لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ ۟ۚۖلَـوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِۖۚ
اور بدن جھلس کر سیاہ کردے گی
— Fateh Muhammad Jalandhari
Blackening the skins.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ ۟ۚۖلَـوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِۖۚ
اور بدن جھلس کر سیاہ کردے گی
— Fateh Muhammad Jalandhari
Blackening the skins.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir
کھال جھلس دینے والی
اور بدن جھلس کر سیاہ کردے گی
کھال کو جھلسا دیتی ہے
وہ کھالوں کو جھلس دینے والی چیز ہے۔
آدمی کی کھال اتار لیتی ہے
(وہ) جسمانی کھال کو جھلسا کر سیاہ کر دینے والی ہے،
چمڑے کو جھلس دینے والی ہے۔
کھال کو جھلس دینے والی
چمڑی کو جھلس دینے والی۔
وہ انسان کو جھلس جھلس کر رکھ دے گی
جلد کی حیثیت بگاڑ کر رکھ دے گی۔
انسان کی کھال کو جھلسا ڈالنے والی۔
اور بدن کو جھلس کر سیاہ کردے گی
it scorches (even) the skin.
It will disfigure the skins.
It will disfigure the skins.
Scorching for the humans!
It shrivelleth the man.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Blackening the skins.
It scorches people's skin
It scorches the mortal.
. Scorching the skin.
Darkening and changing the colour of man!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 11–30
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ تن تنہا خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنادیا، ہزاروں لاکھوں دینار زر زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اوراقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر چاکر لونڈی غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
سورة الْمُدَّثِّر 16 یہ کہنے کے بعد کہ وہ جسم میں سے کچھ جلائے بغیر نہ چھوڑے گی، کھال جھلس دینے کا الگ ذکر کرنا بظاہر کچھ غیر ضروری سا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن عذاب کی اس شکل کو خاص طور پر الگ اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ آدمی کی شخصیت کو نمایاں کرنے والی چیز دراصل اس کے چہرے اور جسم کی کھال ہی ہوتی ہے جس کی بد نمائی اسے سب سے زیادہ کھلتی ہے۔ اندرونی اعضاء میں خواہ اسے کتنی ہی تکلیف ہو، وہ اس پر اتنا زیادہ رنجیدہ نہیں ہوتا جتنا اس بات پر رنجیدہ ہوتا ہے کہ اس کا منہ بد نما ہوجائے، یا اس کے جسم کے کھلے حصوں کی جلد پر ایسے داغ پڑجائیں جنہیں دیکھ کر ہر شخص اس سے گھن کھانے لگے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
ولید بن مغیرہ کی آمدنی ایک کروڑ گنیاں سالانہ یہ کافر ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی، بقول ابن عباس اس کی زمین جائیداد و باغات مکہ سے طائف تک پھیلے ہوئے تھے اور بقول ثوری اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ دینار تھی، بعض نے اس سے کم بھی بتلایا ہے۔ اتنا سب کے نزیک مسلم ہے کہ اسکے کھیت اور باغات کی آمدنی اور پیداوار سال بھر سردی گرمی کی ہر موسم میں مسلسل رہت یتھی قرآن کریم میں اسی کو فرمایا ہے وّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا اور یہ عرب کا سردار مانا جاتا تھا۔ لوگوں میں اس کا لقب ریحانہ قریش مشہور تھا یہ خود اپنے آپ کو بطور فخر و بکر کے وحید…
Read the full tafseer →’بَشَرٌ‘ جسم کی کھال کے معنی میں ہے۔ یعنی اس کے شعلوں کی لپٹ کا یہ حال ہو گا کہ دور ہی سے مجرموں کی کھالوں کو جھلس دے گی۔ دوسرے مقام میں ’نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی‘ (المعارج ۷۰: ۱۶) کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ یہ جہنم کی شدت تمازت کے وہ اثرات بیان ہوئے ہیں جو مجرموں پر اصل مقام عذاب تک پہنچنے سے پہلے ہی پڑنے شروع ہو جائیں گے۔ مقصود یہ دکھانا ہے کہ جس عذاب کی ابتدا یہ ہو گی اس کی انتہا کا اندازہ کون کر سکتا ہے!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28۔ 1 ان کے جسموں پر گوشت چھوڑے گی نہ ہڈی، یا مطلب ہے جہنمیوں کو زندہ چھوڑے گی نہ مردہ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
9: دوزخ میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہے گا جو جلے نہیں، اور نہ دوزخ کسی مجرم کو اپنے سے باہر رہنے دے گی، کہ اسے باہر رہنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔
Read the full tafseer →لواحہ للبشر (29:74) ” کھال جھلس دینے والی ہے “۔ جس طرح سورة معارج میں کہا گیا۔ تدعوا ................ وتولی (70:17) ” یہ ہر اس شخص کو بلاتی ہے جو پیٹھ پھیر کر جائے اور منہ موڑے “۔ وہ سب کو اپنی طرف بلانے والی ہے اور اس کا منظر بہت ہی خوفناک ہے .... پھر اس کے اوپر چوکیدار اور نگران کھڑے ہیں :
Read the full tafseer →12 یعنی بدن کی کھال جھلس کر حیثیت بگاڑ دے گی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جیسے دہکتا لوہا سرخ نظر آتا ہے آدمی کی پنڈلی پر وہ سرخی نظر آئے گی۔ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت 29{ لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِ۔ } ”انسان کی کھال کو جھلسا ڈالنے والی۔“ نہ تو اس کا عذاب ختم ہوگا اور نہ ہی اس میں جلتے ہوئے انسان کو موت آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
12 یعنی جہنم کی آگ دوزخیوں کو مسلسل جلاتی بھی رہے گی لیکن اس عذاب سے کسی کی موت واقع نہ ہوگی۔ آگ سے ان کی کھالیں جل جائیں گی بلکہ گل جائیں گی تو انہیں دوسری نئی کھالیں مہیا کردی جائیں گی تاکہ وہ مسلسل اور دائمی عذاب میں مبتلا رہ سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
12۔ ذکر اس یوم آخرت کے سلسلہ میں جہنم کی شدت عذاب اور ہولناکیوں کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” ادرک ماسقر “۔ دوسری زبانوں کی طرح عربی فن بلاغت میں بھی کلام میں زور، اثر، جوش وتاکید کے موقع پر سوالات سے کام لیا جاتا ہے۔ (آیت) ” لاتبقی “۔ یعنی کوئی کافر دوزخی ایسا نہ ہوگا جسے وہ اپنے اندر جلانے سے باقی رہنے دے۔ (آیت) ” ولا تذر “۔ یعنی کسی کافر کو اپنے اندر لے لینے سے نہ چھوڑے گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–30
ذرنی و من خلقت وحیدا یہ کلمہ وعید اور تہدید کے لئے ہے، یہ شخص جسے میں نے ماں کے پیٹ سے اکیلا پیدا کیا ہے اس کے پاس نہ مال تھا اور نہ اولاد، یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے، اللہ نے اسے اولاد ذکور سے نوازا تھا اس کے دس بارہ لڑے تھے جو ہر وقت اس کے پاس رہتے تھے، مجلسوں اور محفلوں میں بلائے جاتے تھے، گھر میں دولت کی فراوانی تھی، اس لئے بیٹوں کو کاروبار اور تجارت کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی، بارہ بیٹوں میں سے تین مسلمان ہوگئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →لواحۃ للبشر . وہ کھال کو بگاڑ دینے والی ہے۔ سفیدی کو سیاہی سے بدل دینے والی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور زید بن اسلم نے تفسیر کی کہ وہ جلد کو جلا دینے والی ہے۔ لواحۃٌ کا ترجمہ لائحۃٌ بھی کیا گیا ہے یعنی وہ لوگوں کے سامنے نمایاں اور ظاہر ہوگی۔ حسن اور ابن کیسان نے کہا وہ سامنے نظر آتی ہوگی کہ آنکھوں دیکھتے لوگ اس میں اتریں گے ‘ اسی کی طرح معنی ہے ‘ آیت : و برزت الجحیم للغٰوین کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
(20۔ 30) اور پھر مکرر اس پر خدا کی پھٹکار ہو کہ اس نے حضور کے بارے میں کیسی بات تجویز کی پھر اپنی تجویز کردہ بات کو دیکھا یا یہ کہ صحابہ کرام نے جب اس کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے ان کی طرف دیکھا پھر اپنا مونہہ بنا لیا اور پھر زیادہ مونہہ بگاڑا اور پھر صحابہ کرام سے مونہہ پھیر کر اپنے گھر کو چلا اور ایمان قبول کرنے سے تکبر کیا۔ پھر کہنے لگا کہ محمد جو کہتے ہیں یہ تو مسیلمہ کذاب سے منقول شدہ جادو ہے یا یہ کہ جبر و یسار سے، یہ تو صرف جبر و ویسار کا کلام ہے، میں آخرت میں ولید بن مغیرہ کو دوزخ کے چھوٹے دروازہ میں داخل کروں گا اور اے محمد آپ کو کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے وہ انسان کے گوشت کو…
Read the full tafseer →(لو احۃ للبشر :”لواحۃ“ ”لاح یلوح“ (ن) اور ”لوح یلوح“ (تفعیل) کا معنی جلانا، متغیر کرنا بھی آتا ہے اور ظاہر ہونا اور چمکنا بھی آتا ہے۔”البشر“”بشرۃ“ کی جمع ہے ، کھالیں، یا ”البشر“ بمعنی ٓدمی ہے۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہے کہ وہ کھالوں کی وجلا کر سیاہ کردینے والی ہے (کھالوں کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا کہ آدمی کو اپنے جس حسن و جمال پر نازل ہوتا ہے وہ اسی کھال ہی کی وجہ سے ہوتا ہے) یا وہ آدمیوں کو جلا دینے والی ہے۔ دوسری صورت میں معنی یہ ہے کہ وہ جسم پر چمکتی ہوئی نظر آئے گی۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں :”جیسے لوہا دہکتا سرخ نظر آتا ہے، آدمی کے پنڈے پر وہ سرخ نظر آئے گی۔“ (موضح)
Read the full tafseer →لواحۃ للبشر۔ چمڑے کو بدل دے گی، یہ لاحہ سے مشتق ہے یہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ اسے تبدیل کرے۔ عام قراء کی قرات لواحۃ رفع کے ساتھ ہے یہ سقر کی صفت ہے جو وما ادراک ماسقر۔ میں ہے عطیہ عونی، نصر بن عاصم اور عیسیٰ بن عمر نے لواحۃ نصب کے ساتھ پڑھا ہے یہ اختصاص کے طریقہ پ منصوب ہے مقصود ہولناکی بیان کرنا ہے۔ ابورزین نے کہا، ان کے چہروں پر ایک لپک پڑے گی جوان کے چہروں کو رات سے بھی زیادہ سیاہ کرکے چھورے گی یہ مجاہد کا قول ہے۔ عرب کہتے ہیں، لاحہ البرد والحر، والسقم والحزن۔ سردی، گرمی، بیماری اور غم نے اسے سیاہ کردیا، اور اس کے چہرے کو بدل دیا، اس معنی میں شاعر کا قول ہے : تقول مالاحک یا مسافر، یابنۃ عمی…
Read the full tafseer →30۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لواحۃ للبشر کہ آدمی کو جھلس دے گی یعنی کھال کو جلانے والی ہے۔ 31۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے ” لواحۃ “ (آدمی کو جھلس دے گی) کے بارے میں روایت کیا یعنی کھال کو جھلس دے گی اور اس کو جلادے گی پس اس کا رنگ بدل جائے گا۔ اور وہ رات سے بھی زیادہ سیاہ ہوجائے گا۔ 32۔ ابن ابی شیبہ واحمد نے ابن رزین (رح) سے روایت کیا کہ آیت لواحۃ اللبشر یعنی اس کی کھال کو جلادے گی۔ یہاں تک کہ اس کو رات سے زیادہ سیاہ کر کے چھوڑ دے گی۔ 33۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” لواحۃ “ سے مراد ہے جلادینے والی۔
Read the full tafseer →[لَوَّاحَةٌ لِلْبَشَرِ : جھلسانے والی ہے انسانوں کو ] (آیت۔ 29) لَوَّاحَۃٌ خبر ہے۔ اس کا مبتدا ھِیَ محذوف ہے۔ لِلْبَشَرِ متعلق خبر ہے اور اس پر لام جنس ہے اس لیے اس کا ترجمہ جمع میں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
﴿ فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُۙ0024 اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ0025﴾ (پھر کہنے لگا یہ تو بس جادو ہی ہے جو منقول ہے یعنی دوسروں سے لیا گیا ہے اور یہ اللہ کا کلام نہیں ہے اور نہ اللہ کا بھیجا ہوا ہے بلکہ انسانوں کا کلام ہے) ۔ ولید بن مغیرہ کی یہ بات نقل کر کے ارشاد فرمایا ﴿ سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ 0026﴾ (میں اسے دوزخ میں داخل کروں گا) ﴿ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ0027﴾ (اور اے مخاطب تجھے کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے) ﴿ لَا تُبْقِيْ وَ لَا تَذَرُۚ0028﴾ (نہ وہ باقی رہنے دے گی نہ چھوڑے گی) ﴿ لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ0029﴾ (وہ بدن کی حالت کو بگاڑ کر رکھ دے گی) ﴿ عَلَيْهَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
9:۔ ” ساصلیہ سقر “ یہ تخویف اخروی ہے۔ میں اس کو سقر میں داخل کروں گا۔ سقر ایسی تیز اور سخت آگ کا دوزخ ہے کہ ” لا تبقی ولا تذر “ کہ ہڈی پسلی چھوڑے گی نہ گوشت پوست ” لواحۃ للبشر “ بشرۃ کی جمع ہے، سقر کی آگ دوزخیوں کے چمڑوں کو جلا کر سیاہ اور بد شکل بنا دے گی۔ دوزخ پر ہم نے انیس فرشتے یا فرشتوں کی انیس صفیں مقرر کر رکھیں ہیں۔ والاول اصح۔ اور پھر یہ دوزخ کے خزان آدمی یا جن نہیں بلکہ فرشتے ہیں جو طاقت و قوت میں جن وانس پر فائق ہیں۔ اہل دوزخ جن وانس کے لیے ان کے دلوں میں رحمت و شفقت کا کوئی جذبہ نہیں ہوگا اور نہ دوزخیوں کے بارے میں احکام خداوندی کی تعمیل میں کوتاہی کا احتمال ہی ہوگا۔
Read the full tafseer →لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِ 29 ۚ لوح اللَّوْحُ : واحد أَلْوَاحِ السّفينة . قال تعالی: وَحَمَلْناهُ عَلى ذاتِ أَلْواحٍ وَدُسُرٍ [ القمر/ 13] وما يكتب فيه من الخشب ونحوه، وقوله تعالی: فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ [ البروج/ 22] فكيفيّته تخفی علینا إلا بقدر ما روي لنا في الأخبار، وهو المعبّر عنه بالکتاب في قوله : إِنَّ ذلِكَ فِي كِتابٍ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ [ الحج/ 70] واللُّوحُ : العَطَشُ ، ودابّة مِلْوَاحٌ: سریع العطش، واللُّوحُ أيضا، بضمّ اللام : الهواء بين السماء والأرض، والأکثرون علی فتح اللام إذا أريد به العطش، وبضمّه إذا کان بمعنی الهواء، ولا يجوز فيه غير الضّمّ. ولَوَّحَهُ الحرّ : غيّره،…
Read the full tafseer →2 ؎ جن میں ذرا بھی آدمیت ہے ان کو بدی کرنے پر یہیں سے جہنم دکھائی دی جاتی ہے وہ بدلی کر کے پشیمان ہوتے ہیں اس کی لپٹیں ان کے دل کو جلاتی ہیں اس لیے برے کام نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
سَاُصْلِیْہِ سَقَرَ ۔ وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَا سَقَرُ ۔ لاَ تُبْـقِیْ وَلاَ تَذَرُ ۔ لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِ ۔ (المدثر : 26 تا 29) (میں عنقریب اسے دوزخ میں جھونک دوں گا۔ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ۔ نہ ترس کھائے اور نہ چھوڑے۔ کھال جھلس دینے والی۔ ) معاندین کا انجام ولید بن مغیرہ کی معاندانہ سرکشی اور اس کے الزام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ میں اسے عنقریب دوزخ میں جھونک دوں گا یعنی قیامت کے روز اسے جہنم کی آگ میں جلایا جائے گا۔ اور اہل مکہ چونکہ دوزخ اور جہنم کو درخورِاعتنا نہیں سمجھتے تھے کیونکہ انھیں قیامت کے برپا ہونے کا یقین نہیں تھا، اس لیے انھیں تنبیہ کرتے ہوئے اور توجہ دلاتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
فہم القرآن ربط کلام : مجرم شخص کو جس کٹھن گھاٹی پر چڑھائے جانے کی دھمکی دی گئی ہے وہ جہنم ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے فرامین کا انکار کرتے ہیں انہیں بہت جلد جہنم میں جھونکا جائے گا۔ اے قرآن پڑھنے والے ! تو نہیں جانتا ہے کہ جہنم کیا ہے ؟ وہ اللہ کا تیار کیا ہوا عقوبت خانہ ہے جس میں مجرم کو موت نہیں آئے گی اور نہ اس کی زندگی ہوگی گویا کہ وہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہے گا۔ وہ چمڑی ادھیڑ دینے والی آگ ہے اس پر انیس فرشتے مقرر کیے گئے ہیں اور یہ تعداد کفار کے لیے آ زمائش بنا دی گئی ہے ہاں یہ ان لوگوں کے لیے آزمائش نہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کی توفیق بخشی ہے۔ جنت کے فرشتوں کی تعداد اس…
Read the full tafseer →29 : لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِ (وہ بدن کی حیثیت بگاڑ دے گی) نحو : یہ مبتدأ محذوفھی کی خبر ہے ایھی لوا حۃ للبشر۔ بشر جمع بشرۃ کی ہے بمعنی ظاہری جلد۔ وہ آگ ان کھالوں کو سیاہ کر ڈالے گی یا جلا دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
’ وما ادراک ماسقر، لا تبقی ولا تذر “ یعنی نہیں باقی رکھے گی اور نہیں چھوڑے گی اس میں کوئی چیز مگر اس کو کھاجائے گی اور ہلاک کردے گی اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” لا یمیت ولا تحی “ یعنی اس میں کسی زندہ کو باقی نہ رکھے گی اور نہ کسی مردہ کو چھوڑے گی جب بھی وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو نئے کئے جائیں گے اور سدی (رح) فرماتے ہیں نہ ان کا گوشت باقی رکھے گی اور نہ ان کی ہڈی چھوڑے گی اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں جب ان میں شروع ہوگی تو ان میں سے کچھ باقی نہ رکھے گی اور جب لوٹائے جائیں گے تو ان کو نہ چھوڑے گی حتیٰ کہ ان کو فنا کردے گی اور ہر چیز کے لئے اکتاہٹ اور سستی ہے سوائے جہنم کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–30
11۔ 30۔ ان آیتوں کی شان نزول صحیح سند سے مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو بیان فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے اس کو قرآن شریف کی کچھ آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے اس کا دل کسی قدر نرم ہوا یہ خبر ابوجہل کو پہنچی اس نے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ قوم کے لوگ تم سے ہرگز خوش نہ ہوں گے جب تک قرآن کے بارے میں تم ان کی مرضی کے موافق کوئی بات نہ کہو گے ولید بن مغیرہ نے جواب دیا کہ اچھا میں سوچ کر اس بارے میں کچھ کہوں گا پھر اس نے اپنے وعدہ کے موافق لوگوں کے سامنے قوم کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ قرآن…
Read the full tafseer →(لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ ) ، چمڑی جھلسا دینے والی ہے۔ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انہیں بےچین کردے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
17 ۔ کفر و انکار کا نتیجہ و انجام دوزخ کی ولناک آگ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا ایسوں کے لئے دوزخ کی ولناک آگ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ارشاد فرمایا گیا کہ میں عنقریب ہی جھونک دوں گا اس کو دوزخ میں اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ سو دوزخ کی وہ آگ نہ کسی پر ترس کھائے گی اور نہ اس کو چھوڑے گی۔ یعنی ابقی علیہ کے معنی ہوتے ہیں کہ اس نے اس پر ترس کھایا سو وہ آگ ایسی ہوگی کہ نہ کسی مستحق عذاب کو باہر رہنے دے گی بلکہ ان کو بلا بلا کر اور کھینچ کھینچ کر اپن اندر لاتی جائے گی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ " تدعو من ادبر وتولی " (المعارج :17) سو وہ ٓگ ایسی ہوگی کہ نہ کسی مستحق نار کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–38
منکرین اور ان کا انجام تشریح : آیت گیارہ سے آگے تک جس شخص کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے مخصوص ہیں جو خراب بری عادات والا ہو مگر تمام مفسرین نے اور خاص طور سے تفسیر ابن کثیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ مخزومی بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مالامال ہو اور وہ شکر ادا نہ کرے اللہ کا کلام اس کے پاس پہنچے وہ اس کی تصدیق بھی کرے اس کو سچ بھی جانے مگر کیا کہیں کہ ہٹ دھرمی بےوقوفی یا آباو اجداد کی پیروی کا خیال کرتے ہوئے یا پھر اپنے دوست احباب کا خیال کرتے ہوئے۔ غرض کوئی بھی وجہ ہو اور وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ف 4 بشر کے ایکم عنی ” کھال “ کے ہیں اور دوسرے معنی ” لوگوں “ کے اس لئے دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وہ لوگوں (یعنی دوزخیوں) کو (جلا کر) کالا کر دے گی۔
Read the full tafseer →(74:29) لواحۃ للبشر۔ (ہی مبتداء محذوف) لواحۃ خبر۔ للبشر متعلق خبر۔ لواحۃ صیغہ مبالغہ ہے لوح مادہ۔ پیاس کی شدت ، تختہ، ظہور، تلویح (تفعیل) مصدر۔ بمعنی رنگ کا بگاڑ دینا۔ گرمی سے سوختہ کردینا۔ جھلسا دینا۔ بشر جمع بشرۃ کی۔ کھال کی ظاہری سطح کو کہتے ہیں۔ انسان کو بشر اسی لئے کہتے ہیں کہ اور حیوانوں میں تو کسی کی کھال اون سے ڈھکی ہوئی ہوتی ہے اور کسی کی بالوں سے مگر انسان کی کھال سب حیوانات کے خلاف کھلی ہوئی ہوتی ہے۔ لفظ بشر کا استعمال واحد، جمع دونوں کے لئے یکساں طور پر ہوتا ہے۔ ہاں تثنیہ میں بشرین آیا ہے۔ جیسے فقالوا انؤمن لبشرین مثلنا (23:47) کہنے لگے کہ کیا ہم ان اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–31
لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(ف 2) یعنی بدن کی کھال جھلس کر حیثیت بگاڑ دے گی حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں جیسے دہکتا لوہاسرخ نظر آتا ہے آدمی کو پنڈلی پر وہ سرخی نظر آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
[11] مراد شک کی بیماری ہے۔ فی زمانہ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو قطعیت کے ساتھ اللہ، رسول، وحی، آخرت، جنت، دوزخ کا انکار کرتے ہوں۔ اکثریت انہی لوگوں کی ہوتی ہے جو ان کے بارے میں شک میں مبتلا رہتے ہیں۔ [12] کافروں کو انیس فرشتوں کی تعین سن کر حیرت ہوئی کہ انیس کی تخصیص کیوں ؟ حالانکہ یہ اسرار الٰہی میں سے ہے۔ اس میں زیادہ کاوش کرنی لاحاصل ہے۔ کچھ مصلحت ہوگی جس کا ظاہر کرنا بندوں کے حق میں مناسب نہیں سمجھا گیا۔ سو اہل کتاب تو ایسی باتوں کے تسلیم کرنے میں تردد نہیں کرسکتے کیونکہ خود ان کی کتابوں میں اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جن پر وہ یقین رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
ف 1: قرآن حکیم میں بعض مقامات ایسے ہیں ۔ جہاں ہمارے جذبات عقیدت ونیازمندی کا امتحان ہوتا ہے ۔ ان تک عقل وفہم کی رسائی نہیں ہوسکتی البتہ ایمان اور یقین کی روشنی سے ان تک پہنچاجاسکتا ہے ۔ اس لئے ان مقدمات میں بحث اور دلائل شماری محض بےکار ہوتی ہے ۔ بلکہ یہاں ضرورت ہے اس بات کی کہ آنکھیں بند کرکے تسلیم کرلیا جائے اور اگر حقیقت بہت زیادہ بغاوت کرے ۔ تو اس کو یہ کہہ کردبا دیا جائے کہ ہر منزل میں تمہاری راہنمائی قطعاً بےسود ہے ؎ اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے ان مقامات میں جنت اور دوزخ کی تفصیلات ہیں ۔ کہ ان کا اس دنیا میں معلوم ہونا ناممکن ہے ۔ اسی لئے جہنم…
Read the full tafseer →(29) وہ سقر یعنی دوزخ کھال کو جلا کر جھلسا کر سیاہ کردینے والی ہے۔ ہم بتا چکے ہیں کہ سقر درکات جہنم میں سے ایک درک کا نام ہے جس کی آگ بہت تیز ہے بشر کا ترجمہ بعض حضرات نے انسان اور آدمی کیا ہے یعنی وہ آگ آدمیوں کو جلا کر سیاہ کردیگی۔ بعض حضرات نے نواحۃ کو لاح یلوت سے لے کر یہ ترجمہ کیا ہے ، نظر آتی ہے پنڈلی پر یعنی وہ آگ اس طرح رگ وپے میں جذب ہوجائیگی کہ بدن کے اوپر سے نظر آتی ہوگی جس طرح تپتے ہوئے لال لوہے میں آگ دکھائی دیتی ہے۔ بہرحال ان آیتوں پر حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو کچھ لکھا ہے وہ ذیل میں ہم نقل کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جب پھونکے صور، پھر وحیداً پر فرماتے ہیں یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–29
ف 4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
(پھر بولا کہ یہ) جو محمد کہتے ہیں (بس جادو ہی کی نقل کی جاتی ہے ) یعنی یہ قرآن تو وہی جادو ہے جو پہلے سے نقل ہوتا چلا آتا ہے۔ (یہ نہیں ہے مگر بشر کا کلام) ۔ ولید بن مغیرہ نے یہ محض سرکشی وعناد سے کہا نہ کہ اعتقاد سے ، کیونکہ مروی ہے کہ اس نے پہلے اقرار کیا تھا کہ یہ کلام کسی انس و جن کا نہیں ، بشر سے اس کی مراد (1) یسار (2) حبیر (3) ابو فکیہہ ہے۔ پہلے دو فارس کے دو غلام تھے ، وہ مکہ معظمہ میں رہتے تھے۔ رسول اللہ کا ان کے یہاں اٹھنا بیٹھنا ہوتا تھا۔ اور ابو فکیہہ رومی غلام تھا ، وہ مسیلمہ کذاب یمانہ والے کی طرف سے مکہ معظمہ میں آیا جایا کرتا تھا۔ (جلد جھونک دوں گا میں اسے جہنم میں) یعنی سقر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
The Annual Income of Walid Ibn Mughirah: Ten Million Guineas The disbeliever referred to here is Walid Ibn Mughirah. Allah had favoured him with abundant wealth, property and children. According to Ibn ` Abbas 4his land, property and gardens stretched from Makkah to Ta'if. According to Thauri, his annual income was ten million Dinars. Some scholars have estimated less than this amount. It is, nonetheless, agreed that the income and yearly produce of his fields and gardens were available in every season, winter or summer. Thus the Qur'an says: وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا وَّبَنِيْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
16 After saying that it will leave nothing of the body unconsumed, making mention of "scorching of the skin" separately seems to be somewhat unnecessary. But this form of the punishment has been mentioned separately in particular because it is the skin of a man's face and body which actually makes his personality prominent, and it is its ugliness which makes him feel most ill at ease. He is not so grieved at the internal troubles of his body as, for instance, at his face being ugly, or that there should be spots on the skin of the exposed parts of his body, abhorrent to others. That is why it…
Read the full tafseer →