عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ ۟ؕعَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَؕ
اس پر اُنیس داروغہ ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Over it are nineteen [angels].
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ ۟ؕعَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَؕ
اس پر اُنیس داروغہ ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Over it are nineteen [angels].
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir
انیس کارکن اُس پر مقرر ہیں
اس پر اُنیس داروغہ ہیں
اور اس میں انیس (فرشتے مقرر) ہیں
اس پر انیس (کارندے) مقرر ہوں گے۔
اس پر اُنیس داروغہ ہیں
اس پر اُنیس (19 فرشتے داروغے مقرر) ہیں،
اس پر انیس (مقرر) ہیں۔
اس پر انیس (فرشتے) مقرر ہیں
اس پر انیس فرشتے مقرر ہوں گے
اور اس پر انیس (کارندے) مقرر ہوں گے
اس پر انیس (فرشتے) ہوں گے۔
اس پر انیس (19) داروغے مقرر ہیں۔
اس پر داروغہ ہیں
Over it are nineteen keepers.
Appointed on it are nineteen (wardens) .
Appointed on it are nineteen (wardens) .
Over it are nineteen.
Above it are nineteen.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Over it are nineteen [angels].
and it has nineteen angelic keepers.
Over it are nineteen.
Over it are appointed nineteen.
Over it are Nineteen.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 11–30
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ تن تنہا خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنادیا، ہزاروں لاکھوں دینار زر زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اوراقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر چاکر لونڈی غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
سورة الْمُدَّثِّر 16 یہ کہنے کے بعد کہ وہ جسم میں سے کچھ جلائے بغیر نہ چھوڑے گی، کھال جھلس دینے کا الگ ذکر کرنا بظاہر کچھ غیر ضروری سا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن عذاب کی اس شکل کو خاص طور پر الگ اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ آدمی کی شخصیت کو نمایاں کرنے والی چیز دراصل اس کے چہرے اور جسم کی کھال ہی ہوتی ہے جس کی بد نمائی اسے سب سے زیادہ کھلتی ہے۔ اندرونی اعضاء میں خواہ اسے کتنی ہی تکلیف ہو، وہ اس پر اتنا زیادہ رنجیدہ نہیں ہوتا جتنا اس بات پر رنجیدہ ہوتا ہے کہ اس کا منہ بد نما ہوجائے، یا اس کے جسم کے کھلے حصوں کی جلد پر ایسے داغ پڑجائیں جنہیں دیکھ کر ہر شخص اس سے گھن کھانے لگے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
ولید بن مغیرہ کی آمدنی ایک کروڑ گنیاں سالانہ یہ کافر ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی، بقول ابن عباس اس کی زمین جائیداد و باغات مکہ سے طائف تک پھیلے ہوئے تھے اور بقول ثوری اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ دینار تھی، بعض نے اس سے کم بھی بتلایا ہے۔ اتنا سب کے نزیک مسلم ہے کہ اسکے کھیت اور باغات کی آمدنی اور پیداوار سال بھر سردی گرمی کی ہر موسم میں مسلسل رہت یتھی قرآن کریم میں اسی کو فرمایا ہے وّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا اور یہ عرب کا سردار مانا جاتا تھا۔ لوگوں میں اس کا لقب ریحانہ قریش مشہور تھا یہ خود اپنے آپ کو بطور فخر و بکر کے وحید…
Read the full tafseer →آیت متشابہات سے متعلق ایک سوال کا جواب: فرمایا کہ اس کے اوپر انیس مامور ہوں گے۔ یہاں انیس کا معدود مذکور نہیں ہے لیکن آگے کی آیت میں اشارہ موجود ہے کہ یہ فرشتے ہوں گے۔ یہاں ان کے ذکر میں ابہام سے یہ بات نکلتی ہے کہ ان کی مزاجی خصوصیات، ان کی شکلیں اور ان کی قوتیں بالکل اس ڈیوٹی سے مناسبت رکھنے والی ہوں گی جس پر وہ مامور ہوں گے۔ مجرم ان کو دیکھ کر ہی یہ اندازہ کر لیں گے کہ یہ کسی پر نہ رتی برابر ترس کھانے والے ہیں اور نہ ان کے چنگل سے چھوٹ سکنے کا کوئی امکان ہے۔ یہاں ممکن ہے کسی کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ دوزخ پر مامور فرشتوں کی تعداد انیس ہونے میں کیا حکمت ہے اور بالفرض ان کی تعداد انیس ہی ہے…
Read the full tafseer →30۔ 1 یعنی جہنم پر بطور دربان 19 فرشتے مقرر ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
9: دوزخ میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہے گا جو جلے نہیں، اور نہ دوزخ کسی مجرم کو اپنے سے باہر رہنے دے گی، کہ اسے باہر رہنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔
Read the full tafseer →علیھا ............ عشر (74:30) ” اس کے اوپر انیس کارکن مقرر ہیں “۔ یہ نگران ملائکہ ہیں۔ جو نہایت ہی شدید القوت ہیں یا ملائکہ کی صفت کی کوئی اور مخلوق ہے۔ یا ملائکہ کی ایک نوع ہے۔ بہرحال ، اللہ نے یہ بتایا کہ انیس ہیں۔ ہمارا اس پر ایمان ہے۔ جہاں تک اہل ایمان کا تعلق ہے وہ چونکہ ذات باری تعالیٰ پر پختہ یقین رکھتے تھے تو انہوں نے کلام الٰہی سنتے ہی یقین کرلیا۔ اور ایسا رویہ اختیار کیا جس طرح بندے کو رب تعالیٰ کے ساتھ اختیار کرنا چاہئے۔ اس لئے انہوں نے کوئی شک نہ کیا۔ رہے مشرک تو انہوں نے فرشتوں کی اس تعداد کو ایک فتنہ بنا دیا۔ کیونکہ ان کے دل ایمان سے خالی تھے۔ ان کے دلوں میں ذات باری تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →13 یعنی دوزخ کے انتظام پر جو فرشتوں کا لشکر ہوگا اس کے افسر انیس فرشتے ہوں گے۔ جن میں سب سے بڑے ذمہ دار کا نام " مالک " ہے (تنبیہ) حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) نے نہایت تفصیل سے انیس کے عدد کی حکمتیں بیان کی ہیں جو قابل دید ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جہنم میں مجرموں کو عذاب دینے کے لیے انیس قسم کے فرائض ہیں جن میں سے ہر فرض کی انجام دہی ایک ایک فرشتہ کی سر کردگی میں ہوگی۔ کوئی شبہ نہیں کہ فرشتہ کی طاقت بہت بڑی ہے اور ایک فرشتہ وہ کام کرسکتا ہے جو لاکھوں آدمی مل کر نہیں کرسکتے۔ لیکن یاد رہے کہ ہر فرشتہ کی یہ قوت اسی دائرہ میں محدود ہے جس میں کام کرنے کے لیے وہ مامور ہوا ہے۔ مثلاً ملک الموت لاکھوں آدمیوں…
Read the full tafseer →آیت 30{ عَلَیْہَا تِسْعَۃَ عَشَرَ۔ } ”اس پر انیس 19 داروغے مقرر ہیں۔“ آغازِ سورت سے یہاں تک پورا کلام ایک ہی اسلوب میں ہے ‘ یعنی چھوٹی چھوٹی آیات اور تیز ردھم۔ لیکن اب آگے ایک طویل آیت آرہی ہے۔ ایسی ہی ایک طویل آیت ہم سورة المزمل میں بھی پڑھ آئے ہیں ‘ بلکہ سورة المزمل کا دوسرا رکوع اسی ایک آیت پر مشتمل ہے۔ جس طرح سورة المزمل کی مذکورہ آیت باقی سورت سے الگ بعد میں نازل ہوئی ‘ اسی طرح اس سورت کی یہ ایک آیت بھی بعد میں نازل ہوئی تھی۔ اس آیت میں دراصل مشرکین کی ان استہزائیہ باتوں کا جواب دیا گیا ہے جو وہ جہنم کے داروغوں کی تعداد کے بارے میں کرتے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد…
Read the full tafseer →13 فرشتوں کا طریق :۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ جہنم میں مجرموں کو عذاب دینے کے لئے انیس قسم کے فرائض ہیں جن میں سے ہر فرض کی انجام دہی ایک ایک فرشتہ کی سر کردگی میں ہوگی۔ فرشتوں کی قوت کا اندازہ لگانا ہمارے لئے بہت مشکل ہے۔ ایک فرشتہ وہ کام کرسکتا ہے جو لاکھوں آدمی بھی مل کر نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہئے کہ ایک فرشتہ اسی محدود دائرہ میں کام کرسکتا ہے جس میں کام کرنے پر وہ مامور ہے۔ مثلاً ملک الموت لاکھوں آدمیوں کی جان ایک آن میں نکال سکتا ہے مگر عورت کے پیٹ میں ایک بچہ کے اندر جان نہیں ڈال سکتا۔ اسی طرح سیدنا جبرئیل چشم زدن میں آسمانوں سے وحی تو لاسکتے ہیں مگر بارش برسانا ان کا…
Read the full tafseer →13۔ (جو دوزخیوں کو انواع و اقسام کے عذاب دیتے رہیں گے) عجب نہیں جو عذاب دوزخ کے 19 صیغے ہوں اور یہاں مراد ان صیغوں کے افسر فرشتوں کی تعداد کو بیان کرنا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–30
ذرنی و من خلقت وحیدا یہ کلمہ وعید اور تہدید کے لئے ہے، یہ شخص جسے میں نے ماں کے پیٹ سے اکیلا پیدا کیا ہے اس کے پاس نہ مال تھا اور نہ اولاد، یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے، اللہ نے اسے اولاد ذکور سے نوازا تھا اس کے دس بارہ لڑے تھے جو ہر وقت اس کے پاس رہتے تھے، مجلسوں اور محفلوں میں بلائے جاتے تھے، گھر میں دولت کی فراوانی تھی، اس لئے بیٹوں کو کاروبار اور تجارت کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی، بارہ بیٹوں میں سے تین مسلمان ہوگئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →علیھا تسعۃ عشر . دوزخ پر انیس ملائکہ مسلط ہوں گے۔ یہ سب دوزخ کے دربان ہوں گے۔ ایک مالک اور باقی اٹھارہ دوسرے فرشتے۔ ابن مبارک اور بیہقی میں سے کسی نے ابو العوام کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ ان میں سے ہر فرشتے کے دونوں مونڈھوں کے درمیان اتنا لمبا چوڑا فاصلہ ہوگا۔ ابن وہب ؓ نے بروایت زید بن اسلم بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان میں سے ہر ایک کے دونوں مونڈھوں کے درمیان ایک سال کی راہ کے بقدر فاصلہ ہوگا۔ رحم ان (کے دلوں) سے نکال لیا گیا ہے۔ ہر فرشتہ ستّر ہزار کافروں کو اٹھا کر دوزخ میں جہاں چاہے گا ‘ پھینک دے گا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ و ضحاک کا قول نقل کیا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
(20۔ 30) اور پھر مکرر اس پر خدا کی پھٹکار ہو کہ اس نے حضور کے بارے میں کیسی بات تجویز کی پھر اپنی تجویز کردہ بات کو دیکھا یا یہ کہ صحابہ کرام نے جب اس کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے ان کی طرف دیکھا پھر اپنا مونہہ بنا لیا اور پھر زیادہ مونہہ بگاڑا اور پھر صحابہ کرام سے مونہہ پھیر کر اپنے گھر کو چلا اور ایمان قبول کرنے سے تکبر کیا۔ پھر کہنے لگا کہ محمد جو کہتے ہیں یہ تو مسیلمہ کذاب سے منقول شدہ جادو ہے یا یہ کہ جبر و یسار سے، یہ تو صرف جبر و ویسار کا کلام ہے، میں آخرت میں ولید بن مغیرہ کو دوزخ کے چھوٹے دروازہ میں داخل کروں گا اور اے محمد آپ کو کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے وہ انسان کے گوشت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(1) علیھا نسعۃ عشر…: اللہ تعالیٰ نے جب جہنم پر مامور اشخاص کی تعداد انیس (19) تو ساتھ ہی اسے ٹھٹھے اور مذاق کا جواب بھی ذکر کردیا جو کافر اڑا سکتے تھے اور انہوں نے اڑایا بھی کہ انیس (19) شخص ہم ہز اورں لاکھوں کا کیا بگاڑ سکتے ہیں ؟ فرمایا ہم نے جہنم پر جن لوگوں کو مقرر کیا ہے، وہ فرشتے ہیں اور فرشتہ تو ایک بھی ہو تو تم سب کے لئے کافی ہے۔ (2) جہنم کے فرشتوں کی تعداد بتانے کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ کافروں کی آزمائش ہوجائے گی، انہوں نے اپنے محب باطن کا جو اظہار کرنا ہے کرلیں گے، جو مذاق اڑانا ہے اڑا لیں گے اور اہل کتاب کو اس کے حق ہونے کا یقین ہوجائے گا، کیونکہ یہ تعداد ان کی کتاب کے مطابق ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
علیھا تسعۃ عشر۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ ذکری للبشر علیھا تسعۃ عشر۔ یعنی سقر پر انیس فرشتے ہیں جو جہنم میں جہنمیوں سے ملاقات کریں گے پھر کہا گیا، مجموعی جہنم پر انیس فرشتے ہیں وہی اس کے خازن ہیں ایک مالک اور باقی اٹھارہ۔ یہ احتمال ہے انیس نقیب ہوں۔ یہ بھی احتمال ہے انیس فرشتے ہوں، اکثر مفسرین کی یہی رائے ہے ثعلبی نے کہا، اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا، جب ایک فرشتہ تمام مخلوق کی ارواح کو قبض کرسکتا ہے تو یہ زیادہ مناسب ہے کہ انیس فرشتے بعض مخلوق کے عذاب پر متعین ہوں ابن جریج نے کہا، نبی کریم ﷺ نے جہنم کی داروغوں کی صفت بیان کی فرمایا، گویا ان کی آنکھیں بجلیاں ہیں، ان کے منہ قلعے ہیں، وہ اپنے بال کھینچتے ہوں…
Read the full tafseer →34۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں براء ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی نے نبی ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی سے جہنم کے داروغہ کے بارے میں پوچھا اس نے کہا اللہ اور اس کے سول ہی بہتر جانتے ہیں۔ وہ صحابی نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ کو یہ واقعہ بتایا تو اس وقت یہ آیت آپ پر نازل ہوئی آیت علیہا تسعۃ عشر۔ یعنی اس پر انیس فرشتے ہیں (تفسیر ابن کثیر بھاشہ۔ 8۔ 268) 35۔ الترمذی وابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگوں نے نبی ﷺ کے اصحاب سے کہا کیا تمہارے نبی مکرم ﷺ جہنم کے داروغوں کی تعداد کو جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اتنے اور اتنے ایک بار دس سے اور دوسری…
Read the full tafseer →[عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ : اس پر انیس (فرشتے) ہیں ] (آیت۔ 30) عَلَیْھَا کی ضمیر سَقَرُ کے لیے ہے۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 30 ۔ میں ہے کہ دوزخ پر انیس فرشتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کے انتظام پر جو فرشتوں کا لشکر ہوگا اس کے افسرانیس فرشتے ہوں گے۔ جن میں سب سے بڑے ذمہ دار کا نام مالک ہے۔ (دیکھیں آیت۔ 43:77، نوٹ۔ 1) ۔ حضرت شاہ عبد العزیز (رح) نے نہایت تفصیل سے انیس کے عدد کی حکمتیں بیان کی ہیں جو قابل دید ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جہنم میں مجرموں کو عذاب دینے کے لیے انیس قسم کے فرائض ہیں۔ جن میں سے ہر فرض کی انجام دہی ایک ایک فرشتے کی سرکردگی میں ہوگی۔ کوئی شبہ نہیں کہ فرشتہ کی طاقت بہت بڑی ہے اور ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
﴿ فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُۙ0024 اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ0025﴾ (پھر کہنے لگا یہ تو بس جادو ہی ہے جو منقول ہے یعنی دوسروں سے لیا گیا ہے اور یہ اللہ کا کلام نہیں ہے اور نہ اللہ کا بھیجا ہوا ہے بلکہ انسانوں کا کلام ہے) ۔ ولید بن مغیرہ کی یہ بات نقل کر کے ارشاد فرمایا ﴿ سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ 0026﴾ (میں اسے دوزخ میں داخل کروں گا) ﴿ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ0027﴾ (اور اے مخاطب تجھے کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے) ﴿ لَا تُبْقِيْ وَ لَا تَذَرُۚ0028﴾ (نہ وہ باقی رہنے دے گی نہ چھوڑے گی) ﴿ لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ0029﴾ (وہ بدن کی حالت کو بگاڑ کر رکھ دے گی) ﴿ عَلَيْهَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
9:۔ ” ساصلیہ سقر “ یہ تخویف اخروی ہے۔ میں اس کو سقر میں داخل کروں گا۔ سقر ایسی تیز اور سخت آگ کا دوزخ ہے کہ ” لا تبقی ولا تذر “ کہ ہڈی پسلی چھوڑے گی نہ گوشت پوست ” لواحۃ للبشر “ بشرۃ کی جمع ہے، سقر کی آگ دوزخیوں کے چمڑوں کو جلا کر سیاہ اور بد شکل بنا دے گی۔ دوزخ پر ہم نے انیس فرشتے یا فرشتوں کی انیس صفیں مقرر کر رکھیں ہیں۔ والاول اصح۔ اور پھر یہ دوزخ کے خزان آدمی یا جن نہیں بلکہ فرشتے ہیں جو طاقت و قوت میں جن وانس پر فائق ہیں۔ اہل دوزخ جن وانس کے لیے ان کے دلوں میں رحمت و شفقت کا کوئی جذبہ نہیں ہوگا اور نہ دوزخیوں کے بارے میں احکام خداوندی کی تعمیل میں کوتاہی کا احتمال ہی ہوگا۔
Read the full tafseer →عَلَيْہَا تِسْعَۃَ عَشَرَ 30 ۭ عشر العَشْرَةُ والعُشْرُ والعِشْرُونَ والعِشْرُ معروفةٌ. قال تعالی: تِلْكَ عَشَرَةٌ كامِلَةٌ [ البقرة/ 196] ، عِشْرُونَ صابِرُونَ [ الأنفال/ 65] ، تِسْعَةَ عَشَرَ [ المدثر/ 30] ، وعَشَرْتُهُمْ أَعْشِرُهُمْ : صِرْتُ عَاشِرَهُمْ ، وعَشَرَهُمْ : أَخَذَ عُشْرَ مالِهِمْ ، وعَشَرْتُهُمْ : صيّرتُ مالهم عَشَرَةً ، وذلک أن تجعل التِّسْعَ عَشَرَةً ، ومِعْشَارُ الشّيءِ : عُشْرُهُ ، قال تعالی: وَما بَلَغُوا مِعْشارَ ما آتَيْناهُمْ [ سبأ/ 45] ، وناقة عُشَرَاءُ : مرّت من حملها عَشَرَةُ أشهرٍ ، وجمعها عِشَارٌ. قال تعالی: وَإِذَا الْعِشارُ عُطِّلَتْ [ التکوير/ 4] ، وجاء وا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
1 ؎ انیس شخص یا انیس قسم کے ملائکہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →عَلَیْھَا تِسْعَۃَ عَشَرَ ۔ (المدثر : 30) (اس پر انیس فرشتے مقرر ہوں گے۔ ) یعنی دوزخ کے انتظام و انصرام مجرموں کی گرفت اور ان کو عذاب دینے کے لیے انیس کارکن مقرر کیے گئے ہیں۔ اگلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب فرشتے ہیں۔ اس لیے کسی کو یہ بڑ ہانکنے کی ضرورت نہیں کہ انیس کو تو ہمارا ایک پہلوان سنبھال سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسانوں اور فرشتوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو غیرمعمولی قوتیں دے رکھی ہیں۔ وہ آسمانوں کی بےکراں پہنائیوں میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں اور انھیں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ وہ آسمان کی بلندی سے لمحوں میں زمین پر اترتے ہیں۔ زمین کے تمام معاملات کی دیکھ بھال اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
فہم القرآن ربط کلام : مجرم شخص کو جس کٹھن گھاٹی پر چڑھائے جانے کی دھمکی دی گئی ہے وہ جہنم ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے فرامین کا انکار کرتے ہیں انہیں بہت جلد جہنم میں جھونکا جائے گا۔ اے قرآن پڑھنے والے ! تو نہیں جانتا ہے کہ جہنم کیا ہے ؟ وہ اللہ کا تیار کیا ہوا عقوبت خانہ ہے جس میں مجرم کو موت نہیں آئے گی اور نہ اس کی زندگی ہوگی گویا کہ وہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہے گا۔ وہ چمڑی ادھیڑ دینے والی آگ ہے اس پر انیس فرشتے مقرر کیے گئے ہیں اور یہ تعداد کفار کے لیے آ زمائش بنا دی گئی ہے ہاں یہ ان لوگوں کے لیے آزمائش نہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کی توفیق بخشی ہے۔ جنت کے فرشتوں کی تعداد اس…
Read the full tafseer →جہنم کے امین فرشتے : 30 : عَلَیْھَا (دوزخ پر) تِسْعَۃَ عَشَرَ (انیس فرشتے) جو ان کے کام کے ذمہ دار ہونگے۔ عند الجمہور : انیس فرشتے ایک قول یہ ہے انیس قسم کے فرشتے ایک اور قول انیس صفیں فرشتوں کی ایک قول یہ بھی ہے صرف نگران۔
Read the full tafseer →29 ۔” لواحۃ للبشر “ جلد کو تبدیل کرنے والی ہے حتیٰ کہ اس کو سیاہ کردے گی۔ کہا جاتا ہے ” لاحۃ السقم والحزن “ جب اس کو تبدیل کردے ۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں جلد کو جھلسادے گی حتیٰ کہ اس کو رات سے بھی زیادہ سیاہ کرکے چھوڑے گی۔ ابن عباس ؓ اور زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں جلد کو جلانے والی ہے اور حسن اور ابن کیسان رحمہما اللہ فرماتے ہیں ان کے سامنے جہنم واضح ہوجائے گی حتیٰ کہ اس کو عیانا دیکھ لیں گے اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ” وبرزت الجحیم للغاوین “ ہے اور ” لواحۃ “ مرفوع ہے اس ” سقر “ کی صفت ہونے کی بناء پر جو باری تعالیٰ کے فرمان ” وما ادراک ماسقر “ میں ہے اور ” البشر “ بشرہ کی جمع ہے اور بشر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–30
11۔ 30۔ ان آیتوں کی شان نزول صحیح سند سے مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو بیان فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے اس کو قرآن شریف کی کچھ آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے اس کا دل کسی قدر نرم ہوا یہ خبر ابوجہل کو پہنچی اس نے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ قوم کے لوگ تم سے ہرگز خوش نہ ہوں گے جب تک قرآن کے بارے میں تم ان کی مرضی کے موافق کوئی بات نہ کہو گے ولید بن مغیرہ نے جواب دیا کہ اچھا میں سوچ کر اس بارے میں کچھ کہوں گا پھر اس نے اپنے وعدہ کے موافق لوگوں کے سامنے قوم کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ قرآن…
Read the full tafseer →( عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ ) یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے ور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
17 ۔ کفر و انکار کا نتیجہ و انجام دوزخ کی ولناک آگ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا ایسوں کے لئے دوزخ کی ولناک آگ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ارشاد فرمایا گیا کہ میں عنقریب ہی جھونک دوں گا اس کو دوزخ میں اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ سو دوزخ کی وہ آگ نہ کسی پر ترس کھائے گی اور نہ اس کو چھوڑے گی۔ یعنی ابقی علیہ کے معنی ہوتے ہیں کہ اس نے اس پر ترس کھایا سو وہ آگ ایسی ہوگی کہ نہ کسی مستحق عذاب کو باہر رہنے دے گی بلکہ ان کو بلا بلا کر اور کھینچ کھینچ کر اپن اندر لاتی جائے گی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ " تدعو من ادبر وتولی " (المعارج :17) سو وہ ٓگ ایسی ہوگی کہ نہ کسی مستحق نار کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–38
منکرین اور ان کا انجام تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…
Read the full tafseer →“5 حضرت براء سے روایت ہے کہ کچھ یہودیوں نے آنحضرت کے ایک صحابی سے پوچھا کہ دوزخ کے داروغہ کہتے ہیں ؟ اسنے جواب دیا ” اللہ جانے اور اس کا رسول کس وقت آنحضرت کو بتانے کے لئے حضرت جبرئیل یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(74:30) علیہا تسعۃ عشر : اس پر انیس فرشتے مقرر ہیں : یتسلط علی اہلہا تسعۃ عشر ملکا (کشاف) اس (جہنم یعنی سقر) کے دوزخیوں پر اللہ نے انیس فرشتے (مقرر) مسلط کر رکھے ہیں۔ علیہا میں ھا ضمیر کا مرجع سقر ہے : تسعۃ عشر اسم عدد جس کا معدود محذوف ہے یعنی فرشتے۔ تسعۃ عشر دو کلمات سے مرکب ہے اور دونوں جزء میں سے ہر ایک مبنی بر فتح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…
Read the full tafseer →دوزخ پرانیس فرشتوں کا تعینات ہونا۔ (ف 3) یعنی دوزخ کے انتظام پر جو فرشتوں کا لشکر ہوگا اس کے افسر انیس فرشتے ہوں گے جن میں ایک مالک ہے باقی ساتھی ہیں خلاصہ یہ ہے کہ جہنم میں مجرموں کو عذاب دینے کے لیے انیس قسم کے فرائض ہیں جن میں سے ہر فرض کی انجام دہی ایک فرشتہ کی سرکردگی میں ہوگی کوئی شبہ نہیں کہ فرشتہ کی طاقت بہت بڑی ہے اور ایک فرشتہ وہ کام کرسکتا ہے جو لاکھوں آدمی مل کر نہیں کرسکتے، لیکن یاد رہے کہ ہر فرشتہ کی یہ وقت اسی دائرہ میں محدود ہے جس میں کام کرنے کے لیے وہ مامور ہوا ہے، مثلا ملک الموت لاکھوں آدمیوں کی جان ایک آن میں نکال سکتا ہے مگر عورت کے پیٹ میں ایک بچہ کے اندر جان نہیں ڈال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
[11] مراد شک کی بیماری ہے۔ فی زمانہ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو قطعیت کے ساتھ اللہ، رسول، وحی، آخرت، جنت، دوزخ کا انکار کرتے ہوں۔ اکثریت انہی لوگوں کی ہوتی ہے جو ان کے بارے میں شک میں مبتلا رہتے ہیں۔ [12] کافروں کو انیس فرشتوں کی تعین سن کر حیرت ہوئی کہ انیس کی تخصیص کیوں ؟ حالانکہ یہ اسرار الٰہی میں سے ہے۔ اس میں زیادہ کاوش کرنی لاحاصل ہے۔ کچھ مصلحت ہوگی جس کا ظاہر کرنا بندوں کے حق میں مناسب نہیں سمجھا گیا۔ سو اہل کتاب تو ایسی باتوں کے تسلیم کرنے میں تردد نہیں کرسکتے کیونکہ خود ان کی کتابوں میں اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جن پر وہ یقین رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
ف 1: قرآن حکیم میں بعض مقامات ایسے ہیں ۔ جہاں ہمارے جذبات عقیدت ونیازمندی کا امتحان ہوتا ہے ۔ ان تک عقل وفہم کی رسائی نہیں ہوسکتی البتہ ایمان اور یقین کی روشنی سے ان تک پہنچاجاسکتا ہے ۔ اس لئے ان مقدمات میں بحث اور دلائل شماری محض بےکار ہوتی ہے ۔ بلکہ یہاں ضرورت ہے اس بات کی کہ آنکھیں بند کرکے تسلیم کرلیا جائے اور اگر حقیقت بہت زیادہ بغاوت کرے ۔ تو اس کو یہ کہہ کردبا دیا جائے کہ ہر منزل میں تمہاری راہنمائی قطعاً بےسود ہے ؎ اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے ان مقامات میں جنت اور دوزخ کی تفصیلات ہیں ۔ کہ ان کا اس دنیا میں معلوم ہونا ناممکن ہے ۔ اسی لئے جہنم…
Read the full tafseer →(30) جہنم پر انیس فرشتے مقرر ہیں یعنی یہ فرشتے خزنہ جہنم ہیں ان میں ایک کا نام مالک ہے جس کو داروغہ کہا جاتا ہے ، بہرحال اس عدد پر کفار نے استہزاء کیا کہ بس انیس فرشتے ہیں اور ہم تو لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ہوں گے تو وہ ہم کو کیسے عذاب کرسکیں گے ہماری تعداد ان سے کہیں زائد ہوگی چناچہ آگے اس کا جواب ہے۔
Read the full tafseer →ف 5۔ حاصل یہ کہ فرشتے جن کی قوت معلوم ہے باوجودیکہ ان میں کا ایک بھی تمام اہل جہنم کی تعذیب کے لئے بس ہے پھر انیس فرشتوں کے مقرر ہونے سے ظاہر ہے کہ عذاب کا بہت ہی اہتمام ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
(پھر بولا کہ یہ) جو محمد کہتے ہیں (بس جادو ہی کی نقل کی جاتی ہے ) یعنی یہ قرآن تو وہی جادو ہے جو پہلے سے نقل ہوتا چلا آتا ہے۔ (یہ نہیں ہے مگر بشر کا کلام) ۔ ولید بن مغیرہ نے یہ محض سرکشی وعناد سے کہا نہ کہ اعتقاد سے ، کیونکہ مروی ہے کہ اس نے پہلے اقرار کیا تھا کہ یہ کلام کسی انس و جن کا نہیں ، بشر سے اس کی مراد (1) یسار (2) حبیر (3) ابو فکیہہ ہے۔ پہلے دو فارس کے دو غلام تھے ، وہ مکہ معظمہ میں رہتے تھے۔ رسول اللہ کا ان کے یہاں اٹھنا بیٹھنا ہوتا تھا۔ اور ابو فکیہہ رومی غلام تھا ، وہ مسیلمہ کذاب یمانہ والے کی طرف سے مکہ معظمہ میں آیا جایا کرتا تھا۔ (جلد جھونک دوں گا میں اسے جہنم میں) یعنی سقر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
The Annual Income of Walid Ibn Mughirah: Ten Million Guineas The disbeliever referred to here is Walid Ibn Mughirah. Allah had favoured him with abundant wealth, property and children. According to Ibn ` Abbas 4his land, property and gardens stretched from Makkah to Ta'if. According to Thauri, his annual income was ten million Dinars. Some scholars have estimated less than this amount. It is, nonetheless, agreed that the income and yearly produce of his fields and gardens were available in every season, winter or summer. Thus the Qur'an says: وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا وَّبَنِيْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
16 After saying that it will leave nothing of the body unconsumed, making mention of "scorching of the skin" separately seems to be somewhat unnecessary. But this form of the punishment has been mentioned separately in particular because it is the skin of a man's face and body which actually makes his personality prominent, and it is its ugliness which makes him feel most ill at ease. He is not so grieved at the internal troubles of his body as, for instance, at his face being ugly, or that there should be spots on the skin of the exposed parts of his body, abhorrent to others. That is why it…
Read the full tafseer →