Al-Muddaththir 74:36

Al-Muddaththir · from ayah 36

74:36

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِ ۟ۙنَذِيۡرًا لِّلۡبَشَرِۙ

(اور) بنی آدم کے لئے مؤجب خوف

— Fateh Muhammad Jalandhari

As a warning to humanity -

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir

All translations of 74:36

(اور) بنی آدم کے لئے مؤجب خوف

— مولانا فتح محمد جالندہری

بنی آدم کو ڈرانے والی

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو تمام انسانوں کو خبردار کر رہی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

انسان کو ڈرانے والی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بشر کے لیے ڈرانے والی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ انسانوں کے لیے موجب خوف ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو انسان کی تنبیہ کے لئے سنایا گیا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایک بڑا بھاری ڈراوا (نوع) بشر کے لئے

— مولانا اسحاق مدنی

خبردار کرنے کے لیے انسانوں کو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور بنیآدم کے لیے خوف کا موجب ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

as a warning to the mankind,

— Muhammad Taqi Usmani

as a warning to the mankind,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A warning to mankind

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

As a warning to humanity -

— Saheeh International

It is a warning for mankind

— Muhammad Sarwar

A warning to mortals,

— Muhammad Habib Shakir

A warning Unto humankind -

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 74:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–37

سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بےرحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابو جہل نے کہا اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو نہ تھکا سکو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 35–36

سورة الْمُدَّثِّر 28 یعنی جس طرح چاند، اور رات اور دن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عظیم نشانات ہیں اسی طرح دوزخ بھی عظائم قدرت میں سے ایک چیز ہے۔ اگر چاند کا وجود غیر ممکن نہ تھا، اگر رات اور دن کا اس باقاعدگی کے ساتھ آنا غیر ممکن نہ تھا، تو دوزخ کا وجود، آخر کیوں تمہارے خیال میں غیر ممکن ہوگیا ؟ جن چیزوں کو چونکہ تم رات دن دیکھ رہے ہو اس لیے تمہیں ان پر کوئی حیرت نہیں ہوتی، ورنہ اپنی ذات میں یہ بھی اللہ کی قدرت کے نہایت حیرت انگیز معجزے ہیں، جو اگر تمہارے مشاہدے میں نہ آئے ہوتے، اور کوئی تمہیں خبر دیتا کہ چاند جیسی ایک چیز بھی دنیا میں موجود ہے، یا سورج ایک چیز ہے جس کے چھپنے سے دنیا میں اندھیرا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–36

وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُو ائمہ تفسیر میں سے مقاتل نے فرمایا کہ یہ جواب ابوجہل کے کلام کا ہے اس نے جب یہ آیت سنی کہ جہنم کے خازن انیس فرشتے ہیں تو قریشی جوانوں کو خطاب کرکے کہنے لگا کہ محمد کے ساتھی تو فقط انیس ہیں اس کی تمہیں کیا فکر ہوسکتی ہے۔ اور بیہقی نے سدی سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی علیھا تسعھ عشر تو ایک بیہودہ کافر قریش جس کو ابوالاسلین کہا جاتا تھا بول اٹھا کہ اے قوم قریش کچھ فکر نہ کرو۔ ان انیس کے لئے تو میں اکیلا کافی ہوں میں اپنے داہنے بازو سے دس کو بائیں بازو سے نو کو دفع کرکے ان انیس کا خامہ کردونگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ احمقو اول تو فرشتہ ایک بھی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 35–36

یہ مذکورہ بالا قسموں کا مقسم علیہ ہے۔ یعنی قرآن کی یہ آیات جو دوزخ کے ہول سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے نازل کی گئی ہیں، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہیں بلکہ اس کائنات کے عظیم احوال و حوادث میں سے ہیں۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو ان سے سبق حاصل کرنے کے بجائے ان کو اپنے مذاق کا موضوع بنائیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 35–36

35۔ 1 یہ جواب قسم ہے کُبَر، کُبْرَیٰ کی جمع ہے تین نہایت اہم چیزوں کی قسموں کے بعد اللہ نے جہنم کی بڑائی اور ہولناکی کو بیان کیا ہے جس سے اس کی بڑائی میں کوئی شک نہیں رہتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

15: دوزخ جیسی بڑی مصیبت کا یہ تذکرہ ان مضامین میں سے ہے جو لوگوں کو غفلت سے ہوش میں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ بات کہنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے چاند کی قسم کھائی ہے کہ جس طرح چاند پہلے روز بروز بڑھتا اور پھر روز بروز گھٹتا ہے، یہاں تک کہ مہینے کے آخر میں بالکل غائب ہوجاتا ہے، اسی طرح انسان کی طاقت پہلے بڑھتی ہے، پھر بڑھاپے میں گھٹنی شروع ہوتی ہے، یہاں تک کہ ایک دن انسان مرجاتا ہے، اور دنیا کی ہر چیز کا یہی حال ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس وقت کی قسم کھائی ہے جب رات ڈھلنے لگتی ہے، اور صبح کا اجالا نمودار ہو کر پورے ماحول کو روشن کردیتا ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ابھی تو کافروں کے سامنے غفلت کا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 35–36

انھا ........ الکبر (35) نذیر للبشر (74:36) ” یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے ، انسانوں کے لئے ڈراوا “۔ یہ قسم اور اس کے مشمولات اور وہ بات جس پر اس انداز میں قسم اٹھائی جارہی ہے۔ یہ سب باتیں انسانی قلب ونظر کو جھنجھوڑنے والی ہیں اور انسان کو بڑی شدت سے جھٹکے دینے والی ہیں اور یہ بات اپنے مضمون اور صوتی ہم آہنگی کے اعتبار سے ، صور میں پھونکے جانے (القرفی الناقور) کے نیز سورت کے آغاز میں مدثر کے نام سے پکارنے اور نہایت ہی سخت حکم بلکہ کاشن۔ قم فانذر (74:2) کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ گویا حالات خطرناک ہیں ، فضا پر خوف طاری ہے اور ہنگامی حالت کا ہائے وہوبرپا ہے۔ اب ان شدید جھٹکوں اور تنبیہات اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 36–37

7 آگے بڑھے نیکی یا بہشت کی طرف اور پیچھے رہے بدی میں پھنسا ہوا یا دوزخ میں پڑا ہوا۔ بہرحال مقصود یہ ہے کہ دوزخ سب مکلفین کے حق میں بڑے ڈراوے کی چیز ہے اور چونکہ اس ڈرانے کے عواقب و نتائج قیامت میں ظاہر ہوں گے۔ اس لیے قسم ایسی چیزوں کی کھائی جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے۔ چناچہ چاند کا اول بڑھنا پھر گھٹنا نمونہ ہے اس عالم کے نشوونما اور اضمحلال و فنا کا اسی طرح اس عالم دنیا کو عالم آخرت کے ساتھ حقائق کے اختفاء و اکتشاف میں ایسی نسبت ہے جیسے رات کو دن کے ساتھ۔ گویا اس عالم کا ختم ہوجانا رات کے گزر جانے اور اس عالم کا ظہور نور صبح کے پھیل جانے کے مشابہ ہے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 36–37

آیت 37{ لِمَنْ شَآئَ مِنْکُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَ۔ } ”جو بھی تم میں سے چاہے کہ وہ آگے بڑھے یا پیچھے رہ جائے۔“ اب کامیابی کا دار و مدار ہر کسی کی ہمت اور کوشش پر ہے۔ جس کی ہمت جوان ہو وہ سب سے آگے بڑھ کر صدیقیت کا مقام اور ”السابقون الاولون“ کا درجہ حاصل کرلے۔ جو کوئی دوسروں کا انتظار کرکے ذرا دیر سے چلنے میں عافیت سمجھے وہ وَاتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ والوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوا لے اور جس کسی کی ہمت اور قسمت ساتھ نہ دے وہ خود کو مستقل طور پر محروم کرلے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 35–36

18 چاند کی شکلیں، ان کا گھٹنا بڑھنا، رات اور دن کا وجود اور ان کا باری باری آنا، رات کی تاریکی کے بعد سپیدہ سحر کا نمودار ہونا۔ اللہ کی یہ نشانیاں بھی کچھ کم حیرت انگیز نہیں ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ چیزیں چونکہ ہر روز انسان کے مشاہدہ میں آتی رہتی ہیں اس لیے وہ ان میں غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور جب دوزخ کا ذکر آتا ہے تو وہ فوراً اس کا انکار کردیتا ہے۔ صرف اس لیے کہ اس نے تاحال دوزخ دیکھی نہیں۔ ورنہ ان اشیاء کی قسم جنہیں انسان دیکھ رہا ہے۔ جہنم کا وجود ناممکن نہیں ہے۔ اور وہ انسان کے لیے ڈر جانے کی چیز ہے۔ مذاق اڑانے کی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 32–37

18۔ یعنی اس کیلئے بھی جو خیر و فلاح کی طرف قدم بڑھانا چاہے اور اس کیلئے بھی جو خیر و فلاح سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔ غرض یہ کہ جملہ مکلفین کے لئے۔ (آیت) ” والقمر ..... الکبر “۔ موقع قسم پر یہاں تین چیزوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چاند اور رخصت ہوتی ہوئی رات اور روشن ہوتی ہوئی صبح، اور یہ تینوں چیزیں خاص مناسبت واقعہ قیامت سے رکھتی ہیں، جس پر بطور شہادت انہیں پیش کیا گیا ہے۔ چاند کا اول بڑھنا اور پھر گھٹنا، یہاں تک کہ نظروں سے معدوم ہوجانا ایک نمونہ اور مثال ہے، اس کائنات کے وجود وحدوث، اور نشوونما کا، اور پھر اضمحلال وانحطاط، یہاں تک کہ فناء کا، اسی طرح اس عالم کو آخرت کے ساتھ اختفاء اور اکتشاف حقائق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–56

ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

نذیر للبشر . نذیر بمعنی انذار مصدر ہے (باعتبار ڈرانے کے) یا حال ہے جملۂ سابقہ کے مدلول کا یعنی سقر بڑی خوف آفرین چیز ہے (اس وقت نذیر بمعنی منذر یعنی مصدر بمعنی اسم فاعل ہوگا) حسن نے کہا : سقر سے بڑھ کر کسی دوسری مصیبت سے (قرآن میں) نہیں ڈرایا گیا۔ خلیل نے کہا : نذیر ‘ نکیر کی طرح مصدر ہے اور مؤنث (سقر) سے حال ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ نذیر بمعنی منذر۔ ما جعلنا اصحٰب النار ..... کی ضمیر فاعل متکلم سے حال ہے یعنی ہم ڈرانے والے ہیں ‘ بعض لوگوں نے تفسیری مطلب اس طرح بیان کیا : یایھا المدثر ‘ قم ‘ نذیرا للبشر فانذر یعنی اے چادر پوش ! لوگوں کو (عذاب خدواندی سے) ڈراتا ہو اٹھ اور ڈرا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 32–38

(32۔ 38) قسم ہے چاند کی اور رات کی جس وقت وہ جانے لگیں اور صبح کی جبکہ وہ آنے لگے یا یہ کہ روشن ہوجائے اور سقر دوزخ کے حصوں میں سے ایک بڑا حصہ ہے، چناچہ جہنم، سقر، نطی، حظمہ، سعیر، جحیم، ہاویہ یہ سب دوزخ کے حصے ہیں جو ان کے لیے بڑا ڈراوا ہے۔ یا یہ کہ محمد انسانوں کو ڈرانے والے ہیں اب اس صورت میں اس جملہ کا تعلق صورت کے ابتدائی کلمات قم فانذر سے ہوجائے گا۔ یعنی تم میں جو چیز خیر کی طرف بڑھ کر ایمان لے آئے اس کے لیے بھی یا شر سے ہٹ کر اس کو چھوڑ دے اس کے لیے بھی، یا یہ کہ خیر سے ہٹ کر کفر اختیار کرے ہر کافر شخص اپنے اعمال کفر کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے دوزخ میں محبوس ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 32–37

(کلا و القمر…:”کلا“ ہرگز نہیں، یعنی جہنم یا اس پر مامور فرشتوں کی تعداد سے انکار ہرگز درست نہیں۔ اس کے بعد تینچ یزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ جہنم یقیناً بہت ہی بڑی چیز ہے۔ ان قسموں کی مناسبت جواب قسم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہنم کا انکار کرنے والوں کا انکار اس لئے ہے کہ وہ ان کی نگاہوں سے اوجھل ہے اور ان کے خیال میں اتنی بڑی ہولناک اور عظیم الشان چیز کا موجود ہونا ممکن نہیں۔ فرمایا اس کائنات میں چاند کو دیکھو، وہ ہلال اور بدر اور بدر سے ہلال ہونے تک روزانہ جن مراحل سے گزرتا ہے ان پر غور کرو، رات کو دیکھو جب وہ رخصت ہوتی ہے اور کائنات میں روزانہ ایک عظیم انقلاب رونما ہوتا ہے، پھر صبح کو دیکھو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

نذیراللبشر۔ یعنی اس صفت سے موصوف آگ لوگوں کو خبردار کرنے والی ہے۔ نذیرا، انھا کی ضمیر سے حال ہے، یہ زجاج کا قول ہے، نذیرا کو مذکر ذکر کیا ہے، کیونکہ اس کا معنی عذاب ہے، یا یہ نسبت کے معنی میں ہے یعنی ذات انذار، جس طرح ان امثلہ میں اسم فاعل نسبت کے معنی میں ہے، امراۃ طالق واطاہر۔ خلیل نے کہا، نذیر مصدر ہے جس طرح نکیر مصدر ہے اسی وجہ سے اس کے ساتھ اسم مونث کی صفت ذکر کردی جاتی ہے حضرت حسن بصری نے کہا، اللہ تعالیٰ کی قسم، اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اس سے زیادہ خوفناک چیز کے ساتھ نہیں ڈرایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، نذیر سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ کی ذات ہے، معنی یہ ہوگا، لوگوں کو ڈرانے کے لیے اٹھ کھڑے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 35–36

60۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت انہا لاحدی الکبر میں انہا میں ہا ضمیر سے مراد آگ ہے۔ 61۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابو رزین ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہا لاحدی الکبر۔ نذیرا للبشر۔ کہ وہ دوزخ بڑی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے انسان کو ڈرانے والی ہے۔ یعنی وہ جہنم ہے۔ صبح وشام کی آواز 62۔ ابن ابی الدنیا نے ذم الامل میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ نہیں ہے کوئی صبح اور نہ کوئی شام مگر ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے اے لوگو ! کوچ کروکوچ کرو اور بلاشبہ اس بات کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے اور وہ یہ ہے آیت انہا لاحدی الکبر نذیر اللبشر۔ لمن شاء منکم ان یتقدم اور دوزخ بڑی بڑی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 32–37

دوزخیوں سے سوال کہ تمہیں دوزخ میں کس نے پہنچایا ؟ پھر ان کا جواب، ان کو کسی کی شفاعت کام نہ دے گی، یہ لوگ نصیحت سے ایسے اعراض کرتے ہیں جیسے گدھے شیروں سے بھاگتے ہیں ان آیات میں اول تو یہ فرمایا ہے کہ چاند کی اور رات کی اور صبح کی قسم یہ دوزخ (جس کا اوپر سے ذکر چلا آ رہا ہے) بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک چیز ہے اس کے عذاب کو معمولی نہ سمجھا جائے اسی دنیا میں رہتے ہوئے جو اس کی خبر اللہ کی کتاب نے دی ہے یہ خبر سچی ہے اور اس کا بیان کرنا اس لیے ہے کہ انسان اس کے اخبار اور احوال سن کر خوف کھائے۔ (قال القرطبی صفحہ 58: ج 19) وذكر، لان معناہ معنی العذاب، او اراد ذات انذار علی معنی النسب کقولھم امراة…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–56

تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 35–37

14:۔ نذیرا، مصدر ہے بمعنی انذار اور یہ حدا الکبر کی تمییز ہے یعنی انذار اور یہ احدی الکبر کی تمییز ہے یعنی انذار و تخویف کے اعتبار سے دوزخ شدید ترین سزاؤں اور عقوبتوں میں سے ایک ہے یا یہ حال ہے اور تائے تانیث محذوف ہے (روح) ۔ دوزخ شدید ترین عقوبات میں سے ایک ہے۔ خلق کو ڈرانے والی ہے تاکہ وہ اس کے ڈر سے خدا کی اطاعت کریں۔ لمن شاء الخ، یہ للبشر سے بدل ہے۔ وہ ڈرانے والی ہے اس کو جو تم میں سے چاہے کہ نیکی اور بھلائی کی طرف بڑھے نیز اس کو جو گناہ و معصیت میں پیچھے رہے۔ من شاء ان یتقدم فی الخیر والطاعۃ ومن شاء ان یتاخر فی الشر والمعصیۃ (مظہری ج 10 ص 131) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 35–36

اِنَّہَا لَاِحْدَى الْكُبَرِ۝ 35 ۙ نَذِيْرًا لِّلْبَشَرِ۝ 36 ۙ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–47

ترکیب : کلار وع لقول الکفا ا نانقدر علی مقاومۃ خزنۃ النار والقمر الواوللقسم انھا الخ ھذا الکلام جواب القسم والضمیر الی سقر واتعلیل لکلاو القسم معترض للتاکید الکبر فی الکشاف انہ جمع الکبریٰ جعلت الف التانیث کتاء التانیث فکما جمعت فعلۃ علی فعل جمعت فعلی علیھا نذیرا بالنصب حال من الضمیر فی انھا قالہ الزجاج وقال الکسائی انہ حال من قولہ قم حال کو نک نذیراللبشر وقال الفراء مصدر بمعنی الانذار منصوب بفعل مقدروقیل تمیز لاحدی لتضمنھا معنی التعظیم وقیل مفعول لہ ای لاجل انذار البشر وقری بالرقع علی انہ خبرہ بعد خبراوبحذف المبتداء لمن شاء بدل من قولہ للبشر والتقدیر انھا نذیر لمن شاء منکم ان یتقدم اویتاخر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 32–37

کَلاَّ وَالْقَمَرِ ۔ وَالَّیْلِ اِذْ اَدْبَر۔ وَالصُّبْحِ اِذَٓا اَسْفَرَ ۔ اِنَّھَا لَاِحْدَی الْـکُبَرِ ۔ نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِ ۔ لِمَنْ شَآئَ مِنْـکُمْ اَنْ یَّـتَـقَـدَّمَ اَوْیَتَاَخَّرَ ۔ (المدثر : 32 تا 37) (ہرگز نہیں، قسم ہے چاند کی۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ پیٹھ پھیر لیتی ہے۔ اور قسم ہے صبح کی جب وہ روشن ہوجاتی ہے۔ بیشک وہ قیامت بڑے حوادث میں سے ایک ہے۔ جو انسان کے لیے نذیر ہے۔ اس کے لیے جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہے۔ ) دلائلِ آفاق سے اثباتِ قیامت اور قسموں کی وضاحت اثباتِ قیامت کا مضمون جاری ہے اور اشرافِ قریش کی ہر زہ سرائیوں کا جواب دیا جارہا ہے۔ اسی تسلسل کو آگے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–38

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کی ہولناکیوں کا مزید ذکر۔ سابقہ آیات میں جہنم کی ہولناکیوں اور اس پر مقرر کردہ ملائکہ کی تعداد کا ذکرہوا جسے اہل مکہ نے مذاق کا نشانہ بنایا اس پر ارشاد ہوا کہ یہ لوگ جہنم کے ملائکہ کی تعدا پر اعتراض کررہے ہیں انہیں کیا خبر ! کہ آپ کے رب کے لشکر کتنی تعداد میں ہیں اور کس قدر طاقتور ہیں ان کی تعداد اور طاقت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لہٰذا تمہیں جہنم سے ڈرنا چاہیے۔ قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ پلٹتی ہے اور صبح کی قسم جب وہ روشن ہوجاتی ہے جس جہنم کا یہ مذاق اڑاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خوفناک چیزوں میں بڑی ہی خوفناک جگہ ہے، چاند، رات اور دن کا حوالہ دے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

35 ۔” انھا لاحدی الکبر “ یعنی بیشک سقر بڑے امور میں سے ایک ہے اور کبر کا واحد کبریٰ ہے۔ مقاتل اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کبر سے مراد جہنم کے طبقات ہیں اور سات ہیں۔ جہنم لظی، حطمۃ، سعیر، سقر، جحیم، ہاویہ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–37

31۔ 37۔ تفسیر ابن جریر 1 ؎ وغیرہ میں جو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اوپر کی آیتوں میں یہ لفظ اترے کہ دوزخ پر انیس فرشتے تعینات ہیں تو ابوجہل نے قریش سے کہا کہ تم لوگ تو بہت بڑی قوم ہو تم میں سے سو سو شخص بھی اگر ایک ایک فرشتے سے بھگت لو گے تو انیس فرشتے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کی عقل ماری گئی ہے جو یہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ یہ انیس انسان نہیں جو سارے قریش مل کر ان سے بھگت لیں گے یہ تو فرشتے ہیں۔ ان میں کا تو ایک ایک ساری دنیا کے الٹ پلٹ کردینے کو کافی ہے۔ کیا ان لوگوں نے سنا نہیں کہ اللہ کے ایک فرشتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–37

(كَلَّا) یہاں بمعنی (حقا) یا بمعنی (الا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لامحدود وقوت، بےپایاں رحمت ور اس کے احاطہ علم پر دلالت کرتی ہیں۔ جس پر قسم کھائی وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (انھا لاحدی الکبر) کہ وہ آگ ایک بہت بڑی آفت ہے۔ یعنی بیشک جہنم کی آگ بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کردینے والا معاملہ ہے۔ پس جب ہم نے تمہیں اس کے بارے میں خبردار کردیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو، تب تم میں سے جو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–56

عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

29 پوری نوع بش کیلئے انذار کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایک عظیم الشان ڈراوا ہے پوری نوع بشر کیلئے تاکہ وہ خواب غفلت سے چونک کر اپنے انجام کی فکر کرے ‘ اور انسان کے اندر اگر سلامت روی اور طلب حق و ہدایت کا جوہر موجود ہو تو اس کیلئے اس کو ماننا اور تسلیم کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ‘ بلکہ وہ اس کو اپنے ضمیر و باطن کی آواز اور اپنے گرد و پیش کی صدا سمجھے گا ‘ کہ قدرت نے اپنی اس کائنات کو بنآیا ہی ایسے پر حکمت طریقے سے ہے کہ اس کے ہر گوشے میں کسی نہ کسی شکل میں قیامت کی تذکیر و تنبیہہ اور اس کی ریہرسل کا سامان برابر ہوتا رہتا ہے۔ تاکہ انسان اپنے گردو پیش پر نظر ڈال کر اپنے دل کے اطمینان کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–38

منکرین اور ان کا انجام تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–56

آیات 32 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 34–39

ف 11 یعنی وہلوگ جنہیں ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا جو دائیں ہاتھ چلائے جائیں گے یا جو حضرت آدم کی پشت کی دائیں جانب سے نکلے یا جو دنیا میں سیدھی راہ پر چلتے رہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(74:36) نذیرا للبشر۔ انسان کے ڈرانے کو، نذیرا حال ہے انھا کی ضمیر واحد مؤنث سے لہٰذا منصوب ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–56

لغات القرآن۔ ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔ تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–37

(ف 3) آگے بڑھے نیکی یا بہشت کی طرف اور پیچھے رہے بدی میں پھنسا ہوا یا دوزخ میں پڑا ہوا بہرحال مقصود یہ ہے کہ دوزخ سب مکلفین کے حق میں بڑے ڈراوے کی چیز ہے اور چونکہ اس ڈرانے کے عواقب ونتائج قیامت میں ظاہر ہوں گے اس لیے قسم ایسی چیزوں کی کھائی جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے چناچہ چاند کا اول بڑھنا پھر گھٹنا نمونہ ہے اس عالم کے نشوونما اور اضمحلال وفنا کا، اسی طرح اس عالم دنیا کو آخرت کے ساتھ حقائق کے اختفاء واکتشاف میں ایسی نسبت ہے جیسے رات کو دن کے ساتھ گویا اس عالم کا ختم ہوجانا رات کے گذرجانے اور اس عالم کا ظہور نور صبح کے پھیل جانے کے مشابہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 33–37

[14] یعنی اب جس کا جی چاہے اس سے ڈر کر بھلائی کے راستے پر آگے بڑھے اور جس کا جی چاہے بدی میں پھنس کر پیچھے رہ جائے۔ مقصود یہ ہے کہ دوزخ بڑے ڈراوے کی چیز ہے اور کیونکہ اس ڈراوے کے عواقب و نتائج قیامت میں ظاہر ہوں گے اس لئے قسم ایسی چیز کی کھائی گئی ہے جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے۔ چناچہ پہلے چاند کو پیش کیا گیا ہے کہ جس طرح وہ درجہ بدرجہ ہلال سے بدر کے مقام تک پہنچتا ہے اسی طرح انسان بھی مختلف اطوار و مراحل سے گزرتا ہوا بالآخر اس مقام تک پہنچے گا جس کی خبر دی جا رہی ہے۔ چاند کے بعد رات اور صبح کی قسم کھائی گئی ہے یعنی جس طرح رات کی تاریکی میں صبح کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا لیکن وقت آتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–37

صبح اسلام کا طلوع 1: قمر سے مراد نبوت سابقہ کی روشنی ہے ۔ رات سے مقصود کفر کی تاریکی ہے ۔ جو صبح کی آمد آمد میں غائب ہورہی ہے ۔ اور یہ صبح وہ صبح سعادت ہے ۔ کہ جس کے مقابلہ میں ظلمت کا کوئی اثر نہیں اور شام قیامت تک ممتد ہے ۔ فرمایا ۔ کہ تم یقین رکھ کہ دوزخ کا مسئلہ کوئی ڈھکوسلہ نہیں ۔ بلکہ یہ بڑی بھاری چیز ہے ۔ اس کے قیام اور بقا ہے یہ غرض ہے ۔ کہ نادان انسان دنیا میں اس کی ہولناک سزاؤں کا خیال کرکے پاکبازی اور پرہیزگاری کی زندگی بسر کرے ۔ حل لغات :۔ اسفر ۔ روشن ہوجائے الکبر ۔ کبریٰ کی جمع ہے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 31–36

ف 1۔ یعنی جو اصل مقصود ہے جہنم کا حال بیان کرنے سے وہ وعدہ کی قلت یا کثرت یا تعیین یا انکشاف حکمت تخصیص یا عدم انکشاف پر موقوف نہیں، اور وہ اصل مقصود یہ ہے کہ وہاں کے عذاب کو سن کر ڈریں اور ایمان لاویں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 32–37

(نہیں کیا) یعنی ایسا نہیں کہ کوئی سقر کا انکار کرسکے (قسم ہے چاند کی) کہ وقتوں اور مدتوں کی پہچان اس سے متعلق ہے۔ (اور رات کی جب پیٹھ پھیرے) یعنی جب جاتی ہے دن کے آگے سے ، (اور صبح کی جب روشنی پھیلا دے) اور عالم کو روشن کردے۔ (بیشک جہنم بڑی چیزوں کی ایک ہے) یعنی ایک درکہ دوزخ کے بڑے درکوں میں سے ہے ۔ (اور (ڈراؤنی بشر کے لیے) یعنی ہم نے کیا ہے اسے ایک چیز کہ اس سے ڈرائیں آدمی کو۔ لباب میں ہے کہ حق تعالیٰ رسول اللہ کو فرماتا ہے کہ قم نذیرا ، یعنی کھڑا ہو ڈرانے والا آدمیوں کے واسطے تاکہ تجھ سے نصیحت پکڑ کر گناہ سے پرہیز کریں۔ اس قول پر رسول ڈرانے والے ہیں اور پہلے قول پر دوزخ ڈرانے والی ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–36

وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُو (...And no one knows the hosts of your Lord but He 74:31) Muqatil, among the leading authorities, says that this is rebuttal to Abu Jahl's statement. When he heard this verse which says that there are nineteen angels in charge of Hell, he addressed the youth of Quraish and said that Muhammad has only nineteen companions, so there is nothing to worry about. Baihaqi records a narrative from Suddi that when verse 30 was revealed, a foolish Quraishi unbeliever, Abul-Asalain by name, spoke out: '0 nation of Quraish, I alone am sufficient for the nineteen.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–36

28 That is, "Just as the moon and the night and the day are the great signs of the powers of Allah, so also is Hell a great sign of His powers. If the existence of the moon and the alternation of the night and day so regularly were not impossible, why should the existence of Hell be impossible as you think it is? You see these phenomena day and night; therefore, they do not surprise you: otherwise these things in themselves also are great marvels of the powers of Allah. If you had not observed them and somebody were to tell you that there is also such a thing as the moon in the world, or,…

Read the full tafseer →