے ابتدائی کلمات قم فانذر سے ہوجائے گا۔
یعنی تم میں جو چیز خیر کی طرف بڑھ کر ایمان لے آئے اس کے لیے بھی یا شر سے ہٹ کر اس کو چھوڑ دے اس کے لیے بھی، یا یہ کہ خیر سے ہٹ کر کفر اختیار کرے ہر کافر شخص اپنے اعمال کفر کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے دوزخ میں محبوس ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(کل نفس بما کسبت …: یعنی جس طرح کوئی گروی رکھی ہوئی چیز اس وقت تک نہیں چھوٹتی جب تک وہ حق ادا نہ کردیا جائے جس سکے بدلے اسے گروی رکھا گیا ہے، اسی طرح ہر شخص اپنے عمل کے عوض گروی اور گرفتار ہوگا ، جب تک وہ عمل پیش نہ کرے جس کی ادائیگی اس پر واجب تھی، رہئای نہیں پاسکتا۔ ہاں جنہیں دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا وہ گرفتار نہیں ہوں گے بلکہ اعمال صالحہ کی وجہ سے رہا ہو جایئں گے، جس طرح حق ادا کرنے سے گروی چھوٹ جاتی ہے۔
Read the full tafseer →کل نفس بما کسبت رھینہ۔ ہر نفس اپنی کمائی کے بدلہ میں رھن رکھا گیا ہے، اور اپنے عمل کے بدلے میں ماخوذ ہے، یا تو اس کا عمل اس سے چھٹکارا دلائے گا، یا اسے ہلاک کرے گا، رھینہ، رھین کی مونث ہے کیونکہ نفس مونث ہے کیونکہ اس کی صفت کا قصد کیا جاتا تورھین ہوگا۔ کیونکہ فعیل کا وزن جب اسم مفعول کا معنی دے تو اس میں مذکر اور مونث برابر ہوتے ہیں بلکہ یہ رہن کے معنی میں اسم ہے، جس طرح شتیبہ، شتم کے معنی میں ہے گویا کلام یوں کی گئی ہے کل نفس بماکسبت رھین۔ اس معنی میں حماسہ کا شعر ہے۔ ابعدالذی بالنعف نعف کو یکب، رھینہ رمس ذی تراب وجندل۔ گویا رھین، رمیس کہا، معنی یہ ہوگا ہر نفس اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے اعمال…
Read the full tafseer →1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کل نفس بما کسبت رہینۃ ہر شخص اپنے اعمال کے سبب گروی ہے۔ یعنی اپنے اعمال کے بدلے میں پکڑے جانے والا ہے۔
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کل نفس بما کسبت رہینۃ الا اصحب الیمین۔ ہر شخص اپنے اعمال کے سبب گروی ہے مگر داہنے ہاتھ والے۔ یعنی سارے لوگ معلق رہیں گے اصحاب الیمین کے علاوہ۔
3۔ سعید بن منصوروعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت کل نفس بما کسبت رہینۃ الا اصحب الیمین کے بارے میں روایت کیا کہ ان کا حساب نہیں کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →[كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ : ہر جان، اس میں جو اس نے کمائی کی ] [رَهِيْنَةٌ: گروی رکھی ہوئی ہے ]
Read the full tafseer →﴿ كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌۙ0038﴾ (ہر جان اپنے عمل کی وجہ سے مرہون ہے) جیسے کوئی شخص کسی کے پاس اپنی کوئی چیز رہن رکھ دیتا ہے پھر اسے چھڑا نہیں سکتا۔ جب تک وہ مال ادا نہ کر دے جس کے عوض چیز رہن رکھی ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن ہر شخص کا عمل روکے رکھے گا یعنی حساب کتاب ہوگا اہل کفر اور اہل شرک کا جرم چونکہ سب سے بڑا ہے اس لیے اہل کفر اور اہل شرک اپنے اس جرم کی وجہ سے ہمیشہ ہی محبوس رہیں گے۔ انہیں کوئی عمل کوئی فدیہ کوئی سفارش دوزخ سے نہ چھڑا سکے گی، اب رہے وہ لوگ جو مومن تو تھے لیکن اعمال صالحہ بھی کیے اور برے اعمال کا ارتکاب بھی کرلیا تو یہ لوگ نیکیاں زیادہ ہونے کی وجہ سے چھوٹ جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
15:۔ ” کل نفس “۔ رھینۃ مصدر ہے رھن کا۔ یہ فعیل بمعنی مفعول نہیں کیونکہ اس کا استعمال مذکر، مونث میں یکساں ہے۔ قیامت کے دن ہر نفس کفر و طغیان کی وجہ سے دوزخ میں رہن اور محبوس ہوگا مگر اصحاب الیمین یعنی وہ لوگ جن کو اعمالنامے دائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے کیونکہ وہ تو جنت میں ہوں گے اور ان کو وہاں ہر قسم کی راحت اور ہر نوع تعیش و تنعم حاصل ہوگی۔ یتساءلون، وہ مشرکین کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہوں گے اور مجرموں سے پوچھیں گے کہ کیا چیز تمہیں دوزخ میں لے آئی ہے اور تمہارے وہ کون سے اعمال ہیں جو تمہارے دوزخ میں آنے کا باعث ہوئے۔
Read the full tafseer →كُلُّ نَفْسٍؚبِمَا كَسَبَتْ رَہِيْنَۃٌ 38 ۙ
نفس
الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ،
( نس ) النفس
کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے
كسب ( عمل رزق)
الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
ترکیب : کلار وع لقول الکفا ا نانقدر علی مقاومۃ خزنۃ النار والقمر الواوللقسم انھا الخ ھذا الکلام جواب القسم والضمیر الی سقر واتعلیل لکلاو القسم معترض للتاکید الکبر فی الکشاف انہ جمع الکبریٰ جعلت الف التانیث کتاء التانیث فکما جمعت فعلۃ علی فعل جمعت فعلی علیھا نذیرا بالنصب حال من الضمیر فی انھا قالہ الزجاج وقال الکسائی انہ حال من قولہ قم حال کو نک نذیراللبشر وقال الفراء مصدر بمعنی الانذار منصوب بفعل مقدروقیل تمیز لاحدی لتضمنھا معنی التعظیم وقیل مفعول لہ ای لاجل انذار البشر وقری بالرقع علی انہ خبرہ بعد خبراوبحذف المبتداء لمن شاء بدل من قولہ للبشر والتقدیر انھا نذیر لمن شاء منکم ان یتقدم اویتاخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
کُلُّ نَفْسٍ م بِمَا کَسَبَتْ رَھِیْنۃٌ۔ اِلَّآاَصْحٰبَ الْیَمِیْنِ ۔ فِیْ جَنّٰتٍ قف ط یَتَسَآئَ لُوْنَ ۔ عَنِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (المدثر : 38 تا 41)
(ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں رہن ہے۔ مگر داہنی طرف والے۔ وہ باغوں میں ہوں گے، پوچھ گچھ کررہے ہوں گے۔ ، مجرموں کے حال کے بارے میں۔ )
اعمال پر کامیابی اور ناکامی کا دارومدار ہے
اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ ہر شخص کی قدر و قیمت اور اس کے اچھے برے انجام کا دارومدار اس کے اعمال پر ہے۔ بظاہر انسان اپنی شکل و صورت، اپنے رنگ و روپ، اپنے قبیلے، اپنی نسل، اپنے خاندان اور اپنے جغرافیے سے پہچانا جاتا اور مختلف مقامات سے گزارا جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
فہم القرآن
ربط کلام : جہنم کی ہولناکیوں کا مزید ذکر۔
سابقہ آیات میں جہنم کی ہولناکیوں اور اس پر مقرر کردہ ملائکہ کی تعداد کا ذکرہوا جسے اہل مکہ نے مذاق کا نشانہ بنایا اس پر ارشاد ہوا کہ یہ لوگ جہنم کے ملائکہ کی تعدا پر اعتراض کررہے ہیں انہیں کیا خبر ! کہ آپ کے رب کے لشکر کتنی تعداد میں ہیں اور کس قدر طاقتور ہیں ان کی تعداد اور طاقت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لہٰذا تمہیں جہنم سے ڈرنا چاہیے۔ قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ پلٹتی ہے اور صبح کی قسم جب وہ روشن ہوجاتی ہے جس جہنم کا یہ مذاق اڑاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خوفناک چیزوں میں بڑی ہی خوفناک جگہ ہے، چاند، رات اور دن کا حوالہ دے…
Read the full tafseer →38 : کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ رَھِیْنَۃٌ (ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں محبوس ہوگا) رھینۃ یہ رہین کی مؤنث نہیں ہے۔ جو اس ارشاد میں آیا ہے کل امری بما کسب رھین ] الطور : 21[ کیونکہ نفس مؤنث ہے اگر صفت مراد ہوتی تو رھینؔ کہا جاتا کیونکہ فعیل مفعول کے معنی میں ہے۔ اور اس وزن میں مذکر و مؤنث برابر ہے۔ یہ اسم بمعنی الرھنؔ کے ہے۔ جیسا کہا الشتیمہ بمعنی الشتم ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا کل نفس بما کسبت رَھنٌ معنی یہ ہے۔ ہر نفس اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے اعمال کے بدلے رہن رکھا ہوا ہے۔ وہ اس سے آزاد نہیں ہے۔
Read the full tafseer →37 ۔” لمن شائ “ بدل ہے اللہ تعالیٰ کے قول للبشر سے۔ ” منکم ان یتقدم “ خیر اور طاعت میں۔ ” اویتاخر “ اس سے شر اور معصیت اور معنی یہ ہے کہ انذار حاصل ہو ہر اس شخص کے لئے جو ایمان لایا یا کفر کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–56
38۔ 56۔ جس طرح گروی رکھوانے والا شخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھوڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھوڑانے کے لئے اپنے اپنے عمل کے پابند کئے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک و بد عمل کا حساب لکھنے کے لئے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اور اس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیا جاتا ہے اس کاغذ کو اعمال نہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جن کا حساب آسانی سے ہو کر جلدی سے ان کی نجات ہونے والی ہے۔ چناچہ اذا السماء انشقت میں آئے گا۔ فما من اوتی…
Read the full tafseer →(كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ ) ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے، یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے (رَهِيْنَةٌ) گروی ہے۔ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے
قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔
دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →31 ہر شخص اپنے اعمال سے بندھا ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہر کوئی اپنے کیے کے بدلے میں رہن ہوگا۔ سو جس طرح رہن رکھی ہوئی چیز اس کا حق ادا کیے بغیر واغذار نہیں ہوسکتی اسی طرح یہ لوگ بھی اپنے کئے کرائے کے پھندے سے نہیں نکل سکیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے قانون الٰحی کی ایک بڑی دفعہ کو واضح فرما دیا گیا کہ جس طرح معلول اپنی علت کے ساتھ بندھا ہوا ہوتا ہے ‘ اسی طرح اس یوم حساب اور یوم جزا و سزا میں ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ بندھا ہوا ہوگا اور فصل وتمیز کے اس یوم عظٔم میں اس کا عمل ہی اس کو چھڑا سکے گا، اور اس کا عمل ہی اس کی ہلاکت کا باعث ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس اگر کوئی حسب و نسب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–38
منکرین اور ان کا انجام
تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
آیات 32 تا 56۔
اسرار ومعارف۔
اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
ف 11 یعنی وہلوگ جنہیں ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا جو دائیں ہاتھ چلائے جائیں گے یا جو حضرت آدم کی پشت کی دائیں جانب سے نکلے یا جو دنیا میں سیدھی راہ پر چلتے رہے۔
Read the full tafseer →(74:38) کل نفس بما کسبت رھینۃ : کل نفس مضاف مضاف الیہ سب جانیں۔ تمام اشخاص، ہر کوئی، ہر شخص، بما میں ب سببیہ ہے ما موصولہ کسبت اس کا صلہ ۔ ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ کسب باب ضرب مصدر۔ اس نے کمایا۔
رھینۃ گروی، یہ رھین کی تانیث نہیں ہے کیونکہ نحو کا یہ قاعدہ ہے کہ جب فعیل مفعول کے معنی میں ہو تو مذکر اور مؤنث دونوں کے لئے صفت آتی ہے اگر یہ رھین بمعنی مصدر ہے۔ اس کا مطلب رہن ، گروی ہونا ہے (ضیاء القرآن) ۔ آیت کا مطلب ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلہ میں گروی ہے۔
تفسیر حقانی میں ہے :۔ رھینۃ اسم بمعنی الرھن کا لشییمۃ بمعنی الشتم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
لغات القرآن۔
ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔
تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–51
(ف 1) جس طرح گروی رکھوانے والاشخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھڑانے کے لیے اپنے اپنے عمل کے پابند کیے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک وبد کا حساب لکھنے کے لیے ہر شخص کے ساتھ دوفرشتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اورس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیاجاتا ہے۔ اس کاغذ کو اعمال نامہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تودائیں ہاتھ میں دیاجائے جن کے حساب آسانی سے ہوکر جلدی سے ان کو نجات ہونے والی ہے اور جن لوگوں کے حساب میں جانچ منظور ہے ان سب کے اعمال نامہ بائیں ہاتھ…
Read the full tafseer →[15] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة طور حاشیہ 9 صفحہ 1282۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ خدا کسی شخص پر چڑھ کرکے اس کو نیکی اور تقویٰ پر آمادہ نہیں کرتا ۔ اس نے ہر ایک کو اختیار دے رکھا ہے ۔ کہ وہ اپنے لئے جس طرح کی زندگی پسند کرے ۔ چاہے خیروبرکت کی حرف بڑھے اور مراتب میں رفعت وارتقاء حاصل کرے ۔ اور چاہے ہر نیکی سے محروم رہے ۔ اور اپنے لئے خسران اور پستی اختیار کرے ۔
Read the full tafseer →(38) ہر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے رہن رکھا ہوا ہے یعنی ہر شخص اپنے کئے کاموں میں پھنسا ہوا ہے ہم سورة طور میں تفصیل عرض کرچکے ہیں یعنی ہر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے محبوس ہے جس طرح شئے مرہونہ محبوس ہوتی ہے اور یہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرضہ ادا کردو اور اپنی چیز لے لو ، یہی حالت اعمال کی ہے ، اللہ تعالیٰ نے بندہ کو جن چیزوں کا مکلف کیا ہے اگر وہ بجالائے اور ان حقوق کو پورا کردے تو گردن چھٹ جائے اور اگر ان حقوق کو پورا نہیں کیا تو اسی طرح محبوس سمجھو جس طرح شئے مرہونہ محبوس ہوتی ہے۔
آگے ان مخصوص حضرات کا استثنا ہے جو حقوق اور فرائض کی بجاآوری کے باعث سبکدوش ہوچکے ہیں، چناچہ فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ف 2۔ مطلب یہ کہ جمیع مکلفین کے لئے نذیر ہے اور چونکہ عواقب اس انذار کے قیامت میں ظاہر ہوں گے اس لئے قسم ایسی چیزوں کی کھائی گئی ہے جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
(ہر جان جو کچھ کمایا اس میں گرو ہے) یعنی اللہ کے ہاں ہر نفس اپنے اعمال کا قیدی ہوگا ،۔۔۔ بعض تفاسیر میں ہے کہ ہر نفس بسبب اپنے برے اعمال کے قیدی ہوگا۔۔۔ (مگر داہنے ہاتھ والے) جن کے اعمال صالحہ ہوں گے۔ وہ لوگ اعمال صالحہ کی وجہ سے آزاد ہوں گے ، جیسے راہن شے کو آزاد کردیتا ہے جو قرض ادا کردے۔
یہ اصحاب یمین ایسے (باغوں میں) رہنے والے (ہیں) جن کی حقیقت کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی کوئی اس کی وسعت کو بیان کرسکتا ہے۔ یہی اہل یمین جنتوں کے اونچے محل پر ہوں گے اور دوزخ کو دیکھنے والے ہوں گے ، جو (دریافت کریں گے۔ مجرموں سے) یعنی مشرکین سے ان کے احوال ، (کہ کیا چیز لے گئی تمہیں جہنم میں ؟ انہوں نے جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–47
كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ اِلَّآ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ (Everyone will be detained [ in the Hell ] because of what he did, [ 38] except the People of the Right, [ i.e. those who will be given their Book of Deeds in their right hands ] 74:38-39)
The word rahinah is used in the sense of marhunah 'will be detained'. The word is derived from rahn 'to give something valuable to a pawnbroker as a security for a debt. The valuable thing is thus merely detained by the pawnbroker. He cannot use it or take advantage of it. Likewise, every person on the Day of Judgment will be detained in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
30 For explanation, see E.N. 16 of Surah At-Tur.
Read the full tafseer →