اِنَّهَا لَاِحْدَی الْكُبَرِ ۟ۙاِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِۙ
کہ وہ (آگ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, the Fire is of the greatest [afflictions]
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz
اِنَّهَا لَاِحْدَی الْكُبَرِ ۟ۙاِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِۙ
کہ وہ (آگ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, the Fire is of the greatest [afflictions]
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir
یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے
کہ وہ (آگ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے
کہ (یقیناً وه جہنم) بڑی چیزوں میں سے ایک ہے
کہ یہ بڑی بڑی باتوں میں سے ایک ہے۔
بیشک دوزخ بہت بڑی چیزوں میں کی ایک ہے،
بے شک یہ (دوزخ) بہت بڑی آفتوں میں سے ایک ہے،
بلاشبہ وہ (جہنم) یقینا بہت بڑی چیزوں میں سے ایک ہے۔
کہ دوزخ (بھی) بہت بڑی چیزوں میں سے ایک ہے۔
کہ یہ ماجرا ان بڑے ماجروں میں سے ہے
بلاشبہ وہ (دوزخ) بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے
کہ دوزخ ایک بہت ہی بھاری چیز ہے
یقینا یہ بہت بڑی باتوں میں سے ایک بات ہے۔
کہ وہ آگ ایک بہت بڑی آفت ہے
surely (Hell) is one of the greatest Signs,
it (Saqar : Hell) is one of the greatest things
it (Saqar : Hell) is one of the greatest things
Verily, it is but one of the greatest (signs).
Lo! this is one of the greatest (portents)
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Indeed, the Fire is of the greatest [afflictions]
hell is certainly the greatest calamity.
Surely it (hell) is one of the gravest (misfortunes),
Verily it is one of the greatest woes.
This is but one of the mighty (portents),
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 31–37
سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بےرحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابو جہل نے کہا اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو نہ تھکا سکو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
سورة الْمُدَّثِّر 28 یعنی جس طرح چاند، اور رات اور دن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عظیم نشانات ہیں اسی طرح دوزخ بھی عظائم قدرت میں سے ایک چیز ہے۔ اگر چاند کا وجود غیر ممکن نہ تھا، اگر رات اور دن کا اس باقاعدگی کے ساتھ آنا غیر ممکن نہ تھا، تو دوزخ کا وجود، آخر کیوں تمہارے خیال میں غیر ممکن ہوگیا ؟ جن چیزوں کو چونکہ تم رات دن دیکھ رہے ہو اس لیے تمہیں ان پر کوئی حیرت نہیں ہوتی، ورنہ اپنی ذات میں یہ بھی اللہ کی قدرت کے نہایت حیرت انگیز معجزے ہیں، جو اگر تمہارے مشاہدے میں نہ آئے ہوتے، اور کوئی تمہیں خبر دیتا کہ چاند جیسی ایک چیز بھی دنیا میں موجود ہے، یا سورج ایک چیز ہے جس کے چھپنے سے دنیا میں اندھیرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُو ائمہ تفسیر میں سے مقاتل نے فرمایا کہ یہ جواب ابوجہل کے کلام کا ہے اس نے جب یہ آیت سنی کہ جہنم کے خازن انیس فرشتے ہیں تو قریشی جوانوں کو خطاب کرکے کہنے لگا کہ محمد کے ساتھی تو فقط انیس ہیں اس کی تمہیں کیا فکر ہوسکتی ہے۔ اور بیہقی نے سدی سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی علیھا تسعھ عشر تو ایک بیہودہ کافر قریش جس کو ابوالاسلین کہا جاتا تھا بول اٹھا کہ اے قوم قریش کچھ فکر نہ کرو۔ ان انیس کے لئے تو میں اکیلا کافی ہوں میں اپنے داہنے بازو سے دس کو بائیں بازو سے نو کو دفع کرکے ان انیس کا خامہ کردونگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ احمقو اول تو فرشتہ ایک بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
یہ مذکورہ بالا قسموں کا مقسم علیہ ہے۔ یعنی قرآن کی یہ آیات جو دوزخ کے ہول سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے نازل کی گئی ہیں، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہیں بلکہ اس کائنات کے عظیم احوال و حوادث میں سے ہیں۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو ان سے سبق حاصل کرنے کے بجائے ان کو اپنے مذاق کا موضوع بنائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
35۔ 1 یہ جواب قسم ہے کُبَر، کُبْرَیٰ کی جمع ہے تین نہایت اہم چیزوں کی قسموں کے بعد اللہ نے جہنم کی بڑائی اور ہولناکی کو بیان کیا ہے جس سے اس کی بڑائی میں کوئی شک نہیں رہتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
10: جب یہ آیت نازل ہوئی کہ دوزخ پر انیس کارندے مقرر ہیں تو کافروں نے اس کا مذاق اڑایا، اور ایک نے تو لوگوں سے یہاں تک کہہ دیا کہ انیس میں سے سترہ کے لیے تو میں ہی کافی ہوں، باقی دو سے تم نمٹ لینا۔ (ابن کثیر)۔ اس کے جواب میں یہ آیت 31 نازل ہوئی کہ یہ انیس کارندے سب کے سب فرشتے ہیں، کوئی مذاق نہیں کہ تم ان کا مقابلہ کرسکو۔ 11: یعنی اللہ تعالیٰ کو دوزخ کی نگرانی اور حفاظت کے لیے کسی خاص تعداد کی ضرورت نہیں ہے، لیکن یہ تعداد اس لیے مقرر کی گئی ہے کہ کافروں کی آزمائش ہو کہ وہ اس کی تصدیق کرتے ہیں، یا مذاق اڑاتے ہیں۔ 12: بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے کے یہودیوں اور عیسائیوں کی کچھ کتابوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
انھا ........ الکبر (35) نذیر للبشر (74:36) ” یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے ، انسانوں کے لئے ڈراوا “۔ یہ قسم اور اس کے مشمولات اور وہ بات جس پر اس انداز میں قسم اٹھائی جارہی ہے۔ یہ سب باتیں انسانی قلب ونظر کو جھنجھوڑنے والی ہیں اور انسان کو بڑی شدت سے جھٹکے دینے والی ہیں اور یہ بات اپنے مضمون اور صوتی ہم آہنگی کے اعتبار سے ، صور میں پھونکے جانے (القرفی الناقور) کے نیز سورت کے آغاز میں مدثر کے نام سے پکارنے اور نہایت ہی سخت حکم بلکہ کاشن۔ قم فانذر (74:2) کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ گویا حالات خطرناک ہیں ، فضا پر خوف طاری ہے اور ہنگامی حالت کا ہائے وہوبرپا ہے۔ اب ان شدید جھٹکوں اور تنبیہات اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
6 یعنی جو بڑی بڑی ہولناک اور عظیم الشان چیزیں ظاہر ہونے والی ہیں دوزخ ان میں کی ایک چیز ہے۔
Read the full tafseer →آیت 35{ اِنَّہَا لَاِحْدَی الْکُبَرِ۔ } ”یقینا یہ بہت بڑی باتوں میں سے ایک بات ہے۔“ ظاہر ہے نوع انسانی کی تاریخ میں نبوت ِمحمدی ﷺ کے ظہور سے بڑا واقعہ اور کون سا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
18 چاند کی شکلیں، ان کا گھٹنا بڑھنا، رات اور دن کا وجود اور ان کا باری باری آنا، رات کی تاریکی کے بعد سپیدہ سحر کا نمودار ہونا۔ اللہ کی یہ نشانیاں بھی کچھ کم حیرت انگیز نہیں ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ چیزیں چونکہ ہر روز انسان کے مشاہدہ میں آتی رہتی ہیں اس لیے وہ ان میں غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور جب دوزخ کا ذکر آتا ہے تو وہ فوراً اس کا انکار کردیتا ہے۔ صرف اس لیے کہ اس نے تاحال دوزخ دیکھی نہیں۔ ورنہ ان اشیاء کی قسم جنہیں انسان دیکھ رہا ہے۔ جہنم کا وجود ناممکن نہیں ہے۔ اور وہ انسان کے لیے ڈر جانے کی چیز ہے۔ مذاق اڑانے کی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
18۔ یعنی اس کیلئے بھی جو خیر و فلاح کی طرف قدم بڑھانا چاہے اور اس کیلئے بھی جو خیر و فلاح سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔ غرض یہ کہ جملہ مکلفین کے لئے۔ (آیت) ” والقمر ..... الکبر “۔ موقع قسم پر یہاں تین چیزوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چاند اور رخصت ہوتی ہوئی رات اور روشن ہوتی ہوئی صبح، اور یہ تینوں چیزیں خاص مناسبت واقعہ قیامت سے رکھتی ہیں، جس پر بطور شہادت انہیں پیش کیا گیا ہے۔ چاند کا اول بڑھنا اور پھر گھٹنا، یہاں تک کہ نظروں سے معدوم ہوجانا ایک نمونہ اور مثال ہے، اس کائنات کے وجود وحدوث، اور نشوونما کا، اور پھر اضمحلال وانحطاط، یہاں تک کہ فناء کا، اسی طرح اس عالم کو آخرت کے ساتھ اختفاء اور اکتشاف حقائق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…
Read the full tafseer →انھا لاحدی الکبر . سقر بڑی بلاؤں میں سے ایک بلا ہے ‘ بڑی بلائیں بہت ہیں ‘ ان میں سے ایک سقر بھی ہے۔ جہنم ‘ لظی ‘ حطمہ ‘ سعیر ‘ حجیم ‘ ہاویہ ‘ سقر سب سے بڑی بلائیں ہیں (متعدد دوزخ ہیں) یہ جملہ جواب قسم ہے یا کلا کی علت کا بیان ہے اور درمیان میں قسموں کا ذکر تاکید کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
(32۔ 38) قسم ہے چاند کی اور رات کی جس وقت وہ جانے لگیں اور صبح کی جبکہ وہ آنے لگے یا یہ کہ روشن ہوجائے اور سقر دوزخ کے حصوں میں سے ایک بڑا حصہ ہے، چناچہ جہنم، سقر، نطی، حظمہ، سعیر، جحیم، ہاویہ یہ سب دوزخ کے حصے ہیں جو ان کے لیے بڑا ڈراوا ہے۔ یا یہ کہ محمد انسانوں کو ڈرانے والے ہیں اب اس صورت میں اس جملہ کا تعلق صورت کے ابتدائی کلمات قم فانذر سے ہوجائے گا۔ یعنی تم میں جو چیز خیر کی طرف بڑھ کر ایمان لے آئے اس کے لیے بھی یا شر سے ہٹ کر اس کو چھوڑ دے اس کے لیے بھی، یا یہ کہ خیر سے ہٹ کر کفر اختیار کرے ہر کافر شخص اپنے اعمال کفر کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے دوزخ میں محبوس ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
(کلا و القمر…:”کلا“ ہرگز نہیں، یعنی جہنم یا اس پر مامور فرشتوں کی تعداد سے انکار ہرگز درست نہیں۔ اس کے بعد تینچ یزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ جہنم یقیناً بہت ہی بڑی چیز ہے۔ ان قسموں کی مناسبت جواب قسم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہنم کا انکار کرنے والوں کا انکار اس لئے ہے کہ وہ ان کی نگاہوں سے اوجھل ہے اور ان کے خیال میں اتنی بڑی ہولناک اور عظیم الشان چیز کا موجود ہونا ممکن نہیں۔ فرمایا اس کائنات میں چاند کو دیکھو، وہ ہلال اور بدر اور بدر سے ہلال ہونے تک روزانہ جن مراحل سے گزرتا ہے ان پر غور کرو، رات کو دیکھو جب وہ رخصت ہوتی ہے اور کائنات میں روزانہ ایک عظیم انقلاب رونما ہوتا ہے، پھر صبح کو دیکھو…
Read the full tafseer →انھالاحدی الکبر۔ یہ جواب قسم ہے۔ یعنی یہ جہنم کی اغ بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے۔ مقاتل کی تفسیر میں ہے، الکبر جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے، حضرت ابن عباس سے مروی ہے، ان کا حضرت محمد ﷺ کو جھٹلانا گناہ کبیرہ میں سے ایک ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے قیامت کا برپا ہونابڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، الکبر عذابوں میں سے بڑے عذاب کو کہتے ہیں، راجز نے کہا، یا بن المعلی نزلت احدی الکبر، داھیۃ الدھر وصماء الغبر۔ اے ابن معلی ایک بڑی مصیبت نازل ہوئی جو زمانے کی مصیبتوں میں سے بڑی ہے۔ کبر کا واحد کبری ہے۔ جس طرح صغر کا واحد صغری ہے اسی طرح عظم اور عظمی ہے عام قراء نے لاحدی پڑھا ہے، یہ ایسا اسم ہے جو ابتداء تانیث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
60۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت انہا لاحدی الکبر میں انہا میں ہا ضمیر سے مراد آگ ہے۔ 61۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابو رزین ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہا لاحدی الکبر۔ نذیرا للبشر۔ کہ وہ دوزخ بڑی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے انسان کو ڈرانے والی ہے۔ یعنی وہ جہنم ہے۔ صبح وشام کی آواز 62۔ ابن ابی الدنیا نے ذم الامل میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ نہیں ہے کوئی صبح اور نہ کوئی شام مگر ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے اے لوگو ! کوچ کروکوچ کرو اور بلاشبہ اس بات کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے اور وہ یہ ہے آیت انہا لاحدی الکبر نذیر اللبشر۔ لمن شاء منکم ان یتقدم اور دوزخ بڑی بڑی…
Read the full tafseer →[انهَا : بیشک یہ (بات)] [لَاِحْدَى الْكُبَرِ : یقینا بہت بڑی باتوں کی ایک ہے ] (آیت۔ 35 ۔ 36) اِنَّھَا لَاِحْدَی الْکُبَرِ میں اِنَّھَا کی ضمیر بھی سَقَرُ کے لیے ہے اور اَلْکُبَرِ ۔ کُبْرٰی کی جمع ہے۔ نَذِیْرًا۔ اِنَّھَا کا حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ فَعِیْلٌ کے وزن پر آنے والے اسماء الصّفہ میں کبھی مذکر مؤنث میں فرق کرنے کے لیے تائے ثانیث لگاتے ہیں اور کبھی نہیں بھی لگاتے۔ اس لیے یہاں نَذِیْرَۃً کے بجائے نَذِیْرًا بھی درست ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
دوزخیوں سے سوال کہ تمہیں دوزخ میں کس نے پہنچایا ؟ پھر ان کا جواب، ان کو کسی کی شفاعت کام نہ دے گی، یہ لوگ نصیحت سے ایسے اعراض کرتے ہیں جیسے گدھے شیروں سے بھاگتے ہیں ان آیات میں اول تو یہ فرمایا ہے کہ چاند کی اور رات کی اور صبح کی قسم یہ دوزخ (جس کا اوپر سے ذکر چلا آ رہا ہے) بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک چیز ہے اس کے عذاب کو معمولی نہ سمجھا جائے اسی دنیا میں رہتے ہوئے جو اس کی خبر اللہ کی کتاب نے دی ہے یہ خبر سچی ہے اور اس کا بیان کرنا اس لیے ہے کہ انسان اس کے اخبار اور احوال سن کر خوف کھائے۔ (قال القرطبی صفحہ 58: ج 19) وذكر، لان معناہ معنی العذاب، او اراد ذات انذار علی معنی النسب کقولھم امراة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
14:۔ نذیرا، مصدر ہے بمعنی انذار اور یہ حدا الکبر کی تمییز ہے یعنی انذار اور یہ احدی الکبر کی تمییز ہے یعنی انذار و تخویف کے اعتبار سے دوزخ شدید ترین سزاؤں اور عقوبتوں میں سے ایک ہے یا یہ حال ہے اور تائے تانیث محذوف ہے (روح) ۔ دوزخ شدید ترین عقوبات میں سے ایک ہے۔ خلق کو ڈرانے والی ہے تاکہ وہ اس کے ڈر سے خدا کی اطاعت کریں۔ لمن شاء الخ، یہ للبشر سے بدل ہے۔ وہ ڈرانے والی ہے اس کو جو تم میں سے چاہے کہ نیکی اور بھلائی کی طرف بڑھے نیز اس کو جو گناہ و معصیت میں پیچھے رہے۔ من شاء ان یتقدم فی الخیر والطاعۃ ومن شاء ان یتاخر فی الشر والمعصیۃ (مظہری ج 10 ص 131) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
اِنَّہَا لَاِحْدَى الْكُبَرِ 35 ۙ نَذِيْرًا لِّلْبَشَرِ 36 ۙ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
ترکیب : کلار وع لقول الکفا ا نانقدر علی مقاومۃ خزنۃ النار والقمر الواوللقسم انھا الخ ھذا الکلام جواب القسم والضمیر الی سقر واتعلیل لکلاو القسم معترض للتاکید الکبر فی الکشاف انہ جمع الکبریٰ جعلت الف التانیث کتاء التانیث فکما جمعت فعلۃ علی فعل جمعت فعلی علیھا نذیرا بالنصب حال من الضمیر فی انھا قالہ الزجاج وقال الکسائی انہ حال من قولہ قم حال کو نک نذیراللبشر وقال الفراء مصدر بمعنی الانذار منصوب بفعل مقدروقیل تمیز لاحدی لتضمنھا معنی التعظیم وقیل مفعول لہ ای لاجل انذار البشر وقری بالرقع علی انہ خبرہ بعد خبراوبحذف المبتداء لمن شاء بدل من قولہ للبشر والتقدیر انھا نذیر لمن شاء منکم ان یتقدم اویتاخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
کَلاَّ وَالْقَمَرِ ۔ وَالَّیْلِ اِذْ اَدْبَر۔ وَالصُّبْحِ اِذَٓا اَسْفَرَ ۔ اِنَّھَا لَاِحْدَی الْـکُبَرِ ۔ نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِ ۔ لِمَنْ شَآئَ مِنْـکُمْ اَنْ یَّـتَـقَـدَّمَ اَوْیَتَاَخَّرَ ۔ (المدثر : 32 تا 37) (ہرگز نہیں، قسم ہے چاند کی۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ پیٹھ پھیر لیتی ہے۔ اور قسم ہے صبح کی جب وہ روشن ہوجاتی ہے۔ بیشک وہ قیامت بڑے حوادث میں سے ایک ہے۔ جو انسان کے لیے نذیر ہے۔ اس کے لیے جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہے۔ ) دلائلِ آفاق سے اثباتِ قیامت اور قسموں کی وضاحت اثباتِ قیامت کا مضمون جاری ہے اور اشرافِ قریش کی ہر زہ سرائیوں کا جواب دیا جارہا ہے۔ اسی تسلسل کو آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
فہم القرآن ربط کلام : جہنم کی ہولناکیوں کا مزید ذکر۔ سابقہ آیات میں جہنم کی ہولناکیوں اور اس پر مقرر کردہ ملائکہ کی تعداد کا ذکرہوا جسے اہل مکہ نے مذاق کا نشانہ بنایا اس پر ارشاد ہوا کہ یہ لوگ جہنم کے ملائکہ کی تعدا پر اعتراض کررہے ہیں انہیں کیا خبر ! کہ آپ کے رب کے لشکر کتنی تعداد میں ہیں اور کس قدر طاقتور ہیں ان کی تعداد اور طاقت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لہٰذا تمہیں جہنم سے ڈرنا چاہیے۔ قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ پلٹتی ہے اور صبح کی قسم جب وہ روشن ہوجاتی ہے جس جہنم کا یہ مذاق اڑاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خوفناک چیزوں میں بڑی ہی خوفناک جگہ ہے، چاند، رات اور دن کا حوالہ دے…
Read the full tafseer →35 : اِنَّھَا (بیشک وہ دوزخ) لَاِحْدَی الْکُبَرِ (بڑی بھاری چیز ہے) کُبَر یہ جمع کبر ٰی کی ہے یعنی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت ہے۔ نمبر 2۔ بڑی تباہیوں میں سے ہے اور لا حدی ؔ کہ ان میں سے ایک ہے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ان کے درمیان ایک بڑی بھاری چیز ہے۔ کہ جس کی کوئی نظیر و مثال نہیں ہے۔ جیسا کہتے ہیں : ھو احد الرجال وھی احدی النساء یعنی وہ عظیم آدمی اور عظیم عورت ہے۔
Read the full tafseer →34 ۔” والصبح اذا اسفر “ روشن ہو اور واضح ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
31۔ 37۔ تفسیر ابن جریر 1 ؎ وغیرہ میں جو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اوپر کی آیتوں میں یہ لفظ اترے کہ دوزخ پر انیس فرشتے تعینات ہیں تو ابوجہل نے قریش سے کہا کہ تم لوگ تو بہت بڑی قوم ہو تم میں سے سو سو شخص بھی اگر ایک ایک فرشتے سے بھگت لو گے تو انیس فرشتے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کی عقل ماری گئی ہے جو یہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ یہ انیس انسان نہیں جو سارے قریش مل کر ان سے بھگت لیں گے یہ تو فرشتے ہیں۔ ان میں کا تو ایک ایک ساری دنیا کے الٹ پلٹ کردینے کو کافی ہے۔ کیا ان لوگوں نے سنا نہیں کہ اللہ کے ایک فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
(كَلَّا) یہاں بمعنی (حقا) یا بمعنی (الا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لامحدود وقوت، بےپایاں رحمت ور اس کے احاطہ علم پر دلالت کرتی ہیں۔ جس پر قسم کھائی وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (انھا لاحدی الکبر) کہ وہ آگ ایک بہت بڑی آفت ہے۔ یعنی بیشک جہنم کی آگ بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کردینے والا معاملہ ہے۔ پس جب ہم نے تمہیں اس کے بارے میں خبردار کردیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو، تب تم میں سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →28 ہول دوزخ کی عظمت وہیبت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ وہ دوزخ بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے۔ پس جس طرح سورج چاند کے ان عظیم الشان کروں ‘ رات و دن کی آمدورفت کے ان حیرت انگیز حقائق و واقعات کو تم لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور ان کا مشاہدہ کرتے ہو ‘ اور تمہیں کوئی تعجب یا انکار نہیں ہوتا ‘ اسی طرح دوزخ کی اس عظیم الشان اور بےمثل حقیقت کبریٰ کو ماننے اور تسلیم کرنے میں بھی تم کو کوئی اچنبھا نہیں ہونا چاہیے جبکہ وہ عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے ‘ اور مخبر صادق ﷺ نے اس کی قطعی اور تاکیدی خبر بھی دی ہے، اور عدل و انصاف کا تقاضا بھی یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–38
منکرین اور ان کا انجام تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
آیات 32 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
ف 11 یعنی وہلوگ جنہیں ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا جو دائیں ہاتھ چلائے جائیں گے یا جو حضرت آدم کی پشت کی دائیں جانب سے نکلے یا جو دنیا میں سیدھی راہ پر چلتے رہے۔
Read the full tafseer →(74:35) انھا لاحدی الکبر۔ یہ جملہ جواب قسم ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب سقر کی طرف راجع ہے لام تاکید کے لئے ہے۔ احدی الکبیر۔ مضاف مضاف الیہ ۔ بڑی بلاؤں میں سے یا مصیبتوں میں سے کی ایک۔ الکبر جمع ہے کیر کی۔ بیشک یہ (سقر) بہت بڑی بلاؤں میں سے ایک بلا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
لغات القرآن۔ ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔ تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
ابوجہل کا فرشتوں پر مذاق اور فرشتوں کی طاقت۔ (ف 1) شان نزول : تفسیر ابن جریر وغیرہ میں جو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اوپر کی آیتوں میں یہ لفظ اترے کہ دوزخ پرانیس فرشتے تعینات ہیں تو ابوجہل نے قریش سے کہا کہ تم لوگ تو بہت بڑی قوم ہو تم میں سے سوسوشخص بھی اگر ایک ایک فرشتے سے بھگت لو گے تو انیس فرشتے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کی عقل ماری گئی ہے جو ایسی باتیں کرتے ہیں، یہ انیس انسان نہیں جو سارے قریش مل کر ان سے بھگت لیں گے یہ تو فرشتے ہیں ان میں کا تو ایک ایک کا پرساری دنیا کے الٹ پلٹ کردینے کو کافی ہے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
[14] یعنی اب جس کا جی چاہے اس سے ڈر کر بھلائی کے راستے پر آگے بڑھے اور جس کا جی چاہے بدی میں پھنس کر پیچھے رہ جائے۔ مقصود یہ ہے کہ دوزخ بڑے ڈراوے کی چیز ہے اور کیونکہ اس ڈراوے کے عواقب و نتائج قیامت میں ظاہر ہوں گے اس لئے قسم ایسی چیز کی کھائی گئی ہے جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے۔ چناچہ پہلے چاند کو پیش کیا گیا ہے کہ جس طرح وہ درجہ بدرجہ ہلال سے بدر کے مقام تک پہنچتا ہے اسی طرح انسان بھی مختلف اطوار و مراحل سے گزرتا ہوا بالآخر اس مقام تک پہنچے گا جس کی خبر دی جا رہی ہے۔ چاند کے بعد رات اور صبح کی قسم کھائی گئی ہے یعنی جس طرح رات کی تاریکی میں صبح کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا لیکن وقت آتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
ف 1: قرآن حکیم میں بعض مقامات ایسے ہیں ۔ جہاں ہمارے جذبات عقیدت ونیازمندی کا امتحان ہوتا ہے ۔ ان تک عقل وفہم کی رسائی نہیں ہوسکتی البتہ ایمان اور یقین کی روشنی سے ان تک پہنچاجاسکتا ہے ۔ اس لئے ان مقدمات میں بحث اور دلائل شماری محض بےکار ہوتی ہے ۔ بلکہ یہاں ضرورت ہے اس بات کی کہ آنکھیں بند کرکے تسلیم کرلیا جائے اور اگر حقیقت بہت زیادہ بغاوت کرے ۔ تو اس کو یہ کہہ کردبا دیا جائے کہ ہر منزل میں تمہاری راہنمائی قطعاً بےسود ہے ؎ اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے ان مقامات میں جنت اور دوزخ کی تفصیلات ہیں ۔ کہ ان کا اس دنیا میں معلوم ہونا ناممکن ہے ۔ اسی لئے جہنم…
Read the full tafseer →(35) کہ وہ جہنم بڑی ہولناک…اوردہشت ناک چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
ف 1۔ یعنی جو اصل مقصود ہے جہنم کا حال بیان کرنے سے وہ وعدہ کی قلت یا کثرت یا تعیین یا انکشاف حکمت تخصیص یا عدم انکشاف پر موقوف نہیں، اور وہ اصل مقصود یہ ہے کہ وہاں کے عذاب کو سن کر ڈریں اور ایمان لاویں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
(نہیں کیا) یعنی ایسا نہیں کہ کوئی سقر کا انکار کرسکے (قسم ہے چاند کی) کہ وقتوں اور مدتوں کی پہچان اس سے متعلق ہے۔ (اور رات کی جب پیٹھ پھیرے) یعنی جب جاتی ہے دن کے آگے سے ، (اور صبح کی جب روشنی پھیلا دے) اور عالم کو روشن کردے۔ (بیشک جہنم بڑی چیزوں کی ایک ہے) یعنی ایک درکہ دوزخ کے بڑے درکوں میں سے ہے ۔ (اور (ڈراؤنی بشر کے لیے) یعنی ہم نے کیا ہے اسے ایک چیز کہ اس سے ڈرائیں آدمی کو۔ لباب میں ہے کہ حق تعالیٰ رسول اللہ کو فرماتا ہے کہ قم نذیرا ، یعنی کھڑا ہو ڈرانے والا آدمیوں کے واسطے تاکہ تجھ سے نصیحت پکڑ کر گناہ سے پرہیز کریں۔ اس قول پر رسول ڈرانے والے ہیں اور پہلے قول پر دوزخ ڈرانے والی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُو (...And no one knows the hosts of your Lord but He 74:31) Muqatil, among the leading authorities, says that this is rebuttal to Abu Jahl's statement. When he heard this verse which says that there are nineteen angels in charge of Hell, he addressed the youth of Quraish and said that Muhammad has only nineteen companions, so there is nothing to worry about. Baihaqi records a narrative from Suddi that when verse 30 was revealed, a foolish Quraishi unbeliever, Abul-Asalain by name, spoke out: '0 nation of Quraish, I alone am sufficient for the nineteen.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
28 That is, "Just as the moon and the night and the day are the great signs of the powers of Allah, so also is Hell a great sign of His powers. If the existence of the moon and the alternation of the night and day so regularly were not impossible, why should the existence of Hell be impossible as you think it is? You see these phenomena day and night; therefore, they do not surprise you: otherwise these things in themselves also are great marvels of the powers of Allah. If you had not observed them and somebody were to tell you that there is also such a thing as the moon in the world, or,…
Read the full tafseer →