Explained with ayahs 31–37
سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بےرحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابو جہل نے کہا اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو نہ تھکا سکو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور…
Read the full tafseer →سورة الْمُدَّثِّر 17
یہاں سے لے کر " تیرے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا کوئی نہیں جانتا " تک کی پوری عبارت ایک جملہ معترضہ ہے جو دوران تقریر میں سلسلہ کلام کو توڑ کر ان معترضین کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا ہے جنہوں نے حضور ﷺ کی زبان سے یہ سن کر کہ دوزخ کے کارکنوں کی تعداد صرف 19 ہوگی، اس کا مذاق اڑانا شروع کردیا تھا۔ ان کو یہ بات عجیب معلوم ہوئی کہ ایک طرف سے ہم سے یہ کہا جا رہا کہ آدم ؑ کے وقت سے لے کر قیامت تک دنیا میں جتنے انسانوں نے بھی کفر اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ہے وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے، اور دوسری طرف ہمیں یہ خبر دی جا رہی ہے کہ اتنی بڑی دوزخ میں اتنے بیشمار انسانوں کو عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُو
ائمہ تفسیر میں سے مقاتل نے فرمایا کہ یہ جواب ابوجہل کے کلام کا ہے اس نے جب یہ آیت سنی کہ جہنم کے خازن انیس فرشتے ہیں تو قریشی جوانوں کو خطاب کرکے کہنے لگا کہ محمد کے ساتھی تو فقط انیس ہیں اس کی تمہیں کیا فکر ہوسکتی ہے۔ اور بیہقی نے سدی سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی علیھا تسعھ عشر تو ایک بیہودہ کافر قریش جس کو ابوالاسلین کہا جاتا تھا بول اٹھا کہ اے قوم قریش کچھ فکر نہ کرو۔ ان انیس کے لئے تو میں اکیلا کافی ہوں میں اپنے داہنے بازو سے دس کو بائیں بازو سے نو کو دفع کرکے ان انیس کا خامہ کردونگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ احمقو اول تو فرشتہ ایک بھی…
Read the full tafseer →متشابہات کے ذکر کی حکمت:
یہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، برسر موقع ایک تنبیہ ہے۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ یہ آیت بہت بعد میں مدینہ کے دور میں نازل ہوئی سابق آیت سے حرف عطف کے ساتھ اس کا اتصال قرینہ ہے کہ یہ ساتھ ہی نازل ہوئی ہے۔ بعد میں نازل ہونے والی آیتیں، جو اپنے سابق حکم کے ساتھ ملائی گئی ہیں، ان کا انفصال ہر جگہ نمایاں ہے۔ سورۂ مزمل میں ’إِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ.....‘ (۲۰) والی آیت مدنی دور کی آیت ہے۔ چنانچہ سابق آیت سے اس کا انفصال نمایاں ہے۔ اس کو حرف ربط کے ذریعہ سے مربوط نہیں کیا لیکن یہاں یہ حرف عطف کے ذریعہ سے مربوط ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ آیت بھی ساتھ ہی نازل ہوئی اور مقصود اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
31۔ 1 یہ مشرکین قریش کا رد ہے، جب جہنم کے دروغوں کا اللہ نے ذکر فرمایا تو ابو جہل نے جماعت قریش کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم میں سے ہر دس آدمیوں کا گروپ، ایک ایک فرشتے کے لئے کافی نہیں ہوگا، بعض کہتے ہیں کہ کالدہ نامی شخص نے اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا، کہا، تم سب صرف دو فرشتے سنبھال لینا، 17 فرشتوں کو تو میں اکیلا ہی کافی ہوں۔ کہتے ہیں اس نے رسول اللہ ﷺ کو کشتی کا بھی کئی مرتبہ چلینج دیا اور ہر مرتبہ شکست کھائی مگر ایمان نہیں لایا، کہتے ہیں اس کے علاوہ رکانہ بن عبد یزید کے ساتھ بھی آپ ﷺ نے کشتی لڑی تھی لیکن وہ شکست کھا کر مسلمان ہوگئے تھے (ابن کثیر) مطلب یہ کہ یہ تعداد بھی ان کے مذاق یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
10: جب یہ آیت نازل ہوئی کہ دوزخ پر انیس کارندے مقرر ہیں تو کافروں نے اس کا مذاق اڑایا، اور ایک نے تو لوگوں سے یہاں تک کہہ دیا کہ انیس میں سے سترہ کے لیے تو میں ہی کافی ہوں، باقی دو سے تم نمٹ لینا۔ (ابن کثیر)۔ اس کے جواب میں یہ آیت 31 نازل ہوئی کہ یہ انیس کارندے سب کے سب فرشتے ہیں، کوئی مذاق نہیں کہ تم ان کا مقابلہ کرسکو۔
11: یعنی اللہ تعالیٰ کو دوزخ کی نگرانی اور حفاظت کے لیے کسی خاص تعداد کی ضرورت نہیں ہے، لیکن یہ تعداد اس لیے مقرر کی گئی ہے کہ کافروں کی آزمائش ہو کہ وہ اس کی تصدیق کرتے ہیں، یا مذاق اڑاتے ہیں۔
12: بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے کے یہودیوں اور عیسائیوں کی کچھ کتابوں میں…
Read the full tafseer →آیت کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ یہ فرشتے انیس ہیں اور مشرکین اس تعداد میں شک کرتے ہیں۔
وما جعلنا ............................ ملئکة (74:31) ” ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں “۔ تو یہ کارکن ان فرشتوں میں سے ہیں جو نہایت ہی قدرت والے ہیں اور ان کی طبیعت اور مزاج کو اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ نہایت ہی قوی ہیں اور ان کے بارے اللہ نے فرمایا ہے۔
لا یعصون .................... یومرون ” وہ ان احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور ان کو جو کچھ حکم دیا جاتا ہے وہ اسے کر گزرتے ہیں “۔ یعنی وہ اللہ کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں۔ اور ان کے اندر اس بات کی طاقت ہے کہ اللہ جو حکم دے وہ اس کی تعمیل کریں ۔ اللہ نے ان کو…
Read the full tafseer →14 انیس کا عدد سن کر مشرکین ٹھٹھا کرنے لگے کہ ہم ہزاروں ہیں۔ انیس ہمارا کیا کرلیں گے۔ بہت ہوا ہم میں سے دس دس ان کے ایک ایک کے مقابلہ میں ڈٹ جائیں گے۔ ایک پہلوان بولا کہ سترہ کو تو میں اکیلا کافی ہوں، دو کا تم مل کر تیاپانچا کرلینا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ یعنی وہ انیس تو ہیں مگر آدمی نہیں فرشتہ ہیں۔ جن کی قوت کا یہ حال ہے کہ ایک فرشتہ نے قوم لوط کی ساری بستی کو ایک بازو پر اٹھا کر پٹک دیا تھا۔
15 یعنی کافروں کو عذاب دینے کے لیے انیس کی گنتی خاص حکمت سے رکھی ہے جس کی طرف " علیہا تسعۃً عشر " کے فائدہ میں اشارہ کیا جا چکا ہے اور اس گنتی کے بیان کرنے میں منکروں کی جانچ ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کون اس کو سن…
Read the full tafseer →آیت 31{ وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِکَۃًص } ”اور ہم نے نہیں مقرر کیے جہنم کے داروغے مگر فرشتے“
ان لوگوں کو فرشتوں کی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ فرشتوں کی قوتوں کو انسانی قوتوں پر قیاس کرنا ان کی حماقت ہے۔
{ وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْالا } ”اور ہم نے نہیں ٹھہرائی ان کی یہ تعداد مگر کافروں کی آزمائش کے لیے“
{ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ } ”تاکہ جنہیں کتاب دی گئی تھی انہیں یقین آجائے“
جامع ترمذی کی ایک روایت کے مطابق جہنم کے انیس داروغوں کا ذکر تورات میں بھی ہے۔ اب ظاہر ہے اہل ِکتاب کے لیے تو قرآن کے حق میں یہ بہت بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
14 انیس فرشتوں پر کافروں کا استہزا :۔ دوزخ پر انیس فرشتوں کے تقرر کی بات سن کر مشرکین ٹھٹھا کرنے لگے کہ ہم تو ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ پھر اگر ہمارے لیے جہنم کے عذاب کی بات درست ہوئی بھی تو یہ انیس ہمارا کیا بگاڑ لیں گے۔ ہم دس دس مل کر بھی ایک فرشتے کا مقابلہ نہ کرسکیں گے ؟ ان میں سے ایک پہلوان ٹائپ آدمی کہنے لگا کہ ان میں سے سترہ کو تو میں سنبھال لوں گا۔ باقی دو سے تم نمٹ لینا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ تمہاری سوچ بالکل غلط ہے وہ داروغے ہیں تو انیس مگر وہ آدمی نہیں بلکہ فرشتے ہیں اور تم کیا سمجھو کہ ایک فرشتہ کتنی قوت کا مالک ہوتا ہے ؟
15 یعنی اہل کتاب اور مومن لوگ فرشتوں پر بن…
Read the full tafseer →14۔ (کہ وہ اس عدد متعین کو سن کر اس پر طرح طرح سے مضحکہ کریں گے) (آیت) ” وما ..... ملئکۃ “۔ یعنی یہ دوزخ کے کارکن انسان وغیرہ نہیں فرشتے ہی ہوں گے، جو ہر قسم کی بشری کمزور یوں سے پاک ہیں۔ اور امر الہی کی تعمیل کے سوا اور کچھ جانتے ہیں نہیں، مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ عقائد قطعی اللہ پر ایمان، انبیاء پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، حدوث عالم کا اعتقاد وغیرہا تعداد میں انیس ہی ہوتے ہیں۔ اور عذاب کفار کی اصل چونکہ انہیں عقائد اسلامی کی مخالفت ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ ایک ایک فرشتہ انہیں 19 عقائد اصلی میں سے ایک ایک کے مقابلہ پر ہو، یا یہ کہا جائے کہ انسان کے نفس میں عذاب دوزخ کی بھڑکانے والی انیس…
Read the full tafseer →وما جعلنا اصحب النار الا ملائکۃ، جب جہنم کے نگرانوں کا ذکر فرمایا اور ان کی تعداد بیان فرمائی تو ابوجہل نے جماعت قریش کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم میں سے ہر دس آدمی کا گروپ ایک ایک فرشتہ کے لئے کافی نہیں ہوگا ؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کلدہ نامی ایک شخص نے جسے اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا کہا، تم سب صرف دو فرشتے سنبھال لینا، سترہ فرشتوں کے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، کہتے ہیں کہ اسی نے آپ ﷺ کو کئی مرتبہ کشتی کا بھی چیلنج دیا اور ہر مرتبہ شکست کھائی مگر ایمان نہیں لایا کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ رکانہ بن عبدیزید کے ساتھ بھی آپ ﷺ نے کشتی لڑی تھی مگر وہ شکست کھا کر مسلمان ہوگئے تھے، (ابن کثیر) مطلب یہ…
Read the full tafseer →وما جعلنا اصحاب النار الا ملئکۃ . یعنی ہم نے دوزخ کے دربان صرف فرشتے مقرر کیے ہیں ‘ وہ آدمی
نہیں ہیں کہ یہ کافر ان کو دفع کرسکیں۔
وما جعلنا عدتھم الا فتنۃ للذین کفروا . یعنی دوزخ کے دربانوں کی قلت تعداد کو ہم نے کافروں کی گمراہی
اور کفر کا سبب بنایا۔ قلت تعداد کا انہوں نے مذاق اڑایا اور ان کے مقابلہ میں غرور کیا اور اپنے خیال میں تمام کافروں کو اسی قلیل تعداد کا عذاب دینا بعید از عقل سمجھا اور نتیجہ میں بیہودہ گفتگو کی ‘ اس ساری گمراہی کا سبب دربانوں کی تعداد کی قلت ہوئی۔
لیستیقن الذین اوتوا الکتاب . کلام کی رفتار بتارہی ہے کہ اس فعل کا تعلق فعل مہذوف سے ہے
مفہوم کلام یہ ہے کہ ہم نے آپ کو…
Read the full tafseer →اور ہم نے دوزخیوں پر صرف فرشتوں ہی کو مقرر کیا ہے اور ہم نے جو دوزخ کے خازنوں کی تعداد صرف اس لیے کم رکھی ہے جو کفار مکہ کی آزمائش کا ذریعہ ہے یعنی ابو الااسد بن اسید بن کلدہ کی کیونکہ اس نے کہا تھا کہ میں سترہ فرشتوں کو کافی ہوں نو میری کمر پر ہوں گے اور آٹھ اپنے سینے پر لاد لوں گا اور دو کو تم سنبھال لینا تو یہ اس لیے مقرر کی ہے، تاکہ وہ لوگ یقین کرلیں جن کو توریت کا علم دیا گیا ہے یعنی حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی کیونکہ ان کی کتاب میں دوزخ کے خازنوں کی یہی تعداد مذکور ہے اور یہ بات معلوم ہو کر کہ ہماری کتاب میں بھی وہی چیز ہے جو کہ توریت میں ہے ایمان والوں کا ایمان اور بڑھ جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(1) علیھا نسعۃ عشر…: اللہ تعالیٰ نے جب جہنم پر مامور اشخاص کی تعداد انیس (19) تو ساتھ ہی اسے ٹھٹھے اور مذاق کا جواب بھی ذکر کردیا جو کافر اڑا سکتے تھے اور انہوں نے اڑایا بھی کہ انیس (19) شخص ہم ہز اورں لاکھوں کا کیا بگاڑ سکتے ہیں ؟ فرمایا ہم نے جہنم پر جن لوگوں کو مقرر کیا ہے، وہ فرشتے ہیں اور فرشتہ تو ایک بھی ہو تو تم سب کے لئے کافی ہے۔
(2) جہنم کے فرشتوں کی تعداد بتانے کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ کافروں کی آزمائش ہوجائے گی، انہوں نے اپنے محب باطن کا جو اظہار کرنا ہے کرلیں گے، جو مذاق اڑانا ہے اڑا لیں گے اور اہل کتاب کو اس کے حق ہونے کا یقین ہوجائے گا، کیونکہ یہ تعداد ان کی کتاب کے مطابق ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
علیھا تسعۃ عشر۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ ذکری للبشر
علیھا تسعۃ عشر۔ یعنی سقر پر انیس فرشتے ہیں جو جہنم میں جہنمیوں سے ملاقات کریں گے پھر کہا گیا، مجموعی جہنم پر انیس فرشتے ہیں وہی اس کے خازن ہیں ایک مالک اور باقی اٹھارہ۔ یہ احتمال ہے انیس نقیب ہوں۔ یہ بھی احتمال ہے انیس فرشتے ہوں، اکثر مفسرین کی یہی رائے ہے ثعلبی نے کہا، اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا، جب ایک فرشتہ تمام مخلوق کی ارواح کو قبض کرسکتا ہے تو یہ زیادہ مناسب ہے کہ انیس فرشتے بعض مخلوق کے عذاب پر متعین ہوں ابن جریج نے کہا، نبی کریم ﷺ نے جہنم کی داروغوں کی صفت بیان کی فرمایا، گویا ان کی آنکھیں بجلیاں ہیں، ان کے منہ قلعے ہیں، وہ اپنے بال کھینچتے ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
41۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت وما جعلنا عدتہم الا فتنۃ للذین کفروا کے بارے میں روایت کیا کہ ابوالاشدین نے کہا کہ تم میرے اور جہنم کے داروغوں کے درمیان ہٹ جانا۔ میں تمہاری جانب سے ان کی مشقت کے لیے کافی ہوں۔ ابن عباس ؓ نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے جہنم کے داروغوں کے درمیان ہٹ جانا۔ میں تمہاری جانب سے ان کی مشقت کے لیے کافی ہوں۔ ابن عباس ؓ نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے جہنم کے داروغوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا گویا ان کی آنکھوں کی چمک بجلی کی طرح ہے اور ان کے منہ کے دانت مرغ کی خاروں کی طرح ہیں۔ وہ ان کو پلکوں سے کھینچ لائیں گے۔ اور ان کی قوت ثقلین یعنی جن وانس کی…
Read the full tafseer →[وَمَا جَعَلْنَآ : اور ہم نے نہیں بنایا (کسی کو)] [اَصْحٰبَ النَارِ : آگ والے (داروغہ)] [اِلَّا مَلٰۗىِٕكَةً : مگر کچھ فرشتوں کو ] [وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ : اور ہم نے نہیں بنایا ان کی گنتی کو ] [اِلَّا فِتْنَةً : مگر ایک آزمائش ] [لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنھوں نے کفر کیا ] [لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِينَ : تاکہ یقین حاصل کریں وہ لوگ جن کو ] [اُوْتُوا الْكِتٰبَ : دی گئی کتاب ] [وَيَزْدَادَ الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا : اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ] [اِيْمَانا : بلحاظ ایمان کے ] [وَّلَا يَرْتَابَ الَّذِينَ : اور تاکہ شبہہ میں نہ پڑیں وہ لوگ جن کو ] [اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ…
Read the full tafseer →دوزخ کے کارکن صرف فرشتے ہیں ان کی معینہ تعداد کافروں کے لیے فتنہ ہے، رب تعالیٰ شانہ کے لشکروں کو صرف وہی جانتا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ جب آیت بالا نازل ہوئی جس میں انیس فرشتوں کا ذکر ہے تو ابو جہل نے قریش سے کہا تمہارا ناس ہو محمد رسول اللہ ﷺ کا بیان ہے کہ دوزخ پر انیس فرشتے مقر رہیں تو کیا تم پہلوان ہوتے ہوئے ان سے مار کھائے جاؤ گے کیا تم میں سے ہر دس آدمی ایک فرشتے کے لیے کافی نہ ہوں گے وہیں اسید بن کلدہ بھی ایک شخص موجود تھا اس نے کہا کہ سترہ فرشتوں سے تو میں نمٹ لوں گا دس میری پیٹھ پر سات میرے پیٹ پر ہوں تو میں نمٹا دوں گا اور باقی دو سے تم نمٹ لینا، اور ایک روایت میں یوں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔
(ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…
Read the full tafseer →10:۔ ” وجعلنا “ فتنۃ، آزمائش یا گمراہی کا سبب۔ لیستیقن میں لام عاقبت کا ہے۔ اتنی کثیر تعداد میں دوزخیوں پر قابو پانے کے لیے فرشتوں کی تھوڑی سی جماعت کا مقرر کرنا اور پھر اس تعداد کا اظہار کفار و مشرکین کی آزمائش کے لیے ہے کہ وہ اس کو تسلیم کرتے ہیں یا اس کا انکار کرتے ہیں اس کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ یہ آیت سن کر ابو جہل نے قریش سے کہا : قریش کے بہادر اور سخت گیر پہلوانو ! کیا تم میں سے دس دس جوان بھی ایک ایک پر قابو نہیں پا سکو گے ؟ اس پر ابولاشد بن اسید جمحی بولا : فکر کی کوئی بات نہیں سترہ کو تو میں اکیلا ہی سنبھال لوں گا، باقی دو کو تم سب مل کر سنبھال لینا، چونکہ کتب سابقہ میں بھی خزان جہنم…
Read the full tafseer →وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰۗىِٕكَۃً 0 ۠ وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا 0 ۙ لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَيَزْدَادَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِيْمَانًا وَّلَا يَرْتَابَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ 0 ۙ وَلِيَقُوْلَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ وَّالْكٰفِرُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللہُ بِہٰذَا مَثَلًا 0 ۭ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللہُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۭ وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا ہُوَ 0 ۭ وَمَا ھِيَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ 31 ۧ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
1 ؎ انیس شخص یا انیس قسم کے ملائکہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَمَا جَعَلْنَـآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلاَّ مَلٰٓئِکَۃً ص وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَھُمْ اِلاَّ فِتْنَۃً لِّـلَّذِیْنَ کَفَرُوْا لا لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَیَزْدَادَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِیْمَانًا وَّلاَ یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ لا وَلِیَـقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ وَّالْـکٰفِرُوْنَ مَا ذَٓا اَرَادَاللّٰہُ بِھٰذَا مَثَلاً ط کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَآئُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ط وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلاَّ ھُوَ ط وَمَا ھِیَ اِلاَّ ذِکْرٰی لِلْبَشَرِ ۔ (المدثر : 31)
(ہم نے دوزخ پر نگران فرشتوں کو ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
فہم القرآن
ربط کلام : مجرم شخص کو جس کٹھن گھاٹی پر چڑھائے جانے کی دھمکی دی گئی ہے وہ جہنم ہے۔
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے فرامین کا انکار کرتے ہیں انہیں بہت جلد جہنم میں جھونکا جائے گا۔ اے قرآن پڑھنے والے ! تو نہیں جانتا ہے کہ جہنم کیا ہے ؟ وہ اللہ کا تیار کیا ہوا عقوبت خانہ ہے جس میں مجرم کو موت نہیں آئے گی اور نہ اس کی زندگی ہوگی گویا کہ وہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہے گا۔ وہ چمڑی ادھیڑ دینے والی آگ ہے اس پر انیس فرشتے مقرر کیے گئے ہیں اور یہ تعداد کفار کے لیے آ زمائش بنا دی گئی ہے ہاں یہ ان لوگوں کے لیے آزمائش نہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کی توفیق بخشی ہے۔ جنت کے فرشتوں کی تعداد اس…
Read the full tafseer →31 : وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ (ہم نے دوزخ کے کارکن بنائے ہیں) نگران اِلَّا مَلٰٓپکَۃً (فرشتے ہی) کیونکہ جن کو عذاب دیا جارہا ہے۔ ان کی جنس ان سے مختلف ہے سز ا کے وقت ان کو نرمی اور رقت نہ ہوگی کیونکہ تمام مخلوق میں وہ سب سے زیادہ سخت مزاج پیدا کیے گئے۔ ان میں ایک کو جن و انس تمام کے برابر قوت حاصل ہے۔ وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ (اور ہم نے ان کی تعداد جو ایسی رکھی ہے) یعنی انیس عدد اِلَّا فِتْنَۃً (وہ کافروں کی گمراہی کا ذریعہ ہے) فتنہ ابتلاء وامتحان۔ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (کافروں کے لئے) یہاں تک کہ ابو جہل اس تعداد کو سنکر کہنے لگا۔ تم اتنا جھمگھٹا ہو تو دس دس مل کر بھی ایک کو نہ…
Read the full tafseer →30 ۔” علیھا تسعۃ عشر “ یعنی جہنم ار انیس 19 فرشتے ہیں اور وہ اس کا داروغہ مالک اور اس کے ساتھ اٹھارہ ہیں اور اثر میں آیا ہے کہ ان کی آنکھیں اچکنے والی بجلی کی طرح اور ان کی کچلیاں (نوکیلے دانت) ہرن کے سینگوں کی طرح نوکیلے ہیں ان کے منہ سے آگ کے شعلے نکلتے ہوں گے ان میں سے ایک کے کندھوں کے درمیان ایک سال کی مسافت ہوگی، ان سے رحمت چھین لی گئی ہوگی، ان میں سے ایک ستر ہزار کو اٹھا کو جہنم میں جہاں کا ارادہ کرے گا پھینک دے گا۔
عمروہ بن دینار (رح) فرماتے ہیں کہ ان میں سے ایک دفعہ میں جہنم میں قبیلہ ربیعہ اور مضر سے زیادہ لوگوں کو پھینک دے گا۔ ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں جب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
31۔ 37۔ تفسیر ابن جریر 1 ؎ وغیرہ میں جو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اوپر کی آیتوں میں یہ لفظ اترے کہ دوزخ پر انیس فرشتے تعینات ہیں تو ابوجہل نے قریش سے کہا کہ تم لوگ تو بہت بڑی قوم ہو تم میں سے سو سو شخص بھی اگر ایک ایک فرشتے سے بھگت لو گے تو انیس فرشتے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کی عقل ماری گئی ہے جو یہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ یہ انیس انسان نہیں جو سارے قریش مل کر ان سے بھگت لیں گے یہ تو فرشتے ہیں۔ ان میں کا تو ایک ایک ساری دنیا کے الٹ پلٹ کردینے کو کافی ہے۔ کیا ان لوگوں نے سنا نہیں کہ اللہ کے ایک فرشتے…
Read the full tafseer →(وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰۗىِٕكَةً ) اور ہم نے جہنم کے داروغے فرشتے بنائے ہیں۔ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ( وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۙ ) اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب، عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (یوم ھم علی النار یفتنون۔ الذاریات 13) ۔ اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمہیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے
قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔
دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →18 ۔ دوزخ کے کارندے فرشتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دوزخ کی اس آگ پر انیس کارندے ہوں گے اور ہم نے دوزخ کے یہ کارندے نہیں بنائے مگر فرشتے۔ اور ہم نے دوزخ کے یہ کارندے نہیں بنائے مگر فرشتے، جن کی قوت کا علم و اندازہ اللہ پاک کے سوا اور کوئی کر ہی نہیں سکتا، پس ان کو بندوں پر قیاس کرکے کافروں کا اس پر ٹھٹھا اڑانا اور مذاق کرنا ان بدبختوں کی اپنی حماقت اور بدبختی کا ثبوت ہے، جیسا کہ اس کا ذکر وبیان آگے حاشیے میں آرہا ہے، سودینی حقائق کا مذاق اڑانا کفار اور منکرین کا طریقہ ووطیرہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ مومن کا کام اور اس شان یہ ہے کہ وہ غیبی حقائق کو اسی طرح مانے اور تسلیم کرے جس طرح وحی خداوندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–38
منکرین اور ان کا انجام
تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
سورة المدثر۔
آیات 1 تا 31۔
اسرار ومعارف۔
سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔
لباس کی پاکیزگی۔
اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی وہ آدمی نہیں ہیں کہ آدمیوں کی کوئی بڑی سے بڑی تعداد بھی انہیں مغلوب کرسکے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب ابوجہل نے یہ سنا کہ دوزخ کے دارہ خائوں کی تعداد انیس ہے تو کہنے لگا لوگو ! گواہ رہو کہ محمد (ﷺ) کے کل مددگار انیس ہیں اور تم اتنے ہو کہ تم میں سے سو آدمی بلکہ دس آدمی مل کر دوزخ کے ایک داروغہ پر غالب آجائیں گے۔ اسی کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا ہے۔ (شوکانی)7 یعنی جب وہ دیکھیں گے کہ اہل کتاب جب وہ دیکھیں گے کہ اہل کتاب کی کتابیں قرآن کی تائید کر رہی ہیں تو قرآن اور پیغمبر پر ان کا ایمان مزید پختہ ہوجائے گا۔8 یعنی اس نے انیس داروغہ کیوں مقرر کئے ؟… معلم ہوا کہ اس قسم کے…
Read the full tafseer →(74:31) وما جعلنا اصحب النار الا ملئکۃ : واؤ عاطفہ ما نافیہ ہے۔ اصحب النار مضاف مضاف الیہ مل کر جعلنا کا مفعول ہے۔ الا حرف استثناء ملئکۃ مستثنیٰ اور ہم نے دوزخ پر داروغے فرشتوں کو ہی رکھا ہے۔
عدتھم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کی تعداد، فتنۃ آزمائش، اور ان کی تعداد کافروں کے لئے ہم نے آزمائش بنائی ہے۔
لیستیقن لام تعلیل کے لئے ہے۔ یستیقن مضارع منصوب واحد مذکر غائب استیقان (استفعال) مصدر بمعنی واضح طور پر جان لینا۔ یقین کے ساتھ جان لیتا۔ یقین کا معنی ہے کسی بات کی قطعیت پر انسانی فہم کا قائم ہوجانا۔ چونکہ یقین علم حصولی کی صفت ہوتا ہے۔ اس لئے ملائکہ اور انسان کے علم کی صفت تو ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
لغات القرآن۔
المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔
تشریح :
اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
ابوجہل کا فرشتوں پر مذاق اور فرشتوں کی طاقت۔
(ف 1) شان نزول : تفسیر ابن جریر وغیرہ میں جو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اوپر کی آیتوں میں یہ لفظ اترے کہ دوزخ پرانیس فرشتے تعینات ہیں تو ابوجہل نے قریش سے کہا کہ تم لوگ تو بہت بڑی قوم ہو تم میں سے سوسوشخص بھی اگر ایک ایک فرشتے سے بھگت لو گے تو انیس فرشتے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کی عقل ماری گئی ہے جو ایسی باتیں کرتے ہیں، یہ انیس انسان نہیں جو سارے قریش مل کر ان سے بھگت لیں گے یہ تو فرشتے ہیں ان میں کا تو ایک ایک کا پرساری دنیا کے الٹ پلٹ کردینے کو کافی ہے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
[11] مراد شک کی بیماری ہے۔ فی زمانہ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو قطعیت کے ساتھ اللہ، رسول، وحی، آخرت، جنت، دوزخ کا انکار کرتے ہوں۔ اکثریت انہی لوگوں کی ہوتی ہے جو ان کے بارے میں شک میں مبتلا رہتے ہیں۔
[12] کافروں کو انیس فرشتوں کی تعین سن کر حیرت ہوئی کہ انیس کی تخصیص کیوں ؟ حالانکہ یہ اسرار الٰہی میں سے ہے۔ اس میں زیادہ کاوش کرنی لاحاصل ہے۔ کچھ مصلحت ہوگی جس کا ظاہر کرنا بندوں کے حق میں مناسب نہیں سمجھا گیا۔ سو اہل کتاب تو ایسی باتوں کے تسلیم کرنے میں تردد نہیں کرسکتے کیونکہ خود ان کی کتابوں میں اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جن پر وہ یقین رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
ف 1: قرآن حکیم میں بعض مقامات ایسے ہیں ۔ جہاں ہمارے جذبات عقیدت ونیازمندی کا امتحان ہوتا ہے ۔ ان تک عقل وفہم کی رسائی نہیں ہوسکتی البتہ ایمان اور یقین کی روشنی سے ان تک پہنچاجاسکتا ہے ۔ اس لئے ان مقدمات میں بحث اور دلائل شماری محض بےکار ہوتی ہے ۔ بلکہ یہاں ضرورت ہے اس بات کی کہ آنکھیں بند کرکے تسلیم کرلیا جائے اور اگر حقیقت بہت زیادہ بغاوت کرے ۔ تو اس کو یہ کہہ کردبا دیا جائے کہ ہر منزل میں تمہاری راہنمائی قطعاً بےسود ہے ؎
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
ان مقامات میں جنت اور دوزخ کی تفصیلات ہیں ۔ کہ ان کا اس دنیا میں معلوم ہونا ناممکن ہے ۔ اسی لئے جہنم…
Read the full tafseer →(31) اور ہم نے دوزخ کے نگہبان اور کارکن سوائے فرشتوں کے اور کسی کو نہیں بنایا یعنی فرشتے بنائے ہیں اور ہم نے جو ان فرشتوں کی تعداد صرف کافروں کی آزمائش کی غرض سے رکھی ہے تو اس لئے تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور اہل ایمان اپنے ایمان کے اعتبار سے اور زیادہ قوی ہوجائیں اور اہل کتاب اور مسلمان اس تعداد میں شک نہ کریں اور تاکہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری اور وگ ہے وہ اور دین کے منکر یعنی منافق اور کافر یوں کہیں کہ آخر اس قسم کا عجیب مضمون اور اس قسم کی کہاوت بیان کرنے سے اللہ کا مقصد کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس مثل سے کیا ارادہ کیا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےراہ کردیتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
ف 1۔ یعنی جو اصل مقصود ہے جہنم کا حال بیان کرنے سے وہ وعدہ کی قلت یا کثرت یا تعیین یا انکشاف حکمت تخصیص یا عدم انکشاف پر موقوف نہیں، اور وہ اصل مقصود یہ ہے کہ وہاں کے عذاب کو سن کر ڈریں اور ایمان لاویں۔
Read the full tafseer →(اور نہیں مقرر کیا ہم نے جہنم کے داروغے مگر فرشتوں کو) جو تمام خلق میں بہت قوی ہیں۔
معالم میں ہے کہ دوزخ کے خازنوں کا رئیس مالک ہے ، اور مالک کے ساتھ اٹھارہ اور ہیں۔ ان کی آنکھیں بجلی کی طرح چمکتی ہیں اور ان کے دانت اونچے اونچے مضبوط اور مستحکم قلعے کے مانند۔ آگ کے شعلے ان کے مونہوں سے نکلتے ہوں گے اور ان کے دونوں کاندھوں کے درمیان سال بھر چلنے کی مسافت ہے ۔ ان میں سے ایک ایک بار میں ستر ہزار کافروں کو دوزخ کے جس کونے میں چاہے گا ڈال دے گا۔ اور فرشتوں کا ذکر کافروں کا وہ کلام دفع کرنے کو کیا کہ وہ جان لیں کہ دوزخ کے خازن آدمی نہیں ہیں فرشتے ہیں سخت اور تند۔ سب آدمی ایک فرشتے کو دیکھنے کی طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُو (...And no one knows the hosts of your Lord but He 74:31) Muqatil, among the leading authorities, says that this is rebuttal to Abu Jahl's statement. When he heard this verse which says that there are nineteen angels in charge of Hell, he addressed the youth of Quraish and said that Muhammad has only nineteen companions, so there is nothing to worry about. Baihaqi records a narrative from Suddi that when verse 30 was revealed, a foolish Quraishi unbeliever, Abul-Asalain by name, spoke out: '0 nation of Quraish, I alone am sufficient for the nineteen.…
Read the full tafseer →17 The whole passage from here to "none knows the hosts of your Lord but He Himself", is a parenthetical sentence, which has been inserted here to answer an objection of the disbelievers, who had started mocking it when they heard the Holy Prophet (upon whom be peace) say that 19 keepers had been appointed over Hell. Their objection was: "How strange that, on the one hand, we are told that all human beings, from the time of the Prophet Adam till Resurrection, who disbelieved and committed evil, will be cast into Hell. and, on the other, that there will be only 19 keepers, who will administer…
Read the full tafseer →