كَلَّا وَالْقَمَرِ ۟ۙكَلَّا وَالۡقَمَرِ
ہاں ہاں (ہمیں) چاند کی قسم
— Fateh Muhammad Jalandhari
No! By the moon
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz
كَلَّا وَالْقَمَرِ ۟ۙكَلَّا وَالۡقَمَرِ
ہاں ہاں (ہمیں) چاند کی قسم
— Fateh Muhammad Jalandhari
No! By the moon
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir
ہرگز نہیں، قسم ہے چاند کی
ہاں ہاں (ہمیں) چاند کی قسم
سچ کہتا ہوں قسم ہے چاند کی
خبردار ! قسم ہے چاند۔
ہاں ہاں چاند کی قسم،
ہاں، چاند کی قَسم (جس کا گھٹنا، بڑھنا اور غائب ہو جانا گواہی ہے)،
ہرگز نہیں، چاند کی قسم !
(مگر یہ لوگ) ہرگز نصیحت قبول نہ کریں گے۔ چاند کی قسم
ہرگز نہیں، شاہد ہے چاند
ہرگز نہیں قسم ہے چاند کی
تحقیقا قسم ہے چاند کی
کیوں نہیں قسم ہے چاند کی۔
ہاں ہاں ہمیں چاند کی قسم
Nay, by the moon,
Truly, I swear by the moon,
Truly, I swear by the moon,
Nay! And by the moon.
Nay, by the Moon
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
No! By the moon
By the moon,
Nay; I swear by the moon,
By no means! By the moon,
Nay, verily: By the Moon,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 31–37
سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بےرحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابو جہل نے کہا اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو نہ تھکا سکو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
سورة الْمُدَّثِّر 27 یعنی یہ کوئی ہوائی بات نہیں ہے جس کا اس طرح مذاق اڑایا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُو ائمہ تفسیر میں سے مقاتل نے فرمایا کہ یہ جواب ابوجہل کے کلام کا ہے اس نے جب یہ آیت سنی کہ جہنم کے خازن انیس فرشتے ہیں تو قریشی جوانوں کو خطاب کرکے کہنے لگا کہ محمد کے ساتھی تو فقط انیس ہیں اس کی تمہیں کیا فکر ہوسکتی ہے۔ اور بیہقی نے سدی سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی علیھا تسعھ عشر تو ایک بیہودہ کافر قریش جس کو ابوالاسلین کہا جاتا تھا بول اٹھا کہ اے قوم قریش کچھ فکر نہ کرو۔ ان انیس کے لئے تو میں اکیلا کافی ہوں میں اپنے داہنے بازو سے دس کو بائیں بازو سے نو کو دفع کرکے ان انیس کا خامہ کردونگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ احمقو اول تو فرشتہ ایک بھی…
Read the full tafseer →آفاق کی بعض نشانیوں کا حوالہ: یہ آفاق کی چند نشانیوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس قیامت اور دوزخ سے لوگوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے وہ اس کائنات کے عظیم حوادث میں سے ہے اور اس کا ظہور قطعی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں تدریج و ترتیب ہے۔ جب اس کا وقت آ جائے گا تو وہ ظاہر ہو جائے گی۔ اپنے وقت سے پہلے نہیں ظاہر ہو گی۔ اس کے ظہور میں تاخیر سے یہ سمجھ بیٹھنا کہ وہ ظاہر ہو گی ہی نہیں حماقت ہے۔ رات میں اگر کوئی صبح کے لیے جلدی کرے تو اس کی جلد بازی کے سبب سے صبح اپنے وقت سے پہلے نہیں آئے گی۔ یہی حال قیامت کا ہے۔ اس کا بھی ایک وقت مقرر ہے۔ ٹھیک اسی وقت پر ظاہر ہو گی۔ ’کَلَّا وَالْقَمَرِ‘۔ آفاق کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
31۔ 1 یہ مشرکین قریش کا رد ہے، جب جہنم کے دروغوں کا اللہ نے ذکر فرمایا تو ابو جہل نے جماعت قریش کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم میں سے ہر دس آدمیوں کا گروپ، ایک ایک فرشتے کے لئے کافی نہیں ہوگا، بعض کہتے ہیں کہ کالدہ نامی شخص نے اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا، کہا، تم سب صرف دو فرشتے سنبھال لینا، 17 فرشتوں کو تو میں اکیلا ہی کافی ہوں۔ کہتے ہیں اس نے رسول اللہ ﷺ کو کشتی کا بھی کئی مرتبہ چلینج دیا اور ہر مرتبہ شکست کھائی مگر ایمان نہیں لایا، کہتے ہیں اس کے علاوہ رکانہ بن عبد یزید کے ساتھ بھی آپ ﷺ نے کشتی لڑی تھی لیکن وہ شکست کھا کر مسلمان ہوگئے تھے (ابن کثیر) مطلب یہ کہ یہ تعداد بھی ان کے مذاق یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
10: جب یہ آیت نازل ہوئی کہ دوزخ پر انیس کارندے مقرر ہیں تو کافروں نے اس کا مذاق اڑایا، اور ایک نے تو لوگوں سے یہاں تک کہہ دیا کہ انیس میں سے سترہ کے لیے تو میں ہی کافی ہوں، باقی دو سے تم نمٹ لینا۔ (ابن کثیر)۔ اس کے جواب میں یہ آیت 31 نازل ہوئی کہ یہ انیس کارندے سب کے سب فرشتے ہیں، کوئی مذاق نہیں کہ تم ان کا مقابلہ کرسکو۔ 11: یعنی اللہ تعالیٰ کو دوزخ کی نگرانی اور حفاظت کے لیے کسی خاص تعداد کی ضرورت نہیں ہے، لیکن یہ تعداد اس لیے مقرر کی گئی ہے کہ کافروں کی آزمائش ہو کہ وہ اس کی تصدیق کرتے ہیں، یا مذاق اڑاتے ہیں۔ 12: بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے کے یہودیوں اور عیسائیوں کی کچھ کتابوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
چاند کے مناظر ، رات کے مناظر جب وہ ختم ہوتی ہے اور صبح نمودار ہوتی ہے ، یہ زبردست مشاہد اور مناظر ہوتے ہی۔ یہ آنکھیں کھول دینے والے مناظر ہیں اور انسانی دل و دماغ پر ان کے بیشمار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور انسان ان پر اگر غور کرے تو اس پر کئی راز کھلتے ہیں اور انسانی دل و دماغ پر ان کے بیشمار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور اس ان ان پر اگر غور کرے تو اس پر کئی راز کھلتے ہیں۔ کئی گہرے تصورات انسان کے پردہ خیال پر آتے ہیں اور اسے پختہ شعور ملتا ہے۔ قرآن کریم انسان کو ان مظاہر کی طرف متوجہ کرکے انسان کے دل میں ان تصورات کو بٹھاتا ہے۔ اور ان احساسات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ جب چاند طلوع ہوتا ہے ، فضائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
6 یعنی جو بڑی بڑی ہولناک اور عظیم الشان چیزیں ظاہر ہونے والی ہیں دوزخ ان میں کی ایک چیز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
آیت 33{ وَالَّـیْلِ اِذْ اَدْبَرَ۔ } ”اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ پیٹھ موڑے۔“ یعنی جب رات رخصت ہو رہی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
14 انیس فرشتوں پر کافروں کا استہزا :۔ دوزخ پر انیس فرشتوں کے تقرر کی بات سن کر مشرکین ٹھٹھا کرنے لگے کہ ہم تو ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ پھر اگر ہمارے لیے جہنم کے عذاب کی بات درست ہوئی بھی تو یہ انیس ہمارا کیا بگاڑ لیں گے۔ ہم دس دس مل کر بھی ایک فرشتے کا مقابلہ نہ کرسکیں گے ؟ ان میں سے ایک پہلوان ٹائپ آدمی کہنے لگا کہ ان میں سے سترہ کو تو میں سنبھال لوں گا۔ باقی دو سے تم نمٹ لینا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ تمہاری سوچ بالکل غلط ہے وہ داروغے ہیں تو انیس مگر وہ آدمی نہیں بلکہ فرشتے ہیں اور تم کیا سمجھو کہ ایک فرشتہ کتنی قوت کا مالک ہوتا ہے ؟ 15 یعنی اہل کتاب اور مومن لوگ فرشتوں پر بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
18۔ یعنی اس کیلئے بھی جو خیر و فلاح کی طرف قدم بڑھانا چاہے اور اس کیلئے بھی جو خیر و فلاح سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔ غرض یہ کہ جملہ مکلفین کے لئے۔ (آیت) ” والقمر ..... الکبر “۔ موقع قسم پر یہاں تین چیزوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چاند اور رخصت ہوتی ہوئی رات اور روشن ہوتی ہوئی صبح، اور یہ تینوں چیزیں خاص مناسبت واقعہ قیامت سے رکھتی ہیں، جس پر بطور شہادت انہیں پیش کیا گیا ہے۔ چاند کا اول بڑھنا اور پھر گھٹنا، یہاں تک کہ نظروں سے معدوم ہوجانا ایک نمونہ اور مثال ہے، اس کائنات کے وجود وحدوث، اور نشوونما کا، اور پھر اضمحلال وانحطاط، یہاں تک کہ فناء کا، اسی طرح اس عالم کو آخرت کے ساتھ اختفاء اور اکتشاف حقائق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…
Read the full tafseer →کلا . منکروں کے لیے اس لفظ سے بازداشت کی گئی ہے یا منکروں کے نصیحت پذیر ہونے کا انکار ہے ‘ اگرچہ واقع میں یہ پیام نصیحت ہے۔ والقمر
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
(32۔ 38) قسم ہے چاند کی اور رات کی جس وقت وہ جانے لگیں اور صبح کی جبکہ وہ آنے لگے یا یہ کہ روشن ہوجائے اور سقر دوزخ کے حصوں میں سے ایک بڑا حصہ ہے، چناچہ جہنم، سقر، نطی، حظمہ، سعیر، جحیم، ہاویہ یہ سب دوزخ کے حصے ہیں جو ان کے لیے بڑا ڈراوا ہے۔ یا یہ کہ محمد انسانوں کو ڈرانے والے ہیں اب اس صورت میں اس جملہ کا تعلق صورت کے ابتدائی کلمات قم فانذر سے ہوجائے گا۔ یعنی تم میں جو چیز خیر کی طرف بڑھ کر ایمان لے آئے اس کے لیے بھی یا شر سے ہٹ کر اس کو چھوڑ دے اس کے لیے بھی، یا یہ کہ خیر سے ہٹ کر کفر اختیار کرے ہر کافر شخص اپنے اعمال کفر کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے دوزخ میں محبوس ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
(کلا و القمر…:”کلا“ ہرگز نہیں، یعنی جہنم یا اس پر مامور فرشتوں کی تعداد سے انکار ہرگز درست نہیں۔ اس کے بعد تینچ یزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ جہنم یقیناً بہت ہی بڑی چیز ہے۔ ان قسموں کی مناسبت جواب قسم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہنم کا انکار کرنے والوں کا انکار اس لئے ہے کہ وہ ان کی نگاہوں سے اوجھل ہے اور ان کے خیال میں اتنی بڑی ہولناک اور عظیم الشان چیز کا موجود ہونا ممکن نہیں۔ فرمایا اس کائنات میں چاند کو دیکھو، وہ ہلال اور بدر اور بدر سے ہلال ہونے تک روزانہ جن مراحل سے گزرتا ہے ان پر غور کرو، رات کو دیکھو جب وہ رخصت ہوتی ہے اور کائنات میں روزانہ ایک عظیم انقلاب رونما ہوتا ہے، پھر صبح کو دیکھو…
Read the full tafseer →کلا والقمر۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ الشافعین۔ کلاوالقمر۔ فراء نے کہا، کلا، قسم کا صلہ ہے تقدیر کلام یوں ہوگی ای والقمر۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے حقا والقمر۔ ان دونوں تقدیروں کی بنا پر کلا پر وقف نہیں ہوگا۔ طبری نے کہا اس پر وقف جائز ہے اور اسے ان لوگوں کا رد بنایا ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ جہنم کے داروغوں کا مقابلہ کرسکیں گے یعنی معاملہ اس طرح ہمیں جس طرح وہ آدمی گمان کرتا ہے کہ وہ جہنم کے داروغوں کا مقابلہ کرلے گا، پھر اس امر کو ثابت کرنے کے لیے جاندار اور مابعد کی مذکور چیزوں کی قسم اٹھائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
41۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت وما جعلنا عدتہم الا فتنۃ للذین کفروا کے بارے میں روایت کیا کہ ابوالاشدین نے کہا کہ تم میرے اور جہنم کے داروغوں کے درمیان ہٹ جانا۔ میں تمہاری جانب سے ان کی مشقت کے لیے کافی ہوں۔ ابن عباس ؓ نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے جہنم کے داروغوں کے درمیان ہٹ جانا۔ میں تمہاری جانب سے ان کی مشقت کے لیے کافی ہوں۔ ابن عباس ؓ نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے جہنم کے داروغوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا گویا ان کی آنکھوں کی چمک بجلی کی طرح ہے اور ان کے منہ کے دانت مرغ کی خاروں کی طرح ہیں۔ وہ ان کو پلکوں سے کھینچ لائیں گے۔ اور ان کی قوت ثقلین یعنی جن وانس کی…
Read the full tafseer →[كَلَّا وَالْقَمَرِ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
دوزخیوں سے سوال کہ تمہیں دوزخ میں کس نے پہنچایا ؟ پھر ان کا جواب، ان کو کسی کی شفاعت کام نہ دے گی، یہ لوگ نصیحت سے ایسے اعراض کرتے ہیں جیسے گدھے شیروں سے بھاگتے ہیں ان آیات میں اول تو یہ فرمایا ہے کہ چاند کی اور رات کی اور صبح کی قسم یہ دوزخ (جس کا اوپر سے ذکر چلا آ رہا ہے) بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک چیز ہے اس کے عذاب کو معمولی نہ سمجھا جائے اسی دنیا میں رہتے ہوئے جو اس کی خبر اللہ کی کتاب نے دی ہے یہ خبر سچی ہے اور اس کا بیان کرنا اس لیے ہے کہ انسان اس کے اخبار اور احوال سن کر خوف کھائے۔ (قال القرطبی صفحہ 58: ج 19) وذكر، لان معناہ معنی العذاب، او اراد ذات انذار علی معنی النسب کقولھم امراة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
13:۔ ” کلا “ برائے ردع ہے اور کفار و مشکرین کو زجر ہے کہ ان کو قرآن کے مقابلہ میں اس قسم کی سفیہانی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ یا بمعنی حقا ہے المعنی حقا والقمر (قرطبی) ۔ اس صورت میں یہ مابعد کی تاکید ہوگی۔ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک یہی راجح ہے۔ ” ولقمر، واللیل، والصبح “ تینوں قسمیں جو جواب قسم پر شاہد ہیں۔ جواب قسم محذوف ہیں یعنی لترکبن طبقا عن طبق، چاند پر پورا مہینہ مختلف حالتیں آتی ہیں، اسی طرح رات کی بھی کئی حالتیں ہوتی ہیں، شروع ہوتی ہے، گھپ اندھیرا ہوجاتا ہے۔ اور اس میں سے صبح نمودار ہوتی ہے۔ چاند اپنے محتلف اور گوناگوں احوال سے اس پر شاہد ہے، رات کی ظلمت اور صبح کی نمود اس پر گواہ ہیں کہ…
Read the full tafseer →كَلَّا وَالْقَمَرِ 32 كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
ترکیب : کلار وع لقول الکفا ا نانقدر علی مقاومۃ خزنۃ النار والقمر الواوللقسم انھا الخ ھذا الکلام جواب القسم والضمیر الی سقر واتعلیل لکلاو القسم معترض للتاکید الکبر فی الکشاف انہ جمع الکبریٰ جعلت الف التانیث کتاء التانیث فکما جمعت فعلۃ علی فعل جمعت فعلی علیھا نذیرا بالنصب حال من الضمیر فی انھا قالہ الزجاج وقال الکسائی انہ حال من قولہ قم حال کو نک نذیراللبشر وقال الفراء مصدر بمعنی الانذار منصوب بفعل مقدروقیل تمیز لاحدی لتضمنھا معنی التعظیم وقیل مفعول لہ ای لاجل انذار البشر وقری بالرقع علی انہ خبرہ بعد خبراوبحذف المبتداء لمن شاء بدل من قولہ للبشر والتقدیر انھا نذیر لمن شاء منکم ان یتقدم اویتاخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
کَلاَّ وَالْقَمَرِ ۔ وَالَّیْلِ اِذْ اَدْبَر۔ وَالصُّبْحِ اِذَٓا اَسْفَرَ ۔ اِنَّھَا لَاِحْدَی الْـکُبَرِ ۔ نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِ ۔ لِمَنْ شَآئَ مِنْـکُمْ اَنْ یَّـتَـقَـدَّمَ اَوْیَتَاَخَّرَ ۔ (المدثر : 32 تا 37) (ہرگز نہیں، قسم ہے چاند کی۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ پیٹھ پھیر لیتی ہے۔ اور قسم ہے صبح کی جب وہ روشن ہوجاتی ہے۔ بیشک وہ قیامت بڑے حوادث میں سے ایک ہے۔ جو انسان کے لیے نذیر ہے۔ اس کے لیے جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہے۔ ) دلائلِ آفاق سے اثباتِ قیامت اور قسموں کی وضاحت اثباتِ قیامت کا مضمون جاری ہے اور اشرافِ قریش کی ہر زہ سرائیوں کا جواب دیا جارہا ہے۔ اسی تسلسل کو آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
فہم القرآن ربط کلام : جہنم کی ہولناکیوں کا مزید ذکر۔ سابقہ آیات میں جہنم کی ہولناکیوں اور اس پر مقرر کردہ ملائکہ کی تعداد کا ذکرہوا جسے اہل مکہ نے مذاق کا نشانہ بنایا اس پر ارشاد ہوا کہ یہ لوگ جہنم کے ملائکہ کی تعدا پر اعتراض کررہے ہیں انہیں کیا خبر ! کہ آپ کے رب کے لشکر کتنی تعداد میں ہیں اور کس قدر طاقتور ہیں ان کی تعداد اور طاقت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لہٰذا تمہیں جہنم سے ڈرنا چاہیے۔ قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ پلٹتی ہے اور صبح کی قسم جب وہ روشن ہوجاتی ہے جس جہنم کا یہ مذاق اڑاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خوفناک چیزوں میں بڑی ہی خوفناک جگہ ہے، چاند، رات اور دن کا حوالہ دے…
Read the full tafseer →32 : کَلَّا (بالتحقیق) یہ انکار ہے اس کے بعد کہ اس کو نصیحت بنایا۔ ان کو نصیحت کیسے آئے گی وہ تو نصیحت حاصل کرنا نہیں چاہتے۔ وَالْقَمَرِ (اور قسم ہے چاند کی) چاند کے منافع بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی قسم کھائی۔
Read the full tafseer →31 ۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” وماجعلنا اصحاب النار الاملائکۃ “ نہ کہ مرد اور آدمی پس کون ہے جو فرشتوں پر غالب آئے گا ؟ ” وماجعلنا عدتھم “ یعنی ان کی کم تعداد ” الا فتنۃ للذین کفروا “ یعنی ان کو گمراہ کرنے کے لئے حتیٰ کہ انہوں نے کہا جو کچھ کہا ” لیستیقن الذین اوتوا الکتاب “ اس لئے کہ توریت و انجیل میں لکھا ہوا ہے کہ وہ انیس 19 ہیں ۔ ” ویزداد الذین امنوا ایمانا “ یعنی جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے تو محمد ﷺ کی تصدیق میں زیادہ ہوں گے جب وہ پائیں گے آپ (علیہ السلام) کے قول کو ان کی کتابوں کے موافق ۔ ” ولا یرتاب “ نہیں شک کرتے۔ ” الذین اوتوا الکتاب والمومنون “ ان کی تعداد میں۔ ” ولیقول الذین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
31۔ 37۔ تفسیر ابن جریر 1 ؎ وغیرہ میں جو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اوپر کی آیتوں میں یہ لفظ اترے کہ دوزخ پر انیس فرشتے تعینات ہیں تو ابوجہل نے قریش سے کہا کہ تم لوگ تو بہت بڑی قوم ہو تم میں سے سو سو شخص بھی اگر ایک ایک فرشتے سے بھگت لو گے تو انیس فرشتے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کی عقل ماری گئی ہے جو یہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ یہ انیس انسان نہیں جو سارے قریش مل کر ان سے بھگت لیں گے یہ تو فرشتے ہیں۔ ان میں کا تو ایک ایک ساری دنیا کے الٹ پلٹ کردینے کو کافی ہے۔ کیا ان لوگوں نے سنا نہیں کہ اللہ کے ایک فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
(كَلَّا) یہاں بمعنی (حقا) یا بمعنی (الا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لامحدود وقوت، بےپایاں رحمت ور اس کے احاطہ علم پر دلالت کرتی ہیں۔ جس پر قسم کھائی وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (انھا لاحدی الکبر) کہ وہ آگ ایک بہت بڑی آفت ہے۔ یعنی بیشک جہنم کی آگ بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کردینے والا معاملہ ہے۔ پس جب ہم نے تمہیں اس کے بارے میں خبردار کردیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو، تب تم میں سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
27 منکرین کے زعم باطل کی پرزور تردید : سو اس سے منکرین کے زعم باطل کی تردید پرزور طریقے سے اور پوری شدت کے ساتھ فرمائی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں۔ یعنی ایسا ہرگز ایسا نہیں جیسا کہ ان لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ جنت دوزخ کوئی نہیں ‘ بلکہ سب لوگ یونہی مرکھپ کے ختم ہوجائیں گے، اور کوئی حساب کتاب نہیں ہونا وغیرہ ‘ یا یہ کہ یہ کلام یونہی کسی انسانی فکر و کاوش کا نتیجہ ہے ‘ وغیرہ سو ایسا ہرگز نہیں بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ عالم آخرت قطعی طور پر حق و صدق ہے ‘ ہر کسی نے مرنے کے بعد اٹھنا ہے اور اپنے کئے کرائے کا حساب دینا اور پورا پورا بدلہ پانا ہے۔ اور یہ کلام کلام الٰہی اور سراسر حق و صدق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–38
منکرین اور ان کا انجام تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
آیات 32 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 10 یعنی اندھیرا چھانے لگے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(74:32) کلا : جمہور کے نزدیک یہ حرف بسیط ہے اور ثعلب نحوی کے نزدیک مرکب ہے کاف تشبیہ اور لا نافیہ ہے۔ حالت ترکیب میں ک اور لا کے انفرادی معنی باقی نہ رہے اسی لئے لام کو مشدد کردیا گیا ہے۔ سیبویہ ، خلیل، مبرد، زجاج اور اکثر بصری ادیبوں کے نزدیک کلا کے معنی حرف ردع (روکنا، باز داشت) اور روکنے کے ہیں (خواہ بطور زجر و توبیخ یعنی گھر کی یا سرزنش کے ہو یا بطور تربیت اور ادب آموزی کے ہو) اسی لئے ان علماء کے نزدیک قرآن مجید کے ان تمام 33 مقامات میں جس جس جگہ کلا آیا ہے وہاں کلا پر وقف کرنا جائز ہے اور بعد کو آنے والا کلام نئے سرے سے شروع ہوتا ہے۔ ابو حاتم نے اس کو استفتاحیہ (آغاز کلام میں آنے والا)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
لغات القرآن۔ ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔ تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
ابوجہل کا فرشتوں پر مذاق اور فرشتوں کی طاقت۔ (ف 1) شان نزول : تفسیر ابن جریر وغیرہ میں جو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اوپر کی آیتوں میں یہ لفظ اترے کہ دوزخ پرانیس فرشتے تعینات ہیں تو ابوجہل نے قریش سے کہا کہ تم لوگ تو بہت بڑی قوم ہو تم میں سے سوسوشخص بھی اگر ایک ایک فرشتے سے بھگت لو گے تو انیس فرشتے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کی عقل ماری گئی ہے جو ایسی باتیں کرتے ہیں، یہ انیس انسان نہیں جو سارے قریش مل کر ان سے بھگت لیں گے یہ تو فرشتے ہیں ان میں کا تو ایک ایک کا پرساری دنیا کے الٹ پلٹ کردینے کو کافی ہے کیا…
Read the full tafseer →[13] یعنی یہ کوئی ہوائی بات نہیں ہے جس کا مذاق اڑایا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
ف 1: قرآن حکیم میں بعض مقامات ایسے ہیں ۔ جہاں ہمارے جذبات عقیدت ونیازمندی کا امتحان ہوتا ہے ۔ ان تک عقل وفہم کی رسائی نہیں ہوسکتی البتہ ایمان اور یقین کی روشنی سے ان تک پہنچاجاسکتا ہے ۔ اس لئے ان مقدمات میں بحث اور دلائل شماری محض بےکار ہوتی ہے ۔ بلکہ یہاں ضرورت ہے اس بات کی کہ آنکھیں بند کرکے تسلیم کرلیا جائے اور اگر حقیقت بہت زیادہ بغاوت کرے ۔ تو اس کو یہ کہہ کردبا دیا جائے کہ ہر منزل میں تمہاری راہنمائی قطعاً بےسود ہے ؎ اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے ان مقامات میں جنت اور دوزخ کی تفصیلات ہیں ۔ کہ ان کا اس دنیا میں معلوم ہونا ناممکن ہے ۔ اسی لئے جہنم…
Read the full tafseer →(32) جہنم کے مضامین کا ہرگز انکار نہ کرو یا سن رکھو یا بالتحقیق یا میں سچ کہتا ہوں، قسم ہے چاند کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
ف 1۔ یعنی جو اصل مقصود ہے جہنم کا حال بیان کرنے سے وہ وعدہ کی قلت یا کثرت یا تعیین یا انکشاف حکمت تخصیص یا عدم انکشاف پر موقوف نہیں، اور وہ اصل مقصود یہ ہے کہ وہاں کے عذاب کو سن کر ڈریں اور ایمان لاویں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
(نہیں کیا) یعنی ایسا نہیں کہ کوئی سقر کا انکار کرسکے (قسم ہے چاند کی) کہ وقتوں اور مدتوں کی پہچان اس سے متعلق ہے۔ (اور رات کی جب پیٹھ پھیرے) یعنی جب جاتی ہے دن کے آگے سے ، (اور صبح کی جب روشنی پھیلا دے) اور عالم کو روشن کردے۔ (بیشک جہنم بڑی چیزوں کی ایک ہے) یعنی ایک درکہ دوزخ کے بڑے درکوں میں سے ہے ۔ (اور (ڈراؤنی بشر کے لیے) یعنی ہم نے کیا ہے اسے ایک چیز کہ اس سے ڈرائیں آدمی کو۔ لباب میں ہے کہ حق تعالیٰ رسول اللہ کو فرماتا ہے کہ قم نذیرا ، یعنی کھڑا ہو ڈرانے والا آدمیوں کے واسطے تاکہ تجھ سے نصیحت پکڑ کر گناہ سے پرہیز کریں۔ اس قول پر رسول ڈرانے والے ہیں اور پہلے قول پر دوزخ ڈرانے والی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُو (...And no one knows the hosts of your Lord but He 74:31) Muqatil, among the leading authorities, says that this is rebuttal to Abu Jahl's statement. When he heard this verse which says that there are nineteen angels in charge of Hell, he addressed the youth of Quraish and said that Muhammad has only nineteen companions, so there is nothing to worry about. Baihaqi records a narrative from Suddi that when verse 30 was revealed, a foolish Quraishi unbeliever, Abul-Asalain by name, spoke out: '0 nation of Quraish, I alone am sufficient for the nineteen.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
27 That is, it is not a hollow thing which may be mocked like that.
Read the full tafseer →